اناللہ وانا الیہ راجعون موت العالم موت العالم مفتی عبدالواحد قریشی صاحب کے استاذ محترم"شیخ الحدیث حضرت مولانا احمد یار خان صاحب " مہتمم جامعہ عثمانیہ خان گڑھ انتقال فرما گئے
انکی نماز جنازہ آج دن 11 بجے کو انکے آبائی علاقے فٹ بال گراؤنڈ خان گڑھ ضلع مظفر گڑھ میں ادا کی جائے گی
حضرت مولانا احمد یار خان رحمۃ اللہ تعالی علیہ مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمود نور اللہ مرقدہ کے قریبی شاگرد سے تھے #muftiabdulwahidqureshi
✍️ یہ فقط ہماری رائے ھے 📍آپ اتفاق یا اختلاف کرسکتے ہیں
📍ایران، امریکہ اسر*ئیل مابین مذاکرات ممکنہ طور پہ پاکستان کی ثالثی میں اسلام آباد منعقد ہو رہے. ⚠️ اس معاہدہ امن کے حوالے سے بطور پاکستانی میری تجویز ہے ریاست پاکستان ہر فریق سے دس دس ارب ڈالر بیعانہ بطور زر ضمانت لے. پھر جو فریق معاہدہ کی خلاف ورزی کرے اس کا بیعانہ بحق سرکارضبط لیا جائے
🔥 ہر تین فریق کی رقم پاکستانی ریاستی سرکاری بینک میں اگلے دس سال پڑی رہے ۔ تاکہ کبھی کوئی فریق جارحیت یا خلاف ورزی کی کوشش نا کرے ۔ اس طرح بین الاقوامی امن کی تادیر ضمانت دی جا سکتی ہے. #muftiabdulwahidqureshi
قاتل عمار کون ؟ مصنف مفتی عبدالواحد قریشی صاحب مدظلہ راقم کی کتاب مذکور کے متعلق رائے
بسم اللہ الرحمن الرحیم تمام تعریفات اس قادر مطلق کیلئے جس نے ہر شر میں خیر کے پہلو پوشیدہ رکھا اور تمام تر صلوہ سلام اس آخری مہبط وحی محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم پر جن کے ذریعہ سلسہ نبوت اپنے کمال واختتام کو پہنچا ۔ عصر حاضر کے معروف نزاعی مسائل میں سے جس نے عقلوں کو چکرا کر رکھ دیا اور جھال نے اس پر وہ اودھم مچا رکھا ہے کہ بس رہے نام اللہ کا ۔وہ ہماری گزشتہ تقریبا 26 نسلوں سے بھی پہلے گزرنے والے واقعات پر نئ عدالتیں قائم کرکے حق وباطل کے فیصلہ کرنے کی روش ہے جس میں امت مسلمہ کی ان مقدس اور معتبر ہستیوں کو مجرمانہ کٹہرے میں کھڑا کرنے کی جسارت کی جارہی ہے جن کا تمام معاملات خدائی عدالت سے فیصلہ پا چکے ہیں ۔ تاریخ کی ان مظلوم ترین ہستیوں میں ایک سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما ہیں جن کو یزید کا باپ ہونے کے پاداش میں آج تک سلطنت فارس کے مکروہ بل ڈاگز نے سینگوں پر اٹھا رکھا ہے رہی سہی کسر امت مسلمہ میں رینڈ کارپوریشن کے چند ہرکاروں نے پوری کردی جن کے ہاتھ بخاری شریف کی حدیث نمبر 2812 ایسے لگی کہ گویا کھیل کود اور ماضی کی حسین شبیہ بگاڑنے کیلئے ان کے ہاتھ کوئ قارون کا خزانہ لگ گیا ایسے حالات میں ہر عالم پر ضروری تھا اپنا علم ظاہر کرے اور آل واصحاب رسول علیھم الرضوان کی عزت وناموس کا دفاع کرے سو ایسے وقت میں ہمارے برادر