Cricket Lover Rashid Official

Welcome to Cricket Lover Rashid official

This channel is for all true cricket lovers. Here you will find:
• Latest cricket news
• Cricket shorts & highlights
• Match analysis & predictions
• Cricket facts & records
• Funny and trending cricket moments

I cover IPL, PSL, World Cup, T20, ODI and Test cricket.
If you love cricket, make sure to SUBSCRIBE and support ❤️

Cricket Lover Rashid official – Your daily dose of cricket.

My business email for brand collaboration and promotion is
rashidmustahsan@gmail.com



Cricket Lover Rashid Official

ایشیا کپ 2012 کچھ الگ ہی تھا، اس میں بہت سی چیزیں ایسی تھیں کہ جو شاید ہی کبھی ایشیا کپ میں ہوئی ہوں-

سب سے پہلے تو انڈیا اور سری لنکا دونوں ہی فائنل میں نہیں پہنچ پائیں
سری لنکن ٹیم ایک بھی میچ نہ جیت پائی تھی اور ایسا تو ایشیا کپ میں 80 کی دہائی میں بھی نہیں ہوا تھا جب سری لنکا ایک کمزور ٹیم تھی-
بنگلہ دیشی ٹیم نے فائنل کھیلا
بنگلہ دیش نے انڈیا اور سری لنکا کو شکست دی لیکن پاکستان کے خلاف دونوں میچز میں شکست کا شکار ہوئی

سچن ٹنڈولکر نے اپنی سوویں انٹرنیشنل سنچری سکور کی تھی، پھر پاکستان کے خلاف لیگ میچ سچن کا آخری ون ڈے انٹرنیشنل ثابت ہوا، جہاں سچن نے نصف سنچری بنائی تھی جبکہ ورات کوہلی نے 183 رنز کا لاجواب اننگ کھیلی تھی-

انڈین ٹیم نے پاکستان اور سری لنکا کو آرام سے شکست دی لیکن صرف بنگلہ دیش کے خلاف شکست کی وجہ سے فائنل سے باہر ہو گئی حالانکہ ان کا نیٹ رن ریٹ بھی بنگلہ دیش سے بہتر تھا لیکن ٹورنامنٹ کے قوانین کے مطابق پوائنٹس برابر ہونے کی صورت میں جو ٹیم لیگ میچ جیتی ہو، وہی فائنل میں پہنچے گی- پاکستان، انڈیا اور بنگلہ دیش تینوں نے دو دو میچز جیتے تھے لیکن پاکستانی ٹیم نے ایک بونس پوائنٹ بھی حاصل کیا تھا اور انڈیا اور بنگلہ دیش کے 8، 8 پوائنٹس تھے، انڈین ٹیم بہتر رن ریٹ کے باجود بنگلہ دیش سے شکست کی وجہ سے فائنل نہ کھیل پائی، اگر پاکستان کو بونس پوائنٹ نہ ملا ہوتا تو نیٹ رن ریٹ پر فائنل پاکستان اور انڈیا کے درمیان کھیلا جاتا

فائنل میں پاکستان کی جانب سے کوئی بھی بڑی اننگ کھیلنے میں کامیاب نہیں رہا تھا- شاہد آفریدی نے 22 گیندوں پر 32 جبکہ سرفراز احمد نے 52 گیندوں پر 46 رنز کی اہم اننگز کھیلی تھیں- اس سے پہلے عمر اکمل 45 گیندوں پر 30 اور محمد حفیظ 87 گیندوں پر 40 رنز بنا پائے تھے- عبدالرزاق نے دس اوورز میں صرف 26 رنز دے کر دو وکٹیں حاصل کی تھیں جبکہ شکیب اور مشرفے مرتضی نے بھی دو دو وکٹیں حاصل کی تھیں-

237 رنز کے ہدف کے تعاقب میں بنگلہ دیش کا آغاز سست تھا لیکن ایک اچھی اوپننگ پارٹنرشپ مل گئی تھی لیکن پھر اوپر تلے تین وکٹیں گر چکی تھیں- پھر شکیب الحسن اور ناصر حسین کے درمیان ایک لمبی پارٹنرشپ بنی، شکیب اچھے سٹرائیک ریٹ سے کھیل رہا تھا لیکن ناصر بہت سست تھا- پاکستانی سپنرز بہت اکنامیکل باؤلنگ کر رہے تھے لیکن فاسٹ باؤلرز کو کافی مار پڑ رہی تھی- 46 گیندوں پر بنگلہ دیش کو 66 رنز درکار تھے اور سات وکٹیں باقی تھیں جب ایک بار پھر تین وکٹیں اوپر تلے گریں-

