Psychology with Muqaddas

⁣"Welcome to Psychology with Muqaddas, where we explore the fascinating world of psychology and help you unlock your full potential!
Our channel offers valuable insights into how the human mind works and practical tools for personal development.
From understanding how we think and act to improving relationships, boosting mental health, and fostering growth, we cover it all.
Whether you're a student, teacher, or simply curious about psychology and self-improvement, you'll find our content engaging and useful.
By subscribing, you'll gain access to exclusive tips on applying psychology to everyday life and study materials to enhance your learning journey.
Plus, our motivational videos will inspire you to reach new heights. Join us today and start your journey towards a better understanding of yourself and others!"


Psychology with Muqaddas

کیا آپ اپنی زندگی کو بہتر بنانا چاہتے ہیں؟
کیا آپ ذہنی تناؤ، پریشانی اور منفی سوچوں سے چھٹکارا پانا چاہتے ہیں؟
کیا آپ نفسیات کے میدان میں اپنی مہارتوں کو بڑھانا چاہتے ہیں؟

اگر ہاں، تو یہ کورس *Basic CBT* آپ کے لیے ہے!

ہماری ٹیم،( *Psychology with Muqaddas* )، آپ کے لیے لے کر آئی ہے ایک مکمل طور پر مفت ( *Absolutely FREE* ) اور آن لائن ( *Online* ) بیسک سی بی ٹی *(Cognitive Behavioral Therapy) کورس!*

*یہ کورس کس کے لیے ہے؟*
یہ کورس سب کے لیے ہے، چاہے آپ کا تعلق کسی بھی شعبے سے ہو:
🎓 نفسیات کے طلباء: اپنی مہارتوں اور کلینیکل پریکٹس کو بہتر بنانے کے لیے۔
💼 پروفیشنلز : اپنے مریضوں کی بہتر مدد کرنے کے لیے۔
🌍 عام عوام: اپنی روزمرہ کی زندگی کے چیلنجز کا سامنا کرنے اور پرسکون زندگی گزارنے کے لیے۔

*آپ کیا سیکھیں گے؟*
اس کورس کے بعد، آپ یہ سب کچھ سیکھ جائیں گے:
سوچوں کا جذبات اور رویوں پر کنٹرول کیسے ہوتا ہے، اس کو سمجھنا۔
مثبت تبدیلی کے لیے اپنے نقطہ نظر کو بدلنا سیکھنا۔
اپنی زندگی کے لیے ایک نیا اور بامقصد راستہ بنانا۔
اپنی مہارتوں اور کلینیکل پریکٹس کو مزید نکھارنا۔
روزمرہ کے مسائل کے لیے رہنمائی حاصل کرنا۔

*خصوصی فیچرز (Special Features):*
👨‍🎓👩‍🎓 میل اور فیمیل کے لیے الگ الگ واٹس ایپ گروپس (Separate WhatsApp Groups for Male and Female Students)!
🎥 روزانہ کلاسز Daily Classes with Interactive Q&A)!
📚 جامع نوٹس (Comprehensive Study Notes & Class Materials Provided)!

*انسٹرکٹر کا تعارف:*
یہ کورس آپ کو سکھائیں گی *مقدس طارق* صاحبہ، جو ایک ماہر نفسیات ہیں اور "Psychology with Muqaddas" کی (CEO) اور (Founder) بھی ہیں۔
ان کے پاس نفسیات کے میدان میں وسیع تجربہ ہے اور وہ آپ کو اس کورس کے دوران مکمل رہنمائی فراہم کریں گی۔

*(Register Now!)*
اس سنہرے موقع سے فائدہ اٹھائیں اور ابھی رجسٹر کریں!

📞 ہمارے واٹس ایپ نمبر پر رابطہ کریں: *0343-6872338*

ابھی ہم سے رابطہ کریں اور اپنی رجسٹریشن مکمل کروائیں۔

سیکھنے کے اس سفر کا حصہ بنیں اور اپنی زندگی کو بہتر بنائیں!

