سوال(۸۳):- کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: جب بہت دعا کرنے کے بعد بھی اگر کوئی خواہش پوری نہیں ہوتی ہے، تو ان سے کہا گیا کہ اگر کوئی گناہ تم سے برابر لگاتار ہورہا ہے، تو اس کو چھوڑکر دیکھو، چاہے وہ گناہ تمہاری نظر میں چھوٹا ہی ہو، اللہ تعالیٰ سے استغفار کی کثرت کرو، جواب ملا کہ ہم سے بڑے گنہگار بھی تو ہیں، تو ان کو کیوں خوش وخرم رکھ رہے ہیں اللہ میاں؟ جواب کیا دوں؟ کیوںکہ قربان ہونے کو تیار نہیں، اور تمنا پوری نہ ہو اس پر صبر نہیں کرتے؟ باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ الجواب وباللّٰہ التوفیق: دنیا میں کسی خواہش کا پورا ہوجانا اللہ کے نزدیک مقبول ہونے کی علامت نہیں ہے، اللہ کے یہاں باعزت اور مقبول شخص وہی ہے جو ایمان اور عملِ صالح سے متصف اور گناہوں سے دور ہو، اور جو گنہگار لوگ دنیا میں خوش وخرم نظر آرہے ہیں، وہ ان کے لئے وقتی خوشی اور چند دنوں کی ڈھیل ہے، ان کے دنیا سے جاتے ہی جب سزا کا سلسلہ شروع ہوگا، تو دنیا کی ساری خوشیاں بھول جائیںگے، اس لئے ہر مسلمان کو بہرحال گناہوں سے بچنا چاہئے، اور بظاہر دعاء پوری نہ ہونے سے مایوس نہ ہونا چاہئے، اور سوال میں ذکر کردہ یہ جواب کہ: ’’دنیا میں ہم سے بھی بڑے گنہگار ہیں، جو خوش وخرم ہیں‘‘ اصل حقیقت سے نادانی پر مبنی ہے۔ {لَا یَغُرَّنَّکَ تَقَلُّبُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فِیْ الْبِلَادِ مَتَاعٌ قَلِیْلٌ ثُمَّ مَأْوٰہُمْ جَہَنَّمُ وَبِئْسَ الْمِہَادُ} [آل عمران: ۱۹۶-۱۹۷] {اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ اَتْقَاکُمْ} [الحجرات: ۱۳] إن الأکرم عند اللّٰہ تعالیٰ والأرفع منزلۃ لدیہ عزوجل في الآخرۃ والدنیا ہو الأتقی۔ (روح المعاني زکریا ۱۴؍۲۴۴) عن ابن مسعود رضي اللّٰہ عنہ {فَسَوْفَ یَلْقَوْنَ غَیًّا} قال: وادٍ في جہنم یُقذف فیہ الذین یتبعون الشہوات۔ (رواہ الطبراني، الترغیب والترہیب مکمل رقم: ۵۵۰۳) فقط واللہ تعالیٰ اعلم کتبہ: احقر محمد سلمان منصورپوری غفرلہ ۳۰؍۴؍۱۴۳۳ھ الجواب صحیح: شبیر احمد قاسمی عفا اللہ عنہ
سوال(۷۹):- کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: حضرت غوث اعظمؒ کے بارے میں سنا جاتا ہے کہ آپ دنیا کو ایسے دیکھتے ہیں جیسے ہتھیلی پر رائی کا دانہ، اس کا ثبوت کہاں سے ہے؟ نیز غوث اعظم نے بارہ برس کی ڈوبی ہوئی بارات کو نکالا، جس میں لوگ زندہ تھے، یہ کہاں سے ثابت ہے؟ باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ الجواب وباللّٰہ التوفیق: حضرت شاہ عبد القادر جیلانی ؒ (معروف بہ: غوث اعظم) کی طرف منسوب مذکورہ باتیں بے اصل اور غیر معتبر ہیں، اور کسی بھی مخلوق کے لئے خدائی صفات ثابت کرنا شرعاً جائز نہیں، یہ کھلا ہوا شرک ہے، اس سے اجتناب لازم ہے۔ (مستفاد: کفایت المفتی ۱؍۱۰۸) فقط واللہ تعالیٰ اعلم کتبہ: احقر محمد سلمان منصور پوری غفر لہ ۳؍۶؍۱۴۲۴ھ الجواب صحیح: شبیر احمد عفااﷲ عنہ
Masood ul Hasan
Masha Allah
4 months ago | [YT] | 5
View 1 reply
Masood ul Hasan
4 months ago | [YT] | 10
View 0 replies
Masood ul Hasan
Allah ke Nabi se Mohabbat karne Wale Life karo
4 months ago | [YT] | 12
View 0 replies
Masood ul Hasan
4 months ago | [YT] | 9
View 0 replies
Masood ul Hasan
Like and share
5 months ago | [YT] | 13
