Beige Travel Trip

Hello All My Dear.

This channel is all about showing you the opportunities to work and settle overseas where you can improve your standard of living.


Here you will get guidance on the whole process of getting a job overseas with work & visit visa as Pakistani Indian and others.


Disclaimer :
I am not an immigration consultant. This channel is created based on the information I have found in my research, experience, and knowledge. Use it at your own risk.


Beige Travel Trip

جنوبی کوریا E-9 ویزا اپڈیٹ
جنوبی کوریا کی حکومت ایک ایسے منصوبے پر غور کر رہی ہے جس کے تحت E-9 (EPS) ورکرز ملک سے باہر گئے بغیر 9 سال اور 8 ماہ تک قیام اور کام کر سکیں گے۔
اہم معلومات:
• موجودہ قانون: ورکرز کو 4 سال اور 10 ماہ بعد کم از کم 1 ماہ کے لیے کوریا چھوڑنا پڑتا ہے۔
• مجوزہ تبدیلی: ورکرز بغیر کوریا چھوڑے تقریباً 10 سال تک مسلسل قیام کر سکتے ہیں۔
• دیگر اصلاحات:
• کام کی جگہ کی تبدیلی میں آسانی۔
• ورکرز کے تحفظ کے لیے سخت اقدامات۔
• بدسلوکی کرنے والے مالکان کے لیے سخت سزائیں ۔
#KoreaOnlineApply #OECRegistration2026 #SouthKoreaE9Visa #StepByStepGuide #KoreaWorkVisa #BeigeTravelTrip

5 hours ago | [YT] | 4

Beige Travel Trip

یو اے ای کا ویزہ مشکل سے مشکل کیوں ہوتا جا رہا ہے ؟ بار بار مسترد کیون ہو جاتا ہے ؟ اور جو امارت پہنچے ہویے ہیں ان کا ویزہ منسوخ کر کے واپس کیون بھجا جا رہا ہے ؟ کیا اہل تشیع فیکٹر ہے یا معاملہ کچھ اور ہے ؟

پہلے کیا ہوتا تھا ہم ویزہ اپلائی کرتے تھے ، دفاتر کے چکر لگاتے تھے کاغذی کارروائی ہوتی اور اور ایک واضح نوٹس ملتا تھا انسان کو کم از کم یہ تو معلوم ہوتا تھا کہ اس کے ساتھ کیا ہونے جا رہا ہے۔ مگر اب منظر بدل چکا ہے، اور یہ تبدیلی خاموشی سے آئی ہے… اتنی خاموش کہ اکثر لوگ اس کا احساس تب کرتے ہیں جب بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔

United Arab Emirates میں اب نظام صرف فائلوں پر نہیں چلتا، بلکہ ڈیٹا پر چلتا ہے۔ یہاں انسان کی شناخت اب صرف اس کے پاسپورٹ یا ویزا تک محدود نہیں رہی، بلکہ اس کی پوری ڈیجیٹل زندگی ایک نئی پہچان بن چکی ہے۔ یہ وہ دور ہے جہاں آپ کے الفاظ، آپ کی آن لائن سرگرمیاں، آپ کے تعلقات، یہاں تک کہ آپ کی روزمرہ عادات بھی ایک خاموش نگرانی کے دائرے میں آ چکی ہیں۔

“Aither” جیسے جدید سسٹمز—جو Palantir Technologies اور Dubai Holding جیسے اداروں کے اشتراک سے سامنے آئے—اب صرف ٹیکنالوجی نہیں رہے، بلکہ ایک مکمل “فیصلہ ساز نظام” بنتے جا رہے ہیں۔ یہ سسٹمز مختلف ذرائع سے معلومات جمع کرتے ہیں: رہائشی ریکارڈ، مالی لین دین، سوشل میڈیا رویے، اور سکیورٹی ڈیٹا۔ پھر ان سب کو جوڑ کر ایک ایسا خاکہ تیار کیا جاتا ہے جسے “Pattern of Life” کہا جاتا ہے—یعنی ایک انسان کی مکمل طرزِ زندگی۔

یہاں سے بات اور سنجیدہ ہو جاتی ہے۔ کیونکہ یہ سارا ڈیٹا ایک الگورتھم کے سامنے رکھا جاتا ہے، جو اسے ایک “رسک اسکور” میں بدل دیتا ہے۔ اس اسکور کی بنیاد پر یہ طے ہوتا ہے کہ آپ سسٹم کے لیے قابلِ قبول ہیں یا نہیں۔ اور اگر نہیں… تو پھر فیصلہ بھی وہی سسٹم کرتا ہے۔

یہ فیصلہ نہ کسی عدالت میں سنایا جاتا ہے، نہ کسی دفتر میں۔ نہ کوئی پیشگی اطلاع، نہ کوئی صفائی کا موقع۔ بس ایک لمحہ آتا ہے اور سب کچھ بدل جاتا ہے۔ کئی افراد کو اس کا علم اس وقت ہوتا ہے جب وہ بیرونِ ملک ہوتے ہیں اور واپسی کی کوشش کرتے ہیں، مگر دروازہ بند ہو چکا ہوتا ہے۔

