Psychology with Muqaddas

"Welcome to Psychology and Personal Growth Center, where we explore the fascinating world of psychology and help you unlock your full potential! Our channel offers valuable insights into how the human mind works and practical tools for personal development. From understanding how we think and act, to improving relationships, boosting mental health, and fostering growth, we cover it all. Whether you're a student, teacher, or simply curious about psychology and self-improvement, you'll find our content engaging and useful. By subscribing, you'll gain access to exclusive tips on applying psychology to everyday life and study materials to enhance your learning journey. Plus, our motivational videos will inspire you to reach new heights. Join us today and start your journey towards a better understanding of yourself and others!"


Psychology with Muqaddas

نہ جانتے ہوئے پُر سکون ہو جائیں

Get Comfortable Not Knowing

کسی گاؤں میں ایک بہت ہی عقل مند آدمی رہتا تھا۔ دیہاتی اس آدمی پر یقین کرتے تھے اور ان کا خیال تھا کہ وہ ان کے ہر سوال کا جواب دے گا۔

ایک دن ایک دیہاتی اس آدمی کے پاس گیا اور کہا، اے عقلمند آدمی میرا بیل مر گیا ہے اور کھیتوں میں ہل چلانے کے لیے اور کوئی جانور نہیں ہے۔ کیا یہ مجھے ہونے والا سب سے بڑا نقصان نہیں ہے؟

بوڑھے آدمی نے جواب دیا ، شاید ہاں شاید نہیں۔

وہ آدمی بھاگا بھاگا گاؤں واپس گیا اور کہا کہ عقلمند آدمی پاگل ہو گیا ہے۔ یقینا یہ سب سے بڑی مشکل ہے جو مجھ پر آن پڑی ہے لیکن اسے نظر کیوں نہیں آتی۔

تاہم اگلے دن ایک بہت ہی مضبوط گھوڑا اس کے کھیت کے باہر کھڑا تھا۔ کیونکہ اس آدمی کے پاس اب کوئی بیل نہیں تھا اس لیے اس نے سوچا گھوڑے سے کام چلایا جائے ہو اس نے گھوڑے کو پکڑ لیا۔ وہ آدمی بہت خوش تھا، کھیتوں میں ہل چلانا اتنا آسان کبھی بھی نہیں تھا۔ وہ بوڑھے آدمی کے پاس واپس گیا ، معافی مانگی اور کہا کہ بوڑھے عقلمند آدمی تم ٹھیک کہتے تھے۔ بیل کو کھو دینا میرے لیے اتنا نقصان دہ نہیں تھا۔ یہ ایک نعمت تھی، میرا بیل زندہ ہوتا تو میں گھوڑے کو نہ پکڑتا اور ہل چلانا اتنا آسان کبھی نہ ہوتا۔ تمہیں اس بات سے متفق ہونا چاہیے کہ یہ سب سے اچھا واقعہ پیش آیا ہے۔

بوڑھے آدمی نے جواباً کہا، شاید ہاں ، شاید نہیں ۔

اب اس کسان نے یہ سوچا کہ بوڑھا آدمی پا گل ہو گیا ہے۔

لیکن ایک بار پھر کسان نہیں جانتا تھا کہ اس کے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔

کچھ دن بعد کسان کا بیٹا گھڑ سواری کرتا ہوا گر گیا۔ اس کی ٹانگ ٹوٹ گئی اور وہ کھیتوں میں کام کرنے کے قابل نہ رہا۔

کسان نے سوچا کہ اب ہم بھوکے مریں گھوڑے کا ہمارے گھر میں آنا اچھی بات نہیں ہے؟“ ۔

ایک بار پھر کسان بوڑھے آدمی کے پاس گیا اور کہا تم کسی طرح جانتے تھے

تم درست کہتے تھے، میرا بیٹا گھوڑے سے گر گیا ہے اور اس کی ٹانگ ٹوٹ گئی اور وہ کھیتوں میں کام نہیں کر سکتا۔

اس بار مجھے یقین ہے کہ یہ سب سے بُرا حادثہ ہوا ہے۔ تمہیں اس بار مجھ سے اتفاق کرنا ہوگا ۔ لیکن پہلے کی طرح ، اس بار بھی بوڑھے آدمی نے بہت شفقت سے اس کی طرف دیکھا اور نرمی سے کہا شاید ہاں، شاید نہیں۔

کسان یہ جواب سن کر بہت غصے میں آیا اور واپس اپنے گاؤں چلا گیا۔


اگلے روز اس ملک کی فوج آئی اور اس گاؤں سے ہر تندرست آدمی کو اپنے ساتھ لے گئی تاکہ وہ جنگ میں حصہ لے سکیں۔

کسان کا بیٹا وہ واحد نوجوان تھا جو گاؤں میں رہا، جنگ میں باقی لوگوں نے مر جانا تھا لیکن صرف اس کے زندہ بچنے کی امید باقی تھی۔


اس کہانی کا سبق ہمیں بہت اہم بات سکھاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم نہیں جانتے کہ کیا ہونے والا ہے، ہم صرف اپنے حصے کا کام کرتے ہیں۔ اکثر اوقات ہم چھوٹی چھوٹی باتوں کو بہت بڑا بنا دیتے ہیں۔ ہم اپنے ساتھ ہونے والی ہر بات کو بہت بڑا بنا کر سوچتے ہیں ۔ اکثر اوقات ہم غلط سوچتے ہیں۔ اگر ہم پُر سکون رہیں اور امکانات کے در کھلے رکھیں تو ہماری زندگی بہت آسان ہو جائے گی۔

یاد رکھیے، شاید ہاں، شاید نہیں۔

ماہر نفسیات
مقدس طارق

whatsapp.com/channel/0029VaTbIkqKGGGO8bd24J0p

3 days ago | [YT] | 2

Psychology with Muqaddas

Self-downing نفسیات (Psychology) میں ایک اصطلاح ہے، خاص طور پر REBT (Rational Emotive Behavior Therapy) میں،

Self-downing کا مطلب ہے اپنی پوری شخصیت کو کسی ایک غلطی، ناکامی یا خامی کی بنیاد پر "برا" یا "ناکارہ" قرار دے دینا۔
اردو میں اسے "خود کی تذلیل" یا "اپنے آپ کو گرانا" کہہ سکتے ہیں۔

خود کی تذلیل (Self-downing) کیا ہے؟
یہ ایک غیر منطقی سوچ ہے جس میں انسان اپنی ذات پر ایک لیبل لگا دیتا ہے۔ مثال کے طور پر:

اگر کوئی امتحان میں فیل ہو جائے، تو یہ سوچنے کے بجائے کہ "میں امتحان میں ناکام ہوا ہوں"، وہ یہ سوچتا ہے کہ "میں ایک ناکام انسان ہوں"۔


اگر کسی سے کوئی سماجی غلطی ہو جائے، تو یہ سوچنا کہ "میں کتنا بے وقوف ہوں"۔


یہ سوچ خطرناک کیوں ہے؟
خود کی تذلیل انسان کو ذہنی طور پر مفلوج کر دیتی ہے کیونکہ:

پوری ذات پر حملہ: آپ اپنی ایک "حرکت" کو برا کہنے کے بجائے اپنی پوری "ہستی" کو برا کہہ دیتے ہیں۔

مایوسی: جب آپ خود کو ہی "برا" سمجھ لیتے ہیں، تو بہتری کی امید ختم ہو جاتی ہے۔

ذہنی دباؤ: یہ سوچ ڈپریشن، شدید شرمندگی اور کمتری کے احساس کا باعث بنتی ہے۔


اس کا حل: غیر مشروط خود پسندی (USA)
نفسیات دان مشورہ دیتے ہیں کہ ہمیں خود کی تذلیل کے بجائے Unconditional Self-Acceptance یعنی غیر مشروط خود پسندی اپنانی چاہیے۔

خود کی تذلیل (Self-Downing)
❌"میں ایک ناکارہ انسان ہوں کیونکہ میں یہ کام نہ کر سکا۔"


صحت مند سوچ (Self-Acceptance)
👍 "میں ایک انسان ہوں جس سے یہ کام نہیں ہو سکا، لیکن میری قدر و قیمت اس کام سے وابستہ نہیں ہے۔"

❌"لوگ مجھے ناپسند کرتے ہیں، اس لیے میں برا ہوں۔"

👍 "کچھ لوگ مجھے ناپسند کر سکتے ہیں، اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں ایک برا انسان ہوں۔"


❌"مجھ سے غلطی ہوئی، میں جاہل ہوں۔"

👍"مجھ سے غلطی ہوئی ہے، میں ایک ایسا انسان ہوں جو غلطیوں سے سیکھتا ہے۔"

خود کی تذلیل اپنی خوبیوں کو نظر انداز کر کے صرف اپنی خامیوں کو اپنی پہچان بنا لینا ہے۔

ماہر نفسیات
مقدس طارق

@psychology with muqaddas

whatsapp.com/channel/0029VaTbIkqKGGGO8bd24J0p

6 days ago | [YT] | 0

Psychology with Muqaddas

تصور کریں کہ آپ اپنے جنازے میں شریک ہیں

Imagine Yourself at Your Own Funeral

یہ حکمت عملی بعض لوگوں کے لیے تو بہت خوفناک ہے لیکن مجموعی طور پر ہمیں یہ یاد دلانے کے لیے کہ ہماری زندگی میں کیا اہم ہے، بہت مؤثر ہے۔

جب ہم اپنی زندگیوں کو دیکھیں گے تو یہ احساس ہوگا کہ ہماری زندگی کتنی سخت تھی۔ اور ہر شخص جب بستر مرگ پر پڑا ہوا انسان یہ سوچتا ہے کہ کاش ان کی ترجیحات مختلف ہوتیں۔ صرف چند استثنائی مثالوں کو چھوڑ کر ہر شخص ہی یہ سوچتا ہے کہ کاش وہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر پریشان نہ ہوتا۔ اس کے بجائے وہ یہ سوچتے کہ کاش انہوں نے اپنا وقت اپنے پیاروں کے ساتھ گزارا ہوتا اور وہ کام کیے ہوتے جو واقعی اہم ہیں، نہ کہ بیکار باتوں کو سوچ کر وقت ضائع کیا ہوتا۔ اپنے آپ کا اپنے جنازے میں شرکت کا تصور کرتے ہوئے دیکھنا آپ کو یہ موقع فراہم کرتا ہے کہ آپ اپنی زندگی میں رہتے ہوئے اپنی ترجیحات کا تعین اپنی موت سے پہلے کرلیں۔

اگر چہ یہ تھوڑا دردناک بھی ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ یہ آپ کو اپنی زندگی اور موت پر غور کی بھی دعوت دیتا ہے۔ اس سے آپ کو یہ یاد دہانی ہو گی کہ آپ نے زندگی میں کیا کام کرتے ہیں اور کس طرح کا انسان بنتا ہے۔ اگر آپ اس معاملے میں بالکل میرے جیسے ہیں تو آپ کو ایک ایسا ذریعہ ملے گا جو آپ کی زندگی کو بدل کر رکھ دے گا۔


حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“جب انسان مر جاتا ہے تو اس کے اعمال منقطع ہو جاتے ہیں، سوائے تین چیزوں کے:
(1) صدقہ جاریہ
(2) ایسا علم جس سے لوگ فائدہ اٹھائیں
(3) نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرے”
📚 حوالہ:
صحیح مسلم، حدیث نمبر 1631


اگر اپ کو ہمارے چینل پہ شیئر کیے جانے والی تحاریر اچھی لگتی ہیں تو اپ ہمارے چینل کو جوائن کر سکتے ہیں اور اس کا لنک باقی لوگوں کے ساتھ بھی شیئر کر سکتے ہیں شکریہ

لوگوں تک اچھی اور فائدہ مند بات پہنچانا ایسا علم ہے جس سے لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں، اور یہی عمل صدقہ جاریہ بن جاتا ہے


ماہر نفسیات
مقدس طارق

whatsapp.com/channel/0029VaTbIkqKGGGO8bd24J0p

6 days ago | [YT] | 1

Psychology with Muqaddas

*خود ترسی سے کیسے بچیں*


این ایل پی کی اس طاقتور ٹیکنیک کی مدد سے اپ خود ترسی پر بڑی حد تک قابو پا سکتے ہیں

*خود ترسی کیا ہے* ؟
خود ترسی کا مطلب ہے اپنی حالتِ زار پر روتے رہنا اور یہ محسوس کرنا کہ دنیا آپ کے ساتھ ناانصافی کر رہی ہے۔ اس میں انسان اپنی طاقت اور اختیارات کو بھول کر صرف اپنی کمزوریوں اور دکھوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے۔


این ایل پی (NLP) کی دو انتہائی طاقتور تکنیکس ہیں


*ایسوسی ایشن (Association) اور
ڈس ایسوسی ایشن (Dissociation)*


جو ہمیں اپنے جذبات کی شدت کو کنٹرول کرنے میں مدد دیتی ہیں۔

خاص طور پر خود ترسی (Self-Pity) کے معاملے میں، جہاں انسان اپنے دکھ میں مکمل ڈوبا ہوتا ہے، یہ مشق جادوئی اثر دکھاتی ہے۔


آسان الفاظ میں ان کی وضاحت درج ذیل ہے:

1. ایسوسی ایشن (Association) - "منظر کے اندر ہونا"
جب آپ کسی یاد یا واقعے کو ایسے محسوس کریں کہ جیسے وہ ابھی ہو رہا ہے اور آپ اس کے اندر موجود ہیں، تو اسے 'ایسوسی ایٹڈ' ہونا کہتے ہیں۔


کیفیت: آپ اپنی آنکھوں سے منظر دیکھ رہے ہوتے ہیں، وہی آوازیں سنتے ہیں اور وہی جذبات (دکھ یا خوشی) شدت سے محسوس کرتے ہیں۔


خود ترسی میں اثر: خود ترسی میں انسان اپنے دکھ کے ساتھ "ایسوسی ایٹڈ" ہوتا ہے، اسی لیے اسے تکلیف بہت زیادہ محسوس ہوتی ہے۔


