Qadim Qissay aapko sunata hai tareekh ke qissay, islami waqiat aur purani kahaniyan — AI voice ke saath ek naya andaz. Har video mein aapko milegi sachi kahani, ilm aur rooh ko choo lene wali dastaan.
Topics: Islamic stories, historical events, old tales, motivational waqiat aur zindagi se seekhnay wali baatein.
So please subscribe to our channel and join us on a journey of discovery!
For business inquiries: skhisro@gmail.com
Qadim Qissay
Hi brother and sister.
4 months ago | [YT] | 7
View 0 replies
Qadim Qissay
*امام اہل سنت اعلی حضرت قدس سرہ فرماتے ہیں:*
بچپن سے جو عادت پڑتی ہے کم چھوٹتی ہے تو اپنے نابالغ بچوں کو ایسی ناپاکیوں (یعنی فحش کلامی اور فحش گیت گانے) سے نہ روکنا ان کے لئے معاذاللہ جہنم کا سامان تیار کرنااور خود سخت گناہ میں گرفتار ہونا ہے۔
(فتاوی رضویہ، ج 22، ص 215، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
اپنے بچوں کی حرکات و سکنات پر خصوصی توجہ دیجیے ۔ اسلام کی تعلیمات کے مطابق انکی اعلی تربیت کیجیے !!!
4 months ago | [YT] | 3
View 0 replies
Qadim Qissay
🌿 جمعے کے دن کی سنتیں 🌿
✨ 1. غسل کرنا
رسول ﷺ نے جمعے کے دن غسل کرنے کی تاکید فرمائی۔ (بخاری)
✨ 2. خوشبو لگانا
خوشبو لگا کر مسجد جانا سنت ہے۔ (مسلم)
✨ 3. صاف کپڑے پہننا
جمعے کو بہترین کپڑے پہنیں۔ (ابوداؤد)
✨ 4. جلدی مسجد جانا
جتنا پہلے جائیں گے، اجر اتنا زیادہ ہوگا۔ (بخاری)
✨ 5. سورۃ الکہف کی تلاوت
جمعے کے دن سورۃ الکہف پڑھنا نور کا باعث ہے۔ (حاکم)
✨ 6. درود شریف کی کثرت
اس دن نبی ﷺ پر زیادہ سے زیادہ درود بھیجیں۔ (ابوداؤد)
✨ 7. خطبہ غور سے سننا
جمعے کے خطبے کے دوران خاموش رہنا لازم ہے۔ (بخاری)
6 months ago | [YT] | 3
View 0 replies
Qadim Qissay
دریائے نیـل کا واقعہ... 🏝️
دریائے نیل خشک ہو چکا تھا،
وہ دریائے نیل جس کا پانی ٹھاٹھیں مارتا تھا
اور مصر کے کھیتوں کو سیراب کرتا تھا،
وہ دریا خشک ہو چکا تھا،
مصر کے لوگ یہ دیکھ کر پریشان ہو گئے،
ایسا پہلی بار نہیں ہوا تھا۔ ہر سال دریائے نیل خشک ہو جاتا تھا مصر کے لوگوں کا کہنا تھا:
”دریائے نیل ہر سال انسانی قربانی مانگتا ہے“۔
جب وہ یہ قربانی دے دیتے تو دریائے نیل پھر سے ٹھاٹھیں مارنے لگتا،
لوگ خوش ہو جاتے ان کی کھیتیاں پھر سے لہلہانے لگتیں۔
اب ایک بار پھر دریائے نیل خشک ہو چکا تھا، لوگوں کے چہرے پریشانی سے مرجھا گئے تھے۔ دریا اس بار پھر ان سے ایک انسان کی قربانی مانگ رہا تھا وہ سب مجبور تھے۔
یہ ان دنوں کی بات ہے جب حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے مصر فتح کیا تھا، مصر میں فوجیں موجود تھیں، امیر المومنین حضرت عمر الفاروق رضی اللہ عنہ نے مصر میں حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو گورنر مقرر کیا تھا۔ اور اس کے چند دن بعد ہی دریائے نیل خشک ہو گیا تھا۔ لوگوں کی پریشانی دیکھنے کے قابل تھی۔
لوگ دریانے نیل میں انسانی قربانی کی تیاریاں کرنے لگے اب لوگ خوش تھے کہ دریا انسان کی قربانی کے بعد پھر سے بہنا شروع کر دے گا۔ اور خوشحالی ہی خوشحالی ہو گی۔
آخر وہ دن بھی آ گیا جس دن ایک انسان دریائے نیل کی بھینٹ چڑھ جانا تھا۔ لوگ صبح ہی صبح یوں تیار ہو کر باہر نکل آئے جیسے عید کا سماں ہو، ہر شخص کے چہرے سے خوشی جھلک رہی تھی۔ حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ دریائے نیل کے خشک ہونے کی وجہ سے سخت پریشان تھے، جب انہوں نے یہ سنا کہ لوگ دریائے نیل کی بھینٹ چڑھانے کے لئے ایک انسان کو قربان کرنے لگے ہیں، تو وہ تڑپ اٹھے کہ یہ تو سراسر ظلم ہے، دریا کے لئے ایک انسان کو قتل کر دینا کہاں کی عقل مندی ہے۔ !!!
حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ اپنے چند آدمیوں کے ساتھ دریائے نیل کی طرف چل پڑے، وہ اس قربانی کو ہرحال میں رکوانا چاہتے تھے، جب وہ دریائے نیل کے پاس پہنچے تو انہوں نے وہاں عجیب سماں دیکھا، لوگ زرق برق کپڑے پہنے وہاں موجود تھے، ہر شخص کے چہرے پر خوشی تھی۔
جب ان لوگوں نے گورنر کو دیکھا تو حیران رہ گئے اور سوچنے لگے:
”شاہد گورنر بھی اس قربانی کو دیکھنے کے لئے آئے ہیں“۔
حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ لوگ ایک پندرہ سالہ لڑکی کو لے کر وہاں آئے ہیں، اُس لڑکی نے زرق برق لباس پہنا ہوا تھا، وہ زیورات سے لدی پھندی تھی، لڑکی خوف سے کانپ رہی تھی، اس کا چہرہ ہلدی کی طرح زرد ہو رہا تھا۔ لڑکی لڑکھڑاتے قدموں سے آگے بڑھ رہی تھی، وہ لرزتی کانپتی ہوئی لوگوں کے ہمراہ دریا کے کنارے پر پہنچ کر رک گئی، اس نے مڑ کر اپنے بوڑھے باپ کی طرف دیکھا، باپ کی آنکھوں میں آنسو تھے، وہ مجبور تھا، لوگ اس کی بیٹی کو گھسیٹ کر موت کے منہ میں دھکیل رہے تھے، وہ کچھ نہیں کر سکتا تھا، اپنی بوڑھی آنکھوں سے بیٹی کو موت کے منہ میں جاتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔ لڑکی کی ماں تو غم سے نڈھال ہوئی جا رہی تھی۔
لڑکی ہاتھ چھڑا کر اپنے باپ کی طرف دوڑی، لوگ اس کے پیچھے بھاگ کھڑے ہوئے اور لڑکی کو پکڑا اور پھر سے دریا کے کنارے پر لے آئے، لڑکی رو کر لوگوں سے التجا کرنے لگی۔
”مجھے چھوڑ دو میں مرنا نہیں چاہتی“۔
لوگوں نے اسے مضبوطی سے پکڑ لیا، اب حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا تھا، وہ جلدی سے آگے بڑھے اور لڑکی کو ان لوگوں کی قید سے چھڑاتے ہوئے بولے:
”یہ سب کیا ہے؟ تم اس لڑکی کو کیوں ہلاک کرنا چاہتے ہو؟“
لوگ گورنر کی بات سن کر پریشان ہو گئے، لڑکی بھاگ کر اپنے باپ کے پاس چلی گئی، لڑکی کی ماں نے آگے بڑھ کر اسے اپنے ساتھ لپٹا لیا۔ لڑکی سسکیاں لے لے کر رو رہی تھی اور ماں اسے چپ کرانے کی کوشش کرتے ہوئے خود بھی رو رہی تھی۔
لوگوں نے کہا:
”اے امیر ! دریائے نیل خشک ہو چکا ہے، وہ ہر سال ایک انسان کی قربانی مانگتا ہے۔“
یہ سن کر حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے ناگواری سے لوگوں کی طرف دیکھا پھر پوچھا:
”کیا ہر سال یہ دریا اس طرح خشک ہو جاتا ہے؟“
لوگوں نے جواب دیا:
”ہاں، ہر سال دریائے نیل اس طرح خشک ہو جاتا ہے۔ اور جب یہ خشک ہوتا ہے تو ہم ایک انسانی جان کی قربانی دیتے ہیں، اس کے ساتھ ہی دریا کا پانی بڑھنا شروع ہو جاتا ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے دریا میں طغیانی آ جاتی ہے“۔
حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے کہا:
”یہ تو ظلم ہے“۔
لوگوں نے کہا:
”اے امیر ! ہم ہر سال چاند کی گیارہ تاریخ کو ایک نوجوان لڑکی کا انتخاب کر کے اس کے والدین کو رضامندی سے اس لڑکی کو زیورات اور خوبصورت لباس پہنا کر دریائے نیل کی بھینٹ چڑھا دیتے ہیں پھر دریا کا پانی بڑھنے لگتا ہے“۔
یہ سن کر حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے کہا:
”اسلام ان باتوں کو پسند نہیں کرتا۔ تم ہر سال ایک انسان کو قتل کر کے دریا کی بھینٹ چڑھا دیتے ہو، یہ تو سراسر ظلم ہے، اسلام ان فضول باتوں کو مٹانے کے لئے آیا ہے، آئندہ تم ایسا نہیں کرو گے۔“
یہ سن کر لوگ بولے:
”پھر تو دریا خشک رہے گا، ہماری کھیتیاں برباد ہو جائیں گی، ہم بھوک سے مر جائیں گے، ہمارے جانور ہلاک ہو جائیں گے۔“
حضرت عمر بن العاص رضی اللہ عنہ نے کہا:
”تم پریشان نہ ہو ایسا کچھ نہیں ہو گا“۔
حضرت عمر بن العاص رضی اللہ عنہ نے انہیں یہ رسم ادا کرنے کی اجازت نہ دی، اب لوگ بڑے پریشان ہوئے کہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو ہر طرف خشک سالی ہو جائے گی اور ہم سب بھوک سے مر جائیں گے۔ ان کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیا کریں، ان میں اتنی جرأت نہ تھی کہ وہ گورنر کے حکم کی عدولی کر سکیں۔ وہ سب خاموشی سے سر جھکائے کھڑے ہو گئے ۔۔۔
حضرت عمر بن العاص رضی اللہ عنہ نے لڑکی کو اس کے ماں باپ کے ساتھ گھر بھجوایا اور لوگ بھی آہستہ آہستہ وہاں سے جانے لگے۔
چند دنوں تک دریانے نیل بالکل خشک ہو گیا، اس میں ایک بوند بھی پانی نہ آیا، لوگ بوکھلا گئے، انکی کھیتی باڑی دریائے نیل کے پانی سے قائم تھی۔ زمینیں بنجر ہو گئیں، لوگ فاقوں سے مرنے لگے، جانور چارہ نہ ہونے کی وجہ سے تڑپ تڑپ کر جانیں دے رہے تھے، یہ دیکھ کر لوگوں نے مصر سے نکل کر دوسرے علاقوں کا رُخ کیا ہر طرف ویرانی ہی ویرانی تھی۔
حضرت عمر بن العاص رضی اللہ عنہ نے جب دیکھا تو وہ بھی پریشان ہو گئے، آخر انہوں نے امیر المومنین حضرت عمر الفاروق رضی اللہ عنہ کو ایک خط لکھا اور اس میں ساری صورت حال واضح کر دی۔
امیر المومنین حضرت عمر الفاروق رضی اللہ عنہ نے جب یہ خط پڑھا تو آپ نے حضرت عمر بن العاص رضی اللہ عنہ کو جواب میں لکھا:
”تم نے مصریوں کو بہت اچھا جواب دیا، اسلام ایسی باتوں کی اجازت نہیں دیتا۔ وہ ایسی فضول باتوں کو مٹانے کے لئے آیا ہے، میں اس خط کے ساتھ ایک رقعہ بھیج رہا ہوں تم یہ رقعہ دریائے نیل میں ڈال دینا“۔
جب حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے پاس امیر المومنین حضرت عمر الفاروق رضی اللہ عنہ کا خط پہنچا تو انہوں نے خط کے بعد وہ رقعہ بھی پڑھا جو دریائے نیل میں ڈالنے کے لئے تھا اس میں لکھا تھا:
”یہ خط اللہ کے بندے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی طرف سے دریائے نیل کے نام ہے۔
اے دریا ! اگر تو اللہ کے حکم سے بہتا تھا تو ہم بھی اللہ ہی سے تیرا جاری ہونا مانگتے ہیں اور تو اللہ کے حکم سے جاری ہو جا اور اگر تو خود اپنی مرضی سے بہتا ہے اور اپنی ہی مرضی سے رک جاتا ہے تو پھر تیری کوئی پرواہ اور ضرورت نہیں ہے“۔
حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے یہ رقعہ دریائے نیل میں ڈال دیا اور واپس چلے آئے جب صبح مصر کے لوگ بیدار ہوئے تو یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ اللہ نے دریائے نیل کو اس طرح جاری کر دیا ہے بلکہ اب تو دریا میں پانی بہت چڑھ گیا تھا اور دریا میں طغیانی آئی ہوئی تھی، لوگ یہ دیکھ کر خوشی سے چلا اٹھے:
دریا جاری ہو گیا۔“
اس دن سے اب تک دریائے نیل اسی طرح جاری وساری ہے ایک لمحے کے لئے بھی اس کا پانی خشک نہیں ہوا ۔۔