29 گیندوں پر 47 رنز درکار تھے اور ایسے ہی حالات میں بنگلہ دیشی ٹیم انڈیا کو شکست دے چکی تھی- یہاں سے مشرفے مرتضی نے معاملات اپنے ہاتھ میں لینے کا فیصلہ کیا اور اگلی 14 گیندوں پر بنگلہ دیش نے 28 رنز بنائے جس میں سے عمر گل کے اوور میں 14 رنز بنے تھے- اب 15 گیندوں پر صرف 19 رنز درکار تھے لیکن یہیں سعید اجمل نے مشرفے مرتضی کو آؤٹ کیا، اگلی دو گیندوں پر کوئی سکور نہیں بنا اور میچ ایک بار پھر پاکستان کے حق میں پلٹ گیا- دو اوورز میں 19 رنز درکار تھے تو عمر گل نے دس رنز دے دئیے تھے اور اعزاز چیمہ کے آخری اوور میں بنگلہ دیش کو 9 رنز کی ضرورت تھی-

پہلی تین گیندوں پر دو رنز بنے لیکن چوتھی گیند پر تین رنز بننے کا مطلب اب بنگلہ دیش کو اگلی دو گیندوں پر صرف ایک چوکا درکار تھا- عبدالرزاق نے اگلی گیند کو شارٹ فائن لیگ کے فیلڈر کے اوپر سے کھیلنے کی کوشش کی لیکن ایک سست گیند کو وکٹوں میں گھسیٹ لایا اور پھر اگلی گیند پر ایک لیگ بائی کا مطلب پاکستانی ٹیم ایشین چمپئن بن چکی تھی- شاہد آفریدی مین آف دی میچ اور شکیب الحسن مین آف دی ٹورنامنٹ قرار پائے تھے

#OnThisDay in 2012
#asiacup2012
#pakvsban

18 hours ago | [YT] | 7

Cricket Lover Rashid Official

یار وہاٹ آ وِن ، وہاٹ آ گیم ۔۔۔۔۔۔
آخری باری پاکستانی بلے بازوں کو ایسے کھیلتے ہُوئے کب دیکھا تھا آپ نے ؟
یہ کون لوگ تھے بھائی ؟
کِتنے آدمی تھے ؟
سرکار کُل تین ہی تھے ۔
دو سو پانچ رَنز کے تعاقب میں پاکستانی سلامی بلے بازوں حسن نواز اور حارث نے محض چار اوورز میں پچاس پلس کا جواب دِیا ۔ پہلی وِکٹ چوہتر ( ؟ ) پر گِری جب حارث بیس اکیس گیندوں پر اکتالیس رَنز بنا کر آؤٹ ہُوئے ۔ دونوں اوپنرز نے آج بڑی تیزی سے رَنز بٹورے ۔ پاکستان کے سو رَنز آٹھ اوسر میں مکمل ہو گئے ۔ یہ سب دیکھنا بڑا حیرت والا کام تھا اور وُہ فنی ڈائیلاگ یاد آ رہا تھا کہ “ کیا کیا دیکھنا پڑ رہا ہے “ ۔
خیر سلمان علی آغا اور حسن نواز ابھی تک ٹھیک جا رہے تھے ۔ مُجھے اصل خُوشی اِس بات کی تھی اور آگے بھی یہی اُمید ہے کہ اِن میں سے ہی کوئی لڑکا آگے چلے گا اور اُس فضول قسم کی بیٹنگ اور ٹُک ٹُک سے جان چُھوٹے گی جو اب پاکستانی کرکٹ شائقین کے نصیب میں کئی برسوں سے تھی / ہے ۔ آپ نے آخری باری کب پاکستانی بلے بازوں کو ایسے کھیلتے دیکھا تھا ؟ ہار جِیت اپنی جگہ لیکن یہ اپروچ اچھی ہے ۔ ٹی ٹوئنٹی میں ایسے ہی کھیلنا ضروری ہے ۔
حسن نواز کا کیرئیر پہلے دونوں میچز میں صفر کے آغاز سے ہُوا تھا اور آج تیسرے میچ میں چھبیس گیندوں پر اپنی پہلی ففٹی بنا کر کُچھ نہ کُچھ ریکارڈ بھی ٹھیک کِیا لیکن ساتھ ساتھ حسن نواز جیسے مار رہا تھا وُہ بڑا امیزنگ تھا ۔ ابھی تک تیس گیندوں پر نواز نے اڑسٹھ رَنز بنا لیے تھے اور ایک کیچ بھی اِش سوڈھی نے ڈراپ کِیا تھا جو بالکل سیدھا اور آسان کیچ تھا ۔ دَس اوورز کے اختتام پر سکورز ایک سو چوبیس تھے ایک وِکٹ ڈاؤن پر ۔ حسن نواز کی یہ ففٹی محمد رِضوان کے ساتھ تیز ترین ففٹی پاکستان کے لیے ؛ دُوسرے نمبر ہے جبکہ شرجیل خان بدستور پہلے نمبر ہے پاکستان کی طرف سے ۔
سلمان علی آغا بھی خُوب ہاتھ صاف کر رہے تھے اور حسن نواز تو دھو ہی رہا تھا ۔ یار یہ نواز نام ہی کُچھ کر دِکھانے کا نہیں بنتا جا رہا ہے ؟ ایک آنکھ مِیچ کر ۔۔۔۔۔
تیرہ اوورز میں پاکستان کا سکور بورڈ ایک سو ساٹھ پار کر چُکا تھا ۔ ہے ناں حیرت والی بات ؟ پندرہ اوورز میں ایک سو ترانوے سکورزززززز ۔۔۔۔۔ سلمان علی آغا تیس گیندوں پر پچاس کر چُکے تھے جبکہ تینتالیس گیندوں پر نواز ستانوے رَنز پر تھے ۔ جیت کے لیے محض سات مزید رَنز درکار تھے ۔ حسن نواز نے سولہ اوورز میں پاکستان کو نو وِکٹس سے جِیت بھی دِلائی اور اپنی چوالیس گیندوں پر سینچری بھی مکمل کی ۔ یہ غالباً پاکستان کی طرف سے سب سے تیز ترین سینچری ہے ۔
بہرحال واپس اُسی بات پر کہ یہ لڑکے اگر چل پڑے تو دامادوں ( شاداب و شاہین ) کا پروگرام تو وڑ ہی جائے گا اور ساتھ ساتھ روٹی ٹُکر گینگ بھی روٹی شوٹی کا سلسلہ ہی جاری رکھنے پر مجبور ہوگا اور پاکستانی کرکٹ ٹیم سے کُچھ عرصہ دُوری کی امید بھی ہم لوگ کر سکتے ہیں ۔ یار کیسے عجیب و غریب سی حرکات کر رہے تھے یہ لوگ ویسے ؟ نہیں ؟

