ایک چھوٹا سا کیڑا زمین کے نیچے، نم اور محفوظ سرنگ میں رہتا تھا۔ وہ ایک عام کیڑا نہیں تھا، بلکہ ایک نہایت ذہین اور سمجھدار کیڑا تھا، جو دنیا کو اپنے منفرد انداز میں دیکھتا تھا۔ اس کا ماننا تھا کہ بڑے درندے جیسے شیر، چیتا اور مگرمچھ، جنہیں باقی سب خوفناک سمجھتے ہیں، درحقیقت اتنے خطرناک نہیں ہوتے۔ وہ اکثر خود سے کہتا:
"یہ درندے تو جنگلوں میں رہتے ہیں، انسانوں اور بڑے جانوروں سے دور۔ مگر میرے لیے سب سے بڑا خطرہ وہ چیزیں ہیں جو مجھے بہت قریب سے گھور رہی ہوتی ہیں—مرغیاں اور پرندے!"
یہ ننھا کیڑا رات کو جاگتا تھا اور دن میں اپنی سرنگ میں چھپا رہتا تھا۔ اس نے اپنے چھوٹے سے گھر میں ایک موم بتی رکھی ہوئی تھی، جو رات کے وقت جلاتا تھا اور روشنی میں اپنی پسندیدہ کتابیں پڑھتا تھا۔ وہ اکثر گرے ہوئے سیب کے چھوٹے ٹکڑوں کو جمع کر کے انہیں اپنا ذخیرہ بناتا، تاکہ سخت وقت میں کام آئے۔
خطرناک دنیا کا سامنا
ایک دن کیڑے نے سوچا کہ کیوں نہ باہر جا کر تازہ ہوا لی جائے؟ جیسے ہی وہ زمین سے باہر نکلا، سورج کی روشنی نے اس کی ننھی آنکھوں کو چندھیا دیا۔ وہ تیزی سے ادھر اُدھر دیکھنے لگا، اور اچانک اس کی ریڑھ کی ہڈی میں خوف کی لہر دوڑ گئی—سامنے ایک مرغی چل رہی تھی!
مرغی بے دھیانی سے ادھر ادھر اپنی چونچ مار رہی تھی، گھاس میں کچھ تلاش کر رہی تھی۔ مگر کیڑے کو معلوم تھا کہ اگر وہ ذرا سا بھی حرکت کرے گا، تو وہ سیدھا اس کی نظر میں آ جائے گا۔ اس کا ننھا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔
"یہ وہ لمحہ ہے جس سے میں ہمیشہ ڈرتا تھا!" وہ خود سے بولا۔
وہ زمین کے ساتھ چپک گیا، سانس روک لی اور دعا کرنے لگا کہ مرغی آگے بڑھ جائے۔ مگر بدقسمتی سے، ایک ہلکی سی ہوا چلی اور قریب پڑے ایک سوکھے پتے کو ہلنے پر مجبور کر دیا۔ مرغی نے فوراً اپنی گردن اٹھائی، چونچ کو سیدھا کیا اور گھاس کے درمیان حرکت کا اندازہ لگانے لگی۔
"اوہ نہیں! اس نے مجھے دیکھ لیا!"
مرغی نے ایک لمحے کے لیے رک کر غور کیا، اور پھر جیسے ہی اس نے اپنے پنجے آگے بڑھائے، کیڑے نے پوری طاقت سے زمین میں بنی ایک چھوٹی سی دراڑ کی طرف چھلانگ لگا دی۔ مرغی نے فوراً اپنی چونچ وہاں ماری، مگر وہ خوش نصیب تھا کہ کسی طرح بچ نکلا۔ وہ تیزی سے رینگتا ہوا اپنی محفوظ سرنگ میں واپس چلا گیا اور اندر داخل ہوتے ہی گہری سانس لی۔
ایک نیا سبق
اپنی موم بتی جلاتے ہوئے کیڑے نے خود سے کہا:
"دنیا میں خطرہ ہمیشہ وہیں نہیں ہوتا جہاں ہمیں لگتا ہے۔ لوگ درندوں سے ڈرتے ہیں، مگر وہ کم از کم دور رہتے ہیں۔ اصل خطرہ وہ ہوتا ہے جو ہمارے سب سے قریب ہو، وہ جو ہمیں معمولی نوالہ سمجھ کر کھا جائے!"
