Welcome to Momin Studios – A Journey of Faith!

Find peace through beautiful English Hamd and profound Islamic reminders.

Whether you want to give thanks to Allah or reflect on Hamd Bari Tala in English, we provide soul-touching content. Explore our Nasheed in English without music, soothing Nasheed vocals only, and beautiful Nasheed in Arabic. We also offer Hamd in English lyrics, Nasheed for kids, and Hamd o Naat in English to connect with the Almighty.

Life brings tests, so we share powerful Islamic reminders to strengthen your faith. Watch our Islamic reminder shorts for daily inspiration. From an Islamic reminder for youth to an Islamic reminder hardship, our videos are designed to comfort the soul. Experience emotional Islamic reminders that will make you cry, alongside the best Islamic reminders 2026 has to offer.

Subscribe today for your daily Nasheed playlist and Allah Hamd in English!


Momin Studios

یہ داستان سلطان سیف الدین قطز رحمۃ اللہ علیہ اور 'جنگِ عین جالوت' (Battle of Ain Jalut) کی ہے، جب مسلمانوں نے وہ کر دکھایا جسے پوری دنیا ناممکن سمجھ چکی تھی۔

ہلاکو خان کا خط، سلطان قطز اور تاریخ کا سب سے بڑا ٹکراؤ
پس منظر اور منگولوں کی ہولناک دہشت (1260ء):
چنگیز خان اور پھر اس کے پوتے 'ہلاکو خان' کی قیادت میں منگولوں (تاتاریوں) نے پوری دنیا میں تباہی مچا دی تھی۔ 1258ء میں انہوں نے عالمِ اسلام کے دھڑکتے ہوئے دل 'بغداد' کو تباہ کر دیا تھا۔ لاکھوں مسلمانوں کو ذبح کر دیا گیا، دریا کا پانی خون اور کتابوں کی سیاہی سے کالا ہو گیا، اور عباسی خلیفہ کو قالین میں لپیٹ کر گھوڑوں کے ٹاپوں تلے کچل دیا گیا۔

منگولوں کی یہ آندھی اب مصر (مملوک سلطنت) کی طرف بڑھ رہی تھی، جو مسلمانوں کا آخری بڑا قلعہ تھا۔ مصر کے سلطان 'سیف الدین قطز' تھے۔

ہلاکو خان کا خوفناک اور مغرور خط:
ہلاکو خان نے اپنے چار سفیروں کے ذریعے سلطان قطز کو ایک ایسا خط بھیجا جس کا ایک ایک لفظ دہشت سے بھرا ہوا تھا۔ اس خط میں لکھا تھا:

"ہم زمین پر خدا کی تلوار ہیں۔ خدا نے ہمیں اپنے غضب سے پیدا کیا ہے اور ان لوگوں پر مسلط کیا ہے جن پر وہ غصے میں ہے۔ بغداد کا انجام دیکھ لو! جو ہم سے ٹکرایا وہ مٹ گیا۔ ہمارے گھوڑے تیز ہیں، ہماری تلواریں بجلیاں ہیں اور ہمارے دل پتھر ہیں۔ اس سے پہلے کہ ہم مصر کو راکھ کا ڈھیر بنا دیں، ہمارے سامنے گھٹنے ٹیک دو ورنہ تمہارے بچوں کو ذبح کر دیا جائے گا اور تمہاری عورتیں ہماری غلام ہوں گی۔"

اس خط کو سن کر مصر کے دربار میں موجود بڑے بڑے جرنیلوں کے دل دہل گئے۔ تاریخ گواہ ہے کہ کچھ امیروں نے سلطان قطز کو مشورہ دیا کہ ہمیں ہلاکو خان سے صلح کر لینی چاہیے کیونکہ ہم اس طوفان کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔

سلطان قطز کا لرزہ خیز فیصلہ (The Masterstroke):
سلطان قطز ایک غلام کی حیثیت سے بکے تھے، لیکن اللہ نے انہیں تخت پر بٹھایا تھا۔ ان کی رگوں میں سچے مسلمان کا خون تھا۔ انہوں نے صلح کی بات کرنے والے جرنیلوں کو ڈانٹا اور وہ فیصلہ کیا جس نے منگولوں کے سفارتی اصولوں کو چیر کر رکھ دیا۔

سلطان قطز نے ہلاکو خان کے چاروں سفیروں کو پکڑا، ان کے سر قلم کیے، اور ان کے کٹے ہوئے سروں کو قاہرہ کے سب سے بڑے دروازے (باب زویلہ) پر لٹکا دیا۔
یہ سفارتی تاریخ کا سب سے بڑا اعلانِ جنگ تھا۔ اس کا مطلب تھا: اب کوئی واپسی کا راستہ نہیں، یا تو ہم زندہ رہیں گے یا کٹ مریں گے۔

پھر قطز نے اپنی فوج کو اکٹھا کیا اور وہ تاریخی جملہ کہا:
"اے مسلمانوں کے امیرو! تم سالوں سے بیت المال کا کھاتے آئے ہو۔ اور آج جنگ سے ڈرتے ہو؟ اگر تم سب پیچھے ہٹ گئے، تو قطز اکیلا جائے گا اور اسلام کی عزت کے لیے ان منگولوں سے ٹکرائے گا!"
یہ سن کر تمام جرنیل رونے لگے اور موت کی بیعت کر لی۔

عین جالوت کا میدان اور ایک نازک ترین موڑ (The Climax):
3 ستمبر 1260ء کو فلسطین کے مقام 'عین جالوت' (گولیتھ کا چشمہ) پر تاریخ کی یہ ہولناک ترین جنگ شروع ہوئی۔ منگول فوج کا کمانڈر 'کتبغا' انتہائی بے رحم تھا۔
مسلمانوں کے ہراول دستے کی قیادت مشہور جرنیل 'رکن الدین بیبرس' کر رہے تھے۔ بیبرس نے ایک شاندار جنگی چال چلی اور لڑتے لڑتے پیچھے ہٹنے کی اداکاری کی (Feigned retreat)۔ منگولوں کی پوری فوج اس جال میں پھنسی اور وادی کے درمیان آ گئی۔

لیکن منگول واقعی ایک خونخوار قوم تھے۔ جب انہیں احساس ہوا کہ وہ گھر چکے ہیں، تو انہوں نے اتنے ہولناک اور پاگل پن کے ساتھ جوابی حملہ کیا کہ مسلمانوں کا بایاں بازو (Left Flank) ٹوٹنے لگا۔ مسلم فوج بکھرنے لگی اور لگ رہا تھا کہ آج اسلام کا یہ آخری قلعہ بھی گر جائے گا۔

سلطان کا ہیلمٹ اور ایک فلک شگاف نعرہ:
جب سلطان قطز نے اپنی فوج کو پیچھے ہٹتے دیکھا، تو اس نے تاریخ کا ایک ایسا کام کیا جس نے میدانِ جنگ کا نقشہ بدل دیا۔ سلطان قطز نے اپنے سر سے لوہے کا ہیلمٹ (خود) اتارا، اور اسے زور سے زمین پر دے مارا۔

پھر اس نے اپنے گھوڑے کو ایڑ لگائی اور میدان کے بالکل بیچوں بیچ گھس کر پوری طاقت سے وہ نعرہ لگایا جس کی گونج آج بھی تاریخ کے اوراق میں سنائی دیتی ہے:
"وَ اِسْلَامَاہ! وَ اِسْلَامَاہ! وَ اِسْلَامَاہ!"
(ہائے میرا اسلام! آج میرے اسلام کی لاج رکھ لے!)

پھر سلطان نے آسمان کی طرف دیکھا اور روتے ہوئے دعا کی: "یا اللہ! اپنے بندے قطز کی مدد فرما تاکہ وہ تیرے دین کی حفاظت کر سکے۔"

تاریخ کا دھارا مڑ گیا:
اپنے بادشاہ کو بغیر ہیلمٹ کے، ننگی تلوار لیے دشمنوں کے بیچ میں لڑتے اور یہ نعرہ لگاتے دیکھ کر مسلمانوں کے خون میں ایک ایسی آگ لگی کہ وہ موت کا ڈر بھول کر دیوانہ وار منگولوں پر ٹوٹ پڑے۔
اس دن عین جالوت کے میدان میں وہ معجزہ ہوا جو اس وقت کی دنیا میں ناممکن سمجھا جاتا تھا۔ منگولوں کا کمانڈر 'کتبغا' مارا گیا، اور منگول فوج کو ایسی عبرتناک اور شرمناک شکست ہوئی کہ ان کا غرور ہمیشہ کے لیے خاک میں مل گیا۔ عین جالوت کی اس فتح نے نہ صرف مصر کو، بلکہ پورے یورپ اور مکہ و مدینہ کو منگولوں کی تباہی سے بچا لیا۔

اس واقعے سے ملنے والے اسباق:
ناقابلِ تسخیر ہونے کا وہم (Myth of Invincibility): دنیا میں کوئی طاقت، کوئی دشمن، اور کوئی ٹیکنالوجی ناقابلِ شکست نہیں ہوتی۔ منگولوں کا خوف ایک نفسیاتی وہم تھا جسے قطز کے سچے یقین نے توڑ دیا۔

پریشر میں لیڈر کا کردار: جب ٹیم یا فوج ٹوٹ رہی ہو، تو لیڈر پچھے چھپ کر احکامات نہیں دیتا، بلکہ وہ اپنا ہیلمٹ زمین پر مار کر خود کو سب سے بڑے خطرے میں ڈالتا ہے تاکہ دوسروں کا حوصلہ جاگے۔

