Beige Travel Trip

Hello All My Dear.

This channel is all about showing you the opportunities to work and settle overseas where you can improve your standard of living.


Here you will get guidance on the whole process of getting a job overseas with work & visit visa as Pakistani Indian and others.


Disclaimer :
I am not an immigration consultant. This channel is created based on the information I have found in my research, experience, and knowledge. Use it at your own risk.


Beige Travel Trip

عدالت نےایف آئی اے اور امیگریشن حکام کو آئندہ کسی بھی مسافر کو آف لوڈ کرتےہوئے تحریری وجوہات سے آگاہ کرنےاور انٹرویو کا مکمل ویڈیو ریکارڈ محفوظ رکھنے کا حکم دےدیا، عدالت نے امیگریشن حکام کو متاثرہ شہری کو فوری طور پر آف لوڈنگ آرڈر کی کاپی فراہم کرنےکا پابند بنادیا،عدالت نےدرخواست گزار شہری کو آف لوڈ کرنے کا اقدام غیر قانونی قرار دیتے ہوئے قرار دیا کہ محض خدشات، شبہات اور مفروضوں کی بنیاد پر کسی پاکستانی شہری کے بیرونِ ملک سفر کے آئینی حق پر پابندی نہیں لگائی جا سکتی۔عدالت نے ریمارکس دیے کہ درخواست گزار کے خلاف کوئی مقدمہ، انکوائری، بلیک لسٹنگ یا ای سی ایل آرڈر موجود نہیں تھا جبکہ اس کے پاس تمام سفری دستاویزات، ویزا اور ریٹرن ٹکٹ بھی موجود تھے۔فیصلے میں کہا گیا کہ “دبئی میں فلائٹ تبدیل کرنے کے دوران غائب ہو جانے” جیسے مبہم خدشات کی بنیاد پر آف لوڈ کرنا غیر قانونی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے مترادف ہے۔
عدالت نے مزید قرار دیا کہ آف لوڈنگ پروفارما میں مبہم اور روایتی جملے درج کرنا جنرل کلازز ایکٹ کے سیکشن 24-A کی خلاف ورزی ہے اور اختیارات کا استعمال قانون، انصاف اور معقولیت کے دائرے میں رہ کر ہونا چاہیے۔
جسٹس راحیل کامران نے یہ بھی ریمارکس دیے کہ قانون میں نائیجیریا سفر کے لیے رقم کی کوئی مقررہ حد موجود نہیں، اس لیے فنڈز کی کمی کا اعتراض ذاتی پسند و ناپسند پر مبنی معلوم ہوتا ہے۔
عدالت نے ایف آئی اے اور امیگریشن حکام کو ہدایت کی کہ آئندہ کسی بھی مسافر کو آف لوڈ کرتے وقت واضح اور ٹھوس وجوہات تحریری طور پر ریکارڈ کی جائیں، انٹرویو کا مکمل ریکارڈ محفوظ رکھا جائے اور متاثرہ شہری کو فوری طور پر آف لوڈنگ آرڈر کی کاپی فراہم کرنےکا پابند بنادیا، جسٹس راحیل کامران نے شہری محمد عباس کی درخواست کا تحریری تفصیلی فیصلہ جاری کردیا

#LahoreHighCourt #beigetraveltrip #europevisa #FIA #Immigration #Offloading #FundamentalRights #IllegalOffloading #BreakingNews #LegalUpdate #PakistanNews #CourtDecision #OverseasPakistanis #GeneralClausesAct #HighCourtOrder

16 hours ago | [YT] | 11

Beige Travel Trip

✅ اسپین میں Seguridad Social نمبر کیسے حاصل کریں؟ مکمل تفصیلی گائیڈ (2026)

اسپین کے نئے امیگریشن قوانین کے تحت بہت سے پاکستانی بھائیوں کی فائلیں منظور ہو رہی ہیں۔ NIE نمبر ملنے کے بعد Permiso de Trabajo (کام کی اجازت) بھی جاری ہو جاتی ہے۔ اس کے فوراً بعد آپ کو **Seguridad Social** نمبر (SSN) ملتا ہے، جو اسپین میں قانونی طور پر کام کرنے، سیلری وصول کرنے، ٹیکس ادا کرنے، سوشل سیکیورٹی، ہسپتال اور بچوں کی سہولیات کے لیے انتہائی ضروری ہے۔Seguridad Social نمبر کیا ہے؟
یہ ایک 12 ہندسوں والا نمبر ہوتا ہے جو آپ کی سوشل سیکیورٹی اکاؤنٹ سے منسلک ہوتا ہے۔ یہ نمبر ملنے کے بعد آپ کا کام، بینک اکاؤنٹ، اور صحت کی سہولیات سب درست ہو جاتے ہیں۔