یہ سب کچھ ہمیں ایک نئے دور کی طرف لے جا رہا ہے—ایسا دور جہاں شہر صرف اینٹوں اور سڑکوں سے نہیں، بلکہ ڈیٹا اور الگورتھمز سے چلتے ہیں۔ Dubai جیسے شہر، جو کبھی مواقع اور کھلے دروازوں کی علامت تھے، اب ایک ایسی ڈیجیٹل سرحد میں تبدیل ہو رہے ہیں جہاں نگرانی بھی خودکار ہے اور فیصلے بھی۔

یہ کہنا غلط نہیں ہو گا کہ اب نظام کی نوعیت بدل چکی ہے۔ پہلے قانون انسان کے ذریعے نافذ ہوتا تھا، اب ڈیٹا خود ایک قانون بنتا جا رہا ہے۔ اور اس قانون کی سب سے بڑی خصوصیت یہی ہے کہ یہ نظر نہیں آتا، آواز نہیں کرتا… مگر اثر ضرور دکھاتا ہے۔

یہی وہ حقیقت ہے جسے سمجھنا اب ضروری ہو چکا ہے۔ کیونکہ آنے والا وقت شاید اور بھی زیادہ ڈیجیٹل ہو… اور اس میں جگہ بنانے کے لیے صرف کاغذات نہیں، بلکہ اپنی پوری ڈیجیٹل شناخت کو سمجھنا اور سنبھالنا پڑے
#uaevisa #beigetraveltrip ##europevisa #dubai #deportfromuae #dubainews #gulfnews

5 hours ago | [YT] | 0

Beige Travel Trip

📢 پاکستان: حکومت نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ غیر قانونی ہجرت اور انسانی اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے ایسے اقدامات ضروری ہیں۔

پاکستان کی وفاقی آئینی عدالت نے شہریوں پر سفری پابندیاں عائد کرنے کے ریاستی اختیار کو دوبارہ بحال کر دیا ہے۔ اس فیصلے کے تحت حکومت اب افراد کے نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ (PCL) میں شامل کر سکتی ہے اور ان کے پاسپورٹ منسوخ بھی کیے جا سکتے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق عدالت نے لاہور ہائی کورٹ کے اُس فیصلے کو معطل کر دیا ہے جس میں حکومت کو شہریوں پر سفری پابندیاں لگانے سے روکا گیا تھا۔ یہ فیصلہ گزشتہ سال دسمبر میں ایک ڈی پورٹ ہونے والے شہری کی درخواست پر دیا گیا تھا۔

حکومت نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ غیر قانونی ہجرت اور انسانی اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے ایسے اقدامات ضروری ہیں۔ تاہم حتمی فیصلہ ابھی باقی ہے اور عدالت بعد میں مکمل سماعت کے بعد فیصلہ سنائے گی، لیکن فی الحال حکومت کو یہ اختیار واپس مل گیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق کئی ایسے افراد بھی سفری پابندیوں کا شکار ہیں جن پر کوئی واضح قانونی الزام نہیں۔ ان کے نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں ڈال کر ان کے پاسپورٹ غیر فعال یا منسوخ کر دیے جاتے ہیں۔

صحافی مطیع اللہ جان کے مطابق اس قانون کو اختلافی آوازوں کو دبانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

📌 کئی انسانی حقوق کے کارکن، صحافی اور ان کے اہل خانہ بھی ان پابندیوں کا سامنا کر رہے ہیں اور اکثر عدالتوں سے بروقت ریلیف حاصل نہیں کر پاتے۔

ایک متاثرہ صحافی سہراب برکت نے بتایا کہ ان پر جھوٹے مقدمات بنائے گئے اور نام بھی سفری پابندی کی فہرست میں ڈال دیا گیا، جبکہ شاعر احمد فرہاد نے بھی گرفتاری کے خدشے کے باعث اپنا سفر منسوخ کر دیا۔

قانونی ماہر حامد خان کے مطابق عدالتوں سے فوری ریلیف حاصل کرنا اب مزید مشکل ہو گیا ہے۔

#beigetraveltrip #fia #Europe #visafree #pakistan

1 day ago | [YT] | 3

Beige Travel Trip

Permission Tracking Number (PTN)

پاکستانی شہریوں کے بیرونِ ملک ملازمت کی بھرتی کیلئے پروٹیکٹر آف ایمیگرنٹس سے اجازت لینا ایک لازمی قانونی تقاضا ہے، جو اس پورے عمل کو منظم اور محفوظ بنانے کے لیے بنیادی حفاظتی نظام کا کردار ادا کرتا ہے۔ امیگریشن آرڈیننس 1979 کی دفعہ 9 کے مطابق، اوورسیز ایمپلائمنٹ کارپوریشن کے علاوہ کوئی بھی فرد یا ادارہ اس وقت تک پاکستانی شہریوں کو بیرونِ ملک ملازمت کے لیے بھرتی، اشتہار یا انٹرویو نہیں کر سکتا جب تک اسے ڈائریکٹر جنرل یا متعلقہ پروٹیکٹر آف ایمیگرنٹس سے پیشگی اجازت حاصل نہ ہو۔ اس نظام کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ بیرونِ ملک دی جانے والی ہر ملازمت کی پیشکش کی جانچ پڑتال ہو اور یہ شفاف اور حقیقی ہو۔