زینت کے خزانے کو الماس کہتے ہیں
لگے تڑپ پانی کی تو اسے پیاس کہتے ہیں
یوں تو سب کی پیاس بجھاتا ہے دریا
جو دریا کی پیاس بجھائے اسے عمر بن خطابؓ کہتے ہیں۔
(بحوالہ : " ازالتہ الخفاء عن خلافتہ الخلفاء")
▭▬▭▬▭▬▭▬▭▬▭▬▭▬▭
▭▬▭▬▭▬▭▬▭▬▭▬▭▬▭
[ یہ تحریر شئیر ضرور کریں]
2 years ago | [YT] | 3
View 0 replies
Qadim Qissay
ایک کتا پانی کے کنویں میں گر کر مر گیا چونکہ گاوٴں میں وہ واحد پانی کا کنواں تھا " لوگ بھاگے بھاگے گاوٴں کے
مولوی صاحب کے پاس پہنچے اور ان سے پوچھا کہ پانی کو
کیسے پاک صاف کیا جائے ۔
مولوی صاحب نے کچھ دیر سوچ کر کہا کہ کنویں سے چالیس بالٹیاں پانی کی نکال کر پھینک دو تو پانی پاک صاف ہو جائے گا
چناچہ ان لوگوں نے کنویں سے چالیس بالٹی پانی کی نکال کر پھینک دیں مگر دو تین دن گزر گئے کوئی فرق محسوس نہ ہوا تو وہ لوگ پھر دوبارہ مولوی صاحب کے پاس پہنچے اور کہا حضور آپ کے کہنے کے مطابق ہم نے چالیس بالٹیاں پانی کی نکال کر پھینک دیں مگر پانی ابھی بھی بدبو دار ھے ۔
مولوی صاحب نے پوچھا کیا تم لوگوں نے کتے کو نکال کر چالیس بالٹیاں پانی کی نکالی تھیں ؟؟؟
ان لوگوں نے کہا جناب آپ نے چالیس بالٹی پانی نکالنے کا کہا تھا کتا نکالنے کا تو آپنے کہا ھی نہیں !!
دیکھا جائے تو ہم لوگ بھی ایسا ھی کرتے ہیں " ہمارے دل میں حسد" نفرت " بغض " اور لالچ کے کتے پڑے رہتے ہیں اور ہم چند نمازیں اور تسبیحات پڑھ کر سمجھتے ہیں کہ
ہمارا دل پاک صاف ہو گیا ھے
الله تعالیٰ سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق عطاء فرمائیں
آمین یا رب العالمین ۔
جزاک الله بالخیر ۔
2 years ago | [YT] | 3
View 0 replies
Qadim Qissay
ایک شرابی کے ہاں ہر وقت شراب کا دَور رہتا تھا-
ایک مرتبہ اس کے دوست احباب جمع تھے شراب تیار تھی
.
اس نے اپنے غلام کو چار درہم دیے کہ شراب پینے سے پہلے دوستوں کو کھلانے کے لیے کچھ پھل خرید کر لائے.
.
وہ غلام بازار جا رہا تھا کہ راستے میں حضرت منصور بن عمار بصری رحمتہ اللہ علیہ کی مجلس پر گزر ہوا وہ کسی فقیر کے واسطےلوگوں سے کچھ مانگ رہے تھے اور فرما رہے تھے کہ
"جو شخص اس فقیر کو چار درہم دے میں اس کو چار دعائیں دوں گا"
اس غلام نے وہ چاروں درہم اس فقیر کو دے دیے.
.
حضرت منصور رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا, بتا کیا دعائیں چاہتا ہے...؟
غلام نے کہا میرا ایک آقا ہے میں اس سے خلاصی چاہتا ہوں.
.
حضرت منصور رحمتہ اللہ علیہ نے دعا فرمائی اور پوچھا دوسری دعا کیا چاہتا ہے...؟
غلام نے کہا مجھے ان درہموں کا بدل مل جائے.
حضرت منصور رحمتہ اللہ علیہ نے اس کی بھی دعا کی پھر پوچھا تیسری دعا کیا ہے...؟
غلام نے کہا حق تعالٰی شانہ میرے سردار کو توبہ کی توفیق دے اور اس کی دعا قبول کرے.
آپ رحمتہ اللہ علیہ نے اس کی بھی دعا کی پھر پوچھا چوتھی دعا کیا ہے...؟
غلام نے کہا حق تعالٰی شانہ میری, میرے سردار کی, تمہاری اور یہاں مجمعے میں موجود ہر شخص کی مغفرت کرے.
حضرت منصور رحمتہ اللہ علیہ نے اس کی یہ بھی دعا کی.
اس کے بعد وہ غلام خالی ہاتھ اپنے سردار کے پاس واپس چلا گیا.
