Hello All My Dear.
This channel is all about showing you the opportunities to work and settle overseas where you can improve your standard of living.
Here you will get guidance on the whole process of getting a job overseas with work & visit visa as Pakistani Indian and others.
Disclaimer :
I am not an immigration consultant. This channel is created based on the information I have found in my research, experience, and knowledge. Use it at your own risk.
Beige Travel Trip
اطالیہ اور سپین کے درمیان اس بات پر کشیدگی بڑھ گئی ہے کہ یورپ نقل مکانی (امیگریشن) سے کیسے نمٹتا ہے، یہ تنازع ہسپانوی علاقے سیوٹا میں اچانک سرحدی بحران کے بعد سامنے آیا ہے۔
پڑوسی ملک مراکش سے ہزاروں تارکین وطن شمالی افریقہ میں واقع اس ہسپانوی علاقے میں داخل ہونے کے بعد، اطالوی وزیر اعظم جارجیا میلونی نے سپین سے اٹلی آنے والے مسافروں کی عارضی سرحدی جانچ پڑتال کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ تنازع یورپی یونین کے اندر سرحدی سیکورٹی پر بڑھتی ہوئی اختلاف رائے کو اجاگر کرتا ہے۔
اطالوی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ سپین کی نقل مکانی کی پالیسیاں انسانی اسمگلنگ کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں اور یورپ کی بیرونی سرحدوں کو کم محفوظ بناتی ہیں۔ جواب میں، ہسپانوی عہدیداروں نے اس تنقید کو مسترد کرتے ہوئے یورپی ممالک سے اپیل کی کہ وہ سرحدی ہنگامی صورتحال کے دوران ایک دوسرے پر الزام تراشی کرنے کے بجائے یکجہتی کا مظاہرہ کریں اور مل کر کام کریں۔
اگرچہ یورپی قوانین ممالک کو سیکورٹی خدشات کے دوران عارضی طور پر پاسپورٹ چیک دوبارہ نافذ کرنے کی اجازت دیتے ہیں، لیکن کسی ملک کو شینگن (بغیر سرحدی رکاوٹ کے سفر کے علاقے) سے مکمل طور پر خارج کرنے کے لیے یورپی یونین کے رکن ممالک کے درمیان وسیع تر اتفاق رائے کی ضرورت ہوگی۔
فی الحال، یہ صورتحال گہرے سیاسی چیلنجوں کی عکاسی کرتی ہے، کیونکہ یورپی ممالک انسانی امداد اور سرحدی نفاذ کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
#italy #spain #giorgiameloni #beigetraveltrip #europevisa #asadali #spain
1 day ago | [YT] | 12
View 0 replies
Beige Travel Trip
غیر قانونی طریقے سے یورپ جانے کی کوشش ناکام - انسانی سمگلنگ میں ملوث منظم نیٹ ورک بے نقاب*
ایف آئی اے امیگریشن کی ملتان ائرپورٹ پر بڑی کارروائی
عمرے کی آڑ میں غیر قانونی سمندر کے راستے یورپ جانے کی کوشش ناکام بنا دی گئی
غیر قانونی سمندر کے راستے یورپ بھجوانے میں ملوث منظم نیٹ ورک بے نقاب
مسافر آصف اقبال عمرے ویزے پر فلائٹ نمبر PF722 کے ذریعے سعودی عرب جا رہا تھا
مسافر کو امیگریشن کلئیرنس کے دوران مشکوک پایا گیا
ابتدائی تفتیش کے مطابق مسافر نے سعودی عرب سے البانیا جانا تھا