عزیز معروف عالم دین جناب مفتی عبد الواحد قریشی صاحب حفظہ اللہ نے قلم اٹھایا اور ایک علمی شاھکار تصنیف کیا جس کے بارے بلاجھجک کہا جاسکتا ہے کہ مولنا نے عصر حاضر کی اس دماغی الرجی کا بہت حد تک کافی و شافی علاج فرما دیا ہے اس کتاب کے مارکیٹ میں آتے ہی دشمنان اصحاب کا چین بجبین ہونا تو سمجھ میں آتا تھا مگر بہت سے وہ احباب جو عقیدہ و نظریہ میں موصوف مصنف کے ہم عقیدہ تھے مگر حب اہل بیت کے عنوان سے شاید وہ رفض سے اس حد تک مر عوب تھے کہ ان پر بھی سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا دفاع بہت گراں گزرا اور انہوں نے اسے سیدنا علی کرم اللہ وجہہ کی تنقیص پر محمول کیا جس سے مصنف کا قلم اور عقیدہ الحمد اللہ پاک ہے کیونکہ اس کتاب پر تبصرہ کرنا سرسری مطالعہ سے نامناسب تھا اس لیے راقم نے اولا مکمل کتاب کا حرف بحرف مطالعہ کیا ۔ اس میں اصحاب واہل بیت کے حوالہ سے ایک ایسا اجلا اور محبت پر مبنی موقف پیش کیا گیا ہے کہ اہل ایمان کے دلوں کو تازگی بخشتا ہے اور سبائ طبقہ کی سال ہا سال کی تفریق بین آلال و الاصحاب کی زہر کیلئے کار تریاقی کا منظر پیش کررہا ہے جس سے اس سبائ طبقہ کا موئے آتش دیدہ کی طرح بل کھانا سمجھ میں آتا ہے فاضل مصنف نے اس کتاب میں سب سے اہم کارنامہ یہ سر انجام دیا کہ بغاوت کے الزامات کا نشانہ بننے والی ہستی سے ہی بات شروع نھیں کی بلکہ مبداء بغاوت یعنی شہادت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے بات کو شروع کیا جس سے مقدمہ کی تفھیم اہل فھم کیلئے آسان ہوگئ اہل بغاوت (فئۃ الباغیہ) جن کی ایک نشانی قتل عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ ہے اور اسے ہی ہمیشہ ہائ لائٹ کر کے دھوکہ کی دوکان چلائ جاتی ہے فاضل مصنف نے اپنی کتاب قاتل عمار کون ص 17سے 47 تک مکمل شرح وبسط کے ساتھ ان کی دس علامات مدلل بیان کردیں تاکہ دل میں دیانت اور آنکھ میں شرافت کا پانی رکھنے والی آنکھ سبائ پروپیگنڈے سے متاثر ہوئے بغیر فیصلہ کر سکے کہ باغی کون تھا اور کیا سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو ان فئہ باغیہ کے سرکشوں میں شمار کیا جاسکتا ہے ۔ اس کتاب پر بہت سے اہل علم کے تبصرے بھی پڑھنے کو ملے اور اہل عناد کے بھی جن میں سے ایک تبصرہ تو یہ تھا کہ فاضل مصنف نے ضعیف اور کمزور احادیث سے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا مقدمہ لڑا ہے لیکن افسوس کے یہی حضرات دشمنان اصحاب واہل بیت کی پیش کردہ تاریخی پھلجڑیوں پر آنکھیں بند کر کے ایمان لے آتے ہیں جب وہ سیدنا معاویہ کے خلاف ہوں لیکن اگر کسی کمزور سند کی روایت سے ایک صحابی رسول کی عزت محفوظ ہوتی تو ان کا ذوق تحقیق اس بات کو قبول کرنے کا