Psychology with Muqaddas

"Welcome to Psychology and Personal Growth Center, where we explore the fascinating world of psychology and help you unlock your full potential! Our channel offers valuable insights into how the human mind works and practical tools for personal development. From understanding how we think and act, to improving relationships, boosting mental health, and fostering growth, we cover it all. Whether you're a student, teacher, or simply curious about psychology and self-improvement, you'll find our content engaging and useful. By subscribing, you'll gain access to exclusive tips on applying psychology to everyday life and study materials to enhance your learning journey. Plus, our motivational videos will inspire you to reach new heights. Join us today and start your journey towards a better understanding of yourself and others!"


Psychology with Muqaddas

🎓 Enroll in Online Psychology Classes – Special Offer! 🎓

Are you ready to excel in psychology? Here's your chance to access premium classes and resources at an unbeatable price!

✨ What’s Included?

Full Psychology Classes: Regular price ₨2000 per subject

Short Notes: Regular price ₨750

MCQ Files: Regular price ₨500

💡 Total Worth: ₨3250 per subject!

BUT WAIT…

🌟 LIMITED TIME OFFER! 🌟
Enroll in Psychology Classes NOW and pay ONLY ₨1000 per subject!

Plus, you'll get FREE:

Concise Short Notes

Comprehensive MCQ Files

📚 Save ₨2250 and get everything you need to ace your exams!

Why Choose My Classes?

Expert guidance with personalized attention.

Easy-to-follow content designed for exam success.

All premium resources at no extra cost!

Conceptual clarity

🗓 Class Start Date: /5-04-2026
📝 Registration Deadline: 05-04-2026

⏳ After the deadline, the regular price applies, and you'll miss out on this amazing offer!

📞 Contact to Register:
Muqaddas Tariq
Phone/WhatsApp: +92-343-6872338

Secure your spot today and don’t miss out on this golden opportunity to enhance your psychology knowledge!

4 days ago | [YT] | 3

Psychology with Muqaddas

اس پوری دنیا میں آپ کا کوئی نعم البدل موجود نہیں ہے،
اس لیے اپنے رب کا شکر ادا کریں، خوش رہیں اور اپنی قدر کرنا سیکھیں۔

ماہرِ نفسیات، مصنفہ
مقدس طارق

اس پوری دنیا میں آپ کا کوئی نعم البدل موجود نہیں ہے،
کیونکہ اللہ نے ہر انسان کو ایک منفرد پہچان، الگ صلاحیتوں اور خاص مقصد کے ساتھ پیدا کیا ہے۔
آپ کی سوچ، آپ کا دل، آپ کے احساسات اور آپ کا سفر — یہ سب آپ کو دوسروں سے مختلف بناتے ہیں۔

اکثر ہم دوسروں سے اپنا موازنہ کر کے اپنی قدر کم کر لیتے ہیں، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ہر انسان اپنی جگہ ایک مکمل اور خاص تخلیق ہے۔ آپ کی خامیاں بھی آپ کی کہانی کا حصہ ہیں اور آپ کی خوبیاں آپ کی پہچان۔
جب انسان اپنی اصل قدر کو پہچان لیتا ہے تو اس کے اندر خود اعتمادی پیدا ہوتی ہے، وہ دوسروں کی رائے کا محتاج نہیں رہتا اور اپنے رب کے فیصلوں پر راضی ہو جاتا ہے۔

انسان اشرف المخلوقات ہے، یعنی تمام مخلوقات میں سب سے افضل۔
یہ مقام ہمیں خود کو کمتر سمجھنے کے لیے نہیں بلکہ اپنی ذمہ داری اور قدر کو سمجھنے کے لیے دیا گیا ہے۔
لہٰذا اپنے رب کا شکر ادا کریں، اپنی ذات کو قبول کریں، خود سے محبت کریں اور اس زندگی کو خوش دلی سے جینا سیکھیں۔

قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
"وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ"
(بے شک ہم نے بنی آدم کو عزت بخشی) — سورۃ الاسراء: 70

یہ آیت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہماری عزت اور قدر اللہ کی طرف سے ہے،
اس لیے خود کو کم سمجھنا دراصل اس نعمت کی ناقدری ہے۔

موٹیویشنل پیغام:
"آپ کسی اور جیسے بننے کے لیے نہیں بنائے گئے،
بلکہ آپ کو آپ جیسا بننے کے لیے تخلیق کیا گیا ہے۔"

ماہرِ نفسیات، مصنفہ
مقدس طارق

2 weeks ago | [YT] | 4

Psychology with Muqaddas

> It's not about who hugs you when you are being nice or polite or humble or sensible. It's about who hugs you when you are being mad, aggressive, or crazy.

