Welcome to Momin Studios!
At Momin Studios, we bring you soulful Hamd, Naat, Nasheeds, and Poems that inspire, uplift, and connect with the heart. Our channel is dedicated to sharing the beauty of spiritual music and poetry that resonates with listeners of all ages. Whether you're here to find peace through devotional songs or enjoy the profound messages of faith, you'll find content that touches the soul.

Subscribe for high-quality recordings, soothing performances, and heartfelt lyrics that celebrate devotion, love, and faith.
Stay tuned for weekly uploads that include:

Hamd: Beautiful songs praising the Almighty

Naat: Celebrating the life and love of Prophet Muhammad (PBUH)

Nasheeds: Uplifting tunes of devotion and unity

Poems: Inspirational and thought-provoking pieces in English, Urdu, and Arabic

Join us on this spiritual journey and let the power of words and melody fill your heart. Subscribe now to experience the divine connection through sound!


Momin Studios

مسجد اقصیٰ کا آخری عثمانی محافظ
پس منظر (1917ء):
پہلی جنگ عظیم کے دوران جب سلطنتِ عثمانیہ زوال کا شکار تھی، دسمبر 1917 میں برطانوی افواج نے یروشلم (بیت المقدس) کی طرف پیش قدمی کی۔ عثمانی فوج کو شہر خالی کرنے کا حکم ملا تاکہ مقدس شہر میں خون ریزی اور تباہی نہ ہو۔ لیکن ترک کمانڈر نے 53 فوجیوں کی ایک چھوٹی سی ٹکڑی کو مسجد اقصیٰ میں چھوڑ دیا تاکہ جب تک برطانوی مکمل کنٹرول نہ سنبھال لیں، یہ فوجی مسجد کی حفاظت کریں اور اسے لوٹ مار سے بچائیں۔

ان 53 فوجیوں میں ایک نوجوان فوجی 'حسن' بھی تھا، جس کا تعلق ترکی کے علاقے ایغدیر سے تھا۔

سلطنت ختم ہوگئی، لیکن ڈیوٹی ختم نہ ہوئی:
وقت گزرتا گیا۔ سلطنتِ عثمانیہ کا خاتمہ ہو گیا، ترکی ایک نیا ملک بن گیا، لیکن اس چھوٹی سی ٹکڑی کو واپس بلانے والا کوئی نہ رہا۔ یہ فوجی وہیں مسجد اقصیٰ کے صحن میں اپنی ڈیوٹی دیتے رہے۔ سال گزرتے گئے، فوجی ایک ایک کر کے وفات پاتے گئے، یہاں تک کہ صرف کارپورل حسن اکیلے رہ گئے۔

انہوں نے واپس ترکی جانے کے بجائے اپنی باقی ماندہ زندگی مسجد اقصیٰ کی حفاظت کے لیے وقف کر دی۔ وہ روزانہ اپنی پرانی عثمانی وردی پہنتے اور مسجد کے ایک کونے میں پہرہ دیتے رہتے۔

ایک ترک صحافی سے ملاقات (1972ء):
یہ واقعہ دنیا کے سامنے تب آیا جب مئی 1972 میں ترکی کے مشہور صحافی الہان بارداکچی (İlhan Bardakçı) بیت المقدس کے دورے پر آئے۔

مسجد اقصیٰ کے صحن میں انہوں نے ایک انتہائی ضعیف شخص کو دیکھا جس کا قد لمبا، بال سفید، اور جسم پر پہلی جنگِ عظیم کے دور کی پھٹی پرانی عثمانی ملٹری یونیفارم تھی۔ صحافی کو حیرت ہوئی، اس نے قریب جا کر عربی گائیڈ سے پوچھا کہ یہ کون ہے؟ گائیڈ نے کہا: "یہ ایک پاگل ترک ہے جو پچھلے 50 سالوں سے یہاں کھڑا رہتا ہے اور کسی سے بات نہیں کرتا۔"

صحافی نے قریب جا کر اس بزرگ سے ترکی زبان میں سلام کیا۔ بزرگ چونکے اور جواب دیا۔ صحافی نے پوچھا: "بابا جان، آپ کون ہیں؟"

ضعیف فوجی نے سیدھے کھڑے ہو کر فوجی انداز میں جواب دیا:
"میں سلطنت عثمانیہ کی 20ویں کور، 36ویں بٹالین، 8ویں سکواڈرن کی ہیوی مشین گن ٹیم کا کارپورل حسن ہوں!"

