Imtiaz History & Politics

Welcome to Imtiaz History & Politics

At Imtiaz History & Politics, we highlight important public issues, raise awareness, and spark meaningful discussions on social, political, and community matters. Our goal is to inform, educate, and empower people by addressing real-life challenges and exploring solutions.

We bring you in-depth analysis, thought-provoking discussions, and factual insights on the issues that matter most. Join us in making a difference by staying informed and voicing your thoughts!

✅ Subscribe and hit the bell icon to stay updated with our latest content.
📢 Let’s raise awareness and create change together!


Imtiaz History & Politics

وفاقی آئینی عدالت کے غیر اخلاقی اور جانبدارانہ فیصلے کے اثرات محسوس ہونے لگے ہیں۔
ساہیوال ہڑپہ سے تعلق رکھنے والی مسیحی بیٹی کے گھر میں نامعلوم افراد داخل ہوئے اور اسے پستول سے ڈرایا اور زبردستی اسلام قبول کر کے شادی کرنے پر مجبور کیا۔نامعلوم شخص نے کہا کہ عدالت نے ہمیں اہل کتاب سے شادی کی اجازت دی ہے۔
وفاقی آئینی عدالت اپنے فیصلے پر نظرثانی کرے اور اس نے مسیحی نابالغ لڑکیوں کی شادی کے حوالے سے جو غیر قانونی فیصلہ کیا ہے اسے کالعدم قرار دے۔
مقامی مسیحی خوف ہراس کا شکار ہیں
حکومت اور آرمی چیف سے نوٹس لینے کا مطالبہ کرتا ہوں۔

5 days ago | [YT] | 1

Imtiaz History & Politics

♦️ اٹلی کی خوبصورت وزیر اعظم جارجیا میلونی نے ایران کے دورے کا اعلان کیاہے
🔴 جارجیا میلونی نے کہا کہ اطالوی عوام کا صبر جواب دے چکا ہے۔ پورے ملک میں تیل کم ہو رہا ہے اور فیکٹریاں بند ہو رہی ہیں، ایک پاگل صدر کی وجہ سے جس نے پوری دنیا کو ایران کے خلاف اپنی جنگ میں شامل کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
🔴 میں اس ماہ ایران جاؤں گی تاکہ آبنائے ہرمز کو اطالوی بحری جہازوں کے لیے کھولوں اور ہم ان کی مکمل حمایت کریں گے کیونکہ وہ حق پر ہیں اور یہ بات کوئی نہیں چھپا رہا۔
🔴 آبنائے ان کی سرحد پر ہے؛ وہ اسے دنیا پر دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یہ ان کا حق ہے اور دنیا اب حقیقت جان چکی ہے۔
♦️ ٹرمپ ایران کا تیل چاہتا ہے، ہم بھی ایران کا تیل چاہتے ہیں، لیکن اٹلی اسے جائز طریقوں اور پیسے سے چاہتا ہے، جبکہ امریکہ صرف لوٹ مار اور چوری کرنا چاہتا ہے۔ جبکہ اٹلی لوٹ مار پر یقین نہیں رکھتا ، ہم جائز طریقے سے تیل کی سپلائی بحال کرنا چاہتے ہیں
#Italy #primeMinister #italion #Iranoil