Please take care of your loved ones.
Prefer understanding over judgment.

Psychologist, Writer
Muqaddas Tariq



> یہ اہم نہیں کہ کون آپ کو اس وقت گلے لگاتا ہے جب آپ نرم، مہذب، عاجز یا سمجھدار ہوتے ہیں، بلکہ اصل بات یہ ہے کہ کون آپ کو اس وقت بھی گلے لگاتا ہے جب آپ غصے میں، الجھن کا شکار یا غیر معمولی رویہ اختیار کر رہے ہوتے ہیں۔

اپنے پیاروں کا خیال رکھیں۔
پرکھنے کے بجائے سمجھنے کو ترجیح دیں۔

ماہرِ نفسیات، مصنفہ
مقدس طارق




نفسیات کی اصطلاح میں اسے Unconditional Acceptance کہا جاتا ہے،
یعنی دوسروں کو بغیر کسی شرط کے، جیسے وہ ہیں، ویسے ہی قبول کرنا۔

اگر آپ اپنے رشتوں اور تعلقات کو بہتر بنانا چاہتے ہیں،
تو ایک دن کے لیے اس پر عمل کر کے دیکھیں۔
شعوری طور پر کوشش کریں کہ آپ دوسروں کو بغیر پرکھے قبول کریں گے
اور ان کو جج کرنے کے بجائے سمجھنے کی کوشش کریں گے۔

اس عمل سے نہ صرف آپ کے رشتے بہتر ہوں گے
بلکہ آپ کو ذہنی سکون بھی حاصل ہوگا۔


اس عیدالفطر پر سب کو گلے لگائیں،
روٹھے ہوئے لوگوں کو منائیں،
اور پرانی رنجشوں کو بھلا کر ایک نئی شروعات کریں۔

دوسروں کے ساتھ ہمیشہ نرمی سے پیش آئیں،
کیونکہ آپ نہیں جانتے کہ کون کس حال اور کس مشکل سے گزر رہا ہے۔


آپ سب کو عیدالفطر 2026 بہت مبارک ہو۔
اپنا اور اپنے پیاروں کا بہت سا خیال رکھیں۔
خوش رہیں، آباد رہیں، اور دعاؤں میں یاد رکھیں۔



Someone also explained this beautifully:

> "Love me when I least deserve it, because that's when I really need it."



> "جب میں محبت کے سب سے کم قابل لگوں، تب مجھ سے محبت کرنا، کیونکہ اسی وقت مجھے اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔"



whatsapp.com/channel/0029VaTbIkqKGGGO8bd24J0p


Muqaddas Tariq
Psychologist | writer | NLP Master practitioner | CBT Practitioner | Life Coach | Trainer

@psychologywithmuqaddas

2 weeks ago | [YT] | 1

Psychology with Muqaddas

محنت کا صلہ – یقین کی جیت

آج 9 مارچ 2026 ایک خاص دن ہے۔ آج مجھے میری محنت کا صلہ ملا ہے اور اس بات پر میرا ایمان اور بھی پختہ ہو گیا ہے کہ محنت ضرور رنگ لاتی ہے۔

آج سے تقریباً چھ یا سات ماہ پہلے جب میں نے پی ایم لیپ ٹاپ اسکیم 2025 میں اپلائی کیا تھا تو اس وقت میرا بی ایس سائیکالوجی کا فائنل سمسٹر تھا۔ اب الحمدللہ میرا ایم فل بھی شروع ہو چکا ہے۔ میری خوش بختی ہے کہ مجھے میری محنت کا صلہ ملا، حالانکہ مجھے اس کی کوئی خاص امید نہیں تھی۔ دنیا سے تو مجھے کبھی امید نہیں رہی، لیکن اللہ سے مجھے ہمیشہ امید رہی ہے۔

مجھے یاد ہے کہ آج سے تقریباً تین سال پہلے، غالباً 2023 کی بات ہے۔ جب میں اپنے سائیکالوجی ڈپلومہ کے سبجیکٹس ایگزیمپٹ کروانے کے لیے وی یو ڈیفنس روڈ، رائیونڈ روڈ مین کیمپس لاہور گئی تھی۔ جب میرا بی ایس سائیکالوجی میں رجسٹریشن ہوا تھا تو میرے ڈپلومہ کے سبجیکٹس انہوں نے میری بی ایس سائیکالوجی کی ڈگری میں سے ایگزمپٹ نہیں کیے۔ حالانکہ میرے ہر سبجیکٹ میں اچھا سی جی پی اے تھا۔

