Fustantic Horror

Welcome to our channel, where spine-chilling Urdu horror stories come to life! From haunted houses to mysterious encounters with the supernatural, each tale is filled with suspense, fear, and dark twists. Whether you're a fan of ghost stories, urban legends, or eerie folklore, our channel delivers the most terrifying and thrilling stories straight to your screen. Subscribe now, hit the bell icon, and dive into the world of the unknown, where every story will leave you on the edge of your seat. Dare to watch?

Let me know if you'd like any adjustments!

For promotion you can contact on below mail or whatapp no .

Email: aamir_eng@yahoo.com

Whatsapp : +923002245208



Fustantic Horror

اسلام علیکم
ہم آپ سے معزرت خواہ ہیں آج سرویسیز کی وجہ سے کافی دیر سے اپلوڈ کرنے کی کوشش کررہے ہیں لیکن اپلوڈ نہیں ہورہی ۔ آج کی وڈیو اب کل اپلوڈ کریں گے انشاللہ ۔

7 hours ago | [YT] | 12

Fustantic Horror

✨اسلام علیکم دوستوں✨
❣️ آج ہمارے چینل پر ایک نئی اسٹوری پبلک ہوگی
وہ کہانی پے اسکردو کے جنگلات کی ایک خوفناک رات کی😱
دوستوں دیر کے لیے ہم معزرت خواہ ہیں 🙏
لیکن یقین جانیں ہم آپ کے لیے اچھے سے اچھا کونٹینٹ لانے کی کوشش میں ہی ہوتے ہیں ۔ یقینا آپ لوگ اس اسٹوری کو بھی زیادہ سے زیادہ لائک اور کمنٹ کرکے حوصلہ افزائی کریں گے آپ کے جذبات Fustantic Horror کے لیے قابل ستائش ہیں ہمیں پتا ہے آپ لوگ ہماری اسٹوری کا انتظار بھی کرتے ہیں اور پوری سپورٹ بھی کرتے ہیں
کچھ ہی گھنٹے میں انشااللہ اسٹوری آپ کے سامنے ہوگی
خوش رہیں

