We connect modern science with timeless revelation of Quran. Exploring how every discovery whispers: “This is the truth from your Lord.” Raaz-e-Noor — awakening hearts with the light of faith, knowledge and science.
پیارے آقا ﷺ کی وہ دعا جس سے مدینہ کو وبائیں سے ہمیشہ کیلئے نجات مل گئی!
عالمی ادارہ صحت نے ایک کڑی جانچ پڑتال کے بعد مدینہ شہر کی آب و ہوا، پینے کے صاف پانی، صفائی کے بہترین انتظامات اور جدید شفاء خانوں کی بنیاد پر مدینہ شہر کو دنیا کے صحت مند ترین شہر ہونے کا سرٹیفکیٹ جاری کیا ہے۔ لیکن کیا یہ اعزاز محض دنیاوی جدید سائنس کے بدولت ہے یا اس ایک ایسا پہلو ہے جس نے اس شہر کو ایسا بنایا؟
اس کے جواب کے لئے ہمیں ساڑھے چودہ سو سال پیچھے جا کر پیارے آقا ﷺ کی اس دعا کے بارے میں جاننا ہوگا جس نے مدینہ کو اکیسویں صدی کا سحت مند ترین شہر کا اعزاز دلایا۔
جب سرکارِ دو عالم ﷺ مکہ سے مدینہ ہجرت کر کے تشریف لائے، تو اس وقت مدینہ کی آب و ہوا صحابہ کرامؓ کے مزاج کے موافق نہ تھی۔ یہاں پہنچتے ہی سیدنا حضرت ابوبکر صدیق ؓ اور حضرت بلال حبشیؓ سمیت کئی جلیل القدر صحابہ کرامؓ شدید بخار اور بیماری شدت سے نڈھال ہو گئے۔
اس تکلیف دہ منظر کو دیکھ کر سرکارِ دو عالم ﷺ کا قلب مبارک تڑپ اٹھا۔ آپ ﷺ نے اپنے رب کے حضور ہاتھ اٹھائے اور ایک ایسی جامع اور پُرعزم دعا فرمائی جس نے مدینہ کی تاریخ ہمیشہ کے لیے بدل ڈالی!
آپ ﷺ نے بارگاہِ الٰہی میں عرض کیا:
"اے اللہ! مدینہ کو ہمارے لیے اتنا ہی محبوب بنا دے جتنا مکہ محبوب ہے بلکہ اس سے بھی بڑھ کر۔ اے اللہ! ہمارے صاع اور مد (پیمانوں) میں برکت عطا فرما، مدینہ کی آب و ہوا کو ہمارے لیے صحت بخش بنا دے، اور یہاں کی وبا کو 'الجحفة' کی طرف منتقل فرما دے!" (صحیح بخاری)
پیارے آقا ﷺ کی یہ دعا اتنی بارگاہِ الٰہی میں ایسی مقبول ہوئی کہ: ✨ مدینہ کی آب و ہوا صحابہ کرامؓ کے لیے سراپا صحت بن گئی۔ ✨ اللہ تعالیٰ نے اس مبارک شہرِ کو طاعون سمیت تمام وباؤں سے ہمیشہ کیلئے محفوظ کر دیا۔ ✨ احادیثِ مبارکہ کی رو سے، مدینہ کی حفاظت پر خود فرشتے پہرہ دیتے ہیں اور یہاں تک فرمایا گیا کہ دجال اور طاعون (وبا) مدینہ کی حدود میں داخل نہیں ہو سکتے!
یہی وجہ ہے کہ مدینہ صرف ایک شہر نہیں، بلکہ روحانیت، شفا، سکون اور سلامتی کا دوسرا نام ہے۔ عاشق رسول تو یہ تک کہتے ہیں کہ یہاں کی تو دھول و مٹی میں بھی شفا ہے۔
درود و سلام ہو مدینے کے تاجدار ﷺ پر، جن کی ایک دعا نے اس شہر کو تاقیامت امن کا گہوارہ بنا دیا۔ ❤️
مصر کے ڈاکٹر کا آبِ زم زم کے خلاف پھیلایا گیا جھوٹ اور شاہ فیصل کا بہترین فیصلہ!
