Here You Will See Farming Related Educational Videos and Different Business Ideas by Ajmal Hameed.Stay Tuned Pakistan Zindabaad Channel WhatsApp:03097403277
نازک سی احساس والی بات! *آپ نے نوٹ کیا ہوگا…* جیسے ہی شدید سردی کے دو مہینے آتے ہیں فیس بُک پر ایک ہی طرح کی خبریں قطار باندھ لیتی ہیں: “والد صاحب کا قضائے الٰہی سے انتقال ہو گیا” “والدہ محترمہ ہم سے بچھڑ گئیں” “ساس، سسر اس دنیا سے رخصت ہو گئے” یہ محض اتفاق نہیں۔ آپ کو خاموشی سے خبردار کیا جا رہا ہے کہ ان بزرگوں میں سے اکثریت سردی کی نذر ہو جاتی ہے۔ 💭 والدین کبھی اولاد سے کچھ نہیں مانگتے۔ ضرورت انتہا پر بھی ہو تو بھی نہیں مانگتے۔ یہ ان کی فطرت میں ہی نہیں ہوتا۔ سوچئے… ساری زندگی مسجد و مدرسے کے لیے چندہ مانگنے والا مولوی بھی بڑھاپے میں اپنی اولاد سے ایک کمبل مانگنے کی ہمت نہیں کر پاتا۔ 💭 اس لیے سوال مت کیجیے۔ کیونکہ آپ پوچھیں گے تو جواب ہمیشہ یہی ملے گا: “نہیں، مجھے کچھ نہیں چاہیے۔” اور المیہ یہ ہے کہ ہم اس “نہیں” کو قبول کر لیتے ہیں 😐 💭 خود احساس کیجیے۔ خود ذمہ داری اٹھائیے۔ ان کے لیے گرم رضائیاں لائیے، گرم کپڑے، کوٹ، موٹے موزے، مناسب جوتے، اور گرم، طاقت بخش خوراک مہیا کیجیے۔ یہ بات ذہن میں بٹھا لیجیے: ان کی رضائی آپ کی رضائی سے ڈبل ہونی چاہیے، ان کے کپڑے آپ کے کپڑوں سے زیادہ گرم ہونے چاہئیں۔ کیونکہ بڑھاپے میں سردی زیادہ لگتی ہے۔ اور قوتِ مدافعت باقی قوتوں کی طرح کمزور ہو چکی ہوتی ہے۔ 💭 سردیوں میں بزرگوں کی اموات میں جو غیر معمولی اضافہ ہوتا ہے وہ اکثر اسی نالائق اولاد کی وجہ سے ہوتا ہے جو ان باتوں کا شعور ہی نہیں رکھتی۔ یاد رکھیے… جس طرح آپ کے بچپن میں والدین خود دیکھتے تھے کہ آپ کے گرم کپڑے پورے ہیں یا نہیں، اب وہی رول آپ نے پلے کرنا ہے۔ پوچھنا نہیں ہے۔ خود دیکھنا ہے۔ خود انتظام کرنا ہے۔ 💭 یہ صرف ایک پوسٹ نہیں، یہ ایک امانت ہے، والدین ایک ذمہ داری ہے جو اللّٰه نے آپ کے کندھوں پر رکھی ہے۔ جو آخرت بھی سنواریں گی خود بھی عمل کیجیے اور دوسروں تک بھی یہ بات پہنچائیے۔ امید ہے آپ سمجھیں گے… اور عمل کریں گے (ان شاء اللّٰہ شکریہ
غربت کی حیران کن 15 وجوہات ! ۱۔ "سرکاری نوکری" کا نشہ پاکستانی جوان کی بہترین ۱۰ سال "سرکاری نوکری" کے انتظار میں ضائع ہو جاتے ہیں۔ 25 ہزار کی پرائیویٹ نوکری یا چھوٹا کاروبار کرنا توہین سمجھا جاتا ہے۔ ۳۰ سال کی عمر تک والدین پر پلتے ہیں، پھر وقت ہاتھ سے نکل جاتا ہے۔ ۲۔ دکھاوے کی شادیاں جیب میں پھوٹی کوڑی، مگر شادی پر ۱۰ لاکھ کا کھانا اور ۵ لاکھ کا جہیز؟ زندگی کی جمع پونجی صرف ۴ گھنٹے کی تقریب میں برباد، اور اگلے ۵ سال قرض اتارتے رہتے ہیں۔ ۳۔ ڈگری زدہ جاہل ہاتھ میں ماسٹرز مگر ایک پروفیشنل ای میل لکھنا نہیں آتا۔ مارکیٹ ڈگری کو نہیں، Skill کو پیسے دیتی ہے۔ ۴۔ ایک کمائے، دس کھائیں مشترکہ خاندان کا المیہ: ایک کماتا ہے، باقی سب "پیر پسار" کرتے ہیں۔ سرمایہ کاری کی بجائے دوسروں کے پیٹ بھرنا، امیر ہونے سے روکتا ہے۔ ۵۔ کمیٹی کلچر کمیٹی ڈالنے کا شوق ، سرمایہ کاری سے ڈر۔ ۲ سال بعد جو رقم ملے گی، مہنگائی کی وجہ سے اس کی اصل قیمت کم ہو چکی ہوگی۔ ۶۔ انا کا بت "میں چوہدری کا بیٹا ہوں، ریڑھی لگاؤں گا؟" چھوٹا کام شرم نہیں، سوچ چھوٹی ہے۔ ۷۔ صحت کی تباہی تیل، چینی، فاسٹ فوڈ… ۴۰ سال بعد جسم تباہ، ۵۰ سال بعد کمائی ہسپتالوں میں۔ صحت کو نظر انداز کرنا غربت کی سیدھی راہ ہے۔ ۸۔ شارٹ کٹ کی تلاش امیر بننا ہے، مگر محنت کے بغیر۔ ڈبل شاہ، کرپٹو فراڈ، لاٹری… پروسیس پر یقین نہ ہونا نسلیں غریب رکھتا ہے۔ ۹۔ الزام تراشی "حکومت خراب ہے، نواز شریف نے کھا گیا…" ناکامی کا ملبہ دوسروں پر ڈالنا آسان، مگر ترقی کبھی نہیں۔ ۱۰۔ ادھار پر عیاشی "آئی فون" قسطوں پر تاکہ دوسروں کو متاثر کیا جا سکے۔ قرض لینا مالی خودکشی ہے۔ ۱۱۔ سیکھنا بند ڈگری ملتے ہی کتاب بند۔ سال میں ایک کتاب بھی نہ پڑھنا دماغی سرمایہ کاری بند کرنا ہے۔ ۱۲۔ اولاد بطور انشورنس بچے وسائل کے بغیر پلیں تو سرمایہ نہیں، بوجھ بنتے ہیں۔ ۱۳۔ رسک فوبیا پیسہ بینک میں سڑنا یا پلاٹ خریدنا۔ رسک نہ لینے والے کبھی ترقی نہیں کرتے۔ ۱۴۔ حاسدانہ رویہ امیر کو دیکھ کر نفرت۔ امیر سے نفرت کرنے والا خود امیر نہیں بن سکتا۔ ۱۵۔ وقت کا قتلِ عام چائے کے ڈھابے، ٹک ٹاک، فضول محفلیں… سب سے قیمتی چیز "وقت" ضائع۔ نوٹ: اپنی بدحالی کا ملبہ حکومت یا تقدیر پر نہ ڈالیں۔ آپ کی جیب خالی نہیں، دماغ بنجر ہے۔ جھوٹی انا اور سستی کا جنازہ نکالیں، غربت نسلوں کو اسی طرح چاٹتی رہے گی۔ زندگی بدلنا ہے؟ آج سے شروع کریں۔شکریا
ڈر کے آگے جیت ! کسی بڑے آدمی نے بہت زیادہ سوچ کے اور پلان کر کے اپنے پروجیکٹس شروع نہیں کیے تھے، انہیں نہیں پتہ تھا کہ یہ پروجیکٹ کل کے کامیاب ترین پروجیکٹس ہونگے۔
گوگل، فیس بک، واٹس ایپ، علی بابا، اردو پواؤنٹ اور لا تعداد ایسے پروجیکٹس تھے جو بس شوق پورا کرنے کے لیے شروع کیے گئے لیکن ایک وقت وہ بھی آیا جب وہ دنیا کی ضرورت بن گئے۔
ہم بہت زیادہ سوچتے ہیں، پلاننگ کرتے ہیں، اوور تھنکنک، ناکامی کا خوف، لوگوں کی باتوں کا خوف، ذمہ داری پوری نہ کر سکنے کا خوف ہمیں بے بی سٹیپس لینے سے روکتا رہتا ہے۔
وہ ہمیں یہ تو بتاتا کہ یہ کریں گے تو ناکام ہو سکتے ہیں، نقصان ہو سکتا ہے لیکن یہ نہیں بتاتا کہ نہیں کریں گے تو جو مستقبل میں ہو سکتا تھا وہ آج ہی ہم نے اپنے ساتھ اپنے ہاتھوں سے کر لیا۔
لڑکپن سے ہی اپنے بچوں کو الٹے سیدھے پنگے لینے کا عادی بنائیں، ان کی کریٹیکل تھنکنگ کی طرف حوصلہ افزائی کریں۔
