Hello All My Dear.
This channel is all about showing you the opportunities to work and settle overseas where you can improve your standard of living.
Here you will get guidance on the whole process of getting a job overseas with work & visit visa as Pakistani Indian and others.
Disclaimer :
I am not an immigration consultant. This channel is created based on the information I have found in my research, experience, and knowledge. Use it at your own risk.
Beige Travel Trip
یورپ جانے والے غیر یورپی مسافروں کے لیے بڑی سہولت، نو ممالک کو بائیومیٹرک چیک مؤخر کرنے کی اجازت
جرمنی، فرانس، اٹلی، بیلجیم اور سوئٹزرلینڈ سمیت نو ممالک تکنیکی خرابی یا طویل قطاروں کی صورت میں EES چیک عارضی طور پر روک سکیں گے
برسلز: یورپی یونین نے مبینہ طور پر نو شینگن ممالک کو نئے انٹری/ایگزٹ سسٹم (EES) کے تحت بائیومیٹرک جانچ مکمل طور پر نافذ کرنے میں مزید مہلت دے دی ہے۔ ان ممالک میں جرمنی، فرانس، اٹلی، بیلجیم، نیدرلینڈز، یونان، پرتگال، مالٹا اور سوئٹزرلینڈ شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق مرکزی کمپیوٹر نظام میں تکنیکی مسائل اور بعض یورپی ہوائی اڈوں پر طویل قطاروں کے باعث متعلقہ ممالک کو ضرورت پڑنے پر فنگر پرنٹس اور چہرے کی تصویر لینے کا عمل عارضی طور پر محدود یا معطل کرنے کی اجازت ہوگی۔
تاہم EES ختم نہیں کیا گیا۔ پاکستانی اور دیگر غیر یورپی مسافروں سے کسی بھی ایئرپورٹ یا سرحدی مقام پر بائیومیٹرک معلومات طلب کی جاسکتی ہیں، اس لیے مسافر اضافی وقت رکھ کر ایئرپورٹ پہنچیں۔ یورپی کمیشن کی جانب سے اس نئی رعایت کی تفصیلی باضابطہ وضاحت ابھی سامنے آنا باقی ہے۔
3 days ago | [YT] | 14
View 1 reply
Beige Travel Trip
فرانس میں غیرقانونی غیرملکی کارکنوں کو قانونی حیثیت حاصل کرنے کا اہم موقع
افرادی قوت کی کمی والے شعبوں میں کام کرنے والے اہل افراد 31 دسمبر 2026ء تک آجر کی مدد کے بغیر خود ایک سالہ رہائشی اور ورک پرمٹ کے لیے درخواست دے سکتے ہیں
پیرس: فرانس میں افرادی قوت کی شدید کمی والے مخصوص شعبوں میں کام کرنے والے غیر یورپی اور غیرقانونی حیثیت رکھنے والے کارکنوں کے لیے عارضی بنیادوں پر اپنی رہائش قانونی بنانے کا اہم موقع دستیاب ہے۔ فرانسیسی سرکاری معلومات کے مطابق یہ خصوصی سہولت 31 دسمبر 2026ء تک نافذ رہے گی۔
یہ طریقۂ کار فرانس کے 26 جنوری 2024ء کے امیگریشن قانون کے تحت متعارف کرایا گیا تھا۔ سرکاری ویب سائٹ پر معلومات 13 فروری 2024ء کو شائع اور 28 مئی 2025ء کو اپ ڈیٹ کی گئی تھیں۔ یہ کوئی نئی اسکیم نہیں، بلکہ پہلے سے نافذ عارضی سہولت ہے جس کی آخری تاریخ قریب آرہی ہے۔
اس سہولت کے تحت اہل کارکن “عارضی کارکن” یا “ملازم” کی کیٹیگری میں ایک سال کے رہائشی کارڈ کے لیے درخواست دے سکتا ہے۔ رہائشی کارڈ منظور ہونے کے ساتھ اسے قانونی طور پر کام کرنے کی اجازت بھی مل جائے گی۔