نوٹ: یہ کورس مکمل طور پر مفت ہے اور اس کے لیے کوئی فیس نہیں ہے۔

Join us on these Social media platforms👇

*Whatsapp Channel*
whatsapp.com/channel/0029VaTbIkqKGGGO8bd24J0p

*YouTube Channel*
youtube.com/@psychologywithmuqaddas?si=jS_yxVj4boc…

*Fb page*
www.facebook.com/share/17vyyHDtyM/

2 days ago | [YT] | 4

Psychology with Muqaddas

"ستارے اگر ٹوٹ بھی جائیں تو زمین پر نہیں گرا کرتے"

اس کا سیدھا سا مطلب یہ ہے کہ جو چیز حقیقت میں قیمتی اور بلند ہوتی ہے، وہ بکھرنے یا ٹوٹنے کے بعد بھی اپنا وقار اور اپنی حیثیت نہیں کھوتی۔

انسان کی عزتِ نفس (Self-Respect) اور اس کی اپنی ذات بھی بالکل ان ستاروں کی طرح ہے۔

زندگی میں کئی بار ہم حالات سے، رویوں سے یا ناکامیوں سے اندر تک ٹوٹ جاتے ہیں، لیکن ایک باوقار انسان کبھی اپنی نظروں میں نہیں گرتا۔


عزتِ نفس: آپ کا اندرونی وقار
زندگی کے سفر میں دل بھی ٹوٹتے ہیں اور امیدیں بھی، لیکن عزتِ نفس ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ ٹوٹنا کوئی عیب نہیں، البتہ ٹوٹ کر گر جانا اور اپنی قدر کھو دینا کمزوری ہے۔ آپ آسمان کا وہ ستارہ ہیں جس کی اپنی ایک چمک اور اپنا ایک مقام ہے۔ اگر آپ کسی رشتے یا حالات کی وجہ سے بکھر بھی جائیں، تو اپنی عزت پر کبھی سمجھوتہ نہ کریں۔ اپنا معیار اتنا بلند رکھیں کہ دکھ آپ کو توڑ تو سکے، مگر گرا نہ سکے۔


سیلف لو (اپنی ذات سے محبت)

خود سے محبت کرنے کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ آپ مغرور ہیں، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ اپنی اہمیت کو پہچانتے ہیں۔ جب آپ خود سے پیار کرتے ہیں، تو آپ دنیا کو یہ سکھاتے ہیں کہ آپ کے ساتھ کیسا سلوک کیا جانا چاہیے۔ جو انسان خود سے محبت نہیں کرتا، وہ بہت جلدی دوسروں کے قدموں میں گر جاتا ہے، لیکن "سیلف لو" انسان کو ہمیشہ آسمان پر چمکتا ہوا ستارہ بنائے رکھتا ہے۔



دنیا کے مشہور فلاسفرز اور ماہرینِ نفسیات نے بھی انسان کی اس اندرونی طاقت اور عزتِ نفس کے بارے میں بہت کچھ لکھا ہے۔


ان کے اقوال ہمارے اس جملے "ستارے اگر ٹوٹ بھی جائیں..." سے بہت خوبصورتی سے جڑتے ہیں:


* کارل جنگ (مشہور ماہرِ نفسیات - Carl Jung)

> "میں وہ نہیں ہوں جو میرے ساتھ حالات نے کیا، بلکہ میں وہ ہوں جو میں نے خود بننے کا فیصلہ کیا۔"

> ستارے سے تعلق: حالات آپ کو وقتی طور پر توڑ سکتے ہیں، لیکن یہ آپ کا اپنا فیصلہ اور عزتِ نفس ہے کہ آپ نے زمین کی خاک بننا ہے یا آسمان کا ٹوٹا ہوا مگر بلند ستارہ۔
>

* مولانا رومی (عظیم مفکر اور صوفی - Rumi)
> "تم پروں کے ساتھ پیدا ہوئے ہو، تو پھر زندگی بھر رینگنے کو کیوں ترجیح دیتے ہو؟"
> ستارے سے تعلق: رومی ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ انسان کا مقام ستاروں کی طرح بلندیوں پر ہے۔ جب خدا نے ہمیں عزتِ نفس کی اڑان دی ہے، تو ہمیں حالات سے ہار کر زمین پر گرنے والوں میں شامل نہیں ہونا چاہیے۔
>

* بدھا (مشہور فلاسفر - Buddha)
> "پوری کائنات میں آپ خود، کسی بھی دوسرے شخص کی طرح، اپنی محبت اور توجہ کے سب سے زیادہ حقدار ہیں۔"

