I am an Ex Air Force Pilot enrolled in 1993 and left the AirForce in 1996 , I was always an AVIATION CADET
I have my expertise on Aviational incidents I select the ones i can talk about and give out a different point of view
Aircraft crashes and incidents are inevitable but should be diacussed keeping all the scenarios in mind
No one has ever recorded their initial journey how they got selected in the Pakistan Air Force so I will try to motivate the youth through my own story happened 30 years ago ! If I can make it to the AirForce as General Duty Fighter Pilot then everyone can do it ! So stay tuned


Aviation Cadet

This Pakistan Air Force J-10C (s/n 22-104) carries an Indian Air Force Mirage-2000 kill marking.
The Mirage-2000 was still climbing to its station when it ate a PL-15E. The wreckage landed on a school in the Wuyan area of Pampore, in Pulwama district, Jammu & Kashmir. i posted the video of the same boy landing in sauda a couple of days aago

6 days ago | [YT] | 1

Aviation Cadet

What a grea Nrration by Sir Khalid ! A lesson for ISSB Youngsters ! How sometimes orders are over personal emotions and judhments but compassion still exists ! What Flying Officer Qais did at that time was right and what he did after forty years is right too ! DO OR DIE BUT NEVER SAY WHY !

1 week ago | [YT] | 0

Aviation Cadet

6 sept 1994 ,,Aviation Cadet Hasan Faisal did Guard Mounting at Mizar e Quaid as a six month old one taper. Today Alhamdollilah he did it again but as A.o.C Academy . 32 years apart ! 99th GDP 🇵🇰🇵🇰🇵🇰🇵🇰🌹🌹🌹🌹❤️❤️❤️❤️😜

