Here You Will See Farming Related Educational Videos and Different Business Ideas by Ajmal Hameed.Stay Tuned
Pakistan Zindabaad
Channel WhatsApp:03097403277


Ajmal Hameed TV

آپ کی نظر میں بہترین وزیراعلی کون ؟

2 days ago | [YT] | 25

Ajmal Hameed TV

اُدھار دیا ہوا پیسہ واپس کیسے ریکور کریں؟؟؟؟؟

(ریکوری نہ ہونا نقصان نہیں، خاموش تباہی ہے)

بزنس میں اُدھار دینا کوئی نئی بات نہیں
لیکن اُدھار واپس نہ آنا
بزنس کو اندر سے کھوکھلا کر دیتا ہے۔

یاد رکھیں
بزنس نقصان سے کم مرتا ہے
اُدھار سے زیادہ مرتا ہے۔

1️⃣

اُدھار ریکور کیوں نہیں ہو پاتا؟ (اصل مسئلہ)

اکثر بزنس مین یہ کہتے ہیں: “کام تو بہت ہے، بس پیسہ پھنسا ہوا ہے”
اصل مسئلہ یہ ہوتا ہے
بزنس کے شروع میں ہی بہت زیادہ اُدھار دے دینا
اصول بنانے کے بجائے لالچ میں آ جانا
ایک نہ دینے والے سے مزید دینے کی امید رکھنا

📌 حقیقت

جو پیسہ شروع میں قابو میں نہ ہو
وہ بعد میں ہاتھ سے نکل جاتا ہے۔

2️⃣

اُدھار دیتے وقت کی گئی وہ غلطیاں جو ریکوری مار دیتی ہیں
یہ وہ جگہ ہے جہاں بزنس خود اپنا نقصان کرتا ہے
بغیر لکھے اُدھار دینا
واپسی کی تاریخ طے نہ کرنا
ہر آنے والے کو قابلِ اعتبار سمجھ لینا
“بیچارہ ہے” کہہ کر حد توڑ دینا
یاد رکھیں
جو آج نہیں دے رہا

وہ نیا مال لے کر بھی نہیں دے گا۔

3️⃣

لالچ — ریکوری کا سب سے بڑا دشمن
یہ جملے آپ نے ضرور سنے ہوں گے
“بھائی، سب اکٹھا دے دوں گا”
“بس یہ آخری بار دے دو”
یہ سب لالچ کے جال ہیں۔

📌 حقیقت:
پچھلا اُدھار نکالنے کے لالچ میں
نیا اُدھار پھنسا دینا
بزنس کو ڈبو دیتا ہے۔

جو پہلے نہیں دے رہا، وہ مزید مال لے کر اچانک ایماندار نہیں بن جائے گا۔

4️⃣

ریکوری کا صحیح طریقہ: وعدہ، تحریر اور دباؤ
ریکوری ایسے نہیں ہوتی کہ
ایک فون کیا
خاموش ہو گئے
صحیح طریقہ یہ ہے
جس تاریخ کا وعدہ کرے، وہ لکھوائیں
سادہ کاغذ پر دستخط کروائیں
اسی تاریخ پر فون کریں
خود جا کر یاد دہانی کروائیں

📌 یاد رکھیں:

ایک دو چکر نہیں
تین چار چکر لگانے سے
مردہ پیسہ بھی ہلنا شروع ہو جاتا ہے۔

5️⃣

شرم اور ڈر — بزنس مین کی خاموش دشمن
بہت سے لوگ پیسہ اس لیے نہیں مانگتے کیونکہ
شرم آتی ہے
تعلق خراب ہونے کا ڈر ہوتا ہے
یہ سوچ بزنس کو مار دیتی ہے۔

📌 حقیقت:

پیسہ مانگنا بے عزتی نہیں
اپنا حق لینا ہے۔
جو شرماتا ہے، وہ نقصان خود قبول کرتا ہے۔