یہ سبق اسے ہمیشہ یاد رہا، اور اس کے بعد اس نے کبھی بھی دن کے وقت اپنی سرنگ سے باہر نکلنے کی ہمت نہ کی۔ اس کی چھوٹی سی دنیا میں، سب سے زیادہ خوفناک مخلوق کوئی شیر یا مگرمچھ نہیں، بلکہ ایک سادہ سی مرغی تھی!
یہ کہانی ہمیں یہ سمجھاتی ہے کہ خطرہ ہمیشہ وہاں نہیں ہوتا جہاں ہمیں نظر آتا ہے، بلکہ بعض اوقات وہیں ہوتا ہے جہاں ہم کم از کم توقع کرتے ہیں۔
چاندنی میں نہائی ہوئی اس پہاڑی پر صرف خاموشی کا راج تھا۔ ہوا میں ایک سرد لہر دوڑ رہی تھی، جیسے یہ جگہ صدیوں سے مردہ ہو۔ لیکن اگر کوئی غور کرتا، تو اسے نظر آتا کہ دس ڈھانچے نیم دائرے میں بیٹھے ہیں—چیتھڑوں میں لپٹے، زنگ آلود ہتھیاروں سے لیس، اور ان کے سامنے ایک پرانا، بوسیدہ جنگی نقشہ رکھا ہے۔
یہ عام ڈھانچے نہ تھے۔ یہ جنگجو تھے، جو برسوں پہلے ایک خوفناک جنگ میں مارے گئے تھے۔ لیکن موت انہیں ختم نہ کر سکی تھی، کیونکہ ان کے اندر ایک آگ تھی—انتقام کی آگ۔ ان کے دشمنوں نے انہیں ذبح کیا تھا، ان کی زمینوں کو جلا دیا تھا، اور ان کے خاندانوں کو مٹا دیا تھا۔ مگر وقت نے ان کی روحوں کو ختم نہیں کیا، بلکہ انہیں اور زیادہ خوفناک بنا دیا تھا۔
دریا—جہاں سب کچھ ختم ہوا تھا
ان کے سامنے بچھا نقشہ ایک مخصوص جگہ کو نشان زد کر رہا تھا—ایک دریا، جہاں ان کی فوج نے آخری سانس لی تھی۔ وہ دریا، جہاں ان کی لاشیں گرائی گئی تھیں، جہاں ان کا خون بہایا گیا تھا۔ وہ دریا، جو ان کے دشمنوں کے ظلم کی گواہی دے رہا تھا۔
لیکن اب وقت آ گیا تھا کہ یہ دریا ایک نئی کہانی سنائے۔
مردہ جنگجوؤں کا سفر
رات کے اندھیرے میں، وہ حرکت میں آئے۔ نہ کوئی آواز، نہ کوئی بات—بس ہڈیوں کی چرمراہٹ اور ہوا میں سرسراتی سرگوشیاں۔ وہ پہاڑ سے نیچے اترے، ان کے قدم زمین پر نہیں پڑ رہے تھے، جیسے وہ زمین کے اوپر تیر رہے ہوں۔ ان کے پیچھے ایک سیاہ دھند اٹھ رہی تھی، جو چاندنی کو نگل رہی تھی۔
جب وہ دریا کے کنارے پہنچے، تو پانی میں ایک عجیب سی ہلچل پیدا ہوئی۔ پہلا جنگجو جیسے ہی دریا میں اترا، پانی کا رنگ بدلنے لگا۔ سرمئی پانی خون کی سرخی میں ڈھلنے لگا، جیسے کسی نے صدیوں کا قید شدہ انتقام اس میں انڈیل دیا ہو۔ ایک کے بعد دوسرا جنگجو دریا میں اترا، اور جیسے ہی آخری جنگجو نے پانی میں قدم رکھا، ایک زوردار چیخ فضا میں گونجی—یہ چیخ نہ کسی انسان کی تھی، نہ کسی جانور کی، بلکہ خود زمین کی تھی، جو ان کی واپسی پر لرز رہی تھی۔
دشمنوں کی نسل پر قہر
دریا کے اس پار ان کے دشمنوں کی نسل بستی بنا کر سکون سے جی رہی تھی۔ وہ لوگ جو اپنے آباؤ اجداد کے جرائم کو بھول چکے تھے، وہ ظلم جو ان کے بزرگوں نے کیے تھے، ان کی یادداشت سے مٹ چکے تھے۔ لیکن ان جنگجوؤں کی یادداشت ابھی تک تازہ تھی۔