روادار نھیں ہوتا مصنف نے اپنی کتاب میں کہیں بھی اپنی طرف سے کوئ نیا موقف پیش کرنے کی جسارت نھیں کی بلکہ سلف صالحین کے اقوال و آراء سے اپنے مقدمہ کو مبرھن کیا اور حدیث وتاریخ اور علم الکلام کی ایسی معروف ومستند ہستیوں کو بطور گواہ کے لائے ہیں کہ سوائے ضدی انسان کے کسی بھی شخص کیلئے یہ ماننا مشکل نھیں رہتا کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین جانبین عنداللہ ماجور ہیں اور یہ سب سانحہ وہ پیش آنے والا یقینی واقعہ تھا جسے بہرحال ہونا تھا کہ اس کی خبر کائنات کی سب سے سچی زبان نے دی تھی لیکن سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی سیاسی بصیرت نے دم عثمان پر قصاص کے مطالبہ میں جو اجتہادی عجلت کا مظاہرہ فرمایا اس کے پیچھے بھی کوئ بد نیتی نھیں تھی بلکہ اسلامی ریاست کو ایسے شریر عناصر سے جو خلیفہ وقت پر ہاتھ اٹھا سکتے ہو ان سے پاک کرنا تھا اس اجتہادی معاملہ کی وجہ سے جنگ صفین کا سانحہ پیش آیا اس کتاب میں دشمن کی مکروہ چالبازیوں کو واضح کیا گیا ہے کہ کس طرح وہ اسلامی لشکر کو باھم دست وگریباں کرنے کی پالیسی پر کار بند تھے اس کیلئے ذرا ان تین اصحاب جو جنگ سے پیچھے رہ گئے تھے اور ان سے بحکم رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم امت نے سوشل بائیکاٹ کیا تھا لیکن چند دن بائیکاٹ کے گزرنے کے بعد حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس بازنطینی جاسوس کا اپنے بادشاہ کا خط لیکر پہنچنا اور انھیں دعوت ارتداد دینا یہ سمجھنے کیلئے کافی ہے کہ اسلام کے اس نوزائیدہ ریاستی مرکز اور آخری وحتمی دین کو تباہ وبرباد کرنے کیلئے دشمن کے جاسوس اور ان کی گہری نظریں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ہی میں مدینہ پر پیوست تھیں تو پھر اس سارے سانحہ میں دشمن طاقتوں کی خفیہ ریشہ دوانیوں اور اعلانیہ خروج کرونے والے اور خلیفہ برحق کو شہید کرنے والوں کو کلین چٹ دے کر ایک صحابی رسول کے کھاتے میں سارا مقدمہ کیسے ڈالا جاسکتا ہے ایک چیز کی کتاب میں بہت تشنگی محسوس ہوئی کہ لگے ہاتھ شرائط صلح پر بھی کچھ رہنمائ کردی جاتی کیونکہ فئۃ الباغیہ اور شرائط صلح حسن یہ موضوع عموماً اکٹھا ہی ڈسکس ہوتا ہے مصنف سے اس بارے درخواست کی تو معلوم ہوا اسی کتاب کی طبع ہفتم میں 40 سوالات کے جوابات آرہے ہیں جن میں یہ تشنگی بھی دور کر دی گئ ہے کیونکہ اصل میں اس موضوع پر اصل کتاب جس کانام ہے