6️⃣

قسطوں میں ریکوری — مگر اصول کے ساتھ
اگر کوئی کہے: “ایک ساتھ نہیں دے سکتا”
تو:
قسطوں میں پیسہ لیں
تھوڑا تھوڑا کر کے نکلوائیں
مگر ایک شرط لازمی:
نیا اُدھار بند
صرف پرانا نکالنا۔

7️⃣

وہ کسٹمر جو اُدھار لیتا ہے مگر کیش کہیں اور دیتا ہے
ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں:
آپ سے اُدھار لیتے ہیں
مگر دوسری جگہ کیش پر مال خریدتے ہیں
حکمتِ عملی یہ رکھیں
اسے مکمل بند نہ کریں
کیش پر مال دیں
ریٹ تھوڑا کم رکھیں
ساتھ ساتھ پرانا اُدھار قسطوں میں نکلوائیں

📌 فائدہ:

کسٹمر بھی رہے گا
سیل بھی ہوگی
اُدھار بھی نکلے گا

8️⃣

اُدھار نکل جائے تو سب سے بڑی غلطی کیا ہوتی ہے؟
سب سے بڑی غلطی یہ ہوتی ہے کہ
دوبارہ اُدھار دے دیا جاتا ہے
یاد رکھیں

جو ایک بار ڈبو چکا ہو
اسے دوبارہ موقع دینا
نادانی ہے۔
اصول ایک بار ٹوٹا، دوبارہ آسانی سے ٹوٹ جاتا ہے۔

9️⃣

آئندہ کے لیے خود کو کیسے محفوظ کریں؟
اگر آپ چاہتے ہیں کہ دوبارہ نہ پھنسیے تو:
✔️ ہر کسٹمر کی حد مقرر کریں
✔️ شروع سے اصول واضح رکھیں
✔️ اُدھار کم، کیش زیادہ رکھیں
✔️ لالچ سے ہمیشہ دور رہیں

📌 یاد رکھیں:

لالچ بزنس کو اوپر نہیں لے جاتا
ڈبو دیتا ہے۔

🌱 حتمی، کڑوی مگر فیصلہ کن بات
اُدھار:

رشتہ بچا سکتا ہے
مگر بزنس مار سکتا ہے
بزنس
ہمدردی سے نہیں
اصولوں سے چلتا ہے
اپنا حق مانگنے سے نہ شرمائیں
لالچ کے جال میں نہ پھنسیں
اور اُدھار کو قابو میں رکھیں
اگر یہ آرٹیکل آپ کو پسند آئے تو شیئر ضرور کریں, شکریہ

2 weeks ago | [YT] | 12

Ajmal Hameed TV

جان کر جیو
زم زم کا کنواں تقریباً 30 میٹر گہرا ہے اور یہ مکہ مکرمہ میں کعبہ کے قریب واقع ہے۔ یہ پانی زیرِ زمین گرینائٹ اور چونے کے پتھروں کی تہوں سے آتا ہے، جو بارش کے پانی سے ریچارج ہوتا ہے اور مسلسل بہاؤ کو برقرار رکھتا ہے۔

🌍 سائنسی تفصیلات

📍 مقام اور ساخت
زم زم کا کنواں مسجد الحرام کے اندر، کعبہ سے تقریباً 20 میٹر مشرق میں واقع ہے۔
اس کی گہرائی تقریباً 30 میٹر اور قطر 1.08 سے 2.66 میٹر تک ہے۔
زم زم کے کنویں کے اردگرد پتھریلا گرینائٹ اور چونے کے پتھر کی تہیں ہیں جو پانی کو ذخیرہ اور فلٹر کرتی ہیں۔

💧 پانی کا ماخذ
زم زم کے پانی کا بنیادی ماخذ مکہ مکرمہ کے زیرِ زمین گرینائٹ اور چونے کے پتھروں کے ایکویفرز ہیں۔ یہ ایکویفرز بارش کے پانی سے ریچارج ہوتے ہیں اور قدرتی دراڑوں اور چینلز کے ذریعے کنویں میں پانی پہنچاتے ہیں۔

