وَعَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ رضی اللہ عنہا قَالَتْ کَانَتِ اَلنُّفَسَاءُ تَقْعُدُ فِی عَہْدِ رَسُولِ اَللَّہِ صلی اللہ علیہ وسلم بَعْدَ نِفَاسِہَا أَرْبَعِینَ یَوماً۔ رَوَاہُ اَلْخَمْسَۃُ إِلَّا النَّسَاءِیَّ, وَاللَّفْظُ لِأَبِی دَاوُدَ وَفِی لَفْظٍ لَہُ وَلَمْ یَأْمُرْہَا اَلنَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم بِقَضَاءِ صَلَاۃِ اَلنِّفَاسِ وَصَحَّحَہُ اَلْحَاکِمُ ---------------
ابوداود، کتاب الطھارۃ، باب ماجاء فی وقت النفساء: ۱۱۳، الترمذی: ۹۳۱، احمد: ۶/۰۰۳، ۴۰۳، الحاکم: ۱/۲۸۲، الخلاصۃ: ۱/۰۴۲، الارواء: ۱/۲۲۲، المحلیٰ: ۲/۴۰۲، بیان الوھم والایھام: ۳/۹۲۳، معالم السنن: ۱/۹۶۱، التلخیص: ۱/۱۷۱، الکامل: ۵/۹۱۲، ۵/۵۶۳، ۶/۱۴۱، ابن ماجۃ مع مصباح الزجاجۃ: ۱/۷۴، التحقیق: ۴۴۳، البیہقی: ۱/۳۴۳، الدارقطنی: ۱/۰۲۲، ۱۲۲، تاریخ بغداد: ۵/۰۹۳، خلافیات: ۳/۴۲۴، المنتقیٰ: ۹۱۱
----------- ۱۴۹:
حضرت اُم #سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتیں ہیں کہ #عہد#نبوی میں #زچہ چالیس روز تک #زچگی کے #دن گزارتی تھیں۔ اسے #نسائی کے علاوہ پانچوں نے #روایت کیا ہے #مذکورہ#الفاظ#ابوداؤد کے ہیں، اور ابوداؤد ہی میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زچہ کو #حالت#زچگی کی #نمازوں کی #قضا کا حکم نہیں دیا۔ اس روایت کو #حاکم نے #صحیح کہا ہے۔ لغوی تحقیق: نفساء: نون مضموم اور فاء مفتوح یعنی زچہ۔ نفاس: نون مکسور، زچگی کی وہ مدت جس میں رحم وضع حمل سے پہلے والی حالت کا مغایر(کسی دوسری حالت میں) ہوتا ہے۔ تشریح: زیر مطالعہ حدیث میں زچگی کی مدت چالیس دن بتائی گئی ہے، امام ابوداؤد نے مسّہ نامی عورت ہی کے طریق سے ایک اور روایت قدرے تفصیل سے نقل کی ہے جس کا آخری ٹکڑا حافظ ابن حجر رحمہ اللہ علیہنے واللفظ لہ کہہ کر نقل کیا ہے، اس روایت میں ہے کہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خواتین زچگی کے چالیس دن پورے کرتی تھیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس دورانیہ کی نمازوں کی قضائی کا حکم نہیں دیا۔ امام ابن قطان اس روایت پر تبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اس روایت میں علت قادحہ (ضعف کی علت) یہ ہے کہ اس روایت کی ایک راویہ جس کا نام مسّہ اور اسکی کُنیت اُم بسہ ہے، وہ مجہولۃ ہے اس روایت کے علاوہ اس سے کوئی اور روایت مروی نہیں۔ امام ترمذی علل الکبیر میں فرماتے ہیں یہ روایت سند کے اعتبار سے ضعیف اور متن کے اعتبار سے منکر ہے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات میں فقط حضرت خدیجہ c ہی نے عقد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں زچگی کے ایام گزارے ہیں اور وہ مکہ ہی میں فوت ہو گئیں تھیں، اس لیے اس روایت کا متن بے معنی ہے ہاں اگر یہاں نساء النبی سے مراد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادیاں یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قریبی رشتہ دار عورتیں یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی لونڈی ماریہ مراد لی جائے تو پھر متن کی نکات دور ہو سکتی ہے۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ علیہ نے تلخیص میں اس روایت پر تبصرہ کرتے ہوئے اُم بسہ کو مجہول الحال قرار دیا ہے، جبکہ تقریب میں مقبولۃ کہا ہے۔ امام دارقطنی فرماتے ہیں اس کی روایت کو بطور حجت نہیں لیا جاسکتا ہے۔ امام خطابی اور ابن ملقن کا کہنا ہے کہ امام بخاری نے حدیث مسہ کو سراہا ہے، راقم کے نزدیک اس سلسلہ میں خطابی اور ابن ملقن کو وہم ہوا ہے، کیونکہ امام ترمذی نے امام بخاری کاجو جواب علل کبیر میں نقل کیا ہے اس سے قطعاً یہ واضح نہیں ہو رہا کہ امام بخاری نے اس حدیث کو سراہا ہے۔ امام نووی نے اس روایت پر جارحین کی جرح کو مسترد کیا ہے، تاہم انہوں نے کسی واضح دلیل سے ایسا نہیں کیا۔ علامہ ناصر الدین البانی نے بھی اس روایت کی تحسین کی ہے۔ راقم کے نزدیک اس روایت کے بارے میں امام ابوداؤد اور امام ابن قطان کی رائے صائب ہے یعنی یہ روایت ضعیف ہے کیونکہ مسہ کا کوئی متابع نہیں ہے۔ اس مسئلہ میں حضرت ابوہریرہ، حضرت ابودرداء،حضرت معاذ، حضرت انس، حضرت عثمان بن ابی العاص، حضرت عمر بن خطاب،حضرت عائشہ اور حضرت عبداللہ بن عمر وeسے بھی مرفوع روایات مروی ہیں جبکہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے موقوفاََ منقول ہے۔ حضرت ابوہریرہ اور حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہما سے مروی روایت میں زچگی کی زیادہ سے زیادہ مدت چالیس ایام اور کم سے کم جب خون زچگی آنا بند ہو جائے، بیان ہوئی ہے، اور چالیس دن کے بعد آنے والے خون کو استحاضہ قرار دیا گیا ہے۔ لیکن یہ روایت علاء بن کثیر کی وجہ سے موضوع کے قریب تر ہے، کیونکہ امام ابن حبان نے اسے خود ساختہ روایات بنانے والا قرار دیا ہے۔ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہسے مروی روایت میں نفاس کی کم ازکم مدت دو ہفتے اور زیادہ سے زیادہ چالیس دن بتائی گئی ہے نیز یہ بتایا گیا ہے کہ خون زچگی اگر چالیس روز سے پہلے بند ہو جائے تو اس کے بند ہوتے ہی اسے نماز و روزہ کا اہتمام کرنا ہو گا البتہ اس سے عمل زوجیت کرنا چالیس دن کے بعد روا ہے۔یہ روایت بھی محمد بن سعید بن حسان کی وجہ سے اسی کی مثل ہے، کیونکہ اسے امام احمد،امام نسائی اور امام سفیان نے کذاب قرار دیا ہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی روایات میں بھی زچگی کی زیادہ سے زیادہ مدت چالیس روز بتائی گئی، اس روایت کی سند کو اگرچہ بوصیری نے صحیح کہا ہے تاہم بوصیری کو اس سلسلے میں وہم ہواہے کیونکہ سلام بن سلیم نامی راوی تمام ماہرین فن کے نزدیک ضعیف ہے۔ یہ روایت ایک دوسرے طریق سے بھی مروی ہے، مگر وہ طریق بھی زید العمی کی وجہ سے ضعیف ہے۔حضرت عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ سے مروی روایت میں زچگی کی مدت چالیس روز متعین کی گئی ہے۔ یہ روایت منقطع ہے کیونکہ حضرت حسن بصری کا حضرت عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ سے سماع ثابت نہیں۔ حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہماسے مروی روایت میں زچگی کی کم ازکم مدت خون کی بندش اور زیادہ سے زیادہ مدت چالیس روز بتائی گئی ہے اور اس کے بعد آنے والے خون کو استحاضہ قرار دے کر یہ نصیحت کی گئی کہ ایسی عورت غسل کرنے کے بعد نماز شروع کردے،اور خون کا غلبہ ہو تو پھر اسے نماز کے لیے وضو کرنا ہوگا۔ یہ روایت عمرو بن الحصین العقیلی کی وجہ سے موضوع کے قریب تر ہے کیونکہ خطیب نے اسے کذاب، ابوزرعہ نے واہ قرار دیا ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی روایت میں چالیس ایام بتائے گئے ہیں یہ روایت بھی علی بن عطا کی وجہ سے موضوع کے قریب تر ہے، کیونکہ امام یحییٰ بن معین نے اسے کذاب کہا ہے، یہ روایت ایک دوسرے طریق سے بھی مروی ہے وہ طریق بھی یحییٰ بن العلاء کی وجہ سے سابقہ طریق کی مثل ہے کیونکہ یحییٰ بن العلاء کو امام وکیع نے کذاب کہا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے مروی روایت میں چالیس ایام بتائے گئے ہیں اور یہ روایت بھی جابر بن جعفی کی وجہ سے ضعیف ترین ہے۔ امام نووی فرماتے ہیں کہ زچگی کی مدت کے بارے میں مروی تمام روایات کو ماہرین فن نے ضعیف کہا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہماسے منقول ایک قول میں نفاس کی مدت چالیس روز بتائی گئی ہے مگر یہ روایت بھی ہشیم کے عنعنہ کی وجہ سے ضعیف ہے۔ لیکن ہشیم بن بشیر کا متابع ابوعوانہ ہے اس لیے یہ اثر ہر غبار سے پاک ہے اور انہیں سے منقول ایک قول میں نفاس کی کم ازکم مدت سات دن بتائی گئی ہے۔ یہ قول ابن جریح کے عنعنہ کی وجہ سے ضعیف ہے۔ اس بارے میں تابعین کے بھی مختلف اقوال ہیں ان سب کی روشنی میں یہ کہا جا سکتا ہے نفاس کی مدت کو خواتین کی عادت پر چھوڑ دیا جائے یعنی جسے جتنے دن ہر مرتبہ آتا ہے وہی اس کی مدت ہے۔ اور اگر کبھی خلاف عادت زیادہ دن آئے تو اسے استحاضہ سمجھا جائے۔ فقہی احکام: نفاس کی مدت کو خواتین کی عادت پر چھوڑ دیا جائے۔
رخصت ہونے والے چیف جسٹس کے لئے تاریخ کے اوراق میں دو طرح کی متضاد القابات تحریر کئے جائیں گے اہل قلم کا ایک طبقہ انہیں نڈر بےباک ؛ عدلیہ کی آزادی کا علمبردار اور آئین صحیح تشریح کرنے والا جیسے القابات سے یاد کرے گا جبکہ دوسرا طبقہ انہیں آمرانہ ذہنیت رکھنے والا ؛ من پسند فیصلہ حاصل کرنے کے لئے من پسند بنچ تشکیل دینے والا اور ججز میں تقسیم پیدا کرنے والا جیسے القابات سے یاد کرے گا - آئندہ قائم ہونے والی حکومتیں جس نظریہ کی حامل ہوں گی وہ نظریہ فروغ پائے گا جبکہ دوسرا نظریہ تاریخ کے اوراق کی سیاہی میں گم ہو کر رہ جائے گا سو سال بعد آنے والا تاریخ کا طالب علم اگر زمینی حقائق کو نظر انداز کر کے تاریخ کا مطالعہ کرے گا تو وہ درست فیصلہ کرنے میں نا کام رہے گا بلکل اسی طرح جس طرح اکثر مورخین نے اموی ٫ عباسی اور فاطمی سلاطین کے بارے میں زمینی حالات کو نظر انداز کر کے اپنے من پسند نظر یہ کو اوراق کی زینت بنا دیا - آخر میں مری ماہرین تعلیم سے گزارش ہے کہ وہ تاریخ کا مطالعہ کرتے وقت زمینی حقائق کی بھی کھوج لگائیں اس طرح وہ کسی کے بارے میں غلط رائے قائم کرنے سے محفوظ رہیں گے۔ ان شاءاللہ
Sabeel ur Rushd
https://www.youtube.com/watch?v=Jarb_...