الفیض المدرار فی تحقیق حدیث عمار المعروف بہ جضرت عمار رضی اللہ عنہ اور حدیثی حقائق عنقریب چھپ رہی ہے اور یہ مذکورہ کتاب اس کا ایک باب ہے جسے فوری ضرورت کے تحت الگ سے شائع کیا گیا ہے اللہ کرے کہ کتاب مذکور اور لوگو میں حسین ہوں جلد زیور طباعت سے آراستہ ہو کر منصہ شہود پر نمودار ہوں لہذا یہ کتاب ان شاء اللہ سرمہ بصیرت ہے ہر اس شخص کیلئے جو مرنے سے پہلے اپنے دل کو اتباع سنت میں صحابہ کے بارے سلیم الصدر بنانا چاہتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کے متعلق شکایت نھیں سنتے تھے کہ میں اللہ کے دربار میں اس جماعت کے متعلق صاف سینے کے ساتھ حاضر ہونا چاہتا ہوں اگر کسی کے دل میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے متعلق کوئ غبار ہے یا حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے کچھ خفگی ہے تو یہ کتاب اس کیلئے آب شفاء ہوگی ان شاءاللہ عصر حاضر کی اس منہ زور اسلاف بیزاری کی آندھی میں یہ کتاب قاتل عمار کون ؟ہر مسجد مکتب اور ہر صاحب مطالعہ کے زیر مطالعہ ہونی چاہیے یہ کتاب اس قابل ہے کہ اسے قارئین کا وسیع حلقہ میسر آئے فاضل مصنف نے بہت عمدہ انداز میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی عزت کا دفاع کیا ہے اللہ تعالیٰ مصنف کی عزت کو کسی بھی نظر بد سے محفوظ فرمائے اور اس کوشش کو ذخیرہ آخرت بنائے راقم الحروف اس کتاب کو انتہائ مفید اور نافع سمجھتا ہے واللہ اعلم باالصواب محمد رضوان عزیز (رئیس قسم التخصص فی علوم ختم النبوہ) مدیر دارالعلوم ختم نبوت عارف والا 30رمضان المبارک 1447 ھجری بمطابق 20 مارچ 2026 یوم الجمعہ +923001355147 ▶️ Muhammad Rizwan Aziz
Mufti Abdul Wahid Qureshi Speeches
اناللہ وانا الیہ راجعون موت العالم موت العالم
مفتی عبدالواحد قریشی صاحب کے استاذ محترم"شیخ الحدیث
حضرت مولانا احمد یار خان صاحب " مہتمم جامعہ عثمانیہ خان گڑھ انتقال فرما گئے
انکی نماز جنازہ آج دن 11 بجے کو انکے آبائی علاقے فٹ بال گراؤنڈ خان گڑھ ضلع مظفر گڑھ میں ادا کی جائے گی
حضرت مولانا احمد یار خان رحمۃ اللہ تعالی علیہ مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمود نور اللہ مرقدہ کے قریبی شاگرد سے تھے
#muftiabdulwahidqureshi
1 week ago | [YT] | 601
View 23 replies
Mufti Abdul Wahid Qureshi Speeches
✍️ یہ فقط ہماری رائے ھے
📍آپ اتفاق یا اختلاف کرسکتے ہیں
📍ایران، امریکہ اسر*ئیل مابین
مذاکرات ممکنہ طور پہ پاکستان کی ثالثی میں اسلام آباد منعقد ہو رہے.
⚠️ اس معاہدہ امن کے حوالے سے بطور پاکستانی میری تجویز ہے ریاست پاکستان ہر فریق سے دس دس ارب ڈالر بیعانہ بطور زر ضمانت لے. پھر جو فریق معاہدہ کی خلاف ورزی کرے اس کا بیعانہ بحق سرکارضبط لیا جائے
🔥 ہر تین فریق کی رقم پاکستانی ریاستی سرکاری بینک میں اگلے دس سال پڑی رہے ۔ تاکہ کبھی کوئی فریق جارحیت یا خلاف ورزی کی کوشش نا کرے ۔ اس طرح بین الاقوامی امن کی تادیر ضمانت دی جا سکتی ہے.