عام طریقہ (Default Process)
Seguridad Social کا نمبر عام طور پر **ڈاک** کے ذریعے اُس ایڈریس پر بھیجا جاتا ہے جو آپ نے **Empadronamiento** میں Ayuntamiento (مقامی کونسل) میں رجسٹر کروایا ہوتا ہے۔ خط میں آپ کا SSN، کارڈ، اور متعلقہ معلومات ہوتی ہیں۔

اگر خط نہ پہنچے تو کیا کریں؟ (تفصیلی حل)

پریشان نہ ہوں، یہ بہت عام مسئلہ ہے۔ آپ نمبر کئی طریقوں سے حاصل کر سکتے ہیں:

1. آن لائن طریقہ (سب سے آسان)
- Seguridad Social کی آفیشل ویب سائٹ پر جائیں: www.seg-social.es
- "Acceso como ciudadano" یا "Cl@ve" سے لاگ ان کریں (اگر Cl@ve PIN بنایا ہوا ہے)
- "Consulta de datos" یا "Número de Seguridad Social" سیکشن میں جا کر اپنا NIE اور ذاتی معلومات ڈال کر چیک کریں۔
- اگر پہلے سے اکاؤنٹ نہیں ہے تو "Registro" کرکے بنائیں۔

2. Seguridad Social آفس میں جا کر
- قریبی **Oficina de la Seguridad Social** (INSS آفس) میں جائیں۔

لازمی دستاویزات:
- اصل پاسپورٹ
- NIE نمبر والا کارڈ یا دستاویز
- Permiso de Trabajo / Resolución de Autorización
- Empadronamiento سرٹیفکیٹ (تازہ)
- Work Contract (Contrato de Trabajo)
- 2-3 پاسپورٹ سائز فوٹو (بعض اوقات)

وہاں فارم بھریں (Modelo TA.1) اور فوری نمبر جاری کر دیا جاتا ہے۔
3. اپنے آجر (Employer) کے ذریعے
- اگر آپ کا باس اچھا ہے تو وہ خود آپ کا Seguridad Social نمبر رجسٹر کروا سکتا ہے۔
- بہت سے کمپنیاں خود ہی ٹیکس اور سوشل سیکیورٹی آفس میں رجسٹریشن کراتی ہیں۔

4. Telefónica / فون کے ذریعے
- Seguridad Social ہیلپ لائن: 901 16 65 65 یا 915 42 11 76 پر کال کریں۔
- NIE اور پاسپورٹ نمبر بتائیں، وہ گائیڈ کریں گے۔

📍 اہم ٹپس اور احتیاطی تدابیر

-Empadronamiento تازہ رکھیں۔ اگر آپ شہر بدل گئے ہیں تو فوراً نئے ایڈریس پر Empadronamiento کروائیں، ورنہ اہم خطوط کہیں اور چلے جاتے ہیں۔
- نمبر ملنے کے 1-2 ہفتے بعد اپنے بینک اکاؤنٹ میں SSN اپ ڈیٹ کر دیں۔
- جاب شروع کرنے سے پہلے SSN ضرور حاصل کر لیں، بغیر اس کے سیلری نہیں مل سکتی۔
- اگر 30-45 دن گزر گئے اور کچھ نہیں ملا تو فوراً آفس جائیں۔
- کچھ علاقوں (جیسے بارسلونا، میڈرڈ، والنسیا) میں انتظار لمبا ہو سکتا ہے، اس لیے جلدی ایکشن لیں۔

یہ گائیڈ ان لوگوں کے لیے ہے جو حال ہی میں اسپین آئے ہیں یا NIE مل چکا ہے۔ اگر آپ کے پاس NIE ہے لیکن Permiso de Trabajo یا SSN نہیں ملا تو اپنی صورتحال کمنٹ میں بتائیں،

اللہ سب کو آسانی دے۔

#SpainImmigration #SeguridadSocial #NIE #PermisoDeTrabajo #SpainVisa #PakistaniInSpain #OverseasPakistanis #SpainLife #ImmigrationSpain

18 hours ago | [YT] | 4

Beige Travel Trip

جرمنی - آئی ٹی پروفیشنلز کے لیے ویزا آپشنز

جرمنی میں رہائشی ٹائٹل حاصل کرنے کے لیے تین اہم آپشنز ہیں۔

پہلا آپشن:
کوالیفائیڈ ایمپلائمنٹ کے لیے رہائشی ٹائٹل (سکشن 18a اور 18b کے تحت)۔
اس کے لیے آپ کے پاس ہائر ایجوکیشن یا ووکیشنل کوالیفیکیشن ہونی چاہیے جو جرمنی میں ریکوگنائزڈ ہو، یا جرمنی میں حاصل کی ہوئی ہو۔ اس کے علاوہ جرمنی میں آئی ٹی اسپیشلسٹ کی ایک کنکریٹ جاب آفر بھی چاہیے۔ اگر آپ کی عمر 45 سال سے زیادہ ہے تو 2026 سے کم از کم €55,770 سالانہ گراس سیلری ہونی چاہیے یا اچھی پنشن پروویژن ہو۔ اس راستے کے لیے فیڈرل ایمپلائمنٹ ایجنسی کی منظوری لازمی ہے۔