اس کے باوجود انہوں نے مجھے کوئی رعایت نہیں دی اور میرے سبجیکٹس کو ایگزمپٹ نہیں کیا، حالانکہ وہ وہی سبجیکٹس تھے جو مجھے بی ایس سائیکالوجی میں بھی پڑھنے تھے۔ یعنی جو سبجیکٹس میں نے پہلے ہی ڈپلومہ میں پڑھ لیے تھے، وہی سبجیکٹس مجھے دوبارہ بی ایس میں پڑھنے پڑے۔

اس کی وجہ سے میرا وقت بھی ضائع ہوا۔ چونکہ زندگی میں پہلے ہی میرا کچھ وقت ضائع ہو چکا تھا اور میں نے کچھ سالوں کے بعد اپنی تعلیم دوبارہ جاری کی تھی، اس لیے مجھے اس بات کا بے حد افسوس تھا کہ میں نے اتنی محنت کی لیکن میرے سبجیکٹس ایگزمپٹ نہیں کیے گئے۔

اس کی وجہ سے میری ڈگری مکمل ہونے کا وقت بھی بڑھ گیا۔ جہاں مجھے ایک سال بعد ڈگری ملنی تھی، وہاں تقریباً دو سے ڈھائی سال بعد مجھے وہی ڈگری حاصل ہوئی۔

اس موقع پر میں بہت بے بس اور دل گرفتہ ہو گئی تھی۔ انسان جب بے بسی محسوس کرتا ہے تو اس کے آنسو بے اختیار نکل آتے ہیں۔ میں اس کیمپس سے روتی ہوئی نکلی تھی۔

لیکن آج اسی کیمپس سے، اسی جگہ سے، مجھے لیپ ٹاپ ملا ہے۔

یہ میرے لیے حیرت کی بات تھی کہ واقعی اللہ تعالیٰ کی پلاننگ سب سے بہتر ہوتی ہے۔ انسان اللہ کی حکمت کو نہیں سمجھ سکتا۔ دنیا، دنیاوی لوگ، اسکیمیں، پالیسیاں، یونیورسٹیز کا نظام، معاشرہ — یہ سب مل کر بھی اس چیز کو نہیں روک سکتے جو اللہ نے آپ کے لیے لکھ دی ہو۔

وہ اللہ کی تدبیر کو نہیں روک سکتے۔

ایک اور بات بھی قابلِ غور ہے۔ اگر اُس وقت میرے سبجیکٹس ایگزمپٹ ہو جاتے تو میری ڈگری پہلے ہی مکمل ہو جاتی اور پھر شاید مجھے یہ لیپ ٹاپ نہ ملتا۔

اسی لیے انسان کو اکثر سالوں بعد سمجھ آتا ہے کہ جو ہوتا ہے، اچھے کے لیے ہوتا ہے۔

بس انسان کو چاہیے کہ وہ درمیان کا وقت صبر، محنت اور اللہ سے اچھی امید کے ساتھ گزارے۔

آخرکار جیت آپ کے یقین کی ہوتی ہے، آپ کی محنت کی ہوتی ہے۔ اور آپ کی کامیابی دراصل آپ کی بہت سی ناکامیوں کا مجموعہ ہوتی ہے۔

جہاں جہاں آپ ناکام ہوئے ہوتے ہیں، جہاں آپ ہار رہے ہوتے ہیں، وہاں بھی آپ کو یہ یقین رکھنا چاہیے کہ ایک دن آپ کی جیت بھی ہوگی۔

ایک علامہ اقبال کا شعر مجھے بہت پسند ہے اور میں نے اس پر عمل بھی کیا:

اگر ہمت کرے انسان تو کیا ہو نہیں سکتا
وہ کون سا عقدہ ہے جو وا ہو نہیں سکتا

جب میں نے پہلی بار اس شعر کو سمجھا اور پھر اس پر عمل کیا اور اسے عملی طور پر اپنی زندگی میں اپلائی کیا تو مجھے احساس ہوا کہ واقعی جب انسان ہمت اور محنت کرتا ہے تو ایسا کوئی کام نہیں جو وہ نہ کر سکے۔

اگر انسان سچی لگن سے کسی چیز کو پانا چاہے، اس کے لیے جستجو کرے اور محنت کرے تو وہ اس چیز کو حاصل بھی کر سکتا ہے۔

سب سے بڑی چیز انسان کی لگن اور محنت ہوتی ہے۔

واقعی محنت میں عظمت ہے۔
محنت کرنے والے ایک دن ضرور اپنا انعام حاصل کر لیتے ہیں۔

یہ تحریر میں نے ان تمام بچوں کے لیے لکھی ہے جو ناامید ہیں، یا کسی ظلم، زیادتی یا ناانصافی کا شکار ہیں — چاہے وہ سسٹم کی وجہ سے ہو یا کسی اور وجہ سے۔

