Welcome! Here you will find insightful, analytical, and entertaining videos on a variety of interesting topics. Join us in this world of knowledge, entertainment, and fresh ideas. Subscribe and start this journey of learning with us!
“Indeed, in the remembrance of Allah do hearts find rest.” – Qur’an 13:28
TV TAKS
بھارتی شہر بنگلور میں ایک 32 سالہ تاجر اپنے قیمتی پالتو طوطے کو بچانے کی کوشش کے دوران کرنٹ لگنے سے ہلاک ہوگیا۔
2 months ago | [YT] | 6
View 0 replies
TV TAKS
دنیا والوں کے لیے وہ رحمان ڈکیت تھا مگر لیاری والوں کے لیے مسیحا تھا۔❤️
سردار عبدالرحمن بلوچ عرف رحمان ڈکیت لیاری کے لوگوں کے لیے صرف ایک نام نہیں تھا، ایک احساس تھا—محبت، خوف، احترام اور بغاوت کا عجیب سا امتزاج۔
لوگ کہتے ہیں وہ تاریکی میں جنم لے کر بھی روشنی بانٹتا تھا۔ دولت کی غیر منصفانہ تقسیم ہو یا طاقت کا بے دریغ استعمال، وہ ان سب کے خلاف کھڑا تھا۔
وہ امیروں سے چھین کر غریبوں کے دروازوں تک پہنچانے میں کبھی ہچکچاتا نہیں تھا۔ کسی کے گھر میں راشن نہ ہو، کسی ماں کے پاس علاج کے پیسے نہ ہوں، کسی لڑکی کی شادی رکی ہو—ایسے وقتوں میں رحمان ڈکیت ان گلیوں کا محافظ بن کر سامنے آتا تھا۔
سردار رحمان بلوچ نے کمائی کا بیشتر حصہ یتیموں اور غریبوں کے لیے مختص کیا۔ ایدھی کو کئی فنڈز فراہم کیے
اسی لیے لوگ کہتے تھے:
"وہ لیاری کا بیٹا تھا، جس نے اس بستی کی دھڑکنوں کو اپنے سینے میں رکھا ہوا تھا۔"
لیاری کی گلیاں اس کے نام سے گونجتی تھیں۔
وہ متنازع تھا، بلاشبہ تھا، لیکن اس کا ایک چہرہ ایسا بھی تھا جو صرف لیاری والوں نے دیکھا—
ایک ایسا چہرہ جو دکھ کو پہچانتا تھا، جو ظلم کے سامنے ڈٹ جاتا تھا، اور جو اپنے علاقے کے لوگوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑتا تھا۔
عین ممکن ہے کہ رحمان بلوچ کا وہ چہرہ ہو ہی نہ جو آپکے سامنے پیش کیا گیا۔
آپکے کئی اختلافات ہوسکتے ہیں میری اس تحریر سے مگر اپکو لیاری کا رخ کرنا پڑے گا جہاں آج بھی وہاں کے لوگوں کے لبوں پہ سردار عبد الرحمن بلوچ گونجتا ہے۔🌸
2 months ago | [YT] | 29
View 1 reply
TV TAKS
ڈکی نے صرف اپنی اس ایک ویڈیو سے 40 کروڑ روپے کمائے ہیں جس کے دورانیہ 50 منٹ ہے اور اس کی ویورشپ 80 لاکھ ہے نارمل ویڈیو پر یوٹیوب ایک ہزار ویور شپ پر ایک ڈالر دیتا ہے لیکن اس کی ویڈیو پوری ایک گھنٹے کی ہے جس کے صرف ابھی 22 گھنٹے ہوئے ہیں اور یہ مسلسل ابھی ٹرینڈنگ پر ہے جیل کا ایک دن ایک سال کے برابر ہوتا ہے وہاں پر ٹائم گزرتا ہی نہیں بلکہ ٹائم تھم جاتا ہے اور خاص کر جب اپ نے زندگی میں پہلی دفعہ جیل دیکھی ہو اور دنیا سے اپ کا تعلق منقطع ہو جائے بڑی کامیابیوں کی بڑی قربانیاں ہوتی ہیں شاید یہ اس کے چینل میں کم ٹائم میں اتنے زیادہ دیکھے جانی والی ویڈیو ہے وہ بھی اتنی لمبی اس کا جتنا نقصان ہوا اس