- پانی قدرتی ایکویفرز (Aquifers) سے آتا ہے جو بارش کے پانی سے ریچارج ہوتے ہیں۔
- یہ علاقہ خشک ہے لیکن بارش جب ہوتی ہے تو شدید اور مختصر مدت کی ہوتی ہے، جو زیرِ زمین تہوں میں محفوظ ہو جاتی ہے۔
- کنواں ایک خود کو دوبارہ بھرنے والا چشمہ ہے، یعنی پانی مسلسل بہتا رہتا ہے۔

🧪 کیمیائی خصوصیات
- زم زم کا پانی الکلائن (Alkaline) ہے، یعنی اس کا pH عام پانی سے زیادہ ہے۔
- اس میں معدنیات کی مقدار نمایاں ہے:
- کیلشیم: 93 mg/L
- میگنیشیم: 42 mg/L
- فلورائیڈ: 0.74 mg/L
- یہ خصوصیات اسے عام نلکے کے پانی سے مختلف بناتی ہیں۔
- سائنسی ٹیسٹوں کے مطابق یہ پانی جراثیم سے پاک ہے۔

⚙️ انتظام اور تحقیق
- سعودی حکومت نے Zamzam Studies and Research Center قائم کیا ہے جو کنویں کی دیکھ بھال، فلٹریشن، ذخیرہ اور تقسیم کے عمل کو سائنسی بنیادوں پر منظم کرتا ہے۔
- جدید ٹیکنالوجی استعمال کر کے پانی کے معیار اور بہاؤ کو مسلسل مانیٹر کیا جاتا ہے۔

📊 زم زم پانی کی نمایاں خصوصیات
| پہلو | تفصیل |
|--------------------|--------|
| گہرائی | 30 میٹر |
| مقام | کعبہ سے 20 میٹر مشرق |
| ماخذ | زیرِ زمین گرینائٹ اور چونے کے پتھر کے ایکویفرز |
| ریچارج ذریعہ | بارش کا پانی |
| pH | الکلائن |
| کیلشیم | 93 mg/L |
| میگنیشیم | 42 mg/L |
| فلورائیڈ | 0.74 mg/L |
| جراثیم کی موجودگی | نہیں |

زم زم کا کنواں صرف مذہبی لحاظ سے نہیں بلکہ سائنسی اعتبار سے بھی منفرد ہے۔ یہ ایک قدرتی فلٹر شدہ چشمہ ہے جو خشک علاقے میں مسلسل پانی فراہم کرتا ہے، اور اس کے معدنیات اسے عام پانی سے مختلف بناتے ہیں۔

#نوٹ
زم زم کا پانی لیبارٹری میں "بنایا" نہیں جا سکتا۔

🔹 وجہ:
1. قدرتی منبع: زم زم ایک مخصوص زیرِ زمین چشمے سے نکلتا ہے جو مکہ مکرمہ میں واقع ہے۔ اس کا منبع زمین کی گہرائی میں موجود قدرتی آبی ذخائر ہیں، جو انسانی عمل یا ٹیکنالوجی سے پیدا نہیں کیے جا سکتے۔
2. یونیک کیمیائی ساخت: اس پانی میں معدنیات اور نمکیات کا ایک خاص تناسب ہے جو عام پانی سے مختلف ہے۔ لیبارٹری میں اگرچہ پانی کو فلٹر یا منرلائز کیا جا سکتا ہے، لیکن زم زم کی اصل ساخت اور خصوصیات کو بالکل ویسا دہرانا ممکن نہیں۔
3. روحانی و تاریخی پہلو: زم زم کی اہمیت صرف سائنسی نہیں بلکہ مذہبی و تاریخی ہے۔ اس کی برکت اور تقدس کسی مصنوعی عمل سے پیدا نہیں ہو سکتا۔
4. قدرتی تسلسل: یہ چشمہ ہزاروں سال سے جاری ہے اور اس کی روانی ایک قدرتی نظام کا حصہ ہے، جسے انسان کنٹرول یا دوبارہ تخلیق نہیں کر سکتا۔