بس اگر آپ یہ یقین رکھیں کہ چاہے جتنی بھی خرابیاں کیوں نہ ہوں، اگر آپ محنت کریں گے تو آپ حاصل بھی کریں گے اور اپنی محنت کا صلہ بھی ضرور پائیں گے۔

اور واقعی
جو ہوتا ہے، اچھے کے لیے ہوتا ہے۔


قرآن مجید

> "اور انسان کے لیے وہی ہے جس کی اس نے کوشش کی۔"
(سورۃ النجم 39)



حدیث نبوی ﷺ

> "اللہ تعالیٰ جب کسی بندے کے لیے بھلائی کا ارادہ کرتا ہے تو اسے آزمائش میں ڈالتا ہے۔"
(صحیح بخاری)


امام علیؓ

> "صبر کا انجام ہمیشہ خوبصورت ہوتا ہے۔"


ماہر نفسیات، مصنفہ
مقدس طارق

whatsapp.com/channel/0029VaTbIkqKGGGO8bd24J0p

4 weeks ago | [YT] | 14

Psychology with Muqaddas

عالمی یومِ خواتین مبارک ہو
8 March 2026
دنیا کی ہر اس عورت کو جو اپنی پہچان اور اپنے وجود کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔

ان عورتوں کو
جو خاموش جنگیں لڑ رہی ہیں جن کے بارے میں کسی کو معلوم نہیں۔

ان عورتوں کو
جو اس ناانصافی کے خلاف لڑ رہی ہیں جو معاشرہ ان پر مسلط کر دیتا ہے۔

ان عورتوں کو
جو تنہا چھوڑ دی گئی ہیں اور جنہیں کوئی سہارا نہیں ملا۔

ان عورتوں کو
جن کے ساتھ بدسلوکی کی گئی۔

ان عورتوں کو
جو کسی نہ کسی شکل میں جسمانی، جذباتی یا نفسیاتی تشدد کا شکار رہیں۔

اسلام نے عورت کو بہت بلند مقام عطا کیا ہے،
مگر معاشرے نے ان اقدار کو بدل کر اپنے مفاد کے لیے عورت کو استعمال کیا۔

ناانصافی عام ہے
اور عورتیں اس گھٹن میں زندگی گزارنے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔

آپ کو بہت سی بااختیار عورتیں نظر آتی ہیں
لیکن ان کی جدوجہد، ان کے دکھ، اور وہ تنہائی میں سہے گئے زخم نظر نہیں آتے۔

مضبوط عورت وہ نہیں جو کبھی ٹوٹتی نہیں۔

بلکہ مضبوط عورت وہ ہے
جو ہزار ٹکڑوں میں بکھر جانے کے بعد بھی
جینے کا انتخاب کرتی ہے
اور ہار نہیں مانتی۔

میں اللہ کی اس خوبصورت مخلوق کی قدر کرتی ہوں۔

عورت کو دبایا جاتا ہے، اس کی تذلیل کی جاتی ہے، اس پر ظلم ہوتا ہے
لیکن اس کے باوجود وہ ثابت قدم رہتی ہے اور صبر کرتی ہے۔

میں دنیا کی تمام عورتوں کو سلام پیش کرتی ہوں
اور خود کو بھی۔

میں شکر گزار ہوں کہ میں ایک مضبوط عورت ہوں۔

میں شکر گزار ہوں کہ میں اللہ کی ایک خوبصورت مخلوق ہوں۔

میں شکر گزار ہوں کہ میں نے زندگی کے تمام صدمات اور مشکلات کے باوجود
ہار نہیں مانی
اور اپنا سفر جاری رکھا۔

اگر ایک عورت اپنی صلاحیتوں کو پہچان لے
تو کوئی اسے شکست نہیں دے سکتا۔

وہ ناقابلِ شکست بن جاتی ہے۔

ماہرِ نفسیات
مقدس طارق



حضرت محمد ﷺ نے فرمایا:

"تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنی عورتوں کے ساتھ سب سے بہتر سلوک کرے۔"
(ترمذی)



"There is no force more powerful than a woman determined to rise."

