Dear viewers By Profession I am a Lecturer , I have created this channel for educational purpose, aiming to support students for their exam preparation; to help PPSC candidates and teachers regarding educational sources. Subscribe and share to videos to relevant students/ PPSC candidates /Teachers
Nagina Uzair
Are you satisfied with your life?
3 years ago | [YT] | 3
View 0 replies
Nagina Uzair
”ایک زمانہ تھا‘ ایڈم....جب اگر کوئی کم عقل انسان اول فول بولتا تو آس پاس بیٹھے دانا لوگ اسے جھڑک کے چپ کرا دیتے تھے۔لیکن اب...اب ہر احمق اور ہر دانا انسان کو بولنے کا یکساں حق مل چکا ہے۔ہم ایسے زمانے میں جی رہے ہیں جہاں لوگ انٹرنیٹ پہ سفید بیک گراؤنڈ پہ جلی حروف میں لکھے کسی بھی قول کا یقین کر لیتے ہیں۔چوبارے پہ بیٹھ کے کسی کو برا بھلا کہنا کتنا مشکل تھا پہلے‘ ایڈم۔ اور آج یہی کام کی بورڈ کے پیچھے چھپ کر کرنا کتنا آسان ہے۔“
”مائینڈ اوور میٹر‘ چے تالیہ۔ آپ مائینڈ کرنا چھوڑ دیں تو وہ میٹر کرنا چھوڑ دینگے۔“
”پھر بھی.... ہم ان برا بھلا کہنے والوں کو کیسے روک سکتے ہیں؟“
”ہم ان کو نہیں روک سکتے۔خود کو روک سکتے ہیں۔ موقع ہونے کے باوجود کسی دوسرے کو براکہنے سے۔چاہے سرعام۔چاہے کی بورڈ کے پیچھے سے۔“
#Haalim_Novel
3 years ago | [YT] | 3
View 0 replies
Nagina Uzair
ایک بی ایم ڈبلیو کار کے دروازے پہ ڈینٹ تھا۔ اسکے مالک نے ڈینٹ والا دروازہ کبھی مرمت نہیں کرایا. کوئی پوچھتا تو وہ بس یہی کہتا "زندگی کی دوڑ میں اتنا تیز نہیں چلنا چاہیے کہ کسی کو اینٹ مار کر گاڑی روکنی پڑے"۔
سننے والا اس کی آنکھوں میں نمی دیکھ کر قدرے حیران ہوتا اور پھر سمجھتے، نہ سمجھتے ہوئے سر ہلا دیتا؛
-سرگوشی سنو گے یا اینٹ سے بات سنو گے !
ایک نوجوان بزنس مینیجر اپنی برانڈ نیو بی ایم ڈبلیو میں دفتر سے ڈی ایچ اے میں واقع گھر جاتے ہوئے ایک پسماندہ علاقے سے گزرا جو مضافات میں ہی واقع تھا. اچانک اس نے ایک چھوٹے بچے کو بھاگ کر سڑک کی طرف آتے دیکھا تو گاڑی آہستہ کردی. مگر پھر بھی اس نے بچے کو کوئی چیز اچھالتے دیکھا۔ ٹھک کی آواز کے ساتھ ایک اینٹ اس کی نئی کار کے دروازے پر لگی تھی. اس نے فوراً بریک لگائی اور گاڑی سے باہر نکل کر دروازہ دیکھا جس پر کافی بڑا ڈینٹ پڑ چکا تھا.
اس نے غصے سے ابلتے ہوئے بھاگ کر اینٹ مارنے والے بچے کو پکڑا اور زور سے جھنجھوڑا. "اندھے ہوگئے ہو، پاگل کی اولاد؟ تمہارا باپ اس کے پیسے بھرے گا؟" وہ زرو سے دھاڑا
میلی کچیلی شرٹ پہنے بچے کے چہرے پر ندامت اور بے چارگی کے ملے جلے تاثرات تھے.