مسافر نے بعد ازاں البانیا سے غیر قانونی سمندر کے راستے یورپ جانا تھا
مسافر کا تعلق پاکپتن سے ہے جبکہ مسافر ساہیوال کے رہائشی ایجنٹ سے رابطے میں تھا
ایجنٹ نے مسافر کو غیر قانونی یورپ بھجوانے کا جھانسہ دے کر لاکھوں روپے بینک اکاونٹ میں وصول کئے
مسافر کو مزید تحقیقات اور قانونی کارروائی کے لیے ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل ملتان کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
مذکورہ ایجنٹ اور اس کے نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کے لیے مزید تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔
1 day ago | [YT] | 6
View 0 replies
Beige Travel Trip
UAE Social Media Laws - Privacy of People
متحدہ عرب امارات کے سائبر جرائم سے متعلق قانون UAE Federal Decree-Law No. 34 of 2021 on Combatting Rumours and Cybercrimes میں شہریوں کی ذاتی معلومات اور پرائیویسی کے تحفظ کو بہت اہمیت دی گئی ہے۔ اس قانون کے تحت ڈیجیٹل نظاموں کے ذریعے کسی بھی فرد کی ذاتی یا خفیہ معلومات کو بغیر اجازت حاصل کرنا، استعمال کرنا یا پھیلانا سخت جرم تصور کیا جاتا ہے۔ اس کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ ڈیجیٹل ماحول میں افراد کی نجی زندگی، مالی معلومات اور حساس ڈیٹا محفوظ رہے۔
دفعہ 6 کے مطابق کسی بھی شخص کے ذاتی الیکٹرانک ڈیٹا کو بغیر اجازت حاصل کرنا، محفوظ کرنا، تبدیل کرنا، مٹانا، کاپی کرنا یا پھیلانا جرم ہے۔ اس میں طبی ریکارڈز، تشخیص، علاج، بینک اکاؤنٹس اور آن لائن ادائیگیوں کی معلومات جیسے حساس ڈیٹا کو خاص تحفظ حاصل ہے۔ اس دفعہ کی خلاف ورزی پر کم از کم چھ ماہ قید اور 20 ہزار سے 1 لاکھ درہم تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔ اگر کوئی شخص جان بوجھ کر ایسا غیر قانونی ڈیٹا وصول کرے یا استعمال کرے تو وہ بھی اسی قانونی ذمہ داری کے تحت آتا ہے۔
دفعہ 13 ذاتی ڈیٹا کے جمع کرنے اور اس کے استعمال سے متعلق ہے۔ اس کے مطابق کسی بھی شخص یا ادارے کو صرف قانونی اجازت کے بغیر شہریوں یا رہائشیوں کا ڈیٹا اکٹھا کرنے، محفوظ کرنے یا پروسیس کرنے کی اجازت نہیں۔ خلاف ورزی کی صورت میں 50 ہزار سے 5 لاکھ درہم تک جرمانہ اور قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ اس دفعہ کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ ڈیٹا اکٹھا کرنے کے تمام عمل قانون اور ضابطوں کے مطابق ہوں۔