سردار اسی کے انتظار میں تھا. دیکھ کر کہنے لگا " اتنی دیر لگا دی...؟
غلام نے قصہ سنایا. سردار نے ان دعاؤں کی برکت سے بجائے غصہ ہونے اور مارنے کے یہ پوچھا کہ کیا کیا دعائیں کرائیں...؟
غلام نے کہا پہلی تو یہ کہ میں غلامی سے آزاد ہو جاؤں.....
سردار نے کہا میں نے تجھے آزاد کر دیا,دوسری کیا تھی...؟
غلام نے کہا مجھے ان درہموں کا بدلہ مل جائے.....
سردار نے کہا میری طرف سے تمہیں چار ہزار درہم نذر ہیں,تیسری کیا تھی....؟
غلام نے کہا حق تعالٰی شانہ تمہیں شراب وغیرہ فسق و فجور سے توبہ کی توفیق دے....
سردار نے کہا میں نے اپنے سب گناہوں سے توبہ کر لی, چوتھی کیا تھی....؟
غلام نے کہا حق تعالٰی شانہ میری,آپ کی, ان بزرگ کی اور سارے مجمع کی مغفرت فرما دے....
سردار نے کہا کہ یہ میرے اختیار میں نہیں ہے....
رات کو سردار کو خواب میں ایک آواز سنائی دی.....
جب تو نے وہ تینوں کام کر دیے جو تیرے اختیار میں تھے تو کیا تیرا یہ خیال ہے کہ اللہ وہ کام نہیں کرے گا جس پر وہ قادر ہے....؟
اللہ نے تیری, اس غلام کی, منصور کی, اور اس سارے مجمعے کی مغفرت کر دی ہے....
(ریاض الصالحین صفحہ ۱۲۰)
2 years ago | [YT] | 3
View 0 replies
Qadim Qissay
*اصل جنگ کیا ہے؟
••┈┈•••○○❁⭕❁○○•••┈┈••
بیت المقدس تین مذاہب کی مقدس جگہ ہے۔
مسلمانوں کا قبلہ
عیسائیوں کے لئے یسوع کی جائے ولادت
یہودیوں کے لئے ہیکل سلیمان
شروع کرتے ہیں حضرت ابراہیم علیہ السلام سے۔ جن کے دو بیٹے تھے اسماعیل اور اسحاق۔
اسحاق علیہ السلام کے بیٹے تھے حضرت یعقوب علیہ السلام ۔
یہیں سے کہانی شروع ہوتی ہے اسرائیل کی
اسرائیل یعنی اللہ کا بندہ اور یہ لقب حضرت یعقوب علیہ السلام کو دیا گیا۔
حضرت یوسف علیہ السلام نے جب کفیل مصر بنے تو آپ کو حکم ہوا کہ اپنے تمام خاندان یعنی آل یعقوب کو مصر بلایا جائے۔ اور مصر کی سرزمین کا ایک مخصوص حصہ ان کے لئے مختص کیا گیا۔ اور اللہ کی طرف سے کہا گیا کہ اے آل یعقوب اس سرزمین میں تمھارے لئے برکتیں ہیں۔
حضرت یوسف علیہ السلام بارہ بھائی تھے اسی لئے اللہ تعالی نے ان کے لئے بارہ چشمے جاری کیے۔ اور یوں اس سرزمین کا نام حضرت یعقوب علیہ السلام کے لقب سے اسرائیل پڑگیا۔ جسے آج یروشلم بھی کہا جاتا ہے۔
آپ کی نسل سے کم و بیش ستر ہزار انبیائے کرام آئے۔
حضرت یوسف کے بھائی یہودا کی نسل آگے بڑھی تو اس میں سے آنے والے تمام بنی اسرائیلی یہودی کہلائے۔
وقت گزرتا گیا اور حضرت موسی علیہ السلام کا دور آیا۔ جب فرعون نے مصر کی آپ پر تنگ کی تو بنو اسرائیل کے ساتھ آپکو مصر سے نکلنا پڑا۔
اس دوران بنی اسرائیل پر اللہ تعالی کی بہت سے کرم نوازیاں بھی ہوئیں، جس میں من و سلوی، چشموں کی بہتات، مچھلیوں کے شکار کا ذکر قرآن پاک سے بھی ملتا ہے۔ اور وہیں ہمیں ایک گائے کا ذکر بھی ملتا ہے، جس کے لوتھڑے سے مردے نے اللہ کے حکم سے زندہ ہوکر اپنے قاتل کا بتایا۔ اس گائے کی نشانیاں اللہ تعالی نے قرآن پاک میں بیان فرمائیں۔ جوکہ ایک سرخ مائل رنگت کی گائے تھی اور ایسی گائے آج بھی یہودیوں کے نزدیک مقدس مانی جاتی ہے۔