انہیں موبائل دینے کے ساتھ یہ بتائیں کہ موبائل بنا کیسے یہ کھوج نکالو، جو گیم تم کھیل رہے ہو، یہ کیسے بنی، اگر تمہیں اپنی گیم بنانی پڑ جائے تو کیسا رہے گا؟ تمہیں سپیس شپس اور راکٹس دیکھنے کا شوق ہے، یہ دیکھو کہ یہ بنے کیسے، وہ کونسی چیزیں جو تمہیں میسر ہوں تو ہم بھی ایسا کچھ بنانے کی طرف رجحان بڑھاؤ۔
لیپ ٹاپ تمہارے سامنے چل رہا ہے، یہ کیوں چل رہا ہے، اسی کیا چیز چلا رہی ہے، اسے کھول ڈالو، توڑ ڈالو، نئے طریقے سے بناؤ یا کوشش تو کرو۔ زندگی کو کھل کے جینے دیں، گھٹن زدہ ماحول ہماری صلاحیتوں کو گہنا دیتا ہے۔ سو سمجھنے والوں کیلئے بہت کچھ ہے۔۔۔ شکریہ
Ajmal Hameed TV
نازک سی احساس والی بات!
*آپ نے نوٹ کیا ہوگا…*
جیسے ہی شدید سردی کے دو مہینے آتے ہیں
فیس بُک پر ایک ہی طرح کی خبریں قطار باندھ لیتی ہیں:
“والد صاحب کا قضائے الٰہی سے انتقال ہو گیا”
“والدہ محترمہ ہم سے بچھڑ گئیں”
“ساس، سسر اس دنیا سے رخصت ہو گئے”
یہ محض اتفاق نہیں۔
آپ کو خاموشی سے خبردار کیا جا رہا ہے
کہ ان بزرگوں میں سے اکثریت سردی کی نذر ہو جاتی ہے۔
💭
والدین کبھی اولاد سے کچھ نہیں مانگتے۔
ضرورت انتہا پر بھی ہو تو بھی نہیں مانگتے۔
یہ ان کی فطرت میں ہی نہیں ہوتا۔
سوچئے…
ساری زندگی مسجد و مدرسے کے لیے چندہ مانگنے والا مولوی بھی
بڑھاپے میں اپنی اولاد سے ایک کمبل مانگنے کی ہمت نہیں کر پاتا۔
💭
اس لیے سوال مت کیجیے۔
کیونکہ آپ پوچھیں گے تو جواب ہمیشہ یہی ملے گا:
“نہیں، مجھے کچھ نہیں چاہیے۔”
اور المیہ یہ ہے
کہ ہم اس “نہیں” کو قبول کر لیتے ہیں 😐
💭
خود احساس کیجیے۔
خود ذمہ داری اٹھائیے۔
ان کے لیے
گرم رضائیاں لائیے،
گرم کپڑے، کوٹ،
موٹے موزے، مناسب جوتے،
اور گرم، طاقت بخش خوراک مہیا کیجیے۔
یہ بات ذہن میں بٹھا لیجیے:
ان کی رضائی آپ کی رضائی سے ڈبل ہونی چاہیے،
ان کے کپڑے آپ کے کپڑوں سے زیادہ گرم ہونے چاہئیں۔
کیونکہ بڑھاپے میں سردی زیادہ لگتی ہے۔
اور قوتِ مدافعت
باقی قوتوں کی طرح کمزور ہو چکی ہوتی ہے۔
💭
سردیوں میں بزرگوں کی اموات میں جو غیر معمولی اضافہ ہوتا ہے
وہ اکثر
اسی نالائق اولاد کی وجہ سے ہوتا ہے
جو ان باتوں کا شعور ہی نہیں رکھتی۔
یاد رکھیے…
جس طرح آپ کے بچپن میں
والدین خود دیکھتے تھے
کہ آپ کے گرم کپڑے پورے ہیں یا نہیں،
اب وہی رول آپ نے پلے کرنا ہے۔
پوچھنا نہیں ہے۔
خود دیکھنا ہے۔
خود انتظام کرنا ہے۔
💭
یہ صرف ایک پوسٹ نہیں،
یہ ایک امانت ہے،
والدین
ایک ذمہ داری ہے
جو اللّٰه نے آپ کے کندھوں پر رکھی ہے۔
جو آخرت بھی سنواریں گی
خود بھی عمل کیجیے
اور دوسروں تک بھی یہ بات پہنچائیے۔
امید ہے آپ سمجھیں گے…
اور عمل کریں گے
(ان شاء اللّٰہ
شکریہ
4 days ago | [YT] | 11
View 0 replies
Ajmal Hameed TV
غربت کی حیران کن 15 وجوہات !
