Salman Qasmi Official


🌙 Welcome to Our Islamic Family Channel! ❣️

"لَئِن شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ"
"If you are grateful, I will surely increase you."
(Qur’an – Surah Ibrahim 14:7)

📌 About the Channel:

This channel is a peaceful online space to discover the beautiful teachings of Islam, grounded in the Qur'an and Sunnah. Whether you're beginning your spiritual journey or looking to deepen your faith, you're warmly welcomed here.

🌟 What You’ll Find:

🕋 Soothing Qur'an recitations by renowned Imam's
🎙️ Inspiring Bayanat (Islamic talks) from authentic scholars
📹 Motivational Islamic videos to uplift your Imaan
📘 Essential Islamic knowledge for everyday life
🕌 Heart-touching reminders, Duas, and more

🎯 Our Goal:

To spread authentic Islamic teachings and help bring hearts closer to Allah ﷻ.
🙌 Stay Connected:
👉 Like, Share & Subscribe to join us on this spiritual journey.
Jazakum Allahu Khayran!


مزید معلومات کیلئے ہمارے چینل کو لائک، شیئر اور سبسکرائب کریں۔

🌺 جزاک اللہ خیراً! 🌷


Salman Qasmi Official

اللَّهُــمَّ صـَلِّ وَسَـــلِّمْ وبارك
علـى سيدنا مُحمَّد وآله ﷺ 💖🌸❤️

2 weeks ago | [YT] | 7

Salman Qasmi Official

نبی کریم ﷺ کی سفارش کا حقدار کون ؟؟؟

ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے اللہ کے رسول ﷺ سے دریافت کیا : " سب سے زیادہ آپ ﷺ کی سفارش کا حقدار اور خوش نصیب کون ہوگا ؟

تو آپ ﷺ نے فرمایا : " جس نے خلوص دل کے ساتھ لا الہ الااللہ کا اقرار کیا "

(بخاری: 99)

2 weeks ago | [YT] | 3

Salman Qasmi Official

ایک تحریر کا جواب
سب سے پہلی اور بنیادی بات یہ ہے کہ زنا کبھی درست نہیں ہو جاتا، چاہے حالات کتنے ہی خراب کیوں نہ ہوں۔ قرآن صاف اعلان کرتا ہے:
“زنا کے قریب بھی نہ جاؤ، بے حیائی اور بدترین راستہ ہے”۔
یہ حکم کسی شرط کے ساتھ نہیں، نہ غربت کی رعایت ہے، نہ جذبات کی، نہ شوہر کی کمزوری کی۔
یہ کہنا کہ “عورت نے جو کیا ٹھیک کیا” کھلی گمراہی ہے۔ اگر عورت مظلوم ہے، اگر شوہر میں واقعی کوئی کمی ہے، تو شریعت نے واضح اور باعزت راستے دیے ہیں: اصلاح، خاندان کی مداخلت، طلاق یا خلع۔ کسی تیسرے مرد کے ساتھ تعلق نہ انصاف ہے، نہ حل، نہ عزت — بلکہ ایک اور گناہ ہے۔
اس تحریر میں “لمس” کو مردانگی کا معیار بنا دیا گیا ہے، جو انتہائی سطحی اور حیوانی سوچ ہے۔ مردانگی صرف جنسی طاقت کا نام نہیں، بلکہ ذمہ داری، وفاداری، حفاظت، غیرت اور حیا کا نام ہے۔ اگر لمس ہی سب کچھ ہے تو نکاح، وفا، خاندان اور شریعت سب بے معنی ہو جاتے ہیں۔
پھر بھائیوں کو مجرم بنا کر زنا کو درست ٹھہرانا بھی ایک خطرناک منطق ہے۔ بھائی غلط ہو سکتے ہیں، شادی غلط ہو سکتی ہے، مگر اس کا حل بدکاری نہیں۔ اگر ہر گناہ کا جواز کسی اور کی غلطی بنا لیا جائے تو معاشرہ جنگل بن جاتا ہے۔
یہ کہنا کہ “وہ گناہ نہیں چاہتی تھی، نکاح چاہتی تھی” بھی خود اپنے اندر تضاد رکھتا ہے۔ اگر نکاح مقصود تھا تو زنا کیوں کیا گیا؟ اسلام میں ترتیب واضح ہے: پہلے نکاح، پھر تعلق — نہ کہ پہلے تعلق اور بعد میں نکاح کا بہانہ۔
اسی طرح غربت کو زنا کا جواز بنانا بھی باطل ہے۔ نبی ﷺ نے نکاح کی استطاعت نہ رکھنے والوں کو ضبطِ نفس اور روزے کا راستہ بتایا، نہ کہ حرام کو ہیرو ازم۔
تحریر میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ “ننگے وہ نہیں، ننگا معاشرہ ہے”۔ حقیقت یہ ہے کہ ننگا وہ معاشرہ نہیں بلکہ وہ ضمیر ہے جو زنا کو ہیرو، وفا کو جرم اور حیا کو دقیانوسیت کہنے لگے۔ ننگی وہ سوچ ہے جو حرام کو حق اور حق کو تماشا بنا دے۔
خلاصہ بالکل واضح ہے:
عورت مظلوم ہو سکتی ہے مگر زنا پھر بھی زنا ہی رہتا ہے۔ اس فعل کا دفاع اسلام سے بغاوت، معاشرتی تباہی اور آنے والی نسلوں کی اخلاقی موت کا راستہ ہے۔