صحافی یہ سن کر دنگ رہ گیا کہ سلطنتِ عثمانیہ کو ختم ہوئے نصف صدی گزر چکی ہے اور یہ شخص اب بھی خود کو ڈیوٹی پر سمجھتا ہے۔

آخری پیغام:
کارپورل حسن نے صحافی کا ہاتھ پکڑا اور روتے ہوئے کہا:
"میرے بیٹے، جب تم ترکی واپس جانا تو اناطولیہ کے شہر توقات (Tokat) جانا۔ وہاں میرے کمانڈر کیپٹن مصطفیٰ کو تلاش کرنا، جس نے ہمیں یہاں ڈیوٹی پر چھوڑا تھا۔ اس سے کہنا کہ:
'بیت المقدس میں آپ کی چھوڑی ہوئی 53 فوجیوں کی ٹکڑی میں سے صرف حسن زندہ بچا ہے۔ وہ آج بھی اپنی ڈیوٹی پر موجود ہے۔ ہم نے اپنی پوسٹ نہیں چھوڑی۔'"

صحافی یہ سن کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔ اس نے ترکی واپس آکر اس کمانڈر کو بہت تلاش کیا لیکن وہ برسوں پہلے وفات پا چکا تھا۔

وفات:
کارپورل حسن اپنی وفات تک اسی طرح مسجد اقصیٰ کا پہرہ دیتے رہے۔ بالآخر 1982 میں (یعنی عثمانی فوج کے انخلاء کے 65 سال بعد) اس عظیم عاشق اور وفادار سپاہی کا انتقال ہو گیا اور یوں مسجد اقصیٰ کا آخری عثمانی محافظ اپنے رب کے حضور پیش ہو گیا۔

اس واقعے سے ملنے والا سبق:
ایمان اور وفاداری کی انتہا: ایک سچا مسلمان اپنے عہد اور اپنی ذمہ داری کو مرتے دم تک نہیں بھولتا، چاہے دنیا بدل جائے اور سلطنتیں ختم ہو جائیں۔

مقدس مقامات سے عشق: مسجد اقصیٰ اور اسلامی مقامات کی حفاظت صرف حکمرانوں کی نہیں، بلکہ ہر مسلمان کے دل کی آواز اور فریضہ ہے۔

گمنام ہیرو: دنیا میں ایسے بے شمار گمنام لوگ موجود ہیں جن کے اخلاص کو صرف اللہ جانتا ہے اور وہ شہرت کی پرواہ کیے بغیر اپنا کام کرتے رہتے ہیں۔

1 day ago | [YT] | 2

Momin Studios

یہ واقعہ خلافتِ عثمانیہ کے مشہور حکمران سلطان مراد رابع (جن کا دورِ حکومت 1623ء سے 1640ء تک رہا) کا ہے۔ یہ ایک سچا اور مشہور تاریخی واقعہ ہے جو آج سے تقریباً 400 سال قبل پیش آیا اور اسلامی تاریخ کی کتب میں محفوظ ہے۔

سلطان مراد رابع اور ایک گمنام شخص کا جنازہ
سلطان کا بھیس بدل کر نکلنا:
سلطان مراد رابع کی یہ عادت تھی کہ وہ اکثر رات کے وقت عام لوگوں کا لباس پہن کر اپنی رعایا کا حال جاننے کے لیے شہر (استنبول) کے چکر لگاتے تھے۔
ایک رات وہ اپنے وزیر کے ساتھ گلیوں میں گشت کر رہے تھے کہ انہوں نے دیکھا کہ ایک شخص کی لاش سڑک کنارے پڑی ہے۔ لوگ وہاں سے گزر رہے ہیں لیکن کوئی بھی اس کی طرف توجہ نہیں دے رہا۔

لوگوں کی بے رخی:
سلطان نے ایک راہگیر کو روکا اور پوچھا: "یہ شخص کون ہے اور اس کی لاش کو یوں لاوارث کیوں چھوڑ دیا گیا ہے؟"
لوگوں نے جواب دیا: "یہ ایک بہت بڑا شرابی اور بدکار شخص تھا۔ اس نے ساری زندگی گناہوں میں گزاری ہے، اس لیے کوئی بھی اسے ہاتھ نہیں لگانا چاہتا اور نہ ہی کوئی اس کا جنازہ پڑھنا چاہتا ہے۔"

سلطان مراد کو یہ سن کر دکھ ہوا اور انہوں نے کہا: "کیا یہ حضرت محمد ﷺ کی امت کا حصہ نہیں ہے؟ ہم اسے یوں لاوارث نہیں چھوڑ سکتے۔"
پھر سلطان نے وزیر کی مدد سے اس شخص کی لاش کو اٹھایا اور لوگوں سے پوچھ کر اسے اس کے گھر تک پہنچایا۔

بیوی کا انکشاف:
جب اس شخص کی لاش گھر پہنچی تو اس کی بیوی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی اور لاش کو دیکھ کر کہنے لگی: "اللہ کی قسم! میں گواہی دیتی ہوں کہ تم اللہ کے ولی ہو۔"

