i am Razia Mahsood from South Waziristan the first and only active female journalist working as freelance journalist with TNN, Independent Urdu,and different news papers,
i am chairperson of Razia Mahsood Development Foundation working on Girls Education,Women Empowerment,skills,Health,Tourism, in South Waziristan,



Razia Mehsood

🌙 Maryam Al-Asturlabi

Introduction
Maryam Al-Asturlabi was a brilliant Muslim woman scientist and engineer of the 10th century, born in Aleppo, Syria. She mastered the art of making astrolabes, an ancient scientific instrument used to measure the positions of stars and planets, determine prayer times, calculate latitude, and aid in navigation.

Contribution
Maryam refined the design of the astrolabe, making it more accurate and easier to use. Her work was so remarkable that she served under the patronage of Sayf al-Dawla, the ruler of Aleppo. Astrolabes, often described as the “ancient GPS,” were vital for travelers, sailors, astronomers, and scholars.

Legacy
Maryam’s innovations symbolized the rich tradition of women’s participation in science during the Islamic Golden Age. Her contributions laid the intellectual foundations that centuries later supported navigation technologies, including the modern GPS.

Inspiration for Today
Maryam Al-Asturlabi remains a shining example of how women have always been at the forefront of knowledge, science, and technology. She is an inspiration for today’s girls to pursue careers in science, engineering, and digital innovation.

-مریم الاسطرلابی

تعارف
مریم الاسطرلابی دسویں صدی کی ایک عظیم مسلم خاتون سائنسدان اور انجینئر تھیں، جن کا تعلق حلب، شام سے تھا۔ وہ اسطرلاب بنانے میں ماہر تھیں، جو ایک ایسا سائنسی آلہ تھا جسے ستاروں اور سیاروں کی پوزیشن معلوم کرنے، نماز کے اوقات نکالنے، سمتِ قبلہ جاننے اور سفر و جہازرانی میں استعمال کیا جاتا تھا۔

کارنامے
مریم نے اسطرلاب کے ڈیزائن کو بہتر اور زیادہ درست بنایا۔ ان کی غیر معمولی صلاحیتوں کی وجہ سے انہیں حلب کے حکمران سیف الدولہ کی سرپرستی حاصل ہوئی۔ اسطرلاب کو اکثر "قدیم GPS" کہا جاتا ہے کیونکہ یہ مسافروں، ملاحوں، فلکیات دانوں اور علماء کے لیے لازمی اوزار تھا۔

وراثت
مریم الاسطرلابی کی ایجاد اس بات کی علامت ہے کہ مسلم خواتین بھی سائنسی ترقی کے میدان میں ہمیشہ سے پیش پیش رہی ہیں۔ ان کی خدمات نے وہ بنیاد فراہم کی جس پر صدیوں بعد جدید GPS ٹیکنالوجی وجود میں آئی۔

آج کے لیے سبق
مریم الاسطرلابی آج بھی علم، سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں خواتین کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ وہ لڑکیوں کو یہ حوصلہ دیتی ہیں کہ وہ آگے بڑھیں اور انجینئرنگ، سائنس اور ڈیجیٹل دنیا میں نمایاں کردار ادا کریں۔

2 months ago | [YT] | 4

Razia Mehsood

فاطمہ الفہری دنیا کی تاریخ میں ایک عظیم مسلمان خاتون ہیں جنہوں نے 859 عیسوی میں مراکش کے شہر فاس میں جامعہ القرویین (University of al-Qarawiyyin) کی بنیاد رکھی۔ یہ یونیورسٹی یونیسکو اور گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈز کے مطابق دنیا کی سب سے قدیم اور تسلسل کے ساتھ چلنے والی جامعہ ہے۔

تعلیمی خدمات

فاطمہ الفہری تونس کی ایک مالدار اور دیندار خاتون تھیں۔

اپنے والد کی وفات کے بعد وراثت میں ملی دولت کو انہوں نے علم و دین کے فروغ پر خرچ کرنے کا عزم کیا۔

اسی جذبے کے تحت انہوں نے ایک مسجد اور پھر ایک علمی ادارہ قائم کیا جو آگے چل کر دنیا کی پہلی یونیورسٹی بن گیا۔