2 weeks ago | [YT] | 8

Salman Qasmi Official

"لالچ کا پیالہ کبھی نہیں بھرتا"

یعنی
انسان اگر لالچ میں پڑ جائے تو وہ کبھی مطمئن نہیں ہوتا۔
جتنا بھی مل جائے، وہ مزید کا خواہش مند رہتا ہے۔
لالچ انسان کو ناشکری، بےسکونی اور ہلاکت کی طرف لے جاتا ہے۔

اسلام کی روشنی میں

نبی ﷺ نے فرمایا:
"اگر آدمی کے پاس سونے کی ایک وادی ہو تو وہ دوسری کی تمنا کرے گا"
(صحیح بخاری)

یہی مفہوم ہے کہ لالچ کبھی ختم نہیں ہوتا۔

3 weeks ago | [YT] | 5

Salman Qasmi Official

Reminder 🔔

3 weeks ago | [YT] | 5

Salman Qasmi Official

قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ يُوحَىٰ إِلَيَّ أَنَّمَا إِلَٰهُكُمْ إِلَٰهٌ وَاحِدٌ ۖ فَمَن كَانَ يَرْجُو لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِ أَحَدًا.
یعنی:اے نبی!آپ فرمادیں کہ: میں تمہارے ہی جیسا ایک انسان ہوں میرے پاس یہ وحی نازل کی گئی ہے کہ:
*بلاشبہ تمہارا معبود،ایک ہی معبود ہے*
پس جو شخص اپنے رب سے ملاقات کی آرزو رکھتا ہو،اس کو چاہیے کہ:نیک کام کرےاور
* اپنے رب کی عبادت میں کسی کو بھی شریک نہ کرے*
سورۃ الکہف ،آیت:١١٠۔

1 month ago | [YT] | 17

Salman Qasmi Official

Islamic perspectives on Christmas and Holiday Celebration :

we do not celebrate Christmas or any other holiday that is not part of the Islamic tradition. This is because our celebrations are based on what has been prescribed by Allah and His Messenger, Prophet Muhammad (peace and blessings be upon him). The two main celebrations in Islam are Eid al-Fitr and Eid al-Adha, which are acts of worship and gratitude to Allah.

Regarding the date of Jesus' (peace be upon him) birth, Islam does not specify an exact date for his birth. The Quran and authentic Sunnah do not provide any evidence that Jesus (peace be upon him) was born on December 25th or any other specific date. The date of December 25th is a tradition that was adopted by Christians centuries after Jesus' time, and it is not based on definitive historical evidence. Some historians suggest that this date was chosen to coincide with pre-Christian pagan festivals, such as the Roman celebration of the winter solstice.

As Muslims, we believe in and honor Jesus (peace be upon him) as one of the greatest Prophets of Allah. However, we do not commemorate his birth in the form of a celebration. Instead, we honor him by believing in his message, respecting his role as a Prophet, and following the guidance of Islam, which confirms his prophethood and clarifies misconceptions about him.

It is also important to note that the Quran emphasizes that Jesus (peace be upon him) was a servant and messenger of Allah, not divine or part of a trinity. Allah says in the Quran:

"The Messiah, son of Mary, was no more than a messenger; many messengers had passed away before him. His mother was a woman of truth. They both used to eat food. See how We make the signs clear to them; yet see how they are deluded!" (Quran 5:75)

In conclusion, while the date of December 25th is not recognized in Islam as the birthdate of Jesus (peace be upon him), we respect him as a Prophet and honor his legacy by adhering to the monotheistic message he preached: worshiping Allah alone without associating any partners with Him.
کرسمس اور تہواروں کے بارے میں اسلامی نقطہ نظر

