*✍ ‏‏بات کیجیئے، بات سمجھیئے ۔ مگر بات کو حملہ مت تصور کیجیئے۔ تعلقات میں پہلی دراڑ ہمیشہ غلط فہمی کی وجہ سے ہوتی ہے اور یہ غلط فہمی صرف بات کو سننے اور سمجھنے کے درمیان کا وہ فاصلہ ہے۔ جس کو اکثریت چھلانگ لگا کر عبور کرتی ہے۔ نہ کہ غور کر کے قبول کرتی ہے ۔ ۔ ۔ !!!*