بھرتی کا عمل شروع کرنے سے پہلے اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹر (OEP) کو پروٹیکٹر آف ایمیگرنٹس کے پاس مطلوبہ دستاویزات جمع کرانا ہوتی ہیں، جن میں پاور آف اٹارنی اور ڈیمانڈ لیٹر شامل ہوتے ہیں۔ ان دستاویزات کی تصدیق پاکستانی سفارتخانے یا متعلقہ ملک کی وزارتِ خارجہ سے کی جاتی ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ آجر (employer) اور نوکریاں واقعی موجود ہیں۔

پروٹیکٹر آف ایمیگرنٹس ان ملازمتوں کی شرائط و ضوابط کا تفصیلی جائزہ لیتا ہے، جیسے تنخواہ، رہائش اور طبی سہولیات، تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ یہ کم از کم حکومتی معیار کے مطابق ہوں۔ اگر تنخواہیں یا دیگر سہولیات غیر مناسب ہوں یا مقررہ معیار سے کم ہوں تو اس بھرتی کی اجازت نہیں دی جاتی۔

اجازت ملنے کے بعد OEP کی جانب سے شائع ہونے والے ہر اشتہار میں لازمی طور پر اجازت نامے کا نمبر اور تاریخ واضح طور پر درج ہونا ضروری ہے، تاکہ عام شہری خود تصدیق کر سکیں کہ یہ بھرتی بیورو آف ایمیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ سے منظور شدہ ہے۔ یہ اجازت عام طور پر 120 دن کے لیے ہوتی ہے، جس میں ضرورت پڑنے پر پروٹیکٹر آف ایمیگرنٹس کی تحریری منظوری سے 365 دن تک توسیع ممکن ہے۔ اس مدت کے بعد بغیر توسیع کے بھرتی کرنا غیر قانونی تصور کیا جاتا ہے۔

اگر کوئی شخص کسی OEP کی اجازت کی تصدیق کیے بغیر بیرونِ ملک ملازمت اختیار کرے تو اسے سنگین قانونی اور ذاتی خطرات کا سامنا ہو سکتا ہے۔

جعلی بھرتی اور انسانی اسمگلنگ کا خطرہ: غیر منظور شدہ بھرتیاں اکثر دھوکہ دہی پر مبنی ہوتی ہیں، جہاں ملازمین سے بھاری فیسیں لے کر انہیں غیر موجود نوکریوں کا جھانسہ دیا جاتا ہے یا ایسے آجروں کے پاس بھیجا جاتا ہے جو وعدہ شدہ تنخواہ اور سہولیات فراہم نہیں کرتے۔

قانونی تحفظ سے محرومی: منظور شدہ ڈیمانڈ کے تحت بھرتی ہونے والے افراد کا سروس کنٹریکٹ سرکاری طور پر ریکارڈ ہوتا ہے، جس کی بنیاد پر پاکستانی حکومت اور لیبر اتاشی ضرورت پڑنے پر مداخلت کر سکتے ہیں۔ بغیر اجازت بھرتی کی صورت میں یہ قانونی تحفظ دستیاب نہیں ہوتا۔

مالی کمزوری: قانونی بھرتی میں OEP کو اسٹیٹ لائف انشورنس اور ویلفیئر فنڈ میں شمولیت یقینی بنانی ہوتی ہے، لیکن غیر قانونی بھرتی میں یہ تحفظات موجود نہیں ہوتے، جس سے حادثہ، موت یا وطن واپسی کی صورت میں مالی مدد نہیں ملتی۔

قانونی سزا اور واپسی (ڈیپورٹیشن): غیر قانونی طریقے سے بیرونِ ملک ملازمت کے لیے جانا ایک قابلِ سزا جرم ہے۔ ایسی صورت میں فرد کو اپنے خرچ پر فوری واپس بھیجا جا سکتا ہے اور مستقبل میں بیرونِ ملک روزگار کے مواقع سے بھی محرومی ہو سکتی ہے۔
#Pakistan #OverseasPakistanis #beigetraveltrip #fia #europe #fakevisa

1 day ago | [YT] | 3

Beige Travel Trip

🇵🇰 Pakistan’s passport has been ranked among the weakest in the world, placing 4th from the bottom, behind Afghanistan, Syria and Iraq in the latest global rankings.

The ranking reflects limited visa-free access for Pakistani citizens, once again highlighting ongoing challenges in international travel and mobility.

Disclaimer: This post is shared for informational and news purposes only, based on global passport index data.