حضرت موسی علیہ السلام کے بعد دیگر نبی آئے۔ اس دوران میں حضرت موسی علیہ السلام اور ان کے دور کی کچھ باقیات، تورات، من و سلوی کا کچھ حصہ بنی اسرائیل نے ایک صندوق میں محفوظ کرلیا۔ یہ اللہ کی طرف حضرت آدم کو دیا گیا ایک خاص صندوق تھا جو نسل در نسل نبیوں کے پاس رہا۔ جسے قرآن میں تابوت سکینہ کے نام پکارا گیا ہے۔ اور یہ یہودیوں کو اپنی جان سے ذیادہ عزیز ہے۔
حضرت داؤد نے جب جالوت کو ہرا کر اس سے تابوت سکینہ حاصل کیا تو یوں بنی اسرائیل نے انہیں نبی تسلیم کرلیا۔ اور حضرت داؤد علیہ السلام نے اس صندوق کی حفاظت کے لئے ایک ہیکل تعمیر کروانا شروع کیا جو کہ انکی زندگی میں مکمل نہ ہوسکا۔ ان کے بیٹے حضرت سلیمان علیہ السلام نے جنوں کی مدد سے اس کو مکمل کروایا اور اسی دوران میں آپکی بھی وفات ہوگئی۔
اسی وجہ سے اسے ہیکل سلیمانی کہا جاتا ہے۔
بعد ازاں بابل کے باشاہ بخت نصر نے اسرائیل پر حملہ کیا اور ہیکل سلیمانی کو بھی گرا دیا۔ اور تابوت سکینہ بھی اپنے ساتھ لے گیا۔
سیپرس دی گریٹ نے دوبارہ یہ شہر حاصل کیا۔ یہودیوں کو دوبارہ یہاں آباد کیا اور تابوت سکینہ کو بھی واپس لایا گیا۔ ہیکل سلیمانی ایک دفعہ پھر تعمیر کیا گیا۔
پھر وقت گزرا اور حضرت عیسی علیہ السلام کی آمد ہوئی۔ جنہیں نعوذبااللہ یہودیوں نے دجال، ناجائز اور کیا کیا لقب دیئے۔ یہاں سے یہودیوں میں سے دو الگ قومیں ہوگئیں ایک یہودی اور دوسرے عیسائی۔
یہودیوں نے سازش کرکے حصرت عیسی علیہ السلام کو صلیب پر چڑھانا چاہا اور اللہ تعالی نے انہیں اپنے پاس اٹھالیا۔
اس کے بعد یہودیوں اور عیسائیوں میں کئی چھوٹی موٹی جنگیں ہوئیں۔ پھر عیسائی رومی بادشاہ ٹائیٹس نے اس شدت سے یروشلم پر حملہ کیا کہ اس پورے علاقے کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ ہیکل سلیمانی کو گرادیا۔ جس کی صرف ایک دیوار اس وقت اپنی اصلی حالت میں موجود ہے جسے دیوار گریہ کہاجاتا ہے۔ جہاں یہودی جاکر تورات کی تلاوت کرتے ہیں اور گریہ و زارہ کرتے ہیں۔ تابوت سکینہ بھی نہ جانے کہاں غائب ہوگیا۔
ٹائٹس کے حملے کے بعد یہودی آخری نبی کے انتظار میں تھے۔ کیونکہ اللہ پاک کا ان سے وعدہ تھا کہ انہیں پھر عروج بخشا جائے گا۔
اس وعدہ کا ذکر سورہ البقرہ میں بھی موجود ہے کہ
"اے بنی اسرائیل، ان نعمتوں کو یاد کرو جو تم پر کی گئیں، اور اپنا وعدہ پورا کرو (ایمان لاو) تاکہ ہم بھی اپنا وعدہ پورا کریں۔"
قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ بھی ہے کہ ہیکل سلیمانی کی تین دفعہ تعمیر ہوگی۔ جوکہ دو دفعہ ہوچکی ہے۔
یہودی اپنے مسیحا اور آخری نبی کے انتظار میں تھے کہ ٹائیٹس کے حملے کے پانچ سو سال بعد نبی آخرالزمان کی ولادت ہوئی۔ یہاں یہودیوں کو یہ جھٹکا لگا کہ سارے نبی حضرت اسحاق کی نسل سے ہیں تو آخری نبی حضرت اسماعیل کی نسل سے کیونکر آگئے۔۔۔ اور انہوں نے ایمان لانے سے انکار کردیا۔
مسلمانوں کے لئے بھی وہ انبیاء کی ہی نشانی تھی اسی لئے ہیکل سلیمانی کو بیت المقدس کا نام دیا گیا۔