رات کے سائے میں وہ بستی میں داخل ہوئے۔ ایک ماں اپنے بچے کو سلانے میں مصروف تھی، ایک آدمی اپنے گھر کے دروازے پر کھڑا آسمان کو دیکھ رہا تھا، چند نوجوان آگ کے گرد بیٹھے ہنسی مذاق کر رہے تھے۔ کسی کو خبر نہ تھی کہ موت، جو صدیوں پہلے دفن ہو چکی تھی، ان کے دروازے پر دستک دینے آ چکی ہے۔
پھر پہلا دروازہ کھلا—یا شاید ٹوٹا۔ ایک سائے نے اندر قدم رکھا، اور اگلے ہی لمحے، اندر سے ایک خوفناک چیخ ابھری۔ وہ چیخ جو کسی کے حلق سے نکلنے والی آخری چیخ ہوتی ہے۔ خون دیواروں پر بکھرا، فرش سرخ ہو گیا، اور وہ سایہ خاموشی سے باہر آ گیا۔
پھر دوسرا دروازہ، پھر تیسرا، پھر چوتھا… اور یوں بستی پر قہر ٹوٹ پڑا۔
کوئی زندہ نہ بچا
صبح تک، بستی خاموش تھی—مگر یہ خاموشی زندگی کی نہیں، بلکہ موت کی تھی۔ کوئی زندہ نہ تھا۔ بچے، بوڑھے، عورتیں، مرد—سب مٹی میں مل چکے تھے۔
بستی کے مرکز میں، دس ڈھانچے خاموشی سے کھڑے تھے۔ ان کے چیتھڑے اب بھی خون سے بھیگے ہوئے تھے، ان کے زنگ آلود ہتھیار سرخ ہو چکے تھے، اور ان کے کھوکھلے چہرے کسی عجیب سکون کی گواہی دے رہے تھے۔
انہوں نے اپنا انتقام لے لیا تھا۔
ازلی دہشت
دریا کے کنارے کھڑے یہ جنگجو ایک دوسرے کو دیکھتے ہیں۔ ان کے کام ختم ہو چکا ہے۔ ان کی روحوں کا قید ختم ہو چکا ہے۔ ایک ایک کر کے، ان کے وجود دھند میں تحلیل ہونے لگتے ہیں، جیسے ہوا میں گھل رہے ہوں۔ آخر میں، صرف سیاہ دھند بچتی ہے، جو ہوا میں بکھر جاتی ہے، اور پھر کچھ نہیں۔
لیکن…
اگر کوئی آج بھی اس ویران دریا کے قریب سے گزرے، تو رات کے وقت اسے سناٹے میں سرگوشیاں سنائی دیتی ہیں۔ کوئی ان دیکھی چیز سانس لے رہی ہوتی ہے۔ اور اگر کبھی کوئی ناسمجھ اس زمین پر نیا گھر بنانے کی کوشش کرے، تو وہ ہمیشہ کے لیے غائب ہو جاتا ہے۔
کیونکہ انتقام کی آگ بجھ تو سکتی ہے، مگر اس کا دھواں ہمیشہ باقی رہتا ہے۔۔۔
Majestic Pegasus Emerging from the Clouds | Dreamlike Fantasy Art!
Description: "Immerse yourself in the beauty of this stunning fantasy artwork featuring a majestic white Pegasus emerging gracefully from the misty clouds. With its luminous wings spread wide, the celestial horse radiates an ethereal glow, creating a dreamlike and serene atmosphere. The soft golden light adds to the mystical charm, making this artwork a perfect blend of magic and wonder. Ideal for lovers of fantasy, mythology, and breathtaking scenery.