آپ لوگوں کی کیا رائے ہے بھلا ؟

پچھلے برس آج ہی کے دِن جب نیوزی لینڈ کا دو سو پانچ رَنز کا ہدف سولہ اوورز میں پار کر لِیا گیا لیکن حسن نواز کی کُچھ کمزوریوں کو ٹھیک نہ کِیا جا سکا ۔ وُہ باہر ہے ، صائم شدید غلطیوں کے باوجود کھیل رہا ہے اور داماد شریفین بھی ٹیم کا حِصہ ہیں ۔

باقی آپ سب کو عید مبارک ؛ ماسوائے روٹی ٹُکر گینگ کے فینز کلب کے ۔

Cricket lover Rashid Official YouTube channel ❤️❤️❤️❤️

1 day ago | [YT] | 1

Cricket Lover Rashid Official

Eid Mubarak 🌙✨ | Cricket Lover Rashid Official 🏏❤️
Wishing all cricket fans around the world a joyful and blessed Eid! 🕌
May this beautiful occasion bring happiness, success, and countless victories in your life—just like your favorite cricket moments! 🏆
Celebrate this Eid with love, family, and delicious sweet dishes 🍨💛
Stay blessed and keep supporting cricket with passion!
👉 Don’t forget to like, share & subscribe to Cricket Lover Rashid Official for more amazing cricket content!

#EidMubarak #Eid2026 #CricketLovers #EidCelebration #RashidOfficial #YouTubePakistan #EidVibes #SweetDish #CricketFans #PakistanCricket #EidPost #Trending

1 day ago | [YT] | 5

Cricket Lover Rashid Official

آسٹریلیا کی ٹیم 34 مسلسل ون ڈے ورلڈکپ میچز میں ناقابل شکست تھی، اس دوران تین بار ورلڈ چمپئن بن چکی تھی- اس سے پہلے آسٹریلیا کو ورلڈکپ میچ میں آخری بار بھی پاکستانی ٹیم نے 1999 میں شکست دی تھی- اس میچ کی فاتح ٹیم گروپ میں ٹاپ کرتی اور اسے نسبتاً آسان حریف یعنی ویسٹ انڈیز کا سامنا کرنا پڑتا- کامران اکمل کے دو ڈراپ کیچز کی وجہ سے شعیب اختر ایک اور میچ سے باہر تھے اور کسے خبر تھی کہ اب شعیب اختر پاکستان کی جانب سے دوبارہ کھیلتے نظر نہیں آئیں گے-

آسٹریلیا نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا تو پہلی وکٹ جلدی گر جانے کے بعد بریڈ ہیڈن اور رکی پونٹنگ کی شراکت میں آسٹریلیا کا سکور 75/1 تک جا پہنچا تھا کہ پونٹنگ نے محمد حفیظ کی ایک گیند پر ایج کیا اور کامران اکمل نے کیچ پکڑ بھی لیا- اس وقت وکٹ کیپر کے طور پر کامران اکمل بدترین فارم میں تھا، اور مزے کی بات یہ ہے کہ جب کامران نے کیچ پکڑا تو امپائر نے آؤٹ ہی نہ دیا اور پاکستانی ٹیم کو ریویو لینا پڑا- جب امپائر ری پلے دیکھ رہے تھے تو میدان میں بریڈ ہیڈن اور پاکستانی کھلاڑیوں کے درمیان لڑائی جاری تھی- پونٹنگ کی اس وکٹ کے بعد پاکستانی باؤلرز نے آسٹریلوی بیٹسمینوں کو پارٹنرشپ نہ بنانے دی اور وکٹیں وقفے وقفے سے گرتی رہیں- عمر گل نے تین اور عبدالرزاق نے دو وکٹیں حاصل کیں- وہاب ریاض کو مار تو خوب پڑی پر وہ بھی ایک وکٹ لینے میں کامیاب رہے-