درخواست دینے کی بنیادی شرائط
درخواست گزار کے لیے ضروری ہے کہ:
* وہ فرانس میں کم از کم تین سال سے مسلسل مقیم ہو۔
* اس نے درخواست سے پہلے کے آخری 24 مہینوں میں کم از کم 12 ماہ افرادی قوت کی کمی والے شعبے میں کام کیا ہو۔ یہ مدت مسلسل یا مختلف وقفوں میں ہوسکتی ہے۔
* درخواست دیتے وقت بھی وہ حکومت کی منظور شدہ فہرست میں شامل کسی کمی والے پیشے میں ملازمت کررہا ہو۔
* اس کا سنگین مجرمانہ ریکارڈ موجود نہ ہو۔
* وہ فرانسیسی معاشرے، کاروباری ماحول اور جمہوری اقدار کے ساتھ اپنے انضمام کا ثبوت پیش کرسکے۔
سرکاری معلومات میں قصاب، بڑھئی اور نرس جیسے شعبے بطور مثال بیان کیے گئے ہیں، تاہم اہل پیشوں کی مکمل فہرست علاقے اور مقامی لیبر مارکیٹ کے مطابق مختلف ہوسکتی ہے۔ موجودہ فہرست 21 مئی 2025ء کے سرکاری حکم نامے کے تحت جاری کی گئی اور اسے ہر سال اپ ڈیٹ کیا جاسکتا ہے۔
اس طریقۂ کار کی اہم خصوصیت یہ ہے کہ درخواست دینے کے لیے آجر کی لازمی معاونت یا اس کی جانب سے ورک پرمٹ کی درخواست ضروری نہیں۔ اہل غیرملکی کارکن متعلقہ پریفیکچر میں اپنی درخواست خود جمع کراسکتا ہے۔ تاہم رہائشی کارڈ جاری کرنے کا حتمی اختیار پریفیکٹ کے پاس ہوگا اور شرائط پوری ہونے سے منظوری خودکار طور پر یقینی نہیں ہوجاتی۔
پریفیکچر درخواست گزار کی فرانس میں سماجی اور خاندانی وابستگی، ملازمت کا ریکارڈ، عوامی نظم و ضبط کی پابندی اور فرانسیسی جمہوری اصولوں کے احترام کا بھی جائزہ لے گا۔
فرانس میں مقیم پاکستانی کارکنوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ کسی ایجنٹ یا غیرمصدقہ سوشل میڈیا دعوے پر بھروسا کرنے کے بجائے اپنے علاقے کے پریفیکچر یا مستند امیگریشن وکیل سے معلومات حاصل کریں۔ جعلی ملازمت کے کاغذات یا غلط معلومات فراہم کرنے سے درخواست مسترد ہونے کے علاوہ قانونی کارروائی بھی ہوسکتی ہے۔
3 days ago | [YT] | 5
View 0 replies
Beige Travel Trip
پولیو، گردن توڑ بخار، یلو فیور، انفلو ئنزا کی نادرا ڈیجیٹل ویکسی نیشن کا فوری اطلاق صرف کراچی ائیرپورٹ کے عمرہ زائرین پر ہو گا جب کہ بعد میں پشاور، اسلام آباد اور لاہور پر بھی پابندی ہو گی۔
.
فیڈرل ائیرپورٹ ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ بارڈر ہیلتھ سروسز کے فوکل پرسن ڈاکٹر سید مرتضیٰ شاہ بخاری نے بتایا کہ 14 ستمبر کے بعد کراچی ائیرپورٹ سے عمرہ کے مسافروں پر نادرا ویکسی نیشن سرٹیفکیٹ کے بغیر سفری پابندی ہوگی، ویکسی نیشن کیلئے فیڈرل گورنمنٹ سول ڈسپنسری واحد مجاز مرکز ہے۔
.
اس کے علاوہ افریقا، وسطی و جنوبی امریکا سے آنے والے مسافروں کیلئے یلو فیور ویکسی نیشن لازم ہے، افریقا، وسطی جنوبی امریکا میں 10 گھنٹے ٹرانزٹ کے مسافروں پر بھی ویکسی نیشن لازمی ہے۔
.