2. ڈس ایسوسی ایشن (Dissociation) - "منظر سے باہر ہونا"

اس کا مطلب ہے اپنے آپ کو اس تکلیف دہ صورتحال یا یاد سے الگ کر لینا۔ جیسے آپ اپنی ہی زندگی کی فلم ایک سینما ہال میں بیٹھ کر دیکھ رہے ہوں۔


کیفیت: آپ منظر میں خود کو (اپنے جسم کو) بھی دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ آپ اس کا حصہ نہیں بلکہ ایک تماشائی (Observer) ہوتے ہیں۔


خود ترسی میں فائدہ: جیسے ہی آپ ڈس ایسوسی ایٹ ہوتے ہیں، جذبات کی شدت فوراً کم ہو جاتی ہے۔ آپ کا دماغ "جذباتی" ہونے کے بجائے "منطقی" ہو جاتا ہے۔


عملی مشق (Step-by-Step Exercise)
اگر آپ یا کوئی دوسرا خود ترسی کا شکار ہے، تو اس طریقے سے ڈس ایسوسی ایشن کی مشق کریں:


منظر کا تصور کریں: آنکھیں بند کریں اور اس دکھ یا مسئلے کے بارے میں سوچیں جو آپ کو پریشان کر رہا ہے۔

باہر نکل آئیں: اب تصور کریں کہ آپ اپنے جسم سے باہر نکل کر پیچھے ہٹ گئے ہیں اور اپنے آپ کو سامنے بیٹھا دیکھ رہے ہیں۔


فاصلہ بڑھائیں: اب تصور کریں کہ آپ ایک سینما ہال میں بیٹھے ہیں اور سامنے بڑی سکرین پر وہ "مظلوم یا پریشان آپ" نظر آ رہا ہے۔ آپ اسے دور سے دیکھ رہے ہیں۔

رنگ اور آواز بدلیں: اس فلم کو بلیک اینڈ وائٹ (Black & White) کر دیں، اس کا سائز چھوٹا کر دیں اور آواز کو بالکل مدھم کر دیں۔

تجزیہ کریں: اب ایک ماہر یا ہمدرد دوست کی حیثیت سے اس شخص (اپنے آپ) کو دیکھیں اور سوچیں کہ اسے اس وقت کیا مشورہ دینا چاہیے؟

ماہرانہ مشورہ
اگر آپ کسی اچھے لمحے (مثلاً اپنی کسی کامیابی) کو یاد کر رہے ہوں، تو ہمیشہ ایسوسی ایٹ ہو کر سوچیں تاکہ خوشی زیادہ محسوس ہو۔ لیکن جب معاملہ خود ترسی یا صدمے کا ہو، تو ڈس ایسوسی ایٹ ہونا سیکھیں تاکہ آپ کا ذہنی سکون متاثر نہ ہو۔

ماہر نفسیات
مقدس طارق

@psychologywithmuqaddas

0343_6872338

whatsapp.com/channel/0029VaTbIkqKGGGO8bd24J0p

1 week ago | [YT] | 1

Psychology with Muqaddas

The more you understand yourself, the less you need to explain yourself.

جتنا زیادہ آپ خود کو سمجھتے ہیں، اتنا ہی کم آپ کو خود کو دوسروں کے سامنے وضاحت دینے کی ضرورت پڑتی ہے۔

وضاحت:
جب انسان کو اپنی سوچ، احساسات اور فیصلوں پر یقین ہو جاتا ہے تو وہ دوسروں کی رائے یا منظوری کا محتاج نہیں رہتا۔ خود آگاہی انسان کو اندرونی سکون دیتی ہے، اور پھر اسے ہر بات پر صفائی پیش کرنے یا خود کو درست ثابت کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔

ماہر نفسیات
مقدس طارق

whatsapp.com/channel/0029VaTbIkqKGGGO8bd24J0p

2 weeks ago | [YT] | 2

Psychology with Muqaddas

*کم ظرفوں کو اپنی تکلیف بتانا* — ایک نفسیاتی حقیقت


کم ظرفوں کو اپنی تکلیف بتانا دراصل اپنی تکلیف کا مذاق بنوانے کے مترادف ہے۔

کم ظرف کو اپنی تکلیف بتانا نری حماقت ہے،
کیونکہ کم ظرف لوگ آپ کی تکلیف پر آپ سے ہمدردی نہیں کریں گے،
بلکہ آپ کا مذاق اڑائیں گے۔

ایسے لوگ نہ تو درد کی گہرائی کو سمجھ سکتے ہیں
اور نہ ہی کسی کے زخم کا احترام کرنا جانتے ہیں۔
ان کے نزدیک کسی کی اذیت ایک تماشہ ہوتی ہے،
اور کسی کا دکھ محض ایک موضوعِ گفتگو۔

اسی لیے یہ فیصلہ بہت سوچ سمجھ کر کرنا چاہیے
کہ اپنی تکلیف اور دکھ کس کے ساتھ بانٹنے ہیں۔
یہ فیصلہ بھی سمجھداری سے کرنا ہوگا،
ورنہ آپ اپنی تکلیف کو کم کرنے کے بجائے
اس میں مزید اضافہ کر بیٹھیں گے۔
اگر آپ اپنی اذیت میں اضافہ نہیں کرنا چاہتے
تو اپنی تکلیف کسی کم ظرف کو ہرگز نہ بتائیں۔

خاموشی بعض اوقات حفاظت ہوتی ہے
اور انتخاب انسان کی ذہنی صحت کا محافظ۔


“ہر انسان سننے کے قابل نہیں ہوتا،
کچھ لوگ صرف سن کر وار کرنا جانتے ہیں۔”


نفسیاتی پیغام:
اپنے دکھ صرف اُن لوگوں سے بانٹیں
جو آپ کے زخم پر مرہم رکھنا جانتے ہوں،
نمک نہیں۔
خاموشی کمزوری نہیں،
بلکہ بعض اوقات سب سے بڑی سمجھداری ہوتی ہے۔

ماہرِ نفسیات
مقدس طارق

@psychologywithmuqaddas

0343-6872338

whatsapp.com/channel/0029VaTbIkqKGGGO8bd24J0p

2 weeks ago | [YT] | 2

Psychology with Muqaddas

آج کل یونیورسٹیوں میں خودکشی کا رجحان تشویشناک حد تک بڑھتا جا رہا ہے۔ حال ہی میں لاہور، خصوصاً یونیورسٹی آف لاہور میں پہلے ایک طالب علم اور پھر ایک طالبہ کے خودکشی کے واقعات سامنے آئے ہیں، جو ہم سب کے لیے لمحۂ فکریہ ہیں۔ اس مسئلے پر بات کرنا اس لیے ضروری ہے کہ آخر نوجوان اس نہج تک کیوں پہنچ جاتے ہیں، اور ہم بچوں اور نوجوان نسل میں کون سی چیزیں اجاگر کریں کہ وہ کسی بھی مشکل میں اپنی قیمتی جان لینے کا فیصلہ نہ کریں۔