12 hours ago (edited) | [YT] | 30

Fustantic Horror

الله فرماتا ہے۔ ولا يلتفت " اور پیچھے مڑ کر نہ دیکھو
۔ کیونکہ جس چیز کی تم آرزو کرتے رہتے ہو ،
وہی تمہیں واپس کھینچ لے جائے گی
اس چیز کی طرف جس سے وہ تمہیں بچانا چاہتا ہے۔
کبھی کبھی اللہ تمہیں کسی نقصان دہ چیز سے نکال لیتا ہے۔
کسی جگہ سے۔ کسی عادت سے۔ کسی تعلق سے پھر وہ دیکھتا ہے
تمہارے قدم نہیں تمہارا دل۔ کیا تم اس چیز کو یاد کرتے ہو
جس نے تمہیں توڑ دیا تھا ؟
يا تم اس پر بھروسا کرتے ہو جس کی طرف وہ تمہیں لے جا رہا ہے ؟
آگے بڑھنا صرف راستہ بدلنا نہیں ہوتا۔ یہ خواہش بدلنے کا نام ہے۔
کبھی کبھی اللہ تمہیں آگے بڑھا کر بچاتا ہے۔
کبھی کبھی وہ تمہیں یہ سکھا کر بچاتا ہے کہ پیچھے مڑ کر نہ دیکھو۔
جب لوط علیہ اسلام کو شہر چھوڑنے کا حکم دیا گیا
تو حکم واضح تھا
چلے جاؤ اور تم میں سے کوئی بھی پیچھے مڑ کر نہ دیکھے۔
صرف ان کی بیوی نے پیچھے مڑ کر دیکھا
وہ جملہ پیچھے دیکھنا
اتنی بڑی بات کیوں تھا؟
کیونکہ یہ محض تجس نہیں تھا۔ وابستگی تھی۔
بعض اوقات پیچھے مڑ کر دیکھنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ
دل حقیقت میں کبھی وہاں سے نکلا ہی نہیں۔
تمہارے قدم تو آگے بڑھ گئے تھے
مگر تمہاری محبت و ہیں پیچھے رہ گئی تھی۔
اللہ انہیں ہلاکت سے بچارہا تھا۔
مگر نجات صرف وہاں سے چل دینے کا نام نہیں۔
نجات کے لیے دل سے چھوڑ دینا بھی ضروری ہوتا ہے۔
حضرت لوط علیہ اسلام کی بیوی مومنوں کے ساتھ چل تو رہی تھی
لیکن اس کا دل شہر کے ساتھ تھا۔ اہل ایمان کے ساتھ نہیں۔
یہی وہ خاموش تنبیہ ہے۔
آپ نیک لوگوں کے درمیان کھڑے ہوئے بھی ہیں
اور پھر بھی اس چیز سے بندھے رہ سکتے ہیں
جسے الله نے آپ کو چھوڑ دینے کا حکم دیا تھا۔.
پیچھے مڑ کر دیکھنا " آنکھوں کے بارے میں نہیں تھا۔
یہ دل کے بارے میں تھا۔
اس کے بارے میں کہ جب اللہ نے فرمایا:
" چلو " تو وہ کہاں ٹھہرا ہوا تھا۔
۔ بہت دفعہ انسان اپنے قدموں سے تو آگے نکل آتا ہے، وہ جگہ چھوڑ دیتا ہے، وہ تعلق ختم کر دیتا ہے، وہ عادت ترک کر دیتا ہے، مگر اس کا دل وہیں رہ جاتا ہے۔ اور جب دل پیچھے رہ جائے تو انسان حقیقت میں کبھی آگے نہیں بڑھ پاتا، وہ صرف چل رہا ہوتا ہے مگر اندر سے رکا ہوا ہوتا ہے۔
اصل نجات تب آتی ہے جب دل بھی آزاد ہو جائے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ماضی کی یادیں ختم ہو جائیں یا احساسات مر جائیں، بلکہ یہ کہ وہ چیز اب آپ کے سکون پر اثر انداز نہ ہو، وہ آپ کو کنٹرول نہ کرے۔ یاد آئے تو آئے، مگر وہ آپ کو واپس کھینچ نہ سکے۔ کیونکہ جو چیز آپ کے دل پر قابض ہو، وہی آپ کی سمت طے کرتی ہے۔
اس کے بعد سب سے اہم چیز یہ ہے کہ آپ کی توجہ کہاں ہے۔ اگر انسان کے پاس آگے بڑھنے کی کوئی نئی سمت نہ ہو، کوئی مقصد نہ ہو، تو وہ بار بار ماضی کی طرف پلٹتا ہے۔ اس لیے آگے بڑھنا تب مکمل ہوتا ہے جب انسان اپنے لیے نئی راہیں بناتا ہے، نئے خواب دیکھتا ہے، اور اپنی توجہ مستقبل پر مرکوز کر لیتا ہے۔
حقیقی تبدیلی تب آتی ہے جب انسان کے قدم آگے ہوں، دل آزاد ہو، اور نظر مستقبل پر ہو۔ اگر ان تین میں سے ایک بھی پیچھے رہ جائے تو اندر ایک خلا، ایک کشمکش باقی رہتی ہے۔ اسی لیے بعض لوگ سب کچھ چھوڑ کر بھی آزاد نہیں ہوتے، اور بعض لوگ سب کچھ کھو کر بھی سکون میں آ جاتے ہیں۔
اصل بات یہ ہے کہ نجات صرف کسی چیز کو چھوڑ دینے سے نہیں ملتی، بلکہ نجات تب ملتی ہے جب وہ چیز آپ کے دل سے بھی اتر جائے، جب وہ آپ پر اپنا اثر کھو دے، اور آپ اس سے آگے بڑھنے کے قابل ہو جائیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انسان واقعی آزاد ہوتا ہے، اور یہی وہ کیفیت ہے جس میں آگے بڑھنا حقیقت بن جاتا ہے۔