دوسرا آپشن:
EU Blue Card (سکشن 18g کے تحت)۔
اس کے لیے آپ کے پاس جرمنی میں ریکوگنائزڈ اکیڈمک کوالیفیکیشن، ٹرشری ایجوکیشن کی برابر کوالیفیکیشن، یا جرمنی میں حاصل کی ہوئی ہائر ایجوکیشن ہونی چاہیے۔ جرمنی میں آئی ٹی اسپیشلسٹ یا مینیجر کی کنکریٹ جاب آفر چاہیے اور وہ جاب آپ کی کوالیفیکیشن کے مطابق ہونی چاہیے۔ 2026 سے کم از کم €45,934.20 سالانہ گراس سیلری درکار ہے۔ فیڈرل ایمپلائمنٹ ایجنسی کی منظوری بھی چاہیے، لیکن اگر آپ کی سیلری €50,700 یا اس سے زیادہ ہو تو یہ منظوری نہیں چاہیے۔

اس آپشن میں آئی ٹی پروفیشنلز کے لیے بغیر فارمل ڈگری والا راستہ بھی ہے۔ اس کے لیے پچھلے 7 سالوں میں کم از کم 3 سال کا اکیڈمک لیول کا آئی ٹی کا تجربہ ہونا چاہیے۔ جرمنی میں مناسب جاب، €45,934.20 سالانہ گراس سیلری (2026 سے) اور فیڈرل ایمپلائمنٹ ایجنسی کی منظوری درکار ہے۔

تیسرا آپشن:
سکشن 19c پیراگراف 2 کے ساتھ سکشن 6 (Ordinance on the Employment of Foreigners) کے تحت رہائشی ٹائٹل۔
اس کے لیے پچھلے 5 سالوں میں آئی ٹی سیکٹر کا کم از کم 2 سال کا تجربہ ہونا چاہیے اور جرمنی میں کنکریٹ جاب آفر چاہیے۔ 2026 سے €45,630 سالانہ گراس سیلری درکار ہے اور فیڈرل ایمپلائمنٹ ایجنسی کی منظوری بھی۔ اگر آجر kolektiv معاہدے (collective agreement) سے بندھا ہو اور آپ اسی کے مطابق کام کر رہے ہوں تو کم از کم سیلری کی شرط ختم ہو جاتی ہے۔

تمام سیلری کے اعداد و ارقام اور گائیڈ لائنز جنوری 2026 کے مطابق ہیں۔ یہ معلومات Federal Ministry for Economic Affairs and Energy سے متعلق ہیں۔

#Pakistan #PakistanZindabad #pakistani #OverseasPakistanis #beigetraveltrip #europevisa #germany #GermanyOpportunityCard #WorkInGermany #GermanyVisa2026 #EuropeImmigration