#muftiabdulwahidqureshi
1 month ago | [YT] | 218
View 15 replies
Mufti Abdul Wahid Qureshi Speeches
تمام احباب کو عیدالفطر کی خوشیاں مبارک ہوں
#muftiabdulwahidqureshi
1 month ago | [YT] | 869
View 12 replies
Mufti Abdul Wahid Qureshi Speeches
قاتل عمار کون ؟
مصنف مفتی عبدالواحد قریشی صاحب مدظلہ
راقم کی کتاب مذکور کے متعلق رائے
بسم اللہ الرحمن الرحیم
تمام تعریفات اس قادر مطلق کیلئے جس نے ہر شر میں خیر کے پہلو پوشیدہ رکھا اور تمام تر صلوہ سلام اس آخری مہبط وحی محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم پر جن کے ذریعہ سلسہ نبوت اپنے کمال واختتام کو پہنچا ۔
عصر حاضر کے معروف نزاعی مسائل میں سے جس نے عقلوں کو چکرا کر رکھ دیا اور جھال نے اس پر وہ اودھم مچا رکھا ہے کہ بس رہے نام اللہ کا ۔وہ ہماری گزشتہ تقریبا 26 نسلوں سے بھی پہلے گزرنے والے واقعات پر نئ عدالتیں قائم کرکے حق وباطل کے فیصلہ کرنے کی روش ہے جس میں امت مسلمہ کی ان مقدس اور معتبر ہستیوں کو مجرمانہ کٹہرے میں کھڑا کرنے کی جسارت کی جارہی ہے جن کا تمام معاملات خدائی عدالت سے فیصلہ پا چکے ہیں ۔ تاریخ کی ان مظلوم ترین ہستیوں میں ایک سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما ہیں جن کو یزید کا باپ ہونے کے پاداش میں آج تک سلطنت فارس کے مکروہ بل ڈاگز نے سینگوں پر اٹھا رکھا ہے رہی سہی کسر امت مسلمہ میں رینڈ کارپوریشن کے چند ہرکاروں نے پوری کردی جن کے ہاتھ بخاری شریف کی حدیث نمبر 2812 ایسے لگی کہ گویا کھیل کود اور ماضی کی حسین شبیہ بگاڑنے کیلئے ان کے ہاتھ کوئ قارون کا خزانہ لگ گیا ایسے حالات میں ہر عالم پر ضروری تھا اپنا علم ظاہر کرے اور آل واصحاب رسول علیھم الرضوان کی عزت وناموس کا دفاع کرے سو ایسے وقت میں ہمارے برادر عزیز معروف عالم دین جناب مفتی عبد الواحد قریشی صاحب حفظہ اللہ نے قلم اٹھایا اور ایک علمی شاھکار تصنیف کیا جس کے بارے بلاجھجک کہا جاسکتا ہے کہ مولنا نے عصر حاضر کی اس دماغی الرجی کا بہت حد تک کافی و شافی علاج فرما دیا ہے
اس کتاب کے مارکیٹ میں آتے ہی دشمنان اصحاب کا چین بجبین ہونا تو سمجھ میں آتا تھا مگر بہت سے وہ احباب جو عقیدہ و نظریہ میں موصوف مصنف کے ہم عقیدہ تھے مگر حب اہل بیت کے عنوان سے شاید وہ رفض سے اس حد تک مر عوب تھے کہ ان پر بھی سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا دفاع بہت گراں گزرا اور انہوں نے اسے سیدنا علی کرم اللہ وجہہ کی تنقیص پر محمول کیا جس سے مصنف کا قلم اور عقیدہ الحمد اللہ پاک ہے
کیونکہ اس کتاب پر تبصرہ کرنا سرسری مطالعہ سے نامناسب تھا اس لیے راقم نے اولا مکمل کتاب کا حرف بحرف مطالعہ کیا ۔
اس میں اصحاب واہل بیت کے حوالہ سے ایک ایسا اجلا اور محبت پر مبنی موقف پیش کیا گیا ہے کہ اہل ایمان کے دلوں کو تازگی بخشتا ہے اور سبائ طبقہ کی سال ہا سال کی تفریق بین آلال و الاصحاب کی زہر کیلئے کار تریاقی کا منظر پیش کررہا ہے جس سے اس سبائ طبقہ کا موئے آتش دیدہ کی طرح بل کھانا سمجھ میں آتا ہے