کہا جاتا ہے کہ قلم سے کیا جانے والا حملہ تلوار سے کیے گئے حملے سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔کچھ سازشیں بارود سے نہیں بلکہ قلم کے ذریعے جنم لیتی ہیں۔ اور جب نشانہ اسلام کی سب سے مقدس نشانی ہو تو اس کی گونج پوری امت کے دلوں کو بے چین کر دیتی ہے۔
کچھ ایسی ہی سازش 1971 میں کی گئی اور استعمال ہونے والا ایک مصری ڈاکٹر تھا۔ سعودی عرب میں شاہ فیصل کی حکمرانی تھی اور دنیا بھر سے مسلمان بڑی آسانی سے حج و عمرہ کی سعادت حاصل کرتے، آبِ زم زم پیتے، روضہ رسول صلی الله علیہ وسلم کی زیارت کرتے اور الله پاک کی برکتیں و رحمتیں سمیٹ کر اپنے اپنے وطن لوٹ جاتے۔ لیکن پھر یورپ کے اخبارات میں مصری ڈاکٹر کا ایک خط شائع ہوا۔
خط میں مصری ڈاکٹر نے دعویٰ کیا کہ آبِ زم زم کا پانی پینے کا قابل نہیں ہے کیونکہ مکہ سطح سمندر سے نیچے ہے، اس لئے شہر کا گندہ پانی زیر زمین راستوں سے زم زم کے کنوئیں میں چلا جاتا ہے۔ یہ صرف ایک اعتراض نہیں تھا بلکہ کروڑوں مسلمانوں کے عقیدے پر ایک بہت کی مہلک وار تھا، جس کا جواب فہم و فراست سے ہی دیا جا سکتا تھا۔
مصری ڈاکٹر کا یہ دعویٰ جنگل میں آگ کی طرح پھیل گیا اور ہر صرف صرف ایک ہی سوال کیا جا رہا تھا ۔۔۔ کیا واقعی ہی زم زم کا پانی آلودہ ہے؟ سعودی فرمانروا شاہ فیصل نے خاموش رہنے کے بجائے ایسا فیصلہ کیا جو آج بھی ان کی فہم فراست کی بہترین مثال سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے مصری ڈاکٹر کے الزام کا جواب جذبات سے نہیں، سائنس سے دینے کا فیصلہ کیا۔ فوری حکم جاری کیا گیا کہ آبِ زم زم کی مکمل سائنسی جانچ پڑتال کی جائے اور اس کے نمونے یورپ کی غیر جانبدار لیبارٹریوں میں بھیجے جائیں تاکہ حقیقت آشکار ہو جائے۔
یہ اہم ذمہ داری واٹر اینڈ ڈیسالینیشن منصوبے کے انجینئر موئن الدین احمد کو سونپی گئی، جو سمندری پانی کو قابلِ استعمال بنانے کے ماہر تھے۔ موئن الدین احمد مکہ روانہ ہوئے تو انہیں یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ آبِ زم زم کا کنواں کیسا دکھائی دیتا ہے۔ وہ مسجد الحرام پہنچے اور کنویں کا معائنہ کرنے لگے۔ وہ حیران رہ گئے کہ جس معجزاتی چشمے سے صدیوں سے لاکھوں حاجیوں کی پیاس بجھ رہی تھی، وہ دکھنے میں اتنا بڑا نہیں تھا جتنا لوگوں کے ذہنوں میں تصور تھا۔
انجینئر موئن الدین احمد کا اصل امتحان اب شروع ہوا۔ ان کا ایک معاون کنویں کے اندر مختلف سمتوں میں چلتا رہا، اس امید کے ساتھ کہ شاید کوئی نالی یا پانی آنے کا واضح راستہ نظر آ جائے۔ لیکن ہر کوشش بے سود ثابت ہوئی۔ تب انجینئر موئن الدین احمد نے ایک نئی تدبیر سوچی۔
انہوں نے کنویں پر نصب پمپ چلوا دیا تاکہ پانی تیزی سے باہر نکالا جائے، اور اگر کوئی مخصوص نالی یا راستہ ہو تو وہ نمایاں ہو جائے۔ پہلی بار ایسا کرنے پر کچھ بھی نظر نہ آیا۔ دوسری بار بھی بظاہر سب کچھ معمول کے مطابق تھا۔ لیکن پھر اچانک کنویں میں موجود شخص خوشی سے چیخ اٹھا: "الحمدللہ! راز مل گیا!"
اس نے بتایا کہ اس کے قدموں کے نیچے ریت مسلسل حرکت کر رہی ہے، جیسے زمین خود سانس لے رہی ہو۔ زم زم کا پانی کسی ایک سوراخ یا نالی سے نہیں بلکہ زمین کی تہوں سے ہر طرف سے یکساں مقدار میں ابل رہا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ زم زم کا پانی مسلسل نکلنے کے باوجود اس کی سطح تقریباً ایک جیسی رہتی تھی۔
تحقیق مکمل ہوئی۔ پانی کے نمونے یورپ کی لیبارٹریوں میں بھیج دیے گئے۔ کچھ دنوں بعد وہ لمحہ بھی آ پہنچا جس کا سب کو بے چینی سے انتظار تھا۔ رپورٹ نے سارا سچ بتا دیا۔
رپورٹ کے مطابق آبِ زم زم نہ صرف پینے کے لیے محفوظ تھا بلکہ اس میں میگنیشیم اور کیلشیم جیسی اہم معدنیات عام پانی کے مقابلے میں زیادہ مقدار میں موجود تھیں۔ پانی میں موجود فلورائیڈ اسے جراثیم کے خلاف مؤثر خصوصیات بھی عطا کرتی تھی۔
یوں مصری ڈاکٹر کا وہ دعویٰ، جس نے دنیا بھر میں شکوک و شبہات پیدا کیے تھے، سائنسی تحقیق کے سامنے خود ہی دم توڑ گیا۔ سعودی حکمران شاہ فیصل نے ان نتائج کو عالمی میڈیا تک پہنچایا تاکہ دنیا جان لے کہ جھوٹ کا نہ سر ہوتا ہے اور نہ ہی پاؤں۔
لیکن یہاں ایک بات سمجھنا بھی ضروری ہے۔ اس واقعے کی بنیادی کہانی مختلف تحریروں اور کتابوں میں ضرور ملتی ہے، تاہم اس کے کئی مکالمے، اور بعض واقعات کی آزاد تاریخی تصدیق دستیاب نہیں۔ البتہ جدید سائنسی تجزیے اس بات کی تصدیق کر چکے ہیں کہ آبِ زم زم معدنیات سے بھرپور اور بالکل محفوظ پانی ہے۔ اس کے خلاف کیا جانے والا ہر پروپیگنڈا دم طور جائے گا۔ ان شاء الله
یا رسول اللہﷺ! کیا ہمارے درمیان ایسا معاہدہ ہوا تھا؟
ویزا، اقامہ اور دنیا کے سارے کاغذات ایک طرف، اور مدینے کے سلطان ﷺ عقیدت ایک طرف! یہ داستان ایک ایسے دیوانے کی ہے جس کا عشق دیکھ کر عرش والے نے زمین کے سارے قوانین بدل ڈالے۔
یہ داستان ہے البانیہ کے اس نوجوان کی، جس کا قصور صرف اتنا تھا کہ وہ پچھلے چھے سالوں سے ویزے اور اقامے کے بغیر مدینہ کی گلیوں میں گھوم رہا تھا۔ اس کا نہ کوئی کاروبار تھا اور نہ ہی کوئی گھر تھا۔ وہ دن بھر مسجدِ نبوی ﷺ کے سائے میں بیٹھتا اور درود و سلام کا نذرانہ پیش کرتا۔ سعودی پولیس اسے کئی بار پکڑ کر البانیہ بھیجنے کی کوشش کر چکی تھی، لیکن یہ دیوانہ ہر بار قانون کو چکمہ دے کر واپس درِ مصطفیٰ ﷺ پر پہنچ جاتا۔