واپسی کا راستہ کاٹنا: سفیروں کو قتل کر کے قطز نے ثابت کیا کہ جب انسان کے پاس 'Plan B' (فرار کا راستہ) نہ ہو، تو وہ ناممکن کو بھی ممکن کر دکھاتا ہے۔

تاریخی حوالے (History & Sources):
یہ جنگ اور یہ واقعہ اسلامی اور عالمی عسکری تاریخ کا ایک انتہائی فیصلہ کن موڑ ہے۔

البدایہ والنہایہ (Al-Bidayah wa al-Nihayah): عظیم مؤرخ علامہ ابن کثیرؒ نے سال 658 ہجری کے واقعات میں بغداد کی تباہی کے دکھ کے بعد، جنگ عین جالوت، سلطان قطز کے خط پھاڑنے، ایلچیوں کو قتل کرنے اور "وا اسلاماہ" کے نعرے کو تفصیلی اور جذباتی انداز میں قلمبند کیا ہے۔

النجوم الزاھرہ: مصری مؤرخ ابن تغری بردیؒ کی یہ مشہور کتاب سلطنتِ مملوک کی مستند ترین تاریخ ہے۔ اس میں عین جالوت کے میدانِ جنگ کے نقشے، بیبرس کی حکمتِ عملی اور سلطان قطز کے زمین پر ہیلمٹ دے مارنے کے واقعے کا چشم دید احوال درج ہے۔

تاریخِ اسلام اور مغرب: دورِ حاضر کے تمام مغربی مؤرخین (جیسے ڈیوڈ مورگن اپنی کتاب The Mongols میں) تسلیم کرتے ہیں کہ عین جالوت کی جنگ وہ پہلا موقع تھا جب منگولوں کی پیش قدمی کو مستقل طور پر روکا گیا اور ان کی ناقابلِ شکست ہونے کی متھ (Myth) کو توڑا گیا۔

1 month ago | [YT] | 2

Momin Studios

یہ واقعہ 26 اگست 1071ء کو لڑی جانے والی تاریخِ اسلام کی فیصلہ کن 'جنگِ ملازکرد' (Battle of Manzikert) اور عظیم سلجوقی سلطان الپ ارسلان رحمۃ اللہ علیہ کا ہے۔

سلطان الپ ارسلان، سفید کفن اور تاریخ کا حیران کن انتقام
پس منظر اور ایک ناممکن مقابلہ (1071ء):
یہ وہ وقت تھا جب بازنطینی (رومی) سلطنت کا شہنشاہ 'رومانوس ڈائیوجینس' (Romanos IV Diogenes) اسلام کا نام و نشان مٹانے کے لیے ایک ایسا ہولناک لشکر لے کر نکلا جس کی مثال اس وقت کی دنیا میں نہیں ملتی تھی۔ اس کی فوج میں 2 لاکھ (200,000) سے زائد جدید ترین ہتھیاروں اور لوہے میں غرق فوجی تھے۔ رومانوس اس قدر غرور میں تھا کہ اس نے اعلان کر رکھا تھا کہ "اب اگلا دربار رے (سلجوقی دارالحکومت) میں لگے گا اور ہم مسلمانوں کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیں گے۔"

دوسری طرف عظیم سلجوقی سلطان 'الپ ارسلان' تھے۔ جب انہیں اس اچانک اور ہولناک یلغار کی خبر ملی تو وہ اپنے دارالحکومت سے بہت دور تھے۔ اس وقت ان کے پاس بمشکل 15 سے 20 ہزار فوجی تھے۔
جب رومی شہنشاہ ملازکرد (موجودہ ترکی) کے میدان میں پہنچا تو الپ ارسلان نے خونریزی سے بچنے کے لیے امن کا پیغام بھیجا۔ لیکن مغرور رومانوس نے جواب دیا: "امن کا معاہدہ اب تمہارے دارالحکومت میں تمہاری لاشوں پر ہوگا۔"

جمعہ کا دن اور سپہ سالار کا کفن (The Ultimate Climax):
26 اگست بروز جمعہ کا دن تھا۔ سلطان الپ ارسلان جانتے تھے کہ 15 ہزار مجاہدین 2 لاکھ کی فوج کا سیدھا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ اگر جینا ہے تو موت کا خوف دل سے نکالنا ہوگا۔

جمعہ کی نماز کے بعد، الپ ارسلان نے اپنے خیمے میں جا کر اپنا شاہی لباس اور اپنی زرہ (Armor) اتار دی۔ انہوں نے ایک بالکل سفید لباس (کفن) پہنا، اپنے گھوڑے کی دم کو اپنے ہاتھوں سے گرہ لگائی (جو ترکوں میں موت تک لڑنے کی علامت تھی)، اپنے تیر کمان پھینک دیے اور صرف ایک تلوار اور گرز (Mace) ہاتھ میں تھام لیا۔

وہ اپنی چھوٹی سی فوج کے سامنے کھڑے ہوئے اور ایک لرزہ خیز خطبہ دیا:
"اے میرے مجاہدو! آج یہاں کوئی سلطان نہیں ہے، اور نہ کوئی فوج کو حکم دینے والا ہے۔ آج میں بھی تمہاری طرح کا ایک عام سپاہی ہوں۔ میں نے اپنا کفن پہن لیا ہے۔ اگر میں مارا جاؤں تو مجھے اسی خون آلود لباس میں دفن کر دینا۔ جو میرے ساتھ جنت میں جانا چاہتا ہے وہ میرے پیچھے آئے، اور جو واپس جانا چاہتا ہے وہ چلا جائے، آج کوئی کسی کو نہیں روکے گا!"

یہ سن کر پوری فوج کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور سب نے ایک آواز ہو کر کہا کہ ہم آپ کے ساتھ کٹ مریں گے۔

ہلال کی جنگی چال (The Crescent Trap):
سلطان الپ ارسلان نے ایک زبردست جنگی چال چلی۔ انہوں نے اپنی فوج کو ایک 'آدھے چاند' (Crescent) کی شکل میں کھڑا کیا۔ جب رومیوں کا 2 لاکھ کا سمندر ان پر ٹوٹا تو سلطان کے درمیانی دستے لڑتے لڑتے پیچھے ہٹنے لگے۔
رومی شہنشاہ رومانوس سمجھا کہ مسلمان ڈر کر بھاگ رہے ہیں۔ وہ ان کا پیچھا کرتے ہوئے اپنی پوری فوج کے ساتھ اس آدھے چاند کے بالکل درمیان میں آ گیا۔

جیسے ہی رومی فوج اس جال میں پھنسی، الپ ارسلان نے نعرہ تکبیر بلند کیا۔ مسلمانوں کے دائیں اور بائیں دستوں نے فوراً گھیرا تنگ کر دیا اور پیچھے ہٹنے والی فوج پلٹ کر بھوکے شیروں کی طرح رومیوں پر ٹوٹ پڑی۔ 2 لاکھ کی فوج چاروں طرف سے گھر چکی تھی۔ شام ہونے تک مسلمانوں نے رومی سلطنت کی اس عظیم فوج کو گاجر مولی کی طرح کاٹ کر رکھ دیا۔

گرفتار شہنشاہ اور ایک لرزہ خیز مکالمہ:
جنگ ختم ہوئی۔ بازنطینی سلطنت کا شہنشاہ 'رومانوس'، جس نے مسلمانوں کو مٹانے کی قسم کھائی تھی، آج بیڑیوں میں جکڑا ہوا، خاک آلود اور زخمی حالت میں سلطان الپ ارسلان کے دربار میں پیش کیا گیا۔ دنیا کی تاریخ میں پہلی بار روم کا کوئی شہنشاہ مسلمانوں کا جنگی قیدی بنا تھا۔

سلطان الپ ارسلان تخت پر بیٹھے تھے۔ انہوں نے رومانوس کو دیکھا اور وہ تاریخی مکالمہ ہوا جو آج بھی یورپ کی تاریخ کی کتابوں میں درج ہے:

سلطان الپ ارسلان: "اے رومانوس! ذرا سچ سچ بتا، اگر آج تم جیت جاتے اور میں تمہارا قیدی بن کر تمہارے سامنے کھڑا ہوتا، تو تم میرے ساتھ کیا سلوک کرتے؟"

رومانوس نے اپنے غرور اور عیسائی بادشاہوں کی تاریخ کے مطابق سچ بولتے ہوئے جواب دیا:
"میں تمہیں بے دردی سے ذبح کروا دیتا، یا پھر تمہیں زنجیروں میں جکڑ کر قسطنطنیہ کی گلیوں میں گھماتا اور لوگ تم پر تھوکتے۔"

یہ سن کر سلطان الپ ارسلان مسکرائے اور فرمایا:
"تمہاری سوچ تمہارے ظرف کے مطابق تھی۔ لیکن میرا انتقام تمہاری سوچ سے بھی زیادہ ہولناک اور بھاری ہے۔ میرا فیصلہ یہ ہے کہ... میں تمہیں معاف کرتا ہوں اور آزاد کرتا ہوں! تم بحفاظت اپنی سلطنت میں واپس جا سکتے ہو۔"

یہ فیصلہ سن کر رومانوس کے قدموں تلے زمین نکل گئی۔ وہ دھاڑیں مار مار کر رونے لگا اور سلطان کے قدموں میں گر گیا۔ اسے یقین نہیں آ رہا تھا کہ جو شخص چند گھنٹے پہلے اسے تباہ کرنے آیا تھا، فتح پانے کے بعد وہ اس قدر عظیم سلوک کر سکتا ہے۔ سلطان نے اسے ایک شاہی خیمہ، محافظ اور سفری خرچ دے کر باعزت طریقے سے قسطنطنیہ روانہ کر دیا۔ (یہ اور بات ہے کہ جب وہ واپس پہنچا تو اس کے اپنے ہی لوگوں نے اسے اندھا کر کے مار ڈالا)۔