پاکستان کا آغاز برا نہ تھا، محمد حفیظ جلدی آؤٹ ہو گئے لیکن اسد شفیق (46) نے پہلے کامران اکمل اور پھر یونس خان
(31)کے ساتھ مل کر اننگ کو سنبھال لیا لیکن 98/2 سے سکور دو گیندوں میں ہی 98/4 ہوا تو لگا کہ آسٹریلیا ٹیم ایک بار پھر ناقابل شکست ہی ورلڈکپ کے ناک آؤٹ راؤنڈ میں پہنچ جائے گی- اسد شفیق نے اب عمر اکمل (44) کے ساتھ اننگ کو سنبھالا دیا اور جب اسد شفیق اور شاہد آفریدی ایک ساتھ پویلین لوٹے تو عمر اکمل نے ذمہ داری اٹھانے کا فیصلہ کیا- عمر اکمل آسٹریلیا کے خلاف اکثر اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے رہے اور اس دن بھی بریٹ لی کی چار وکٹوں کے باوجود عمر نے عبدالرزاق کے ساتھ مل کر ہدف عبور کرتے ہوئے پاکستان کو فتح دلا ہی دی-

#OnThisDay in 2011
#umarakmal
#2011worldcup

3 days ago | [YT] | 9

Cricket Lover Rashid Official

رنگنا ہیراتھ؛ دنیا کا سب سے شاندار لیفٹ آرم آرتھوڈوکس ٹیسٹ سپنر؟ کم از کم پاکستانی بیٹسمین اور پاکستانی کرکٹ شائقین تو اس سے کبھی انکار نہیں کر سکتے- رنگنا ہیراتھ کی اصل کارکردگی تو 2010 کے بعد ہی سامنے آئی تھی لیکن پاکستان کے خلاف وہ اس سے پہلے بھی میچز جتوا چکا تھا- اس کی اندر آتی گیندوں میں کوئی جادو تھا شاید کہ پیڈ ہٹانا جیسے ناممکن ہو جاتا تھا اور جو گیند باہر نکلتی تو بلے کا کنارہ لیتے ہوئے کیپر یا سلپس تک ہی پہنچتی-

رنگنا ہیراتھ پاکستان کے خلاف 2017 میں امارات میں ہونے والی سیریز اور 2014 میں سری لنکا میں ہونے والی کلین سویپ کا سب سے اہم کردار تھا جبکہ 2009 میں صرف 168 کا ہدف کے تعاقب میں پاکستانی بیٹسمین رنگنا ہیراتھ کی چار وکٹوں کی وجہ سے صرف 117 رنز پر آل آؤٹ ہو گئے تھے- ہیراتھ نے آسٹریلیا کے خلاف بھی کئی بار شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا- 2011 میں اس کی دو ٹیسٹ میں 16 وکٹیں سری لنکا کو شکست سے نہ بچا سکیں لیکن 2016 میں ہیراتھ کی 28 وکٹیں ہی تھیں جن کی بدولت سری لنکا نے آسٹریلیا کو تین ٹیسٹ کی سیریز میں کلین سویپ کیا تھا- جنوبی افریقہ میں 2011-12 میں ہیراتھ کی 9 وکٹیں سری لنکا کی جنوبی افریقہ میں پہلی ٹیسٹ فتح کی اہم وجہ رہیں-

ہیراتھ ٹیسٹ کرکٹ میں انڈیا کے خلاف زیادہ کامیاب نہ رہے لیکن ون ڈے کرکٹ میں ہیراتھ کی سب سے شاندار کارکردگی انڈیا کے خلاف سامنے آئی جب ہیراتھ نے دس اوورز میں بیس رنز دے کر چار وکٹیں حاصل کی تھیں- رنگنا ہیراتھ نے بہت کم ٹی ٹونٹی کرکٹ کھیلی لیکن 2014 ٹی ٹونٹی ورلڈکپ میں نیوزی لینڈ کے خلاف ہیراتھ نے صرف تین رنز دے کر پانچ وکٹیں حاصل کی تھیں-

رنگنا ہیراتھ کی کرکٹ کے پہلے آٹھ دس سال مرلی دھرن کا سپورٹ رول ادا کرتے گزرے، مرلی کے ہوتے کسی اور کو کامیابی ملنے کا امکان ہی رہتا تھا لیکن ہیراتھ اپنی موجودگی کا احساس دلاتا رہا- مرلی کی ریٹائرمنٹ کے بعد ہیراتھ کو مین رول ملا، تو اس نے اسے بخوبی ادا کیا اور دس سال تک سری لنکن فتوحات میں اہم ترین حصہ ڈالتا رہا- باہر گھومتی گیندوں نے ساتھ آرم بال اور پھر ایک تیز گیند جو وکٹوں میں جیسے گھس سی جاتی تھی، ہیراتھ کے اہم ہتھیار تھے-