دفعہ 44 نجی زندگی کے تحفظ سے متعلق ہے۔ اس کے تحت کسی شخص کی اجازت کے بغیر اس کی ذاتی زندگی یا خاندانی معاملات میں مداخلت، خفیہ طور پر گفتگو ریکارڈ کرنا، یا آڈیو/ویڈیو مواد نشر کرنا جرم ہے۔ اسی طرح بغیر اجازت تصاویر لینا، انہیں محفوظ کرنا یا آن لائن پھیلانا بھی ممنوع ہے، چاہے وہ تصاویر سچ پر مبنی ہی کیوں نہ ہوں اگر ان سے کسی کی عزت یا پرائیویسی متاثر ہو۔ خاص طور پر حادثات، زخمی افراد یا فوت شدگان کی تصاویر بغیر اجازت پھیلانا بھی قابلِ سزا جرم ہے۔ ان خلاف ورزیوں پر کم از کم چھ ماہ قید اور 1.5 لاکھ سے 5 لاکھ درہم تک جرمانہ ہو سکتا ہے، جبکہ توہین یا بدنامی کی نیت سے ڈیجیٹل مواد میں تبدیلی کرنے پر سزا مزید سخت ہو جاتی ہے۔
دفعہ 45 پیشہ ورانہ معلومات کے تحفظ سے متعلق ہے۔ اس کے مطابق کسی ملازمت یا پیشہ ورانہ ذمہ داری کے دوران حاصل ہونے والی خفیہ معلومات کو بغیر اجازت ظاہر کرنا جرم ہے۔ اگر کوئی شخص اپنے کام کے دوران حاصل کی گئی خفیہ معلومات کو ٹیکنالوجی کے ذریعے افشا کرے تو اسے کم از کم چھ ماہ قید اور 2 لاکھ سے 10 لاکھ درہم تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔ اگر یہ معلومات کسی کو فائدہ پہنچانے یا ذاتی مفاد کے لیے استعمال کی جائیں تو سزا مزید سخت ہو سکتی ہے۔
مجموعی طور پر یہ دفعات اس بات کو واضح کرتی ہیں کہ متحدہ عرب امارات میں ڈیجیٹل پرائیویسی اور ذاتی ڈیٹا کا تحفظ انتہائی سخت قانونی فریم ورک کے تحت آتا ہے۔ اس قانون کا مقصد یہ ہے کہ آن لائن ماحول میں لوگوں کی نجی معلومات محفوظ رہیں، ان کا غلط استعمال نہ ہو، اور ڈیجیٹل نظاموں پر اعتماد برقرار رہے۔
1 day ago | [YT] | 4
View 0 replies
Beige Travel Trip
کراچی ائیر پورٹ پر 1960 کی دہائی میں پاکستان سے لندن جانے والوں کا اسٹائل.
اس وقت منگلا ڈیم بنا تھا بہت سے لوگ بے گھر ہوئے تھے. ان کو نوکریوں کی ضرورت تھی اور لندن والوں کو مین پاور کی. پاسپورٹ بنتا تھا ویزہ چٹکی بجاتے ملتا تھا.سوٹ کے ساتھ جناح کیپ ضرور پہنتے تھ
اس کو دیکھ کر آپ کو مائنڈ یور لینگویج کا کردار علی یاد آیا.؟
ویسے جو لوگ با شعور تھے ،،
یا جن کے نصیب اچھے تھے ،، وہ لوگ وقت پر باہر نکل کر ،،اپنا اور اپنی نسلوں کا مستقبل سنوار گئے ،،
اور جو ہماری طرح ،، کے
میرا پاکستان ہے ، یہ تیرا پاکستان ہے کی خوش فہمیوں میں مبتلا رہے ،،،
وہ یہاں بیٹھے کبھی ، واپڈہ والوں کو گالیاں دیتے ہیں ،
کبھی مہنگائی کو
کبھی ملکی نظام کو ،،
1 day ago | [YT] | 4
View 0 replies
Beige Travel Trip
جرمنی میں مختلف شعبوں کے کارکنوں اور پیشہ ور افراد کی طلب
جرمنی اس وقت بین الاقوامی ہنر مند افراد کے لیے بہترین مواقع فراہم کر رہا ہے، خاص طور پر صحت، میڈیکل ٹیکنالوجی، ہوٹل و ریسٹورنٹ (گاسٹرونومی) اور تعلیم کے شعبوں میں۔
طبی شعبے میں مختلف نوکریاں دستیاب ہیں، جیسے ڈینٹل اسسٹنٹ، میڈیکل اسسٹنٹ، ویٹرنری اسسٹنٹ، فزیوتھراپسٹ، آکوپیشنل تھراپسٹ، فارماسسٹ، ریڈیالوجی ٹیکنیشن، سرجیکل ٹیکنالوجسٹ، اینستھیزیا اسسٹنٹ، پیرا میڈکس، ایمرجنسی میڈیکل ٹیکنیشنز اور پاؤں کے امراض کے ماہر (پودیاترسٹ) وغیرہ۔
میڈیکل ٹیکنالوجی بھی ایک تیزی سے ترقی کرنے والا شعبہ ہے جہاں ڈینٹل ٹیکنیشن، ہیئرنگ ایڈ ماہر، آپٹیشن (عینک بنانے والے) اور آرتھوپیڈک ٹیکنیشنز کی مانگ ہے۔