1 week ago | [YT] | 2

Aviation Cadet

ایئر کموڈور سید سجاد حیدر — پاک فضائیہ کے شاہین کی داستانِ شجاعت

ایئر کموڈور سید سجاد حیدر المعروف "نوزی حیدر" پاکستان ایئر فورس کے ان عظیم فائٹر پائلٹس میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی پیشہ ورانہ مہارت، بہادری اور قیادت سے تاریخ میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ وہ صرف ایک جنگی پائلٹ ہی نہیں بلکہ ایک مصنف، دفاعی تجزیہ کار، کالم نگار اور قومی معاملات پر گہری نظر رکھنے والی شخصیت بھی تھے۔ ان کی زندگی پاکستان ایئر فورس کی ترقی، جنگی تجربات اور ایک سپاہی کے اصولوں کی عکاسی کرتی ہے۔
سید سجاد حیدر کی پیدائش سرگودھا میں ہوئی، بعد میں ان کا خاندان بلوچستان منتقل ہو گیا جہاں انہوں نے اپنا بچپن گزارا۔ کوئٹہ میں تعلیم کے دوران جنگ عظیم دوم کے دوران آسمان پر فائٹر طیاروں کی لڑائیاں دیکھ کر ان کے دل میں پائلٹ بننے کا شوق پیدا ہوا۔ وہ محمد علی جناح سے بھی متاثر تھے اور پاکستان کے دفاع کے لیے فضائیہ میں شامل ہونے کا عزم رکھتے تھے۔ انہوں نے سینئر کیمبرج کے بعد فورمین کرسچن کالج میں تعلیم حاصل کی اور 1951 میں رائل پاکستان ایئر فورس کالج میں بطور فلائنگ کیڈٹ منتخب ہوئے۔
1953 میں انہوں نے پائلٹ تربیت مکمل کرکے رائل پاکستان ایئر فورس میں شمولیت اختیار کی۔ ابتدا میں انہوں نے ٹیمپسٹ فائٹر طیارے پر تربیت حاصل کی اور بعد میں پاکستان کے پہلے جیٹ اسکواڈرنز میں شامل ہوئے۔ اپنی غیر معمولی صلاحیتوں کی وجہ سے انہوں نے امریکہ میں F-86 Sabre فائٹر طیارے کی تربیت حاصل کی۔ وہ پاکستان ایئر فورس کی مشہور ایروبیٹک ٹیم "PAF Falcons" کا حصہ بھی رہے، جس نے 1958 میں 16 طیاروں کی فارمیشن لوپ کا عالمی ریکارڈ قائم کیا۔
1965 کی پاک بھارت جنگ میں سجاد حیدر نے نمبر 19 اسکواڈرن کے کمانڈر کی حیثیت سے اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے پٹھانکوٹ ایئر بیس پر مشہور فضائی حملے کی قیادت کی، جسے پاک فضائیہ کی اہم کارروائیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ان کی قیادت میں اسکواڈرن نے دشمن کے متعدد اہداف کو نشانہ بنایا اور اپنی جنگی مہارت کا مظاہرہ کیا۔ اگلے روز انہوں نے سری نگر ایئر فیلڈ پر بھی کارروائی کی۔ ان کی بہادری اور قیادت پر انہیں ستارہ جرأت سے نوازا گیا۔
1971 کی جنگ میں بھی انہوں نے پاک فضائیہ کی خدمات انجام دیں۔ اپنی پوری سروس کے دوران انہوں نے فائٹر آپریشنز، تربیت اور کمانڈ کے مختلف اہم عہدوں پر ذمہ داریاں نبھائیں۔ ان کا ترقیاتی سفر ایک شاندار فوجی کیریئر کی مثال ہے۔ وہ 1953 میں پائلٹ آفیسر بنے، 1963 میں اسکواڈرن لیڈر، 1967 میں ونگ کمانڈر، 1971 میں گروپ کیپٹن اور 24 مارچ 1976 کو ایئر کموڈور کے عہدے پر ترقی پائی۔
سجاد حیدر نہ صرف ایک پائلٹ بلکہ ایک مصنف بھی تھے۔ ان کی مشہور کتاب "Flight of the Falcon: Demolishing Myths of Indo-Pak Wars 1965 & 1971 – Story of a Fighter Pilot" 2009 میں شائع ہوئی، جس میں انہوں نے اپنی جنگی یادداشتیں، فضائی جنگوں کے تجربات اور تاریخی واقعات پر اپنا نقطۂ نظر پیش کیا۔ اس کتاب کا اردو ترجمہ "شاہین کی پرواز" کے نام سے بھی شائع ہوا۔
اپنے طویل کیریئر کے دوران انہیں کئی اعزازات حاصل ہوئے، جن میں گولڈن ایگل ایوارڈ، کیٹرپلر کلب، ستارہ جرأت، تمغہ دفاع، ستارہ حرب 1965 و 1971، تمغہ جنگ 1965 و 1971 اور دیگر قومی اعزازات شامل ہیں۔ انہیں 3000 سے زائد فلائنگ آورز مکمل کرنے والے تجربہ کار پائلٹ کے طور پر بھی اعزاز حاصل تھا۔
1970 کی دہائی میں انہیں مختلف سازشوں اور الزامات کا سامنا بھی کرنا پڑا، تاہم بعد میں کئی الزامات بے بنیاد ثابت ہوئے۔ 1980 میں انہوں نے پاک فضائیہ سے ریٹائرمنٹ لے لی۔ بعد ازاں انہوں نے ایوی ایشن اور دفاعی شعبے میں کام کیا اور "Cormorant" نامی کمپنی قائم کی۔ وہ آخری وقت تک دفاعی معاملات پر لکھتے اور تجزیہ کرتے رہے۔
ایئر کموڈور سید سجاد حیدر کی شخصیت ایک بہادر فائٹر پائلٹ، اصول پسند افسر اور تاریخ کے طالب علم کی حیثیت سے ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔ ان کی زندگی پاکستان ایئر فورس کے لیے قربانی، پیشہ ورانہ مہارت اور حب الوطنی کی ایک روشن مثال ہے۔ ان کا انتقال 3 جنوری 2025 کو اسلام آباد میں 92 سال کی عمر میں ہوا۔
تحریر: عامر اعوان
#AirCommodoreSajadHaider
#PakistanAirForce
#PAFHistory
#FlightOfTheFalcon
#LegendaryFighterPilot
#PakistanDefence
#1965WarHero
#1971WarHistory
#PAFFalcons
#ShaheenKiParwaz

2 weeks ago | [YT] | 2

Aviation Cadet

It was future Russian Vice President that was shot down by Sqd.Ldr Athar Bukhari. Pakistan Air Force defended its airspace by shooting down multiple Soviet, a Super Power and thier puppet Afghan jets that violated borders. A few Afghan pilots surrendered in the air and defected.

2 weeks ago | [YT] | 3

Aviation Cadet

An F-104B flown by Flight Lieutenant Aftab Alam Khan of No 9 Squadron at Sargodha AB, on a high speed reconnaissance mission over Halwara, on 9 September 1965.