ایک دن، چار پولیس اہلکاروں نے اسے پھر سے گھیر لیا۔ اس بار انہوں نے اسے دیکھتے ہی اس کے دونوں ہاتھ رسی سے جکڑ دیے۔ وہاں موجود ایک بزرگ نے جب پولیس سے پوچھا کہ اس نیک نوجوان کو کیوں گرفتار کر رہے ہو؟ تو پولیس والوں نے جواب دیا: "یہ چور نہیں ہے، لیکن یہ یہاں غیر قانونی طور پر رہ رہا ہے۔ اب ہم اسے جہاز میں بٹھا کر البانیہ بھیج دیں گے۔" نوجوان کی آنکھوں سے آنسوؤں کا سیلاب بہہ نکلا۔ وہ تڑپ اٹھا کہ ہائے! اب مدینے کی یہ گلیاں، یہ ہوائیں، اور میرے آقا ﷺ کا پڑوس مجھ سے چھین لیا جائے گا؟
جب پولیس اس نوجوان کو زبردستی مسجدِ نبوی ﷺ کے صحن سے باہر لے جانے لگی، تو اس عاشقِ رسول نے آخری بار تڑپ کر سبز گنبد کی طرف دیکھا۔ اس کی درد بھری آواز فضا میں گونجی: "ھل ھکذا کان الإتفاق بیننا؟ (یا رسول اللہ ﷺ! کیا ہمارے درمیان ایسا معاہدہ ہوا تھا؟ میں تو سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر آپ کا پڑوسی بننے آیا تھا، لیکن اب یہ لوگ مجھے یہاں رہنے نہیں دے رہے۔)"
یہ ایسی دہائی تھی جس نے تقدیر ہی بدل ڈالی۔ یہ الفاظ زبان سے ادا ہوتے ہی البانیہ کا یہ نوجوان زمین پر گر پڑا۔ پولیس والوں نے سمجھا کہ شاید یہ بیہوش ہونے کا ناٹک کر رہا ہے تاکہ بھاگ سکے۔ لیکن جب انہوں نے اس کے چہرے پر پانی چھڑکا تو جسم میں کوئی حرکت نہ تھی۔ فوراً ایمبولینس بلائی گئی، ہسپتال پہنچ کر جب ڈاکٹر نے معائنہ کیا تو اس نے وہ بات کہی جس نے پولیس والوں کے پاؤں تلے سے زمین نکال دی:"یہ نوجوان تو اسی لمحے اس دنیا سے رخصت ہو چکا تھا جب یہ زمین پر گرا تھا۔ اس کا دل پھٹ چکا ہے۔ الله اکبر!"
دنیا کے قانون نے اسے البانیہ کے جہاز میں بٹھانا چاہا، لیکن مدینے کے سلطان ﷺ نے اپنے پڑوسی کو خود سے دور ہونا گوارا نہ فرمایا۔ درِ مصطفیٰ ﷺ سے ایسا پروانہ جاری ہوا کہ دنیا کے سارے قوانین زمین بوس ہو گئے۔ وہ پولیس اہلکار جو اسے ملک بدر کرنے آئے تھے، وہیں پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے اور پھر اس عاشقِ رسول کے جسد خاکی کو پورے احترام کے ساتھ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جنت البقیع میں دفنا دیا گیا، جہاں وہ آج بھی تاجدار مدینہ ﷺ کے جوار میں آرام کر رہا ہے۔
لوگ کہتے ہیں کہ درِ مصطفیٰ ﷺ پر حاضری کے لئے ویزا اور پاسپورٹ چاہیے، لیکن اگر تڑپ سچی ہو تو قانونِ قدرت خود حرکت میں آ جاتا ہے۔ کیا آپ نے کسی ایسے ہی عاشق عاشقِ رسول کو دیکھا ہے؟
Raaz-e-Noor
پیارے آقا ﷺ کی وہ دعا جس سے مدینہ کو وبائیں سے ہمیشہ کیلئے نجات مل گئی!