سیاحت اور ہوٹلنگ کا شعبہ بھی جرمنی میں بہت اہم ہے اور یہاں مسلسل ہنر مند افراد کی ضرورت رہتی ہے۔ اس شعبے میں ہوٹل مینجمنٹ کے ماہرین، ریسٹورنٹ سپیشلسٹ، کیٹرنگ ایکسپرٹس اور باورچی (کُکس) کے لیے مواقع موجود ہیں۔
تعلیم کے شعبے میں بھی مستقل طور پر اساتذہ اور تربیت یافتہ افراد کی ضرورت ہے تاکہ بچوں کی بہتر نشوونما اور تعلیم کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس میں اساتذہ، سوشل ورکرز، اور ایجوکیٹرز شامل ہیں۔
اہلیت کے حوالے سے، آپ کو جرمنی کے قانون کے مطابق ایک “ہنر مند کارکن” ہونا ضروری ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ آپ نے یا تو جرمنی سے پیشہ ورانہ تربیت یا اعلیٰ تعلیم حاصل کی ہو، یا پھر بیرونِ ملک سے حاصل کی گئی تعلیم و تربیت جرمنی کے معیار کے برابر تسلیم شدہ ہو۔
اس پورے عمل کو سمجھنے اور آگے بڑھنے کے لیے درج ذیل مراحل مددگار ہیں:
اپنے پیشے کے بارے میں تفصیل جاننے کے لیے جرمن فیڈرل ایمپلائمنٹ ایجنسی کی ویب سائٹ Berufenet دیکھیں (صرف جرمن زبان میں):
web.arbeitsagentur.de/berufenet/
یہ جاننے کے لیے کہ آپ جرمنی میں کام اور رہائش کے اہل ہیں یا نہیں، Quick-Check ٹول استعمال کریں:
www.make-it-in-germany.com/en/visa-residence/quick…
دستیاب نوکریوں کی تلاش کے لیے یہ ویب سائٹ دیکھیں:
www.make-it-in-germany.com/en/working-in-germany/j…
مزید رہنمائی کے لیے آپ مختلف اداروں کے مواد بھی دیکھ سکتے ہیں جو انضمام (integration) اور پیشہ ورانہ مدد فراہم کرتے ہیں، خاص طور پر تعلیم اور ہوٹلنگ کے شعبوں کے لیے مختلف زبانوں میں معلوماتی مواد بھی دستیاب ہے۔
مزید مکمل معلومات کے لیے یہ لنک ملاحظہ کریں:
www.make-it-in-germany.com/en/working-in-germany/p…
اگر آپ سنجیدگی سے جرمنی میں کام کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو ضروری ہے کہ ان تمام معلومات کا تفصیل سے جائزہ لیں تاکہ آپ بہتر تیاری کے ساتھ ایک کامیاب قدم اٹھا سکیں۔
1 day ago | [YT] | 4
View 0 replies
Beige Travel Trip
کیا سپین کی ایمیگریشن پالیسی یورپ کو خوفزدہ کر رہی ہے؟
کالم ۔ جوزیف سالا ای کویعیع
گزشتہ چند برسوں کے سروے یہ بتاتے ہیں کہ یورپ کے زیادہ تر لوگ مسلسل بڑھتی ہوئی ایمیگریشن کے حق میں نہیں ہیں۔ حالیہ سروے کے مطابق کئی یورپی ممالک میں نصف سے زیادہ شہری چاہتے ہیں کہ مزید نئے تارکینِ وطن کو آنے کی اجازت نہ دی جائے، بلکہ گزشتہ برسوں میں آنے والے بہت سے لوگوں کو واپس بھیجا جائے۔
کاتالونیا میں بھی عوام کی ایک بڑی تعداد کا خیال ہے کہ ایمیگریشن حد سے زیادہ بڑھ چکی ہے۔ اس سے سرکاری سہولیات پر دباؤ پڑ رہا ہے اور موجودہ قوانین بہت نرم ہیں۔