۱۔ "سرکاری نوکری" کا نشہ
پاکستانی جوان کی بہترین ۱۰ سال "سرکاری نوکری" کے انتظار میں ضائع ہو جاتے ہیں۔
25 ہزار کی پرائیویٹ نوکری یا چھوٹا کاروبار کرنا توہین سمجھا جاتا ہے۔ ۳۰ سال کی عمر تک والدین پر پلتے ہیں، پھر وقت ہاتھ سے نکل جاتا ہے۔
۲۔ دکھاوے کی شادیاں
جیب میں پھوٹی کوڑی، مگر شادی پر ۱۰ لاکھ کا کھانا اور ۵ لاکھ کا جہیز؟
زندگی کی جمع پونجی صرف ۴ گھنٹے کی تقریب میں برباد، اور اگلے ۵ سال قرض اتارتے رہتے ہیں۔
۳۔ ڈگری زدہ جاہل
ہاتھ میں ماسٹرز مگر ایک پروفیشنل ای میل لکھنا نہیں آتا۔
مارکیٹ ڈگری کو نہیں، Skill کو پیسے دیتی ہے۔
۴۔ ایک کمائے، دس کھائیں
مشترکہ خاندان کا المیہ: ایک کماتا ہے، باقی سب "پیر پسار" کرتے ہیں۔
سرمایہ کاری کی بجائے دوسروں کے پیٹ بھرنا، امیر ہونے سے روکتا ہے۔
۵۔ کمیٹی کلچر
کمیٹی ڈالنے کا شوق ، سرمایہ کاری سے ڈر۔
۲ سال بعد جو رقم ملے گی، مہنگائی کی وجہ سے اس کی اصل قیمت کم ہو چکی ہوگی۔
۶۔ انا کا بت
"میں چوہدری کا بیٹا ہوں، ریڑھی لگاؤں گا؟"
چھوٹا کام شرم نہیں، سوچ چھوٹی ہے۔
۷۔ صحت کی تباہی
تیل، چینی، فاسٹ فوڈ… ۴۰ سال بعد جسم تباہ، ۵۰ سال بعد کمائی ہسپتالوں میں۔
صحت کو نظر انداز کرنا غربت کی سیدھی راہ ہے۔
۸۔ شارٹ کٹ کی تلاش
امیر بننا ہے، مگر محنت کے بغیر۔
ڈبل شاہ، کرپٹو فراڈ، لاٹری… پروسیس پر یقین نہ ہونا نسلیں غریب رکھتا ہے۔
۹۔ الزام تراشی
"حکومت خراب ہے، نواز شریف نے کھا گیا…"
ناکامی کا ملبہ دوسروں پر ڈالنا آسان، مگر ترقی کبھی نہیں۔
۱۰۔ ادھار پر عیاشی
"آئی فون" قسطوں پر تاکہ دوسروں کو متاثر کیا جا سکے۔
قرض لینا مالی خودکشی ہے۔
۱۱۔ سیکھنا بند
ڈگری ملتے ہی کتاب بند۔
سال میں ایک کتاب بھی نہ پڑھنا دماغی سرمایہ کاری بند کرنا ہے۔
۱۲۔ اولاد بطور انشورنس
بچے وسائل کے بغیر پلیں تو سرمایہ نہیں، بوجھ بنتے ہیں۔
۱۳۔ رسک فوبیا
پیسہ بینک میں سڑنا یا پلاٹ خریدنا۔
رسک نہ لینے والے کبھی ترقی نہیں کرتے۔
۱۴۔ حاسدانہ رویہ
امیر کو دیکھ کر نفرت۔
امیر سے نفرت کرنے والا خود امیر نہیں بن سکتا۔
۱۵۔ وقت کا قتلِ عام
چائے کے ڈھابے، ٹک ٹاک، فضول محفلیں…
سب سے قیمتی چیز "وقت" ضائع۔
نوٹ: اپنی بدحالی کا ملبہ حکومت یا تقدیر پر نہ ڈالیں۔
آپ کی جیب خالی نہیں، دماغ بنجر ہے۔
جھوٹی انا اور سستی کا جنازہ نکالیں، غربت نسلوں کو اسی طرح چاٹتی رہے گی۔
زندگی بدلنا ہے؟ آج سے شروع کریں۔شکریا
5 days ago | [YT] | 20
View 0 replies
Ajmal Hameed TV
ڈر کے آگے جیت !