عالمی ادارہ صحت نے ایک کڑی جانچ پڑتال کے بعد مدینہ شہر کی آب و ہوا، پینے کے صاف پانی، صفائی کے بہترین انتظامات اور جدید شفاء خانوں کی بنیاد پر مدینہ شہر کو دنیا کے صحت مند ترین شہر ہونے کا سرٹیفکیٹ جاری کیا ہے۔ لیکن کیا یہ اعزاز محض دنیاوی جدید سائنس کے بدولت ہے یا اس ایک ایسا پہلو ہے جس نے اس شہر کو ایسا بنایا؟
اس کے جواب کے لئے ہمیں ساڑھے چودہ سو سال پیچھے جا کر پیارے آقا ﷺ کی اس دعا کے بارے میں جاننا ہوگا جس نے مدینہ کو اکیسویں صدی کا سحت مند ترین شہر کا اعزاز دلایا۔
جب سرکارِ دو عالم ﷺ مکہ سے مدینہ ہجرت کر کے تشریف لائے، تو اس وقت مدینہ کی آب و ہوا صحابہ کرامؓ کے مزاج کے موافق نہ تھی۔ یہاں پہنچتے ہی سیدنا حضرت ابوبکر صدیق ؓ اور حضرت بلال حبشیؓ سمیت کئی جلیل القدر صحابہ کرامؓ شدید بخار اور بیماری شدت سے نڈھال ہو گئے۔
اس تکلیف دہ منظر کو دیکھ کر سرکارِ دو عالم ﷺ کا قلب مبارک تڑپ اٹھا۔ آپ ﷺ نے اپنے رب کے حضور ہاتھ اٹھائے اور ایک ایسی جامع اور پُرعزم دعا فرمائی جس نے مدینہ کی تاریخ ہمیشہ کے لیے بدل ڈالی!
آپ ﷺ نے بارگاہِ الٰہی میں عرض کیا:
"اے اللہ! مدینہ کو ہمارے لیے اتنا ہی محبوب بنا دے جتنا مکہ محبوب ہے بلکہ اس سے بھی بڑھ کر۔ اے اللہ! ہمارے صاع اور مد (پیمانوں) میں برکت عطا فرما، مدینہ کی آب و ہوا کو ہمارے لیے صحت بخش بنا دے، اور یہاں کی وبا کو 'الجحفة' کی طرف منتقل فرما دے!" (صحیح بخاری)
پیارے آقا ﷺ کی یہ دعا اتنی بارگاہِ الٰہی میں ایسی مقبول ہوئی کہ:
✨ مدینہ کی آب و ہوا صحابہ کرامؓ کے لیے سراپا صحت بن گئی۔
✨ اللہ تعالیٰ نے اس مبارک شہرِ کو طاعون سمیت تمام وباؤں سے ہمیشہ کیلئے محفوظ کر دیا۔
✨ احادیثِ مبارکہ کی رو سے، مدینہ کی حفاظت پر خود فرشتے پہرہ دیتے ہیں اور یہاں تک فرمایا گیا کہ دجال اور طاعون (وبا) مدینہ کی حدود میں داخل نہیں ہو سکتے!
یہی وجہ ہے کہ مدینہ صرف ایک شہر نہیں، بلکہ روحانیت، شفا، سکون اور سلامتی کا دوسرا نام ہے۔ عاشق رسول تو یہ تک کہتے ہیں کہ یہاں کی تو دھول و مٹی میں بھی شفا ہے۔
درود و سلام ہو مدینے کے تاجدار ﷺ پر، جن کی ایک دعا نے اس شہر کو تاقیامت امن کا گہوارہ بنا دیا۔ ❤️
#Madinah #Mecca #SaudiArabia #WHO #IslamicStories #Urdu #Hindi
6 hours ago | [YT] | 1
View 0 replies
Raaz-e-Noor
مصر کے ڈاکٹر کا آبِ زم زم کے خلاف پھیلایا گیا جھوٹ اور شاہ فیصل کا بہترین فیصلہ!