1 day ago | [YT] | 2

Beige Travel Trip

نیوزی لینڈ 🇳🇿 میں پڑھائی: حقیقت، موقع اور صحیح راستہ

نیوزی لینڈ دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں نہ صرف قدرتی خوبصورتی ہے بلکہ تعلیم کا معیار بھی کافی مضبوط ہے۔ یہاں کی یونیورسٹیاں عالمی سطح پر تسلیم شدہ ہیں اور اسٹوڈنٹس کے لیے ماحول نسبتاً محفوظ اور سپورٹو سمجھا جاتا ہے۔ اسی لیے بہت سے طلبہ اسے اپنے کیریئر کے لیے ایک اچھا آپشن سمجھتے ہیں، لیکن اس سفر کی پہلی اور سب سے اہم سیڑھی سٹڈی ویزا ہے۔

اگر آپ نیوزی لینڈ جانے کا سوچ رہے ہیں تو سب سے زیادہ استعمال ہونے والا ویزا “Fee Paying Student Visa” ہوتا ہے۔ یہ ان طلبہ کے لیے ہوتا ہے جو اپنی فیس خود ادا کرتے ہیں اور عموماً بیچلر، ماسٹرز یا دیگر پروگرامز کے لیے یہی ویزا اپلائی کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ کچھ مخصوص کیسز میں ایکسچینج پروگرام یا پی ایچ ڈی کے لیے الگ کیٹیگریز بھی موجود ہیں، جہاں بعض سہولیات مختلف ہو سکتی ہیں۔

ویزا لینے کے لیے سب سے پہلی چیز ایک تسلیم شدہ ادارے سے “Offer of Place” ہے۔ جب تک آپ کو کسی یونیورسٹی یا کالج میں داخلہ نہیں ملتا، آپ آگے نہیں بڑھ سکتے۔ اس کے بعد سب سے اہم چیز فنڈز ہیں، کیونکہ آپ کو یہ ثابت کرنا ہوتا ہے کہ آپ اپنی فیس اور رہائش کے اخراجات خود برداشت کر سکتے ہیں۔ عام طور پر پہلے سال کے لیے ٹیوشن فیس کے ساتھ تقریباً 20,000 نیوزی لینڈ ڈالر بطور لائف اخراجات دکھانے ہوتے ہیں۔

اس کے علاوہ میڈیکل انشورنس، پاسپورٹ، اور بعض کیسز میں پولیس کلیئرنس بھی درکار ہو سکتی ہے۔ ایک اور اہم بات یہ ہے کہ اگر آپ کے ڈاکومنٹس انگریزی میں نہیں ہیں تو ان کا آفیشل ترجمہ کروانا لازمی ہوتا ہے۔

اپلائی کرنے کا طریقہ زیادہ پیچیدہ نہیں لیکن احتیاط مانگتا ہے۔ پہلے آپ داخلہ لیتے ہیں، پھر آن لائن امیگریشن سسٹم کے ذریعے ویزا اپلائی کرتے ہیں، اس کے بعد اپنے تمام ڈاکومنٹس اپلوڈ کرتے ہیں۔ کچھ کیسز میں آپ کو میڈیکل یا بایومیٹرکس بھی دینا پڑ سکتے ہیں۔ عام طور پر فیصلہ آنے میں چند ہفتے لگ جاتے ہیں، لیکن تاخیر بھی ہو سکتی ہے، اس لیے آخری وقت کا انتظار کرنا سمجھداری نہیں ہے۔

مالی معاملات کو ہلکا نہیں لینا چاہیے۔ نیوزی لینڈ میں فیس پروگرام کے حساب سے کافی مختلف ہو سکتی ہے، لیکن اوسطاً یہ سالانہ 22 ہزار سے 50 ہزار ڈالر کے درمیان ہوتی ہے۔ اس کے ساتھ رہائش، کھانا اور دیگر اخراجات بھی شامل ہوتے ہیں، اس لیے مجموعی بجٹ اچھی خاصی پلاننگ مانگتا ہے۔ کچھ لوگ اسپانسرشپ کے ذریعے بھی فنڈز دکھاتے ہیں، جو کہ قابل قبول ہے اگر صحیح طریقے سے کیا جائے۔

جب آپ نیوزی لینڈ پہنچ جاتے ہیں تو وہاں کی زندگی کو سیٹ کرنے کے لیے چند ضروری کام ہوتے ہیں، جیسے بینک اکاؤنٹ کھولنا، IRD نمبر لینا (اگر آپ کام کرنا چاہتے ہیں) اور اپنے ادارے میں وقت پر رپورٹ کرنا۔ اچھی بات یہ ہے کہ طلبہ کو محدود گھنٹوں کے لیے کام کرنے کی اجازت ہوتی ہے، جس سے کچھ اخراجات مینیج کیے جا سکتے ہیں، لیکن مکمل انحصار اس پر کرنا حقیقت پسندانہ نہیں ہوتا۔

ایک اہم بات جو اکثر لوگ نظر انداز کر دیتے ہیں وہ یہ ہے کہ غلط معلومات یا جعلی ڈاکومنٹس آپ کا پورا کیس خراب کر سکتے ہیں۔ ویزا ریجیکٹ ہونے کے بعد نہ صرف وقت اور پیسہ ضائع ہوتا ہے بلکہ مستقبل میں اپلائی کرنا بھی مشکل ہو سکتا ہے۔