"اس عورت سے زیادہ طاقتور کوئی قوت نہیں
جو اٹھ کھڑے ہونے کا فیصلہ کر لے۔"🌸


Muqaddas Tariq

Psychologist | writer | NLP Master practitioner | CBT Practitioner | Life Coach | Trainer

@psychologywithmuqaddas


whatsapp.com/channel/0029VaTbIkqKGGGO8bd24J0p

4 weeks ago | [YT] | 1

Psychology with Muqaddas

انسان کو ہمیشہ تھراپی کی ضرورت نہیں ہوتی…

مگر ہر انسان کو اپنے خیالات بدلنے کی مہارت کی ضرورت ہوتی ہے۔

ہر جذبات کے پیچھے ایک سوچ ہوتی ہے۔

ہر پریشانی کے پیچھے ایک یقین ہوتا ہے۔

اور اکثر ہمیں تکلیف حالات نہیں دیتے…
ہماری سوچ ہمیں تکلیف دیتی ہے۔

کیا ہو اگر آپ منفی خیالات کو پہچاننا سیکھ جائیں؟

کیا ہو اگر آپ غیر حقیقی توقعات کے بجائے حقیقت پسندانہ سوچ اپنانا سیکھ جائیں؟

کیا ہو اگر آپ زندگی کے مسائل ختم نہ بھی ہوں…
مگر آپ انہیں سنبھالنا سیکھ جائیں؟

✨ اسی مقصد کے لیے میں نے یہ REBT ای بک لکھی ہے۔

میں ہوں مقدس طارق
MPhil کلینیکل سائیکالوجی (جاری)
Psychologist | NLP Master | CBT Practitioner | Writer

ایک ماہرِ نفسیات کے طور پر میں نے دیکھا ہے کہ زیادہ تر لوگ حالات کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنی سوچ کے انداز کی وجہ سے پریشان ہوتے ہیں۔

اوور تھنکنگ، اینزائٹی، غصہ، مایوسی، خود پر شک اور تعلقات کے مسائل اکثر غیر مددگار خیالات سے پیدا ہوتے ہیں۔

یہ کتاب میری کوشش ہے کہ Rational Emotive Behavior Therapy (REBT) کی طاقتور مہارتوں کو آسان اور عام فہم انداز میں ہر انسان تک پہنچایا جائے۔

📘 اس کتاب کی خاص بات کیا ہے؟

✔ آسان انگلش اور آسان اردو میں لکھی گئی
✔ سمجھنے میں آسان اور دلچسپ انداز
✔ عملی مشقوں کے ساتھ
✔ روزمرہ زندگی میں استعمال کے قابل
✔ مستند REBT تھراپی اسکلز پر مبنی

🌿 اس کتاب میں آپ سیکھیں گے:

💚 ABC Model — کیسے واقعات نہیں بلکہ ہمارے عقائد جذبات بناتے ہیں

💚 Irrational Thoughts پہچاننا — غیر منطقی اور نقصان دہ خیالات کو سمجھنا

💚 Thought Challenging — منفی سوچ کو منطقی انداز میں بدلنا

💚 Emotional Control — جذبات کو صحت مند انداز میں سنبھالنا

💚 Self Acceptance — خود کو غیر مشروط طور پر قبول کرنا

💚 Healthy Beliefs بنانا — مضبوط اور حقیقت پسندانہ سوچ پیدا کرنا

👥 یہ کتاب کن کے لیے ہے؟

سائیکالوجی کے طلبہ
تھراپسٹ اور کونسلرز
اساتذہ
والدین
اور ہر وہ شخص جو اپنی زندگی بہتر بنانا چاہتا ہے

🌟 یہ کتاب آپ کی مدد کرے گی:

اوور تھنکنگ کم کرنے میں
اینزائٹی اور اسٹریس کم کرنے میں
غصہ کنٹرول کرنے میں
خود اعتمادی بڑھانے میں
تعلقات بہتر بنانے میں
زندگی کے مسائل کو بہتر انداز میں سنبھالنے میں

کبھی کبھی ہمیں مسئلے ختم کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی…

ہمیں اپنی سوچ بدلنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

کبھی کبھی ہمیں حالات بدلنے کی ضرورت نہیں ہوتی…

ہمیں اپنے یقین بدلنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

یہ کتاب صرف پڑھنے کے لیے نہیں —
یہ سوچ بدلنے کا عملی راستہ ہے۔

💰 قیمت: 1000 روپے

🎓 طلبہ کے لیے خصوصی رعایت: 20٪ ڈسکاؤنٹ
طلبہ کے لیے قیمت صرف 800 روپے

اپنی ذہنی اور جذباتی صحت میں سرمایہ کاری کریں۔

کیونکہ جب آپ اپنی سوچ بدلنا سیکھ جاتے ہیں…

تو آپ اپنی زندگی بدل سکتے ہیں۔

— مقدس طارق 🌿

Whatsapp
0343-6872338

1 month ago | [YT] | 3

Psychology with Muqaddas

✨ ڈی بی ٹی سرٹیفائیڈ کورس – اپنی اور دوسروں کی زندگی بدلنے کا موقع! ✨

📘 DBT (Dialectical Behavior Therapy)
🗓 مدت: 1 ماہ کا سرٹیفائیڈ ٹریننگ پروگرام

اب سیکھیں عملی اور سائنسی بنیادوں پر تیار کردہ DBT اسکلز، جو آپ اپنی زندگی اور کلینیکل پریکٹس میں استعمال کر سکتے ہیں۔