1 day ago | [YT] | 56

Fustantic Horror

مولانا رومیؒ بازار سے گزر رہے تھے، مولانا صاحب کے سامنے کریانے کی ایک دکان تھی
ایک درمیانی عمر کی خاتون دکان پر کھڑی تھی اور دکاندار وارفتگی کے عالم میں اس خاتون کو دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
وہ جس چیز کی طرف اشارہ کرتی دکاندار ہاتھ سے اس بوری سے وہ چیز نکالنے لگتا اور اس وقت تک وہ چیز تھیلے میں ڈالتا جاتا جب تک خاتون کی انگلی کسی دوسری بوری کی طرف نہیں جاتی اور دکاندار دوسری بوری سے بھی اندھا دھند چیز نکال کر تھیلے میں ڈالنے لگتا۔۔۔
یہ عجیب منظر تھا دکاندار وارفتگی کے ساتھ گاہک کو دیکھ رہا تھا اور گاہک انگلی کے اشارے سے دکاندار کو پوری دکان میں گھما رہا تھا اور دکاندار اٰلہ دین کے جن کی طرح چپ چاپ اس کے حکم پر عمل کر رہا تھا۔۔۔
خاتون نے آخر میں لمبی سانس لی اور دکاندار کو حکم دیا "چلو بس کرو آج کی خریداری مکمل ہو گئی۔۔۔۔"
دکاندار نے چھوٹی چھوٹی تھیلیوں کے منہ بند کئے یہ تھیلیاں بڑی بوری میں ڈالیں بوری کندھے پر رکھی اور خاتون سے بولا "چلو زبیدہ میں سامان تمہارے گھر چھوڑ آتا ہوں۔۔۔۔"
خاتون نے نخوت سے گردن ہلائی اور پوچھا "کتنا حساب ہوا۔۔۔۔؟"
دکاندار نے جواب دیا "زبیدہ عشق میں حساب نہیں ہوتا۔۔۔۔"
خاتون نے غصے سے اس کی طرف دیکھا واپس مڑی اور گھر کی طرف چل پڑی دکاندار بھی بوری اٹھا کر چپ چاپ اس کے پیچھے چل پڑا۔
مولانا صاحب یہ منظر دیکھ رہے تھے دکاندار خاتون کے ساتھ چلا گیا تو مولانا صاحب دکان کے تھڑے پر بیٹھ گئے اور شاگرد گلی میں کھڑے ہو گئے ۔۔۔ دکاندار تھوڑی دیر بعد واپس آگیا، مولانا صاحب نے دکاندار کو قریب بلایا اور پوچھا "یہ خاتون کون تھی۔۔۔۔؟"
دکاندار نے ادب سے ہاتھ چومے اور بولا "جناب یہ فلاں امیر خاندان کی نوکرانی ہے۔"
مولانا صاحب نے پوچھا "تم نے اسے بغیر تولے سامان باندھ دیا پھر اس سے رقم بھی نہیں لی کیوں۔۔؟"
دکاندار نے عرض کیا "مولانا صاحب میں اس کا عاشق ہوں اور انسان جب کسی کے عشق میں مبتلا ہوتا ہے تو پھر اس سے حساب نہیں کر سکتا"
دکاندار کی یہ بات سیدھی مولانا صاحب کے دل پر لگی ۔۔۔ وہ چکرائے اور بیہوش ہو کر گر پڑے، شاگرد دوڑے مولانا صاحب کو اٹھایا ان کے چہرے پر عرقِ گلاب چھڑکا، ان کی ہتھیلیاں اور پاؤں رگڑے مولانا صاحب نے بڑی مشکل سے آنکھیں کھولیں۔
دکاندار گھبرایا ہوا تھا وہ مولانا صاحب پر جھکا اور ادب سے عرض کیا "جناب اگر مجھ سے غلطی ہو گئی ہو تو معافی چاہتا ہوں۔۔۔"
مولانا صاحب نے فرمایا "تم میرے محسن ہو میرے مرشد ہو کیونکہ تم نے آج مجھے زندگی میں عشق کا سب سے بڑا سبق دیا"
دکاندار نے حیرت سے پوچھا "جناب وہ کیسے۔۔۔؟"
مولانا صاحب نے فرمایا "میں نے جانا تم ایک عورت کے عشق میں مبتلا ہو کر حساب سے بیگانے ہو جبکہ میں اللہ کی تسبیح بھی گن گن کر کرتا ہوں، نفل بھی گن کر پڑھتا ہوں اور قرآن مجید کی تلاوت بھی اوراق گن کر کرتا ہوں، لیکن اس کے باوجود اللہ تعالٰی سے عشق کا دعوٰی کرتا ہوں تم کتنے سچے اور میں کس قدر جھوٹا عاشق ہوں۔"
مولانا صاحب وہاں سے اٹھے ۔۔۔ اپنی درگاہ پر واپس آئے اور اپنے استاد حضرت شمس تبریز کے ساتھ مل کر عشق کے چالیس اصول لکھے۔ ان اصولوں میں ایک اصول "بے حساب اطاعت" بھی تھا۔
یہ مولانا صاحب مولانا روم تھے، اور یہ پوری زندگی اپنے شاگردوں کو بتاتے رہے کہ اللہ تعالٰی نے ہمیں نعمتیں دیتے ہوئے حساب نہیں کیا، چنانچہ تم بھی اس کا شکر ادا کرتے ہوئے حساب نہ کیا کرو اپنی ہر سانس کی تار اللہ کے شکر سے جوڑ دو اس کا ذکر کرتے وقت کبھی حساب نہ کرو یہ بھی تم سے حساب نہیں مانگے گا اور یہ کُل عشقِ الٰہی ہے۔❤️

