Viral in Pakistan Media



Viral in Pakistan Media

کائنات کا حیران کن حالیہ انکشاف
جدید ترین James Webb Space Telescope (JWST) نے یہ حیران کن حقیقت سامنے لائی ہے کہ کائنات کے ابتدائی زمانے میں بھی ایسی کہکشائیں موجود تھیں جو غیر معمولی حد تک منظم، بڑی اور روشن تھیں — یہ سب ظاہر کرتی ہے کہ کائنات ابتدا ہی سے ایک مکمل منصوبہ بندی کے تحت وجود میں آئی۔
قرآن مجید صدیوں پہلے اس حقیقت کی طرف اشارہ کر چکا تھا:

﴿اِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ﴾

“بے شک ہم نے ہر چیز کو ایک مقررہ اندازے اور نظام کے ساتھ پیدا کیا۔”
— (سورۃ القمر: 49)

اور ایک اور مقام پر فرمایا:

﴿ثُمَّ اسْتَوٰى اِلَى السَّمَاءِ وَهِيَ دُخَانٌ﴾

“پھر وہ آسمان کی طرف متوجہ ہوا جبکہ وہ دھوئیں کی حالت میں تھا۔”
— (سورۃ فصلت: 11)

سائنس آج یہ مان رہی ہے کہ کائنات کی ابتدا گیس اور کاسمک دھند (Cosmic Gas Clouds) سے ہوئی —
بالکل وہی تصور جو قرآن نے ‘دخان’ کے لفظ سے بیان کیا۔

یہ دریافت انسان کو یہ یاد دہانی کراتی ہے کہ:
کائنات اتفاق نہیں ہر ستارہ، ہر کہکشاں اللہ کے علم اور حکم سے قائم ہے

جیسا کہ نبی ﷺ نے فرمایا:
“اللہ تھا، اور اس کے سوا کچھ نہ تھا۔”
— (صحیح بخاری)
سائنس جتنا آگے بڑھ رہی ہے،
قرآن کی سچائی اتنی ہی زیادہ واضح ہوتی جا رہی ہے۔

#urdu #islam #science #Quran

1 month ago | [YT] | 1

Viral in Pakistan Media

اُنگلیوں کے کڑاکے آواز کیوں آتی — ایک عام عادت، ایک سائنسی حقیقت

ہم میں سے اکثر لوگ کبھی نہ کبھی اُنگلیوں کے کڑاکے ضرور نکالتے ہیں۔ بعض کے لیے یہ محض ایک عادت ہے، کچھ اسے ذہنی دباؤ کم کرنے کا طریقہ سمجھتے ہیں، جبکہ کچھ لوگ اس آواز سے کوفت محسوس کرتے ہیں۔ لیکن کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ آخر یہ آواز آتی کیوں ہے؟

سائنس کے مطابق جب ہم اپنی اُنگلی کے جوڑ کو دباتے یا کھینچتے ہیں تو جوڑ کے اندر موجود خلا عارضی طور پر بڑھ جاتا ہے۔ اس اچانک تبدیلی سے جوڑ کے اندر دباؤ کم ہو جاتا ہے، جس کے نتیجے میں وہاں موجود مائع سے ایک گیس کا ببل بن جاتا ہے۔ جیسے ہی یہ گیس ببل پھٹتا ہے، ایک تیز سی آواز پیدا ہوتی ہے جسے ہم عام زبان میں اُنگلی کا “کڑاکا” یا “پٹاخا” کہتے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک بار کڑاکا نکلنے کے بعد وہ گیس ببل فوراً دوبارہ نہیں بنتا۔ اسے دوبارہ بننے میں تقریباً تیس منٹ کا وقت لگتا ہے۔ اسی وجہ سے اگر آپ فوراً دوبارہ اُنگلی دبائیں تو آواز نہیں آتی۔ بعض لوگ اس صورت میں زیادہ زور لگاتے ہیں، جو کہ خطرناک ہو سکتا ہے، کیونکہ بار بار اور غیر ضروری دباؤ جوڑوں کے ٹیڑھے ہونے یا کمزور پڑنے کا سبب بن سکتا ہے۔

اگرچہ عام حالات میں اُنگلیوں کے کڑاکے نکالنا فوراً کسی سنگین بیماری کا باعث نہیں بنتا، لیکن ماہرین کے مطابق اس عادت کو حد سے زیادہ نہیں اپنانا چاہیے۔ اعتدال ہی بہتر ہے، کیونکہ صحت ایک امانت ہے اور اس کی حفاظت ہماری ذمہ داری ہے۔

اب سوال یہ ہے: کیا آپ بھی اُنگلیوں کے کڑاکے نکالتے ہیں، یا یہ آواز آپ کو بھی ناگوار گزرتی ہے؟

1 month ago | [YT] | 0