اس واقعے سے ملنے والے اسباق:
موت کا ڈر ختم کرنا: جب تک انسان موت اور نقصان کے ڈر سے آزاد نہیں ہوتا، وہ کوئی بڑی کامیابی حاصل نہیں کر سکتا۔ الپ ارسلان کا کفن پہننا دراصل موت کے ڈر کو مارنا تھا۔

بہترین انتقام: سچا اور بہادر انسان وہ نہیں جو طاقت ملنے پر ظلم کرے، بلکہ وہ ہے جو اپنے بدترین دشمن کو قدموں میں دیکھ کر اسے معاف کرنے کا ظرف رکھتا ہو۔ معافی وہ نفسیاتی وار ہے جو دشمن کو اندر سے توڑ دیتا ہے۔

لیڈر کا کردار: لیڈر وہ ہے جو مشکل ترین وقت میں خود کو عوام (یا فوج) کے برابر لا کر کھڑا کر دے، جیسا کہ سلطان نے اپنا شاہی لباس اتار کر عام لباس پہن لیا تھا۔

تاریخی حوالے (History & Sources):
یہ واقعہ کوئی داستانِ الف لیلیٰ نہیں بلکہ اسلامی اور مغربی، دونوں تاریخوں کا ایک مسلّمہ اور انتہائی فیصلہ کن موڑ ہے۔

الکامل فی التاریخ: عظیم مؤرخ علامہ ابن الاثیرؒ نے اپنی تاریخ میں جنگ ملازکرد، سلطان کے کفن پہننے اور گھوڑے کی دم باندھنے کی پوری تفصیل تحریر کی ہے۔

سیر اعلام النبلاء: امام شمس الدین الذہبیؒ نے بھی سلطان الپ ارسلان کی سوانح کے تحت رومی شہنشاہ رومانوس کے ساتھ ہونے والے اس عظیم مکالمے اور معافی کے واقعے کو تفصیل سے درج کیا ہے۔

مغربی تاریخ دان: مشہور برطانوی مؤرخ 'ایڈورڈ گبن' (Edward Gibbon) نے اپنی شہرہ آفاق کتاب "The Decline and Fall of the Roman Empire" میں الپ ارسلان کی اس جنگی چال اور قیدی شہنشاہ کے ساتھ کیے گئے سلوک کو انسانی تاریخ کا ایک عظیم ترین اور حیرت انگیز باب قرار دیا ہے۔

1 month ago | [YT] | 1

Momin Studios

یہ واقعہ آج سے بالکل لگ بھگ 400 سال قبل (1619ء - 1624ء) کا ہے (چونکہ ہم 2026 میں ہیں، تو یہ عین 400 سال پرانی تاریخ ہے)۔ یہ وہ وقت تھا جب تخت و تاج کا غرور اپنے عروج پر تھا اور بادشاہوں نے خود کو خدا سمجھنا شروع کر دیا تھا۔ یہ داستان برصغیر کے اس عظیم مردِ مجاہد کی ہے جس نے دنیا کے سب سے طاقتور بادشاہ کے دربار میں موت کو سامنے دیکھ کر بھی گردن جھکانے سے انکار کر دیا۔

یہ واقعہ حضرت مجدد الف ثانی (شیخ احمد سرہندی رحمۃ اللہ علیہ) اور مغل شہنشاہ جہانگیر کے دربار کا ایک لرزہ خیز ٹکراؤ ہے۔

ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے: مجدد الف ثانی اور جہانگیر کا دربار
پس منظر اور ایک شرکیہ قانون:
مغل شہنشاہ اکبر نے اپنے دور میں 'دینِ الٰہی' متعارف کروایا تھا، جس نے اسلامی عقائد کی جڑیں کھوکھلی کر دی تھیں۔ اسی دور میں دربار کا ایک ہولناک اور شرکیہ قانون بنایا گیا جسے 'سجدہِ تعظیمی' کہا جاتا تھا۔ یعنی جو شخص بھی بادشاہ کے دربار میں آئے گا، وہ پہلے بادشاہ کے سامنے زمین پر سر رکھ کر سجدہ کرے گا۔
اکبر کے بعد جب جہانگیر تخت پر بیٹھا تو اس نے بھی اس شرکیہ قانون کو سختی سے نافذ رکھا۔ بڑے بڑے وزیر، جرنیل اور دنیا دار علماء بادشاہ کے خوف سے دربار میں داخل ہوتے ہی زمین پر گر جاتے تھے۔ لیکن سرہند کی سرزمین پر ایک سچا مردِ قلندر موجود تھا، جس کا نام شیخ احمد سرہندی (مجدد الف ثانیؒ) تھا۔ آپؒ نے اس غیر اسلامی قانون کے خلاف آواز اٹھائی اور فرمایا کہ سجدہ صرف اور صرف رب ذوالجلال کا حق ہے۔

دربارِ شاہی میں طلبی اور موت کا کڑا امتحان:
جہانگیر کو جب یہ خبر ملی کہ کوئی شخص اس کے دربار کے آداب (سجدے) کو ماننے سے انکاری ہے اور لوگوں کو بھی روک رہا ہے، تو اس کا غرور جاگ اٹھا۔ اس نے فوراً مجدد الف ثانیؒ کو اپنے دربار میں طلب کر لیا۔

دربار سجا ہوا تھا۔ بادشاہ تخت پر بیٹھا تھا، جلاد ننگی تلواریں لیے کھڑے تھے، اور دربار کا قانون تھا کہ جو سجدہ نہیں کرے گا اس کا سر قلم کر دیا جائے گا۔

ایک ہولناک سناٹا اور مجددؒ کی انٹری (The Climax):
دربار کا دروازہ کھلا۔ حضرت مجدد الف ثانیؒ دربار میں داخل ہوئے۔ تمام درباریوں کی سانسیں رکی ہوئی تھیں کہ اب یہ بادشاہ کے سامنے زمین پر گریں گے۔ لیکن تاریخ نے ایک لرزہ خیز منظر دیکھا۔ مجدد الف ثانیؒ کا سینہ تنا ہوا تھا، گردن سیدھی تھی، اور وہ پورے دربار کو چیرتے ہوئے، بغیر کمر کو جھکائے، بغیر کوئی سجدہ کیے، سیدھے بادشاہ کے تخت کے سامنے جا کر کھڑے ہو گئے اور بلند آواز میں کہا: "السلام علیکم!"

دربار میں موت کا سا سناٹا چھا گیا۔ کسی کی ہمت نہیں ہوتی تھی کہ جہانگیر کے سامنے سیدھا کھڑا ہو سکے۔ بادشاہ کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا۔ اس نے کڑک دار آواز میں پوچھا:
"شیخ! کیا تم نہیں جانتے کہ دربار کا آداب کیا ہے؟ تم نے مجھے سجدہ کیوں نہیں کیا؟"

حضرت مجدد الف ثانیؒ نے بادشاہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر وہ تاریخی جملہ کہا جس نے شرک کی بنیادیں ہلا دیں:
"اے بادشاہ! یہ سر اس رب کے دربار میں جھک چکا ہے جس نے تجھے یہ تخت دیا ہے۔ اب جو سر ایک اللہ کے سامنے جھک جائے، وہ دنیا میں کسی انسان کے سامنے نہیں جھک سکتا۔ سجدہ صرف اللہ کے لیے ہے!"

گوالیار کے خوفناک قلعے میں قید:
جہانگیر کا غرور ٹوٹ چکا تھا۔ وہ بے بس ہو گیا کیونکہ اس نے دیکھا کہ اس شخص کی آنکھوں میں موت کا کوئی خوف نہیں ہے۔ جہانگیر نے غصے میں آ کر حکم دیا کہ اس شخص کو گوالیار کے قلعے (Gwalior Fort) کے اس خوفناک ترین قید خانے میں ڈال دیا جائے جہاں خطرناک ترین مجرموں کو رکھا جاتا تھا اور وہاں سے کوئی زندہ واپس نہیں آتا تھا۔

حضرت مجدد الف ثانیؒ کو قید کر کے گوالیار کے قلعے میں بھیج دیا گیا۔ لیکن سچے مومن کا کمال یہ ہے کہ وہ جہاں جاتا ہے، وہیں اللہ کا نور پھیلا دیتا ہے۔ اس قید خانے میں سینکڑوں ایسے غیر مسلم مجرم قید تھے جنہوں نے اسلام کا نام تک نہیں سنا تھا۔ جب انہوں نے اس سچے مردِ مجاہد کا اخلاق، ان کی عبادت اور ان کا کردار دیکھا، تو چند ہی مہینوں میں قید خانے کے ہزاروں قیدی مسلمان ہو گئے۔ قید خانہ ایک خانقاہ میں بدل گیا۔

بادشاہ کی توبہ اور سجدہِ تعظیمی کا خاتمہ:
تقریباً تین سال (کچھ روایات کے مطابق ایک سال سے زائد) کا عرصہ گزر گیا۔ جہانگیر کو اپنے کیے پر سخت پشیمانی ہونے لگی۔ اللہ کی طرف سے اسے کچھ ایسی بیماریوں اور خوابوں نے گھیرا کہ اسے احساس ہو گیا کہ اس نے ایک سچے ولی اللہ پر ظلم کیا ہے۔