تعلیم مکمل ہونے کے بعد نیوزی لینڈ میں رہنے کے مواقع بھی موجود ہوتے ہیں، جیسے پوسٹ اسٹڈی ورک ویزا، جو آپ کو کچھ عرصہ وہاں کام کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہوتا ہے جہاں سے لوگ اپنے کیریئر کو آگے بڑھاتے ہیں اور کچھ کیسز میں مستقل رہائش کی طرف بھی جاتے ہیں۔

آخر میں بات یہ ہے کہ نیوزی لینڈ ایک اچھا آپشن ہو سکتا ہے، لیکن صرف تب جب آپ صحیح تیاری، واضح پلان اور حقیقت پسندانہ توقعات کے ساتھ جائیں۔ صرف یہ سوچ کر کہ “باہر جانا ہے” فیصلہ کرنا اکثر بعد میں مشکل بن جاتا ہے، جبکہ تحقیق اور پلاننگ کے ساتھ یہی راستہ ایک مضبوط مستقبل کی بنیاد بھی بن سکتا ہے۔
#beigetraveltrip #newzealand #newzealandstudyvisa #studyvisa

1 day ago | [YT] | 3

Beige Travel Trip

Oman Labour Laws - Rights and Prohibitions
عمان کے لیبر قانون (رائل ڈکری 53/2023) کے تحت غیر ملکی (نان عمانی) کارکنوں کے لیے ایک جامع نظام بنایا گیا ہے جس میں ان کے حقوق، تحفظ اور ذمہ داریوں کو واضح طور پر بیان کیا گیا ہے۔ اس قانون میں بنیادی تحفظات شامل ہیں، جیسے جبری مشقت پر مکمل پابندی (آرٹیکل 5) اور ذاتی دستاویزات کا تحفظ (آرٹیکل 6)، جس کے تحت آجر (ایمپلائر) کارکن کا پاسپورٹ یا دیگر سرکاری کاغذات اس کی تحریری اجازت کے بغیر اپنے پاس نہیں رکھ سکتا۔ اسی طرح آرٹیکل 23 اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ ایک ہی نوعیت کا کام کرنے والے ملازمین کے ساتھ یکساں سلوک کیا جائے، تاکہ کام کی جگہ پر امتیاز نہ ہو۔

عمان میں غیر ملکی کارکن کے لیے ملازمت حاصل کرنا سخت ضابطوں کے تحت ہے۔ آرٹیکل 28 کے مطابق کوئی بھی غیر عمانی شخص اس وقت تک کام نہیں کر سکتا جب تک وہ باقاعدہ لائسنس حاصل نہ کرے۔ اس لائسنس کے لیے ضروری ہے کہ وہ قانونی طریقے سے ملک میں داخل ہوا ہو، میڈیکل فٹنس رکھتا ہو، مطلوبہ پیشہ ورانہ امتحانات پاس کیے ہوں، اور کسی منظور شدہ آجر کے ساتھ باقاعدہ معاہدہ رکھتا ہو۔ اس نظام کا مقصد یہ ہے کہ لیبر مارکیٹ منظم، شفاف اور حکومتی پالیسی کے مطابق رہے۔

قانون کارکنوں کے مالی اور معاہداتی حقوق بھی واضح کرتا ہے۔ آرٹیکل 78 کے تحت سالانہ کم از کم 30 دن کی تنخواہ کے ساتھ چھٹی دی جاتی ہے، اور وطن واپسی اور دوبارہ کام کی جگہ آنے کے لیے ٹکٹ بھی فراہم کیا جاتا ہے۔ آرٹیکل 85 اور 87 کے مطابق تنخواہ عمانی ریال یا کسی متفقہ کرنسی میں بینک کے ذریعے ادا کی جاتی ہے تاکہ شفافیت برقرار رہے۔ مزید یہ کہ آرٹیکل 96 کے تحت تنخواہ میں کٹوتی کل آمدن کے ایک چوتھائی سے زیادہ نہیں ہو سکتی۔ آرٹیکل 41 کارکن کو یہ حق دیتا ہے کہ وہ بعض سنگین حالات میں، جیسے تنخواہ نہ ملنا، دھوکہ دہی یا خطرناک حالات، بغیر نوٹس دیے ملازمت چھوڑ سکتا ہے اور اپنے تمام حقوق بھی حاصل کرے گا۔

ملازمت کے اختتام اور قانونی تحفظ کے حوالے سے بھی واضح اصول موجود ہیں۔ آرٹیکل 14 کے تحت آجر کی ذمہ داری ہے کہ معاہدہ ختم ہونے کے 60 دن کے اندر کارکن کو اس کے ملک واپس بھیجے اور درخواست پر کلیئرنس سرٹیفیکیٹ بھی دے۔ اگر کوئی کارکن عدالت میں کیس کر دے تو اسے فیصلہ آنے تک عمان میں رہنے کی اجازت ہوتی ہے اور اس دوران آجر پر اضافی مالی بوجھ نہیں ڈالا جاتا۔ مزید یہ کہ آرٹیکل 13 کے تحت مزدوروں کو لیبر سے متعلق کیسز میں عدالتی فیس سے استثنا حاصل ہے، تاکہ وہ آسانی سے انصاف حاصل کر سکیں۔