In the environment of the India-Pakistan War, the low-speed RT-33 photo reconnaissance fleet of the PAF was rendered obsolete, for missions deep into enemy territory, and over heavily defended targets.

There was an urgent requirement to survey the enemy concentration at the forward airfields and to observer the effectiveness of PAF's B-57 night bombing raids. To fulfill this need, the PAF immediately employed the F-104B. The rear seat observer operated a hand held camera and made visual observations; in this case it was Squadron Leader M. L Middlecoat.

En route the aircraft was flown at tree top level, at a speed of 600 knots. Approaching the target the aircraft was accelerated to a speed greater than Mach 1. In this way the high speed capability of Starfighter was fully exploited. This was the first time such a profile was flown by a F-104 pilot. The mission was so successful that it was later repeated several times.

© Gp Capt S M A Hussaini

2 weeks ago | [YT] | 1

Aviation Cadet

فلائنگ آفیسر سائرہ بتول — پاکستان کی پہلی خواتین فائٹر پائلٹس میں شامل ایک تاریخ ساز نام

پاکستان ایئر فورس کی تاریخ میں سال 2006 ایک یادگار سال تھا، جب پہلی مرتبہ پاکستانی خواتین نے جنگی طیاروں کے پائلٹ بننے کا اعزاز حاصل کیا۔ ان بہادر خواتین میں فلائنگ آفیسر سائرہ بتول بھی شامل تھیں، جنہوں نے اپنی محنت، عزم اور حوصلے سے یہ ثابت کیا کہ آسمانوں کی حفاظت صرف مردوں کی ذمہ داری نہیں بلکہ خواتین بھی دفاعِ وطن میں اپنا کردار ادا کر سکتی ہیں۔

ابتدائی زندگی اور خواب

سائرہ بتول کا تعلق پاکستان کی ہزارہ برادری سے ہے۔ بچپن ہی سے ان میں نظم و ضبط، محنت اور ملک کی خدمت کا جذبہ موجود تھا۔ ایک ایسے معاشرے میں جہاں فوجی پائلٹ بننا ایک مشکل اور غیر معمولی راستہ سمجھا جاتا تھا، سائرہ نے اس خواب کو حقیقت بنانے کا فیصلہ کیا۔
پاکستان ایئر فورس میں شامل ہونا ان کے لیے صرف ایک پیشہ نہیں بلکہ وطن کی خدمت کا عزم تھا۔

پاکستان ایئر فورس میں تاریخی قدم

2003 میں پاکستان ایئر فورس نے خواتین کو پائلٹ ٹریننگ کے پروگرام میں شامل کرنے کا آغاز کیا۔ اس پروگرام کا مقصد خواتین کو بھی فضائیہ کے مختلف شعبوں میں مواقع فراہم کرنا تھا۔
کئی سال کی سخت تربیت کے بعد مارچ 2006 میں پاکستان ایئر فورس اکیڈمی رسالپور سے پہلی چار خواتین پائلٹس نے کامیابی سے تربیت مکمل کی:

فلائنگ آفیسر سائرہ بتول

فلائنگ آفیسر صبا خان

فلائنگ آفیسر نادیہ گل

فلائنگ آفیسر مریم خلیل

یہ تمام خواتین 36 ایوی ایشن کیڈٹس کے بیچ کا حصہ تھیں، جنہوں نے تقریباً ساڑھے تین سال کی سخت فلائنگ ٹریننگ مکمل کی۔

سخت تربیت کا سفر

فائٹر پائلٹ بننا دنیا کے مشکل ترین پیشوں میں شمار ہوتا ہے۔ سائرہ بتول نے بھی اپنے مرد ساتھی کیڈٹس کے ساتھ سخت جسمانی، ذہنی اور تکنیکی تربیت حاصل کی۔
انہوں نے ابتدائی تربیت:
✈️ MFI-17 Super Mushshak
✈️ T-37 جیٹ طیارے
پر حاصل کی۔
ٹریننگ کے دوران انہیں فلائنگ کے ساتھ ساتھ:

ایروڈائنامکس

ایئر کرافٹ سسٹمز

نیویگیشن

ایئر فائٹنگ کے بنیادی اصول

جسمانی فٹنس

جیسے مراحل سے گزرنا پڑا۔
پاکستان ایئر فورس کے حکام نے بھی اس بات پر زور دیا کہ خواتین کی تربیت مرد کیڈٹس کے برابر معیار کے مطابق کی گئی اور کامیابی صرف میرٹ کی بنیاد پر دی گئی۔