یہ سن کر سلطان مراد حیران رہ گئے اور پوچھا: "اے محترمہ! لوگ تو اس کے بارے میں بہت بری باتیں کر رہے ہیں، اور تم اسے اللہ کا ولی کہہ رہی ہو؟ یہ کیسے ممکن ہے؟"

بیوی نے آنسو پونچھتے ہوئے جواب دیا: "مجھے معلوم تھا کہ لوگ یہی کہیں گے۔ دراصل، میرا شوہر ہر روز شراب خانے جاتا، وہاں سے جتنی ہو سکے شراب خریدتا اور اسے لا کر گھر کی نالی میں بہا دیتا۔ وہ کہتا تھا کہ 'میں نے آج مسلمانوں کو اتنی شراب پینے اور گناہ کرنے سے بچا لیا۔'
اسی طرح وہ رات کو ان عورتوں کے پاس جاتا جو جسم فروشی کے دھندے میں ملوث تھیں۔ وہ انہیں پورے دن کی اجرت دے دیتا اور کہتا کہ 'اپنے دروازے بند کر لو اور آج رات آرام کرو۔' گھر آکر وہ خوش ہوتا کہ آج میں نے اتنے مسلمانوں کو گناہِ کبیرہ سے بچا لیا۔"

ایک حیران کن پیش گوئی:
عورت نے مزید کہا: "لوگ اسے شراب خانے اور بدکار عورتوں کے دروازے پر دیکھتے تھے، اس لیے اسے برا سمجھتے تھے۔ میں ہمیشہ اس سے رو کر کہتی تھی کہ یاد رکھو، جس دن تم مرو گے، کوئی مسلمان تمہارا جنازہ نہیں پڑھے گا اور نہ ہی تمہیں دفن کرے گا۔
اس پر وہ مسکرا کر مجھے جواب دیتا تھا کہ: 'تم پریشان نہ ہو، میرا جنازہ وقت کا سلطان اور مسلمانوں کے بڑے بڑے علماء پڑھیں گے۔'"

سلطان مراد کا ردعمل:
یہ سن کر سلطان مراد رابع کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ انہوں نے روتے ہوئے کہا:
"تمہارے شوہر نے بالکل سچ کہا تھا۔ میں ہی سلطان مراد ہوں، اور کل ہم خود اس کا جنازہ پورے سرکاری اور اسلامی اعزاز کے ساتھ پڑھائیں گے۔"

اگلے دن، اس گمنام اور لوگوں کی نظر میں 'گنہگار' سمجھے جانے والے شخص کا جنازہ خود سلطانِ وقت، شہر کے بڑے بڑے قاضیوں، علماء اور ہزاروں مسلمانوں نے پڑھا۔

اس واقعے سے ملنے والا سبق:
ظاہر پر فیصلہ نہ کریں: ہم اکثر لوگوں کو ان کے ظاہری اعمال، لباس یا حالات کی بنیاد پر پرکھتے ہیں، جبکہ ان کا باطنی رشتہ اور معاملہ اللہ کے ساتھ کیا ہے، یہ صرف اللہ ہی جانتا ہے۔

حسنِ ظن (اچھا گمان): مسلمانوں کے بارے میں ہمیشہ اچھا گمان رکھنا چاہیے۔ کسی کو گناہ گار سمجھ کر حقیر نہیں جاننا چاہیے۔

اللہ کی خفیہ تدبیر: جو شخص خالص نیت سے دین اور امت کی فکر کرتا ہے اور گناہوں کو روکنے کی کوشش کرتا ہے، اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت دونوں میں اس کی عزت کی حفاظت خود فرماتا ہے۔

1 week ago | [YT] | 2

Momin Studios

حضرت عمر فاروق (رضی اللہ عنہ) اور ایک غریب عورت کا واقعہ
یہ اسلامی تاریخ کا ایک سچا، انتہائی سبق آموز اور دل کو چھو لینے والا واقعہ ہے جو ہمیں احساسِ ذمہ داری، ہمدردی، اور اللہ کے خوف کا درس دیتا ہے۔

پس منظر
مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ حضرت عمر فاروق (رضی اللہ عنہ) کا یہ معمول تھا کہ وہ راتوں کو مدینہ کی گلیوں اور مضافات میں گشت کیا کرتے تھے تاکہ اپنی رعایا کا حال جان سکیں اور اگر کوئی تکلیف میں ہو تو اس کی مدد کر سکیں۔