ڈاکٹر مرتضیٰ کے مطابق ایک سال یا زیادہ عمر کے مسافروں کیلئے پاکستان میں داخلے پر سرٹیفکیٹ دکھانا لازم ہو گا، فی الوقت سرٹیفکیٹ نہ رکھنے والے مسافر کم سے کم 6 گھنٹے قبل ائیرپورٹ پہنچیں، کراچی ائیرپورٹ ڈیپارچر پر ہیلتھ کاؤنٹرز ویکسی نیشن کا انتظام کیا جا رہا ہے۔
.
ڈاکٹر مرتضی بخاری نے کہا کہ تمام ائیر لائنز کے اسٹیشن منیجرز، ٹریول ایجنٹس کو آگاہی کے نوٹس جاری کیے گئے ہیں، ائیر لائنز اور ایجنٹس مسافروں کو آگاہی کے پابند ہوں گے اور انہیں ان ویکسی نیشن سرٹیفیکٹس کے بغیر بورڈنگ کارڈ جاری نہیں کریں گے۔
3 days ago | [YT] | 3
View 0 replies
Beige Travel Trip
یورپی یونین کے نئے واپسی (Return) قوانین:
یورپی یونین (European Union) نے غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکی شہریوں کی واپسی (Return) کے نظام کو مزید مؤثر اور سخت بنانے کے لیے ایک نئے مشترکہ قانونی فریم ورک پر سیاسی اتفاق کیا ہے۔ اس نئے نظام کا مقصد یورپی ممالک میں واپسی کے فیصلوں کو تیز، منظم اور یکساں بنانا ہے، جس کے پاکستانی شہریوں سمیت تمام غیر یورپی (Third-Country) شہریوں پر بھی اہم اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
نئے نظام کے تحت اگر کسی غیر قانونی تارکِ وطن کے خلاف یورپی یونین کے ایک رکن ملک میں واپسی (Return) یا ملک چھوڑنے کا فیصلہ جاری ہو جاتا ہے، تو مستقبل میں اس فیصلے کو دیگر رکن ممالک بھی تسلیم کر سکیں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک ملک سے جاری ہونے والا Return Order دوسرے یورپی ملک میں بھی قابلِ عمل ہو سکتا ہے، جس سے ایک ملک سے دوسرے ملک جا کر کارروائی سے بچنے کے امکانات مزید محدود ہو جائیں گے۔
اس نئے نظام کے تحت ایسے غیر ملکی شہری جو قانونی طور پر یورپی یونین میں رہنے کا حق نہیں رکھتے، ان پر امیگریشن حکام کے ساتھ مکمل تعاون کرنا لازمی ہوگا۔ اگر کوئی شخص اپنی شناخت چھپانے کی کوشش کرے، حکام سے تعاون نہ کرے، جان بوجھ کر مفرور ہو جائے، یا اسے سکیورٹی رسک قرار دیا جائے، تو اس کے خلاف جبری واپسی (Forced Return) کی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ بعض حالات میں متعلقہ حکام کو ایسے افراد کا سراغ لگانے کے لیے مزید قانونی اختیارات بھی حاصل ہوں گے۔
اگر کوئی شخص شناخت کی تصدیق، سفری دستاویزات کی تیاری یا واپسی کے عمل میں تعاون نہیں کرتا تو اسے مختلف قانونی نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جن میں رضاکارانہ واپسی (Voluntary Return) کے لیے دی جانے والی مہلت میں کمی، بعض سہولیات سے محرومی، اور متعلقہ ملک کے قوانین کے مطابق دیگر قانونی کارروائیاں شامل ہو سکتی ہیں۔مزید برآں، واپسی کے فیصلے کے ساتھ یورپی یونین میں دوبارہ داخلے پر پابندی (Entry Ban) بھی عائد کی جا سکتی ہے۔ عام حالات میں یہ پابندی کئی برسوں تک برقرار رہ سکتی ہے، جبکہ سنگین خلاف ورزیوں یا سکیورٹی سے متعلق معاملات میں اس کی مدت مزید طویل ہو سکتی ہے۔نئے نظام کے تحت بعض افراد کو واپسی کے عمل کے دوران مالی ضمانت (Financial Guarantee) جمع کروانے، باقاعدگی سے امیگریشن یا قانون نافذ کرنے والے اداروں کو رپورٹ کرنے، یا مخصوص مقام پر رہائش اختیار کرنے کا پابند بھی بنایا جا سکتا ہے۔ اگر کوئی شخص ان شرائط کی خلاف ورزی کرے تو اسے انتظامی حراست (Administrative Detention) میں بھی لیا جا سکتا ہے۔
