Digi Marketing World

Its an era of marketing. So basically channel purpose is introduce the new things. Things related human, machinery, new helpful gadgets etc


Digi Marketing World

#غور سے #توجہ اور #محبت سے پڑھیں...
ایک روز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کے درمیان تشریف آوری کے دوران حضرت ابوبکر سے پوچھا: ابوبکر آپ دنیا میں کیا چیز پسند کرتے ہيں؟ انھوں نے جواب میں کہا حضور تین چیزیں پسند کرتا ہوں۔
اول: آپ کے درمیان بیٹھا رہوں دوسرے آپ کو دیکھتا رہوں تیسرے اپنے مال کو آپ پر خرچ کروں۔
پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر سے دریافت کیا کہ عمر آپ کیا پسند کرتے ہيں:
حضرت عمر نے جواب میں کہا : حضور تین چیزیں پسند کرتا ہوں
اول نیکی کا حکم دوں اگرچہ کے سری طور پر ہو، دوسرے برائی سے روکتا رہوں اگرچہ سرعام ہو اور تیسرے حق بات کہوں اگرچہ سننے والوں کو کڑوی لگے۔
اور پھرحضور نے حضرت عثمان سے دریافت کیا کہ عثمان! آپ کیا پسند کرتے ہیں:
حضرت عثمان نے جواب دیا : حضور تین چیزیں پسند کرتا ہوں:
اول لوگوں کو کھانا کھلاؤں، دوسرے سلام کو پھیلاؤں اور تیسرے رات میں ایسے وقت نماز پڑھوں جب لوگ نیند کی آغوش میں ہوں۔
اس کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی سے دریافت کیا کہ علی! آپ کیا پسند کرتے ہيں
حضرت علی نے جواب دیا کہ حضور تین چیزیں پسند کرتا ہوں:
اول مہمان نوازی کروں دوسرے گرما کے موسم میں روزے رکھوں اور تیسرے دشمن پر تلوار سے وار کروں۔
پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوذرغفاری سے دریافت فرمایا : ابوذر آپ کیا پسند کرتے ہو؟
حضرت ابوذر غفاری نے جواب دیا: حضور میں دنیا میں تین چیزیں پسند کرتا ہوں
اول بھوک دوسرے بیماری اور تیسرے موت
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سےسبب پوچھتے ہوئے کہا آپ ان چیزوں کو کیوں پسند کرتے ہو؟
انھوں نے جواب دیا کہ حضور بھوک اس لیئے عزيز ہے کہ اس کے ذریعے میرا دل نرم ہوتا ہے اور بیماری اس لیئے محبوب ہے کہ اس کے ذریعے میرے گناہ معاف ہوتے ہیں اور موت اس وجہ سے عزيز ہے کہ اس کے ذریعے میں اپنے پروردگارسے ملوں گا۔
اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
میرے لیئے تمہاری دنیا سے تین چیزیں پسند کروائی گئی۔
اول خوشبو، دوسری نیک عورتیں، اور تیسرے میرےآنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں رکھی گئي ہے۔
اسی اثناء حضرت جبریل تشریف لاتے ہیں
اور فرماتے ہیں مجھے تمہاری دنیا سے تین چیزیں پسند ہيں:
اول پیغام کو پہنچانا، دوسرے امانت کو ادا کرنا اور تیسرے مساکین سے محبت کرنا
پھر حضرت جبرئيل آسمانوں کی جانب لوٹتے ہیں اور دوبارہ زمین پر واپس آتے ہیں اور فرماتے ہيں کہ حضور اللہ رب العزت آپ کو سلام کہتے ہيں: اور ارشاد فرماتے ہيں: کہ
اللہ رب العزت کو تمہاری دنیا سے تین چیزیں پسند ہيں:
اول ایسی زبان جو اللہ کی یاد سے تر ہو، دوسرے ایسا دل جو اللہ سے ڈرنے والا ہو اور تیسرے ایسا جسم جو مصائب اور آزمائشوں میں صبر کرنے والا ہو۔
حوالہ : صحیح اسلامی واقعات شائع کردہ جامعہ الاظہر مصر
اردو ترجمہ صفحہ 70

1 year ago | [YT] | 2

Digi Marketing World

ایک بزرگ جوڑا کسی ڈیپارٹمنٹل سٹور میں جاتا ہے. بزرگ خاتون غلطی سے برتنوں کے ریک سے الجھ جاتی ہیں. قیمتی برتن فرش پر گر کر چکنا چور ہو جاتے ہیں. بزرگ آدمی اس اچانک افتاد میں گھبرا جاتا ہے. شرمندگی اور خوف سے کہ اب کیا ہوگا.؟ وہ ٹوٹے برتن سمیٹنے لگتا ہے. اسی میں کانچ سے اپنے ہاتھ زخمی کر دیتا ہے.

یہ منظر کسی کو بھی پریشان کر سکتا ہے. لیکن یہ منظر تب بدل جاتا ہے جب نوجوان مینجر بزرگ کو تسلی دیتا ہے. اور کہتا ہے بابا جی برتن تو سارے انشورنس کئے گئے ہیں. آپ ان کی فکر نہ کریں اپنے ہاتھوں کی مرہم پٹی کرا لیں.