1 year ago | [YT] | 0
View 0 replies
Sabeel ur Rushd
۱۴۹:
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ رضی اللہ عنہا قَالَتْ کَانَتِ اَلنُّفَسَاءُ تَقْعُدُ فِی عَہْدِ رَسُولِ اَللَّہِ صلی اللہ علیہ وسلم بَعْدَ نِفَاسِہَا أَرْبَعِینَ یَوماً۔ رَوَاہُ اَلْخَمْسَۃُ إِلَّا النَّسَاءِیَّ, وَاللَّفْظُ لِأَبِی دَاوُدَ وَفِی لَفْظٍ لَہُ وَلَمْ یَأْمُرْہَا اَلنَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم بِقَضَاءِ صَلَاۃِ اَلنِّفَاسِ وَصَحَّحَہُ اَلْحَاکِمُ
---------------
ابوداود، کتاب الطھارۃ، باب ماجاء فی وقت النفساء: ۱۱۳، الترمذی: ۹۳۱، احمد: ۶/۰۰۳، ۴۰۳، الحاکم: ۱/۲۸۲،
الخلاصۃ: ۱/۰۴۲، الارواء: ۱/۲۲۲، المحلیٰ: ۲/۴۰۲، بیان الوھم والایھام: ۳/۹۲۳، معالم السنن: ۱/۹۶۱، التلخیص: ۱/۱۷۱، الکامل: ۵/۹۱۲، ۵/۵۶۳، ۶/۱۴۱، ابن ماجۃ مع مصباح الزجاجۃ: ۱/۷۴، التحقیق: ۴۴۳، البیہقی: ۱/۳۴۳، الدارقطنی: ۱/۰۲۲، ۱۲۲، تاریخ بغداد: ۵/۰۹۳، خلافیات: ۳/۴۲۴، المنتقیٰ: ۹۱۱
-----------
۱۴۹:
حضرت اُم #سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتیں ہیں کہ #عہد #نبوی میں #زچہ چالیس روز تک #زچگی کے #دن گزارتی تھیں۔ اسے #نسائی کے علاوہ پانچوں نے #روایت کیا ہے #مذکورہ #الفاظ #ابوداؤد کے ہیں، اور ابوداؤد ہی میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زچہ کو #حالت #زچگی کی #نمازوں کی #قضا کا حکم نہیں دیا۔ اس روایت کو #حاکم نے #صحیح کہا ہے۔
لغوی تحقیق: نفساء: نون مضموم اور فاء مفتوح یعنی زچہ۔ نفاس: نون مکسور، زچگی کی وہ مدت جس میں رحم وضع حمل سے پہلے والی حالت
کا مغایر(کسی دوسری حالت میں) ہوتا ہے۔
تشریح: زیر مطالعہ حدیث میں زچگی کی مدت چالیس دن بتائی گئی ہے، امام ابوداؤد نے مسّہ نامی عورت ہی کے طریق سے ایک اور روایت قدرے تفصیل سے نقل کی ہے جس کا آخری ٹکڑا حافظ ابن حجر رحمہ اللہ علیہنے واللفظ لہ کہہ کر نقل کیا ہے، اس روایت میں ہے کہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خواتین زچگی کے چالیس دن پورے کرتی تھیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس دورانیہ کی نمازوں کی قضائی کا حکم نہیں دیا۔ امام ابن قطان اس روایت پر تبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اس روایت میں علت قادحہ (ضعف کی علت) یہ ہے کہ اس روایت کی ایک راویہ جس کا نام مسّہ اور اسکی کُنیت اُم بسہ ہے، وہ مجہولۃ ہے اس روایت کے علاوہ اس سے کوئی اور روایت مروی نہیں۔
امام ترمذی علل الکبیر میں فرماتے ہیں یہ روایت سند کے اعتبار سے ضعیف اور متن کے اعتبار سے منکر ہے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات میں فقط حضرت خدیجہ c ہی نے عقد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں زچگی کے ایام گزارے ہیں اور وہ مکہ ہی میں فوت ہو گئیں تھیں، اس لیے اس روایت کا متن بے معنی ہے ہاں اگر یہاں نساء النبی سے مراد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادیاں یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قریبی رشتہ دار عورتیں یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی لونڈی ماریہ مراد لی جائے تو پھر متن کی نکات دور ہو سکتی ہے۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ علیہ نے تلخیص میں اس روایت پر تبصرہ کرتے ہوئے اُم بسہ کو مجہول الحال قرار دیا ہے، جبکہ تقریب میں مقبولۃ کہا ہے۔ امام دارقطنی فرماتے ہیں اس کی روایت کو بطور حجت نہیں لیا جاسکتا ہے۔ امام خطابی اور ابن ملقن کا کہنا ہے کہ امام بخاری نے حدیث مسہ کو سراہا ہے، راقم کے نزدیک اس سلسلہ میں خطابی اور ابن ملقن کو وہم ہوا ہے، کیونکہ امام ترمذی نے امام بخاری کاجو جواب علل کبیر میں نقل کیا ہے اس سے قطعاً یہ واضح نہیں ہو رہا کہ امام بخاری نے اس حدیث کو سراہا ہے۔
امام نووی نے اس روایت پر جارحین کی جرح کو مسترد کیا ہے، تاہم انہوں نے کسی واضح دلیل سے ایسا نہیں کیا۔ علامہ ناصر الدین البانی نے بھی اس روایت کی تحسین کی ہے۔ راقم کے نزدیک اس روایت کے بارے میں امام ابوداؤد اور امام ابن قطان کی رائے صائب ہے یعنی یہ روایت ضعیف ہے کیونکہ مسہ کا کوئی متابع نہیں ہے۔ اس مسئلہ میں حضرت ابوہریرہ، حضرت ابودرداء،حضرت معاذ، حضرت انس، حضرت عثمان بن ابی العاص، حضرت عمر بن خطاب،حضرت عائشہ اور حضرت عبداللہ بن عمر وeسے بھی مرفوع روایات مروی ہیں جبکہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے موقوفاََ منقول ہے۔
حضرت ابوہریرہ اور حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہما سے مروی روایت میں زچگی کی زیادہ سے زیادہ مدت چالیس ایام اور کم سے کم جب خون زچگی آنا بند ہو جائے، بیان ہوئی ہے، اور چالیس دن کے بعد آنے والے خون کو استحاضہ قرار دیا گیا ہے۔ لیکن یہ روایت علاء بن کثیر کی وجہ سے موضوع کے قریب تر ہے، کیونکہ امام ابن حبان نے اسے خود ساختہ روایات بنانے والا قرار دیا ہے۔
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہسے مروی روایت میں نفاس کی کم ازکم مدت دو ہفتے اور زیادہ سے زیادہ چالیس دن بتائی گئی ہے نیز یہ بتایا گیا ہے کہ خون زچگی اگر چالیس روز سے پہلے بند ہو جائے تو اس کے بند ہوتے ہی اسے نماز و روزہ کا اہتمام کرنا ہو گا البتہ اس سے عمل زوجیت کرنا چالیس دن کے بعد روا ہے۔یہ روایت بھی محمد بن سعید بن حسان کی وجہ سے اسی کی مثل ہے، کیونکہ اسے امام احمد،امام نسائی اور امام سفیان نے کذاب قرار دیا ہے۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی روایات میں بھی زچگی کی زیادہ سے زیادہ مدت چالیس روز بتائی گئی، اس روایت کی سند کو اگرچہ بوصیری نے صحیح کہا ہے تاہم بوصیری کو اس سلسلے میں وہم ہواہے کیونکہ سلام بن سلیم نامی راوی تمام ماہرین فن کے نزدیک ضعیف ہے۔ یہ روایت ایک دوسرے طریق سے بھی مروی ہے، مگر وہ طریق بھی زید العمی کی وجہ سے ضعیف ہے۔حضرت عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ سے مروی روایت میں زچگی کی مدت چالیس روز متعین کی گئی ہے۔ یہ روایت منقطع ہے کیونکہ حضرت حسن بصری کا حضرت عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ سے سماع ثابت نہیں۔ حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہماسے مروی روایت میں زچگی کی کم ازکم مدت خون کی بندش اور زیادہ سے زیادہ مدت چالیس روز بتائی گئی ہے اور اس کے بعد آنے والے خون کو استحاضہ قرار دے کر یہ نصیحت کی گئی کہ ایسی عورت غسل کرنے کے بعد نماز شروع کردے،اور خون کا غلبہ ہو تو پھر اسے نماز کے لیے وضو کرنا ہوگا۔