اس اصلاحاتی نظام کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ یورپی یونین بعض غیر یورپی ممالک کے ساتھ کیے گئے انتظامات کے تحت "Return Hubs" قائم کر سکتی ہے، جہاں واپسی کے فیصلے کے حامل افراد کو عارضی طور پر منتقل کیا جا سکتا ہے، تاکہ بعد ازاں انہیں ان کے آبائی ملک واپس بھیجا جا سکے۔
اگرچہ نئے قوانین میں کارروائی مزید سخت کی گئی ہے، تاہم رضاکارانہ واپسی (Voluntary Return) کو اب بھی ترجیح دی جا رہی ہے۔ وہ افراد جو مقررہ وقت کے اندر امیگریشن حکام سے مکمل تعاون کریں، انہیں رضاکارانہ واپسی کے پروگراموں کے تحت مالی معاونت، پیشہ ورانہ تربیت، سفری سہولت اور وطن واپسی کے بعد دوبارہ بحالی (Reintegration) میں مدد فراہم کی جا سکتی ہے۔ اس کے برعکس، جو افراد جان بوجھ کر قانون سے بچنے کی کوشش کریں گے، وہ ان سہولیات سے محروم ہو سکتے ہیں اور انہیں حراست اور جبری واپسی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اگر آپ یورپ میں موجود ہیں یا یورپ جانے کا ارادہ رکھتے ہیں تو ہمیشہ قانونی ویزا، رہائشی قوانین اور امیگریشن شرائط کی مکمل پابندی کریں۔ غیر قانونی قیام نہ صرف ملک بدری (Deportation) کا سبب بن سکتا ہے بلکہ مستقبل میں یورپی ممالک میں داخلے پر طویل المدتی پابندی بھی لگ سکتی ہے۔
#beigetraveltrip #europevisa #asadali #spain #Dubai #UAE #Qatar #Bahrain #Kuwait #GulfFlights #EASA #TravelAlert #OverseasPakistanis #Immigration #Pakistan #OverseasPakistanis
4 days ago | [YT] | 3
View 0 replies
Beige Travel Trip
ملک بھر میں پاسپورٹ ڈیلیوری کاؤنٹرز ہفتے کے روز بھی کھلے رکھنے کا اعلان
شہری صبح 8 سے شام 4 بجے تک تیار پاسپورٹ وصول کرسکیں گے، خصوصی سہولت دو ماہ جاری رہے گی
اسلام آباد: ڈائریکٹوریٹ جنرل امیگریشن اینڈ پاسپورٹس نے شہریوں کی سہولت کے لیے ملک بھر کے پاسپورٹ دفاتر میں قائم ڈیلیوری کاؤنٹرز ہفتے کے روز بھی کھلے رکھنے کا اعلان کردیا ہے۔
محکمہ پاسپورٹس کے مطابق ہفتے کے روز پاسپورٹ ڈیلیوری کاؤنٹرز صبح 8 بجے سے شام 4 بجے تک کام کریں گے۔ یہ خصوصی سہولت ابتدائی طور پر دو ماہ تک جاری رہے گی، جس کے دوران شہری اپنے تیار شدہ پاسپورٹ ہفتے کے روز بھی متعلقہ دفتر سے وصول کرسکیں گے۔
واضح رہے کہ یہ سہولت صرف تیار پاسپورٹس کی وصولی کے لیے ہے؛ ہفتے کے روز نئی پاسپورٹ درخواستوں کی عمومی پراسیسنگ کا اعلان نہیں کیا گیا۔
ڈائریکٹر جنرل امیگریشن اینڈ پاسپورٹس محمد علی رندھاوا نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے تیار پاسپورٹس بروقت وصول کریں۔ محکمہ کے مطابق چھ ماہ سے زائد عرصے تک متعلقہ دفتر سے وصول نہ کیے جانے والے پاسپورٹس حکومتی پالیسی کے تحت تلف کیے جاسکتے ہیں۔