آج رنگنا ہیراتھ کی 48 ویں سالگرہ ہے

#happybirthday Rangana Herath

3 days ago | [YT] | 8

Cricket Lover Rashid Official

اٹھارہ مارچ 1992, ورلڈکپ کے تین میچز اس روز کھیلے جانے تھے- ایک نیوزی لینڈ میں اور دو آسٹریلیا میں- تین ٹیموں کے ورلڈکپ میں چانسز داؤ پر تھے-

پاکستان ایک ایسی ٹیم سے میچ کھیلنے والا تھا جو ابھی تک اس ٹورنمنٹ ناقابل شکست رہی تھی- آسٹریلیا, ویسٹ انڈیز, جنوبی افریقہ, انگلینڈ سب کو مات دی- ایک آف سپنر سے باؤلنگ کا آغاز کیا اور سب کو حیران کیا اور پریشان بھی, ایک ہارڈ ہٹر کے اوپنر بنا دیا- اگر دیپک پٹیل اور مارک گریٹ بیچ نیوزی لینڈ کے فرنٹ فائٹرز تھے تو مارٹن کروو اور کرس ہیرس نیوزی لینڈ کے اصل ہتھیار تھے جو دوسری ٹیم کے ڈھے جانے پر حملہ کرتے تھے- مارٹن کروو ورلڈکپ کے ٹاپ سکورر رہے تو کرس ہیرس اپنی لالی پاپ ٹائپ میڈیم پیسرز کے ساتھ دوسرے زیادہ وکٹیں لینے والے باؤلر- گراؤنڈ نیوزی لینڈ کے کچھ ایسے ہیں کہ وہاں ون ڈے میچ ذرا ٹیکنیکل سا ہو جاتا ہے- گراؤنڈ کی ایک سائیڈ پر ہلکا سا پش چوکا ہے تو دوسری سائیڈ پر ایک اچھی شاٹ پر بھی پورے زور سے بھاگنا پڑتا ہے کہ باؤنڈری بہت بڑی ہے- اس سب کے بعد آتے ہیں پاکستان کے گروپ سٹیج کے آخری میچ کی طرف-

پاکستان کے لئے ٹاس جیتنا بہت فائدہ مند رہا، عاقب جاوید نے لیتھم کی وکٹ لی تو وسیم اکرم نے جیسے نیوزی لینڈ بیٹنگ کی کمر ہی توڑ ڈالی, جونز اور کروو آؤٹ ہوئے تو ایک سائیڈ سے گریٹ بیچ تو کھڑا رہا پر دوسری سائیڈ سے لائن سی لگ گئی- پورے ٹورنامنٹ میں پہلی بار وسیم اکرم بہترین فارم میں نظر آیا- وکٹیں تو وسیم اکرم نے اس سے پہلے بھی لی تھیں مگر زیادہ تر لیٹ آرڈر بیٹسمین کی- ایک وقت پر نیوزی لینڈ کا سکور 106/8 تھا, وہ تو بھلا ہو لارسن اور موریسن کا جو آہستہ آہستہ لگے رہے, اور سکور کو 161 تک لے گئے- وسیم اکرم 32/4 اور مشتاق احمد 18/2 بہترین باؤلر رہے, عمران خان, عامر سہیل اور عاقب جاوید نے بھی بہت عمدہ باؤلنگ کا مظاہرہ کیا-

پاکستانی اننگ کا آغاز تباہ کن تھا, موریسن کی پہلی بال کو عامر سہیل نے ہک کیا اور کیچ دے بیٹھے, بال کندھے سے اونچی تھی جو کہ اس وقت کے قانون کے مطابق نو بال تھی پر ایمپائر شاید جج نہ کر پائے اور عامر سہیل کو لڑتے جھگڑتے پویلین جانا پڑا- ہر میچ کی طرح ایک بار پھر نیا ون ڈاؤن, اس بار انضمام الحق اور وہ بھی پانچ رنز بنا کر آؤٹ اور ٹینشن, پریشانی اور دباؤ کا آغاز, مگر جاوید میانداد ایک بار پھر مرد بحران کی طرح آئے- دوسری طرف گروپ سٹیج کے پہلے میچ کے بعد پہلی بار فارم میں آئے رمیز راجہ تھے, لیکن اس بار ارادے شاید کچھ اور تھے-

پہلے میچ میں 158 گیندوں پر صرف چار چوکے لگانے والے رمیز راجہ آج وقفے وقفے سے گیند کو باؤنڈری کے پار پہنچا رہے تھے, باؤنڈریز کے درمیانی وقفہ میں رنز لینے کی رفتار کم تھی اور جاوید میانداد بھی بہت آہستگی سے کھیل رہے تھے لیکن چھوٹے ٹارگٹ کو دیکھتے ہوئے اس میں کوئی حرج نہ تھا- جاوید میانداد 30 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے لیکن رمیز راجہ نے موقع کا پورا فائدہ اٹھاتے ہوئے 155 گیندوں پر 16 چوکوں کی مدد سے 119 رنز بنائے لیکن مین آف دی میچ بہترین اکنامیکل باؤلنگ کرنے پر مشتاق احمد کو قرار دیا گیا-