ایک دردناک منظر
ایک رات آپ (رضی اللہ عنہ) اپنے غلام اسلم کے ساتھ گشت کر رہے تھے کہ شہر سے کچھ فاصلے پر ایک خیمے کے پاس آگ جلتی ہوئی دیکھی۔ قریب گئے تو دیکھا کہ ایک عورت چولہے پر ہنڈیا رکھے بیٹھی ہے اور اس کے بچے بھوک سے بلک بلک کر رو رہے ہیں۔

حضرت عمر (رضی اللہ عنہ) نے قریب جا کر سلام کیا اور پوچھا:

"اے اللہ کی بندی! یہ بچے کیوں رو رہے ہیں؟"

عورت نے جواب دیا: "یہ بھوک سے رو رہے ہیں۔"
آپ نے پوچھا: "اس ہنڈیا میں کیا پک رہا ہے؟"
عورت نے انتہائی درد بھرے لہجے میں کہا:

"اس ہنڈیا میں صرف پانی اور پتھر ہیں۔ میں بچوں کو بہلا رہی ہوں تاکہ انہیں لگے کہ کھانا پک رہا ہے اور وہ روتے روتے تھک کر سو جائیں۔ میرا اور خلیفہ عمر کا فیصلہ قیامت کے دن اللہ کی بارگاہ میں ہوگا، جو ہماری خبر نہیں لیتا۔"

احساسِ ذمہ داری اور تڑپ
عورت کی یہ بات سن کر حضرت عمر (رضی اللہ عنہ) کانپ اٹھے اور آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ آپ اسی وقت تیز قدموں کے ساتھ مدینہ کے بیت المال (سرکاری خزانے) کی طرف دوڑے۔ وہاں سے آٹے کا ایک بورا، کچھ کھجوریں اور گھی لیا۔

جب آپ نے یہ سارا سامان اپنی پیٹھ پر اٹھانا چاہا تو غلام اسلم نے تڑپ کر عرض کیا:

"امیر المومنین! آپ رہنے دیں، یہ بوجھ میں اٹھا لیتا ہوں۔"

اس پر حضرت عمر (رضی اللہ عنہ) نے ایک ایسا تاریخی جملہ ارشاد فرمایا جو آج بھی دلوں کو ہلا دیتا ہے:

"اے اسلم! آج تو تم میرا یہ بوجھ اٹھا لو گے، لیکن کیا قیامت کے دن بھی میرا بوجھ اٹھا سکو گے؟"

اپنے ہاتھ سے خدمت
حضرت عمر (رضی اللہ عنہ) نے سارا سامان خود اپنی پیٹھ پر لادا اور اس عورت کے خیمے تک پہنچے۔ آپ (رضی اللہ عنہ) نے اپنے ہاتھوں سے چولہے میں پھونکیں مار کر آگ تیز کی (جس سے دھواں آپ کی مبارک داڑھی سے نکل رہا تھا)، خود کھانا پکایا، اسے ٹھنڈا کیا اور پھر بچوں کو اپنے ہاتھ سے کھانا کھلایا۔

جب بچے رج کر کھانا کھا چکے اور خوشی سے اچھلنے کودنے لگے، تو آپ (رضی اللہ عنہ) کو اطمینان نصیب ہوا۔
عورت نے خوش ہو کر کہا: "عمر کی جگہ خلیفہ بننے کے لائق تو تم ہو۔" (وہ آپ کو پہچان نہ سکی تھی)۔ حضرت عمر (رضی اللہ عنہ) نے مسکرا کر فرمایا کہ کل تم خلیفہ کے پاس آنا، وہاں مجھے ہی پاؤ گی۔

اس واقعے سے ملنے والا سبق
جوابدہی کا شدید احساس: دنیا کا کوئی بھی عہدہ یا رتبہ انسان کو قیامت کے دن اللہ کی پکڑ سے نہیں بچا سکتا۔ سچا لیڈر اور انسان وہی ہے جو اپنی ذمہ داریوں کا شدت سے احساس کرے۔

تکلیف میں صبر اور اللہ پر بھروسہ: حالات کتنے ہی کٹھن کیوں نہ ہوں، مدد ہمیشہ اللہ کی طرف سے آتی ہے۔ اس عورت کے صبر اور بے بسی کی آواز کو اللہ نے خلیفہ وقت کے ذریعے سنا۔

عاجزی اور خدمت: انسان جتنا بھی بڑا ہو جائے، غریبوں، یتیموں اور مسکینوں کی اپنے ہاتھ سے خدمت کرنے میں کبھی عار محسوس نہیں کرنی چاہیے۔

یہ واقعہ اس بات کی بہترین مثال ہے کہ حقیقی طاقت، شہرت اور مرتبے کا مقصد عوام کی خدمت اور اللہ کی رضا حاصل کرنا ہے۔

1 week ago | [YT] | 2