> ستارے سے تعلق: یہ سیلف لو کی بہترین تعریف ہے۔ جب آپ اپنی قدر پہچانتے ہیں اور خود سے محبت کرتے ہیں، تو آپ کی چمک کبھی ماند نہیں پڑتی، چاہے آپ کتنے ہی اکیلے کیوں نہ ہوں۔
>

آخری پیغام
زندگی میں چاہے کتنی ہی مشکلیں آئیں، یا کتنے ہی دکھ ملیں، ہمیشہ یاد رکھیں کہ آپ کا مقام بہت اونچا ہے۔

اپنے آپ سے پیار کریں اور اپنی عزتِ نفس کو کبھی مجروح نہ ہونے دیں۔ آپ وہ ستارے ہیں جو اگر ٹوٹ بھی جائیں، تو آسمان کی وسعتوں میں ہی رہتے ہیں، زمین پر گر کر کسی کے قدموں کی دھول نہیں بنتے۔ ہمیشہ اپنا سر اور اپنا معیار بلند رکھیں۔

whatsapp.com/channel/0029VaTbIkqKGGGO8bd24J0p

2 weeks ago | [YT] | 2

Psychology with Muqaddas

"خوشی کوئی ایسی چیز نہیں جسے آپ کہیں سے ڈھونڈ لیں، بلکہ یہ وہ چیز ہے جسے آپ خود تخلیق کرتے ہیں۔"


اس خوبصورت جملے کا مطلب بہت گہرا لیکن سمجھنے میں بہت آسان ہے۔

ہم اکثر یہ سوچتے ہیں کہ خوشی کوئی ایسی چیز ہے جو ہمیں اچانک کہیں سے مل جائے گی—جیسے کوئی لاٹری نکلنے پر، نئی گاڑی لینے پر، یا کسی خاص جگہ گھومنے جانے پر۔

ہم ساری زندگی اس "خوشی" کو باہر تلاش کرتے رہتے ہیں۔

لیکن حقیقت یہ ہے کہ:

* خوشی باہر نہیں، آپ کے اندر ہے: خوشی کسی دکان سے خریدی نہیں جا سکتی اور نہ ہی یہ راستے میں پڑی ملتی ہے۔ یہ دراصل آپ کے اپنے رویے اور سوچ کا نام ہے۔

* چھوٹی چیزوں میں خوشی ڈھونڈنا: آپ کو اپنی خوشی خود بنانی پڑتی ہے۔ یہ آپ کے روزمرہ کے چھوٹے چھوٹے کاموں میں چھپی ہوتی ہے؛ جیسے کسی دوست کے ساتھ چائے پینا، اپنے گھر والوں کے ساتھ اچھا وقت گزارنا، یا کسی کی مدد کر کے دلی سکون محسوس کرنا۔

* مثبت سوچ اور شکر گزاری: جب آپ اپنے پاس موجود نعمتوں پر اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں اور مشکل وقت میں بھی مثبت (Positive) سوچ رکھتے ہیں، تو دراصل آپ اپنے لیے خوشی تخلیق کر رہے ہوتے ہیں۔

مختصر یہ کہ خوشی کا انتظار مت کریں کہ وہ خود چل کر آپ کے پاس آئے گی، بلکہ اپنی آج کی زندگی میں ایسے کام کریں جن سے آپ کو اور آپ کے اردگرد کے لوگوں کو خوشی ملے۔

ماہر نفسیات
مقدس طارق

whatsapp.com/channel/0029VaTbIkqKGGGO8bd24J0p

3 weeks ago | [YT] | 2

Psychology with Muqaddas

پھانسی سے لمحہ پہلے مدعی نے کہا " پیروں میں گرو، تو معاف کر دوں گا"۔

مجرم نے جواب دیا " ایسی ذلت سے موت بہتر ہے "۔

رسی گلے میں پڑی، کالا کپڑا چہرے پر، تبھی مدعی چیخ اٹھا ۔

"رب کی راہ میں معاف کیا۔"

پھندہ ہٹا ، مجرم نیچے اترا اور خود مدعی کے قدموں میں گر گیا۔

پوچھنے پر کیا خوبصورت بات کی ۔ کہ "غیرت نے جھکنے سے روکا تھا مگر احسان نے جھکنا سکھا دیا

"۔ یادر کھیں ۔ "