19 hours ago | [YT] | 0

Beige Travel Trip

مالٹا ورک ویزا 2026 - ایجنٹ مافیا کو بائے بائے بولو
عید کی خوشیوں کے ساتھ ساتھ آپ کے مستقبل کے لیے ایک بہت بڑی خوشخبری لے کر آیا ہوں۔ اگر آپ پاکستان، انڈیا، بنگلہ دیش یا نیپال سے ہیں اور 2026 میں یورپ جانے کا خواب دیکھ رہے ہیں، تو اب کسی ایجنٹ کو 40 یا 50 لاکھ روپے دینے کی بالکل ضرورت نہیں ہے۔ مالٹا کی حکومت نے ایجنٹوں کا پتہ صاف کر دیا ہے اور ڈائریکٹ ویزا کا بالکل نیا سسٹم نکال دیا ہے جہاں میرٹ پر کام صرف 15 دنوں میں ہو سکتا ہے۔
مالٹا گورنمنٹ کے 2 نئے سخت قوانین
اس سال مالٹا جانے کے لیے آپ کو دو بڑے پہاڑ عبور کرنے ہوں گے، جن کو سمجھے بغیر ویزا ملنا ناممکن ہے:
پہلا قانون - اسکل پاس (Skill Pass): اگر آپ ٹورزم، ہوٹل یا ہاسپیٹلٹی سیکٹر میں جا رہے ہو تو اب آپ کا پہلے آن لائن ٹیسٹ اور انگلش کی ویریفیکیشن ہوگی۔
دوسرا قانون - پری ڈیپارچر کورس (Pre-Departure Course): مالٹا لینڈ کرنے سے پہلے اب 250 یورو کی فیس دے کر یہ کورس پاس کرنا سب کے لیے 100 فیصد لازمی ہو چکا ہے۔
ان ڈیمانڈ جابز اور سیلری کی گراؤنڈ ریلیٹی
مالٹا میں اس وقت ورکرز کی شدید شارٹیج ہے، خاص طور پر ان سیکٹرز میں:
* کنسٹرکشن (Construction)
* الیکٹریشن اور پلمبر (Electrician & Plumber)
* ہوٹل اور ریسٹورنٹ سٹاف (Hospitality)
* ڈرائیونگ اور کلیننگ (Driving & Cleaning)
یہاں آپ ماہانہ 1200 یورو سے لے کر 2000 یورو (پاکستانی لاکھوں روپے) بہت آسانی سے کما سکتے ہیں۔
بغیر ایجنٹ خود اپلائی کرنے کا طریقہ
ویڈیو میں نے اپنے چینل پر لائیو کر دی ہے جس میں مالٹا کے آفیشل گورنمنٹ پورٹلز Jobsplus اور EURES پر جا کر خود اپنے موبائل یا کمپیوٹر سے ڈائریکٹ جاب اپلائی کرنے کا مکمل اور سچا طریقہ سکھایا ہے۔ یاد رہے کہ مالٹا اب جعلی ڈاکومنٹس یا فیک سی وی کو معاف نہیں کر رہا، اس لیے آپ کی سی وی بالکل پروفیشنل اور اے ٹی ایس فرینڈلی (ATS Friendly) ہونی چاہیے۔ اگر آپ خود نہیں بنا سکتے تو ٹینشن مت لیں، ویڈیو میں ہمارا آفیشل نمبر موجود ہے، آپ ہماری سروس لے سکتے ہیں۔
ہوائی کہانیاں چھوڑیں اور گراؤنڈ ریلیٹی دیکھنے کے لیے ابھی نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں اور ویڈیو کو آخر تک دیکھیں تاکہ آپ بھی اپنا ایجنٹ خود بن سکیں۔
https://youtu.be/gJFynQQtW6Y?si=X9p2p...
چینل کو سبسکرائب لازمی کر دیں کیونکہ یہاں آپ کو صرف سچ ملے گا، کہانیاں نہیں!
#MaltaWorkVisa #EuropeVisa2026 #JobInMalta #BeigeTravelTrip #WorkPermit #MaltaSkillsPass #MaltaJobs #malta #maltaworkpermitvisa #maltafreevisa #jobsplus #europejobs #easyeuropevisa #schengenvisa2026

22 hours ago | [YT] | 12

Beige Travel Trip

سپینش اور دیگر زبانوں کا ایک مشہور قول ہے: جس قیدی/غلام کو اپنی زنجیروں سے پیار ہو جائے، اُسے کوئی آزاد نہیں کروا سکتا۔ 🪢

اوپن امیگریشن کی درخواستوں میں کنٹریکٹ لگا کر فائل جمع کروانے سے “فائل زیادہ اچھی” ہونے کا تصور درست نہیں ہے۔ ❌

ایسی خودساختہ باتیں ایک دفعہ پھر مصنوعی، احسان مندی کے بدلے حاصل کردہ یا بھاری رقوم کے عوض خریدے ہوئے کنٹریکٹ کی حوصلہ افزائی کر رہی ہیں 💰 اور ممکنہ طور پر ایسے تصورات وہ لوگ ہی مشہور کرواتے ہیں جو کنٹریکٹ بیچنے کا کاروبار کرتے ہیں۔ اور اس حد تک مشہور کرتے ہیں کہ لوگ سمجھانے کے باوجود جذباتی ہو کر “کنٹریکٹ لگانے” کی طرف ہی بھاگتے ہیں۔

بارِ دیگر یہ بات آپ کو بالکل یقین سے بتائی اور سمجھائی جا رہی ہے کہ اوپن امیگریشن کی درخواستوں میں کام کے عارضی اجازت نامے بلاتفریق آرہے ہیں۔ “کنٹریکٹ لگا کر” جمع کروانے والوں کی کوئی اضافی اہمیت نہیں۔ ❌

کنٹریکٹ خریدنا ایک غلامی کی زنجیر 🪢 کی طرح ہی ہے اس سے پیار کرنا چھوڑ دیں!!! آزادی والا آپشن اپنائیں۔ یاد رکھیں کہ ہزاروں لوگوں نے اس زنجیر کو توڑنے کے لیے جدوجہد کی ہے۔