یہ کورس خاص طور پر:
✔ نفسیات کے طلبہ
✔ ماہرینِ نفسیات
✔ کونسلرز
✔ اور وہ تمام افراد جو اپنی جذباتی زندگی بہتر بنانا چاہتے ہیں
کے لیے بہترین موقع ہے۔

🌟 کورس میں کیا شامل ہے؟
✔ اسکل بیسڈ پریکٹیکل ٹریننگ
✔ ورک شیٹس اور پریکٹس میٹیریل
✔ DBT کی مکمل کتاب شامل
✔ کیس ڈسکشنز
✔ سرٹیفکیٹ آف کمپلیشن

👩‍🏫 انسٹرکٹر:
مقدس طارق
ماہرِ نفسیات | NLP ماسٹر | CBT پریکٹیشنر | رائٹر
MPhil (کلینیکل سائیکالوجی – جاری)

💰 کورس فیس: 9,000 روپے
🎉 ارلی برڈ آفر: پہلے 5 طلبہ کے لیے صرف 7,000 روپے

📅 کلاسز کا آغاز: 15-02-2026

📞 رجسٹریشن کے لیے رابطہ کریں: 0343-6872338
🌐 ویب سائٹ: www.psychologywithmuqaddas.com


💙 کیوں یہ کورس ضروری ہے؟
DBT آپ کو سکھاتا ہے کہ جذبات کو کیسے کنٹرول کرنا ہے، تعلقات کیسے بہتر بنانے ہیں، اور ذہنی دباؤ کو کیسے کم کرنا ہے۔ یہ وہ مہارتیں ہیں جو زندگی بدل دیتی ہیں۔

⏳ نشستیں محدود ہیں۔
آج ہی رجسٹر کریں اور اپنی پیشہ ورانہ اور ذاتی ترقی کا سفر شروع کریں!
Whatsapp 0343_6872338

1 month ago | [YT] | 2

Psychology with Muqaddas

🌿 ہر انسان کو تھراپی کی ضرورت نہیں ہوتی…


مگر ہر انسان کو جذبات سنبھالنے کی مہارت کی ضرورت ہوتی ہے۔


ہر مسکراہٹ کے پیچھے ایک خاموش جنگ ہوتی ہے۔

ہر مضبوط انسان کے اندر کچھ ایسے جذبات ہوتے ہیں جنہیں وہ سنبھالنا نہیں جانتا۔


کیا ہو اگر آپ اپنے جذبات سے لڑنے کے بجائے انہیں سمجھنا سیکھ لیں؟

کیا ہو اگر آپ غصے میں ردِعمل دینے کے بجائے سکون سے جواب دینا سیکھ جائیں؟

کیا ہو اگر آپ تعلقات نبھائیں بھی… اور خود کو کھوئیں بھی نہیں؟

✨ اسی مقصد کے لیے میں نے یہ DBT ای بک لکھی ہے۔

میں ہوں مقدس طارق
MPhil کلینیکل سائیکالوجی (جاری)
ماہرِ نفسیات | NLP ماسٹر | CBT پریکٹیشنر | رائٹر

ایک ماہرِ نفسیات کے طور پر میں نے دیکھا ہے کہ اوور تھنکنگ، اینزائٹی، غصہ، جذباتی درد اور تعلقات کے مسائل کتنے لوگوں کی زندگی کو خاموشی سے متاثر کرتے ہیں۔

یہ کتاب میری کوشش ہے کہ تھراپی کی طاقتور مہارتوں کو آسان اور عام فہم انداز میں ہر انسان تک پہنچایا جائے۔


📘 اس کتاب کی خاص بات کیا ہے؟
✔ آسان انگلش اور آسان اردو میں لکھی گئی
✔ سمجھنے میں آسان
✔ عملی مشقوں کے ساتھ
✔ روزمرہ زندگی میں استعمال کے قابل
✔ مستند DBT تھراپی اسکلز پر مبنی