جودباو میں نہیں جھکتا وہ محبت میں بک جاتا ہے۔

whatsapp.com/channel/0029VaTbIkqKGGGO8bd24J0p

3 weeks ago | [YT] | 3

Psychology with Muqaddas

جب ہم سانحہ کربلا پر نظر ڈالتے ہیں، تو مردوں نے تو شہادت کا رتبہ پا لیا، لیکن صبر اور مصائب کا اصل امتحان ان پاک بیبیوں کے لیے شروع ہوا جو پیچھے رہ گئیں، جیسے بی بی زینب ع، بی بی فروا ع، بی بی رباب ع، بی بی سکینہ ع، بی بی کبریٰ ع اور بی بی جنابِ فضہ ع۔

یہ اور ان کے ساتھ دیگر خواتین، انسانی تاریخ کے بدترین ظلم کی اصل مظلوم اور براہِ راست گواہ تھیں۔

انہوں نے صرف ایک دوپہر میں اپنے شوہروں، بھائیوں، بھتیجوں، بھانجوں اور بیٹوں، غرض سب کی دردناک جدائی کا سامنا کیا۔


یہ واقعی انسانی تصور سے بالاتر ہے کہ انہوں نے اتنے بڑے غم کو کیسے برداشت کیا اور خود کو کامل وقار کے ساتھ سنبھالے رکھا۔ میدانِ جنگ میں قتلِ عام کے بعد، ان کی مشکلات اس وقت مزید بڑھ گئیں جب انہیں اسیر (قیدی) بنا لیا گیا۔ انہوں نے شدید ظلم جھیلا، ناقابلِ یقین بے حرمتی کا سامنا کیا، اور ان کی چادریں چھینے جانے اور خیموں کو آگ لگائے جانے کے بعد ان کے پردے کی پامالی کے صدمے سے گزریں۔


زنجیروں میں جکڑے جانے اور قید و بند کی صعوبتیں اٹھانے کے باوجود، ان پاک بیبیوں نے اپنے وقار کو کبھی ہاتھ سے جانے نہ دیا۔ انہوں نے جسمانی اذیت، بھوک پیاس اور قید کو برداشت کیا، جبکہ انہیں کربلا سے کوفہ اور پھر دمشق کے بازاروں اور درباروں میں پھرایا گیا۔ بی بی زینب ع ظالموں کے درباروں میں ایک اٹل پہاڑ کی طرح کھڑی ہوئیں اور اپنی فصاحت و بلاغت اور طاقتور خطبوں سے حکمرانوں کے ظلم کو بے نقاب کیا۔ اپنی بے مثال استقامت اور قربانی کے ذریعے، ان پاک بیبیوں نے اس بات کو یقینی بنایا کہ کربلا کا حقیقی پیغام ہمیشہ زندہ رہے۔"


— ماہرِ نفسیات مقدس طارق


مفہوم: یہ تحریر کربلا کے اس پہلو کو اجاگر کرتی ہے جسے تاریخ میں 'پیغامِ کربلا' کا تحفظ کہا جاتا ہے۔ امام حسین علیہ السلام اور ان کے جانثاروں نے میدانِ جنگ میں خون دے کر تو اسلام کو بچا لیا، لیکن اگر کربلا کی پاک بیبیاں (خصوصاً بی بی زینب سلام اللہ علیہا) اسیر ہونے کے بعد یزید اور ابنِ زیاد کے درباروں میں اپنے خطبوں سے سچائی کو بے نقاب نہ کرتیں، تو ظالم حکمران اس تاریخ کو مسخ کر دیتے۔
نفسیاتی اور انسانی سطح پر، یہ واقعہ صبر کی آخری حد ہے۔ ایک ہی دن میں اپنے پورے گھر کو کھو دینے کے بعد بھی، اسیرِ کربلا خواتین نے جس طرح اپنے پردے، وقار اور حوصلے کی حفاظت کی، وہ رہتی دنیا تک کے مظلوموں کے لیے ایک رہنما اصول ہے کہ حالات کتنے ہی بدتر کیوں نہ ہوں، حق پر قائم رہنا اور باوقار رہنا ہی اصل فتح ہے۔

whatsapp.com/channel/0029VaTbIkqKGGGO8bd24J0p

2 months ago | [YT] | 1

Psychology with Muqaddas

ڈی بی ٹی (DBT) یعنی **Dialectical Behavior Therapy** جذبات کو سمجھنے اور انہیں سنبھالنے کا ایک بہترین طریقہ پیش کرتی ہے:

## جذبات کیا ہیں؟
ڈی بی ٹی کے مطابق، جذبات کوئی مستقل چیز نہیں بلکہ ایک **مختصر وقت کے لیے ہونے والا ردِعمل** ہیں۔ یہ خود بخود پیدا ہوتے ہیں اور ہمارے پورے جسمانی نظام (دماغ، اعصاب اور سوچ) پر اثر انداز ہوتے ہیں۔


## جذبات کا نظام کیسے کام کرتا ہے؟
جذبات کو ایک ایسے سسٹم کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے جس کے 6 اہم حصے ہیں:
1. **جذباتی حساسیت (Vulnerability):** آپ کا وہ اندرونی حال جو آپ کو کسی بھی بات پر ردِعمل دینے کے لیے تیار رکھتا ہے (جیسے تھکن یا پریشانی میں جلدی غصہ آنا)۔
2. **اشارہ یا وجہ (Prompting Events):** کوئی بھی واقعہ، چاہے وہ باہر ہو رہا ہو یا آپ کے ذہن میں، جو جذبے کو ابھارتا ہے۔
3. **سوچ اور تشریح (Appraisal):** آپ اس واقعے کو کس نظر سے دیکھتے ہیں؟ آپ کا ذہن اس کا کیا مطلب نکالتا ہے؟
4. **جسمانی تبدیلی اور خواہش (Response Tendencies):** دل کی دھڑکن تیز ہونا، پسینہ آنا، اور کچھ خاص کرنے کی شدید خواہش (جیسے ڈر کے مارے بھاگ جانے کا دل کرنا)۔
5. **اظہار (Expressive Responses):** آپ کے چہرے کے تاثرات، آپ کے الفاظ اور آپ کے اعمال۔
6. **بعد کے اثرات (Aftereffects):** جذبہ گزر جانے کے بعد کی صورتحال، جیسے کہ ایک جذبے کی وجہ سے دوسرے جذبے کا پیدا ہونا (مثلاً غصہ کرنے کے بعد شرمندگی محسوس ہونا)۔
## سب سے اہم بات: تبدیلی کا راستہ
ڈی بی ٹی کا بنیادی فلسفہ یہ ہے کہ یہ تمام حصے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔
* **اگر آپ اپنا جذبہ بدلنا چاہتے ہیں، تو آپ کو پورے نظام کو بدلنے کی ضرورت نہیں ہے۔**

* اگر آپ اوپر دیئے گئے **کسی بھی ایک حصے** کو بدل دیں (مثلاً اپنی سوچ بدل لیں، یا اپنے عمل کو تبدیل کر دیں)، تو پورا جذباتی نظام خود بخود بدل جائے گا۔


> **آسان لفظوں میں:** جذبات ایک زنجیر کی طرح ہیں۔ اگر آپ زنجیر کی ایک کڑی بھی توڑ دیں یا بدل دیں، تو پورا اثر بدل جاتا ہے۔ اس طرح ہم اپنے جذبات کے غلام بننے کے بجائے ان پر قابو پانا سیکھ سکتے ہیں۔
>

جیسا کہ ہم نے اوپر سمجھا کہ جذبات ایک مکمل نظام (System) ہیں اور کسی ایک حصے کو بدل کر ہم اپنی زندگی میں بڑی تبدیلی لا سکتے ہیں۔

میری کتاب "DBT" آپ کو انہی تکنیکوں سے لیس کرتی ہے تاکہ آپ اپنے ردِعمل اور جذبات کو بہتر طور پر مینیج کر سکیں۔

اس کتاب کی اصل قیمت 1500 روپے ہے، لیکن آپ کی ذہنی نشوونما کی حوصلہ افزائی کے لیے اگلے ایک ہفتے تک یہ صرف 1000 روپے میں دستیاب ہے۔

ماہر نفسیات مصنفہ
مقدس طارق

Whatsapp at for book order
03436872338

3 months ago | [YT] | 2

Psychology with Muqaddas

زندگی میں کیا ضروری ہے،

اس سوال کو خود سے پوچھنے سے پہلے ایک چیز اپنے ذہن میں ضرور رکھیں

کہ یہ زندگی عارضی ہے۔ یہاں آنے والی مشکلات عارضی ہیں، یہاں آنے والے واقعات عارضی ہیں، یہاں آنے والے غم عارضی ہیں، یہاں آنے والی خوشیاں عارضی ہیں۔ غرض ہر چیز عارضی ہے، چاہے وہ اچھی ہو یا بری۔

اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتے ہیں:

"كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ"
“ہر جان نے موت کا مزہ چکھنا ہے۔”
— The Holy Quran

انسان زندگی میں ہر طرح کے حالات سے دوچار ہوتا ہے۔ کبھی اسے نعمتوں سے آزمایا جاتا ہے اور کبھی مصیبتوں سے۔


یہ زندگی عارضی ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کو نہیں معلوم کہ یہ زندگی کب ختم ہو جائے گی۔

میرے ذہن میں اکثر یہ باتیں تب آتی ہیں جب میں کسی ایسی جوان موت کے بارے میں سنتی ہوں جن کی عمر صرف 20 یا 21 سال ہو اور جو اچانک حادثاتی موت کا شکار ہو جائیں۔ تب انسان کو شدت سے احساس ہوتا ہے کہ واقعی زندگی کتنی غیر یقینی اور عارضی ہے۔

زندگی میں ہونے والے ہر واقعے میں کوئی نہ کوئی سبق پوشیدہ ہوتا ہے، بس ہمیں اسے دیکھنے والی آنکھ چاہیے۔

میرے ذہن میں بھی ایسے واقعات کے بعد یہی سوچ آتی ہے کہ اکثر ہماری پریشانی کی اصل وجہ برے حالات، برا وقت، مصیبت یا آزمائش نہیں ہوتے، بلکہ ہماری پریشانی کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ ہم یہ سمجھ لیتے ہیں کہ ہم ہمیشہ انہی حالات میں رہیں گے، یا یہ حالات کبھی ختم نہیں ہوں گے۔

حالانکہ اگر ایک انسان یہ سمجھ لے کہ سب کچھ عارضی ہے، تو اس کی بہت سی پریشانیاں خود بخود ختم ہونے لگتی ہیں۔

اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتے ہیں:

"فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا، إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا"
“بے شک ہر تنگی کے ساتھ آسانی ہے، بے شک ہر تنگی کے ساتھ آسانی ہے۔”
— The Holy Quran

اگر اچھا وقت چل رہا ہے تو وہ آپ کے شکر کا امتحان ہے، اور اگر برا وقت چل رہا ہے تو وہ آپ کے صبر کا امتحان ہے۔


یہ زندگی انسان کو آزمانے کے لیے ہی بنائی گئی ہے، اور انسان ہر طرح سے آزمایا جا رہا ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"دنیا مومن کے لیے قید خانہ ہے اور کافر کے لیے جنت۔"
— Sahih Muslim

اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ خود کو بہتر بنانا چھوڑ دیں، سٹرگل کرنا چھوڑ دیں یا اپنا بہترین ورژن بننا چھوڑ دیں۔

بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ اپنے آپ کو اچھے کاموں میں لگائیں، اچھی امید رکھیں، اور کسی بھی چیز کو خود پر اس حد تک سوار نہ کریں کہ وہ آپ سے ذہنی سکون چھین لے۔

کیونکہ جب انسان چیزوں کو اپنے ذہن پر سوار کر لیتا ہے تو بے سکونی بڑھنے لگتی ہے،

ذہنی صحت متاثر ہونے لگتی ہے، اور انسان ہر وقت “کاش” میں جینے لگتا ہے۔

یہ نہیں ہوا…
وہ نہیں ملا…
کاش ایسا ہو جاتا…
کاش ویسا ہو جاتا…
میں یہ کر لیتا…
میں وہ کر لیتا…

ان تمام سوچوں میں الجھنے کے بجائے صرف یہ یاد رکھیں کہ سب کچھ عارضی ہے۔

جو چیز آپ کے اختیار میں ہے، وہ آپ کا عمل ہے، آپ کی نیت ہے، آپ کی کوشش ہے۔

اور جو چیز اللہ کے اختیار میں ہے، اس کے بارے میں حد سے زیادہ سوچ کر خود کو تھکانا صرف بے سکونی بڑھاتا ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

"وَعَسَىٰ أَنْ تَكْرَهُوا شَيْئًا وَهُوَ خَيْرٌ لَكُمْ"
“اور ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو ناپسند کرو جبکہ وہ تمہارے لیے بہتر ہو۔”
— The Holy Quran