اب پاکستانی ٹیم کو ویسٹ انڈیز اور آسٹریلیا کے درمیان مقابلے کے نتیجے کا انتظار کرنا تھا-

#OnThisDay in 1992
#cwc1992stories
#1992cwc
#imrankhan

5 days ago | [YT] | 10

Cricket Lover Rashid Official

اس ٹیسٹ سے قبل انڈیا پاکستان کے درمیان کھیلے گئے گیارہ ٹیسٹ میچز ڈرا ہو چکے تھے- شکست کا خوف تھا یا کچھ اور، پچز کچھ ایسی بنائی جاتی تھیں کہ جن پر نتیجہ اسی صورت میں آ سکتا تھا اگر کوئی کپتان بہادری دکھاتا لیکن یہاں تو دونوں ٹیمیں سست ترین بیٹنگ کے مقابلے میں شامل تھیں- بنگلور ٹیسٹ کی پچ جانے کیوں پچھلے گیارہ میچز سے مختلف تھی-

پاکستانی ٹیم میں تین فاسٹ باؤلرز تھے جن میں سلیم جعفر کو دونوں اننگز میں اور عمران خان کو دوسری اننگ میں باؤلنگ کا موقع ہی نہ مل سکا- دوسری جانب انڈین میڈیم پیسرز راجر بنی اور مہندر امرناتھ بھی پہلی اننگ میں ہی تین تین اوور پھینک سکے- عمران خان نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا تو رمیز راجہ اور سلیم ملک کی بیٹنگ سے ایک وقت میں پاکستانی ٹیم 60/2 پر کھیل رہی تھی لیکن جلد ہی یہ سکور 74/8 ہو چکا تھا- یہاں سے اقبال قاسم، توصیف احمد اور سلیم جعفر سکور کو کھینچ تان کر 116 تک لے ہی گئے تھے- اس تباہی کا ذمہ دار منندر سنگھ تھے جنہوں نے صرف 27 رنز دے کر سات وکٹیں حاصل کیں جبکہ دونوں اوپنرز کو کپیل دیو نے آؤٹ کیا-

انڈیا کا آغاز بہت بہتر تھا اور 102/3 اور 126/4 پر لگ رہا تھا کہ انڈین ٹیم ایک لمبی لیڈ حاصل کر سکتی ہے- لیکن اس کے بعد توصیف احمد اور اقبال قاسم نے کسی کو ٹکنے نہ دیا اور انڈین ٹیم 145 تک محدود ہو کر صرف 29 رنز کی برتری ہی حاصل کر پائی- دلیپ وینگسارکر نے پچاس رنز بنائے تھے جبکہ توصیف اور اقبال قاسم نے پانچ پانچ وکٹیں حاصل کی تھیں-

دوسری اننگ میں پاکستانی بیٹنگ بہتر تھی، رمیز راجہ نے ایک بار پھر ایک اچھی اننگ کھیلی، سلیم ملک، اقبال قاسم اور عمران خان نے بھی اچھی بیٹنگ کی لیکن سب سے اہم اننگ نویں نمبر پر آنے والے سلیم یوسف نے کھیلی تھی- سلیم یوسف کے 41 رنز اور توصیف احمد کے ساتھ بنائی گئی 51 رنز کی پارٹنرشپ کی وجہ سے انڈیا کو آخری اننگ میں 221 کا ہدف دیا جا سکا تھا- اس اننگ میں جاوید میانداد نے اوپننگ کی تھی جبکہ اقبال قاسم شاید پہلی اننگ کی بہتر بیٹنگ اور کھبا ہونے کی وجہ سے پانچویں نمبر پر بیٹنگ کے لئے بھیجا گیا تھا کیونکہ انڈین ٹیم میں دو لیفٹ آرم سپنرز موجود تھے-

کرس سری کانت اور مہندر امرناتھ بڑا سکور نہ بنا سکے، یہ دونوں اس میچ میں پاکستانی فاسٹ باؤلرز (وسیم اکرم) کے دو ہی شکار تھے- سنیل گواسکر کے کیرئیر کا یہ آخری ٹیسٹ تھا اور وہ اسے یادگار بنانا چاہتے تھے، گواسکر نے پہلے تیسری وکٹ کی شراکت میں وینگسارکر کے ساتھ 49، پھر پانچویں وکٹ پر اظہر الدین کے ساتھ 43 رنز کا اضافہ کیا لیکن 180 کے سکور پر گواسکر کی مزاحمت آخرکار دم توڑ ہی گئی- گواسکر نے 264 گیندوں پر 8 چوکوں کی مدد سے 96 رنز بنائے اور اقبال قاسم کی گیند پر رضوان الزماں کو کیچ دے گئے-

اس کے بعد راجر بنی نے اپنی سی کوشش کی لیکن 204 کے سکور پر توصیف احمد نے انہیں وکٹ کیپر سلیم یوسف کے ہاتھوں کیچ کروایا تو یہ پاکستان نے انڈیا میں 35 سال بعد ٹیسٹ میچ میں فتح حاصل کر لی تھی اور ساتھ ہی پہلی بار انڈیا میں سیریز بھی جیت لی تھی- سنیل گواسکر مین آف دی میچ اور عمران خان مین آف دی سیریز قرار پائے تھے-