اور اگر واقعی آپ اُسی جگہ کام کریں گے، استحصال، احسان مندی یا معاوضے کا معاملہ نہیں ہے، تو پھر ضرور کنٹریکٹ لگائیں۔
#spainopenimmigration #spain #spaintrc #spainvisa #spainworkcontract #beigetraveltrip #workvisa #europe #GermanyOpportunityCard #WorkInGermany #GermanyVisa2026 #EuropeImmigration #Chancenkarte

1 day ago | [YT] | 7

Beige Travel Trip

قونصلر معاونت (بیرونِ ملک پاکستانی سفارتی مدد)

پاکستان کے سفارت خانے، ہائی کمیشنز اور قونصل خانے بیرونِ ملک موجود وہ سرکاری ادارے ہیں جو خاص طور پر پاکستانی شہریوں کی مدد اور حفاظت کے لیے قائم کیے گئے ہیں۔ ہر شخص جو بیرونِ ملک جانے کا ارادہ رکھتا ہے، اسے روانگی سے پہلے ان کی خدمات کے بارے میں ضرور جاننا چاہیے۔

ان دفاتر میں تعینات کمیونٹی ویلفیئر اتاشی ایسے سرکاری افسران ہوتے ہیں جو پاکستانی مزدوروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرتے ہیں، استحصال یا کنٹریکٹ کے مسائل میں مدد کرتے ہیں اور مقامی لیبر حکام کے ساتھ رابطہ قائم کرنے میں سہولت فراہم کرتے ہیں۔

پاکستانی سفارت خانے آپ کی مدد کر سکتے ہیں اگر آپ کو کنٹریکٹ کی خلاف ورزی، تنخواہ نہ ملنے، گرفتاری، بیماری، دستاویزات کے گم ہونے، گھریلو تشدد یا ہنگامی طور پر وطن واپسی جیسے مسائل کا سامنا ہو۔ تاہم یہ بات سمجھ لیں کہ سفارت خانہ مکمل قانونی متبادل نہیں ہوتا بلکہ وہ آپ کو مناسب قانونی یا ادارہ جاتی مدد تک پہنچنے میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔

آپ کو چاہیے کہ پاکستان کے سفارت خانے کے ہنگامی رابطہ نمبر ہمیشہ اپنے پاس رکھیں، جیسے موبائل میں محفوظ کریں، بٹوے میں ایک کارڈ رکھیں اور ایک کاپی پاکستان میں کسی قابلِ اعتماد فرد کے پاس بھی چھوڑ دیں۔

سفارت خانے کے اوقاتِ کار اور اپائنٹمنٹ کے طریقہ کار کو پہلے سے جان لیں، کیونکہ مشکل وقت میں یہ معلومات تلاش کرنے سے قیمتی وقت ضائع ہو سکتا ہے۔

اوورسیز پاکستانیز فاؤنڈیشن (OPF) بھی بیرونِ ملک پاکستانیوں اور ان کے خاندانوں کے لیے مختلف سہولیات فراہم کرتی ہے، اس لیے روانگی سے پہلے اس کے بارے میں آگاہی حاصل کریں۔

اس کے علاوہ سفارت خانے پاسپورٹ کی تجدید، ایمرجنسی سفری دستاویزات، تصدیقی (نوٹری) خدمات اور کمیونٹی پروگرامز بھی فراہم کرتے ہیں جو آپ کے قیام کے دوران بہت مفید ثابت ہوتے ہیں۔

اگر آپ سفارت خانے کو صرف ایک سرکاری دفتر کے بجائے بیرونِ ملک اپنے ملک کی نمائندگی اور مدد کے ایک مضبوط ذریعہ کے طور پر دیکھیں گے تو یہ آپ کے لیے ایک قابلِ اعتماد سہارا بن سکتا ہے۔

کمیونٹی ویلفیر اتاشیز کے نمبر درج ذیل لنک پر موجود ہیں
beoe.gov.pk/community-welfare-attache-offices

#Pakistan #PakistanZindabad #pakistani #OverseasPakistanis #Pakistaniembassy #PakistaniDiaspora #beigetraveltrip #europevisa #workpermit #asadalibeige

1 day ago | [YT] | 4

Beige Travel Trip

پاسپورٹ کی گمشدگی

پاسپورٹ کا گم ہو جانا ایک نہایت سنجیدہ معاملہ ہے اور اس پر فوری قانونی اور انتظامی کارروائی ضروری ہوتی ہے، خاص طور پر ان افراد کے لیے جو بیرونِ ملک روزگار کے سلسلے میں سفر کر رہے ہوں۔ ایسے حالات میں پاسپورٹ کا ضائع ہونا نہ صرف نقل و حرکت میں رکاوٹ پیدا کرتا ہے بلکہ انسان کو دھوکہ دہی یا استحصال کے خطرات سے بھی دوچار کر سکتا ہے۔ پاسپورٹ رولز 2021 کے مطابق، پاسپورٹ گم ہونے کی صورت میں فوراً قریبی پاسپورٹ آفس اور پولیس اسٹیشن (اگر پاکستان میں ہوں) یا بیرونِ ملک ہونے کی صورت میں قریبی پاکستانی سفارتخانے کو اطلاع دینا لازمی ہے۔ اس اطلاع میں تاخیر کرنے سے نیا پاسپورٹ حاصل کرنے میں مشکلات اور تاخیر پیدا ہو سکتی ہے۔