#beigetraveltrip #europevisa #asadali #spain #Pakistan #Passport #PassportOffice #DGIP #PassportDelivery #OverseasPakistanis #PublicInformation
1 week ago | [YT] | 12
View 0 replies
Beige Travel Trip
پاکستانی ایئرپورٹس پر امیگریشن رکنے نہیں دی جائے گی، متبادل نظام تیار رکھنے کا حکم
سسٹم میں تکنیکی خرابی کی صورت میں فوری بیک اپ انتظام کی ہدایت، جعلی یا نامکمل سفری دستاویزات کے خلاف سخت کارروائی کا حکم
کراچی : پاکستان سے بیرون ملک سفر کرنے والے مسافروں خصوصاً اوورسیز پاکستانیوں کے لیے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ ایئرپورٹس پر امیگریشن سسٹم میں تکنیکی خرابی کی صورت میں فوری متبادل انتظام موجود ہونا چاہیے تاکہ مسافروں کی امیگریشن کا عمل متاثر نہ ہو۔
وزارتِ داخلہ کے مطابق وزیر داخلہ نے کراچی ایئرپورٹ کے دورے کے دوران امیگریشن کے انتظامات کا جائزہ لیا اور سسٹم میں خرابی کے باعث مسافروں کو پیش آنے والی مشکلات کا نوٹس لیا۔ انہوں نے واضح ہدایت دی کہ مستقبل میں ایسی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مؤثر بیک اپ سسٹم اور متبادل انتظامات یقینی بنائے جائیں۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ تکنیکی خرابی کی وجہ سے مسافروں کو طویل انتظار اور غیرضروری مشکلات کا سامنا نہیں ہونا چاہیے اور امیگریشن کا عمل بلا تعطل جاری رکھنے کے لیے پیشگی انتظام ضروری ہے۔
اس موقع پر ایف آئی اے امیگریشن حکام کو سفری دستاویزات کی مؤثر جانچ یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی گئی۔ حکام سے کہا گیا کہ جعلی، مشکوک یا نامکمل سفری دستاویزات کے ذریعے بیرون ملک جانے کی کوششوں کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے۔
یہ اقدام خصوصاً ان پاکستانیوں کے لیے اہم ہے جو روزگار، تعلیم، کاروبار، فیملی ویزا یا دیگر قانونی مقاصد کے لیے بیرون ملک سفر کرتے ہیں۔ مسافروں کو بھی مشورہ دیا جاتا ہے کہ ایئرپورٹ روانگی سے قبل اپنا پاسپورٹ، ویزا اور دیگر ضروری سفری دستاویزات مکمل اور درست ہونے کی تسلی کرلیں۔
#beigetraveltrip #europevisa #asadali #spain #Pakistan #OverseasPakistanis #FIA #Immigration #PakistanAirports #TravelUpdate #PakistaniTravellers #Passport #AirportNews
1 week ago | [YT] | 5
View 0 replies
Beige Travel Trip
برطانیہ میں استحصال کا شکار غیرملکی ورکرز کے لیے بڑی سہولت، اسپانسر کی پابندی ختم ہوگی
جدید غلامی یا انسانی استحصال کا باقاعدہ شکار قرار پانے والے اسکلڈ ورکرز موجودہ ویزا کی باقی مدت کے دوران کسی بھی آجر کے ساتھ کام کرسکیں گے
لندن: برطانوی حکومت نے استحصال، انسانی اسمگلنگ یا جدید غلامی کا شکار ہونے والے غیرملکی اسکلڈ ورکرز کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے امیگریشن قوانین میں اہم تبدیلی کا اعلان کردیا ہے۔ نئے قانون کے تحت متاثرہ کارکن اپنے استحصالی اسپانسر کو چھوڑ کر موجودہ ویزا کی باقی مدت کے دوران کسی دوسرے آجر کے ساتھ کام کرسکے گا۔
