This video shows the real hard work of labor workers making bricks in a factory.
They use molds and wet clay mixture to create bricks manually.
Respect to all workers who do such मेहनत every day to earn their livelihood. 💪
👉 Like, Share & Follow for more real-life videos
#BrickMaking #HardWork #LaborLife #FactoryWork #VillageLife #RealLife #WorkProcess#bababrand#imrankhanpti#subscribetomychannelpawarholakhalidhobijatimere #subscribetomychannel #pawarholakhalidhobijatimere imrankhan#raleez Imran Khan #jutt🇧🇫84#welcome welcome#p4pakao#Aladdi WhatsApp number 03044946865
Baba Brand
جو بات آج میں لکھنے والا ہوں وہ کوئی اخبار نہیں چھاپے گا، کوئی ٹی وی چینل نہیں دکھائے گا، کوئی سرکاری اینکر نہیں بولے گا — کیونکہ یہ سچ ہے، اور اس ملک میں سچ بولنا سب سے خطرناک کام بن چکا ہے۔ 👇🇵🇰
1940 کی بات ہے۔ لاہور کا منٹو پارک۔ مارچ کی سرد رات میں لاکھوں انسان جمع تھے — ننگے پاؤں، خالی پیٹ، پھٹے کپڑے — لیکن آنکھوں میں ایسی آگ تھی جو سلطنتوں کو جلا دیتی ہے۔ یہ وہ لوگ تھے جو صدیوں سے غلام تھے — پہلے مغل دربار کے، پھر ایسٹ انڈیا کمپنی کے، پھر برطانوی تاج کے۔ انہوں نے غلامی کو اتنا قریب سے دیکھا تھا کہ وہ جانتے تھے آزادی کی قیمت کیا ہوتی ہے۔ اُس رات قرارداد پاکستان پاس ہوئی — اور دنیا کی تاریخ میں پہلی بار ایک قوم نے اپنے لیے نہیں، اپنی آنے والی نسلوں کے لیے جینے کا فیصلہ کیا۔ وہ فیصلہ خون سے لکھا گیا — سیاہی سے نہیں۔
1947 میں جب پاکستان بنا تو یہ صرف نقشے پر لکیر نہیں کھینچی گئی تھی — یہ لکیر انسانی جسموں پر کھینچی گئی تھی۔ تاریخ کی سب سے بڑی انسانی ہجرت — ڈیڑھ کروڑ لوگ، ایک طرف سے دوسری طرف۔ وہ ٹرینیں جو روانہ ہوئیں، واپس آئیں تو ان میں صرف لاشیں تھیں۔ وہ راستے جہاں بچے بچھڑے، بوڑھے گرے، عورتوں کی عزتیں لٹیں — اُن راستوں کی مٹی آج بھی خون کی بو دیتی ہے۔ 20 لاکھ انسان شہید ہوئے۔ 20 لاکھ۔ یہ صرف ایک عدد نہیں — یہ 20 لاکھ خواب تھے، 20 لاکھ مائیں تھیں، 20 لاکھ بچے تھے۔ انہوں نے یہ سب اس لیے قبول کیا کہ اُن کے بعد آنے والے — یعنی ہم — آزادی میں جئیں۔
علامہ اقبال نے جب پاکستان کا خواب دیکھا تھا تو انہوں نے کہا تھا — ایک ایسی ریاست جہاں قانون سب کے لیے برابر ہو، جہاں غریب کا بچہ بھی وزیر بن سکے، جہاں انسان کی عزت اس کے نام یا خاندان سے نہیں بلکہ اس کے کردار سے ناپی جائے۔ لیکن آج پاکستان کا قانون دیکھیں — ایک غریب نے بکری چرائی تو تین سال جیل، ایک وزیر نے کروڑوں لوٹے تو ضمانت پر باہر۔ ایک عام آدمی کے گھر بجلی کا بل پچاس ہزار آیا تو گھر بکا، ایک سرکاری افسر نے کروڑوں کی گاڑی خریدی تو صرف تبادلہ ہوا۔ اقبال کا خواب آج بھی زندہ ہے — لیکن صرف کتابوں میں، اسکولوں کے نصاب میں — عمل میں نہیں۔
انگریز گئے لیکن غلامی نہیں گئی — بس اس کا چہرہ بدل گیا۔ آج پاکستان پر ایک سو تیس ہزار ارب روپے سے زیادہ کا قرض ہے۔ ہر پاکستانی بچہ — جو ابھی ماں کی کوکھ میں ہے — پیدا ہوتے ہی ڈیڑھ لاکھ روپے کا مقروض ہے۔ اس نے کچھ نہیں لیا، کچھ نہیں کھایا، کوئی محل نہیں بنایا — لیکن قرض اس کے نام ہے۔ ہمارے بجٹ کا پینتیس فیصد صرف سود میں جاتا ہے — تعلیم میں نہیں، صحت میں نہیں، سڑکوں میں نہیں — صرف اُن قرضوں کے سود میں جو ہم نے نہیں لیے، لیکن ادا ہم کریں گے۔ یہ غلامی کا نیا چہرہ ہے — زنجیریں نظر نہیں آتیں لیکن قدم نہیں اٹھتے۔