میرا اس حوالے سے جو مؤقف ہے، بطور ماہرِ نفسیات- مقدس طارق، وہ یہ ہے کہ انسان کی زندگی میں سب سے بنیادی اور اہم کردار ذہنی صحت کا ہوتا ہے۔ اگر کسی انسان کی ذہنی صحت مضبوط، مستحکم اور متوازن ہو تو وہ کبھی بھی ایسا انتہائی قدم نہیں اٹھاتا۔ زیادہ تر کیسز میں جو بنیادی وجہ سامنے آتی ہے وہ یہی ہوتی ہے کہ فرد ذہنی طور پر کمزور ہو چکا ہوتا ہے۔ عملی میدان میں ہم بطور ماہرینِ نفسیات یہ بات بارہا دیکھتے ہیں کہ ذہنی صحت کس قدر ضروری ہے، اور اس میں ماحول—خصوصاً گھر کے ماحول—اور سپورٹ سسٹم کا کردار کتنا اہم ہوتا ہے۔

بدقسمتی سے ہمارے تعلیمی ادارے کریکٹر بلڈنگ اور ذہنی تربیت پر بہت کم کام کرتے ہیں۔ ایک بار میں نے بانو قدسیہ صاحبہ کی ایک ویڈیو سنی تھی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ہماری نوجوان نسل کو صبر سکھانے کی اشد ضرورت ہے۔ نوجوانوں کو یہ سکھانا چاہیے کہ اگر برا وقت آ جائے تو کیا کرنا ہے۔ مثلاً اگر کوئی امتحان ہو—چاہے وہ سی ایس ایس ہی کیوں نہ ہو—تو اس میں فیل ہونے کا امکان بھی ہوتا ہے۔ اسی طرح اگر خدانخواستہ کوئی حادثہ ہو جائے یا زندگی میں کوئی بڑا دھچکا لگ جائے تو اس صورت میں انسان نے خود کو کیسے سنبھالنا ہے۔

یہی وہ چیزیں ہیں جو کردار سازی اور ذہنی تربیت کا حصہ ہیں، اور یہ تربیت انسان کی زندگی کے ہر پہلو پر اثر انداز ہوتی ہے۔ ذہنی طور پر مضبوط انسان ہر طرح کے حالات اور چیلنجز کا نسبتاً آسانی سے سامنا کر لیتا ہے، کیونکہ زندگی خود مشکلات اور آزمائشوں سے بھری ہوتی ہے۔ ہر ادارے، ہر مرحلے اور ہر شعبے کے اپنے چیلنجز ہوتے ہیں، لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ انسان ہمت ہار جائے۔

میں خود بھی طالب علمی کے اس دور سے گزری ہوں، خصوصاً وہ زمانہ جب انسان ٹین ایج میں ہوتا ہے۔ یہ ایک کچی عمر ہوتی ہے، جس میں فیصلے لینے کی صلاحیت کمزور ہوتی ہے، ذہن کنفیوژن کا شکار ہوتا ہے، چیزیں واضح نہیں ہوتیں، اور انسان بہت زیادہ دباؤ میں ہوتا ہے۔ اگر اس عمر میں مناسب تربیت اور درست رہنمائی نہ ملے تو نوجوان اکثر غلط فیصلے کر بیٹھتے ہیں۔

میں ان تمام مراحل سے گزر چکی ہوں، اس لیے مجھے بخوبی اندازہ ہے کہ ٹین ایج میں بچوں اور بچیوں کے تھوٹ پیٹرنز کیسے ہوتے ہیں، ان کے خیالات کیا ہوتے ہیں، وہ واقعات کو کیسے معنی دیتے ہیں، اور پھر انہی سوچوں کی بنیاد پر ان کے احساسات اور رویے کیسے بنتے ہیں۔ نفسیات کے علم نے میرے ذاتی تجربات کو سمجھنے میں میری بہت مدد کی ہے۔

میں یہاں ایک چھوٹا سا واقعہ شیئر کرنا چاہوں گی۔ جب میں ایک جگہ بطور ٹیچنگ اسسٹنٹ کام کر رہی تھی، تو وہاں میرے استاد نہ صرف میرے مینٹور تھے بلکہ سپروائزر بھی تھے۔ ایک مرتبہ میں کلاس میں اسٹوڈنٹس کے لیے کوئی پریزنٹیشن یا ایکٹیویٹی کروا رہی تھی۔ کسی بات پر استاد نے مذاق میں ایک ریمارک کیا کہ “اس پر تو سوسائڈ (خودکشی) کر لینی چاہیے۔”
میں نے بھی ہنستے ہوئے جواب دیا، its not a big deal
لیکن جو بات انہوں نے اس کے بعد کہی، وہ آج بھی مجھے یاد ہے۔ انہوں نے کہا:

“بیٹا، بگ ڈیل ہو بھی جائے تو بھی خودکشی نہیں کرنی۔”

یہ جملہ آج بھی میرے ذہن میں نقش ہے۔ واقعی، کچھ بھی ہو جائے، کتنی ہی بڑی بگ ڈیل کیوں نہ ہو، خودکشی کبھی حل نہیں ہوتی۔ ہم اگر بطور مسلمان اپنے دین کو دیکھیں، اپنے انبیاء کرام کی زندگیوں کو دیکھیں، تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سب سے محبوب بندوں پر سب سے بڑی آزمائشیں آئیں۔ جتنا کوئی اللہ کے قریب ہوتا ہے، اتنی ہی بڑی آزمائش سے گزرتا ہے۔ ہمارے مسائل اور چیلنجز ان عظیم آزمائشوں کے سامنے کچھ بھی نہیں ہیں۔

یہ دنیاوی ادارے، یونیورسٹیاں اور امتحانات اگر چیلنجز دیتے ہیں تو یہ فطری بات ہے۔ ہر جگہ مشکلات ہوتی ہیں۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ طلبہ اس پر اتنا شدید ردعمل دیں کہ اپنی جان ہی لے لیں۔ اصل مسئلہ یہی ہوتا ہے کہ ان کی ذہنی تربیت نہیں ہوئی ہوتی، اور وہ ذہنی طور پر اس قدر مضبوط نہیں ہوتے کہ مشکل حالات کا سامنا کر سکیں۔

میں تمام ماہرینِ نفسیات سے بھی گزارش کرنا چاہوں گی کہ خدارا، اس حوالے سے اپنا کردار ادا کریں۔ ہم نے یہ علم اسی لیے حاصل کیا ہے کہ ہم دوسروں کی زندگیوں کو بہتر بنا سکیں، ان کی زندگیوں میں مثبت اثر ڈال سکیں۔ اگر میری یہ تحریر پڑھ کر ایک بھی انسان اپنی زندگی میں امید پیدا کر لیتا ہے، یا اگر کوئی خودکشی کا سوچ رہا تھا اور اس تحریر کے بعد اپنا فیصلہ بدل لیتا ہے، تو یہی میری کامیابی ہے، اور یہی میرے اس علم کے حاصل کرنے کا مقصد ہے۔

بس ایک جملہ ہمیشہ ذہن میں رکھیں:

“بگ ڈیل ہو بھی جائے تو بھی خودکشی نہیں کرنی — کچھ بھی ہو جائے، خودکشی نہیں کرنی۔” اور خودکشی کوئی حل نہیں ہے بلکہ ایک بڑا عذاب ہے۔