دوسری طرف، قانون کچھ سخت پابندیاں بھی عائد کرتا ہے تاکہ نظام درست طریقے سے چلتا رہے۔ آرٹیکل 29 کے مطابق کارکن صرف اسی آجر کے لیے کام کر سکتا ہے جس نے اسے اسپانسر کیا ہو، جب تک کہ وزارت سے باقاعدہ اجازت نہ لی جائے۔ اس کے علاوہ کچھ ملازمتیں صرف عمانی شہریوں کے لیے مخصوص ہیں جن میں غیر ملکی کام نہیں کر سکتے۔ آرٹیکل 67 پیشہ ورانہ اخلاقیات سے متعلق ہے، جس میں سرکاری دستاویزات اپنے پاس رکھنا، غیر قانونی فائدہ لینا یا ملازمت کے دوران ذاتی کاروبار کرنا ممنوع ہے۔ آرٹیکل 128 کے تحت ضروری عوامی خدمات فراہم کرنے والے اداروں میں ہڑتال پر بھی پابندیاں عائد ہیں۔

ان قوانین کی خلاف ورزی پر سخت سزائیں دی جاتی ہیں۔ آرٹیکل 143 کے مطابق بغیر لائسنس یا غیر مجاز آجر کے ساتھ کام کرنے کی صورت میں لائسنس منسوخ ہو جاتا ہے، کارکن کو آجر کے خرچ پر ملک بدر کر دیا جاتا ہے، اور مستقبل میں دوبارہ داخلے پر مستقل پابندی لگ سکتی ہے۔ اسی طرح آرٹیکل 146 کے تحت رشوت لینے یا غیر قانونی کمیشن میں ملوث ہونے پر قید (3 ماہ سے 3 سال تک) اور بھاری جرمانہ ہو سکتا ہے۔

بیرونِ ملک جانے والے کارکنوں کو روانگی سے پہلے مکمل آگاہی دینا انتہائی ضروری ہے تاکہ وہ اپنے حقوق کے ساتھ ساتھ اپنی ذمہ داریوں کو بھی سمجھ سکیں۔
#omannewlaw #Pakistan #OverseasPakistanis #oman #beigetraveltrip

1 day ago | [YT] | 7

Beige Travel Trip

UAE UPDATE...
Missile alerts were sent to residents across Dubai and Sharjah at around 5 pm, calling for people to seek shelter.

The alert only lasted a few minutes before a second alert was sent, assuring residents that the situation had been resolved and that they may resume normal activities.

#UAE #Dubai #Breaking #beigetraveltrip

2 days ago | [YT] | 4

Beige Travel Trip

📢 **اہم خبر: دبئی سے پاکستانیوں کی بے دخلی (Deportation) کی حقیقت؟**
اسلام و علیکم دوستو!
آج کل سوشل میڈیا پر ایک بہت ہی تشویشناک خبر گردش کر رہی ہے کہ دبئی (UAE) سے پاکستانی شہریوں کو واپس پاکستان بھیجا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے کچھ بڑے دعوے کیے جا رہے ہیں جو کہ یہ ہیں:
* **وجہ:** سوشل میڈیا پر بتایا جا رہا ہے کہ مخصوص ناموں (جیسے کہ فرقہ وارانہ بنیادوں پر) کی وجہ سے لوگوں کو ڈی پورٹ کیا جا رہا ہے۔
* **تعداد:** کہا جا رہا ہے کہ اب تک **1,500** افراد کو نکالا جا چکا ہے اور مزید **12,000 سے 15,000** لوگوں کی لسٹ تیار کی گئی ہے۔
### 🔍 **حقائق کیا کہتے ہیں؟**
دیکھیں دوستو، ابھی تک یو اے ای (UAE) حکومت یا پاکستانی سفارت خانے کی طرف سے ان مخصوص ناموں والی بات کی کوئی آفیشل تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ عام طور پر ڈی پورٹ کرنے کی وجوہات ویزا قوانین کی خلاف ورزی، اوور سٹے (Overstay) یا غیر قانونی سرگرمیاں ہوتی ہیں۔
**میری آپ سب کو نصیحت ہے کہ:**
1. سوشل میڈیا پر پھیلنے والی غیر تصدیق شدہ خبروں سے پریشان نہ ہوں لیکن محتاط ضرور رہیں۔
2. دبئی میں مقیم پاکستانی اپنے ویزا اور ڈاکومنٹس کی مکمل جانچ پڑتال کر لیں۔
3. وہاں کے مقامی قوانین کا احترام کریں تاکہ کسی بھی قسم کی قانونی کارروائی سے بچا جا سکے۔
**آپ کا اس بارے میں کیا کہنا ہے؟** کیا آپ کے کسی جاننے والے کو حالیہ دنوں میں ویزا یا وہاں رہنے میں کوئی مسئلہ پیش آیا ہے؟ کمنٹ سیکشن میں اپنی رائے اور معلومات لازمی شیئر کریں تاکہ دوسروں کا بھی بھلا ہو سکے۔
پاکستان زندہ باد! 🇵🇰✈️🇦🇪
#Dubai #Pakistanis #TravelUpdate #DubaiVisa #UrduNews #BeigeTravelTrip