#Iranvisit #Trump #iran #fbpost #viral #BreakingNews #WarUpdates#

5 days ago | [YT] | 1

Imtiaz History & Politics

وہ چار دن اپنے اسپتال کی پارکننگ میں مرا پڑ رہا
لاہور کے معروف چلڈرن ہسپتال سے ایک ایسی خبر سامنے آئی ہے
جس نے انسانیت کا سر شرم سے جھکا دیا ہے۔ ایک نوجوان، خوبرو اور قابل ڈاکٹر، ڈاکٹر احمد لطیف ہیماٹالوجی ڈیپارٹمنٹ ہسپتال کی
پارکنگ میں کھڑی اپنی ہی گاڑی میں مردہ پائے گئے، اور ستم ظریفی دیکھیے کہ چار دن تک کسی کو خبر تک نہ ہوئی۔
ڈاکٹر صاحب ڈیوٹی پر آئے، لیکن چار روز تک گھر واپس نہ پہنچے۔
ہسپتال کی مصروف ترین پارکنگ میں ان کی گاڑی کھڑی رہی، جس سے بدبو اٹھنے پر انتظامیہ کو ہوش آیا۔
گاڑی کا دروازہ توڑ کر دیکھا گیا تو اندر ڈاکٹر احمد لطیف کی چار دن پرانی، متعفن لاش موجود تھی۔
اس حادثے نے کئی ایسے سوالات چھوڑے ہیں جن کا جواب ملنا ضروری ہے:
چار دن تک ایک لختِ جگر گھر نہیں پہنچا، تو کیا اہل خانہ نے پولیس یا ہسپتال سے رابطہ نہیں کیا؟
فیروز پور روڈ پر واقع اس مصروف ترین ہسپتال کے سی سی ٹی وی (CCTV) کیمروں میں ڈاکٹر صاحب کا 'ان آؤٹ' کیوں چیک نہیں کیا گیا؟
ڈیپارٹمنٹ کے ساتھیوں نے ایک قابل ڈاکٹر کی چار دن کی غیر حاضری کو کیوں محسوس نہیں کیا؟ کیا ہم ایک دوسرے سے اتنے کٹ چکے ہیں؟
ذرائع کے مطابق مبینہ طور پر اینٹی ڈپریشن ڈرگز کی زیادتی موت کی وجہ بنی
لیکن اصل دکھ یہ ہے کہ معاشرے کا وہ طبقہ جسے ہم "مسیحا" کہتے ہیں، خود کتنا تنہا اور بے بس ہو سکتا ہے۔ ڈاکٹر احمد لطیف کا یوں چلے جانا
صرف ایک خاندان کا نقصان نہیں، بلکہ پورے طبی شعبے اور معاشرے کے لیے ایک لمحہ فکریہ ہے۔
ایک اہم انسان چار دن تک دنیا سے کٹا رہا، اور ہم اپنی فیملی، دوست، کولیگز اپنی اپنی زندگیوں میں اتنے مگن رہے کہ کسی کو اس کی کمی محسوس نہ ہوئی۔ "
اللہ تعالیٰ ڈاکٹر احمد لطیف کی مغفرت فرمائے اور ان کے لواحقین کو صبرِ جمیل عطا کرے۔
یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اپنے اردگرد کے لوگوں کی خبر رکھیں، شاید کسی
کو آپ کی مدد یا صرف ایک کال کی ضرورت ہو تصویر پہلے کومنٹ میں موجود ہے
😥😥😥😪
#DrAhmedLatif #ChildrenHospitalLahore #Tragedy #HealthCare #SocialIssue #JusticeForDrAhmed #imtiaztopvideos

6 days ago | [YT] | 1

Imtiaz History & Politics

2008ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر صدر آصف علی زرداری نے الاسکا کی گورنر اور ری پبلکن نائب صدارتی امیدوار سارہ پیلن سے ملاقات کی، مصافحہ کرتے ہوئے زرداری صاحب نے انہیں دیکھ کر کہا: "آپ ٹی وی پر لگنے سے بھی زیادہ خوبصورت ہیں"، پھر مزید کہا: "اب مجھے پتہ چلا کہ امریکہ آپ پر کیوں پاگل ہے"، جب ان کے معاون نے دوبارہ ہاتھ ملانے کی تجویز دی تو زرداری نے مذاقاً جواب دیا کہ اگر اصرار کیا جائے تو وہ انہیں گلے بھی لگا سکتے ہیں، یہ بات میڈیا میں خوب وائرل ہوئی، پاکستان کے مذہبی حلقوں میں تنقید کا باعث بنی اور بعض علما نے اس پر فتویٰ تک جاری کر دیا۔

6 days ago | [YT] | 2

Imtiaz History & Politics

ذوالفقار علی بھٹو کے چھوٹے داماد ناصر حسین (بعض جگہ ناصر حسین شاہ بھی لکھا جاتا ہے) بھٹو صاحب کی سب سے چھوٹی بیٹی صنم بھٹو کے شوہر تھے، دونوں کی شادی ستمبر 1981ء میں کراچی کے 70 کلفٹن میں ہوئی تھی، ناصر حسین کا تعلق برصغیر کے ایک بااثر خاندان سے تھا، ان کے والد جو ناگڑھ ریاست کے دیوان رہے تھے، یہ شادی بھٹو خاندان کی مشکلات کے دور میں ہوئی جب ذوالفقار علی بھٹو کی پھ ا ن س ی کے بعد خاندان مارشل لا کی سختیوں سے گزر رہا تھا، بعد میں صنم بھٹو اور ناصر حسین کا رشتہ الگ ہو گیا، مگر یہ بھٹو فیملی کے نجی اور کم بیان کیے جانے والے باب میں شامل ہے۔