جامعہ القرویین کی اہمیت

اس جامعہ نے اسلامی دنیا اور یورپ دونوں پر گہرا اثر ڈالا۔

یہاں فلسفہ، ریاضی، فلکیات، فقہ، زبان، اور طب جیسے علوم پڑھائے جاتے تھے۔

ابن خلدون، ابن رشد، اور دیگر مشہور علماء نے یہاں تعلیم حاصل کی یا تدریس کی۔

قرون وسطیٰ میں یورپ کے طلباء بھی یہاں سے علم حاصل کرنے آتے تھے۔

فاطمہ الفہری کی پہچان

انہیں "ام الجامعات" (Mother of Universities) بھی کہا جاتا ہے۔

وہ خواتین کی تاریخ میں تعلیم اور علم دوستی کی سب سے روشن مثال ہیں۔

ان کی شخصیت اس بات کا ثبوت ہے کہ اسلام نے عورت کو ہمیشہ علم اور خدمتِ انسانیت میں آگے بڑھنے کا موقع دیا ہے۔

2 months ago | [YT] | 5

Razia Mehsood

قبائلی اضلاع پسماندہ کیوں

2 years ago | [YT] | 8

Razia Mehsood

Eid e Qurban,Sunat e Ibrahimi

2 years ago | [YT] | 10

Razia Mehsood

Vote one

2 years ago | [YT] | 10

Razia Mehsood

جنوبی وزیرستان کی تحصیل مکین کی اسپن کمر میں ماربل فیکٹری مقامی کمیونٹی کے لیے آمدنی اور روزگار کا ایک بڑا ذریعہ تھی۔ تاہم 2008 میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران یہ فیکٹری تباہ ہو گئی تھی، اور اس کا بیشتر سامان چوری ہو گیا تھا۔

فیکٹری کی تباہی کے تباہ کن اثرات بہت سے خاندانوں نے محسوس کیے جو اپنی روزی روٹی کے لیے اس پر انحصار کرتے تھے۔ آمدنی کے خسارے نے انہیں روٹی سے محروم کر دیا، اپنے کاموں کو پورا کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے تھے، اور بغیر کسی مدد کے۔

علاقے میں فوجی آپریشن کے باوجود فیکٹری کو بحال نہیں کیا گیا اور نہ ہی مالک کو ریاست سے کوئی معاوضہ ملا ہے۔ فیکٹری مالک لامتناہی نوکر شاہی کے عمل سے گزرا ہے، لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔

حکومت کی جانب سے تعاون اور امداد نہ ملنے نے اسپن کمر کے عوام کو مایوسی کی حالت میں چھوڑ دیا ہے۔ انہیں اپنے لیے بچایا گیا ہے، مستقبل کی کوئی امید نہیں ہے۔ کمیونٹی کو ماربل فیکٹری کی بحالی اور مالک کے لیے معاوضے کی ضرورت ہے تاکہ وہ اپنی زندگیوں کو دوبارہ تعمیر کر سکیں اور انہیں ایک بہتر مستقبل کا موقع ملے۔

کمیونٹی کی ضروریات کو پورا کرنے میں ناکامی علاقے کے لیے ایک بڑا چیلنج رہا ہے، اور اسپن کمر کے لوگوں کی مدد کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔

2 years ago | [YT] | 19

Razia Mehsood

نوٹ: صفی سرحدی، میری یہ وصیت ہے کہ میرے مرنے کے بعد میری یہ تحریر میری قبر پر کندہ کرکے میری اخری خواہش سمجھ کر پوری کریں۔
شکریہ
"شعور"
میری عادت رہی ہے کہ میں جب خالی پیٹ ہوتا ہوں تو ادب کی بھاری کتابیں کھول کر بیٹھ جاتا ہوں۔ میری انکھوں کے سامنے الفاظ ناچنے لگتے ہیں۔ کیونکہ بھوک مجھ پر حاوی ہوتی ہے۔ مگر کچھ جملے ایسے بھی ہوتے ہیں جو میرے بھوک سے زیادہ طاقتور ثابت ہوجاتے ہیں اور مجھے اپنی طرف مجھے متوجہ کرلیتے ہیں۔
آج بھی بھوک سے بےحال ہوں مگر میرے ہاتھ میں موجود کتاب کھول کر میں پھر بے حال سا ہوگیا ہوں۔ اس پیراگراف نے مجھے گویا جکڑ کر رکھ دیا یے۔
"انسان قدرت کی حسین تخلیق ہے، قدرت نے اپنے بنائے گئے سیارے کی خوبصورتی کیلئے زندوں کو تخلیق کیا۔ زندہ جانور بنائے ان کیلئے سرسبز چراگاہیں تخلیق کیں۔ پھر ان سے تھوڑا سا بہتر جاندار بنایا جس کو شعور دیکر ان سب جانداروں سے افضل بنایا گیا تاکہ وہ اس خوبصورت نظام کی تکمیل کرسکے۔
قدرت نے انسان بنا کر گویا اس سیارے کی خوبصورتی کو مزید چار چاند لگا دیئے۔ اس خوبصورتی کی تسلسُل کیلئے ہر جاندار کا خوبصورت مادہ بھی بنایا گیا تاکہ زندگی کا احساس بڑھتا رہے اور اس کی نسل آگے بڑھتی رہے"۔
یہاں تک پہنچ کر مجھے اپنی خوبصورت انکھوں والی مادہ یاد آگئی۔ جس نے بڑے چاو اور محبت سے میری نسل بڑھائی تھی۔ ہم دونوں روز سرسبز گھاس پر بیٹھ کر ایک دوسرے پر قربان ہوجایا کرتے تھے۔ بالآخر جب ہمارے پاس الفاظ ختم ہوجاتے تھے تو ہم ایک دوسرے میں باہم پیوست ہوکر الفاظ سے بہتر رابطے استوار کرلیا کرتے تھے۔
میں اپنے سامنے دیوار میں اپنی مادہ کو یاد کرکے آبدیدہ ہوا جارہا تھا۔ آنسووں کیوجہ سے میری انکھیں پھر دھندلا گئیں۔ کتاب کے صفحے پر نظریں گاڑ کر دوبارہ میں اس پیراگراف کو ڈھونڈنے لگ گیا۔۔۔
"مادہ پودے کا بھی ہوتا ہے، چرند پرند کا بھی ہوتا ہے۔ انسان کیلئے بھی مادہ تخلیق کی گئی۔ مگر انسان کی مادہ باقی ماداوں سے اس لئے بھی الگ ہے کہ قدرت نے اپنے سارے جمالیات سارے احساسات اس مادہ میں انڈیل دیئے ہیں۔ یہی مرد اپنی مادہ کیلئے سب کچھ تخلیق کرنے کی سعی کرتا ہے۔ تاکہ اس کی مادہ خوش رہے اس کو پیار دیتی رہے اور اس کی نسل کو آگے بڑھاتی رہے۔ تاکہ اس کی دنیا مزید خوبصورت سے خوبصورت ہو"۔
میں نے اپنے سامنے لیٹے تین بچوں کے پرسکون چہروں کو تکنا شروع کیا جو میری خوبصورت مادہ کے تین خوبصورت تحفے تھے۔ میرے گھر کے آنگن میں تین پھول کھلا کر میری مادہ نے مجھے دنیا کا خوش قسمت ترین مرد بنا دیا تھا۔ میں کام سے تھکا ہارا آتا تھا تو میرے بچوں کی خوش کن قلقاریاں میری ساری تھکن اتار دیتی تھی۔ میں ان تینوں کو گود میں سمیٹ کر اپنی انکھیں بند کرکے خود کو خدا کا ہم پلہ سمجھنے کی خوش فہمی پال لیتا تھا۔ اور میری مادہ پیچھے سے مجھ سے بغلگیر ہوکر مجھے دوبارہ خوش فہم بنا دیتی تھی۔
میرے چہرے پر پھیلی مسکراہٹ مزید گہری ہوگئی۔
میں نے اپنے خوبصورت خیال زبردستی جھٹک دیئے اور مجھے یاد آیا کہ مجھے اپنی کتاب کا بقیہ پیراگراف پڑھنا ہے۔ جلدی سے دوبارہ وہی صحفہ کھولا۔ اس بار انکھوں میں آنسووں نہیں تھے سو پیراگراف ڈھونڈنے میں کوئی اتنی خاص مشکل بھی پیش نہیں آئی۔
"قدرت نے اس سیارے کو بے حساب حسن دیا۔ اتنا حسن کہ قریب ترین سیاروں میں سے یا کہکشاوں میں اس سے زیادہ رنگین اور خوبصورت سیارہ کوئی اور نہیں ہے۔ اس خوبصورت گہری سبز مائل سیارے پر ہم باشعور انسانوں نے ایک اور رنگ کا اضافہ کردیا ہے سرخ آگ کے شعلے جیسا رنگ، جس میں قدرت کے حسین رنگ دب گئے ہیں۔ اس رنگت کیوجہ سے اس سیارے پر روز ہزاروں بچے مررہے ہیں، خوبصورت مادائیں جن کی خوبصورت انکھوں کی مثال دی جاتیں ہیں ان کی انکھوں میں سیاہ اداسیوں نے ڈیرے ڈال دیئے ہیں۔ ان ماداوں کے خوبصورت مرد مر رہے ہیں۔ ان سرخ شعلوں کے بعد بھوک کی بدصورت رنگت نے اس خوبصورت سیارے کی خوبصورتی کو ختم کردیا ہے۔ آج شاید قدرت بھی اپنے فیصلے پر شرمندہ ہو کہ اس سیارے کو باشعور تخلیق سے دور رکھ پاتا تو کتنا اچھا ہوتا۔ کیونکہ شیطان نے بھی تو قدرت سے بغاوت اس لئے کی تھی کہ یہی انسان تباہی لائیگا۔ اور آج یہی سچ ثابت ہورہا ہے"۔
میں نے نہ چاہتے ہوئے بھی کتاب سے نظریں اٹھائیں اور سامنے دیوار کو تکنے لگا۔ جب میری نظریں تھک گئیں۔ تو مجھے اس مہیب سناٹے سے ڈر لگنے لگا۔ دور کہیں ایک گہری آواز نے زمین ہلا دی اور میرے کمرے کی ٹوٹی ہوئی کھڑکی سے پورا کمرہ خون جیسی سرخ روشنی میں نہا گیا۔ میں نے اپنے تین بچوں کے خون آلود وجود اور ساتھ میں پڑی اپنی ساکت مادہ کو دیکھا جو اس خوبصورت سیارے پر فضول وجود بنے ہوئے تھے۔
میں نے کتاب بند کرکے ایک طرف رکھ دی اور روٹی کے بارے میں سوچنے لگ گیا۔
عارف خٹک

