یہ عفرین گل ہے
پاکستان کی صرف 13 سالہ بچی، جس کی زندگی درد اور جدوجہد سے بھری تھی۔
ریڑھ کی ہڈی کی بیماری نے اس کا سر جھکا دیا تھا، چلنا، بیٹھنا، حتیٰ کہ کھانا بھی مشکل تھا۔
پھر انسانیت بولی۔
بھارت میں دہلی کے ڈاکٹر راجگوپال کرشنن نے سرحدوں سے اوپر اٹھ کر، ایک روپیہ لئے بغیر اس کا علاج کیا۔
چار مشکل آپریشنز کے بعد…آج عفرین سیدھی کھڑی ہے۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ بچہ خوش کیوں ہے؟
کیونکہ یہ تھیلیسیمیا کا مریض ہے ، بچے کو بلڈ مل گیا ہے, اب وقتی طور پر اس کی صحت بحال ہو جائے گی, چند دن یہ ہنسے گا کھیلے گا اور چند دن بعد پھر اس کی Hb کم ہو جائے گی بچے کو بخار ہو جائے گا تکلیف میں مبتلا ہو جائے گا اور ماں باپ دوبارہ خون کی تلاش کے لئے رابطے شروع کر دیں گے۔ یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہے گا اور اگر کبھی خون نہ ملا تو یہ ننھا پھول مرجھا جائے گا۔
یاد رکھیں آپ کا خون تو دوبارہ بن کر آپکو مل سکتا ہے لیکن کسی کی زندگی نہیں ۔ خون کا عطیہ کرنا انسانیت کی مدد کرنے کے سب سے بڑے طریقوں میں سے ایک ہے۔ ایسا کرنے سے، ہم کسی کی قیمتی جان بچاسکتے ہیں، اور ایسے بہت سے معصوم چہرے ہماری راہ تکتے ہیں کہ کوئی آئے اور انکو خون کا عطیہ کرے۔ تھیلیسیمیا بچوں کے لیے خون اتنا ہی ضروری ہے جتنا ہمیں زندہ رہنے کے لیے خوراک ۔اس لئےخون کا عطیہ کریں اور کسی کی زندگی بچانے میں مددگار ثابت ہوں۔
"جس نے ایک انسان کی جان بچائی گویا اس نے پوری انسانیت کی جان بچائی۔" 🙏
انہوں نے کہا کہ اس چھوٹے بچے کے زندہ رہنے کا کوئی امکان نہیں تھا، لیکن اس نے اور ڈاکٹروں نے انہیں غلط ثابت کیا! اور وہ کہتے ہیں نہ کہ جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے ۔
یہ ایک انتہائی کم وزن والے بچے کا معاملہ ہے جو وقت سے پہلے پیدا ہوا تھا۔ بائیں طرف کی تصویر اس کے سائز کا ایک قلم سے موازنہ کرتی ہے جو اس کی کل لمبائی کا تقریباً 80 فیصد ہے۔ جب اس کے لیے زندہ رہنا تقریباً ناممکن تھا، وہ نرسری آئی سی یو میں کٸ دن لڑتا اور جدوجہد کرتا رہا یہاں تک کہ اسے محفوظ مقام پر پہنچا دیا گیا۔
دائیں طرف ایک تصویر ہے جو اس کی موجودہ حالت کو ظاہر کرتی ہے اور اس بات کا زندہ ثبوت ہے کہ اللہ پاک کی رضا شاملِ حال ہو تو کچھ بھی ناممکن نہیں ❤️ @DrAbdullahSaleem
Dr Abdullah Saleem
یہ عفرین گل ہے
پاکستان کی صرف 13 سالہ بچی، جس کی زندگی درد اور جدوجہد سے بھری تھی۔
ریڑھ کی ہڈی کی بیماری نے اس کا سر جھکا دیا تھا، چلنا، بیٹھنا، حتیٰ کہ کھانا بھی مشکل تھا۔
پھر انسانیت بولی۔
بھارت میں دہلی کے ڈاکٹر راجگوپال کرشنن نے سرحدوں سے اوپر اٹھ کر، ایک روپیہ لئے بغیر اس کا علاج کیا۔
چار مشکل آپریشنز کے بعد…آج عفرین سیدھی کھڑی ہے۔
گردن بلند، آنکھوں میں امید، اور چہرے پر مسکراہٹ۔
یہ ہے انسانیت — نہ مذہب، نہ سرحد۔ ❤️🇵🇰
1 month ago | [YT] | 6
View 0 replies
Dr Abdullah Saleem
کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ بچہ خوش کیوں ہے؟
کیونکہ یہ تھیلیسیمیا کا مریض ہے ، بچے کو بلڈ مل گیا ہے, اب وقتی طور پر اس کی صحت بحال ہو جائے گی, چند دن یہ ہنسے گا کھیلے گا اور چند دن بعد پھر اس کی Hb کم ہو جائے گی بچے کو بخار ہو جائے گا تکلیف میں مبتلا ہو جائے گا اور ماں باپ دوبارہ خون کی تلاش کے لئے رابطے شروع کر دیں گے۔ یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہے گا اور اگر کبھی خون نہ ملا تو یہ ننھا پھول مرجھا جائے گا۔
یاد رکھیں آپ کا خون تو دوبارہ بن کر آپکو مل سکتا ہے لیکن کسی کی زندگی نہیں ۔ خون کا عطیہ کرنا انسانیت کی مدد کرنے کے سب سے بڑے طریقوں میں سے ایک ہے۔ ایسا کرنے سے، ہم کسی کی قیمتی جان بچاسکتے ہیں، اور ایسے بہت سے معصوم چہرے ہماری راہ تکتے ہیں کہ کوئی آئے اور انکو خون کا عطیہ کرے۔ تھیلیسیمیا بچوں کے لیے خون اتنا ہی ضروری ہے جتنا ہمیں زندہ رہنے کے لیے خوراک ۔اس لئےخون کا عطیہ کریں اور کسی کی زندگی بچانے میں مددگار ثابت ہوں۔
"جس نے ایک انسان کی جان بچائی گویا اس نے پوری انسانیت کی جان بچائی۔" 🙏
2 months ago | [YT] | 8
View 0 replies
Dr Abdullah Saleem
انہوں نے کہا کہ اس چھوٹے بچے کے زندہ رہنے کا کوئی امکان نہیں تھا، لیکن اس نے اور ڈاکٹروں نے انہیں غلط ثابت کیا! اور وہ کہتے ہیں نہ کہ جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے ۔
یہ ایک انتہائی کم وزن والے بچے کا معاملہ ہے جو وقت سے پہلے پیدا ہوا تھا۔ بائیں طرف کی تصویر اس کے سائز کا ایک قلم سے موازنہ کرتی ہے جو اس کی کل لمبائی کا تقریباً 80 فیصد ہے۔ جب اس کے لیے زندہ رہنا تقریباً ناممکن تھا، وہ نرسری آئی سی یو میں کٸ دن لڑتا اور جدوجہد کرتا رہا یہاں تک کہ اسے محفوظ مقام پر پہنچا دیا گیا۔
دائیں طرف ایک تصویر ہے جو اس کی موجودہ حالت کو ظاہر کرتی ہے اور اس بات کا زندہ ثبوت ہے کہ اللہ پاک کی رضا شاملِ حال ہو تو کچھ بھی ناممکن نہیں ❤️
@DrAbdullahSaleem
3 months ago | [YT] | 7
View 1 reply