یعنی اگر کوئی سائنسدان اس کے معدنی اجزاء کو نقل بھی کرے، تب بھی وہ "زم زم" نہیں ہوگا، بلکہ صرف ایک مصنوعی محلول ہوگا۔ اصل زم زم صرف اسی چشمے سے آتا ہے۔شکریہ

2 weeks ago | [YT] | 7

Ajmal Hameed TV

نازک سی احساس والی بات!
*آپ نے نوٹ کیا ہوگا…*
جیسے ہی شدید سردی کے دو مہینے آتے ہیں
فیس بُک پر ایک ہی طرح کی خبریں قطار باندھ لیتی ہیں:
“والد صاحب کا قضائے الٰہی سے انتقال ہو گیا”
“والدہ محترمہ ہم سے بچھڑ گئیں”
“ساس، سسر اس دنیا سے رخصت ہو گئے”
یہ محض اتفاق نہیں۔
آپ کو خاموشی سے خبردار کیا جا رہا ہے
کہ ان بزرگوں میں سے اکثریت سردی کی نذر ہو جاتی ہے۔
💭
والدین کبھی اولاد سے کچھ نہیں مانگتے۔
ضرورت انتہا پر بھی ہو تو بھی نہیں مانگتے۔
یہ ان کی فطرت میں ہی نہیں ہوتا۔
سوچئے…
ساری زندگی مسجد و مدرسے کے لیے چندہ مانگنے والا مولوی بھی
بڑھاپے میں اپنی اولاد سے ایک کمبل مانگنے کی ہمت نہیں کر پاتا۔
💭
اس لیے سوال مت کیجیے۔
کیونکہ آپ پوچھیں گے تو جواب ہمیشہ یہی ملے گا:
“نہیں، مجھے کچھ نہیں چاہیے۔”
اور المیہ یہ ہے
کہ ہم اس “نہیں” کو قبول کر لیتے ہیں 😐
💭
خود احساس کیجیے۔
خود ذمہ داری اٹھائیے۔
ان کے لیے
گرم رضائیاں لائیے،
گرم کپڑے، کوٹ،
موٹے موزے، مناسب جوتے،
اور گرم، طاقت بخش خوراک مہیا کیجیے۔
یہ بات ذہن میں بٹھا لیجیے:
ان کی رضائی آپ کی رضائی سے ڈبل ہونی چاہیے،
ان کے کپڑے آپ کے کپڑوں سے زیادہ گرم ہونے چاہئیں۔
کیونکہ بڑھاپے میں سردی زیادہ لگتی ہے۔
اور قوتِ مدافعت
باقی قوتوں کی طرح کمزور ہو چکی ہوتی ہے۔
💭
سردیوں میں بزرگوں کی اموات میں جو غیر معمولی اضافہ ہوتا ہے
وہ اکثر
اسی نالائق اولاد کی وجہ سے ہوتا ہے
جو ان باتوں کا شعور ہی نہیں رکھتی۔
یاد رکھیے…
جس طرح آپ کے بچپن میں
والدین خود دیکھتے تھے
کہ آپ کے گرم کپڑے پورے ہیں یا نہیں،
اب وہی رول آپ نے پلے کرنا ہے۔
پوچھنا نہیں ہے۔
خود دیکھنا ہے۔
خود انتظام کرنا ہے۔
💭
یہ صرف ایک پوسٹ نہیں،
یہ ایک امانت ہے،
والدین
ایک ذمہ داری ہے
جو اللّٰه نے آپ کے کندھوں پر رکھی ہے۔
جو آخرت بھی سنواریں گی
خود بھی عمل کیجیے
اور دوسروں تک بھی یہ بات پہنچائیے۔
امید ہے آپ سمجھیں گے…
اور عمل کریں گے
(ان شاء اللّٰہ
شکریہ