کہا جاتا ہے کہ قلم سے کیا جانے والا حملہ تلوار سے کیے گئے حملے سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔کچھ سازشیں بارود سے نہیں بلکہ قلم کے ذریعے جنم لیتی ہیں۔ اور جب نشانہ اسلام کی سب سے مقدس نشانی ہو تو اس کی گونج پوری امت کے دلوں کو بے چین کر دیتی ہے۔
کچھ ایسی ہی سازش 1971 میں کی گئی اور استعمال ہونے والا ایک مصری ڈاکٹر تھا۔ سعودی عرب میں شاہ فیصل کی حکمرانی تھی اور دنیا بھر سے مسلمان بڑی آسانی سے حج و عمرہ کی سعادت حاصل کرتے، آبِ زم زم پیتے، روضہ رسول صلی الله علیہ وسلم کی زیارت کرتے اور الله پاک کی برکتیں و رحمتیں سمیٹ کر اپنے اپنے وطن لوٹ جاتے۔ لیکن پھر یورپ کے اخبارات میں مصری ڈاکٹر کا ایک خط شائع ہوا۔
خط میں مصری ڈاکٹر نے دعویٰ کیا کہ آبِ زم زم کا پانی پینے کا قابل نہیں ہے کیونکہ مکہ سطح سمندر سے نیچے ہے، اس لئے شہر کا گندہ پانی زیر زمین راستوں سے زم زم کے کنوئیں میں چلا جاتا ہے۔ یہ صرف ایک اعتراض نہیں تھا بلکہ کروڑوں مسلمانوں کے عقیدے پر ایک بہت کی مہلک وار تھا، جس کا جواب فہم و فراست سے ہی دیا جا سکتا تھا۔
مصری ڈاکٹر کا یہ دعویٰ جنگل میں آگ کی طرح پھیل گیا اور ہر صرف صرف ایک ہی سوال کیا جا رہا تھا ۔۔۔ کیا واقعی ہی زم زم کا پانی آلودہ ہے؟ سعودی فرمانروا شاہ فیصل نے خاموش رہنے کے بجائے ایسا فیصلہ کیا جو آج بھی ان کی فہم فراست کی بہترین مثال سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے مصری ڈاکٹر کے الزام کا جواب جذبات سے نہیں، سائنس سے دینے کا فیصلہ کیا۔ فوری حکم جاری کیا گیا کہ آبِ زم زم کی مکمل سائنسی جانچ پڑتال کی جائے اور اس کے نمونے یورپ کی غیر جانبدار لیبارٹریوں میں بھیجے جائیں تاکہ حقیقت آشکار ہو جائے۔
یہ اہم ذمہ داری واٹر اینڈ ڈیسالینیشن منصوبے کے انجینئر موئن الدین احمد کو سونپی گئی، جو سمندری پانی کو قابلِ استعمال بنانے کے ماہر تھے۔ موئن الدین احمد مکہ روانہ ہوئے تو انہیں یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ آبِ زم زم کا کنواں کیسا دکھائی دیتا ہے۔
وہ مسجد الحرام پہنچے اور کنویں کا معائنہ کرنے لگے۔ وہ حیران رہ گئے کہ جس معجزاتی چشمے سے صدیوں سے لاکھوں حاجیوں کی پیاس بجھ رہی تھی، وہ دکھنے میں اتنا بڑا نہیں تھا جتنا لوگوں کے ذہنوں میں تصور تھا۔
انجینئر موئن الدین احمد کا اصل امتحان اب شروع ہوا۔ ان کا ایک معاون کنویں کے اندر مختلف سمتوں میں چلتا رہا، اس امید کے ساتھ کہ شاید کوئی نالی یا پانی آنے کا واضح راستہ نظر آ جائے۔ لیکن ہر کوشش بے سود ثابت ہوئی۔ تب انجینئر موئن الدین احمد نے ایک نئی تدبیر سوچی۔
انہوں نے کنویں پر نصب پمپ چلوا دیا تاکہ پانی تیزی سے باہر نکالا جائے، اور اگر کوئی مخصوص نالی یا راستہ ہو تو وہ نمایاں ہو جائے۔ پہلی بار ایسا کرنے پر کچھ بھی نظر نہ آیا۔ دوسری بار بھی بظاہر سب کچھ معمول کے مطابق تھا۔ لیکن پھر اچانک
کنویں میں موجود شخص خوشی سے چیخ اٹھا: "الحمدللہ! راز مل گیا!"