6 days ago | [YT] | 1

Imtiaz History & Politics

کراچی. محمد علی سوسائٹی، 40 سالہ مشہور بیوروکریٹ جانے مانے شاعر مصطفیٰ زیدی کی لاش بر آمد ہوئی.
2 دن قبل ہی انھوں نے اپنی چالیسویں سالگرہ منائی تھی، اس ہی گھر کے دوسرے کمرے میں 28 سالہ خوبصورت لڑکی شہناز گل بھی بیہوشی کی حالت میں پائی گئی۔
مصطفیٰ زیدی کیس پاکستان کا مشہور اور پراسرار سیکس سکینڈل اور موت کا معمہ سمجھا جاتا ہے۔
ایک مشہور اردو شاعر، CSP افسر مصطفیٰ زیدی کی شاعری رومانوی اور حساس تھی۔ مَسرت نذیر کی مدھر آواز میں گایا مشہور گیت.. چلے تو کٹ ہی جائے گا سفر آہستہ آہستہ۔۔ ان ہی کی شاعری ہے.
13 اکتوبر کی صبح دوست اور فیملی دروازہ توڑ کر اندر داخل ہوئے کیونکہ فون مصروف تھا اور مصطفی زیدی سے رابطہ نہیں ہو رہا تھا۔
مصطفیٰ بستر پر مردہ پڑے تھے, منہ اور ناک سے خون بہہ رہا تھا، چادر پر بڑا خون کا دھبہ تھا۔
ساتھ والے کمرے میں خوبصورت سوشلائٹ، شادی شدہ خاتون شہناز گُل بے ہوش فرش پر پڑی تھیں، لگ یہ رہا تھا کہ ڈرگز اوور ڈوز کی وجہ سے وہ ہوش میں نہیں تھی۔
پولیس کو کچھ پمفلٹس بھی ملے جن پر شہناز کی عریاں تصاویر تھیں۔
کراچی کی ہائی سوسائٹی کی مشہور خاتون شہناز کا گوجرانوالہ سے تعلق تھا، شادی شدہ اور دو بچوں کی ماں۔ مصطفی زیدی بھی شادی شدہ تھے اور ان جرمن نژاد بیوی سے دو بچے بھی تھے لیکن مصطفی زیدی سے شہناز کا افئیر کھلا راز تھا۔
شہناز پر ہی بیوروکریٹ مصطفی زیدی کے قتل کا الزام لگا۔ مصطفی زیدی کی لاش کو کراچی کے سول ہسپتال اور بیہوش شہناز کو جناح ہسپتال منتقل کیا گیا۔
چالیس سالہ سی ایس پی افسر مصطفی زیدی مشہور شخصیت تھے اسلئے یہ کیس بہت مشہور ہوا، اخبارات نے مہینوں تک فرنٹ پیج پر کور کیا۔
شہناز گل جیسے ہی جناح ہسپتال کے بیڈ پر ہوش میں آئی تو ایک سپاہی اور ایک صحافی وہی کھڑے تھے، صحافی نے ہسپتال کے بیڈ پر ہی اٹھائیس سالہ دوشیزہ شہناز گل کی تصویر کھینچی جو بڑے اخبارات کے فرنٹ پیج پر چھپی۔
ٹرائل تقریباً دو سال چلا۔
عدالت نے شہناز گُل کو بری کر دیا۔ فیصلہ 32 صفحات کا تھا۔ عدالت نے نتیجہ نکالا کہ ثبوت ناکافی ہیں اور بیوروکریٹ مصطفی زیدی کی موت خودکشی لگتی ہے۔
زیدی پہلے بھی دو بار خودکشی کی کوشش کر چکے تھے۔ شاید اس روز بھی دونوں نے ڈرگز لیں لیکن شہناز بچ گئیں۔
کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ شہناز نے زہر دیا یا کوئی اور ملوث تھا، سیاسی سازش، اسمگلنگ، یا حسد کی وجہ کا ذکر بھی آیا۔