Niazi AI
ننھے کیڑے کی دنیا
ایک چھوٹا سا کیڑا زمین کے نیچے، نم اور محفوظ سرنگ میں رہتا تھا۔ وہ ایک عام کیڑا نہیں تھا، بلکہ ایک نہایت ذہین اور سمجھدار کیڑا تھا، جو دنیا کو اپنے منفرد انداز میں دیکھتا تھا۔ اس کا ماننا تھا کہ بڑے درندے جیسے شیر، چیتا اور مگرمچھ، جنہیں باقی سب خوفناک سمجھتے ہیں، درحقیقت اتنے خطرناک نہیں ہوتے۔ وہ اکثر خود سے کہتا:
"یہ درندے تو جنگلوں میں رہتے ہیں، انسانوں اور بڑے جانوروں سے دور۔ مگر میرے لیے سب سے بڑا خطرہ وہ چیزیں ہیں جو مجھے بہت قریب سے گھور رہی ہوتی ہیں—مرغیاں اور پرندے!"
یہ ننھا کیڑا رات کو جاگتا تھا اور دن میں اپنی سرنگ میں چھپا رہتا تھا۔ اس نے اپنے چھوٹے سے گھر میں ایک موم بتی رکھی ہوئی تھی، جو رات کے وقت جلاتا تھا اور روشنی میں اپنی پسندیدہ کتابیں پڑھتا تھا۔ وہ اکثر گرے ہوئے سیب کے چھوٹے ٹکڑوں کو جمع کر کے انہیں اپنا ذخیرہ بناتا، تاکہ سخت وقت میں کام آئے۔
خطرناک دنیا کا سامنا
ایک دن کیڑے نے سوچا کہ کیوں نہ باہر جا کر تازہ ہوا لی جائے؟ جیسے ہی وہ زمین سے باہر نکلا، سورج کی روشنی نے اس کی ننھی آنکھوں کو چندھیا دیا۔ وہ تیزی سے ادھر اُدھر دیکھنے لگا، اور اچانک اس کی ریڑھ کی ہڈی میں خوف کی لہر دوڑ گئی—سامنے ایک مرغی چل رہی تھی!
مرغی بے دھیانی سے ادھر ادھر اپنی چونچ مار رہی تھی، گھاس میں کچھ تلاش کر رہی تھی۔ مگر کیڑے کو معلوم تھا کہ اگر وہ ذرا سا بھی حرکت کرے گا، تو وہ سیدھا اس کی نظر میں آ جائے گا۔ اس کا ننھا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔
"یہ وہ لمحہ ہے جس سے میں ہمیشہ ڈرتا تھا!" وہ خود سے بولا۔
وہ زمین کے ساتھ چپک گیا، سانس روک لی اور دعا کرنے لگا کہ مرغی آگے بڑھ جائے۔ مگر بدقسمتی سے، ایک ہلکی سی ہوا چلی اور قریب پڑے ایک سوکھے پتے کو ہلنے پر مجبور کر دیا۔ مرغی نے فوراً اپنی گردن اٹھائی، چونچ کو سیدھا کیا اور گھاس کے درمیان حرکت کا اندازہ لگانے لگی۔
"اوہ نہیں! اس نے مجھے دیکھ لیا!"
مرغی نے ایک لمحے کے لیے رک کر غور کیا، اور پھر جیسے ہی اس نے اپنے پنجے آگے بڑھائے، کیڑے نے پوری طاقت سے زمین میں بنی ایک چھوٹی سی دراڑ کی طرف چھلانگ لگا دی۔ مرغی نے فوراً اپنی چونچ وہاں ماری، مگر وہ خوش نصیب تھا کہ کسی طرح بچ نکلا۔ وہ تیزی سے رینگتا ہوا اپنی محفوظ سرنگ میں واپس چلا گیا اور اندر داخل ہوتے ہی گہری سانس لی۔
ایک نیا سبق
اپنی موم بتی جلاتے ہوئے کیڑے نے خود سے کہا:
"دنیا میں خطرہ ہمیشہ وہیں نہیں ہوتا جہاں ہمیں لگتا ہے۔ لوگ درندوں سے ڈرتے ہیں، مگر وہ کم از کم دور رہتے ہیں۔ اصل خطرہ وہ ہوتا ہے جو ہمارے سب سے قریب ہو، وہ جو ہمیں معمولی نوالہ سمجھ کر کھا جائے!"