کالم نویس کے مطابق یورپ میں اس سوچ کا آغاز 2015 میں ہوا۔ جب شام کی جنگ کے باعث لاکھوں مہاجرین یورپ پہنچے۔ اس کے بعد کئی ممالک میں ایسی سیاسی جماعتیں طاقت پکڑ گئیں۔ جو سخت ایمیگریشن پالیسی اور سرحدوں کے مؤثر کنٹرول کی حامی ہیں۔ روایتی سیاسی جماعتوں نے بھی محسوس کیا کہ اگر وہ اس مسئلے پر سخت مؤقف اختیار نہ کریں گی تو ووٹر ان سے دور ہو جائیں گے۔
مصنف کا کہنا ہے کہ اسی وجہ سے حالیہ برسوں میں یورپ آنے والے نئے تارکینِ وطن کی تعداد کم ہوئی ہے۔ لیکن سپین کا معاملہ الگ ہے۔
ان کے مطابق اس وقت یورپی یونین میں آبادی میں ہونے والے اضافے کا تقریباً 65 فیصد حصہ صرف سپین سے آ رہا ہے۔ حالانکہ یورپی یونین کی کل آبادی میں سپین کا حصہ صرف 11 فیصد ہے۔ 2025 میں سپین کی آبادی تقریباً چار لاکھ باسٹھ ہزار بڑھی۔ جبکہ فرانس میں اس سے کہیں کم اضافہ ہوا اور جرمنی اور اٹلی میں آبادی کم ہوئی۔
مصنف کا دعویٰ ہے کہ سپین کی حکومت نے ایسی ایمیگریشن پالیسی اپنائی ہے۔ جس کی یورپ میں مثال نہیں ملتی اور آج میڈرڈ کا باراخاس ہوائی اڈہ یورپ میں داخلے کا سب سے بڑا راستہ بن چکا ہے۔
جوزیف کے مطابق سیوطہ میں مراکش سے بڑی تعداد میں لوگوں کی آمد کی تصاویر نے پورے یورپ کو ہلا کر رکھ دیا۔ یورپی حکومتوں کو 2015 کے شامی مہاجرین کا بحران دوبارہ یاد آ گیا اور انہیں خدشہ ہے کہ اگر ایسے حالات دوبارہ پیدا ہوئے تو انہیں سیاسی نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ سپین کی حکومت پہلے ہی پندرہ لاکھ افراد کو قانونی حیثیت دینے کے فیصلے پر یورپی ۔مالک کی تنقید کا سامنا کر رہی تھی سیوطہ کے واقعات نے ان خدشات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
جوزیف لکھتے ہیں کہ سرحدوں پر سخت کنٹرول کا مطالبہ صرف دائیں بازو کی جماعتوں نے نہیں کیا بلکہ یورپی یونین کے 22 ممالک نے مشترکہ طور پر نئے اقدامات کا مطالبہ کیا۔ جن میں بائیں اور دائیں دونوں نظریات کی حکومتیں شامل ہیں۔
ان کے خیال میں صدر پیدرو سانچیز کی جانب سے ان ممالک پر "تعصب، جھوٹ، لاعلمی یا سیاسی مفاد" کے تحت کام کرنے کا الزام غیر ذمہ دارانہ رویہ ہے۔ کیونکہ یورپ کے بہت سے ممالک پہلے ہی سپین کی پالیسیوں پر شکوک رکھتے ہیں۔
جوزیف مزید کہتے ہیں کہ یورپ کی بائیں بازو کی پارٹیاں اس معاملے میں زمینی حقائق اور عوامی رائے سے کٹی ہوئی نظر آتی ہیں۔ ان کے مطابق کچھ حلقے ہر تنقید کو سازش قرار دیتے ہیں۔ جبکہ بعض لوگ سرحدوں کے مؤثر کنٹرول کی حمایت کرنے والوں کو بلاوجہ نسل پرست قرار دیتے ہیں۔ جس سے کھلی بحث متاثر ہوتی ہے۔
جوزیف کا یہ بھی کہنا ہے کہ بڑی تعداد میں تارکینِ وطن کی آمد سے بعض فلاحی اداروں کو بھی زیادہ وسائل ملتے ہیں۔ اسی لیے وہ مزید لوگوں کو سپین کے مختلف علاقوں میں منتقل کرنے کی حمایت کرتے ہیں۔