2 days ago | [YT] | 6

Beige Travel Trip

Oman Labour Laws - Termination of Employment
سلطنتِ عمان کا لیبر قانون، جو رائل ڈیکری نمبر 53/2023 کے تحت نافذ کیا گیا ہے، ملازمت کے معاہدوں کے خاتمے اور اس سے متعلق آجر اور ملازم دونوں کے حقوق اور ذمہ داریوں کے بارے میں واضح اور تفصیلی ضابطے فراہم کرتا ہے۔

آرٹیکل 42 کے مطابق ملازمت کا معاہدہ مختلف حالات میں ختم ہو سکتا ہے۔ ان میں معاہدے کی مدت پوری ہونا، طے شدہ کام مکمل ہونا، قانون کے مطابق کسی ایک فریق کی جانب سے معاہدہ ختم کرنا، ملازم کا انتقال ہو جانا یا ملازم کا اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کے قابل نہ رہنا شامل ہیں۔ اسی طرح اگر کسی ملازم کو ایسی بیماری لاحق ہو جائے جس کی وجہ سے وہ ایک سال کے اندر تین ماہ تک کام سے غیر حاضر رہے اور اس دوران اس کی تمام بیماری اور سالانہ چھٹیاں بھی ختم ہو چکی ہوں تو اس صورت میں بھی معاہدہ ختم کیا جا سکتا ہے۔

غیر معینہ مدت کے معاہدوں کے حوالے سے آرٹیکل 38 کے مطابق آجر یا ملازم دونوں میں سے کوئی بھی مناسب وجہ کے ساتھ تحریری نوٹس دے کر ملازمت ختم کر سکتا ہے۔ ماہانہ تنخواہ لینے والے ملازم کے لیے نوٹس کی مدت تیس دن اور دیگر بنیادوں پر تنخواہ لینے والوں کے لیے پندرہ دن مقرر ہے، جب تک کہ معاہدے میں اس سے زیادہ مدت درج نہ ہو۔ اگر کوئی فریق مقررہ نوٹس دیے بغیر معاہدہ ختم کرے تو اسے دوسرے فریق کو اتنی رقم ادا کرنا ہوگی جو نوٹس کی مدت کے برابر تنخواہ کے مساوی ہو اور اس کا حساب ملازم کی آخری مکمل تنخواہ کے مطابق کیا جائے گا۔ آرٹیکل 39 کے مطابق اگر ملازم چھٹی پر ہو اور اسی دوران نوٹس دیا جائے تو نوٹس کی مدت چھٹی ختم ہونے کے اگلے دن سے شروع ہوگی۔ نوٹس کے دوران آجر کو لازم ہے کہ وہ ملازم کو ہر ہفتے دس گھنٹے کی تنخواہ کے ساتھ چھٹی دے تاکہ وہ نئی ملازمت تلاش کر سکے۔

آرٹیکل 40 ان حالات کی وضاحت کرتا ہے جن میں آجر بغیر نوٹس اور بغیر گریچویٹی ادا کیے ملازم کو فوراً ملازمت سے فارغ کر سکتا ہے۔ اس میں سنگین بدعنوانی یا غلط رویہ شامل ہے، جیسے ملازمت حاصل کرنے کے لیے جعلی دستاویزات دینا یا جھوٹی شناخت استعمال کرنا۔ اسی طرح اگر ملازم کی غلطی سے آجر کو بڑا مالی نقصان ہو اور اس واقعے کی اطلاع تیس دن کے اندر متعلقہ حکام کو دے دی جائے تو فوری برطرفی ممکن ہے۔ دیگر وجوہات میں حفاظتی ہدایات کو بار بار نظر انداز کرنا، بغیر وجہ کے سات دن مسلسل یا ایک سال میں دس دن غیر حاضر رہنا، خفیہ معلومات افشا کرنا، کسی سنگین جرم میں سزا پانا، کام کے دوران نشے کی حالت میں ہونا، یا آجر، منیجر یا ساتھی ملازم پر حملہ کرنا شامل ہیں۔