یحییٰ خان کے دور میں 300 بیوروکریٹس کی لسٹ تیار ہوئی جن کو کرپشن کے الزام میں برطرف کیا گیا، ان میں مصطفی کا نام بھی تھا۔ مصطفی زیدی کا موقف تھا کہ رشوت نا لینے پر میرے خلاف سازش ہوئی۔ عہدہ گیا اور شاید اپنے ساتھ ان کی شخصیت کا خاص عنصر بھی ساتھ لے گیا، کیس کے دوران اور اخبارات میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ مصطفی زیدی کی برطرفی کے بعد شہناز نے انھیں نظر انداز کرنا شروع کردیا، مصطفی شہناز سے شادی کرنا چاہتے تھے مگر شہناز گُل کے بارے میں مشہور ہوا کہ وہ کسی اور بااثر شخصیت سے تعلق میں آگئی تھی، مصطفی زیدی اس بات پر بھڑکے ہوئے تھے اس لئے ہاکس بے کے ایک ہٹ میں شہناز کی عریاں تصاویر بنوائی جو انکی موت والے دن کمرے سے بھی ملی۔ کہا جاتا ہے کہ تین بڑے اخبارات نے وہ تصاویر چھاپی جس کی معافی ان کے مالکان نے تب مانگی جب عدالتی کاروائی کا اندیشہ ہوا۔
عدالتی کاروائی میں شہناز کا بیان اور رویہ مصطفی کے متعلق ایسا تھا کہ جیسے وہ بالکل بھی انٹرسٹڈ نہیں تھی مگر شاعر مصطفی زیدی ہی اس کے پیچھے اپنی تینتیس سالہ جرمن بیوی کو دھوکا دے رہے تھے، اور شاید اس ہی لئے وہ انھیں چھوڑ کر بچوں سمیٹ جرمنی چلی گئی تھی۔
نتیجہ یہی ہے کہ سب سے زیادہ امکان خودکشی کا ہے، لیکن مکمل راز اب بھی حل نہیں ہوا۔ کئی جگہوں پر یہ تحریر ہے کہ مصطفی زیدی نے ائیرپورٹ پر شہناز کے خلاف سازش کی کوشش کی تھی، اس پر ہیروں کی سمگلنگ کا کیس ڈالنا چاہتے تھے لیکن یہ واضح نہیں ہوا کہ وہ یہ ملکی مفاد میں کر رہے تھے یا بیوفائی کے غم میں۔
تنیجہ یہ تھا کہ دو بچوں کے باپ جرمن نژاد جوان بیوی کے شوہر مشہور شاعر اور بیوروکریٹ مصطفیٰ زیدی ایک روز اپنے کمرے میں مردہ پائے گئے۔
انکی نماز جنازہ کراچی کے تاریخی علاقے رضویہ سوسائٹی کی امام بارگاہ میں ادا کی گئی۔
شاعر فہیم شناس کاظمی نے مصطفیٰ زیدی اور ان کی محبوبہ شہناز کے تعلق کے بارے میں ایک شعر کہا تھا کہ
جن کو چھو کر کتنے زیدیؔ اپنی جان گنوا بیٹھے
میرے عہد کی شہنازوںؔ کے جسم بڑے زہریلے تھے
یہ کیس آدھی صدی پرانا ہے۔
یہ 1970 کی کراچی کی ہائی سوسائٹی، محبت، غداری، میڈیا کی سنسنی خیزی، عورت اور معاشرتی منافقت کی کہانی ہے۔ شہناز گل کی زندگی اس واقعے کے بعد تبدیل ہو گئی، لیکن وہ بعد میں کراچی کی سوسائٹی میں واپس آ گئیں، ان کا انتقال 2010 میں ہوا۔