یہ روایت عمرو بن الحصین العقیلی کی وجہ سے موضوع کے قریب تر ہے کیونکہ خطیب نے اسے کذاب، ابوزرعہ نے واہ قرار دیا ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی روایت میں چالیس ایام بتائے گئے ہیں یہ روایت بھی علی بن عطا کی وجہ سے موضوع کے قریب تر ہے، کیونکہ امام یحییٰ بن معین نے اسے کذاب کہا ہے، یہ روایت ایک دوسرے طریق سے بھی مروی ہے وہ طریق بھی یحییٰ بن العلاء کی وجہ سے سابقہ طریق کی مثل ہے کیونکہ یحییٰ بن العلاء کو امام وکیع نے کذاب کہا ہے۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے مروی روایت میں چالیس ایام بتائے گئے ہیں اور یہ روایت بھی جابر بن جعفی کی وجہ سے ضعیف ترین ہے۔ امام نووی فرماتے ہیں کہ زچگی کی مدت کے بارے میں مروی تمام روایات کو ماہرین فن نے ضعیف کہا ہے۔
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہماسے منقول ایک قول میں نفاس کی مدت چالیس روز بتائی گئی ہے مگر یہ روایت بھی ہشیم کے عنعنہ کی وجہ سے ضعیف ہے۔ لیکن ہشیم بن بشیر کا متابع ابوعوانہ ہے اس لیے یہ اثر ہر غبار سے پاک ہے اور انہیں سے منقول ایک قول میں نفاس کی کم ازکم مدت سات دن بتائی گئی ہے۔ یہ قول ابن جریح کے عنعنہ کی وجہ سے ضعیف ہے۔
اس بارے میں تابعین کے بھی مختلف اقوال ہیں ان سب کی روشنی میں یہ کہا جا سکتا ہے نفاس کی مدت کو خواتین کی عادت پر چھوڑ دیا جائے یعنی جسے جتنے دن ہر مرتبہ آتا ہے وہی اس کی مدت ہے۔ اور اگر کبھی خلاف عادت زیادہ دن آئے تو اسے استحاضہ سمجھا جائے۔
فقہی احکام: نفاس کی مدت کو خواتین کی عادت پر چھوڑ دیا جائے۔
archive.org/details/kitaabuttahara
فقہ الاحکام شرح بلوغ المرام ،جلد اول ،کتاب الطہارۃ ،حدیث نمبر 149
فقہ الاحکام شرح بلوغ المرام ،جلد اول ،کتاب الطہارۃ ،حدیث نمبر 149
2 years ago (edited) | [YT] | 0
View 0 replies
Sabeel ur Rushd
رخصت ہونے والے چیف جسٹس کے لئے تاریخ کے اوراق میں دو طرح کی متضاد القابات تحریر کئے جائیں گے اہل قلم کا ایک طبقہ انہیں نڈر بےباک ؛ عدلیہ کی آزادی کا علمبردار اور آئین صحیح تشریح کرنے والا جیسے القابات سے یاد کرے گا جبکہ دوسرا طبقہ انہیں آمرانہ ذہنیت رکھنے والا ؛ من پسند فیصلہ حاصل کرنے کے لئے من پسند بنچ تشکیل دینے والا اور ججز میں تقسیم پیدا کرنے والا جیسے القابات سے یاد کرے گا - آئندہ قائم ہونے والی حکومتیں جس نظریہ کی حامل ہوں گی وہ نظریہ فروغ پائے گا جبکہ دوسرا نظریہ تاریخ کے اوراق کی سیاہی میں گم ہو کر رہ جائے گا سو سال بعد آنے والا تاریخ کا طالب علم اگر زمینی حقائق کو نظر انداز کر کے تاریخ کا مطالعہ کرے گا تو وہ درست فیصلہ کرنے میں نا کام رہے گا بلکل اسی طرح جس طرح اکثر مورخین نے اموی ٫ عباسی اور فاطمی سلاطین کے بارے میں زمینی حالات کو نظر انداز کر کے اپنے من پسند نظر یہ کو اوراق کی زینت بنا دیا - آخر میں مری ماہرین تعلیم سے گزارش ہے کہ وہ تاریخ کا مطالعہ کرتے وقت زمینی حقائق کی بھی کھوج لگائیں اس طرح وہ کسی کے بارے میں غلط رائے قائم کرنے سے محفوظ رہیں گے۔ ان شاءاللہ
2 years ago | [YT] | 0
View 0 replies
Sabeel ur Rushd
2 years ago | [YT] | 0
View 0 replies
Sabeel ur Rushd
don't forget to listen this speech
3 years ago | [YT] | 0
View 0 replies