برطانوی ہوم آفس کی جانب سے 3 ستمبر 2026 کو پارلیمنٹ میں پیش کی گئی امیگریشن رولز کی نئی ترامیم کے مطابق، اسکلڈ ورکر ویزا رکھنے والے ایسے افراد جنہیں برطانوی حکام کی جانب سے جدید غلامی یا انسانی اسمگلنگ کا باقاعدہ متاثرہ شخص قرار دیا جائے گا، ان پر صرف اپنے اصل اسپانسر کے ساتھ کام کرنے کی پابندی ختم کردی جائے گی۔
موجودہ نظام میں اسکلڈ ورکر ویزا عام طور پر ایک مخصوص اسپانسر اور ملازمت کے ساتھ منسلک ہوتا ہے۔ اس وجہ سے بعض کیئر ورکرز، شیفس، ہوٹل ملازمین اور دوسرے غیرملکی کارکن استحصالی آجر کو چھوڑنے سے گھبراتے ہیں کیونکہ ملازمت ختم ہونے کی صورت میں ان کا قانونی قیام بھی خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
نئے قانون کے تحت اہل قرار پانے والا کارکن اپنے موجودہ ویزا کی باقی مدت میں کسی بھی آجر کے ساتھ کام کرسکے گا۔ برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد غیرملکی کارکنوں کو کم تنخواہ، اجرت روکنے، غیرمعمولی طویل اوقاتِ کار، دھمکیوں، تشدد، نقل و حرکت پر پابندی یا پاسپورٹ ضبط کرنے جیسے استحصال سے بچانا ہے۔
تاہم یہ سہولت ہر اسکلڈ ورکر ویزا رکھنے والے شخص کو خودکار طور پر حاصل نہیں ہوگی۔ اس کے لیے ضروری ہوگا کہ متعلقہ کارکن کو برطانیہ کے نیشنل ریفرل میکانزم (National Referral Mechanism) کے ذریعے جدید غلامی یا انسانی اسمگلنگ کا باقاعدہ متاثرہ شخص تسلیم کیا گیا ہو۔
برطانوی حکومت کے مطابق یہ تبدیلی متاثرہ کارکنوں کو اپنے حقوق کے لیے سامنے آنے، استحصالی آجر کو چھوڑنے اور اپنی قانونی حیثیت کھونے کے خوف کے بغیر محفوظ ملازمت اختیار کرنے میں مدد دے گی۔ مجرمانہ سرگرمی کے شواہد ملنے پر استحصال میں ملوث اسپانسرز کے معاملات پولیس کو بھی بھیجے جاسکیں گے۔
ہوم آفس کے سرکاری اعلامیے کے مطابق اسکلڈ ورکرز سے متعلق یہ نئی سہولت 8 اکتوبر 2026 سے نافذ ہوگی۔ متاثرہ پاکستانی اور دیگر غیرملکی کارکن کسی بھی قدم سے پہلے مستند امیگریشن ماہر، متعلقہ امدادی ادارے یا برطانوی ہوم آفس سے قانونی رہنمائی ضرور حاصل کریں۔
#beigetraveltrip #europevisa #asadali #spain #UK #UnitedKingdom #SkilledWorkerVisa #CareWorkers #ImmigrationRules #OverseasPakistanis #PakistaniCommunity #WorkersRights #HumanTrafficking #ModernSlavery
1 week ago | [YT] | 0
View 0 replies
Beige Travel Trip
ترکی سے غیر قانونی طور پر یونان میں داخل ہونے والے 8 تارکین وطن کی شناخت کر لی گئی۔
ان کی اسمگلنگ کے لیے، ELAS کے مطابق، انہوں نے ہر ایک کو 5,000 سے 17,000 یورو تک کی رقم ادا کی۔
ترکی سے غیر قانونی طور پر یونان میں داخل ہونے والے 17 سے 27 سال کی عمر کے آٹھ تارکین وطن کی شناخت لائکووریسی میں ہوئی۔
تارکین وطن نے سمگلروں کے ذریعے اپنی نقل و حمل کے لیے 5000 سے 17000 یورو ادا کیے۔
انہیں ابتدائی طور پر تھیسالونیکی میں ایک "محفوظ گھر" اور پھر ایتھنز منتقل کیا گیا جہاں آخری منزل برطانیہ اور سویڈن تھی۔