فاضل مصنف نے اس کتاب میں سب سے اہم کارنامہ یہ سر انجام دیا کہ بغاوت کے الزامات کا نشانہ بننے والی ہستی سے ہی بات شروع نھیں کی بلکہ مبداء بغاوت یعنی شہادت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے بات کو شروع کیا جس سے مقدمہ کی تفھیم اہل فھم کیلئے آسان ہوگئ
اہل بغاوت (فئۃ الباغیہ) جن کی ایک نشانی قتل عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ ہے اور اسے ہی ہمیشہ ہائ لائٹ کر کے دھوکہ کی دوکان چلائ جاتی ہے فاضل مصنف نے اپنی کتاب قاتل عمار کون ص 17سے 47 تک مکمل شرح وبسط کے ساتھ ان کی دس علامات مدلل بیان کردیں تاکہ دل میں دیانت اور آنکھ میں شرافت کا پانی رکھنے والی آنکھ سبائ پروپیگنڈے سے متاثر ہوئے بغیر فیصلہ کر سکے کہ باغی کون تھا اور کیا سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو ان فئہ باغیہ کے سرکشوں میں شمار کیا جاسکتا ہے ۔
اس کتاب پر بہت سے اہل علم کے تبصرے بھی پڑھنے کو ملے اور اہل عناد کے بھی جن میں سے ایک تبصرہ تو یہ تھا کہ فاضل مصنف نے ضعیف اور کمزور احادیث سے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا مقدمہ لڑا ہے لیکن افسوس کے یہی حضرات دشمنان اصحاب واہل بیت کی پیش کردہ تاریخی پھلجڑیوں پر آنکھیں بند کر کے ایمان لے آتے ہیں جب وہ سیدنا معاویہ کے خلاف ہوں لیکن اگر کسی کمزور سند کی روایت سے ایک صحابی رسول کی عزت محفوظ ہوتی تو ان کا ذوق تحقیق اس بات کو قبول کرنے کا روادار نھیں ہوتا
مصنف نے اپنی کتاب میں کہیں بھی اپنی طرف سے کوئ نیا موقف پیش کرنے کی جسارت نھیں کی بلکہ سلف صالحین کے اقوال و آراء سے اپنے مقدمہ کو مبرھن کیا اور حدیث وتاریخ اور علم الکلام کی ایسی معروف ومستند ہستیوں کو بطور گواہ کے لائے ہیں کہ سوائے ضدی انسان کے کسی بھی شخص کیلئے یہ ماننا مشکل نھیں رہتا کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین جانبین عنداللہ ماجور ہیں اور یہ سب سانحہ وہ پیش آنے والا یقینی واقعہ تھا جسے بہرحال ہونا تھا کہ اس کی خبر کائنات کی سب سے سچی زبان نے دی تھی لیکن سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی سیاسی بصیرت نے دم عثمان پر قصاص کے مطالبہ میں جو اجتہادی عجلت کا مظاہرہ فرمایا اس کے پیچھے بھی کوئ بد نیتی نھیں تھی بلکہ اسلامی ریاست کو ایسے شریر عناصر سے جو خلیفہ وقت پر ہاتھ اٹھا سکتے ہو ان سے پاک کرنا تھا اس اجتہادی معاملہ کی وجہ سے جنگ صفین کا سانحہ پیش آیا
اس کتاب میں دشمن کی مکروہ چالبازیوں کو واضح کیا گیا ہے کہ کس طرح وہ اسلامی لشکر کو باھم دست وگریباں کرنے کی پالیسی پر کار بند تھے اس کیلئے ذرا ان تین اصحاب جو جنگ سے پیچھے رہ گئے تھے اور ان سے بحکم رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم امت نے سوشل بائیکاٹ کیا تھا لیکن چند دن بائیکاٹ کے گزرنے کے بعد حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس بازنطینی جاسوس