بس ہمیشہ یہ یاد رکھیں کہ یہ زندگی عارضی ہے، اور اس میں آنے والی ہر چیز بھی عارضی ہے۔
برا وقت بھی گزر جائے گا، اور اچھا وقت بھی۔
لہٰذا امید، صبر، شکر اور اللہ پر بھروسہ کبھی نہ چھوڑیں۔

ماہر نفسیات، مصنفہ
مقدس طارق

@psychologywithmuqaddas

whatsapp.com/channel/0029VaTbIkqKGGGO8bd24J0p

3 months ago | [YT] | 2

Psychology with Muqaddas

🎓 Enroll in Online Psychology Classes – Special Offer! 🎓

Are you ready to excel in psychology? Here's your chance to access premium classes and resources at an unbeatable price!

✨ What’s Included?

Full Psychology Classes: Regular price ₨2000 per subject

Short Notes: Regular price ₨750

MCQ Files: Regular price ₨500

💡 Total Worth: ₨3250 per subject!

BUT WAIT…

🌟 LIMITED TIME OFFER! 🌟
Enroll in Psychology Classes NOW and pay ONLY ₨1000 per subject!

Plus, you'll get FREE:

Concise Short Notes

Comprehensive MCQ Files

📚 Save ₨2250 and get everything you need to ace your exams!

Why Choose My Classes?

Expert guidance with personalized attention.

Easy-to-follow content designed for exam success.

All premium resources at no extra cost!

Conceptual clarity

🗓 Class Start Date: /5-04-2026
📝 Registration Deadline: 05-04-2026

⏳ After the deadline, the regular price applies, and you'll miss out on this amazing offer!

📞 Contact to Register:
Muqaddas Tariq
Phone/WhatsApp: +92-343-6872338

Secure your spot today and don’t miss out on this golden opportunity to enhance your psychology knowledge!

4 months ago | [YT] | 3

Psychology with Muqaddas

اس پوری دنیا میں آپ کا کوئی نعم البدل موجود نہیں ہے،
اس لیے اپنے رب کا شکر ادا کریں، خوش رہیں اور اپنی قدر کرنا سیکھیں۔

ماہرِ نفسیات، مصنفہ
مقدس طارق

اس پوری دنیا میں آپ کا کوئی نعم البدل موجود نہیں ہے،
کیونکہ اللہ نے ہر انسان کو ایک منفرد پہچان، الگ صلاحیتوں اور خاص مقصد کے ساتھ پیدا کیا ہے۔
آپ کی سوچ، آپ کا دل، آپ کے احساسات اور آپ کا سفر — یہ سب آپ کو دوسروں سے مختلف بناتے ہیں۔

اکثر ہم دوسروں سے اپنا موازنہ کر کے اپنی قدر کم کر لیتے ہیں، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ہر انسان اپنی جگہ ایک مکمل اور خاص تخلیق ہے۔ آپ کی خامیاں بھی آپ کی کہانی کا حصہ ہیں اور آپ کی خوبیاں آپ کی پہچان۔
جب انسان اپنی اصل قدر کو پہچان لیتا ہے تو اس کے اندر خود اعتمادی پیدا ہوتی ہے، وہ دوسروں کی رائے کا محتاج نہیں رہتا اور اپنے رب کے فیصلوں پر راضی ہو جاتا ہے۔

انسان اشرف المخلوقات ہے، یعنی تمام مخلوقات میں سب سے افضل۔
یہ مقام ہمیں خود کو کمتر سمجھنے کے لیے نہیں بلکہ اپنی ذمہ داری اور قدر کو سمجھنے کے لیے دیا گیا ہے۔
لہٰذا اپنے رب کا شکر ادا کریں، اپنی ذات کو قبول کریں، خود سے محبت کریں اور اس زندگی کو خوش دلی سے جینا سیکھیں۔

قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
"وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ"
(بے شک ہم نے بنی آدم کو عزت بخشی) — سورۃ الاسراء: 70

یہ آیت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہماری عزت اور قدر اللہ کی طرف سے ہے،
اس لیے خود کو کم سمجھنا دراصل اس نعمت کی ناقدری ہے۔

موٹیویشنل پیغام:
"آپ کسی اور جیسے بننے کے لیے نہیں بنائے گئے،
بلکہ آپ کو آپ جیسا بننے کے لیے تخلیق کیا گیا ہے۔"

ماہرِ نفسیات، مصنفہ
مقدس طارق

5 months ago | [YT] | 5