یہ سبق اسے ہمیشہ یاد رہا، اور اس کے بعد اس نے کبھی بھی دن کے وقت اپنی سرنگ سے باہر نکلنے کی ہمت نہ کی۔ اس کی چھوٹی سی دنیا میں، سب سے زیادہ خوفناک مخلوق کوئی شیر یا مگرمچھ نہیں، بلکہ ایک سادہ سی مرغی تھی!
یہ کہانی ہمیں یہ سمجھاتی ہے کہ خطرہ ہمیشہ وہاں نہیں ہوتا جہاں ہمیں نظر آتا ہے، بلکہ بعض اوقات وہیں ہوتا ہے جہاں ہم کم از کم توقع کرتے ہیں۔
10 months ago | [YT] | 0
View 0 replies
Niazi AI
انتقام کے بھوت
ویران چوٹی پر سائے
چاندنی میں نہائی ہوئی اس پہاڑی پر صرف خاموشی کا راج تھا۔ ہوا میں ایک سرد لہر دوڑ رہی تھی، جیسے یہ جگہ صدیوں سے مردہ ہو۔ لیکن اگر کوئی غور کرتا، تو اسے نظر آتا کہ دس ڈھانچے نیم دائرے میں بیٹھے ہیں—چیتھڑوں میں لپٹے، زنگ آلود ہتھیاروں سے لیس، اور ان کے سامنے ایک پرانا، بوسیدہ جنگی نقشہ رکھا ہے۔
یہ عام ڈھانچے نہ تھے۔ یہ جنگجو تھے، جو برسوں پہلے ایک خوفناک جنگ میں مارے گئے تھے۔ لیکن موت انہیں ختم نہ کر سکی تھی، کیونکہ ان کے اندر ایک آگ تھی—انتقام کی آگ۔ ان کے دشمنوں نے انہیں ذبح کیا تھا، ان کی زمینوں کو جلا دیا تھا، اور ان کے خاندانوں کو مٹا دیا تھا۔ مگر وقت نے ان کی روحوں کو ختم نہیں کیا، بلکہ انہیں اور زیادہ خوفناک بنا دیا تھا۔
دریا—جہاں سب کچھ ختم ہوا تھا
ان کے سامنے بچھا نقشہ ایک مخصوص جگہ کو نشان زد کر رہا تھا—ایک دریا، جہاں ان کی فوج نے آخری سانس لی تھی۔ وہ دریا، جہاں ان کی لاشیں گرائی گئی تھیں، جہاں ان کا خون بہایا گیا تھا۔ وہ دریا، جو ان کے دشمنوں کے ظلم کی گواہی دے رہا تھا۔
لیکن اب وقت آ گیا تھا کہ یہ دریا ایک نئی کہانی سنائے۔
مردہ جنگجوؤں کا سفر
رات کے اندھیرے میں، وہ حرکت میں آئے۔ نہ کوئی آواز، نہ کوئی بات—بس ہڈیوں کی چرمراہٹ اور ہوا میں سرسراتی سرگوشیاں۔ وہ پہاڑ سے نیچے اترے، ان کے قدم زمین پر نہیں پڑ رہے تھے، جیسے وہ زمین کے اوپر تیر رہے ہوں۔ ان کے پیچھے ایک سیاہ دھند اٹھ رہی تھی، جو چاندنی کو نگل رہی تھی۔
جب وہ دریا کے کنارے پہنچے، تو پانی میں ایک عجیب سی ہلچل پیدا ہوئی۔ پہلا جنگجو جیسے ہی دریا میں اترا، پانی کا رنگ بدلنے لگا۔ سرمئی پانی خون کی سرخی میں ڈھلنے لگا، جیسے کسی نے صدیوں کا قید شدہ انتقام اس میں انڈیل دیا ہو۔ ایک کے بعد دوسرا جنگجو دریا میں اترا، اور جیسے ہی آخری جنگجو نے پانی میں قدم رکھا، ایک زوردار چیخ فضا میں گونجی—یہ چیخ نہ کسی انسان کی تھی، نہ کسی جانور کی، بلکہ خود زمین کی تھی، جو ان کی واپسی پر لرز رہی تھی۔
دشمنوں کی نسل پر قہر
دریا کے اس پار ان کے دشمنوں کی نسل بستی بنا کر سکون سے جی رہی تھی۔ وہ لوگ جو اپنے آباؤ اجداد کے جرائم کو بھول چکے تھے، وہ ظلم جو ان کے بزرگوں نے کیے تھے، ان کی یادداشت سے مٹ چکے تھے۔ لیکن ان جنگجوؤں کی یادداشت ابھی تک تازہ تھی۔