قانون کے تحت گم شدہ پاسپورٹ کے دوبارہ اجرا کے لیے فیس میں ہر بار اضافہ کیا جاتا ہے تاکہ لاپرواہی کی حوصلہ شکنی کی جا سکے۔ پہلی بار پاسپورٹ گم ہونے پر دوگنی فیس، دوسری بار چار گنا، اور تیسری بار آٹھ گنا فیس ادا کرنا ہوتی ہے، جبکہ تیسری بار کے بعد ڈائریکٹر جنرل امیگریشن اینڈ پاسپورٹ کی منظوری بھی ضروری ہوتی ہے۔ اگر چوتھی بار بیرونِ ملک پاسپورٹ گم ہو جائے تو صرف ایمرجنسی ٹریول ڈاکومنٹ جاری کیا جاتا ہے تاکہ فرد واپس پاکستان آ سکے، اور مزید کیسز کا فیصلہ اعلیٰ سطح پر کیا جاتا ہے۔ اگر پاسپورٹ اس حد تک خراب ہو جائے کہ اس کی تصدیق ممکن نہ ہو تو اسے بھی گم شدہ تصور کیا جا سکتا ہے اور اسی کے مطابق کارروائی ہوتی ہے۔

اس لیے ضروری ہے کہ پاسپورٹ کو محفوظ رکھنے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں، جیسے اسے محفوظ جگہ پر رکھنا، اس کی تصدیق شدہ نقول (کاپیز) اپنے پاس رکھنا، اور اس کی ڈیجیٹل کاپی بھی محفوظ کرنا تاکہ ضرورت پڑنے پر فوری استعمال ہو سکے۔ اگر پاسپورٹ بیرونِ ملک گم ہو جائے تو فوری طور پر مقامی پولیس سے رپورٹ حاصل کریں اور اس کے بعد متعلقہ پاکستانی سفارتخانے یا قونصل خانے سے رابطہ کریں تاکہ نیا سفری دستاویز حاصل کرنے کا عمل شروع کیا جا سکے۔ یہ بھی یاد رکھیں کہ جس پاسپورٹ کے گم ہونے کی اطلاع دے دی جائے، اسے بعد میں استعمال کرنا ایک الگ قانونی جرم بن سکتا ہے۔
#OverseasPakistanis #pakistani #Pakistan #PakistanPride #passport #evisa #workpermitvisa #beigetraveltrip

1 day ago | [YT] | 2

Beige Travel Trip

Prohibited items in Saudi Arabia
سعودی عرب میں داخلے کے وقت مسافروں کے سامان پر سخت قواعد و ضوابط لاگو ہوتے ہیں، جن پر زکوٰۃ، ٹیکس اور کسٹمز اتھارٹی (ZATCA) عمل درآمد کراتی ہے۔ان کی ویب سائیٹ پر ایک واضح فہرست موجود ہے جس میں وہ تمام اشیاء شامل ہیں جن کا ملک میں لانا ممنوع ہے اور اس کا لنک درج ذیل ہے:
zatca.gov.sa/en/RulesRegulations/Taxes/Pages/custo…

ان ممنوعہ اشیاء میں نشہ آور ادویات اور شراب، جعلی کرنسی، اسلحہ اور گولہ بارود، آتش بازی (پٹاخے)، اور ایسے الیکٹرانک آلات شامل ہیں جو نگرانی یا خفیہ ریکارڈنگ کے لیے استعمال ہوتے ہیں، جیسے چھپے ہوئے کیمرے یا سننے والے آلات۔ اس کے علاوہ کچھ ایسی اشیاء بھی ممنوع ہیں جو عوامی اخلاقیات یا ملکی قوانین کے خلاف سمجھی جاتی ہیں، جیسے بعض کتابیں، ڈیجیٹل اسٹوریج ڈیوائسز، غیر رجسٹرڈ ادویات، جنسی طاقت بڑھانے والی اشیاء، اور کچھ زرعی مصنوعات جیسے جائفل (nutmeg)۔ اسی طرح لیزر ڈیوائسز اور بجلی کے جھٹکے دینے والے آلات پر بھی پابندیاں موجود ہیں کیونکہ یہ عوامی سلامتی سے متعلق خدشات پیدا کر سکتے ہیں۔