"سائیں، مجھے کچھ نہیں پتہ میں اور کیا کروں؟
میں ہاتھ اٹھا کر بھاگتا رہا مگر کسی نے گل نئیں سنی." اس نے ٹوٹی پھوٹی اردو میں کچھ کہا. اچانک اس کی آنکھوں سے آنسو ابل پڑے اور سڑک کے ایک نشیبی علاقے کی جانب اشارہ کیا "ادھر میرا ابا گرا پڑا ہے. بہت بھاری ہے. مجھ سے اُٹھ نہیں رہا تھا، میں کیا کرتا سائیں؟"۔
بزنس ایگزیکٹو کے چہرے پر ایک حیرانی آئی اور وہ بچے کے ساتھ ساتھ نشیبی علاقے کی طرف بڑھا تو دیکھا ایک معذور شخص اوندھے منہ مٹی میں پڑا ہوا تھا اور ساتھ ہی ایک ویل چیئر گری پڑی تھی۔ ایسا دکھائی دے رہا تھا کہ شائد وزن کے باعث بچے سے ویل چیئر سنبھالی نہیں گئی اور نیچے آگری اور ساتھ ہی پکے ہوئے چاول بھی گرے ہوئے تھے جو شاید باپ بیٹا کہیں سے مانگ کے لائے تھے۔
"سائیں، مہربانی کرو. میرے ابے کو اٹھوا کر کرسی پر بٹھا دو." اب میلی شرٹ والا بچہ باقاعدہ ہچکیاں لے رہا تھا۔
نوجوان ایگزیکٹو کے گلے میں جیسے پھندا سا لگ گیا۔ اسے معاملہ سمجھ آگیا اور اپنے غصے پر پر ندامت محسوس ہورہی تھی۔ اس نے اپنے سوٹ کی پرواہ کیے بغیر آگے بڑھ کر پوری طاقت لگا کر کراہتے ہوئے معذور شخص کو اٹھایا اور کسی طرح ویل چیئر پر بٹھا دیا۔ بچے کے باپ کی حالت غیر تھی اور چہرہ خراشوں سے بھرا پڑا تھا۔
وہ بھاگ کر اپنی گاڑی کی طرف گیا اور بٹوے میں سے دس ہزار نکالے اور کپکپاتے ہاتھوں سے معذور کی جیب میں ڈال دیے۔ پھر ٹشو پیپر سے اس کی خراشوں کو صاف کیا اور ویل چیئر کو دھکیل کر اوپر لے آیا۔ بچہ ممنونیت کے آنسوؤں سے اسے دیکھتا رہا اور پھر باپ کو لیکر اپنی جھگی کی طرف چل پڑا۔ اس کا باپ مسلسل آسمان کی طرف ہاتھ اٹھاتے ہوئے نوجوان کو دعائیں دے رہا تھا۔
نوجوان نے بعد میں ایک خیراتی ادارے کے تعاون سے جھگی میں رہنے والوں کے لیے ایک جھگی سکول کھول دیا اور آنے والے سالوں میں وہ بچہ بہت سے دوسرے بچوں کے ساتھ پڑھ لکھ کر زندگی کی دوڑ میں شامل ہوگیا۔
وہ بی ایم ڈبلیو اس کے پاس مزید پانچ سال رہی، تاہم اس نے ڈینٹ والا دروازہ مرمت نہیں کرایا. کبھی کوئی اس سے پوچھتا تو وہ بس یہی کہتا "زندگی کی دوڑ میں اتنا تیز نہیں چلنا چاہیے کہ کسی کو اینٹ مار کر گاڑی روکنی پڑے"۔
اوپر والا کبھی ہمارے کانوں میں سرگوشیاں کرتا ہے اور کبھی ہمارے دل سے باتیں کرتا ہے. جب ہم اس کی بات سننے سے انکار کردیتے ہیں تو وہ کبھی کبھار ہمارے طرف اینٹ بھی اچھال دیتا ہے۔
پھر وہ بات ہمیں سننا پڑتی ہے۔
ہم جہاں ملازمت، بزنس، خاندان، بیوی بچوں کی خوشیوں کے لیے بھاگے جارہے ہیں، وہیں ہمارے آس پاس بہت سی گونگی چیخیں اور سرگوشیاں بکھری پڑی ہیں۔ اچھا ہو کہ ہم اپنے ارد گرد کی سرگوشیاں سن لیں تاکہ ہم پر اینٹ اچھالنے کی نوبت نہ آئے۔
#copied
3 years ago | [YT] | 14
View 0 replies
Nagina Uzair
کوئ مشکل ہماری ہمت سے بڑی نہیں......
ہم زندگی گزار کر نہیں جی کر جائیں گے رب کے حکم سے۔۔۔
ہر اک مقام سے آگے مقام ہے تیرا
حیات ذوق سفر کے سوا کچھ اور نہیں
علامہ اقبال
3 years ago | [YT] | 7
View 1 reply
Nagina Uzair
اس فانی دنیا کے معاملات کو سنبھالیں ضرور لیکن اس حد تک خود پہ سوار نہ کریں کہ آپ کا سکون فنا ہو جائے۔ مسائل کو بار بار سوچنے کی بجائے مسائل کے حل اور ممکنہ راستوں کو سوچیں۔ پرسکون رہیں۔ سلامت رہیں۔۔
3 years ago | [YT] | 12
View 1 reply
Nagina Uzair
ذوقِ سفر 🌟
3 years ago | [YT] | 7
View 0 replies
Nagina Uzair
3 years ago | [YT] | 6
View 3 replies
Nagina Uzair
Respected viewers
It's time for Thesis submission, that's why I'm not available , need prayers for the write up of my Thesis.all of you respected people stay blessed and do your best whatever you do.
Kind Regards
Nagina Uzair
3 years ago | [YT] | 21
View 1 reply