ہمیشہ یاد رکھیں کہ ایسی کوئی مشکل نہیں ہے جس کا کوئی حل نہ ہو۔ جیسے ایک بیچ کے اندر پورا درخت ہوتا ہے ایسے ہی مسئلے کے اندر اس کا حل بھی موجود ہوتا ہے۔ بس ہمیں اس وقت پر نظر نہیں ا رہا ہوتا ہماری نظروں سے اوجھل ہوتا ہے ۔ تو بس اپ نے اس وقت کو وقت دینا ہے اور اس وقت صبر کرنا ہے ۔

یہ بھی یاد رکھیں کہ وقت ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہتا۔ اچھا وقت بھی آتا ہے اور برا وقت بھی۔ اچھے وقت پر شکر کرنا ہے اور برے وقت پر صبر کرنا ہے۔

میں خود بھی ایسے مرحلوں سے گزری ہوں جہاں خودکشی کے خیالات آتے تھے، جہاں لگتا تھا کہ زندگی کسی کام کی نہیں، جہاں بہت برا وقت دیکھا، بہت سے تلخ واقعات پیش آئے۔

ایک بار جب میں ڈپریشن کے مرحلے سے گزر رہی تھی تو میرے ذہن میں ایک سوچ آئی۔ میں نے سوچا:
اگر میں آج اپنی زندگی ختم کر لوں، اور مرنے کے بعد مجھے پتا چلے کہ پانچ سال بعد میری زندگی بہت بہتر ہونے والی تھی، مجھے وہ سب کچھ ملنے والا تھا جس کا میں انتظار کر رہی تھی، تو مجھے کتنا افسوس ہوگا۔
میں نے نہ صرف اپنی دنیا برباد کر لی، بلکہ اپنی آخرت بھی خراب کر لی۔ صبر کے بدلے جو اجر ملنا تھا، وہ سب میں نے گنوا دیا۔ یہ احساس میرے لیے بہت بڑا صدمہ اور پچھتاوا ہوتا۔

اسی سوچ نے مجھے اپنی زندگی کا نیا سفر شروع کرنے کا حوصلہ دیا، اور الحمدللہ، میں نے اچھا وقت بھی دیکھا۔ اس سے میں نے یہ سیکھا کہ زندگی میں اتار چڑھاؤ آتے رہتے ہیں۔ بس ایک چیز کبھی نہیں چھوڑنی: اللہ تعالیٰ سے اچھی امید اور مثبت گمان۔

اگر آج کسی کو لگتا ہے کہ اس کی زندگی بہت مشکل ہے، برا وقت آ گیا ہے، تو اسے یہ سوچنا چاہیے کہ ہو سکتا ہے آنے والے چند سال اس کے لیے بہت بہتر ہوں۔ کچھ دن، کچھ مہینے یا کچھ سال لگ سکتے ہیں، لیکن صبر کا یہی مطلب ہے کہ اللہ سے اچھی امید رکھیں، مثبت گمان رکھیں، اور ساتھ ساتھ خود پر بھی کام کریں۔

زیادہ تر خودکشی کی بنیادی وجہ یہی ہوتی ہے کہ انسان ذہنی طور پر کمزور ہو جاتا ہے، ناامید ہو جاتا ہے، اپنے حالات، اپنے آپ اور حتیٰ کہ نعوذباللّہ اللہ تعالیٰ سے بھی مایوس ہو جاتا ہے۔ ہمیں ایسا نہیں کرنا۔ مایوسی نہیں، امید رکھنی ہے؛ ہمت نہیں ہارنی؛ اچھے وقت کے لیے کوشش کرنی ہے۔

زندگی کسی کے لیے بھی آسان نہیں ہوتی۔ ہم سب اس دنیا میں آزمائے جانے کے لیے آئے ہیں۔ یہ دنیا ہمیشہ انعام کی جگہ نہیں، بلکہ امتحان کی جگہ ہے۔ اچھا وقت بھی آزمائش ہے اور برا وقت بھی آزمائش۔ اب یہ ہم پر ہے کہ ہم دونوں حالتوں میں خود کو کس طرح مضبوط، متوازن اور مثبت رکھتے ہیں۔

اگر ہم ایسا کر لیں تو ان شاء اللہ ہماری دنیا بھی بہتر ہوگی، آخرت بھی بہتر ہوگی، اور ہمیں دونوں جہاں میں سکون نصیب ہوگا۔


آخر میں میں سب لوگوں، خصوصاً طلبہ اور نوجوانوں سے یہ بات کہنا چاہوں گی کہ اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ ذہنی دباؤ، مایوسی، ڈپریشن یا خودکشی جیسے خیالات سے گزر رہے ہیں، تو پروفیشنل رہنمائی حاصل کرنا بہت ضروری ہے۔ اس مرحلے پر ہر اس شخص سے مشورہ لینے سے اجتناب کریں جو صرف عمومی نصیحتیں دیتا ہے، کیونکہ ہر نیک نیتی رکھنے والا شخص ماہر نہیں ہوتا، اور بعض اوقات غیر پیشہ ورانہ مشورے نقصان دہ بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔ جس طرح جسمانی بیماری کے لیے ہم ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں، اسی طرح ذہنی صحت کے مسائل کے لیے صرف ماہرِ نفسیات یا متعلقہ پروفیشنل سے ہی رجوع کرنا چاہیے۔ اگر آپ کو محسوس ہوتا ہے کہ آپ کو مدد کی ضرورت ہے، تو بلا جھجھک ہم سے رابطہ کریں۔ مدد مانگنا کمزوری نہیں، بلکہ شعور، ہمت اور خود سے محبت کی علامت ہے۔


ماہر نفسیات, مصنفہ
مقدس طارق

0343-6872338

whatsapp.com/channel/0029VaTbIkqKGGGO8bd24J0p

2 weeks ago | [YT] | 2

Psychology with Muqaddas

Please share your feedback about the 30 Days Transformation Challenge.

How was this challenge helpful for you?

Did it make any positive changes in your life?

Psychologist
Muqaddas Tariq
Whatsapp: 0343-6872338

2 months ago | [YT] | 1

Psychology with Muqaddas

🌸 30 روزہ ٹرانسفارمیشن چیلنج – دن 5

🗓️ (19 اکتوبر 2025)

آج ہمارا 30 روزہ ٹرانسفارمیشن چیلنج (Transformation Challenge) کا پانچواں دن ہے۔
سب سے پہلے ہم پچھلے تمام چیلنجز کو ایک بار دوہرا (Revise) لیتے ہیں۔
یاد رکھیں کہ آپ نے ان تمام چیلنجز کو ساتھ ساتھ جاری رکھنے کی کوشش کرنی ہے۔




🌼 پچھلے چیلنجز کا خلاصہ

🔹 پہلا چیلنج:

ہمیشہ اٹینشن (Attention) میں رہنا ہے۔
یعنی جو بھی کام کریں، مکمل توجہ اور یکسوئی کے ساتھ کریں۔

🔹 دوسرا چیلنج:

ہمیشہ پوزیٹو (Positive) مواد ہی استعمال کریں۔
یعنی صرف مثبت چیزیں دیکھیں، سنیں اور پڑھیں۔

🔹 تیسرا چیلنج:

اپنی منفی سوچ (Negative Thinking) کو مثبت سوچ (Positive Thinking) میں بدلنے کی مشق کریں۔

🔹 چوتھا چیلنج:

ایک نظریہ اپنائیں:

> “جو ہوتا ہے، اچھے کے لیے ہوتا ہے۔”





🌸 آج کا موضوع:

✨ "رویے سے سوچ کی تبدیلی"

پچھلے چیلنجز میں ہم نے دیکھا تھا کہ ہماری سوچ (Thoughts) سے جذبات (Emotions) پیدا ہوتے ہیں،
اور انہی جذبات سے رویے (Behavior) بنتے ہیں۔

مثلاً اگر آپ سوچیں کہ

> “میں امتحان میں اچھے نمبر حاصل نہیں کر سکتا”،
تو اس سوچ سے آپ کے اندر مایوسی، بے بسی، اور اداسی جیسے منفی جذبات پیدا ہوں گے۔
یہی جذبات آپ کے رویے کو متاثر کریں گے،
اور آپ سستی کا شکار ہو کر پڑھائی سے دور ہونے لگیں گے۔



اسی طرح بعض اوقات آپ کا رویہ بھی آپ کے اندر منفی جذبات اور سوچ کو جنم دیتا ہے۔
یعنی یہ تینوں چیزیں — سوچ، جذبات، اور رویہ — آپس میں گہرے طور پر جڑی ہوئی ہیں۔
جب ایک متاثر ہوتی ہے تو باقی دونوں بھی متاثر ہونے لگتی ہیں۔




🌿 مثال

اگر کوئی طالب علم کہے:

> “مجھے سستی کے مسائل ہیں، میں پروکریسٹینیٹ (Procrastinate) کرتا ہوں،
میں کام کو وقت پر نہیں کرتا، ڈیلے (Delay) کرتا ہوں،
پینڈنگ (Pending) رکھ دیتا ہوں، یا ٹال مٹول کرتا ہوں۔”



یہ ایک منفی رویہ ہے۔
اس کے نتیجے میں وہ الجھن، سٹریس (Stress)، اور مایوسی کا شکار ہو جاتا ہے،
اور پھر اس کے ذہن میں منفی خیالات آنے لگتے ہیں جیسے:

> “میں کسی کام کا نہیں ہوں، میں سست انسان ہوں، میں اپنا وقت ضائع کرتا ہوں۔”



لیکن جب آپ اپنا رویہ بدلتے ہیں، تو آپ کی سوچ بھی بدلنے لگتی ہے۔




🌸 رویے سے سوچ اور جذبات میں تبدیلی

🌼 ایک کہانی سے وضاحت:

> "احمد ہر روز صبح پڑھنے کا ارادہ کرتا، مگر سستی اسے روک دیتی۔
ایک دن اس نے فیصلہ کیا کہ بس دو منٹ کے لیے کتاب کھولوں گا —
مگر جب وہ پڑھنا شروع کیا تو گھنٹہ گزر گیا،
اور اسے احساس ہوا کہ صرف حرکت نے اس کی سوچ بدل دی۔"





🌸 عملی زندگی سے مثالیں

اگر آپ کا پڑھائی کا دل نہیں کر رہا،
تو آپ کتاب اٹھائیں، اونچی آواز میں پڑھنا شروع کریں اور ساتھ واک کریں۔
صرف دو منٹ کے لیے ایسا کرنے سے آپ کے جذبات اور سوچ دونوں بدل جاتے ہیں،
اور آپ پڑھائی میں دلچسپی لینے لگتے ہیں۔

اگر آپ کا دل نہیں چاہتا کسی سے بات کرنے کو،
لیکن آپ مسکرا کر سلام کرتے ہیں، تو ماحول بدل جاتا ہے۔

اگر آپ مایوس ہیں،
مگر خود کو کسی چھوٹے کام میں مصروف کر لیتے ہیں،
تو آپ کا موڈ بہتر ہو جاتا ہے۔


اکثر اوقات، کسی کام کو شروع کرنا ہی مشکل ہوتا ہے،
اسی لیے کہا جاتا ہے:

> “First step is always the hardest.”
(پہلا قدم ہمیشہ سب سے مشکل ہوتا ہے۔)





🌺 آج کا عملی چیلنج

صرف ایک مثبت عمل چنیں — چاہے وہ مسکرانا ہو، واک کرنا ہو، یا کسی کا شکریہ ادا کرنا ہو۔
یا کوئی بھی ایسا عمل جس کو کرنے کا آپ کا دل نہیں چاہ رہا، لیکن وہ کرنا ضروری ہے۔

یہ چھوٹا سا قدم آپ کے اندر بڑی تبدیلی کا آغاز کرے گا۔

اگر آپ کا بستر سے اٹھنے کا دل نہیں کر رہا،
تو خود سے کہیں:

> “بس دو منٹ کے لیے اٹھ کر واک کروں گا، پھر واپس آ جاؤں گا۔”



جب آپ اٹھ کر تیز واک شروع کرتے ہیں،
تو آپ کو احساس بھی نہیں ہوتا کہ آپ کی کیفیت بدل چکی ہے۔
اب آپ کا دل مزید حرکت کرنے کو چاہے گا،
اور آپ کی سوچ اور جذبات دونوں مثبت ہونے لگیں گے۔

اسی لیے کہا جاتا ہے:

> “حرکت میں برکت ہے”
یعنی
Move the Muscle and Change the Thought!
(حرکت کرو، اور اپنی سوچ کو بدلو!)



> “Motion changes emotion.”
(حرکت جذبات کو بدل دیتی ہے۔)



یاد رکھیں:

> “Action creates emotion, and emotion creates transformation.”
(عمل جذبات پیدا کرتا ہے، اور جذبات تبدیلی لاتے ہیں۔)





🌻 اس چیلنج کے فوائد

جب آپ مثبت رویے کو اپناتے ہیں،
تو آپ کے اندر مثبت جذبات پیدا ہونے لگتے ہیں۔

یہ جذبات کیوں پیدا ہوتے ہیں؟
کیونکہ آپ کے دماغ میں مثبت کیمیکلز (Positive Chemicals) ریلیز ہوتے ہیں
جنہیں ہم Dopamine (ڈوپامین) کہتے ہیں۔

Dopamine ایک “Happy Chemical” ہے،
جو آپ کے موڈ کو بہتر بناتا ہے،
توانائی اور خوشی پیدا کرتا ہے،
اور مثبت سوچ کو فروغ دیتا ہے۔

یہ ایک مکمل سائنس ہے،
اور اسی سائنس کو ہم Cognitive Behavioral Therapy (CBT)
یعنی کگنیٹو بیہیورل تھیراپی میں سکھاتے ہیں۔




🌼 CBT (Cognitive Behavioral Therapy) کا تعارف

CBT ایک سائنسی اور عملی طریقہ ہے
جو یہ سکھاتا ہے کہ سوچ، جذبات، اور رویے ایک دوسرے سے کیسے جڑے ہیں،
اور ان کو بدل کر ہم اپنی زندگی کو بہتر، متوازن، اور پُرسکون بنا سکتے ہیں۔