اس نے بتایا کہ اس کے قدموں کے نیچے ریت مسلسل حرکت کر رہی ہے، جیسے زمین خود سانس لے رہی ہو۔ زم زم کا پانی کسی ایک سوراخ یا نالی سے نہیں بلکہ زمین کی تہوں سے ہر طرف سے یکساں مقدار میں ابل رہا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ زم زم کا پانی مسلسل نکلنے کے باوجود اس کی سطح تقریباً ایک جیسی رہتی تھی۔
تحقیق مکمل ہوئی۔ پانی کے نمونے یورپ کی لیبارٹریوں میں بھیج دیے گئے۔ کچھ دنوں بعد وہ لمحہ بھی آ پہنچا جس کا سب کو بے چینی سے انتظار تھا۔ رپورٹ نے سارا سچ بتا دیا۔
رپورٹ کے مطابق آبِ زم زم نہ صرف پینے کے لیے محفوظ تھا بلکہ اس میں میگنیشیم اور کیلشیم جیسی اہم معدنیات عام پانی کے مقابلے میں زیادہ مقدار میں موجود تھیں۔ پانی میں موجود فلورائیڈ اسے جراثیم کے خلاف مؤثر خصوصیات بھی عطا کرتی تھی۔
یوں مصری ڈاکٹر کا وہ دعویٰ، جس نے دنیا بھر میں شکوک و شبہات پیدا کیے تھے، سائنسی تحقیق کے سامنے خود ہی دم توڑ گیا۔ سعودی حکمران شاہ فیصل نے ان نتائج کو عالمی میڈیا تک پہنچایا تاکہ دنیا جان لے کہ جھوٹ کا نہ سر ہوتا ہے اور نہ ہی پاؤں۔
لیکن یہاں ایک بات سمجھنا بھی ضروری ہے۔ اس واقعے کی بنیادی کہانی مختلف تحریروں اور کتابوں میں ضرور ملتی ہے، تاہم اس کے کئی مکالمے، اور بعض واقعات کی آزاد تاریخی تصدیق دستیاب نہیں۔ البتہ جدید سائنسی تجزیے اس بات کی تصدیق کر چکے ہیں کہ آبِ زم زم معدنیات سے بھرپور اور بالکل محفوظ پانی ہے۔ اس کے خلاف کیا جانے والا ہر پروپیگنڈا دم طور جائے گا۔ ان شاء الله
#Zamzam #Mecca #IslamicStories #EgyptianDoctor #Viral #Urdu #Hindi
1 day ago | [YT] | 1
View 1 reply
Raaz-e-Noor
یا رسول اللہﷺ! کیا ہمارے درمیان ایسا معاہدہ ہوا تھا؟
ویزا، اقامہ اور دنیا کے سارے کاغذات ایک طرف، اور مدینے کے سلطان ﷺ عقیدت ایک طرف! یہ داستان ایک ایسے دیوانے کی ہے جس کا عشق دیکھ کر عرش والے نے زمین کے سارے قوانین بدل ڈالے۔
یہ داستان ہے البانیہ کے اس نوجوان کی، جس کا قصور صرف اتنا تھا کہ وہ پچھلے چھے سالوں سے ویزے اور اقامے کے بغیر مدینہ کی گلیوں میں گھوم رہا تھا۔ اس کا نہ کوئی کاروبار تھا اور نہ ہی کوئی گھر تھا۔ وہ دن بھر مسجدِ نبوی ﷺ کے سائے میں بیٹھتا اور درود و سلام کا نذرانہ پیش کرتا۔ سعودی پولیس اسے کئی بار پکڑ کر البانیہ بھیجنے کی کوشش کر چکی تھی، لیکن یہ دیوانہ ہر بار قانون کو چکمہ دے کر واپس درِ مصطفیٰ ﷺ پر پہنچ جاتا۔