اس نے فوراً حضرت مجدد الف ثانیؒ کو رہا کرنے کا حکم دیا اور انہیں پورے اعزاز کے ساتھ دوبارہ اپنے دربار میں بلایا۔ اس بار دربار کا نقشہ بدلا ہوا تھا۔ بادشاہ نے انہیں عزت کے ساتھ اپنے پاس بٹھایا، ان سے معافی مانگی، اور سب سے بڑا کام یہ کیا کہ "سجدہِ تعظیمی کو پورے ہندوستان میں ہمیشہ کے لیے حرام اور ممنوع قرار دے دیا۔"

اس واقعے سے ملنے والے اسباق:
توحید اور غیرتِ ایمانی: ایک سچا مسلمان اپنی گردن کٹوا تو سکتا ہے، لیکن ایک اللہ کے سوا کسی کے سامنے جھکا نہیں سکتا۔ عزت بادشاہوں کے تخت میں نہیں، اللہ کے سامنے جھکنے میں ہے۔

حق پر ڈٹ جانا: بعض اوقات اکیلا انسان حق پر کھڑا ہوتا ہے اور پوری دنیا اس کے خلاف ہوتی ہے، لیکن اگر وہ ڈٹ جائے تو بالاخر باطل کو ہی گھٹنے ٹیکنے پڑتے ہیں۔

قید خانے میں تبلیغ: سچا مسلمان حالات کا رونا نہیں روتا۔ مجدد الف ثانیؒ نے جیل کی کوٹھڑی کو بھی اسلام پھیلانے کا ذریعہ بنا دیا، جو سچے ایمان کی نشانی ہے۔

تاریخی حوالے (History & Sources):
یہ تقریباً عین 400 سال پرانا واقعہ برصغیر کی اسلامی تاریخ کا سب سے بڑا اور مستند باب ہے، جس نے برصغیر کو دوبارہ شرک کے اندھیروں میں جانے سے بچا لیا۔

مکتوباتِ امام ربانی (Maktubat-e-Imam Rabbani): حضرت مجدد الف ثانیؒ کے اپنے لکھے گئے خطوط کا مجموعہ، جس میں انہوں نے اپنے جیل کے دنوں اور عقیدہ توحید پر تفصیل سے بات کی ہے۔ یہ اسلامی تصوف اور عقیدے کی عظیم کتاب ہے۔

تزکِ جہانگیری (Tuzuk-e-Jahangiri): شہنشاہ جہانگیر کی اپنی ڈائری، جس میں اس نے خود اعتراف کیا ہے کہ اس نے شیخ احمد سرہندی کو گوالیار کے قلعے میں قید کیا تھا اور بعد میں ان کی رہائی کا حکم دیا۔

زبدۃ المقامات: خواجہ محمد ہاشم کشمیؒ (جو مجدد صاحب کے قریبی خلیفہ تھے) کی لکھی ہوئی یہ کتاب، اس واقعے کی سب سے مستند اور آنکھوں دیکھی تفصیلات بیان کرتی ہے۔

1 month ago | [YT] | 2

Momin Studios

یہ واقعہ آج سے تقریباً 300 سال قبل (مارچ 1739ء) کا ہے۔ یہ ہندوستان کی تاریخ کا وہ سیاہ ترین اور ہولناک دن تھا جب دلی (Delhi) کی سڑکوں پر خون کا دریا بہہ رہا تھا اور دنیا کے ایک انتہائی ظالم اور طاقتور بادشاہ کے غصے کو ٹھنڈا کرنے کی کسی میں جرات نہیں تھی۔

یہ داستان فارس (ایران) کے بادشاہ **نادر شاہ افشار** کی ہولناک دہشت اور ہندوستان کے ایک انتہائی بہادر اور بزرگ وزیر **نظام الملک (آصف جاہ اول)** کی اس جرأت کی ہے جس نے لاکھوں انسانوں کو موت کے گھاٹ اترنے سے بچا لیا۔

---

### نادر شاہ کا غضب اور دلی کا قتلِ عام (1739ء)

**پس منظر اور ایک جھوٹی افواہ:**
نادر شاہ افشار جسے اس کی جنگی مہارت کی وجہ سے 'ایشیا کا نپولین' کہا جاتا تھا، ہندوستان پر حملہ آور ہوا۔ مغل بادشاہ 'محمد شاہ رنگیلا' کی کمزور فوج اس کا مقابلہ نہ کر سکی اور نادر شاہ فاتح بن کر دلی میں داخل ہو گیا۔ دلی والوں نے اسے اپنا بادشاہ تسلیم کر لیا اور شہر میں امن قائم ہو گیا۔
لیکن ایک رات دلی کے بازاروں میں یہ افواہ پھیل گئی کہ ایک مغل عورت نے نادر شاہ کو محل میں قتل کر دیا ہے۔ اس جھوٹی افواہ پر دلی کے کچھ جذباتی نوجوانوں نے بغاوت کر دی اور شہر میں موجود نادر شاہ کے تقریباً 900 ایرانی فوجیوں کو رات کے اندھیرے میں قتل کر دیا۔

**سونہری مسجد اور غضب ناک بادشاہ (The Massacre):**
اگلی صبح جب نادر شاہ کو اپنے فوجیوں کے قتل کا علم ہوا، تو اس کا غصہ آسمان کو چھونے لگا۔ وہ اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر چاندنی چوک میں واقع 'سونہری مسجد' پہنچا۔ نادر شاہ غصے سے کانپ رہا تھا۔ وہ مسجد کی سیڑھیوں پر کھڑا ہوا اور اس نے اپنی مشہور زمانہ تلوار نیام سے نکال لی۔

نادر شاہ نے اپنی فوج کو ایک لرزہ خیز حکم دیا: **"جب تک میری یہ تلوار نیام میں واپس نہ جائے، دلی کے ہر انسان کو قتل کر دو! مجھے دلی کی سڑکوں پر خون کے سوا کچھ نظر نہیں آنا چاہیے!"**

یہ حکم ملتے ہی ایرانی فوج دلی کے شہریوں پر ٹوٹ پڑی۔ وہ ایک ہولناک قتلِ عام (Qatl-e-Aam) تھا۔ گھروں کو آگ لگا دی گئی، بچوں، بوڑھوں اور نوجوانوں کو بے دردی سے ذبح کیا جانے لگا۔ دلی کے بازار خون سے بھر گئے۔ صبح 9 بجے سے لے کر دوپہر 3 بجے تک دلی کٹتی رہی۔ ان چند گھنٹوں میں **30 ہزار** سے زائد بے گناہ انسان موت کے گھاٹ اتار دیے گئے۔

**خوف کا سناٹا اور مغل بادشاہ کی بے بسی:**
نادر شاہ مسجد کی سیڑھیوں پر خونخوار نظروں کے ساتھ ننگی تلوار لیے بیٹھا تھا۔ اس کی دہشت کا یہ عالم تھا کہ مغل بادشاہ 'محمد شاہ رنگیلا' اور اس کے بڑے بڑے جرنیل خوف کے مارے کانپ رہے تھے۔ کسی کی ہمت نہیں تھی کہ نادر شاہ کے سامنے جا کر اس قتلِ عام کو رکوانے کی التجا کرے۔ ہر شخص کو اپنی جان کی پڑی تھی۔

**ایک بزرگ وزیر کی جان لیوا جرأت (The Climax):**
جب شہر میں لاشوں کے ڈھیر لگ گئے، تو مغل دربار کا سب سے تجربہ کار، بزرگ اور نیک وزیر **نظام الملک (آصف جاہ اول)** جو اس وقت 68 سال کے تھے، اس ظلم کو مزید برداشت نہ کر سکے۔ وہ جانتے تھے کہ نادر شاہ کے سامنے جانے کا مطلب سیدھی موت ہے، لیکن انہوں نے ایک سچے مسلمان کی طرح اپنی جان کو لاکھوں انسانوں کی جانوں پر قربان کرنے کا فیصلہ کیا۔

نظام الملک نے اپنے سر سے عزت اور مرتبے کی پگڑی اتاری، اسے اپنے گلے میں ڈالا (جو کہ اس دور میں انتہائی عاجزی اور جان کی بھیک مانگنے کی علامت تھی) اور ننگے پاؤں چلتے ہوئے سیدھے سونہری مسجد پہنچ گئے۔
نادر شاہ کے خونخوار پہرے داروں نے انہیں روکا، لیکن نادر شاہ نے اشارہ کیا کہ انہیں آنے دو۔

نظام الملک نادر شاہ کے سامنے جا کر کھڑے ہو گئے۔ نادر شاہ نے غصے سے انہیں دیکھا۔ نظام الملک نے بغیر کسی خوف کے نادر شاہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں اور فارسی کا وہ تاریخی شعر پڑھا جس نے اس سفاک بادشاہ کے پتھر دل کو پگھلا دیا:

**"کسے نماند کہ دیگر بہ تیغِ ناز کشی...**
**مگر کہ زندہ کنی مردہ را و باز کشی!"**

*(اے بادشاہ! اب دلی میں تیری تلوار کا نشانہ بننے کے لیے کوئی انسان باقی نہیں بچا۔ تو نے سب کو مار دیا ہے۔ اب اگر تو مزید خون بہانا چاہتا ہے، تو تجھے ان مردوں کو دوبارہ زندہ کرنا پڑے گا تاکہ تو انہیں پھر سے قتل کر سکے۔)*