کا اپنے بادشاہ کا خط لیکر پہنچنا اور انھیں دعوت ارتداد دینا یہ سمجھنے کیلئے کافی ہے کہ اسلام کے اس نوزائیدہ ریاستی مرکز اور آخری وحتمی دین کو تباہ وبرباد کرنے کیلئے دشمن کے جاسوس اور ان کی گہری نظریں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ہی میں مدینہ پر پیوست تھیں تو پھر اس سارے سانحہ میں دشمن طاقتوں کی خفیہ ریشہ دوانیوں اور اعلانیہ خروج کرونے والے اور خلیفہ برحق کو شہید کرنے والوں کو کلین چٹ دے کر ایک صحابی رسول کے کھاتے میں سارا مقدمہ کیسے ڈالا جاسکتا ہے
ایک چیز کی کتاب میں بہت تشنگی محسوس ہوئی کہ لگے ہاتھ شرائط صلح پر بھی کچھ رہنمائ کردی جاتی کیونکہ فئۃ الباغیہ اور شرائط صلح حسن یہ موضوع عموماً اکٹھا ہی ڈسکس ہوتا ہے مصنف سے اس بارے درخواست کی تو معلوم ہوا اسی کتاب کی طبع ہفتم میں 40 سوالات کے جوابات آرہے ہیں جن میں یہ تشنگی بھی دور کر دی گئ ہے کیونکہ اصل میں اس موضوع پر اصل کتاب جس کانام ہے
الفیض المدرار فی تحقیق حدیث عمار
المعروف بہ
جضرت عمار رضی اللہ عنہ اور حدیثی حقائق
عنقریب چھپ رہی ہے اور یہ مذکورہ کتاب اس کا ایک باب ہے جسے فوری ضرورت کے تحت الگ سے شائع کیا گیا ہے
اللہ کرے کہ کتاب مذکور اور لوگو میں حسین ہوں جلد زیور طباعت سے آراستہ ہو کر منصہ شہود پر نمودار ہوں
لہذا یہ کتاب ان شاء اللہ سرمہ بصیرت ہے ہر اس شخص کیلئے جو مرنے سے پہلے اپنے دل کو اتباع سنت میں صحابہ کے بارے سلیم الصدر بنانا چاہتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کے متعلق شکایت نھیں سنتے تھے کہ میں اللہ کے دربار میں اس جماعت کے متعلق صاف سینے کے ساتھ حاضر ہونا چاہتا ہوں
اگر کسی کے دل میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے متعلق کوئ غبار ہے یا حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے کچھ خفگی ہے تو یہ کتاب اس کیلئے آب شفاء ہوگی ان شاءاللہ
عصر حاضر کی اس منہ زور اسلاف بیزاری کی آندھی میں یہ کتاب قاتل عمار کون ؟ہر مسجد مکتب اور ہر صاحب مطالعہ کے زیر مطالعہ ہونی چاہیے یہ کتاب اس قابل ہے کہ اسے قارئین کا وسیع حلقہ میسر آئے فاضل مصنف نے بہت عمدہ انداز میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی عزت کا دفاع کیا ہے اللہ تعالیٰ مصنف کی عزت کو کسی بھی نظر بد سے محفوظ فرمائے اور اس کوشش کو ذخیرہ آخرت بنائے راقم الحروف اس کتاب کو انتہائ مفید اور نافع سمجھتا ہے واللہ اعلم باالصواب
محمد رضوان عزیز
(رئیس قسم التخصص فی علوم ختم النبوہ)
مدیر دارالعلوم ختم نبوت عارف والا
30رمضان المبارک 1447 ھجری
بمطابق 20 مارچ 2026 یوم الجمعہ
+923001355147
▶️ Muhammad Rizwan Aziz
1 month ago | [YT] | 252
View 2 replies
Mufti Abdul Wahid Qureshi Speeches
ایک سالہ تخصص برائے فضلاء کرام
#muftiabdulwahidqureshi
1 month ago | [YT] | 344
View 13 replies
Mufti Abdul Wahid Qureshi Speeches
Comming Soon
youtube.com/@muftispeeches1
Tomorrow Morning 10:00 AM