ایک دن، چار پولیس اہلکاروں نے اسے پھر سے گھیر لیا۔ اس بار انہوں نے اسے دیکھتے ہی اس کے دونوں ہاتھ رسی سے جکڑ دیے۔ وہاں موجود ایک بزرگ نے جب پولیس سے پوچھا کہ اس نیک نوجوان کو کیوں گرفتار کر رہے ہو؟ تو پولیس والوں نے جواب دیا: "یہ چور نہیں ہے، لیکن یہ یہاں غیر قانونی طور پر رہ رہا ہے۔ اب ہم اسے جہاز میں بٹھا کر البانیہ بھیج دیں گے۔" نوجوان کی آنکھوں سے آنسوؤں کا سیلاب بہہ نکلا۔ وہ تڑپ اٹھا کہ ہائے! اب مدینے کی یہ گلیاں، یہ ہوائیں، اور میرے آقا ﷺ کا پڑوس مجھ سے چھین لیا جائے گا؟
جب پولیس اس نوجوان کو زبردستی مسجدِ نبوی ﷺ کے صحن سے باہر لے جانے لگی، تو اس عاشقِ رسول نے آخری بار تڑپ کر سبز گنبد کی طرف دیکھا۔ اس کی درد بھری آواز فضا میں گونجی: "ھل ھکذا کان الإتفاق بیننا؟ (یا رسول اللہ ﷺ! کیا ہمارے درمیان ایسا معاہدہ ہوا تھا؟ میں تو سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر آپ کا پڑوسی بننے آیا تھا، لیکن اب یہ لوگ مجھے یہاں رہنے نہیں دے رہے۔)"
یہ ایسی دہائی تھی جس نے تقدیر ہی بدل ڈالی۔ یہ الفاظ زبان سے ادا ہوتے ہی البانیہ کا یہ نوجوان زمین پر گر پڑا۔ پولیس والوں نے سمجھا کہ شاید یہ بیہوش ہونے کا ناٹک کر رہا ہے تاکہ بھاگ سکے۔ لیکن جب انہوں نے اس کے چہرے پر پانی چھڑکا تو جسم میں کوئی حرکت نہ تھی۔ فوراً ایمبولینس بلائی گئی، ہسپتال پہنچ کر جب ڈاکٹر نے معائنہ کیا تو اس نے وہ بات کہی جس نے پولیس والوں کے پاؤں تلے سے زمین نکال دی:"یہ نوجوان تو اسی لمحے اس دنیا سے رخصت ہو چکا تھا جب یہ زمین پر گرا تھا۔ اس کا دل پھٹ چکا ہے۔ الله اکبر!"
دنیا کے قانون نے اسے البانیہ کے جہاز میں بٹھانا چاہا، لیکن مدینے کے سلطان ﷺ نے اپنے پڑوسی کو خود سے دور ہونا گوارا نہ فرمایا۔ درِ مصطفیٰ ﷺ سے ایسا پروانہ جاری ہوا کہ دنیا کے سارے قوانین زمین بوس ہو گئے۔ وہ پولیس اہلکار جو اسے ملک بدر کرنے آئے تھے، وہیں پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے اور پھر اس عاشقِ رسول کے جسد خاکی کو پورے احترام کے ساتھ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جنت البقیع میں دفنا دیا گیا، جہاں وہ آج بھی تاجدار مدینہ ﷺ کے جوار میں آرام کر رہا ہے۔
لوگ کہتے ہیں کہ درِ مصطفیٰ ﷺ پر حاضری کے لئے ویزا اور پاسپورٹ چاہیے، لیکن اگر تڑپ سچی ہو تو قانونِ قدرت خود حرکت میں آ جاتا ہے۔ کیا آپ نے کسی ایسے ہی عاشق عاشقِ رسول کو دیکھا ہے؟
#IslamicStories #Madinah #Albania #Mecca #Travel #Urdu #Hindi
2 days ago | [YT] | 1
View 0 replies