View 0 replies
Masood ul Hasan
Mohabbat mulk se
5 months ago | [YT] | 9
View 0 replies
Masood ul Hasan
Allah
5 months ago | [YT] | 31
View 0 replies
Masood ul Hasan
*کیا گنہگار خوش وخرم ہیں؟*
سوال(۸۳):- کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: جب بہت دعا کرنے کے بعد بھی اگر کوئی خواہش پوری نہیں ہوتی ہے، تو ان سے کہا گیا کہ اگر کوئی گناہ تم سے برابر لگاتار ہورہا ہے، تو اس کو چھوڑکر دیکھو، چاہے وہ گناہ تمہاری نظر میں چھوٹا ہی ہو، اللہ تعالیٰ سے استغفار کی کثرت کرو، جواب ملا کہ ہم سے بڑے گنہگار بھی تو ہیں، تو ان کو کیوں خوش وخرم رکھ رہے ہیں اللہ میاں؟ جواب کیا دوں؟ کیوںکہ قربان ہونے کو تیار نہیں، اور تمنا پوری نہ ہو اس پر صبر نہیں کرتے؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: دنیا میں کسی خواہش کا پورا ہوجانا اللہ کے نزدیک مقبول ہونے کی علامت نہیں ہے، اللہ کے یہاں باعزت اور مقبول شخص وہی ہے جو ایمان اور عملِ صالح سے متصف اور گناہوں سے دور ہو، اور جو گنہگار لوگ دنیا میں خوش وخرم نظر آرہے ہیں، وہ ان کے لئے وقتی خوشی اور چند دنوں کی ڈھیل ہے، ان کے دنیا سے جاتے ہی جب سزا کا سلسلہ شروع ہوگا، تو دنیا کی ساری خوشیاں بھول جائیںگے، اس لئے ہر مسلمان کو بہرحال گناہوں سے بچنا چاہئے، اور بظاہر دعاء پوری نہ ہونے سے مایوس نہ ہونا چاہئے، اور سوال میں ذکر کردہ یہ جواب کہ: ’’دنیا میں ہم سے بھی بڑے گنہگار ہیں، جو خوش وخرم ہیں‘‘ اصل حقیقت سے نادانی پر مبنی ہے۔
{لَا یَغُرَّنَّکَ تَقَلُّبُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فِیْ الْبِلَادِ مَتَاعٌ قَلِیْلٌ ثُمَّ مَأْوٰہُمْ جَہَنَّمُ وَبِئْسَ الْمِہَادُ} [آل عمران: ۱۹۶-۱۹۷]
{اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ اَتْقَاکُمْ} [الحجرات: ۱۳]
إن الأکرم عند اللّٰہ تعالیٰ والأرفع منزلۃ لدیہ عزوجل في الآخرۃ والدنیا ہو الأتقی۔ (روح المعاني زکریا ۱۴؍۲۴۴)
عن ابن مسعود رضي اللّٰہ عنہ {فَسَوْفَ یَلْقَوْنَ غَیًّا} قال: وادٍ في جہنم یُقذف فیہ الذین یتبعون الشہوات۔ (رواہ الطبراني، الترغیب والترہیب مکمل رقم: ۵۵۰۳) فقط واللہ تعالیٰ اعلم
کتبہ: احقر محمد سلمان منصورپوری غفرلہ ۳۰؍۴؍۱۴۳۳ھ
الجواب صحیح: شبیر احمد قاسمی عفا اللہ عنہ
5 months ago | [YT] | 3
View 0 replies
Masood ul Hasan
Aaj ki tarikh
5 months ago | [YT] | 3
View 0 replies
Masood ul Hasan
*حضرت غوثِ اعظمؒ کا دنیا کو دیکھنا ؟*
سوال(۷۹):- کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: حضرت غوث اعظمؒ کے بارے میں سنا جاتا ہے کہ آپ دنیا کو ایسے دیکھتے ہیں جیسے ہتھیلی پر رائی کا دانہ، اس کا ثبوت کہاں سے ہے؟ نیز غوث اعظم نے بارہ برس کی ڈوبی ہوئی بارات کو نکالا، جس میں لوگ زندہ تھے، یہ کہاں سے ثابت ہے؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: حضرت شاہ عبد القادر جیلانی ؒ (معروف بہ: غوث اعظم) کی طرف منسوب مذکورہ باتیں بے اصل اور غیر معتبر ہیں، اور کسی بھی مخلوق کے لئے خدائی صفات ثابت کرنا شرعاً جائز نہیں، یہ کھلا ہوا شرک ہے، اس سے اجتناب لازم ہے۔ (مستفاد: کفایت المفتی ۱؍۱۰۸) فقط واللہ تعالیٰ اعلم
کتبہ: احقر محمد سلمان منصور پوری غفر لہ ۳؍۶؍۱۴۲۴ھ
الجواب صحیح: شبیر احمد عفااﷲ عنہ
5 months ago | [YT] | 4
View 0 replies
Load more