پھر نظام الملک نے روتے ہوئے کہا: *"اے بادشاہ! اگر تیرا غصہ ابھی بھی ٹھنڈا نہیں ہوا، تو سب سے پہلے میرے اس بوڑھے سر کو قلم کر دے، لیکن خدارا! ان غریب اور بے گناہ انسانوں کو بخش دے۔"*

**تلوار کا نیام میں جانا:**
نادر شاہ ایک ظالم حکمران ضرور تھا، لیکن وہ نظام الملک کی بہادری، ان کی بزرگی اور ان کے اس بے خوف انداز سے شدید متاثر ہوا۔ وہ جانتا تھا کہ اس وقت بادشاہ سمیت سب اپنی جانیں بچا کر چھپے بیٹھے ہیں، لیکن یہ بوڑھا شخص عوام کے لیے اپنی جان پیش کر رہا ہے۔

نادر شاہ خاموش رہا، اس نے ایک لمبی سانس لی، اور پھر اپنی خون آلود تلوار کو میان (Scabbard) میں ڈال لیا۔ اس نے حکم دیا:
**"اس بوڑھے اور بہادر شخص کی سفید داڑھی کی خاطر، میں دلی کے باقی لوگوں کو بخشتا ہوں۔ قتلِ عام فوراً روک دیا جائے!"**

اور یوں، ایک سچے لیڈر کی جرأت اور حکمت نے ہزاروں انسانوں کو مزید کٹنے سے بچا لیا۔

---

### اس واقعے سے ملنے والے اسباق:

* **حقیقی لیڈرشپ:** سچا لیڈر وہ نہیں جو تخت پر بیٹھ کر اپنی جان بچائے (جیسے مغل بادشاہ)، بلکہ وہ ہے جو مشکل وقت میں اپنی عوام کے لیے خود کو موت کے سامنے کھڑا کر دے۔
* **حکمت اور الفاظ کی طاقت:** نظام الملک نے غصے یا ہتھیار کے بجائے بہترین حکمت اور ایک پراثر شعر کا استعمال کیا، جس نے تلوار سے زیادہ گہرا وار کیا اور ظالم کو رکنے پر مجبور کر دیا۔
* **بہادری کا رعب:** ظالم انسان دراصل بزدل ہوتا ہے۔ جب کوئی شخص موت کے خوف سے آزاد ہو کر اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرتا ہے، تو ظالم کا غرور ٹوٹ جاتا ہے۔

---

### تاریخی حوالے (History & Sources):

یہ تقریباً 300 سال پرانا واقعہ ہندوستان کی تاریخ کے مستند ترین واقعات میں سے ایک ہے۔

**اسے سب سے پہلے کس نے اور کن کتابوں میں تحریر کیا؟**
اس واقعے کو اس دور کے عینی شاہدین (Eye-witnesses) اور برصغیر کے نامور مؤرخین نے ہو بہو تفصیلات اور اس فارسی شعر کے ساتھ نقل کیا ہے:

1. **سیر المتأخرین (Siyar-ul-Mutakhirin):** اٹھارویں صدی کے مشہور مؤرخ **سید غلام حسین طباطبائی** نے اپنی اس شاندار تاریخ کی کتاب میں نادر شاہ کے حملے، دلی کے قتلِ عام اور نظام الملک کی اس جرات مندانہ مداخلت کو تفصیل سے قلمبند کیا ہے۔
2. **بیانِ واقعہ (Bayan-i-Waqi):** نادر شاہ کے اپنے درباری مؤرخ اور سیکرٹری **عبدالکریم کشمیری** نے جو خود اس سفر میں نادر شاہ کے ساتھ تھے، اس خونریزی اور نظام الملک کے اس تاریخی مکالمے کو اپنی آنکھوں دیکھا حال کے طور پر تحریر کیا ہے۔
3. **تاریخِ ہندوستان:** جدید دور کے کئی مؤرخین اور تاریخ دان (جیسے ولیم ارون اور سر جادو ناتھ سرکار) نے بھی مغل تاریخ کے زوال کے باب میں اس واقعے کو دلی کے بچاؤ کی سب سے بڑی وجہ تسلیم کیا ہے۔

1 month ago | [YT] | 2

Momin Studios

یہ داستان جنگِ یرموک کے میدان میں، اسلام کے سب سے بڑے دشمن (ابو جہل) کے بیٹے، حضرت عکرمہ بن ابو جہل رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھ 400 مجاہدین کی "موت کی بیعت" کی ہے۔

حضرت عکرمہؓ اور جنگ یرموک: موت کی بیعت (The Pledge of Death)
پس منظر اور رومیوں کا ہولناک حملہ (15 ہجری / 636ء):
شام کے میدانِ یرموک میں مسلمانوں کا اب تک کا سب سے ہولناک معرکہ جاری تھا۔ ایک طرف رومی سلطنت (Byzantine Empire) کی 2 لاکھ 40 ہزار (240,000) پر مشتمل جدید ترین اور لوہے میں غرق فوج تھی، اور دوسری طرف صرف 40 ہزار مسلمان تھے۔

رومیوں نے ایک دن ایسا خوفناک اور فیصلہ کن حملہ کیا کہ مسلمانوں کی صفیں ٹوٹنے لگیں۔ رومی فوج ٹڈی دل کی طرح آگے بڑھ رہی تھی اور ان کے دباؤ کی وجہ سے کچھ مسلمان فوجی پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو گئے۔ میدانِ جنگ میں ایک افراتفری کا عالم تھا اور لگ رہا تھا کہ شاید آج رومی فتح یاب ہو جائیں گے۔

ایک بپھرے ہوئے شیر کی للکار:
اس نازک اور ہولناک ترین لمحے میں، جب بڑے بڑے بہادروں کے قدم اکھڑ رہے تھے، ایک شخص اپنے گھوڑے سے اترا۔ اس نے اپنی تلوار نکالی اور اپنی تلوار کی میان (Cover) کو اپنے گھٹنے پر رکھ کر دو ٹکڑے کر دیا (عربوں میں میان توڑنے کا مطلب یہ تھا کہ اب یہ تلوار واپس میان میں نہیں جائے گی، یا دشمن مرے گا یا میں مروں گا)۔

یہ شخص حضرت عکرمہ بن ابو جہل رضی اللہ عنہ تھے۔ وہ عکرمہ، جنہوں نے فتح مکہ سے پہلے 20 سال تک نبی کریم ﷺ اور اسلام کے خلاف جنگیں لڑی تھیں، لیکن جب اسلام لائے تو سچے دل سے لائے۔

حضرت عکرمہؓ نے پیچھے ہٹتے ہوئے مسلمانوں کو دیکھا اور گرجدار آواز میں ایک ایسی للکار لگائی جس نے میدانِ جنگ کا نقشہ بدل کر رکھ دیا:
"اے مسلمانو! میں نے رسول اللہ ﷺ کے خلاف ساری زندگی جنگیں لڑی ہیں اور میں ان کے سامنے سے کبھی نہیں بھاگا۔ تو کیا آج میں تم رومی کتوں کے سامنے سے بھاگ جاؤں گا؟ اللہ کی قسم ایسا کبھی نہیں ہوگا!"

موت کی بیعت (The Climax):
پھر حضرت عکرمہؓ نے میدان کے بیچوں بیچ کھڑے ہو کر بلند آواز میں پکارا:
"مَنْ يُبَايِعُ عَلَى الْمَوْتِ؟" (کون ہے جو آج میرے ہاتھ پر موت کی بیعت کرے گا؟)

یہ آواز سننی تھی کہ صحابہ کرام کے دلوں میں بجلی سی دوڑ گئی۔ سب سے پہلے ان کے چچا حضرت حارث بن ہشامؓ آگے بڑھے، پھر حضرت ضرار بن ازورؓ آئے، اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے 400 مجاہدین نے آگے بڑھ کر حضرت عکرمہؓ کے ہاتھ پر بیعت کر لی کہ "آج ہم مر جائیں گے لیکن ایک قدم پیچھے نہیں ہٹیں گے۔"

رومی فوج کے قلب میں خودکش حملہ:
ان 400 جانثاروں نے مل کر رومی فوج کے سب سے مضبوط حصے (ہرقل کے خاص دستے) پر ایسا لرزہ خیز اور دیوانہ وار حملہ کیا کہ رومیوں کی عقلیں دنگ رہ گئیں۔ یہ 400 مجاہدین لاکھوں کی فوج کے بیچ میں گھس گئے اور انہیں کاٹنا شروع کر دیا۔
اسلامی فوج کے سپہ سالار حضرت خالد بن ولیدؓ نے عکرمہؓ کو روکنا چاہا اور کہا: "عکرمہ ایسا نہ کرو، تمہاری شہادت مسلمانوں کے لیے بہت بھاری ہوگی!"
عکرمہؓ نے روتے ہوئے جواب دیا: "خالد، مجھے مت روکو! تمہارے اور تمہارے باپ کے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اچھے معاملات رہے ہیں، لیکن میں نے اور میرے باپ (ابوجہل) نے نبی کریم ﷺ کو بہت ستایا ہے۔ آج مجھے اپنے ان گناہوں کا کفارہ ادا کرنے دو!"