6 days ago | [YT] | 1

Imtiaz History & Politics

لاؤڈ سپیکر 1890 میں ایجاد ہوا، 1920 کے عشرے میں اس میں کافی جدت آچکی تھی اور ریڈیو، تھیٹرز وغیرہ میں اس کا استعمال عام ہوچکا تھا۔ انہی دنوں کسی نے برصغیر میں لاؤڈسپیکر پر اذان اور نماز پڑھانے کی تجویز پیش کی تو جیسے آگ لگ گئی اور تقریباً ہر فرقے کے علما نے اس کی شدت سے مخالفت کی۔
برصغیر کے نامور عالم، مولانا اشرف علی تھانوی صاحب نے 1928 میں فتوی جاری کردیا کہ لاؤڈ سپیکر پر نہ تو اذان جائز ھے، نہ جمعہ کا خطبہ اور نہ ہی نماز کی امامت۔
جب ان سے وجہ پوچھی گئی تو ان کا جواب تھا کہ لاؤڈ سپیکر پر آواز پہلے ریکارڈ ہوتی ھے اور پھر نشر کی جاتی ھے، اس لئے شرعی اعتبار سے ریکارڈڈ آواز میں نہ تو اذان جائز ھے اور نہ ہی خطبہ اور امامت۔ کچھ " لبرل" حضرات نے مولانا کی تھیوری کو چیلنج کرنے کی کوشش کی تو ان پر حسب توقع اور حسب توفیق، کفر کے فتوے لگ گئے۔
جب دباؤ بڑھا تو مفتی شفیع نے اپنے فتوے میں کہا کہ اگر لاؤڈ سپیکر کے اندر موجود سسٹم آواز کی " ایکو" کو اس طریقے سے پراسیس کرتا ھے کہ اصل آواز کی ہئیت بدل جاتی ھے۔ مزید براں یہ کہ اگر دوران نماز لاؤڈسپیکر کسی وجہ سے خراب ہوجائے تو پوری نماز ضائع ہوجائے گی اور دوبارہ پڑھنے پڑے گی۔
حالت اور وقت ایک سے نہیں رہتے، یہی کچھ بے چارے لاؤڈسپیکر کے ساتھ بھی ہوا۔
جب سعودی عرب کے علما نے 1950 میں لاؤڈسپیکر کے زریعے حرم میں اذان اور خطبہ وغیرہ دینا شروع کردیا تو ہمارے علما کو اچانک لاؤڈسپیکر کے اندر چھپی ہوئی روحانیت نظر آنے لگی پھر راتوں رات تھانوی صاحب کے فتوے کو منوں مٹی تلے دبا کر نیا فتوی دیا گیا جس کے تحت لاؤڈ سپیکر کا استعمال جائز قرار دے دیا گیا۔
پھر کچھ یوں ہوا کہ 90 کی دہائی میں نوازحکومت نے بڑھتی ہوئی فرقہ واریت پر قابو پانے کیلئے مساجد میں لاؤڈسپیکر کا استعمال ممنوع قرار دیا تو پورے ملک میں آگ لگ گئی۔ علما نے ملک گیر ہڑتالیں کیں، ٹائر جلائے، املاک کو تباہ کیا، تب جا کر حکومت کو اس کے اس ' شیطانی ' اقدام پر نظرثانی کرنا پڑی۔
چند برس قبل لاہور میں جلالی صاحب کا ختم نبوت ﷺ کا دھرنا اختتام پذیر ہوا۔ وہ شروع تو رانا ثنا اللہ کے استعفی کے مطالبے پر ہوا تھا لیکن ختم اس شرط پر ہوگیا کہ پنجاب حکومت کی کمیٹی مساجد میں لاؤڈ سپیکر کی تعداد بڑھانے پر غور کرے گی۔

6 days ago | [YT] | 0

Imtiaz History & Politics

ایران کا لفظ آریا سے نکلا ہے یعنی ایرانیوں کا تعلق قدیم آریائی گروہ سے ہے ایران کو Land of Aryans بھی کہا جاتا ہے یہ ہمیشہ سے جنگجو لوگ رہے ہیں آریائی لوگ ہی شمالی ہندوستان پر حملہ آور ہوئے جن کے پریشر کی وجہ سے مقامی گروہ جنوبی ہندوستان کی طرف دھکیلتے چلے گئے

اسی طرح آرمینیا بھی آریائی گروہ کی ایک شاخ آرمینائی سے تعلق رکھتا ہے ایرانی انہیں اپنا قدیم دوست بھائی مانتے ہیں مشہور ساسانی بادشاہ خسرو پرویز کی عیسائی محبوبہ اور بیوی شیریں کا تعلق بھی آرمینیا سے تھا یہ علاقہ سائرس کے دور سے ہی سلطنت فارس کا حصہ تھا

اسی طرح آذربائیجانی لوگ بھی قدیم فارسی آریائی لوگ شمار ہوتے تھے ان کی زبان فارسی اور میڈیائی تھی لیکن گیاوریں صدی میں ترکوں کے عروج (سلجوقی) کی وجہ سے یہ خطہ ترک ثقافت کے زیر اثر آ گیا اور اب یہ لوگ ترک زبان بولتے ہیں

سن 1913 میں روس کی فارس کے ساتھ جنگ (Russo Persian war) میں فارس کی شکست کے بعد معاہدۂ گلستان ( Gulistan treaty ) کے تحت روس نے آرمینیا اور آذربائیجان پر قبضہ کر لیا جو کہ1991 میں سوویت یونین کے خاتمے تک جاری رہا۔

1 week ago | [YT] | 0

Imtiaz History & Politics

Public Health Issues in Pakistan

1 week ago | [YT] | 1

Imtiaz History & Politics

An Overview of Pakistan’s Healthcare Problems

1 week ago | [YT] | 0