آخر میں جوزیف یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ سیوطہ کے واقعات نے ثابت کیا ہے کہ اگر حکومتیں چاہیں تو سرحدوں پر کنٹرول کے ذریعے ایمیگریشن کو منظم کیا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق مراکش ہی فیصلہ کرتا ہے کہ کب اور کتنے لوگ سیوطہ کی طرف جائیں گے۔ اس لیے یہ کہنا درست نہیں کہ اس مسئلے پر کسی کا اختیار نہیں۔
جوزیف اپنی رائے میں یہ مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ اگر آج سپین، یورپ میں سب سے زیادہ تارکینِ وطن وصول کرنے والا ملک بن گیا ہے۔ خصوصاً لاطینی امریکہ سے آنے والوں کے حوالے سے۔
تو یہ پاپولر پارٹی (PP) اور سوشلسٹ پارٹی (PSOE)، کی شعوری پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔
نوٹ: یہ ایک رائے پر مبنی کالم ہے۔ اس میں بیان کیے گئے دعوے اور نتائج مصنف کی ذاتی آراء ہیں، ضروری نہیں کہ وہ ثابت شدہ حقائق یا تمام فریقوں کا متفقہ مؤقف ہوں۔
1 day ago | [YT] | 4
View 0 replies
Beige Travel Trip
جنوبی کوریا کو اب بھی غیر ملکی ورکرز کی ضرورت کیوں ہے؟
جنوبی کوریا اس وقت ایک بڑے لیبر شارٹیج (مزدوروں کی کمی) کا سامنا کر رہا ہے۔ آبادی میں مسلسل کمی، کم شرحِ پیدائش اور بڑھتی ہوئی عمر رسیدہ آبادی کی وجہ سے کئی صنعتوں کو مطلوبہ تعداد میں مقامی ورکرز نہیں مل رہے۔
اسی لیے مینوفیکچرنگ، کنسٹرکشن، زراعت، فشریز اور فوڈ پروسیسنگ سمیت مختلف شعبے آج بھی غیر ملکی ورکرز پر انحصار کر رہے ہیں۔ اگرچہ حکومت ہر سال اپنی لیبر پالیسی اور ویزا کوٹہ میں تبدیلیاں کرتی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ جنوبی کوریا کو اب بھی محنتی اور باصلاحیت غیر ملکی ورکرز کی ضرورت ہے۔
حال ہی میں حکومت نے کچھ نئے شعبوں میں بھی غیر ملکی ورکرز کی بھرتی شروع کی ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ کوریا کی معیشت کو غیر ملکی افرادی قوت کی پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے۔
اگر آپ جنوبی کوریا میں کام کر رہے ہیں، تو آپ صرف اپنے خاندان کا سہارا نہیں بلکہ کوریا کی معیشت کا بھی ایک اہم حصہ ہیں۔ آپ کی محنت سے نہ صرف یہاں کی صنعتیں چل رہی ہیں بلکہ پاکستان میں ہزاروں خاندانوں کے گھروں کے چولہے بھی جل رہے ہیں۔
اگر آپ مستقبل میں قانونی طریقے سے کوریا آنے کا ارادہ رکھتے ہیں، تو یہ خبر اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مستقبل میں بھی محنتی اور ذمہ دار غیر ملکی ورکرز کی ضرورت برقرار رہنے کا امکان ہے۔
💙 جب آپ اپنی محنت کی کمائی پاکستان بھیجیں، تو ایسی سروس کا انتخاب کریں جو آپ کے پیسے کی زیادہ سے زیادہ قدر آپ کے خاندان تک پہنچائے۔
✅ پاکستان کے لیے زیرو سروس فیس
✅ بہترین ایکسچینج ریٹ
✅ محفوظ، تیز اور قابلِ اعتماد منی ٹرانسفر
ہان پاس — آپ کا قابلِ اعتماد مالیاتی ساتھی۔
📌 اس خبر کے تمام ذرائع (Sources)
www.koreatimes.co.kr/southkorea/globalcommunity/20…