ان 400 بہادروں نے اس دن رومی فوج کے قدم اکھاڑ دیے، ان کی صفیں چیر کر رکھ دیں اور مسلمانوں کی یقینی شکست کو ایک عظیم الشان فتح میں بدل دیا۔

پانی کا پیالہ اور تاریخ کا سب سے رلا دینے والا منظر:
جنگ ختم ہونے کے بعد، حضرت خالد بن ولیدؓ ان 400 مجاہدین کو تلاش کرنے نکلے۔ میدانِ جنگ میں رومیوں کی لاشوں کے ڈھیر لگے تھے اور انہی کے درمیان یہ 400 مجاہدین بھی خون میں لت پت پڑے تھے۔

انہی میں تین انتہائی زخمی صحابہ زمین پر گرے آخری سانسیں لے رہے تھے: حضرت عکرمہؓ، حضرت حارث بن ہشامؓ، اور حضرت عیاش بن ابی ربیعہؓ۔
ان تینوں کو شدید پیاس لگی تھی۔ حضرت حارثؓ نے پانی مانگا۔ ایک شخص پانی کا پیالہ لے کر ان کے پاس پہنچا۔ حارثؓ پانی پینے ہی لگے تھے کہ انہوں نے پاس پڑے ہوئے حضرت عکرمہؓ کے کراہنے کی آواز سنی۔ حارثؓ نے پیالہ منہ سے ہٹایا اور کہا: "یہ پانی میرے بھائی عکرمہ کو دے دو، وہ مجھ سے زیادہ پیاسا ہے۔"

پانی پلانے والا حضرت عکرمہؓ کے پاس پہنچا۔ وہ پانی پینے ہی لگے تھے کہ انہوں نے تیسرے زخمی حضرت عیاشؓ کے کراہنے کی آواز سنی۔ عکرمہؓ نے فرمایا: "یہ پانی عیاش کو دے دو، اس کی پیاس مجھ سے زیادہ ہے۔"

جب پانی پلانے والا بھاگ کر حضرت عیاشؓ کے پاس پہنچا، تو ان کی روح پرواز کر چکی تھی۔ وہ پانی لے کر واپس حضرت عکرمہؓ کے پاس آیا، تو وہ بھی شہید ہو چکے تھے۔ پھر وہ دوڑ کر حضرت حارثؓ کے پاس آیا تو دیکھا کہ وہ بھی اپنے رب کے حضور پہنچ چکے تھے۔

تینوں نے اپنی جان دے دی، لیکن اپنے بھائی کی پیاس پر اپنی پیاس کو ترجیح نہیں دی۔

اس واقعے سے ملنے والے اسباق:
سچی توبہ اور کفارہ: انسان کا ماضی کتنا ہی تاریک کیوں نہ ہو (جیسے عکرمہ کا ماضی)، اگر وہ سچے دل سے اللہ کی طرف پلٹ آئے تو اللہ اسے تاریخ کا ایسا ہیرو بنا دیتا ہے جس پر فرشتے بھی رشک کرتے ہیں۔

ایثار اور بھائی چارہ: موت کے منہ میں، جب انسان کو صرف اپنی جان کی فکر ہوتی ہے، اس وقت بھی اپنے بھائی کی پیاس کو اپنی جان پر ترجیح دینا، یہ وہ اخلاق ہے جو صرف محمد ﷺ کے سچے غلاموں میں ملتا ہے۔

لیڈرشپ کی طاقت: ایک شخص کے کھڑے ہونے اور سچا عزم کرنے سے پوری ہارتی ہوئی فوج کا نقشہ بدل سکتا ہے۔

تاریخی حوالے (History & Sources):
یہ واقعہ اسلامی تاریخ، ایثار اور شجاعت کا وہ سنہرا باب ہے جسے تاریخ کے ہر بڑے مؤرخ نے روتے ہوئے قلمبند کیا ہے۔

اسے سب سے پہلے کس نے اور کن کتابوں میں تحریر کیا؟
اس واقعے کو جنگِ یرموک میں شریک صحابہ کرامؓ اور بعد کے تابعین نے پوری سند کے ساتھ بیان کیا ہے۔ آج یہ مستند ترین کتب میں موجود ہے:

الکامل فی التاریخ: عظیم مؤرخ علامہ ابن الاثیرؒ نے سال 15 ہجری کے واقعات میں جنگِ یرموک کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے عکرمہؓ کی موت کی بیعت (مَنْ يُبَايِعُ عَلَى الْمَوْتِ) اور پانی والے واقعے کو مکمل تفصیل اور صحابہ کے مکالموں کے ساتھ نقل کیا ہے۔

البدایہ والنہایہ (Al-Bidayah wa al-Nihayah): مشہور مؤرخ اور مفسرِ قرآن حافظ ابن کثیرؒ نے اپنی تاریخ کی کتاب کی جلد نمبر 7 میں جنگِ یرموک کے باب میں اس واقعے کو صحابہ کی عظمت کی سب سے بڑی دلیل کے طور پر تحریر کیا ہے۔

سیر اعلام النبلاء (Siyar A'lam al-Nubala): امام شمس الدین الذہبیؒ نے حضرت عکرمہ بن ابو جہلؓ کی سوانح حیات کے تحت ان کے اس تاریخی حملے، خالد بن ولیدؓ کے ساتھ ان کے مکالمے اور پھر جامِ شہادت نوش کرنے کے واقعے کو انتہائی دردناک انداز میں قلمبند کیا ہے۔

2 months ago | [YT] | 3

Momin Studios

یہ داستان جنگِ قادسیہ کے دوران، مسلمانوں کے ایک عام اور غریب صحابی حضرت ربعی بن عامر رضی اللہ عنہ اور فارس (ایران) کے سب سے بڑے سپہ سالار 'رستم' کے درمیان ہونے والے ایک تاریخی اور ہولناک ٹکراؤ کی ہے۔

ربعی بن عامرؓ اور رستم کا دربار: ایک پھٹے پرانے لباس والے کی دہشت
پس منظر اور رستم کی نفسیاتی چال (15 ہجری / 636ء):
جنگِ قادسیہ شروع ہونے سے پہلے، ایران کی ایک لاکھ بیس ہزار (120,000) کی جدید ترین اور لوہے میں غرق فوج مسلمانوں کے سامنے کھڑی تھی۔ ان کا کمانڈر انچیف 'رستم' تھا۔ رستم نے اسلامی فوج کے سپہ سالار حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کو پیغام بھیجا کہ "اپنے کسی نمائندے کو ہم سے بات چیت کے لیے بھیجیں۔"

رستم کا اصل مقصد بات چیت نہیں، بلکہ مسلمانوں کے سفیر پر اپنی دولت، طاقت اور شان و شوکت کی ایسی دہشت بٹھانا تھا کہ وہ جنگ سے پہلے ہی ڈر کر بھاگ جائیں۔
رستم نے اپنا دربار سجایا۔ میلوں تک ریشم، سونے اور چاندی کے قالین بچھائے گئے۔ دربار کے چاروں طرف ہاتھی اور پہرے دار کھڑے کیے گئے۔ اور خود رستم سونے کے ایک عظیم الشان تخت پر بیٹھا جس پر ہیرے جواہرات جڑے تھے۔

ایک غیر متوقع سفیر کی انٹری:
حضرت سعد بن ابی وقاصؓ نے اس مشن کے لیے کسی بڑے جرنیل یا خوبصورت لباس والے شخص کو نہیں چنا، بلکہ ایک انتہائی عام، دبلے پتلے اور بظاہر خستہ حال صحابی حضرت ربعی بن عامر رضی اللہ عنہ کو بھیجا۔

جب ربعی بن عامرؓ رستم کے کیمپ کے قریب پہنچے تو ان کا حلیہ دیکھ کر ایرانی دنگ رہ گئے۔ انہوں نے ایک انتہائی سستا اور کھردرا لباس پہنا ہوا تھا، ان کی تلوار کی میان (Cover) پھٹی ہوئی تھی جسے انہوں نے کپڑے کے چیتھڑوں سے باندھا ہوا تھا، اور وہ ایک انتہائی چھوٹے اور کمزور سے بالوں والے گھوڑے پر سوار تھے۔

دربار میں داخلہ اور غرور کو روندنا (The Climax):
ایرانی پہرے داروں نے انہیں روکا اور کہا کہ "اپنے گھوڑے سے اترو اور اپنے ہتھیار یہیں رکھ کر رستم کے پاس جاؤ۔"
حضرت ربعیؓ نے کڑک دار آواز میں کہا: "میں خود تمہارے پاس نہیں آیا، تم نے مجھے بلایا ہے۔ اگر مجھے میرے ہتھیاروں سمیت اندر نہیں جانے دو گے تو میں یہیں سے واپس چلا جاؤں گا۔"

رستم نے اندر سے یہ سنا تو کہا کہ اسے آنے دو، یہ ایک اکیلا ہمارا کیا بگاڑ لے گا۔
اس کے بعد حضرت ربعی بن عامرؓ نے وہ کیا جس نے رستم کے پورے دربار پر سکتہ طاری کر دیا۔ وہ اپنے گھوڑے سے نیچے نہیں اترے، بلکہ اپنے گھوڑے کو سیدھا ان قیمتی سونے اور ریشم کے قالینوں پر چڑھا دیا۔ گھوڑے کے کھروں (Hooves) سے وہ کروڑوں کے قالین پھٹنے لگے۔

جب وہ رستم کے تخت کے بالکل قریب پہنچے، تو انہوں نے گھوڑے سے اتر کر، اپنے گھوڑے کی لگام رستم کے تخت کے پاس رکھے ہوئے ایک انتہائی قیمتی ریشمی تکیے کو پھاڑ کر اس کے ساتھ باندھ دی!