2 days ago | [YT] | 48

Fustantic Horror

❣️زندگی میں مالی نقصان، ضائع ہوتے مواقع، یا اچانک پیش آنے والی پریشانیاں
بھی انسان کو تھکا دیتی ہیں۔ مگر اگر آدمی ان حالات میں اپنے دل کو سنبھال لے، اور ٹوٹنے کے بجائے خود کو یہ کہہ دے کہ ❣️"کوئی بات نہیں"❣️
تو وہ ایک اضافی ذہنی بوجھ سے بچ جاتا ہے۔ کیونکہ نقصان ایک بار ہوتا ہے،
مگر ہم اسے دل پر اٹھا کر بار بار جیتے رہیں تو وہ دوہرا ہو جاتا ہے۔

👈البتہ اس جملے کا درست استعمال بہت ضروری ہے۔ ہر جگہ "کوئی بات نہیں" کہنا حکمت نہیں۔ اگر انسان اپنی غلطیوں کو سدھارنے کے بجائے انہیں معمولی سمجھ کر نظر انداز کرتا رہے، تو یہ کمزوری بن جاتی ہے۔ اسی طرح اگر کوئی دوسرے کو تکلیف پہنچائے اور پھر اپنی زیادتی کو "کوئی بات نہیں" کہہ کر ہلکا ثابت کرنے کی کوشش کرے، تو یہ اخلاقی پستی ہے۔

👈اسی طرح ظلم، ناانصافی، بدعنوانی، یا معاشرتی خرابیوں کے سامنے "کوئی بات نہیں" کہنا دراصل ذمہ داری سے فرار ہے۔ جہاں اصلاح کی ضرورت ہو، جہاں کسی مظلوم کی حمایت لازم ہو، وہاں خاموشی یا بے حسی قابلِ تعریف نہیں بلکہ قابلِ مذمت ہے۔