🌿 اس کتاب میں آپ سیکھیں گے:
💚 مائنڈ فلنیس — حال میں جینا اور ذہنی سکون حاصل کرنا
💚 ڈسٹریس ٹالرنس — مشکل جذبات کو ٹوٹے بغیر برداشت کرنا
💚 ایموشن ریگولیشن — شدید جذبات کو کنٹرول کرنا
💚 انٹرپرسنل ایفیکٹیونس — تعلقات کو بہتر اور مضبوط بنانا


👥 یہ کتاب کن کے لیے ہے؟
سائیکالوجی کے طلبہ
تھراپسٹ اور کونسلرز
اساتذہ
والدین
اور ہر وہ شخص جو اپنی زندگی بہتر بنانا چاہتا ہے


🌟 یہ کتاب آپ کی مدد کرے گی:
غصہ کنٹرول کرنے میں
اینزائٹی کم کرنے میں
اوور تھنکنگ ختم کرنے میں
تعلقات بہتر بنانے میں
جذباتی مضبوطی پیدا کرنے میں


کبھی کبھی ہمیں نصیحت کی نہیں…
مہارت کی ضرورت ہوتی ہے۔

کبھی کبھی ہمیں حوصلہ افزائی کی نہیں…
جذباتی تربیت کی ضرورت ہوتی ہے۔


یہ کتاب صرف پڑھنے کے لیے نہیں —
یہ جذباتی مضبوطی کا عملی راستہ ہے۔


💰 قیمت: 1000 روپے
🎓 طلبہ کے لیے خصوصی رعایت: 20٪ ڈسکاؤنٹ
طلبہ کے لیے قیمت صرف 800 روپے۔


اپنی جذباتی صحت میں سرمایہ کاری کریں۔


کیونکہ جب آپ اپنے جذبات کو سنبھالنا سیکھ جاتے ہیں…

تو آپ اپنی زندگی سنبھال لیتے ہیں۔

— مقدس طارق 🌿

0343-6872338

#psychology #psychologist #psychologywithMuqaddas

1 month ago | [YT] | 1

Psychology with Muqaddas

“A wise person is one who adapts to circumstances and adjusts accordingly.”

“دانشمند انسان وہ ہے جو حالات کے مطابق خود کو ڈھال لے اور اسی کے مطابق اپنی سوچ اور رویّے میں تبدیلی پیدا کرے۔”

Explanation
دانشمندی صرف زیادہ جاننے کا نام نہیں بلکہ حالات کو سمجھ کر لچک (flexibility) کے ساتھ خود کو بدلنے کی صلاحیت کا نام ہے۔ زندگی ہر وقت ایک جیسی نہیں رہتی—کبھی آسان، کبھی مشکل، کبھی ہمارے حق میں اور کبھی ہمارے خلاف۔ جو شخص ہر حالت میں ایک ہی رویہ اختیار کرتا ہے وہ اکثر ٹوٹ جاتا ہے، جبکہ عقل مند انسان حالات کو پڑھتا ہے، سیکھتا ہے اور خود کو ایڈجسٹ کرتا ہے۔

نفسیات کے مطابق جو لوگ بدلتے حالات کے ساتھ خود کو ڈھال لیتے ہیں وہ:

ذہنی دباؤ کم محسوس کرتے ہیں
زیادہ پُرسکون رہتے ہیں
بہتر فیصلے کرتے ہیں
زندگی میں زیادہ کامیاب ہوتے ہیں


Psychology & Research Evidence

1. Psychological Flexibility (ACT – Acceptance & Commitment Therapy)

ماہرِ نفسیات Steven C. Hayes کے مطابق:
Psychological flexibility انسان کی وہ صلاحیت ہے جس کے ذریعے وہ مشکل حالات کو قبول کر کے اپنے رویّے کو مقصد کے مطابق بدلتا ہے۔

📌 تحقیق بتاتی ہے کہ زیادہ flexible افراد میں:
Anxiety اور Depression کم ہوتا ہے
Stress coping بہتر ہوتی ہے
Life satisfaction زیادہ ہوتی ہے

Reference:
Hayes, S. C., Strosahl, K. D., & Wilson, K. G.
(2011). Acceptance and Commitment Therapy.