یہ تمام قواعد سعودی وزارت خزانہ کے فیصلے نمبر 2597 (24 رجب 1439 ہجری) اور کسٹمز سرکلر نمبر 340/21/M کے تحت نافذ کیے گئے ہیں۔ ان قوانین کے مطابق کسٹمز حکام کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ کسی بھی ممنوعہ یا غیر قانونی چیز کی تلاشی لیں، اسے ضبط کریں اور خلاف ورزی کی صورت میں قانونی کارروائی کریں۔

اگر کوئی شخص ان قوانین کی خلاف ورزی کرے تو اسے جرمانہ، سامان کی فوری ضبطی اور بعض صورتوں میں مزید قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہاں قوانین پر سختی سے عمل کیا جاتا ہے اور معمولی مقدار یا غیر ارادی غلطی کو بھی اکثر معاف نہیں کیا جاتا۔

عملی طور پر مسافروں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ سفر سے پہلے سعودی کسٹمز کی سرکاری ہدایات ضرور چیک کریں اور اپنے سامان میں موجود ہر چیز کو واضح طور پر ڈکلیئر کریں۔ کسی بھی مشکوک یا ممنوعہ چیز کو ساتھ لے جانے سے اجتناب ضروری ہے، کیونکہ معمولی غلطی بھی بڑی مشکل کا باعث بن سکتی ہے۔
#OverseasPakistanis #PakistanPride #Pakistan #saudiarab #saudiairports #jeddah #makkah #beigetraveltrip #europe

1 day ago | [YT] | 3

Beige Travel Trip

متحدہ عرب امارات میں تنخواہوں کی حفاظت کے نئے سخت قوانین کا اعلان! جون 2026 سے نافذ

متحدہ عرب امارات کی وزارت انسانی وسائل اور امارات سازی (MoHRE) نے وزارتی قرارداد نمبر (0340) برائے 2026 کے تحت ایک اہم نیا ضابطہ جاری کر دیا ہے۔ اس نئے قانون کے مطابق تمام پرائیویٹ سیکٹر کے آجر جو وزارت میں رجسٹرڈ ہیں، انہیں پچھلے ماہ کی تنخواہ اگلے ماہ کے پہلے دن (گریگورین کیلنڈر کے مطابق) ادا کرنا لازمی ہو گا۔ یکم جون 2026 سے یہ قانون مکمل طور پر نافذ العمل ہو جائے گا۔

اس قانون کے تحت تنخواہ وقت پر ادا نہ کرنے کی صورت میں اسے تاخیر سمجھا جائے گا۔ کمپنیوں کو منظور شدہ ویج پروٹیکشن سسٹم (WPS) یا دیگر مجاز چینلز کے ذریعے تنخواہ ادا کرنا ہو گی اور ادائیگی کی تصدیق کے لیے دستاویزات بھی پیش کرنی ہوں گی۔ کمپلائنس کی تعریف یہ ہے کہ مقررہ تاریخ تک کم از کم 85 فیصد تنخواہ ادا کر دی جائے (قانونی کٹوتیوں کے بعد)۔ مزدور اس حد سے زیادہ باقی رقم کا مطالبہ کرنے کا حق رکھتے ہیں۔

**نافرمانی کرنے والی کمپنیوں کے خلاف سخت اقدامات:**

نئے ضابطے میں نافرمانی کی صورت میں مرحلہ وار سزائیں دی جائیں گی:

- ڈیڈ لائن کے دوسرے دن سے نوٹیفکیشن اور الرٹس جاری کیے جائیں گے۔
- پانچویں دن سے نئے ورک پرمٹ جاری کرنا معطل کر دیا جائے گا۔
- گیارہویں دن کیبنٹ ریزولوشن نمبر 21 برائے 2020 کے تحت انتظامی جرمانے عائد کیے جائیں گے اور کمپنی کو تیسری درجہ بندی میں ڈاؤن گریڈ کر دیا جائے گا۔
- سولہویں دن سے اجتماعی لیبر ڈسپیوٹ خود بخود رجسٹر ہو جائے گا اور ورک پرمٹ معطل رہے گا۔
- اکیسویں دن سے ایگزیکٹو آرڈرز جاری ہو سکتے ہیں، احتیاطی ضبطی کے اقدامات کیے جا سکتے ہیں اور ذمہ دار افراد پر ٹریول بین لگایا جا سکتا ہے۔
- اگر دو مسلسل مہینوں تک خلاف ورزی ہوتی رہے تو کمپنی کو پبلک پراسیکیوشن کے حوالے کر دیا جائے گا۔

یہ اقدامات ان کمپنیوں پر लागو ہوں گے جن کے 25 یا اس سے زیادہ ملازمین کی تنخواہ ادا نہ کی گئی ہو۔ اگر ایک ہی آجر کی مختلف کمپنیوں میں مل کر 25 غیر ادا شدہ ملازمین ہو جائیں تو سب پر یہ قوانین लागو ہوں گے۔