اسلام کے آغاز میں یہودیوں کو قائل کروانے کی خاطر ہی بیت المقدس کی جانب منہ کرکے نماز ادا کرنے کا حکم ہوا۔ کیونکہ یہودی اسی طرف منہ کرکے عبادت کیا کرتے تھے۔
سترہ ماہ بعد ہماری عبادت کا رخ بیت المقدس سے بیت اللہ کی جانب موڑ دیا گیا۔ کیونکہ مسلمانوں کا شروع سے قبلہ اول وہی رہا۔ جسے پہلے حضرت آدم اور پھر حضرت ابراہیم نے تعمیر کیا۔
حضرت عمر رض کے دور حکومت میں اسرائیل یعنی یروشلم پر عیسائیوں کا قبضہ تھا۔ بیت المقدس کے ہی احاطے میں انہوں نے گرجا گھر تعمیر کیا ہوا تھا۔ اور عین تابوت سکینہ والی جگہ وہ گند پھینکا کرتے تھے یہودیوں کی نفرت میں۔ یروشلم کی فتح کے وقت جب حضرت عمر وہاں گئے تو عیسائیوں پر برہم ہوئے۔ وہاں صفائی کروا کر مسجد تعمیر کروائی، اور قرآن میں موجود معراج والے واقعے کی نسبت سے اس مسجد کو اقصی کا نام دیا۔
یہودیوں کی دیوار گریہ بھی اسی احاطے میں موجود تھی تو زائرین کی حثیت سے انہیں بھی وہاں آنے کی اجازت دے دی گئی۔
خلافت عباسیہ تک یروشلم ایک مسلم شہر رہا۔
اس کے بعد عسائیوں نے دوبارہ یروشلم پر حملہ کرکے اس پر قبضہ کرلیا۔ صلاح الدین ایوبی نے عیسائیوں کے خلاف پچاس سے زائد جنگیں کرکے بیت المقدس دوبارہ حاصل کیا۔ اور پھر سات سو سالوں تک یہ خلافت عثمانیہ کے زیر سلطنت رہا۔ یہودیوں کو بھی دیوار گریہ تک اپنے مذہبی اقدامات کی آزادی رہی۔ اور یہودی آہستہ آہستہ پھر یروشلم میں آباد ہونا شروع ہوگئے۔ اس دوران میں کئی بار انہوں نے خلافت عثمانیہ کے سلطان کو پیسوں کے عوض یروشلم انہیں سونپنے کا لالچ دیا لیکن ناکام رہے۔
اور پھر دوسری جنگ عظیم میں عیسائی سپاہی ہٹلر نے چن چن کر یہودیوں مارا۔ قریبا ساٹھ لاکھ کے قریب یہودیوں کا قتل عام کیا گیا اور یہ دربدر بھاگنے پر مجبور ہوگئے۔ اس دوران میں انہیں یہ اندازہ ہوچکا تھا کہ انہیں اب خود اپنی پہچان بنانی ہے۔ اور بائبل میں موجود یہودیوں کے آخری عروج سے قبل والی کئی نشانیاں بھی ظاہر ہوچکی تھیں۔ اور وہ یہ تسلیم کرچکے تھے کہ انکا آخری مسیحا اب دجال ہوگا جس کی بدولت پوری دنیا میں انکا دوبارہ بول بالا ہوگا۔
انہوں نے برطانیہ سے ساز باز کرکے خود کو الگ ریاست تسلیم کروالیا۔ یوں اسرائیل باقاعدہ ایک ملک کی صورت میں دنیا کے نقشے پر ابھرا۔ پھر آہستہ آہستہ انہوں نے فلسطین اور دیگر مصری علاقوں پر بھی قبضہ کرلیا۔ عرب ممالک اسرائیل کے خلاف جنگ پر آئے لیکن اس وقت تک یہ خود کو اتنا مضبوط کرچکے تھے عرب ممالک کو اس ایک چھوٹے سے ملک سے منہ کی کھانی پڑی۔ عسائیوں نے بھی دیکھ لیا کہ اب ان سے لڑ کر کچھ وصول نہیں ہونا تو باقاعدہ گرجا گھروں میں پادریوں نے تقریبات منعقد کیں اور یہودیوں کے لئے معافی کا اعلان کیا گیا۔ یوں سیاسی اور اقتصادی مفاد پرستی نے دو ہزار سالوں سے ایک دوسرے کے ازلی و جانی دشمنوں کو ایک صف پر لا کھڑا کیا۔ اور قرآن کی بات بھی سچ ہوگئی کہ
یہود و نصری ایک دوسرے کے دوست ہیں۔
یہودیوں کے عقائد کے مطابق وہ ہیکل سلیمانی کی حفاظت نہیں کرپائے تو خود کو قصوروار کہتے ہیں۔ خود کو سزا دینے کے لئے زنجیروں اور چمڑے سے پیٹتے ہیں۔ اور دیوار گریہ کے پاس آہ و زاری کرتے ہیں۔