یہ کورس ہمارے پلیٹ فارم “Psychology with Muqaddas” پر دستیاب ہے۔
چاہے آپ کا سائیکالوجی بیک گراؤنڈ ہو یا نہ ہو،
آپ یہ تھیراپی سیکھ کر اپنی زندگی کو
زیادہ پُرسکون، متوازن، اور خوشگوار بنا سکتے ہیں۔



🌸 آخری پیغام

خوش رہیں،
اور خوشیاں بانٹتے رہیں۔


whatsapp.com/channel/0029VaTbIkqKGGGO8bd24J0p

✨ مقدس طارق

ماہر نفسیات | مصنفہ | ٹرینر | سی بی ٹی پریکٹشنر | این ایل پی ماسٹر

3 months ago | [YT] | 1

Psychology with Muqaddas

🌿 *30 روزہ ٹرانسفارمیشن چیلنج – چوتھا دن*

🔹 *پچھلے چیلنجز کا جائزہ*

پچھلے تین چیلنجز جو کہ میں امید کرتی ہوں کہ آپ لوگ کر رہے ہوں گے:

1. پہلا چیلنج تھا کہ آپ نے ہر وقت اٹینشن میں رہنا ہے، یعنی ہر وقت آپ نے ایک فوکس کرنا ہے، ایک وقت پہ ایک کام کرنا ہے۔


2. دوسرا چیلنج تھا کہ آپ نے ہمیشہ مثبت مواد کو استعمال کرنا ہے اور سکرولنگ سے بچنا ہے۔


3. تیسرا چیلنج تھا کہ آپ نے منفی سوچ کو مثبت میں بدلنے کی مشق کرنی ہے۔



اب ان چیلنجز کو آنے والے چیلنجز کے ساتھ شامل کرتے جانا ہے اور ان چیلنجز کو بھی ساتھ ساتھ جاری رکھنا ہے۔
یعنی آپ نے اب نئے آنے والے چیلنج کے ساتھ پرانے والوں پر بھی عمل کرنا نہیں چھوڑنا۔
ورنہ آپ ٹرانسفارم نہیں ہوں گے، کیونکہ ایک انسان کو ایک ہیبٹ (عادت) بنانے میں 21 سے 30 دن لگتے ہیں۔

جو بھی کام آپ مسلسل کریں گے وہی آپ کی عادت بن جائے گا۔
آپ کے ذہن کے پیٹرنز اسی طرح سے بن جائیں گے اور وہ آپ کے لیے بعد میں بھی آسان ہو جائیں گے۔



🌸 *آج کا چیلنج: ایک مثبت نظریہ اپنانا*

لیکن اس سے پہلے ہم دیکھ لیتے ہیں کہ یہ نظریہ کیا ہوتا ہے۔
نظریہ ایک زاویہ نظر ہے کہ آپ کس زاویے سے ایک صورتحال کو دیکھ رہے ہو۔
یہ ایک ایسا فلٹر ہے جسے آپ مختلف صورتحال کو دیکھنے کے لیے لگاتے ہیں۔
یہ ایک عینک (گلاسز) ہے جس سے آپ صورتحال کو دیکھتے ہیں۔

مثال کے طور پر ایک انسان کالی عینک لگا کر دنیا کو دیکھتا ہے تو اس کو دنیا کالی نظر آئے گی۔
اس میں حالات اور دنیا کا قصور نہیں ہے۔
جیسا آپ کا نظریہ ہوگا، آپ بالکل ویسا ہی سوچنے لگیں گے۔

آج ہم ایک مختلف اور مثبت نظریہ اپنائیں گے جس کے ذریعے آپ اپنے حالات و واقعات کو مختلف طریقے سے دیکھیں گے۔
یعنی آپ نے اپنی عینک، اپنے گلاسز کا رنگ تبدیل کر لینا ہے۔
حالات و واقعات، صورتحال اور دنیا تبدیل نہیں ہوگی، لیکن آپ کو ان کو دیکھنے کا نظریہ تبدیل ہو جائے گا۔

جس سے آپ کی زندگی پہلے سے زیادہ خوشگوار، پہلے سے زیادہ مطمئن اور پہلے سے زیادہ پرسکون ہو جائے گی۔



*اس سے پہلے میں آپ کو ایک کہانی سناتی ہوں*

*ایک بادشاہ اور ایک وزیر کی کہانی* ۔
وزیر بادشاہ کا پسندیدہ ہوتا ہے اور بادشاہ جہاں بھی جاتا ہے وزیر کو اپنے ساتھ لے کر جاتا ہے۔
وزیر کو ہر صورتحال پر ایک بات کہنے کی عادت ہوتی ہے کہ:
" *جو ہوتا ہے اچھے کے لیے ہوتا ہے* ۔"

اور بادشاہ کو بھی یہ بات معلوم تھی اور بادشاہ اکثر اس بات پر اس کی تعریف بھی کرتے تھے۔

ایک روز بادشاہ اور وزیر جنگل میں شکار کے لیے گئے۔
وہاں پر جب بادشاہ شکار کر رہے تھے اور انہوں نے بندوق میں اپنی انگلی ڈالی اس کو چلانے کے لیے تو غلطی سے ان کی انگلی بندوق میں کٹ گئی۔
اور وہ چیخ و پکار کرنے لگے، درد سے کراہنے لگے۔

بادشاہ کو امید تھی کہ وزیر ان کے ساتھ ہمدردی کرے گا اور کہے گا کہ آپ کے ساتھ بہت برا ہوا ہے۔
لیکن ایسا نہیں ہوا کیونکہ وزیر کو بس ایک بات کہنے کی عادت تھی،
اور وہ اسی کو دہرانے لگا:
"جو ہوتا ہے اچھے کے لیے ہوتا ہے۔"

بادشاہ آگ بگولا ہو گئے۔ بادشاہ کو طیش آیا کہ میں مصیبت میں ہوں، میرے ساتھ برا ہوا ہے، میری ایک انگلی کٹ گئی ہے،
اور وزیر مجھے کہہ رہا ہے کہ جو ہوتا ہے اچھے کے لیے ہوتا ہے!
اس میں کیا اچھا ہے؟ یعنی یہ میرا برا چاہتا ہے۔

اور بادشاہ نے وزیر کو قید خانے میں ڈلوا دیا۔

کئی سال گزر جانے کے بعد جب بادشاہ ایک دن جنگل میں شکار کے لیے گئے،
تو وہاں آدم خور لوگوں نے ان کو پکڑ لیا۔
بادشاہ نے سوچا کہ میں اب زندہ نہیں بچوں گا، یہ لوگ مجھے کھا جائیں گے۔

وہ ان کو کھانے اور پکانے کے لیے تیار ہی کر رہے تھے کہ اچانک آدم خور کی نظر ان کی کٹی ہوئی انگلی پر پڑی۔
آدم خور لوگوں کا اصول ہوتا ہے کہ وہ کسی عیب دار کو نہیں کھاتے۔