انشورنس یعنی بیمہ وہ تسلی وہ یقین دہانی ہے جہاں پریمیم بھرنے والے کو ایک قانونی دستاویز کے ساتھ کہا جاتا ہے اب فکر نہ کرو تمہارے اس نقصان کی بھرپائی ہوگی جس کا تم نے پریمیم بھرا ہے.

مسلمانوں کے اکثریت مکاتب فکر کا انشورنس کے حرام ہونے پر اجماع ہے. کیونکہ ہم نقصان کی بھرپائی کی ضمانت سوائے اللہ رب العزت کے اور کسی کو تسلیم نہیں کرتے. اللہ رب العزت نے اپنی انشورنس پالیسی کیلئے دنیا میں کلمہ توحید کا ایگریمنٹ رکھا ہوا ہے. اللہ رب العزت فرماتے ہیں تم اس ایگریمنٹ کی شہادت دو اس پر حسب توفیق عمل کا پریمیم بھرو. ایک دن روز محشر کے میزان کے سامنے جب حلقت پریشان کھڑی ہوگی اس پالیسی ہولڈر کیلئے بلکل ایسے ہی منظر بدل جائے گا جیسے ڈیپارٹمنٹل سٹور کے اس بوڑھے جوڑے کیلئے ہوگیا.

اللہ کو تو بس بندے کی ندامت سے جھکی نگاہیں ہی کافی ہیں. وہ بڑی رحیم و کریم ذات ہے.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یاد رکھیے کہ سوا لاکھ انبیاء جو جو شریعتیں لے کر آتے رہے اس میں انسانی ضروریات کے مطابق تبدیلیاں نازل کی جاتی رہیں لیکن جو ایک چیز حضرت آدم علیہ السلام سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک بغیر کسی تبدیلی کے چلتی آئی ہے وہ توحید ہے۔ اس میں کبھی کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔

گویا ساری شریعت تو انسان کی ضرورت کے لیے ہے لیکن توحید اللہ کی انسان سے 'ڈیمانڈ' ہے۔ اللہ کی یہ ڈیمانڈ درحقیقت وہ واحد کنجی ہے جس سے جنت کا دروازہ چوپٹ کھلے گا۔ اس کے سوا اس دروازے کے کھلنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔

اللہ کی یہ ڈیمانڈ اگر پوری کردی جائے تو کچھ عجب نہیں کہ ہمیں ہمارے گناہوں کے باوجود معاف فرما دیا جائے۔ ان شاء اللہ۔

1 year ago | [YT] | 1

Digi Marketing World

😇😇 بھولنا سیکھیں 😇😇

ایک بوڑھا آدمی کانچ کے برتنوں کا بڑا سا ٹوکرا سر پر اٹھائے شہر بیچنے کے لئے جارہا تھا۔ چلتے چلتے اسے ہلکی سی ٹھوکر لگی تو ایک کانچ کا گلاس ٹوکرے سے پھسل کر نیچے گر پڑا اور ٹوٹ گیا۔

بوڑھا آدمی اپنی اسی رفتار سے چلتا رہا جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔___ پیچھے چلنے والے ایک اور راہگیر نے دیکھا تو بھاگ کر بوڑھے کے پاس پہنچا اور کہا: " بابا جی! آپ کو شاید پتہ نہیں چلا، پیچھے آپ کا ایک برتن ٹوکرے سے گر کر ٹوٹ گیا ہے"

بوڑھا اپنی رفتار کم کیے بغیر بولا: " بیٹا مجھے معلوم ہے "

راہگیر: " حیران ہو کر بولا__، بابا جی! " آپ کو معلوم ہے تو رکے نہیں "

بوڑھا؛ " بیٹا جو چیز گر کر ٹوٹ گئی اس کے لیے اب رکنا بےکار ہے،___ بالفرض میں اگر رک جاتا،__ ٹوکرا زمیں پر رکھتا،___ اس ٹوٹی چیز کو جو اب جڑ نہیں سکتی کو اٹھا کر دیکھتا، __ افسوس کرتا، __ پھر ٹوکرا اٹھا کر سر پر رکھتا تو میں اپنا ٹائم بھی خراب کرتا، __ٹوکرا رکھنے اور اٹھانے میں کوئی اور نقصان بھی کر لیتا اور شہر میں جو کاروبار کرنا تھا __ افسوس اور تاسف کے باعث وہ بھی خراب کرتا۔ ___ بیٹا، میں نے ٹوٹے گلاس کو وہیں چھوڑ کر اپنا بہت کچھ بچا لیا ہے"

۔

۔

۔

ہماری زندگی میں کچھ پریشانیاں، غلط فہمیاں، نقصان اور مصیبتیں بالکل اسی ٹوٹے گلاس کی طرح ہوتی ہیں کہ جن کو ہمیں بھول جانا چاہیے، چھوڑ کر آگے بڑھ جانا چاہیے۔

کیوں؟؟؟؟؟

کیونکہ یہ وہ بوجھ ہوتے ہیں جو

آپ کی رفتار کم کر دیتے ہیں

آپ کی مشقت بڑھا دیتے ہیں

آپ کے لیے نئی مصیبتیں اور پریشانیاں گھیر لاتے ہیں

آپ سے مسکراہٹ چھین لیتے ہیں

آگے بڑھنے کا حوصلہ اور چاہت ختم کر ڈالتے ہیں۔

اس لیے اپنی پریشانیوں، مصیبتوں اور نقصانات کو بھولنا سیکھیں اور آگے بڑھ جائیں

1 year ago | [YT] | 1