نے وہ 22 گھنٹے میں پورا کر دیا اور جو اس کے پیسے گئے وہ ریکوری الگ لیکن اس کے لیے اس نے کیا کیا سہا ہے وہ اپ جانتے ہیں اور وہ اس نے بتا دیا جو کہ ایک تلخ حقیقت ہے تھپڑ گالیاں فیملی کی ٹینشن ڈپریشن اور پتہ نہیں کیا کچھ جو کہ شاید یہ اپنی ساری زندگی نہ بھول پائے یہ ویڈیو اتنی زیادہ وائرل اسی وجہ سے بھی ہوئی ہے کہ اس میں اس نے تمام باتیں اور اپنے ایکسپریشن بالکل جینوئن ہیں کسی بھی قسم کا ڈرامہ کریئٹ نہیں کیا اوریجنل کنٹینٹ💔
#duckybhaiVlogs
#tvtaks
2 months ago | [YT] | 12
View 1 reply
TV TAKS
ان پھٹی ہوئی ایڑیوں کو موثر گھریلو علاج سے ہموار کریں۔
موسم سرما کے قریب آنے کے ساتھ ہی ہم میں سے کچھ کو پھٹی ایڑیوں' یا ہیل فشرز ایڑی کے چیرے کا مسئلہ درپیش ہوتا ہے۔
یہ مردوں اور عورتوں کے درمیان یکساں طور پر ایک عام مسئلہ ہے۔ ایڑیوں کے پھٹے نہ صرف خشک موسم کی وجہ سے ہوتے ہیں، یہ اس شخص کی طرف سے غفلت کی علامت بھی ہے جو پھٹی ایڑیوں میں مبتلا ہے! جب ہم اپنے چہرے پر توجہ دیتے ہیں، تو ہم شاذ و نادر ہی اپنے پیروں کی فکر کرتے ہیں! اگر علاج نہ کیا جائے تو پھٹی ہوئی ایڑیاں بہت زیادہ درد اور تکلیف کا باعث بن سکتی ہیں۔ تو ان مؤثر گھریلو تدابیر کو آزمائیں۔
پاؤں کی دیکھ بھال شروع ہوتی ہے، اپنے پیروں کو گرم پانی سے دھونے اور رگڑنے سے جب بھی آپ باہر ہوتے ہیں گندگی اور گندگی کو دور کرنے کے لیے۔ گرم پانی پیروں کو آرام دینے اور ایڑیوں کو پھٹنے سے روکنے کے لیے انہیں نمی بخشنے میں مدد کرتا ہے۔
دھونے کے بعد گرم تیل کا مساج بھی مدد کرتا ہے۔ آپ کسی بھی سبزیوں کا تیل استعمال کر سکتے ہیں - زیتون، ناریل یا تل کا تیل بہت اچھا کام کرتا ہے۔ تیل کی مالش کا بہترین وقت رات کا ہے۔ پیروں کو جرابوں سے ڈھانپ کر رکھیں، تاکہ تیل سخت جلد میں داخل ہو کر اسے راتوں رات نرم کر سکے۔ آپ اس میں سیب کا سرکہ اور زیتون کا تیل بھی ملا سکتے ہیں۔
برابر تناسب سے، روزانہ رات کو اپنے پیروں پر لگائیں۔ اور
موزے پہن لو.
گلیسرین ایک قدرتی موئسچرائزر ہے اور یہ پھٹی ایڑیوں کی شفا یابی کے عمل کو تیز کرتا ہے۔
ایک حصہ گلیسرین، ایک حصہ لیموں کا رس اور دو حصے عرق گلاب کا محلول بنا کر روزانہ رات کو لگائیں۔ لیموں کے رس میں موجود تیزاب مردہ خلیوں کو دور کرتا ہے اور سخت جلد کو نرم کرتا ہے۔
اور اگر آپ کو اپنے پیروں کو تھوڑی دیر کے لیے کچلے یا مسلے ہوئے پیسٹ میں ڈالنے میں کوئی اعتراض نہیں ہے، تو آپ ان اختیارات کو بھی آزما سکتے ہیں۔ ۔
شلجم میں قدرتی جیل ہوتا ہے۔ شلجم کے ایک ٹکڑے کو چھیلیں، کاٹ لیں اور ابالیں۔ اسے اچھی طرح میش کریں اور پھٹی ہوئی ایڑیوں پر لگائیں۔
اسے کم از کم دو گھنٹے تک لگا رہنے دیں، پاؤں کو جرابوں سے دھو کر ڈھانپیں۔ ۔
ایک ہفتے کے اندر، آپ کو نتائج نظر آئیں گے۔ اسی طرح خوبصورت نظر آنے والے پاؤں کے لیے کیلے اور دلیا کا مکس استعمال کریں!