رات کے سائے میں وہ بستی میں داخل ہوئے۔ ایک ماں اپنے بچے کو سلانے میں مصروف تھی، ایک آدمی اپنے گھر کے دروازے پر کھڑا آسمان کو دیکھ رہا تھا، چند نوجوان آگ کے گرد بیٹھے ہنسی مذاق کر رہے تھے۔ کسی کو خبر نہ تھی کہ موت، جو صدیوں پہلے دفن ہو چکی تھی، ان کے دروازے پر دستک دینے آ چکی ہے۔
پھر پہلا دروازہ کھلا—یا شاید ٹوٹا۔ ایک سائے نے اندر قدم رکھا، اور اگلے ہی لمحے، اندر سے ایک خوفناک چیخ ابھری۔ وہ چیخ جو کسی کے حلق سے نکلنے والی آخری چیخ ہوتی ہے۔ خون دیواروں پر بکھرا، فرش سرخ ہو گیا، اور وہ سایہ خاموشی سے باہر آ گیا۔
پھر دوسرا دروازہ، پھر تیسرا، پھر چوتھا… اور یوں بستی پر قہر ٹوٹ پڑا۔
کوئی زندہ نہ بچا
صبح تک، بستی خاموش تھی—مگر یہ خاموشی زندگی کی نہیں، بلکہ موت کی تھی۔ کوئی زندہ نہ تھا۔ بچے، بوڑھے، عورتیں، مرد—سب مٹی میں مل چکے تھے۔
بستی کے مرکز میں، دس ڈھانچے خاموشی سے کھڑے تھے۔ ان کے چیتھڑے اب بھی خون سے بھیگے ہوئے تھے، ان کے زنگ آلود ہتھیار سرخ ہو چکے تھے، اور ان کے کھوکھلے چہرے کسی عجیب سکون کی گواہی دے رہے تھے۔
انہوں نے اپنا انتقام لے لیا تھا۔
ازلی دہشت
دریا کے کنارے کھڑے یہ جنگجو ایک دوسرے کو دیکھتے ہیں۔ ان کے کام ختم ہو چکا ہے۔ ان کی روحوں کا قید ختم ہو چکا ہے۔ ایک ایک کر کے، ان کے وجود دھند میں تحلیل ہونے لگتے ہیں، جیسے ہوا میں گھل رہے ہوں۔ آخر میں، صرف سیاہ دھند بچتی ہے، جو ہوا میں بکھر جاتی ہے، اور پھر کچھ نہیں۔
لیکن…
اگر کوئی آج بھی اس ویران دریا کے قریب سے گزرے، تو رات کے وقت اسے سناٹے میں سرگوشیاں سنائی دیتی ہیں۔ کوئی ان دیکھی چیز سانس لے رہی ہوتی ہے۔ اور اگر کبھی کوئی ناسمجھ اس زمین پر نیا گھر بنانے کی کوشش کرے، تو وہ ہمیشہ کے لیے غائب ہو جاتا ہے۔
کیونکہ انتقام کی آگ بجھ تو سکتی ہے، مگر اس کا دھواں ہمیشہ باقی رہتا ہے۔۔۔
11 months ago | [YT] | 0
View 0 replies
Niazi AI
Majestic Pegasus Emerging from the Clouds | Dreamlike Fantasy Art!
Description:
"Immerse yourself in the beauty of this stunning fantasy artwork featuring a majestic white Pegasus emerging gracefully from the misty clouds. With its luminous wings spread wide, the celestial horse radiates an ethereal glow, creating a dreamlike and serene atmosphere. The soft golden light adds to the mystical charm, making this artwork a perfect blend of magic and wonder. Ideal for lovers of fantasy, mythology, and breathtaking scenery.
#Pegasus #FantasyArt #Celestial #Dreamlike #Mystical #Ethereal #Cloudscape #WingedHorse #Magical #Surreal #FantasyLandscape #Mythology #Heavenly #Glow #Majestic
11 months ago | [YT] | 0
View 0 replies