#OnThisDay in 1987

5 days ago | [YT] | 6

Cricket Lover Rashid Official

ڈیو واٹمور سری لنکا میں پیدا ہوئے، لیکن بطور بین الاقوامی کرکٹر انہوں نے اپنی پہچان آسٹریلیا کی ٹیم کے ساتھ بنائی۔ بعد ازاں انہوں نے کوچنگ کے میدان میں ایک شاندار دوسرا کیریئر شروع کیا۔ برسوں کے دوران انہوں نے مختلف بین الاقوامی ٹیموں کے ساتھ کام کیا، جن میں پاکستان، زمبابوے اور بنگلہ دیش کی ٹیمیں شامل ہیں
لیکن سری لنکا میں ان کی میراث ایک خاص مقام رکھتی ہے۔ ڈیو واٹمور وہ کوچ تھے جنہوں نے سری لنکا کو 1996 کے کرکٹ ورلڈ کپ میں تاریخی فتح دلانے میں رہنمائی دی،
2012 سے 2014 تک پاکستان کرکٹ ٹیم کی کوچنگ کی
انکے دور میں پاکستان نے ایشیاء کپ 2012 جیتا
انڈیا کو انڈیا میں ون ڈے سیریز میں شکست دی
آج جب وہ 72 برس کے ہو گئے ہیں ڈیو واٹمور کو سالگرہ کی دلی مبارکباد۔

#davidwhatmore
#happybirthday
#Cricket
#Pakvsind

5 days ago | [YT] | 14

Cricket Lover Rashid Official

1996 سے پہلے کوئی میزبان ملک کرکٹ ورلڈکپ نہ جیتا تھا، اگرچہ سری لنکا میں صرف چار میچز رکھے گئے تھے جن میں سے صرف دو ہی ہو پائے لیکن سری لنکا اس ورلڈکپ کا مشترکہ میزبان تو تھا- پہلے پانچوں ورلڈکپ فائنلز میں پہلی بیٹنگ کرنے والی ٹیم فاتح رہی لیکن اس کے باوجود ارجنا رانا ٹنگا نے ٹاس جیت کر پہلے باؤلنگ کا فیصلہ کیا- ویسٹ انڈیز کے ساتھ آسٹریلیا وہ ٹیم تھی جو سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے سری لنکا جانے سے انکار کر چکی تھی تو اب فائنل میں کچھ وہ حساب کتاب بھی برابر کرنا تھا-

سری لنکن ٹیم اس وقت تک کوئی بڑا ٹورنامنٹ جیتنے میں، تسلسل کے ساتھ بڑی ٹیموں کے خلاف اچھی کارکردگی دکھانے میں کامیاب نہ ہوئی تھی- اس ٹورنامنٹ میں بھی پاکستان اور انڈیا کے ساتھ جنوبی افریقہ یا آسٹریلیا فیورٹ تھے- سری لنکا کی ٹیم اس ٹورنامنٹ سے قبل پاکستان میں ٹیسٹ اور ون ڈے سیریز جیت کر گئی تھی، شارجہ اور آسٹریلیا میں بھی اچھی کارکردگی دکھا چکی تھی تو ان سے اچھی کارکردگی کی توقع تو تھی لیکن سری لنکا ٹورنامنٹ ہی جیت جائے گی، اس کی توقع کم کم ہی تھی-

مارک وا کی وکٹ جلد گر جانے کے بعد مارک ٹیلر اور رکی پونٹنگ میں ایک بڑی پارٹنرشپ بنی لیکن رکی پونٹنگ بہت سست کھیل رہا تھا- مارک ٹیلر (74 رنز) کے تقریباً 90 کے سٹرائیک ریٹ سے کھیلنے کے باوجود آسٹریلوی اننگ مومینٹم نہیں پکڑ پا رہی تھی- دونوں اوپر تلے آؤٹ ہوئے تو شین وارن کو تیز کھیلنے کے لئے نمبر پانچ پر بھیجا گیا لیکن وہ بھی ناکام رہا- کپتان مارک ٹیلر کے علاؤہ سبھی آسٹریلوی بیٹسمین 75 سے کم سٹرائیک ریٹ سے کھیلے تھے- اروندا ڈی سلوا نے تین وکٹیں حاصل کیں تو مرلی دھرن کے دس اوورز میں صرف 31 رنز ہی بن سکے اور 22 ایکسٹراز کے باوجود آسٹریلیا ٹیم صرف 241 رنز ہی بنا سکی تھی-

سری لنکا کے لئے کامیابی کی ضمانت اوپننگ جوڑی سیمی فائنل کی طرح فائنل میں بھی ناکام ہوئی تو اسانکا گروسنہا کو ساتھ ملا اروندا ڈی سلوا کا، جو سیمی فائنل میں انڈیا کے خلاف میچ کی ٹون سیٹ کر چکے تھے- لیکن اس بار اروندا صرف ٹون سیٹ نہیں کرنا چاہتے تھے بلکہ میچ جیت کر واپس جانا چاہتے تھے- تو اس بار چوکے تو لگ رہے تھے پر سیمی فائنل جیسی قطار نہ لگی تھی-