www.envoyglobal.com/news-alert/republic-of-korea-2…
1 day ago | [YT] | 4
View 0 replies
Beige Travel Trip
اٹلی کی حکومت نے غیر قانونی ہجرت پر قابو پانے کے لیے ایک نیا منصوبہ یورپی یونین کے سامنے پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت البانیہ میں قائم کیے گئے تارکینِ وطن مراکز کے ماڈل کو مزید محفوظ غیر یورپی ممالک، خصوصاً افریقی ریاستوں تک توسیع دی جائے گی۔ اس منصوبے کا مقصد یہ ہے کہ ایسے غیر قانونی تارکینِ وطن، جنہیں یورپ میں رہنے کا قانونی حق حاصل نہیں، انہیں ان مراکز میں منتقل کر کے ان کی شناخت، قانونی کارروائی اور بعد ازاں ان کے آبائی ممالک واپسی کا عمل تیز کیا جائے۔ اطلاعات کے مطابق یوگنڈا اس منصوبے کے لیے زیرِ غور اہم ممالک میں شامل ہے، جبکہ گھانا، سینیگال، تیونس، لیبیا، موریطانیہ، مصر، ایتھوپیا، ازبکستان، آرمینیا اور مونٹی نیگرو کے نام بھی سامنے آئے ہیں۔
اطالوی وزیرِ داخلہ ماتیو پیانتیدوزی اس منصوبے کو یورپی یونین کے وزرائے داخلہ کے خصوصی اجلاس میں پیش کریں گے، جو اسپین کے شہر سیوٹا میں پیدا ہونے والے حالیہ مہاجر بحران کے بعد طلب کیا گیا ہے۔ اٹلی کے وزیرِ خارجہ انتونیو تاجانی کا کہنا ہے کہ یورپ کو ہجرت کے مسئلے پر مشترکہ حکمتِ عملی اختیار کرنی ہوگی اور صرف غیر قانونی تارکینِ وطن کی واپسی کے مؤثر نظام سے ہی اس بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق یورپی فنڈز کی مدد سے محفوظ ممالک میں ایسے مراکز قائم کیے جائیں گے جہاں سے غیر قانونی افراد کو ان کے وطن واپس بھیجنا آسان ہوگا۔
دوسری جانب اس منصوبے پر اٹلی اور اسپین کے درمیان سیاسی کشیدگی بھی سامنے آئی ہے۔ اطالوی حکومت نے اسپین کی موجودہ امیگریشن پالیسی کو ضرورت سے زیادہ نرم قرار دیتے ہوئے تنقید کی ہے، جبکہ اسپین کے وزیرِ خارجہ نے جواب میں کہا ہے کہ ماضی میں اٹلی خود بھی لمپیڈوسا جیسے علاقوں میں بڑے مہاجر بحرانوں سے مؤثر انداز میں نہیں نمٹ سکا، اس لیے کسی دوسرے ملک پر تنقید کرنے کے بجائے یورپی ممالک کو باہمی تعاون اور مشترکہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
اسی دوران اٹلی البانیہ کے شہر گیادر میں قائم اپنے موجودہ مرکز کو بھی مکمل طور پر فعال بنانے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ سال کے اختتام تک اسے وسیع پیمانے پر استعمال کیا جا سکے۔ اطالوی حکومت کا مؤقف ہے کہ غیر قانونی ہجرت، انسانی اسمگلنگ اور سرحدی دباؤ سے نمٹنے کے لیے ایسے مراکز اور مضبوط بین الاقوامی تعاون مستقبل کی ضرورت ہیں، جبکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس منصوبے سے مہاجرین کے بنیادی حقوق اور انسانی تحفظات کے حوالے سے نئے سوالات بھی جنم لے سکتے ہیں۔
#italy #italylife #italia #Eurolife #foryou ##beigetraveltrip #europevisa #asadali #spain
1 day ago | [YT] | 5