غیر ملکیوں سے متعلق قانون کی خلاف ورزی پر ان کے خلاف مقدمہ درج کر کے انہیں ان کے آبائی ملک واپس بھیجنے کا عمل شروع کر دیا گیا۔
گرفتار افراد کو مزید کارروائی کے لیے مجاز پراسیکیوٹر کے پاس لے جایا گیا"
#beigetraveltrip #europevisa #asadali #spain #Dubai
1 week ago | [YT] | 2
View 0 replies
Beige Travel Trip
بوسنیا اور ہرزیگووینا نے کروشیا کی سرحد پر 96 تارکینِ وطن
بوسنیا اور ہرزیگووینا کی سرحدی پولیس کا کہنا ہے کہ انہوں نے بدھ کے روز 'بسٹریسا' (Bistrica) گاؤں کے قریب دو کارروائیوں کے دوران 96 افراد کو کروشیا میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے سے روکا۔ اس دوران دریائے ساوا (Sava) عبور کرنے کے لیے استعمال ہونے والی دو کشتیاں قبضے میں لی گئیں اور تارکینِ وطن کی اسمگلنگ میں ملوث دو مشتبہ افراد کی شناخت کی گئی۔
بوسنیا اور ہرزیگووینا کی سرحدی پولیس نے جمعرات (3 ستمبر) کو بتایا کہ اس کے 'گراڈیشکا' (Gradiška) یونٹ نے 'ریپبلکا سرپسکا' (Republika Srpska) کی وزارتِ داخلہ کے ساتھ مل کر بدھ کے روز بسٹریسا گاؤں میں دو آپریشن کیے۔
دوپہر کے وقت، اہلکاروں نے 63 افراد—جن میں 40 پاکستانی اور 23 بنگلہ دیشی شہری شامل تھے—کو سرحد غیر قانونی طور پر عبور کرنے سے روکا۔ بوسنیا اور ہرزیگووینا کے پراسیکیوٹر آفس کے حکم پر تفتیش کاروں نے جائے وقوعہ کا معائنہ کیا، دو کشتیاں قبضے میں لیں اور تارکینِ وطن کی اسمگلنگ میں ملوث ہونے کے شبے میں دو افراد کی شناخت کی۔
اسی شام، 33 افراد پر مشتمل ایک اور گروہ—جس میں 18 افغان، 13 بنگلہ دیشی اور دو پاکستانی شہری شامل تھے—کو اسی علاقے میں ریاستی سرحد عبور کرنے کی کوشش کے دوران روکا گیا۔ 'سروس فار فارنرز افیئرز' (Service for Foreigners' Affairs) کے 'بانجا لوکا' (Banja Luka) فیلڈ سینٹر کو مطلع کر دیا گیا ہے اور دونوں واقعات کی تحقیقات جاری ہیں۔
یہ کارروائیاں دریائے ساوا کے ساتھ کی گئیں، جو یورپی یونین کے رکن ملک کروشیا کے ساتھ بوسنیا کی شمالی سرحد کا حصہ ہے۔ علاقائی اطلاعات کے مطابق، کروشین پولیس نے فضائی نگرانی کے ذریعے اس آپریشن میں معاونت کی اور رات بھر دریا کے ساتھ نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے ڈرونز کا استعمال کیا۔
#beigetraveltrip #europevisa #asadali #spain #Dubai #UAE #Qatar #Bahrain #Kuwait #WorkPermit #MoveToEurope #BelgiumJobs #VisaProcess #SkilledMigration #EuropeWorkPermit #BrusselsJobs
1 week ago | [YT] | 0
View 0 replies
Beige Travel Trip
پاکستانی ایئرپورٹس پر موبائل فون چیکنگ سے متعلق ایف آئی اے کی اہم وضاحت
ہر مسافر کا فون چیک نہیں کیا جاتا، صرف انسانی اسمگلنگ سے تعلق کے شبے میں ہائی رسک مسافروں کی اضافی جانچ؛ غلط آف لوڈنگ کے خلاف نظرثانی کی درخواست دی جاسکتی ہے
اسلام آباد: وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے پاکستانی ایئرپورٹس پر بیرونِ ملک جانے والے مسافروں کے موبائل فون چیک کیے جانے سے متعلق اہم وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام مسافروں کے فون کی تلاشی معمول کی کارروائی نہیں ہے۔