❣️اس لیے اس جملے کی خوبصورتی اسی وقت ہے جب یہ دل میں وسعت پیدا کرے، رشتوں کو محفوظ رکھے، نقصان پر صبر دے، اور انسان کو سکون عطا کرے۔
لیکن اگر یہی جملہ غفلت، بے حسی، خود فریبی یا ذمہ داری سے فرار کا ذریعہ بن جائے، تو پھر اس کی معنویت ختم ہو جاتی ہے۔
اگر ہم اپنے قریبی لوگوں کی ہر کوتاہی کو دل پر بوجھ بنا لیں، تو زندگی مشکل ہو جاتی ہے اور تعلقات میں دوریاں پیدا ہونے لگتی ہیں۔ لیکن اگر انسان دل پر جمی ناراضی کی گرد کو "کوئی بات نہیں" کے ساتھ صاف کرنا سیکھ لے، تو دل ہلکا رہتا ہے، رشتے محفوظ رہتے ہیں، اور گھر کا ماحول خوشگوار رہتا ہے۔
❣️بچوں کے معاملے میں بھی یہی اصول بہت فائدہ دیتا ہے۔ ان کی تربیت میں جہاں سنجیدہ غلطیوں پر توجہ ضروری ہے، وہیں روزمرہ کی چھوٹی لغزشوں پر نرمی اختیار کرنا انہیں والدین کے قریب کر دیتا ہے۔ سوچئے، ایک بچہ کم نمبروں کی مارک شیٹ لے کر خوف کے ساتھ آپ کے سامنے کھڑا ہو، اور آپ ناراضی کے بجائے پیار سے کہیں:
"کوئی بات نہیں، اگلی بار اور محنت کرنا۔"
❣️ یہ الفاظ اس کے دل سے بوجھ اتار دیتے ہیں، اس میں امید پیدا کرتے ہیں، اور وہ آپ سے مزید قریب ہو جاتا ہے۔
❣️بعض اوقات یہی جملہ وقت پر زبان پر نہ آ سکے تو معمولی بات لمبی تلخی میں بدل جاتی ہے۔ ایک لمحے کی سختی، کئی دنوں بلکہ کئی سالوں کی کڑواہٹ بن سکتی ہے۔ اسی لیے ضروری ہے کہ "کوئی بات نہیں" صرف زبان کا جملہ نہ رہے، بلکہ شخصیت کا حصہ بن جائے۔
میں نے ایک جگہ کہیں پڑھا تھا کہ معاف کرنا سیکھیں اگر ماں باپ سے بھی غلطی ہو جائے تو معاف کردیں۔ ان کا بھی تو زندگی میں پہلی بار ہے۔۔ اس جملے نے مجھے بہت دیر۔ سوچنے پر مجبور کردیا کہ یہ بڑی حقیقت ہے
ایسے ہی میں نے ایک صاحب کو کہتے سنا تھا جو فخریہ بتا رہے تھے
جب میں گھر جاتا ہوں تو بیوی اور بچے میرے خوف سے کانپتے ہیں
بس الفاظ نہیں تھے یہ انسان کی کامیابی نہیں ہے
❣️کامیابی کی سیڑھی تو کوئی اور ہی ہے
❣️اللہ ہم سب کے دلوں میں اور سوچ میں نرمی ڈالے
سوچا کریں کہ ہم ایسا کیا کرسکتے ہیں جس سے
اللہ اور اللہ کی مخلوق راضی پو❣️

3 days ago (edited) | [YT] | 49

Fustantic Horror

دو ایسے Concept جنکا مطلب ہمارے ہاں سراسر غلط لیا جاتا ھے۔
نمبر1: بری عورتیں برے مردوں کے لیے اور برے مرد بری عورتوں کے لئے ہیں۔

نمبر2: زنا ایک قرض ھے جو آپ کو گھر سے چکانا پڑے گا خاص کر بیٹی کی صورت میں۔

ہمارے ہاں سورہ نور کی آیت نمبر 26 کا ترجمہ سراسر غلط لیا جاتا ھے

اَلۡخَبِيۡثٰتُ لِلۡخَبِيۡثِيۡنَ وَالۡخَبِيۡثُوۡنَ لِلۡخَبِيۡثٰتِ‌ۚ
"بدکار عورتیں بدکار مردوں کے لئے اور بدکار مرد بدکار عورتوں کے لئے ہے"

پہلی بات یاد رکھیں کہ قرآن مجید کی کسی بھی آیت کی تفسیر اس کے سیاق و سباق کے بغیر نہیں کی جا سکتی اور ہمارا المیہ یہ ھے کہ ہمیں آدھا سچ بتانے کی عادت ھے۔
اگر سورہ نور کی اس آیت کے آگے اور پیچھے کی آیت کو پڑھا جائے تو صاف پتا چلتا ھے کہ یہاں پر آخرت کی بات ہو رہی ھے نا کہ دنیا کی
کہ آخرت میں بری عورتیں برے مردوں کے ساتھ جہنم میں ہوں گی اور اچھی عورتیں اچھے مردوں کے ساتھ جنت میں ھوں گی
اگر دنیا کی بات کریں تو دنیا میں تو فرعون کی بیوی مسلمان تھی اور حضرت نوح علیہ السلام کی بیوی کافرہ۔

لہذا اس آیت کا ترجمہ ٹھیک سے سمجھ لیں کہ یہاں آخرت کا ذکر ھو رھا ھے نا دنیا کا۔
دوسری بات ہمارے ہاں امام غزالی کا ایک قول بڑا مشہور کہ زنا ایک قرض ھے جسے آپ کو گھر سے چکانا پڑے گا اور خاص کر بیٹی کی صورت میں اور یہ انتہائی گھٹیا اور سراسر غلط بات ھے
بلکہ یہ امام غزالی کا قول ھے ہی نہیں اور اگر امام غزالی کا قول بالفرض ھے بھی تو یہ حرفِ آخر تو نہیں
کیوں کہ ہمارے لیے ہمارے نبی صل اللہ علیہ وآلہ وسلم زیادہ معتبر ہیں امام غزالی سے اور ہمارے نبی سے ایسی کوئی حدیث روایت بھی نہیں۔