انہوں نے بادشاہ کے اس عیب کو دیکھا کہ ان کی ایک انگلی کٹی ہوئی ہے،
تو انہوں نے بادشاہ کو رہا کر دیا۔

اس طرح بادشاہ کی زندگی بچ گئی۔

اب بادشاہ کو احساس ہوتا ہے کہ میں نے وزیر کے ساتھ غلط کیا تھا۔
اور اس نے سچ ہی کہا تھا کہ "جو ہوتا ہے اچھے کے لیے ہوتا ہے۔"
اگر میری انگلی نہ کٹی ہوتی تو آج آدم خور مجھے پکا کر کھا چکے ہوتے اور میں زندہ نہ بچتا۔

بادشاہ کو اپنی غلطی کا احساس ہوتا ہے اور وہ دوبارہ اسی وقت وزیر کے پاس جاتا ہے،
اور اس سے اپنی غلطی کا اعتراف کرتا ہے اور کہتا ہے:
"آپ نے سچ ہی کہا تھا کہ جو ہوتا ہے اچھے کے لیے ہوتا ہے۔ میں اپنی غلطی پر نادم ہوں اور آپ کو اس قید خانے سے رہا کرتا ہوں۔"

لیکن بادشاہ نے کہا:
"میں ایک بات کو سمجھ نہیں پایا کہ میرے ساتھ تو اچھا ہوا، لیکن میں نے آپ کو اتنے سالوں قید میں رکھا، آپ کے ساتھ کیا اچھا ہوا؟"

تو وزیر نے کہا:
"میرے ساتھ بھی اچھا ہوا ہے، کیونکہ اگر آج آپ مجھے قید میں نہ ڈالتے اور میں آج آپ کے ساتھ جاتا،
تو وہ آدم خور مجھے کھا لیتے، اور میں زندہ نہ بچتا۔"

تو اس طرح میرے ساتھ بھی اچھا ہوا ہے۔
اور پھر بادشاہ اور وزیر اس بات پر راضی ہو گئے کہ جو ہوتا ہے اچھے کے لیے ہوتا ہے۔




🌼 *اس کہانی سے حاصل ہونے والا نظریہ*

اس کہانی میں ہمیں ایک نظریہ دیکھنے کو ملتا ہے،
وہ نظریہ ہے کہ "جو ہوتا ہے اچھے کے لیے ہوتا ہے"۔

اب آپ نے اس نظریے کے ذریعے جو آپ کی زندگی میں منفی صورتحال ہے،
منفی واقعات ہوئے ہیں،
اس کو دیکھنا ہے۔

اور جب آپ نے 100 فیصد اس نظریے کو اپنایا ہوگا اور اس نظریے کے ذریعے دیکھیں گے،
تو آپ کو بھی یہی لگے گا کہ جو ہوتا ہے اچھے کے لیے ہوتا ہے۔



💫 *اس نظریے کے فائدے*

اب آتے ہیں اس نظریے کے بے شمار فائدوں پر، جو آپ کی ذہنی اور جسمانی صحت دونوں کے لیے فائدہ مند ہیں۔

🧠 *ذہنی اور جذباتی فائدے*

1. اس نظریے پر عمل کرنے سے آپ کی ذہنی صحت بہتر ہو جائے گی۔


2. آپ کے اندر سٹریس (Stress) کم ہو جائے گا۔


3. آپ کی ٹینشن کم ہو جائے گی اور آپ پرسکون ہو جائیں گے۔


4. آپ کے اندر منفی سوچوں کا اثر ختم ہونے لگے گا۔


5. آپ کی سوچ مثبت ہو جائے گی اور آپ رب پر توکل کرنا سیکھ جائیں گے۔



💪 *جسمانی فائدے*

1. آپ کے اندر ایک سٹریس ہارمون "کارٹی سول (Cortisol)" کم ریلیز ہوگا۔


2. یہ آپ کے باقی جسم کے اعضاء (Organs) کو محفوظ رکھے گا۔


3. آپ کو جسمانی مسائل جیسے کہ ہائی بلڈ پریشر، ڈائبٹییز، دل کے مسائل وغیرہ سے نجات ملے گی۔


4. آپ ذہنی طور پر بھی صحت مند رہیں گے اور جسمانی طور پر بھی۔



🌷 *روحانی فائدے*

1. آپ کے اندر صبر پیدا ہوگا۔


2. آپ کے دل میں اللہ تعالیٰ پر یقین مضبوط ہو جائے گا۔


3. آپ کی زندگی پہلے سے زیادہ پرسکون، مطمئن اور خوشگوار ہو جائے گی۔



🌺 *عمل کی ہدایت*

آپ نے اس نظریے پر عمل کرنا ہے اور ہر صورتحال کو دیکھنا ہے اور یہی کہنا ہے کہ
"جو ہوتا ہے اچھے کے لیے ہوتا ہے۔"

چاہے آپ کے ساتھ کچھ برے واقعات ہوئے ہوں —
جیسے کہ کسی نے آپ کو چھوڑ دیا ہو، کسی اپنے نے دھوکہ دیا ہو، آپ کا بریک اپ ہو گیا ہو،
آپ سے آپ کا کوئی سہارا چھن گیا ہو، یا لوگ آپ کے مخالف ہو گئے ہوں —

آپ نے بس یہی کہنا ہے کہ:
" *جو ہوتا ہے اچھے کے لیے ہوتا ہے* ۔"

اس سے آپ کے اندر ایک موٹیویشن آئے گی۔
آپ اپنی زندگی پر فوکس کریں گے، خود کو بہتر بنائیں گے،
اور اپنی گروتھ پر کام کریں گے۔

جتنا آپ مثبت رہیں گے، آپ کا رویہ مثبت رہے گا،
اور آپ کی زندگی اتنی بہتر، خوشگوار اور پرسکون ہوتی چلی جائے گی۔

تو کیوں نہ اپنے معاملات اپنے رب کے حوالے کر کے آپ پرسکون ہو جائیں
اور اس نظریے کو اپنا لیں کہ "جو ہوتا ہے اچھے کے لیے ہوتا ہے"۔

بظاہر وہ آپ کے ساتھ کتنا ہی برا کیوں نہ ہوا ہو،
لیکن آپ کو نہیں پتہ کہ چند سالوں میں آپ کو اس سے کیا فائدہ حاصل ہو گا اور آپ تب ماننے پر مجبور ہو جائیں گے
کہ واقعی جو ہوتا ہے اچھے کے لیے ہوتا ہے۔

لیکن ان سالوں کو آپ کیوں ضائع کر رہے ہیں؟
اگر آپ پہلے ہی اس نظریے کو اپنا لیں تو آپ کے وہ سال بھی پرسکون گزر جائیں گے۔

تو اس لیے صبر کریں اور اس چیز پر ایمان رکھیں کہ جو ہوتا ہے اچھے کے لیے ہوتا ہے۔



✨ مقدس طارق
ماہرِ نفسیات
مصنفہ
سی بی ٹی پریکٹشنر
این ایل پی ماسٹر
ٹرینر

www.facebook.com/share/178uHCJVwd/

whatsapp.com/channel/0029VaTbIkqKGGGO8bd24J0p

3 months ago | [YT] | 2