وہ ایمان رکھتے ہیں تیسری بار انہیں پوری دنیا پر حکمرانی حاصل ہوگی۔ اس کے لئے انہیں مسجد اقصی کو گرانا ہوگا۔ جس کی تیارہ وہ کرچکے ہیں۔ کب سے مسجد اقصی کے نیچے بارودی سرنگیں بچھا دی گئی ہیں۔ اس کے بعد ہیکل سلیمانی تعمیر کرکے تابوت سکینہ وہاں رکھنا ہے۔ تابوت سکینہ بھی وہ دوبارہ حاصل کرچکے ہیں۔
لیکن مسئلہ تھا سرخ گائے۔۔۔ کیونکہ ان کے عقیدے کے مطابق وہ ناپاک ہیں اور جب تک پاک نہیں ہوجاتے ہیکل سلیمانی تعمیر نہیں کرسکتے۔ اور پاک ہونے کے لئے سرخ گائے کی قربانی دینا ہوگی۔
وہ گائے جس کی نشانیاں قرآن پاک میں بیان کی گئیں۔ جو اسوقت بھی انہیں ڈھونڈنے میں مشکل ہوئی تھی۔ اب بھی ایک سو سال تک وہ ویسی گائے کی تلاش کرتے رہے۔ ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے بچے پیدا کرنے کا کامیاب تجربہ کیا انہوں نے۔ پھر اس تجربے کی بدولت ویسی نشانیوں والی گائے پیدا کرنے کی کوشش کی گئی لیکن ناکام رہے۔ دوہزار انیس میں ایک امریکی ریاست سے پانچ عدد ویسی گائیں انہیں مل گئیں۔ جن کے جسم پر سرخ رنگ کے علاوہ اور کوئی بال نہیں تھا۔ انہیں کبھی کام کے لئے استعمال نہیں کیا گیا تھا۔ اگلی نشانی کہ ان پر کسی بیماری کا اثر نہیں ہونا چاہیے، پوری دنیا میں کووڈ پھیلا کر مختلف جانوروں کے ساتھ انہیں بھی ٹیسٹ کیا گیا اور ان پر اس بیماری کا کوئی اثر نہ ہوا۔
Red heifer found
Mastery of Red heifer
یہ گوگل میں سرچ کرکے آپ اس متعلق تفصیل سے پڑھ سکتے ہیں۔
الغرض قرب قیامت اور دجال کے ظہور والی تمام تر تیاریاں وہ مکمل کرچکے ہیں۔
اپنی مرضی کے ڈاکٹر، انجینئر بچے پیدا کرنا، نائن ڈی ٹیکنالوجی کی مدد سے ایک جگہ ہوتے ہوئے کئی جگہ موجود رہنا، اپنی مرضی کے موسم بنانا، جب چاہو بارش برسا دینا، چند دنوں میں پوری دنیا گھوم لینا یہ سب دجالی نشانیاں ہیں جو آج کے دور میں کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ ہمارے اسلام میں بتائی گئی قیامت کی نشانیوں کی انہوں نے اتنے اچھے سے تیاری کرلی ہے کہ غرقد کے درخت لگا دیے۔ جو انہیں پناہ دیں گے۔ باب لد جس جگہ احادیث کے مطابق دجال کا حضرت عیسی ع کے ہاتھوں قتل ہونے کا ذکر موجود ہے اس جگہ وہ دجال کے فرار کے لئے ایئر پورٹ بنا چکے ہیں۔
یہ سب تو قربت قیامت کی نشانیاں ہیں اور ہیکل سلیمانی نے بھی بن کر رہنا ہے۔ پھر اصل جنگ کیا ہے؟
اصل جنگ عقائد کی ہے۔ ہم اپنے عقائد میں اس قدر کمزور ہوچکے ہیں کہ نماز پڑھیں یا نہ پڑھیں ہمیں فرق نہیں پڑتا۔ اپنے بہن بھائیوں کا حق کھا کر خوشی محسوس کرتے ہیں اور فرقوں کے خرافات میں الجھے ہوئے ہیں۔
فلسطینوں کے لئے سوائے دعا اور احتجاج کے ہم کیا کرسکتے ہیں؟
کیا ہم اپنے عقائد کے اتنے مضبوط ہیں کہ ڈالر کہ بہکاوے میں نہ آئیں؟
کیا ہم یہودیوں کے مقابلے میں نکلنے والے خراسان مجاہدین کی لسٹ میں آتے ہیں یا بس سوشل میڈیا کے تماشائی ہیں؟
اگر آج دجال ظاہر ہوجائے اور توبہ کا دروازہ بند ہوجائے تو ہماری آخرت کے لئے کیا تیاری ہے؟
سوچئے گا ضرور
2 years ago | [YT] | 3
View 0 replies
Load more