ایک بات بتائیں اگر آپ زنا کریں گے تو اس میں آپکی بیٹی کا کیا قصور ہے؟
آپکے گناہ کی سزا آپکی بیٹی کو کیوں ملے گی؟
اللہ تعالیٰ کو پتہ تھا کہ میرے بندے دنیا میں Panic Create کریں گے اس طرح کی من گھڑت باتیں کرکے تو اللہ نے قرآن مجید میں اس بات کی دو دفعہ وضاحت کی ھے
اللہ پاک ایک دفعہ بھی Clear کر دیتے تو کافی تھا اللہ نے لیکن دو دفعہ وضاحت کی کہ کوئی Ambiguity نہ رھے
مسئلہ کہاں ہے؟
اس جملے میں دو بڑی غلطیاں ہیں:
اسلام میں گناہ "قرض" نہیں ہوتا
زنا ایک بڑا گناہ ہے، لیکن اسے اس طرح "بدلہ" یا "واپس لوٹنے والا قرض" کہنا درست نہیں
ہر انسان اپنے عمل کا خود ذمہ دار ہے
بیٹیوں کو اس سے جوڑنا انتہائی غلط ہے
یہ بات بیٹیوں کے بارے میں بہت غیر مناسب اور غیر اسلامی تصور پیدا کرتی ہے
اسلام میں بیٹی رحمت ہے، سزا یا بدلہ نہیں

وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزۡرَ اُخۡرَىٰؕ
اور کوئی شخص کسی دوسرے کے گناہ کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔
(سورہ فاطر، 18)
اور

اَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰىۙ
کوئی شخص کسی دوسرے کے گناہ کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔
(سورہ النجم، 38)

4 days ago | [YT] | 42

Fustantic Horror

جن لوگوں نے کل والی کہانی سنی اور پسند کیا ان سب لوگوں کا بہت شکریہ اور جو لوگ سن نہیں سکے وہ نیچے دئیے ہوئے لنک پر کلک کرکے سن سکتے ہیں -

لنگ نیچے ہے ابھی کلک کریں اور بتائیں کیا آپ اس گھر میں رہیں گے ؟

ویڈیو کا لنک 👇
https://youtu.be/IVSPfS0Ixa0

4 days ago | [YT] | 53

Fustantic Horror

جن لوگوں نے کل والی کہانی سنی اور پسند کیا ان سب لوگوں کا بہت شکریہ اور جو لوگ سن نہیں سکے وہ نیچے دئیے ہوئے لنک پر کلک کرکے سن سکتے ہیں -

ویڈیو کا لنک 👇
https://youtu.be/KAyW421OUxE

1 week ago | [YT] | 69

Fustantic Horror

رات کے دو بجنے والے تھے...کورنگی کی اُس فیکٹری میں سب کچھ نارمل تھا...
پھر میں اکیلا واش روم کی طرف گیا...
دروازہ بند ہوا... دستک شروع ہوئی...
اور کسی نے میرے کان میں کہا... آج تیری آخری رات ہے... لیکن سوال یہ ہے... باہر کھڑا وہ شخص آخر تھا کون؟

یہ کہانی آگر آپ نے نہیں سنی ہے تو ضرور سنیں لنک یہ ہے 👇
https://youtu.be/ZM8Y6WnF6AQ

1 week ago | [YT] | 32

Fustantic Horror

کراچی کے ایک بنگلے میں... ایک ڈرائنگ روم ہمیشہ بند رہتا تھا...سب کہتے تھے وہاں کچھ ہے...پھر ایک دن ہم بچوں نے اس کمرے میں کھیلنا شروع کر دیا...اور جب کھیل ختم ہوئی...تو پتا چلا... ذیشان تو گھر میں تھا ہی نہیں... پھر ہم کس کے ساتھ کھیل رہے تھے؟

یہ کہانی آگر آپ نے نہیں سنی ہے تو ضرور سنیں لنک یہ ہے 👇

https://youtu.be/2R5kR5EzLWs

1 week ago | [YT] | 47