View 0 replies
Beige Travel Trip
اٹلی نے غیر قانونی امیگریشن اور جرائم کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کرتے ہوئے 141 غیر ملکی شہریوں کو ملک بدر (ڈیپورٹ) کر دیا ہے۔ حکام کے مطابق ان افراد میں کچھ مختلف نوعیت کے جرائم میں ملوث تھے، جبکہ دیگر اٹلی میں قانونی رہائشی دستاویزات کے بغیر مقیم تھے۔ متعلقہ اداروں کا کہنا ہے کہ جن افراد کو ملک بدر کیا گیا، ان کے خلاف قانونی کارروائی مکمل کرنے کے بعد انہیں ان کے آبائی ممالک واپس بھیجا گیا۔ اطالوی حکومت کا کہنا ہے کہ عوامی سلامتی کو یقینی بنانا، غیر قانونی امیگریشن کی روک تھام اور قوانین پر سختی سے عمل درآمد اس کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں، اور اسی مقصد کے تحت ملک بھر میں ایسے آپریشن آئندہ بھی جاری رہیں گے۔
#italy #italylife #italia #Eurolife #foryou ##beigetraveltrip #europevisa #asadali #spain
2 days ago | [YT] | 11
View 0 replies
Beige Travel Trip
مسقط (عُمان) کی تاریخ
مسقط عُمان کا دارالحکومت اور سب سے بڑا شہر ہے۔ یہ جزیرۂ عرب کے قدیم ترین آباد شہروں میں شمار ہوتا ہے اور ہزاروں سال سے تجارت، ثقافت اور سمندری سرگرمیوں کا اہم مرکز رہا ہے۔ اپنی منفرد جغرافیائی حیثیت کی وجہ سے مسقط ایشیا، افریقہ اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان تجارتی راستوں کا اہم بندرگاہی شہر بن گیا۔
قدیم زمانے میں یہاں سے لوبان (Frankincense)، تانبہ، کھجور اور مصالحہ جات کی تجارت ہوتی تھی۔ ساتویں صدی عیسوی میں اسلام کی آمد کے بعد مسقط اسلامی تہذیب اور سمندری تجارت کا ایک اہم مرکز بن گیا۔
1507ء میں پرتگالیوں نے مسقط پر قبضہ کر لیا اور بندرگاہ کے دفاع کے لیے **الجلالی** اور **المیرانی** قلعے تعمیر کیے۔ تقریباً 143 سال بعد 1650ء میں عمانی افواج نے پرتگالیوں کو شکست دے کر شہر کو آزاد کروا لیا۔
اس کے بعد مسقط عمانی سلطنت کا مرکز بنا، جس کی بحری طاقت مشرقی افریقہ، زنجبار اور بحرِ ہند کے کئی علاقوں تک پھیل گئی۔ 1970ء میں سلطان قابوس بن سعید کے دور میں مسقط میں جدید ترقی کا آغاز ہوا، جس کے نتیجے میں سڑکیں، بندرگاہیں، ہوائی اڈے، تعلیمی ادارے اور جدید انفراسٹرکچر تعمیر کیا گیا۔
آج مسقط اپنی تاریخی عمارتوں، خوبصورت ساحلوں، صاف ستھرے ماحول، قدیم قلعوں اور جدید ترقی کے امتزاج کی وجہ سے دنیا کے خوبصورت دارالحکومتوں میں شمار ہوتا ہے اور عمان کی سیاسی، معاشی اور ثقافتی سرگرمیوں کا مرکز ہے۔
#Muscat #Oman #History #MuscatHistory #OmaniHistory #MiddleEast #ArabianPeninsula #TravelOman #AncientHistory #IslamicHistory #Portuguese #MaritimeHistory #Culture #Heritage #ExploreOman #fb #post #viral #history #beigetraveltrip #europevisa #asadali #spain
2 days ago | [YT] | 12
View 0 replies
Load more