کسی بڑے آدمی نے بہت زیادہ سوچ کے اور پلان کر کے اپنے پروجیکٹس شروع نہیں کیے تھے، انہیں نہیں پتہ تھا کہ یہ پروجیکٹ کل کے کامیاب ترین پروجیکٹس ہونگے۔
گوگل، فیس بک، واٹس ایپ، علی بابا، اردو پواؤنٹ اور لا تعداد ایسے پروجیکٹس تھے جو بس شوق پورا کرنے کے لیے شروع کیے گئے لیکن ایک وقت وہ بھی آیا جب وہ دنیا کی ضرورت بن گئے۔
ہم بہت زیادہ سوچتے ہیں، پلاننگ کرتے ہیں، اوور تھنکنک، ناکامی کا خوف، لوگوں کی باتوں کا خوف، ذمہ داری پوری نہ کر سکنے کا خوف ہمیں بے بی سٹیپس لینے سے روکتا رہتا ہے۔
وہ ہمیں یہ تو بتاتا کہ یہ کریں گے تو ناکام ہو سکتے ہیں، نقصان ہو سکتا ہے لیکن یہ نہیں بتاتا کہ نہیں کریں گے تو جو مستقبل میں ہو سکتا تھا وہ آج ہی ہم نے اپنے ساتھ اپنے ہاتھوں سے کر لیا۔
لڑکپن سے ہی اپنے بچوں کو الٹے سیدھے پنگے لینے کا عادی بنائیں، ان کی کریٹیکل تھنکنگ کی طرف حوصلہ افزائی کریں۔
انہیں موبائل دینے کے ساتھ یہ بتائیں کہ موبائل بنا کیسے یہ کھوج نکالو، جو گیم تم کھیل رہے ہو، یہ کیسے بنی، اگر تمہیں اپنی گیم بنانی پڑ جائے تو کیسا رہے گا؟
تمہیں سپیس شپس اور راکٹس دیکھنے کا شوق ہے، یہ دیکھو کہ یہ بنے کیسے، وہ کونسی چیزیں جو تمہیں میسر ہوں تو ہم بھی ایسا کچھ بنانے کی طرف رجحان بڑھاؤ۔
لیپ ٹاپ تمہارے سامنے چل رہا ہے، یہ کیوں چل رہا ہے، اسی کیا چیز چلا رہی ہے، اسے کھول ڈالو، توڑ ڈالو، نئے طریقے سے بناؤ یا کوشش تو کرو۔
زندگی کو کھل کے جینے دیں، گھٹن زدہ ماحول ہماری صلاحیتوں کو گہنا دیتا ہے۔
سو سمجھنے والوں کیلئے بہت کچھ ہے۔۔۔
شکریہ
5 days ago | [YT] | 1
View 1 reply
Ajmal Hameed TV
https://youtu.be/JOQ-1NkCIGo
1 week ago | [YT] | 4
View 1 reply
Ajmal Hameed TV
youtube.com/shorts/x8zOfVtud0...
2 weeks ago | [YT] | 0
View 0 replies
Ajmal Hameed TV
https://youtu.be/wXZeKm7c6to?si=CB34d...
4 weeks ago | [YT] | 8
View 0 replies
Ajmal Hameed TV
https://youtu.be/s2x8qGF1Yp4?si=t-CMb...
1 month ago | [YT] | 11
View 0 replies
Ajmal Hameed TV
https://youtu.be/qr0ullI1HsA?si=n5_Xv...
1 month ago | [YT] | 3
View 0 replies
Ajmal Hameed TV
https://youtu.be/k1sMRBL0nqY
1 month ago | [YT] | 3
View 0 replies
Ajmal Hameed TV
https://youtu.be/qr0ullI1HsA
1 month ago | [YT] | 1
View 0 replies
Load more