#fblifestylelife
#TVTaks
2 months ago | [YT] | 3
View 0 replies
TV TAKS
اہل ذیابیطس کے لیے بہترین کھانا
اُبلے ہوئے کالے چنے ایک پیالی
باریک کٹے ہوئے کھیرا/ گاجر/شملہ مرچ/ بندگوبھی/پیاز/ٹماٹر/پالک اپنی پسند کے مطابق
ایک پین میں ایک چمچ زیتون کا تیل ڈالیں
اس میں سب سبزیاں ڈال کر ایک منٹ کے لیے ہلکا سا فرائی کرلیں
پھر ابلے ہوئے چنے شامل کردیں
حسب پسند نمک مرچ ڈال کر مکس کرلیں
ایک دو منٹ کے لیے ہلکی آنچ پہ ڈھک دیں
دھنیا پودینا ڈال کر پیش کریں
(اشرف چوہدری صاحب کی وال سے)
2 months ago | [YT] | 5
View 0 replies
TV TAKS
ہم بچپن سے سنتے آئے ہیں کہ حرم میں ،مکہ مدینہ مسجد نبوی میں جاتا وہی ہے جس کو اللہ بلاتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
اور پھر ہم نے دیکھا کہ ہر دو نمبر عورت، ٹک ٹاکر، فملوں ڈراموں میں ننگ دھڑنگ ناچتی گاتی عورتیں مرد سب وہاں جاجاکر اپنی ویڈیوز ،تصاویر بنا بنا کر شئیر کرنے لگے۔۔۔۔۔۔۔۔
جس سے اللہ والوں کے دل میں یہ سوال آیا کہ کیا واقعی ان کا بھی بلاوا آیا ؟
تو پھر اللہ کے ان نیک بندوں کا کیا جو تقوی و پرہیزگاری کے باوجود اب تک جانے سے قاصر ہیں۔
یہ سوال واقعی بہت سے لوگوں کے دلوں میں آتا ہے، خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جو تقویٰ، پرہیزگاری اور نیک اعمال کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں لیکن اب تک انہیں حرمین شریفین، مکہ اور مدینہ جانے کی سعادت حاصل نہیں ہوئی۔ اور جب وہ دیکھتے ہیں کہ ایسے لوگ جو دین کے احکام کی خلاف ورزی کر رہے ہیں، ٹک ٹاکرز، فلمی دنیا سے وابستہ افراد، اور ایسے لوگ جو دینی لحاظ سے بے پرواہ سمجھے جاتے ہیں، وہ مکہ اور مدینہ جاکر تصاویر اور ویڈیوز بنا کر سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہیں، تو فطری طور پر دل میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا واقعی اللہ کا بلاوا انہیں بھی آیا ہے؟ اور پھر یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ اللہ کے وہ نیک بندے، جو اللہ کے قرب کے طالب ہیں، انہیں اب تک کیوں یہ سعادت حاصل نہیں ہوئی؟
1. اللہ کے بلاوے کی حکمت:
سب سے پہلی بات جو ہمیں سمجھنی چاہیے، وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فیصلے اور حکمتیں ہماری سمجھ سے بالاتر ہیں۔ اللہ جسے چاہتا ہے، اور جب چاہتا ہے اپنے گھر بلاتا ہے۔ ہم دنیاوی ظاہری اعمال سے لوگوں کے دلوں کے حال کو نہیں جان سکتے، اور نہ ہی یہ فیصلہ کر سکتے ہیں کہ اللہ کے نزدیک کس کی کیا حیثیت ہے۔
حضرت علیؓ کا فرمان ہے:
"لوگوں کے دلوں کا حال وہ جانتا ہے جو دلوں کے اندر پوشیدہ باتوں کو جاننے والا ہے۔"
اللہ تعالیٰ کی طرف سے بلانا اور کسی کو موقع دینا، صرف ظاہری اعمال پر منحصر نہیں ہوتا۔ اللہ کسی کو بھی اپنے گھر بلانے میں تاخیر کر سکتا ہے یا کسی کو فوری طور پر موقع دے سکتا ہے، اس کی حکمت وہی جانتا ہے۔
2. آزمائش اور ایمان کی آزمائش:
بہت سے نیک اور متقی لوگ حرمین شریفین جانے کی خواہش رکھتے ہیں لیکن کسی وجہ سے اب تک وہ وہاں نہیں جا سکے۔ یہ ایک آزمائش بھی ہو سکتی ہے کہ اللہ ان کے ایمان کی آزمائش کر رہا ہو۔ آزمائشیں کبھی کبھار انسان کی قربت کو بڑھانے کے لیے آتی ہیں۔ ایسے لوگ جو نیک ہیں اور اللہ کے قرب کے طلبگار ہیں، اللہ انہیں دوسرے طریقوں سے آزما کر ان کے درجات بلند کرتا ہے۔
قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "کیا لوگوں نے یہ گمان کیا ہے کہ وہ یہ کہہ دیں گے کہ ہم ایمان لائے اور ان کو آزمایا نہیں جائے گا؟"
(سورۃ العنکبوت، آیت 2)
3. ظاہری اعمال اور باطنی حال:
ظاہری طور پر کسی کا دین پر نہ ہونا اور دین کے مخالف اعمال کرنا ہمیں یہ سمجھنے پر مجبور کر سکتا ہے کہ وہ لوگ دین سے دور ہیں، لیکن اللہ کی بارگاہ میں دل کی نیت اور اعمال کی کیفیت زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔ ممکن ہے کہ وہ لوگ جو ہمیں ظاہری طور پر گمراہ نظر آتے ہیں، ان کے دل میں کوئی ایسی کیفیت ہو جس کی وجہ سے اللہ نے انہیں اپنے گھر بلایا ہو۔ اور شاید یہ بھی اللہ کی طرف سے انہیں ہدایت کا ایک موقع ہو۔
4. نیک لوگوں کے لیے اطمینان:
جو نیک اور متقی لوگ حرمین شریفین جانے سے قاصر ہیں، انہیں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اللہ کا تعلق دلوں سے ہوتا ہے، نہ کہ صرف اعمال کی جگہوں سے۔ ان کے دل کی تڑپ، ان کی نیت، اور ان کے دل میں موجود محبت اللہ کو معلوم ہے۔ ان کا اجر اللہ کے پاس محفوظ ہے، چاہے وہ ابھی حرمین نہ جا سکے ہوں۔
حضرت عمرؓ کا قول ہے:
"بہت سے لوگ جو حج کے لیے نہیں جا پاتے، وہ اپنے دلوں کے خلوص کی وجہ سے حج کرنے والوں سے بھی زیادہ اجر پاتے ہیں۔"
5. ظاہری اور باطنی اختلاف:
ظاہری طور پر دنیا میں وہ لوگ نظر آتے ہیں جو اللہ کے گھر جا رہے ہیں، لیکن اصل معاملہ باطنی ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر ایک کے دل کو جانتا ہے، اور جو نیک اور تقویٰ والے لوگ ہیں، ان کے دل میں جو نیت اور محبت ہے، وہ اللہ کے نزدیک بہت قیمتی ہے۔
6. دعا اور امید:
نیک اور متقی لوگوں کو اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے رہنا چاہیے اور اپنی امید قائم رکھنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ جب چاہے گا، انہیں اپنے گھر بلائے گا۔ اور اس دوران انہیں اپنی نیک نیتوں اور اعمال پر ثابت قدم رہنا چاہیئے۔
7. اللہ کی رضا پر راضی ہونا:
آخر میں، اللہ کی رضا پر راضی ہونا ایمان کا حصہ ہے۔ اللہ تعالیٰ جس حال میں رکھے، اس پر راضی رہنا اور اس کے فیصلوں کو تسلیم کرنا ایمان کی ایک اعلیٰ کیفیت ہے۔ شاید یہ اللہ کی طرف سے کسی بڑے اجر کی تیاری ہو جو ان لوگوں کو آخرت میں ملے گا۔
لہٰذا، نیک لوگوں کو اپنی نیک نیتی پر ثابت قدم رہنا چاہیئے اور اپنے ایمان اور تقویٰ کے سفر کو جاری رکھنا چاہیئے۔ اللہ کے فیصلوں میں حکمتیں پوشیدہ ہیں، اور جب اللہ چاہے گا، وہ ضرور انہیں اپنے گھر کی سعادت عطا کرے گا۔
اللہ تعالیٰ آپ کو اور تمام مخلص مسلمانوں کو اپنے قریب کر دے اور اپنے گھر کی زیارت نصیب فرمائے۔ امین
3 months ago | [YT] | 6
View 0 replies
TV TAKS
جمعہ مبارک 💫❤️
4 months ago | [YT] | 5
View 0 replies