2 months ago (edited) | [YT] | 351
View 6 replies
Mufti Abdul Wahid Qureshi Speeches
اعلان: کتاب قاتل عمار کون؟
مفتی عبدالواحد قریشی حفظہ اللہ کے قلم حقیقت رقم سے لکھی جانے والی کتاب "قاتل عمار کون؟"
حاصل کریں
واٹس ایپ نمبر
03157570939
کتاب کی قیمت فقط لاگت فی کتاب صرف 300 روپے ھے
پاکستان میں ڈاک خرچ تقریبا 150 ھے یہ ادائگی منگوانے والے کی ذمہ داری ہوگی
2 months ago | [YT] | 469
View 33 replies
Mufti Abdul Wahid Qureshi Speeches
لاہور جامعہ مدنیہ جدید ان شاءاللہ
آج بعد نماز ظہر تا عصر
#muftiabdulwahidqureshi
3 months ago | [YT] | 233
View 2 replies
Mufti Abdul Wahid Qureshi Speeches
نیئو ضلع پہاڑ پور: کے پی کے
چوتھا سالانہ
مناقب کاتب وحی حضرت سیدنا معاویہ رض سیمینار
بتاریخ: 9 جنوری 2026ء
بروز جمعہ بعد از مغرب
بمقام: رانا میرج لان رنگ پور روڈ
خصوصی خطاب:
مفتی عبدالواحد قریشی حفظہ اللہ
ممبر مرکزی مجلس عمومی جمعیت علماء اسلام پاکستان
زیر اہتمام:
ڈسٹرکٹ تنظیم اہل السنت والجماعت ضلع پہاڑپور
احباب تک اس میسج کو پہنچائیے
براہ راست شرکت کا لنک
www.facebook.com/MAbdulWahidQureshi?mibextid=ZbWKw…
youtube.com/@muftiabdulwahidqureshi?si=9wNiuH1CXbE…
Follow the Mufti Abdul Wahid Qureshi channel on WhatsApp: whatsapp.com/channel/0029VakcaSb2f3EB8H6gsY2a
3 months ago | [YT] | 216
View 2 replies
Mufti Abdul Wahid Qureshi Speeches
مفتی عبدالواحد قریشی حفظہ اللہ سے چند تلخ سوالات پہ مشتمل مکمل انٹرویو
مفتی صاحب نے بڑی تسلی و تشفی سے ان تمام سوالات کے جوابات دیے
سوالات:
مفتی صاحب آپ کا لہجہ بڑا سخت ہے کیوں؟
پنجاب کے اماموں پر دوسرے صوبوں والوں کا کیا حق ہے؟
آخر آئمہ مساجد کی تنخواہ پر اعتراض کیوں؟
وفاق المدارس العربیہ پاکستان سے جامعۃ الرشید کراچی کے الگ ہونے کی خاص وجہ؟
قائد جمعیت حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب کی مدارس کے حوالے سے کسی ایک خدمت کا ثبوت دیں؟
مفتی صاحب کیا آپ کو وفاق المدارس یا جمعیت علماء اسلام پاکستان نے ترجمان طے کیا ھے؟
جامعۃ الرشید کراچی نے اعلان کیا ھے کہ ہم سب کے ساتھ ہے آخر اس پالیسی پر اعتراض کیوں؟
مفتی رشید احمد لدھیانوی صاحب رح کی وصیت کے باوجود مفتی عبدالرحیم صاحب پر اعتراض کیوں؟
کیا وقتی ضرورت کے تحت بڑوں سے اختلاف نہیں ہو سکتا؟
قاری محمد حنیف جالندھری صاحب پہلے تو حکومتی امداد مانگا کرتے تھے کیوں؟
لوگ کہتے ہیں یہ سارا ویوز کا چکر ہے؟
پہلے تو آپ نے مفتی طارق مسعود صاحب کے حمامی تھے کیوں؟
مفتی طارق مسعود صاحب کے پیج ایڈمن کی تھمب نیل میں زیادتی کیا ھے؟
اگر آپ کو جامعۃ الرشید کراچی آنے کی دعوت دی جائے تو جائیں گے؟
آخر میں کوئی محبت کا پیغام تو دے دیں
ان تمام سوالات کے جوابات کے لیے اس لنک کا وزٹ کریں
https://youtu.be/jg-e0nERaNM?si=bkd1e...
#muftiabdulwahidqureshi
5 months ago | [YT] | 235
View 7 replies
Load more