پاکستان میں آج تین کروڑ بچے اسکول سے باہر ہیں۔ تین کروڑ۔ یہ تعداد آسٹریلیا کی پوری آبادی سے زیادہ ہے۔ یہ بچے سڑکوں پر ہیں، کھیتوں میں ہیں، بھٹوں میں ہیں، ہوٹلوں میں برتن مانج رہے ہیں — لیکن کلاس روم میں نہیں۔ ادھر ایک وزیر کا بچہ لندن کی یونیورسٹی میں پڑھتا ہے — سرکاری پیسے سے، عوامی ٹیکس سے۔ جب کوئی قوم اپنے بچوں کو تعلیم نہیں دیتی تو وہ قوم نہیں رہتی — بھیڑ بن جاتی ہے۔ اور بھیڑوں کو ہمیشہ چرواہے ملتے ہیں — چاہے وہ چرواہے واشنگٹن میں بیٹھے ہوں یا اسلام آباد میں۔
آج 23 مارچ کو لاہور میں شاندار پریڈ ہو گی۔ جیٹ طیارے اڑیں گے، گاڑیاں دوڑیں گی، پھول برسائے جائیں گے۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں — پنجاب حکومت نے گزشتہ چند مہینوں میں ڈیڑھ ارب روپے سے زیادہ کی لگژری گاڑیاں خریدی ہیں؟ ٹریفک پولیس کی نئی وردیاں بنائی گئیں — ایک ارب روپے میں؟ یہ پیسہ کہاں سے آیا؟ اُسی عوام سے جو بجلی کا بل بھرنے کے لیے بچوں کے گہنے بیچ رہی ہے۔ اُسی عوام سے جو آٹے کی لائن میں کھڑی ہے۔ اُسی عوام سے جس کا بچہ سرکاری ہسپتال میں دوائی کے بغیر مرتا ہے۔ پریڈ خوبصورت ہوتی ہے — لیکن بھوکے پیٹ پر خوبصورتی نہیں دکھتی۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کا چیئرمین کوئی کرکٹر نہیں، کوئی ماہر نہیں — بلکہ وہ شخص ہے جسے سیاسی انعام کے طور پر یہ عہدہ ملا۔ نتیجہ؟ پاکستان بنگلہ دیش سے ہارا — بنگلہ دیش سے! وہ ملک جو کبھی ہمارا حصہ تھا، جو کرکٹ میں ہم سے سیکھتا تھا — آج ہمیں ہرا رہا ہے۔ ابرار احمد جیسے باصلاحیت کھلاڑی انگلینڈ کی لیگ میں کھیلتے ہیں کیونکہ پاکستان میں اہلیت نہیں، سفارش دیکھی جاتی ہے۔ یہ صرف کرکٹ کی بات نہیں — یہ ہر ادارے کی کہانی ہے — جہاں اہل کو ہٹایا جاتا ہے اور چہیتوں کو بٹھایا جاتا ہے۔
آج 23 مارچ پر ایک بات اور — جو ہر دل میں ہے لیکن بہت کم زبانوں پر آتی ہے۔ پاکستان کا سب سے مقبول لیڈر — جسے کروڑوں لوگوں نے ووٹ دیا — آج اڈیالہ جیل میں ہے۔ اس پر دو سو سے زیادہ مقدمے ہیں۔ لیکن وہ لوگ جن پر NRO ہوئے، جن پر کرپشن ثابت ہوئی، جن کے خاندانوں کے لندن میں محلات ہیں — وہ آج اقتدار میں ہیں، پروٹوکول میں ہیں، پریڈ میں ہیں۔ میں کسی کی حمایت یا مخالفت نہیں کر رہا — میں صرف ایک سوال کر رہا ہوں: کیا یہ وہ انصاف ہے جس کے لیے 20 لاکھ لوگ مرے تھے؟
لیکن یہاں رکیں۔ مایوسی میں ڈوبنے سے پہلے ایک بات سنیں۔ پاکستان ابھی زندہ ہے — اُس ڈاکٹر میں جو بلوچستان کے دور دراز گاؤں میں بغیر پروٹوکول کے مریض دیکھتا ہے۔ اُس استاد میں جو کچے اسکول میں بیٹھ کر مستقبل بناتا ہے۔ اُس نوجوان انجینئر میں جو باہر جانے کی بجائے یہاں رہ کر اپنی قوم کو کچھ دینا چاہتا ہے۔ اُس کسان میں جو سیلاب کے بعد ٹوٹے ہوئے کھیت میں پھر بیج بوتا ہے۔ اُس ماں میں جو غربت کے باوجود اپنی بیٹی کو پڑھاتی ہے۔ یہی اصل پاکستان ہے — یہ حکومتوں میں نہیں، عوام میں زندہ ہے۔
تو آج 23 مارچ پر آپ سے ایک گزارش ہے — صرف جھنڈا لگانے سے حب الوطنی پوری نہیں ہوتی۔ صرف “پاکستان زندہ باد” لکھنے سے فرض ادا نہیں ہوتا۔ اصل حب الوطنی یہ ہے کہ ظلم کے سامنے خاموش نہ رہو۔ اصل حب الوطنی یہ ہے کہ اپنے بچوں کو سچ بتاؤ — جھوٹی تاریخ نہیں۔ اصل حب الوطنی یہ ہے کہ اپنا ووٹ بیچو مت — یہ تمہاری سب سے بڑی طاقت ہے۔ اصل حب الوطنی یہ ہے کہ احتساب مانگو — ہر اُس شخص سے جو قوم کا پیسہ کھاتا ہے۔ کیونکہ وہ 20 لاکھ شہید جو 1947 میں راستوں پر مرے تھے — انہوں نے تمہاری خاموشی کے لیے جانیں نہیں دی تھیں۔ انہوں نے تمہاری آواز کے لیے جانیں دی تھیں۔ آج وہ آواز بلند کرو۔
🇵🇰 پاکستان زندہ باد — نہ صرف زبان سے، بلکہ سچ سے، حوصلے سے، اور عمل سے۔
1 month ago | [YT] | 0
View 0 replies
Baba Brand
New naat ke liye search Karen Hamari ID
5 months ago | [YT] | 1
View 0 replies