دوسری جانب گروسنہا سکون سے سکور میں تھوڑا تھوڑا اضافہ کئے جا رہے تھے- پھر گروسنہا کی وکٹ گری لیکن شاید یہ وکٹ آسٹریلیا کی شکست پر مہر لگا گئی- کیونکہ کریز پر ارجنا رانا ٹنگا کی آمد ہوئی اور ارجنا کو شاید میچ ختم کرنے کی کچھ جلدی تھی- ارجنا رانا ٹنگا نے اس دن شین وارن کے خلاف کچھ نہایت شاندار شاٹس کھیلے تھے- اروندا ڈی سلوا نے تین وکٹوں کے بعد اپنی شاندار سنچری مکمل کی، ارجنا رانا ٹنگا نے وننگ شاٹ لگا کر سری لنکا کو چمپئن بنا دیا، دو سینئر کھلاڑیوں کی سالوں کی محنت اس دن رنگ لے آئی تھی-

#OnThisDay in 1996
#CWC1996 #WorldCup1996 #ICCWorldCup #ODIWorldCup #CricketWorldCup #CricketHistory #CricketFans #CricketLovers #CricketHighlights #CricketMemories #VintageCricket #CricketThrowback #WillsWorldCup #SriLanka1996 #CricketLegends #ODICricket #CricketMoments #CricketArchive #CricketReels #CricketShorts

6 days ago | [YT] | 9

Cricket Lover Rashid Official

کرکٹ ورلڈکپ 2007؛ ایک ایسا ٹورنامنٹ جسے ہر پاکستانی کرکٹ شائق بھلا دینا چاہے گا، بالکل چمپئنز ٹرافی 2025 کی طرح یا ٹی ٹونٹی ورلڈکپ 2024 کی طرح-

پہلے میچ میں پاکستان کو ویسٹ انڈیز (ویسٹ انڈیز سے جب بھی پاکستان نے ورلڈکپ کا پہلا میچ کھیلا ہے، کبھی اچھی خبر نہیں آئی) نے شکست دی تھی لیکن اگلے دو میچز آئرلینڈ اور زمبابوے کے خلاف تھے تو سپر ایٹ میں جانا کوئی بڑا مسئلہ نہ لگ رہا تھا- لیکن ویسٹ انڈیز کے خلاف ناکامی کا شکار ہونے والی بیٹنگ لائن آئرلینڈ کے خلاف تو لمبی ہی لیٹ گئی-

پچ میں کچھ سوئنگ تھی اور آئرلینڈ کے کچھ باؤلرز کو کاؤنٹی کرکٹ کا تجربہ، 56 رنز پر تیسری وکٹ گرنے کی دیر تھی کہ اس کے بعد ایک لائن سی لگ گئی اور تمام ٹیم 132 رنز پر ڈھیر ہوئی تو اس میں بھی ٹیل اینڈرز کا کچھ حصہ تھا- سمیع نے کچھ رنز بنائے پھر باؤلنگ میں پوری جان لڑا دی لیکن ایک تو سکور کچھ زیادہ ہی کم تھا، دوسرا نائل اوبرائن (اسی کے چھوٹے بھائی کیون اوبرائن نے چار سال بعد انگلینڈ کی طبیعت سیٹ کرنا تھی) ایک سائڈ پر دیورا کی طرح کھڑا ہو گیا اور تھوڑی بہت مشکل سے ہی سہی آئرلینڈ نے پاکستان کو تین وکٹوں سے شکست دے ہی دی-

اسی شکست کے بعد پاکستانی کوچ باب وولمر اگلے دن اپنے ہوٹل کے کمرے میں مردہ پائے گئے تھے-

اسی دن انڈین ٹیم اپنے پہلے میچ میں بنگلہ دیش کے خلاف اپ سیٹ شکست کا شکار ہوئی- گنگولی کا ساتھ صرف یووراج سنگھ نے دیا اور مشرف مرتضی کی چار وکٹوں کے بعد تمیم، مشفق اور شکیب کی نصف سنچریوں کی بدولت بنگلہ دیش نے فتح حاصل کر لی- انڈین ٹیم نے اس کے بعد برمودا کو ایک بڑی شکست دی لیکن پھر آخری میچ میں سری لنکا کے خلاف شکست کے ساتھ ٹورنامنٹ سے باہر ہو گئے-

#OnThisDay in 2007
#CWC2007 #WorldCup2007 #ICCWorldCup #CricketWorldCup #ODIWorldCup #CricketHistory #CricketFans #CricketLovers #CricketHighlights #CricketMemories #VintageCricket #CricketThrowback #WestIndies2007 #CricketLegends #ODICricket #CricketMoments #CricketArchive #CricketReels #CricketShorts #CricketViral
#PakistanCricket #IndiaCricket #SriLankaCricket #AustraliaCricket #CricketNostalgia #OldCricket #CricketClassic #CricketFlashback

6 days ago | [YT] | 5