3 weeks ago | [YT] | 11

Ajmal Hameed TV

غربت کی حیران کن 15 وجوہات !
۱۔ "سرکاری نوکری" کا نشہ
پاکستانی جوان کی بہترین ۱۰ سال "سرکاری نوکری" کے انتظار میں ضائع ہو جاتے ہیں۔
25 ہزار کی پرائیویٹ نوکری یا چھوٹا کاروبار کرنا توہین سمجھا جاتا ہے۔ ۳۰ سال کی عمر تک والدین پر پلتے ہیں، پھر وقت ہاتھ سے نکل جاتا ہے۔
۲۔ دکھاوے کی شادیاں
جیب میں پھوٹی کوڑی، مگر شادی پر ۱۰ لاکھ کا کھانا اور ۵ لاکھ کا جہیز؟
زندگی کی جمع پونجی صرف ۴ گھنٹے کی تقریب میں برباد، اور اگلے ۵ سال قرض اتارتے رہتے ہیں۔
۳۔ ڈگری زدہ جاہل
ہاتھ میں ماسٹرز مگر ایک پروفیشنل ای میل لکھنا نہیں آتا۔
مارکیٹ ڈگری کو نہیں، Skill کو پیسے دیتی ہے۔
۴۔ ایک کمائے، دس کھائیں
مشترکہ خاندان کا المیہ: ایک کماتا ہے، باقی سب "پیر پسار" کرتے ہیں۔
سرمایہ کاری کی بجائے دوسروں کے پیٹ بھرنا، امیر ہونے سے روکتا ہے۔
۵۔ کمیٹی کلچر
کمیٹی ڈالنے کا شوق ، سرمایہ کاری سے ڈر۔
۲ سال بعد جو رقم ملے گی، مہنگائی کی وجہ سے اس کی اصل قیمت کم ہو چکی ہوگی۔
۶۔ انا کا بت
"میں چوہدری کا بیٹا ہوں، ریڑھی لگاؤں گا؟"
چھوٹا کام شرم نہیں، سوچ چھوٹی ہے۔
۷۔ صحت کی تباہی
تیل، چینی، فاسٹ فوڈ… ۴۰ سال بعد جسم تباہ، ۵۰ سال بعد کمائی ہسپتالوں میں۔
صحت کو نظر انداز کرنا غربت کی سیدھی راہ ہے۔
۸۔ شارٹ کٹ کی تلاش
امیر بننا ہے، مگر محنت کے بغیر۔
ڈبل شاہ، کرپٹو فراڈ، لاٹری… پروسیس پر یقین نہ ہونا نسلیں غریب رکھتا ہے۔
۹۔ الزام تراشی
"حکومت خراب ہے، نواز شریف نے کھا گیا…"
ناکامی کا ملبہ دوسروں پر ڈالنا آسان، مگر ترقی کبھی نہیں۔
۱۰۔ ادھار پر عیاشی
"آئی فون" قسطوں پر تاکہ دوسروں کو متاثر کیا جا سکے۔
قرض لینا مالی خودکشی ہے۔
۱۱۔ سیکھنا بند
ڈگری ملتے ہی کتاب بند۔
سال میں ایک کتاب بھی نہ پڑھنا دماغی سرمایہ کاری بند کرنا ہے۔
۱۲۔ اولاد بطور انشورنس
بچے وسائل کے بغیر پلیں تو سرمایہ نہیں، بوجھ بنتے ہیں۔
۱۳۔ رسک فوبیا
پیسہ بینک میں سڑنا یا پلاٹ خریدنا۔
رسک نہ لینے والے کبھی ترقی نہیں کرتے۔
۱۴۔ حاسدانہ رویہ
امیر کو دیکھ کر نفرت۔
امیر سے نفرت کرنے والا خود امیر نہیں بن سکتا۔
۱۵۔ وقت کا قتلِ عام
چائے کے ڈھابے، ٹک ٹاک، فضول محفلیں…
سب سے قیمتی چیز "وقت" ضائع۔
نوٹ: اپنی بدحالی کا ملبہ حکومت یا تقدیر پر نہ ڈالیں۔
آپ کی جیب خالی نہیں، دماغ بنجر ہے۔
جھوٹی انا اور سستی کا جنازہ نکالیں، غربت نسلوں کو اسی طرح چاٹتی رہے گی۔
زندگی بدلنا ہے؟ آج سے شروع کریں۔شکریا

3 weeks ago | [YT] | 20