نیزے کی نوک اور ایک لرزہ خیز مکالمہ:
ایرانی کمانڈر غصے سے پاگل ہو رہے تھے لیکن رستم نے انہیں روکا۔ رستم نے سوچا کہ اسے زمین پر بیٹھنے کو کہوں گا تو یہ مرعوب ہو گا۔
لیکن حضرت ربعیؓ نے اپنی چھوٹی سی ڈھال زمین پر رکھی اور اس پر بیٹھ گئے۔ پھر انہوں نے اپنے نیزے کو اس قیمتی قالین میں گاڑ کر اس کے سہارے ٹیک لگا لی۔

رستم نے پوچھا: "تم لوگ اپنے صحراؤں سے نکل کر یہاں کیوں آئے ہو؟ تمہارا مقصد کیا ہے؟"
حضرت ربعی بن عامرؓ نے تاریخ کا وہ سنہرا اور لرزہ خیز جملہ کہا جو آج بھی اسلام کے بنیادی مقصد کی سب سے بہترین تشریح مانا جاتا ہے۔ آپؓ نے فرمایا:

"إِنَّ اللَّهَ ابْتَعَثَنَا لِنُخْرِجَ مَنْ شَاءَ مِنْ عِبَادَةِ الْعِبَادِ إِلَى عِبَادَةِ اللَّهِ..."
"ہم خود نہیں آئے، اللہ نے ہمیں بھیجا ہے۔ تاکہ ہم اللہ کے بندوں کو، بندوں کی غلامی سے نکال کر، ایک اللہ کی غلامی میں لے آئیں۔ دنیا کی تنگی سے نکال کر، دنیا اور آخرت کی وسعتوں میں لے آئیں۔ اور دوسرے مذاہب کے ظلم و جبر سے نکال کر، اسلام کے عدل و انصاف کے سائے میں لے آئیں۔"

رستم ان کی آنکھوں میں موجود بلا کا اعتماد دیکھ کر اندر تک ہل گیا۔ اس نے گھبرا کر پوچھا: "کیا تم مسلمانوں کے سردار ہو؟"
حضرت ربعیؓ نے مسکرا کر جواب دیا: "نہیں، میں تو مسلمانوں کا ایک عام سا سپاہی ہوں۔ لیکن ہمارے ہاں سب سے ادنیٰ مسلمان کا وعدہ بھی سب سے بڑے سردار پر لاگو ہوتا ہے۔ ہم ایک جسم کی طرح ہیں۔"

یہ سفارت کوئی عام سفارت نہیں تھی۔ حضرت ربعی بن عامرؓ نے اپنے عمل، لباس اور بے خوفی سے رستم کے دل میں یہ بات بٹھا دی کہ جن لوگوں کو سونا، چاندی، موت یا بادشاہ مرعوب نہ کر سکیں، انہیں جنگ کے میدان میں ہرانا ناممکن ہے۔ اور پھر کچھ ہی دنوں بعد قادسیہ کے میدان میں مسلمانوں نے اس عظیم الشان ایرانی سلطنت کو ہمیشہ کے لیے خاک میں ملا دیا۔

اس واقعے سے ملنے والے اسباق:
احساسِ کمتری کا خاتمہ (No Inferiority Complex): مسلمان کی عزت اس کے لباس، برانڈز، یا دنیاوی شان و شوکت میں نہیں، بلکہ اس کے عقیدے اور ایمان میں ہے۔ ایک سچا مسلمان کسی بادشاہ کے محلات دیکھ کر کبھی مرعوب نہیں ہوتا۔

نفسیاتی غلبہ: دشمن کو ہتھیاروں سے پہلے نفسیاتی طور پر شکست دی جاتی ہے۔ ربعی بن عامرؓ نے ان کے قالینوں کو روند کر دراصل ان کے خدا بننے کے غرور کو روندا تھا۔

اسلام کا اصل مقصد: اسلام زمینوں پر قبضہ کرنے نہیں آیا، بلکہ انسانوں کو انسانوں کی ذہنی اور جسمانی غلامی سے آزاد کروا کر صرف ایک اللہ کے سامنے جھکانے آیا ہے۔

تاریخی حوالے (History & Sources):
یہ واقعہ کوئی افسانہ نہیں بلکہ اسلامی تاریخ کی عظیم الشان سفارت کاری (Diplomacy) کا سب سے مستند اور مشہور باب ہے۔

اسے سب سے پہلے کس نے اور کن کتابوں میں تحریر کیا؟
اس واقعے کو جنگِ قادسیہ کے عینی شاہدین (Eye-witnesses) اور جلیل القدر مؤرخین نے اپنی تاریخ کی سب سے معتبر کتابوں میں ہو بہو نقل کیا ہے:

تاریخ الطبری (Tarikh al-Tabari): امام محمد بن جریر الطبریؒ نے اپنی اس شہرہ آفاق کتاب کی جلد نمبر 3 (جنگِ قادسیہ کے واقعات) میں حضرت ربعی بن عامرؓ کی اس انٹری، ان کے لباس کی تفصیل اور رستم کے ساتھ ان کے مکالمے کو عربی متن کے ساتھ مکمل تفصیل سے درج کیا ہے۔

البدایہ والنہایہ (Al-Bidayah wa al-Nihayah): مشہور مؤرخ اور مفسرِ قرآن حافظ ابن کثیرؒ نے بھی اپنی اس ضخیم تاریخ کی کتاب میں اس واقعے کو صحابہ کرام کی بہادری اور عزتِ نفس کی سب سے بڑی مثال کے طور پر تحریر کیا ہے۔

الکامل فی التاریخ: عظیم مؤرخ علامہ ابن الاثیرؒ نے اپنی تاریخ میں رستم کے دربار کے اس خوف اور ربعی بن عامرؓ کے اس مشہور مقولے ("ہم بندوں کو بندوں کی غلامی سے نکالنے آئے ہیں") کو تفصیل سے نقل کیا ہے۔

2 months ago | [YT] | 3

Momin Studios

یہ تاریخِ اسلام کا ایک ایسا ناقابلِ یقین، رونگٹے کھڑے کر دینے والا اور سچا جنگی واقعہ ہے جس نے طبیعیات (Physics) اور سائنس کے تمام اصولوں کو توڑ کر رکھ دیا۔ یہ ایک ایسی داستان ہے جس میں مسلمانوں نے سمندر یا دریا کو کشتیوں سے نہیں، بلکہ گھوڑوں کی ٹاپوں سے روندا اور دشمن کو یہ ماننے پر مجبور کر دیا کہ ان کا مقابلہ انسانوں سے نہیں ہے۔

یہ واقعہ فاتحِ ایران، عظیم صحابی اور خلیفہِ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے سپہ سالار، حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی قیادت میں لڑی جانے والی جنگِ مدائن کا ہے۔

دریائے دجلہ کا بپھرا ہوا سیلاب اور پانیوں پر دوڑتے گھوڑے
پس منظر اور ایک ناممکن رکاوٹ (16 ہجری / 637ء):
مسلمانوں نے جنگِ قادسیہ میں فارس (ایران) کی عظیم الشان سلطنت کی کمر توڑ دی تھی۔ ایران کا بادشاہ 'یزدگرد' اپنی جان بچا کر دارالحکومت 'مدائن' بھاگ گیا۔ یہ شہر اس وقت دنیا کے ترقی یافتہ اور محفوظ ترین شہروں میں شمار ہوتا تھا، اور اس کے دفاع کے لیے اس کے بالکل سامنے 'دریائے دجلہ' (Tigris River) بہتا تھا۔

حضرت سعد بن ابی وقاصؓ 60 ہزار مجاہدین کے ساتھ بادشاہ کا پیچھا کرتے ہوئے مدائن کے قریب پہنچے۔ لیکن جب مسلم فوج دریا کے کنارے پہنچی تو ایک ہولناک منظر ان کا منتظر تھا۔
یہ موسمِ بہار تھا اور دریائے دجلہ میں شدید طغیانی (سیلاب) آیا ہوا تھا۔ پانی کالا ہو چکا تھا اور اس کی لہریں خوفناک شور مچا رہی تھیں۔ ایرانیوں نے دریا پر بنے ہوئے تمام پل توڑ دیے تھے اور ساری کشتیاں اپنے ساتھ دریا کے اس پار لے گئے تھے۔

مسلمانوں کے پاس نہ کوئی کشتی تھی، نہ پل بنانے کا سامان، اور دریا اس قدر بپھرا ہوا تھا کہ اس میں تیر کر جانا یقینی موت تھی۔ مسلم فوج دریا کے اس پار کھڑی تھی اور ایرانی اس پار شہر کی فصیلوں سے ان کا مذاق اڑا رہے تھے۔

رات کا خواب اور ایک لرزہ خیز فیصلہ:
کئی دن گزر گئے۔ حضرت سعد بن ابی وقاصؓ بے چین تھے۔ ایک رات انہوں نے خواب دیکھا کہ مسلم فوج کے گھوڑے اسی بپھرے ہوئے دریا کے پانیوں پر دوڑ رہے ہیں اور دریا انہیں راستہ دے رہا ہے۔ بیدار ہوتے ہی ان کے دل میں اللہ نے ایک عجیب سا یقین اور سکون ڈال دیا۔

صبح ہوئی تو حضرت سعدؓ نے پوری 60 ہزار کی فوج کو دریا کے کنارے جمع کیا اور ایک ایسا اعلان کیا جسے سن کر عقل دنگ رہ جائے۔ آپؓ نے فرمایا:
"اے مجاہدو! ہمارا دشمن دریا کے اس پار اپنے محلات میں محفوظ بیٹھا ہے۔ اگر ہم یہاں رکے رہے تو ہمارا راشن ختم ہو جائے گا۔ میں نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم اسی دریا کے اوپر سے گزر کر جائیں گے۔"