ہم کرسمس یا ایسا کوئی بھی تہوار نہیں مناتے جو اسلامی روایت کا حصہ نہ ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہماری خوشیاں اور جشن اللہ اور اس کے رسول، حضرت محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بتائے ہوئے احکامات پر مبنی ہیں۔ اسلام میں دو اہم ترین تہوار عید الفطر اور عید الاضحیٰ ہیں، جو درحقیقت اللہ کی عبادت اور اس کے شکرانے کے طور پر منائے جاتے ہیں۔

جہاں تک حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی تاریخِ پیدائش کا تعلق ہے، اسلام میں ان کی پیدائش کی کوئی مخصوص تاریخ متعین نہیں کی گئی۔ قرآنِ کریم اور سنتِ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملتا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) 25 دسمبر یا کسی بھی دوسری مخصوص تاریخ کو پیدا ہوئے تھے۔ 25 دسمبر کی تاریخ ایک ایسی روایت ہے جسے عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے صدیوں بعد اپنایا، اور اس کی بنیاد کسی حتمی تاریخی ثبوت پر نہیں ہے۔ بعض مورخین کا یہ کہنا ہے کہ اس تاریخ کا انتخاب قدیم مشرکانہ تہواروں (جیسے کہ رومیوں کا جشنِ انقلابِ سرما) سے مطابقت پیدا کرنے کے لیے کیا گیا تھا۔

بطور مسلمان، ہم حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان رکھتے ہیں اور اللہ کے جلیل القدر پیغمبر کے طور پر ان کی تعظیم کرتے ہیں۔ تاہم، ہم ان کی ولادت کی مناسبت سے کسی جشن کا اہتمام نہیں کرتے۔ اس کے بجائے، ہم ان کے لائے ہوئے پیغام پر یقین رکھ کر، بطور نبی ان کے مقام کا احترام کر کے، اور اسلام کی ان تعلیمات پر عمل کر کے انہیں خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں جو ان کی نبوت کی تصدیق کرتی ہیں اور ان کے بارے میں پیدا ہونے والی غلط فہمیوں کا ازالہ کرتی ہیں۔

یہ بات بھی انتہائی اہم ہے کہ قرآنِ مجید اس حقیقت پر زور دیتا ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے بندے اور اس کے رسول تھے، وہ نہ تو معبود تھے اور نہ ہی تثلیث کا حصہ۔ اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے:

"مسیح ابن مریم تو صرف ایک رسول تھے، ان سے پہلے بھی بہت سے رسول گزر چکے ہیں۔ ان کی ماں ایک سچی عورت تھی، وہ دونوں (عام انسانوں کی طرح) کھانا کھاتے تھے۔ دیکھو ہم نے کس طرح ان کے لیے نشانیاں کھول کر بیان کیں، پھر دیکھو کہ وہ کدھر الٹے بہکے جا رہے ہیں!" (سورۃ المائدہ، آیت: 75)

خلاصہ کلام یہ ہے کہ اگرچہ اسلام میں 25 دسمبر کو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی تاریخِ پیدائش تسلیم نہیں کیا جاتا، لیکن ہم ایک نبی کی حیثیت سے ان کا بے حد احترام کرتے ہیں۔ ہم ان کی میراث کی قدر اس توحید کے پیغام پر کاربند رہ کر کرتے ہیں جس کی انہوں نے تبلیغ کی تھی: یعنی اللہ کی وحدانیت پر یقین رکھنا اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا۔

آپ ان باتوں سے کتنے متفق ہیں کمنٹ باکس میں بتائیں 👇👇

#Xmas2025
#Christmas
#islam

1 month ago | [YT] | 1

Salman Qasmi Official

مشہور عالمی شخصیت مولانا پیر ذوالفقار نقشبندی کافی عرصہ سے گردوں کے عارضہ میں مبتلا تھے اور ان کا علاج جاری تھا۔ آج وہ اپنے لاکھوں مریدین کو داغ مفارقت دے گئے،اللہ رب العالمین حضرت والا رحمۃ اللہ کی مغفرت فرمائے اور تمام مریدین و معتقدین کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین 😭🤲🤲

1 month ago | [YT] | 51

Salman Qasmi Official

سورۃ الجن : آیت نمبر 22
۔
۔
۔
#islamic #islamicreminder #Hadith #Quran #islam #dua #hadeesoftheday #islamicpost #islamicpage

2 months ago (edited) | [YT] | 33

Salman Qasmi Official

Allahumma Ameen 🤲

3 months ago | [YT] | 40