2. Cognitive Adaptation Theory (Taylor, 1983)
اس نظریے کے مطابق انسان مشکل حالات میں:
حالات کو سمجھنے
معنی تلاش کرنے
خود کو ایڈجسٹ کرنے
کی کوشش کرتا ہے، اور یہی عمل اسے ذہنی طور پر مضبوط بناتا ہے۔


3. Resilience Research (APA)
American Psychological Association کے مطابق:
Resilience کا مطلب یہی ہے کہ انسان مشکلات کے بعد خود کو نئے حالات کے مطابق ڈھال لے۔


Qur’an References
📖 Surah Al-Baqarah (2:286)
“اللہ کسی جان پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔”
👉 اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ ہر انسان میں حالات کے مطابق خود کو سنبھالنے اور ایڈجسٹ کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔
📖 Surah Al-Inshirah (94:5–6)
“بے شک ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔”
👉 عقل مند وہ ہے جو مشکل کو مستقل نہ سمجھے بلکہ اس سے سیکھ کر خود کو بدل لے۔

Hadith References
🌸 نبی ﷺ نے فرمایا:
“عقل مند وہ ہے جو اپنے نفس کا محاسبہ کرے اور آنے والی زندگی کے لیے تیاری کرے۔”
(ترمذی)
👉 محاسبہ اور تیاری دراصل حالات کے مطابق خود کو بدلنے کا ہی نام ہے۔


🌟 Charles Darwin
“It is not the strongest or the most intelligent who will survive, but those who can best adapt to change.”

🌟 Epictetus (Stoic Philosopher)

“It’s not what happens to you, but how you react to it that matters.”

🌟 Urdu Quote
“جو وقت کے ساتھ نہ بدلے، وقت اسے بدل دیتا ہے۔”


دانشمندی کا مطلب حالات سے لڑنا نہیں،
بلکہ خود کو اتنا مضبوط بنانا ہے
کہ ہر حالت میں آگے بڑھا جا سکے۔

ماہر نفسیات
مقدس طارق

@psychologywithMuqaddas

whatsapp.com/channel/0029VaTbIkqKGGGO8bd24J0p

1 month ago | [YT] | 2

Psychology with Muqaddas

زندگی اتنی اہم ہے کہ اسے حد سے زیادہ سنجیدگی سے نہیں گزارنا چاہیے۔

ہم کب مر جائیں گے؟
پچاس سال بعد، بیس سال بعد، دس سال بعد، دو سال بعد، یا شاید آج ہی—یہ سوال آج تک کوئی حل نہیں کر سکا۔


کبھی خبروں میں کسی روڈ ایکسیڈنٹ میں مرنے والے شخص کے بارے میں سوچیں۔

گھر سے نکلتے وقت اُس نے شاید اپنے پیاروں کو بتایا ہوگا کہ وہ اُن سے کتنی محبت کرتا ہے۔
شاید اُس کے دل میں یہ خیال بھی آیا ہو کہ کیا اس نے واقعی اچھی زندگی گزاری؟
کیا اس نے دل کھول کر محبت کی؟

اور سب سے تلخ حقیقت یہ ہے کہ اُس کے ذہن میں بے شمار کام ادھورے رہ گئے ہوں گے۔


سچ یہ ہے کہ ہمیں نہیں معلوم ہمیں کتنا وقت ملا ہے،
مگر افسوس یہ ہے کہ ہم زندگی یوں گزارتے ہیں جیسے ہمیں ہمیشہ زندہ رہنا ہو۔

ہم جانتے ہوئے بھی بہت سی اہم باتوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں:
لوگوں کو یہ بتانا کہ ہم اُن سے محبت کرتے ہیں،
اُن کی پرواہ کرتے ہیں،
دوستوں کے ساتھ وقت گزارنا،
کسی پہاڑی مقام کی سیر،
دل کی گہرائی سے کسی کو خط لکھنا،
خاموشی میں خود سے جُڑنا، مراقبہ کرنا—
یہ سب وہ کام ہیں جو ہمیں کرنے چاہییں۔
لیکن ہم شائستگی سے بہانے بنا لیتے ہیں،
اور اپنا وقت اُن کاموں میں ضائع کر دیتے ہیں جو دراصل ضروری نہیں ہوتے۔
ہم اپنی مجبوریوں کا ذکر کرتے کرتے،
اُنہیں اپنی زنجیریں بنا لیتے ہیں۔
زندگی کو ہر دن آخری دن سمجھ کر جینے کا مطلب یہ نہیں
کہ آپ اپنی ذمہ داریوں سے غافل ہو جائیں،
بلکہ اس کا مطلب ہے کہ آپ اپنی ذمہ داریوں کو
زیادہ شعور، زیادہ محبت اور زیادہ معنی کے ساتھ نبھائیں۔


کیونکہ حقیقت یہی ہے:
زندگی اتنی اہم ہے کہ اسے بہت سنجیدگی سے نہیں گزارنا چاہیے۔

— ماہرِ نفسیات
مقدس طارق

whatsapp.com/channel/0029VaTbIkqKGGGO8bd24J0p

1 month ago | [YT] | 6