Welcome to Imtiaz History & Politics
At Imtiaz History & Politics, we highlight important public issues, raise awareness, and spark meaningful discussions on social, political, and community matters. Our goal is to inform, educate, and empower people by addressing real-life challenges and exploring solutions.
We bring you in-depth analysis, thought-provoking discussions, and factual insights on the issues that matter most. Join us in making a difference by staying informed and voicing your thoughts!
✅ Subscribe and hit the bell icon to stay updated with our latest content.
📢 Let’s raise awareness and create change together!
Imtiaz History & Politics
نیلسن منڈیلا 2013 میں دنیا سے رخصت ہوئے، مگر ان کا پیغام آج بھی زندہ ہے۔ وہ دنیا بھر کے لیے امن، قربانی اور حوصلے کی علامت بنے۔ ان کی زندگی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ ظلم چاہے کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو، سچائی اور صبر آخرکار فتح پاتے ہیں۔
1 month ago | [YT] | 0
View 0 replies
Imtiaz History & Politics
1990 میں نیلسن منڈیلا کو جیل سے رہا کر دیا گیا۔ رہائی کے بعد انہوں نے انتقام کے بجائے امن اور یکجہتی کا پیغام دیا۔ 1994 میں وہ جنوبی افریقہ کے پہلے سیاہ فام صدر بنے۔ ان کی قیادت میں ملک میں برابری، امن اور انسانیت کی نئی مثال قائم ہوئی۔
1 month ago | [YT] | 0
View 0 replies
Imtiaz History & Politics
1962 میں نیلسن منڈیلا کو حکومت نے گرفتار کر لیا۔ ان پر غداری اور بغاوت کے الزامات لگائے گئے۔ منڈیلا نے 27 سال جیل میں گزارے، لیکن اپنے اصولوں پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا، “میں آزادی کے لیے لڑ رہا ہوں، چاہے قیمت میری زندگی ہی کیوں نہ ہو۔”
1 month ago | [YT] | 0
View 0 replies
Imtiaz History & Politics
جنوبی افریقہ میں اس وقت "اپارتھائیڈ" یعنی نسل پرستی کا نظام قائم تھا۔ گورے اور کالے لوگوں کے درمیان سخت امتیاز تھا۔ منڈیلا نے اس ظالمانہ نظام کے خلاف تحریک چلائی، جلسے کیے اور عوام کو متحد کیا۔ ان کی جدوجہد نے لاکھوں دلوں میں امید جگائی۔
1 month ago | [YT] | 0
View 0 replies
Imtiaz History & Politics
نیلسن منڈیلا 18 جولائی 1918 کو جنوبی افریقہ کے ایک گاؤں مویزو میں پیدا ہوئے۔ وہ ایک عام خاندان سے تعلق رکھتے تھے، مگر ان کے دل میں انصاف اور آزادی کا جذبہ بچپن سے ہی موجود تھا۔ تعلیم حاصل کرنے کے بعد انہوں نے وکالت شروع کی اور اپنے لوگوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھائی۔
1 month ago | [YT] | 0
View 0 replies
Imtiaz History & Politics
رات 11 بج کر 40 منٹ پر ٹائٹینک ایک بڑی برفانی چٹان سے ٹکرا گیا۔ چٹان نے جہاز کے نچلے حصے کو چیر دیا اور پانی تیزی سے اندر داخل ہونے لگا۔ عملے نے جلد ہی سمجھ لیا کہ جہاز بچ نہیں سکتا۔ آہستہ آہستہ مسافروں میں خوف پھیلنے لگا۔
2 months ago | [YT] | 0
View 0 replies
Imtiaz History & Politics
14 اپریل 1912 کی رات ٹائٹینک کو کئی پیغامات موصول ہوئے کہ آگے برفانی چٹانیں موجود ہیں۔ مگر جہاز اپنی پوری رفتار سے چلتا رہا۔ سمندر بالکل پرسکون تھا، جس کی وجہ سے برف دیکھنا مشکل ہو گیا — اور یہی ایک خطرناک صورتحال بن گئی۔
2 months ago | [YT] | 0
View 0 replies
Imtiaz History & Politics
ٹائٹینک پر زندگی کسی محل سے کم نہیں تھی۔ فرسٹ کلاس کے مسافر شاندار ڈائننگ ہال، سوئمنگ پول اور لائیو میوزک سے لطف اندوز ہوتے تھے۔ تیسری کلاس کے مسافر اگرچہ سادہ حالات میں سفر کر رہے تھے، مگر اس وقت کے دوسرے جہازوں سے بہتر سہولتوں سے آراستہ تھے۔
2 months ago | [YT] | 0
View 0 replies
Imtiaz History & Politics
10 اپریل 1912 کو ٹائٹینک نے اپنا پہلا اور آخری سفر شروع کیا۔ جہاز ساؤتھ ہمپٹن (انگلینڈ) سے نیویارک کے لیے روانہ ہوا۔ اس پر دو ہزار دو سو سے زیادہ مسافر اور عملہ سوار تھا، جن میں دنیا کے امیر ترین لوگ اور امریکہ جانے والے کئی غریب تارکینِ وطن شامل تھے۔
2 months ago | [YT] | 0
View 0 replies
Imtiaz History & Politics
ٹائٹینک کو "ناقابلِ غرق" کہا جاتا تھا کیونکہ اس میں 16 واٹر ٹائٹ (پانی روکنے والے) حصے بنائے گئے تھے۔ لوگوں کو یقین تھا کہ اگر کئی حصے بھی بھر جائیں، تب بھی جہاز نہیں ڈوبے گا۔ مگر یہ یقین ایک افسوسناک غلطی ثابت ہوا۔
2 months ago | [YT] | 0
View 0 replies
Load more