ایف آئی اے کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل امیگریشن نعمان صدیقی کے مطابق صرف ان مسافروں کے موبائل فون فرانزک جانچ کے لیے بھیجے جاسکتے ہیں جو انسانی اسمگلروں سے ممکنہ تعلق، مشکوک سفری منصوبے یا دیگر خطرے کی نشاندہی کرنے والے عوامل کی بنیاد پر ہائی رسک پروفائل میں آتے ہوں۔
انہوں نے واضح کیا کہ امیگریشن حکام ہر مسافر کا فون چیک نہیں کرتے۔ مسافروں کی جانچ کے دوران ان کی سفری تاریخ، منزل، ویزا کی قسم، سفر کا مقصد، مالی اور پیشہ ورانہ پس منظر اور فراہم کردہ دستاویزات کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ اگر یہ معلومات سفر کے بیان کردہ مقصد سے مطابقت نہ رکھیں تو مسافر سے اضافی سوالات یا دستاویزات طلب کی جاسکتی ہیں۔
ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات غیرقانونی ہجرت اور انسانی اسمگلنگ کے منظم نیٹ ورکس کی روک تھام کے لیے کیے جارہے ہیں۔ بعض ممالک کے وزٹ ویزوں پر جانے والے پاکستانیوں کی بڑی تعداد مقررہ مدت میں واپس نہیں آئی، جس کے باعث بعض سفری راستوں اور پروفائلز کی جانچ سخت کی گئی ہے۔
غلط آف لوڈنگ کی صورت میں کیا کریں؟
ایف آئی اے کے مطابق اگر کوئی مسافر سمجھتا ہے کہ مکمل اور درست سفری دستاویزات کے باوجود اسے غلط طور پر آف لوڈ کیا گیا ہے تو وہ:
* ایئرپورٹ پر موجود شکایتی یا QR کوڈ پر مبنی نظام کے ذریعے شکایت درج کرا سکتا ہے۔
* متعلقہ امیگریشن انچارج سے فیصلے پر نظرثانی کی درخواست کرسکتا ہے۔
* متعلقہ زونل گریوینس کمیٹی سے رجوع کرسکتا ہے۔
* ایف آئی اے کے سینئر حکام یا قانونی فورم سے بھی داد رسی حاصل کرسکتا ہے۔
ایف آئی اے نے یکم جون 2026 کو آف لوڈنگ کے فیصلوں پر نظرثانی کا طریقۂ کار متعارف کرایا تھا۔ اس کے تحت متاثرہ مسافر پہلے امیگریشن انچارج اور بعد میں متعلقہ زونل گریوینس کمیٹی کے سامنے اپنا معاملہ پیش کرسکتا ہے۔
قانونی ماہر عمر گیلانی نے رپورٹ میں مؤقف اختیار کیا کہ امیگریشن افسر سفری دستاویزات کی جانچ اور معقول شبہے کی بنیاد پر اضافی سوالات کرسکتے ہیں، تاہم محض پروفائلنگ کی بنیاد پر کسی مسافر کو موبائل فون کھولنے پر مجبور کرنے کا اختیار الگ قانونی سوال ہے۔ ان کے مطابق فون کی باقاعدہ تلاشی یا تحویل کے لیے قانونی جواز اور متعلقہ کارروائی ضروری ہوسکتی ہے۔
مسافروں کے لیے ضروری ہدایات
بیرونِ ملک جانے والے پاکستانی اپنے پاس درست پاسپورٹ، ویزا، واپسی یا آگے کے سفر کا ٹکٹ، ہوٹل بکنگ یا رہائش کا ثبوت، دعوت نامہ اور سفر کے اخراجات سے متعلق دستاویزات ضرور رکھیں۔ ملازمت کے لیے جانے والے افراد ورک ویزا، روزگار کا معاہدہ اور ضرورت کے مطابق پروٹیکٹر آف ایمیگرنٹس کی کلیئرنس بھی ساتھ رکھیں۔
غلط آف لوڈنگ یا امیگریشن سے متعلق شکایت کے لیے ایف آئی اے کے اوورسیز پاکستانی کمپلینٹ سیل سے complaints.img@fia.gov.pk یا 051-9260951 پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔ ایف آئی اے
1 week ago | [YT] | 0
View 1 reply
Load more