آرٹیکل 43 کے تحت کچھ حالات میں آجر نوٹس دے کر ملازمت ختم کر سکتا ہے، چاہے کوئی تادیبی خلاف ورزی نہ بھی ہو۔ مثال کے طور پر جب ملازم ریٹائرمنٹ کی عمر کو پہنچ جائے، یا غیر عمانی کارکن کی جگہ عمانی شہری کو ملازمت دینا مقصود ہو۔ اسی طرح اگر کسی ملازم کی کارکردگی مطلوبہ معیار پر پوری نہ اترے اور اسے کم از کم چھ ماہ کی مہلت دی جا چکی ہو تو معاہدہ ختم کیا جا سکتا ہے۔ معاشی یا تنظیمی وجوہات جیسے ادارے کی مکمل یا جزوی بندش، دیوالیہ پن، عملے میں کمی یا نئے پیداواری نظام کے نفاذ کی وجہ سے بھی ملازمت ختم کی جا سکتی ہے۔ ایسے حالات میں آجر کو وزارتِ محنت کو کم از کم تین ماہ پہلے اطلاع دینا ضروری ہے۔ مزید برآں عملے میں کمی کے فیصلے کے لیے وزارت کی قائم کردہ خصوصی کمیٹی کی منظوری بھی درکار ہوتی ہے، اور متاثرہ کارکنوں کے انتخاب میں منصفانہ معیار اختیار کرنا لازم ہے۔ اگر بعد میں مناسب آسامیاں دستیاب ہوں تو برطرف کیے گئے کارکنوں کو دوبارہ ملازمت کے لیے ترجیح دی جانی چاہیے۔

قانون ملازمین کو بھی کچھ حالات میں بغیر نوٹس ملازمت چھوڑنے کا حق دیتا ہے۔ آرٹیکل 41 کے مطابق اگر آجر سنگین قانونی یا معاہداتی خلاف ورزی کرے تو ملازم فوری طور پر ملازمت چھوڑ سکتا ہے اور اس کے تمام قانونی حقوق برقرار رہتے ہیں۔ ایسی صورتوں میں دھوکہ دہی، دو ماہ سے زیادہ تنخواہ نہ دینا، معاہدے کی اہم شرائط پوری نہ کرنا، یا آجر یا اس کے نمائندے کی جانب سے جسمانی حملہ یا غیر اخلاقی رویہ شامل ہیں۔ اسی طرح اگر ملازم کی صحت یا سلامتی کو سنگین خطرہ لاحق ہو اور آجر مناسب حفاظتی اقدامات نہ کرے تو بھی ملازم فوری طور پر ملازمت چھوڑ سکتا ہے۔

قانون غیر منصفانہ برطرفی کے خلاف بھی مضبوط تحفظ فراہم کرتا ہے۔ آرٹیکل 10 کے مطابق اگر کسی ملازم کو لگے کہ اسے ناجائز طور پر نکالا گیا ہے تو وہ تیس دن کے اندر متعلقہ حکام کے پاس شکایت درج کر سکتا ہے۔ آرٹیکل 12 کے تحت وہ برطرفی غیر منصفانہ سمجھی جائے گی جو جنس، نسل، زبان، مذہب، سماجی حیثیت یا معذوری کی بنیاد پر ہو۔ اسی طرح حاملہ خواتین یا دودھ پلانے والی ماؤں کو اس بنیاد پر ملازمت سے نکالنا بھی غیر قانونی ہے۔ یونین کی رکنیت، قانونی شکایت درج کروانے یا مزدور سرگرمیوں میں حصہ لینے کی وجہ سے برطرفی بھی غیر منصفانہ تصور کی جاتی ہے۔

اگر عدالت یہ قرار دے کہ برطرفی غیر قانونی تھی تو آرٹیکل 11 کے مطابق عدالت ملازم کو دوبارہ ملازمت پر بحال کرنے یا تین سے بارہ ماہ کی تنخواہ کے برابر معاوضہ دینے کا حکم دے سکتی ہے۔ یہ معاوضہ گریچویٹی، نوٹس کی مدت کی تنخواہ اور دیگر واجبات کے علاوہ ہوتا ہے۔

ملازمت ختم ہونے کے بعد آجر پر کچھ مزید ذمہ داریاں بھی عائد ہوتی ہیں۔ آرٹیکل 14 کے مطابق غیر عمانی ملازم کو اس کے وطن یا باہمی طور پر طے شدہ مقام تک واپس بھیجنے کا انتظام زیادہ سے زیادہ ساٹھ دن کے اندر کرنا آجر کی ذمہ داری ہے۔ اسی طرح اگر ملازم درخواست کرے تو آجر کو ایک تحریری سرٹیفکیٹ دینا ہوگا جس میں یہ تصدیق ہو کہ ملازم نے ادارے کے تمام واجبات پورے کر دیے ہیں۔

آرٹیکل 49 اس بات کو بھی واضح کرتا ہے کہ اگر کسی ادارے کی ملکیت تبدیل ہو جائے تو عام طور پر ملازمین کے معاہدے برقرار رہتے ہیں اور نیا آجر سابق آجر کے ساتھ مل کر تمام قانونی ذمہ داریوں کا پابند ہوتا ہے۔ تاہم اگر ادارہ مکمل طور پر بند ہو جائے، ختم کر دیا جائے یا دیوالیہ ہو جائے تو ایسے حالات میں قانون کے مطابق معاہدے ختم کیے جا سکتے ہیں۔
#OverseasPakistanis #PakistanPride #Pakistan #oman #beigetraveltrip #europevisa #oman #omanvisa

2 days ago | [YT] | 2