سب سے زیادہ متاثر ہونے والے شعبے:
تعمیرات، ٹرانسپورٹ اور سٹوریج، سیکیورٹی سروسز، صفائی کے کام، ریکروٹمنٹ ایجنسیاں اور ڈومیسٹک ورکر ریکروٹمنٹ آفسز۔

استثنیٰ (Exemptions):
کچھ کیسز میں یہ قانون लागو نہیں ہو گا، جیسے عدالت میں زیر التواء تنخواہ کے تنازعات، بھاگنے والے (absconding) ملازمین، قانونی حراست میں ہونے والے، منظور شدہ بغیر تنخواہ کی چھٹی والے، سمندری ملازمین (وزارت کی منظوری کے ساتھ)، بیرون ملک کمپنیوں کے ملازمین جو UAE کے باہر تنخواہ پاتے ہوں، اور تین ماہ تک کے شارٹ ٹرم مشن پرمٹ والے ملازمین۔ مکمل شعبوں میں مچھلی پکڑنے کی کشتیاں، انفرادی طور پر مالکانہ ٹیکسیاں، بینک، مالیاتی ادارے اور عبادت گاہیں بھی اس سے مستثنیٰ ہیں۔

یہ نئے قوانین ملازمین کے حقوق کے تحفظ کے لیے اہم قدم ہیں، خاص طور پر پاکستانی، بھارتی اور دیگر تارکین وطن مزدوروں کے لیے جو UAE میں کام کر رہے ہیں۔ کمپنیوں کو فوری طور پر اپنے سسٹم اس نئے ضابطے کے مطابق اپ ڈیٹ کرنا ہو گا۔
#UAE #WageProtection #UAEWPS #OverseasPakistanis #PakistaniInUAE #UAEnews #Pakistan #UAE_rules #تنخواہ_تحفظ

1 day ago | [YT] | 7

Beige Travel Trip

ملائیشیا امیگریشن ڈیپارٹمنٹ کا کہنا ہے کہ یہاں قانونی افراد کو خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں

ملائیشیا کے امیگریشن ڈیپارٹمنٹ نے اس تاثر کی سختی سے تردید کی ہے کہ حکام ملک میں غیر قانونی غیر ملکیوں کے خلاف کارروائی نہیں کر رہے۔ محکمہ امیگریشن کے ڈائریکٹر جنرل داتک زکریا شعبان کے مطابق اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ جہاں بڑی تعداد میں غیر ملکی نظر آئیں، وہ سب غیر قانونی ہیں، حالانکہ ان میں سے بیشتر کے پاس قانونی ورک پرمٹ اور درست دستاویزات موجود ہوتی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اس وقت ملائیشیا میں 30 لاکھ سے زائد غیر ملکی قانونی ورک پرمٹ یا پاس کے تحت مقیم ہیں۔ رواں سال جنوری سے اب تک امیگریشن حکام نے ملک بھر میں 5,010 آپریشنز کیے، جن کے دوران 71 ہزار 734 غیر ملکیوں کی جانچ پڑتال کی گئی۔

کارروائیوں کے نتیجے میں 17 ہزار 313 ایسے افراد کو گرفتار کیا گیا جو غیر قانونی حیثیت میں موجود تھے۔ اس کے علاوہ 789 ایسے مالکان کو بھی حراست میں لیا گیا جنہوں نے بغیر اجازت غیر ملکی کارکن رکھے یا غیر قانونی افراد کو پناہ دی۔

داتک زکریا شعبان نے کہا کہ بعض لوگ سوشل میڈیا پر ویوز اور کانٹینٹ بنانے کے لیے مخصوص علاقوں میں غیر ملکیوں کی بھیڑ دکھا کر غلط تاثر دیتے ہیں۔ ان کے مطابق KLCC، جالان سیلانگ اور دیگر مقامات پر غیر ملکی اکثر اپنے ہم وطن دوستوں کے ساتھ وقت گزارنے جمع ہوتے ہیں، لیکن ان میں سے اکثریت قانونی حیثیت رکھتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر واقعی کوئی غیر قانونی فرد موجود ہو تو وہ امیگریشن کی گاڑی یا اہلکار دیکھ کر فوراً گھبراہٹ کا شکار ہو جاتا ہے اور فرار ہونے کی کوشش کرتا ہے، جبکہ قانونی افراد کو خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہوتی۔



#Malaysia #Immigration #JIM #PATI #KualaLumpur #ForeignWorkers #MalaysiaNews #ImmigrationMalaysia #BreakingNews #ViralNews #OverseasPakistanis #WorkPermit #LegalWorkers #KLCC #beigetraveltrip #JalanSilang

2 days ago | [YT] | 10