2 years ago | [YT] | 12

Razia Mehsood

وزیرستان کی ہنرمند خواتین کے بنائے گئے وزیرستانی کشیدہ کاری کے منفرد پرس
ان خواتین کو سپورٹ کرنے اور انکے ہنر کو پروموٹ کرنے کے لئے ضرور خریدیں۔
Help us to Support Needy

2 years ago | [YT] | 20

Razia Mehsood

کرکٹر سٹار شاہد آفریدی کی بیٹی کی شادی کی تصاویر

CONGRATULATIONS


#Shahidafridi#ShaheenShahafridi@RaziaMahsood

2 years ago (edited) | [YT] | 19

Razia Mehsood

ناول "یہ پالا ہے" سے ماخوذ ایک اقتباس
گاوں کے لڑکے آہستہ آہستہ غائب ہونے لگے۔ جو غائب ہوئے ان کے گھروں میں کہرام مچ گیا۔ سب کو معلوم تھا کہ ان کے بچے مولوی عبدالقدوس کی بدولت افغان ستان جہاد کیلئے جا چکے ہیں۔ مولوی پر الزام لگاتے تو مولوی ان کے مزید چھوٹے بچوں کو مدرسے سے باہر نکالتا جن کو تین وقت کی مفت روٹی مل رہی تھی اور ساتھ میں وہ ایمان سے بھی خارج کردیئے جاتے کہ مسلمان کو جہ اد سے منع کرنا اللہ سے جنگ کے مترادف ہے۔ میں نے پہاڑوں میں ماوں کو چیخ چیخ کر روتے دیکھا ہے جو بال کھولے اللہ سے شکایت کررہی تھیں۔
اگر خوش قسمتی سے کسی نوجوان کا لاشہ گاوں لایا جاتا تو ارد گرد کے علماء حق جمع ہوکر گاوں کی قبرستان میں وہ محفل بپا کرتے۔ پورا علاقہ روحانیت کی معراج پا لیتا۔ ساتھ میں لمبے بالوں اور داڑھیوں والے مسلح طالب ان بھی آتے جو خوفناک نظروں سے گھور کر خون خشک کرتے ۔ شہید کے والدین کو گلے لگا کر مبارکباد دی جاتی۔ شہید کا والد گم صم کھڑا خالی نظروں سے اپنے بیٹے کی بے جان لاش کو دیکھتا کبھی اس پاس لوگوں کو دیکھتا۔ ماں کو خاص طور پر بتایا جاتا کہ خبردار رونا نہیں کہ شہید پر رویا نہیں کرتے کہ شہید زندہ ہوتے ہیں۔ بلکہ ان کو مبارکباد دی جاتی ہے۔
دنوں تک شہید کے جنازے کی باتیں کیجاتیں کہ کیا شاندار موت ملی ہے۔ گاوں سے دن بدن نوجوان کم ہونے لگے اور مولوی عبدالقدوس کی مالی حیثیت مستحکم ہوتی گئی۔ اب اولاد نرینہ کی بچوں کی پیدائش پر خوشیاں نہیں منائی جاتی تھی کہ ماوں کو پتہ تھا کہ بچے بڑے ہوکر افغانستان میں کام آئیں گے۔

2 years ago | [YT] | 11