ونگ حاصل کرنے کا تاریخی لمحہ

رسلپور میں منعقدہ پاسنگ آؤٹ پریڈ میں سائرہ بتول اور ان کی ساتھی خواتین پائلٹس نے فلائنگ بیجز حاصل کیے۔ اس تقریب میں اعلیٰ فوجی قیادت، خاندانوں اور سفارتی نمائندوں نے شرکت کی۔
سائرہ بتول نے اس موقع پر اپنی کامیابی کو والدین کی دعاؤں، اساتذہ کی رہنمائی اور اللہ تعالیٰ کے فضل کا نتیجہ قرار دیا۔

خواتین کے لیے نئی راہ

سائرہ بتول اور ان کی ساتھی پائلٹس نے پاکستان میں ایک نئی تاریخ رقم کی۔ ان سے پہلے پاکستان ایئر فورس میں خواتین زیادہ تر میڈیکل، انجینئرنگ، ایئر ٹریفک کنٹرول اور انتظامی شعبوں میں خدمات انجام دیتی تھیں، لیکن ان خواتین نے فضائی جنگی شعبے کا راستہ کھولا۔
بعد میں پاکستان ایئر فورس کی مزید خواتین پائلٹس نے فائٹر طیاروں کی تربیت حاصل کی، جن میں فلائٹ لیفٹیننٹ عائشہ فاروق بھی شامل ہیں، جو بعد میں پہلی پاکستانی خاتون فائٹر پائلٹ بنیں جنہوں نے آپریشنل فائٹر کوالیفکیشن حاصل کی۔

سائرہ بتول کا ورثہ

فلائنگ آفیسر سائرہ بتول کا نام پاکستان کی ایوی ایشن تاریخ میں ہمیشہ ایک ایسے کردار کے طور پر یاد رکھا جائے گا جس نے آنے والی نسلوں کے لیے راستے کھولے۔
ان کی کہانی صرف ایک خاتون پائلٹ کی کہانی نہیں بلکہ اس عزم کی مثال ہے کہ محنت، ہمت اور جذبہ ہو تو انسان کسی بھی میدان میں کامیابی حاصل کر سکتا ہے۔
فلائنگ آفیسر سائرہ بتول — پاکستان کے آسمانوں کی پہلی محافظ خواتین میں سے ایک، ایک تاریخ ساز پائلٹ۔

تحریر: عامر اعوان

#SairaBatool #PakistanAirForce #PAF #FemalePilot #PakistanHeroes #AviationHistory #WomenInAviation #ShaheenEPakistan

2 weeks ago | [YT] | 2

Aviation Cadet

Remembering Cecil Chaudhry; Born 27 August 1941

He was the son of FE Chaudhry, a former science teacher and Pakistan’s first photo-journalist. After attending St Anthony's High School in Lahore, he pursued a BS in physics at the Forman Christian College and then joined the Pakistan Air Force Academy in 1958.

A veteran fighter pilot, he served the Pakistan Air Force with distinction and took part in the 1965 War as a Flight Lieutenant and later fought in the 1971 war as a Squadron Leader.

But his contribution to Pakistan did not end with his military career. He went on to become an educationalist, serving as the principal of St. Anthony's College for fourteen years and then the principal of Saint Mary's Academy, Lalazar, Rawalpindi.

Cecil Chaudhry also served in Catholic Missionary School of Lahore Dioceses and used to take active part in social uplift of Christians in Pakistan.

On his birth anniversary, we remember a man who served Pakistan in more than one way.

Cecil Chaudhry - a soldier, an educator and a voice for human dignity.

#CecilChaudhry #PAF

2 weeks ago | [YT] | 2

Aviation Cadet

Happy #independance day to all #paf zinfabad #Pakistan payendabad ! 🇵🇰🌹❤️🌹🇵🇰🌹🌹🇵🇰🌹❤️🌹🇵🇰

1 month ago | [YT] | 4

Aviation Cadet

Alhamdollilah 3 more from 99th GDP have been promoted to two star ranks , along with 1 from 97th and 98th and 100th GDP respectively and our Hero of Operation Maarka e Haq AirDefence planner from 99th GDP too. two from 44th E.C have been promoted too to Air Vice Marshal ranks as of August 5th 2026 ! May you have more to come , keep serving Pakistan at your best capcity ! Second to None ! Pakistan Air Force Zindabad and Pakistan always Payendabad ! ❤️🇵🇰❤️🇵🇰❤️🇵🇰

1 month ago | [YT] | 5