فوج حیران رہ گئی کہ بغیر کشتیوں کے اس خوفناک سیلاب میں کیسے جایا جا سکتا ہے؟ لیکن صحابہ کا ایمان لوہے سے زیادہ مضبوط تھا۔ سب نے ایک آواز ہو کر کہا: "اے اللہ کے رسول ﷺ کے صحابی! جو آپ کا فیصلہ ہے، وہی ہمارا فیصلہ ہے۔"

بسم اللہ کا ورد اور پانی پر پہلا قدم (The Climax):
حضرت سعد بن ابی وقاصؓ نے اپنے گھوڑے کی لگام کھینچی، دریا کے بالکل کنارے کھڑے ہوئے، اور بلند آواز میں فرمایا:
"حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ (ہمیں اللہ کافی ہے اور وہی بہترین کارساز ہے)۔"

پھر انہوں نے اپنے گھوڑے کو ایڑ لگائی اور اسے سیدھا دریائے دجلہ کے خوفناک پانیوں میں اتار دیا۔ ان کے بالکل ساتھ مشہور صحابی حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ (جو ایران ہی کے رہنے والے تھے) اپنا گھوڑا لے کر اترے۔
انہیں دیکھ کر فوج کے ایک خصوصی دستے (جسے 'کتیبۃ الاہوال' یعنی موت سے نہ ڈرنے والوں کا دستہ کہا جاتا تھا) کے 600 مجاہدین نے اپنے گھوڑے دریا میں ڈال دیے۔ اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے پوری 60 ہزار کی فوج نے اپنے گھوڑے پانی میں اتار دیے۔

ایک تاریخی اور ناقابلِ یقین معجزہ:
تاریخ گواہ ہے کہ جب وہ گھوڑے دریا میں اترے تو پانی ان کے پیروں کے نیچے ایسے ہو گیا جیسے کوئی پختہ سڑک یا ریت کا میدان ہو۔ صحابہ کرام اپنے گھوڑوں پر دریا کی لہروں کے اوپر یوں سواری کر رہے تھے جیسے وہ زمین پر چل رہے ہوں۔
حضرت سلمان فارسیؓ نے حضرت سعدؓ کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا اور وہ دریا کے عین وسط میں گھوڑوں پر بیٹھے ایک دوسرے سے یوں بات چیت کر رہے تھے جیسے زمین پر چلتے ہوئے دوست باتیں کرتے ہیں۔ گھوڑے پانی پر چل رہے تھے اور پانی صرف گھوڑوں کے سینے یا پیٹ کو چھو رہا تھا!

60 ہزار کی فوج میں سے ایک بھی شخص، ایک بھی گھوڑا نہیں ڈوبا۔ یہاں تک کہ تاریخ میں لکھا ہے کہ ایک مجاہد کا لکڑی کا پیالہ (کپ) پانی میں گر گیا۔ اس نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ میرا پیالہ گر گیا ہے۔ ایک لہر آئی اور اس نے وہ پیالہ اچھال کر اس مجاہد کے ہاتھ میں واپس دے دیا۔

ایرانیوں کا خوف اور شکست:
دریا کے دوسری طرف ایرانی فوجی اپنی فصیلوں پر کھڑے یہ سب دیکھ رہے تھے۔ جب انہوں نے دیکھا کہ ایک پوری فوج، ان کے گھوڑے، اور نیزے دریا کے پانیوں پر چلتے ہوئے آ رہے ہیں اور پانی ان کا راستہ نہیں روک رہا، تو ان کی عقلیں ماؤف ہو گئیں۔ ان کے دلوں میں ایسی دہشت بیٹھی کہ وہ چیخنے لگے:

"دیوان آمدند! دیوان آمدند!" (جن آ گئے ہیں! جن آ گئے ہیں! یہ انسان نہیں ہیں!)

ایرانی فوج کے کمانڈروں نے ہتھیار پھینک دیے اور کہا: "ہم انسانوں سے لڑ سکتے ہیں، جنوں اور فرشتوں سے نہیں۔" ایرانی بادشاہ یزدگرد اپنا سارا خزانہ اور محلات چھوڑ کر مدائن سے بھاگ کھڑا ہوا، اور مسلمانوں نے بغیر کسی بڑی جنگ کے، محض اپنے ایمانی معجزے کے زور پر ایران کا دارالحکومت فتح کر لیا۔ جب حضرت سعد بن ابی وقاصؓ مدائن کے عظیم الشان محل (ایوانِ کسریٰ) میں داخل ہوئے تو ان کی زبان پر سورہ الدخان کی یہ آیات تھیں:
"وہ کتنے ہی باغات، چشمے، کھیتیاں اور شاندار محلات چھوڑ گئے... اور ہم نے ان کا وارث دوسری قوم کو بنا دیا۔"

اس واقعے سے ملنے والے اسباق:
توکل اور اللہ پر یقین: جب انسان اللہ کے راستے میں نکلتا ہے اور اس پر سچا بھروسہ (توکل) کرتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے پانی کی لہروں کو بھی لوہے کی سڑک بنا دیتا ہے۔

لیڈر کا کردار: ایک سچا لیڈر پیچھے کھڑا ہو کر حکم نہیں دیتا۔ حضرت سعدؓ نے سب سے پہلے اپنا گھوڑا دریا میں ڈالا، جس نے پوری فوج کے حوصلے کو آسمان پر پہنچا دیا۔

طبیعی اسباب سب کچھ نہیں: سائنس اور اسباب اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن اللہ کی قدرت ہر اصول اور ہر رکاوٹ سے بالاتر ہے۔ جس قوم کا تعلق اللہ سے مضبوط ہو، کائنات کی چیزیں ان کے لیے مسخر کر دی جاتی ہیں۔

تاریخی حوالے (History & Sources):
یہ واقعہ کوئی قصہ یا کہانی نہیں، بلکہ اسلامی فتوحات کا ایک ایسا مستند اور مسلّمہ باب ہے جسے دنیا بھر کے مؤرخین نے تسلیم کیا ہے۔

اسے سب سے پہلے کس نے اور کن کتابوں میں تحریر کیا؟
اس واقعے کو ان تمام تابعین اور راویوں نے پوری سند کے ساتھ بیان کیا جو اس جنگ میں شریک تھے۔ آج یہ عظیم الشان واقعہ تاریخِ اسلام کی سب سے بڑی اور مستند کتب میں پوری شان و شوکت کے ساتھ موجود ہے:

تاریخ الطبری (Tarikh al-Tabari): امام محمد بن جریر الطبریؒ (وفات 310 ہجری) نے اپنی اس شہرہ آفاق کتاب کی جلد نمبر 4 (جنگِ مدائن کے باب) میں اس واقعے کو انتہائی باریک تفصیلات، راویوں کی گواہی اور حضرت سعدؓ کے مکالموں کے ساتھ نقل کیا ہے۔

البدایہ والنہایہ (Al-Bidayah wa al-Nihayah): عظیم مؤرخ اور مفسرِ قرآن حافظ ابن کثیرؒ نے سال 16 ہجری کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے اس واقعے کو ایک عظیم الشان کرامت قرار دیا ہے اور پیالے کے گرنے اور لہر کے واپس لانے کا ذکر بھی اسی کتاب میں موجود ہے۔

الکامل فی التاریخ: علامہ ابن الاثیرؒ نے بھی اپنی مشہورِ زمانہ تاریخ کی کتاب میں دریا عبور کرنے کے اس واقعے کو ایران کی فتح کا سب سے بڑا ٹرننگ پوائنٹ (Turning Point) قرار دیا ہے۔

2 months ago | [YT] | 2

Momin Studios

یہ داستان عباسی خلیفہ المعتصم باللہؒ (جو مشہور خلیفہ ہارون الرشید کے بیٹے تھے) اور روم کے ناقابلِ تسخیر شہر 'عموریہ' (Amorium) کی تباہی کی ہے۔

ایک عورت کی پکار اور ایک سلطنت کی یلغار (وامعتصماہ!)
پس منظر اور رومیوں کا ظلم (837ء):
عباسی خلافت کے دور میں بازنطینی (رومی) سلطنت کے بادشاہ 'تھیوفیلس' (Theophilos) نے ایک بہت بڑی فوج لے کر مسلمانوں کے سرحدی شہر 'زبطرہ' (Zibatra) پر اچانک حملہ کر دیا۔ یہ شہر خلیفہ المعتصم کا آبائی شہر تھا۔ رومیوں نے وہاں ظلم کی انتہا کر دی، بے گناہ شہریوں کا خون بہایا، بچوں کو قتل کیا اور ہزاروں مسلمان عورتوں کو قیدی بنا کر اپنے مضبوط ترین شہر 'عموریہ' کی طرف لے گئے۔

بازار کا واقعہ اور ایک دردناک چیخ:
انہی قیدیوں میں ہاشمی خاندان کی ایک معزز مسلمان عورت بھی تھی۔ جب ان قیدیوں کو رومی بازار سے گزارا جا رہا تھا، تو ایک مغرور رومی فوجی نے اس مسلمان عورت کے چہرے پر زور دار تھپڑ مارا اور اس کا مذاق اڑایا۔
عورت بے بس تھی۔ اس کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے۔ اس نے خون کے آنسوؤں کے ساتھ آسمان کی طرف دیکھا اور انتہائی درد بھرے کلمات میں اپنے خلیفہ کو پکارا:
"وا معتصماہ!" (اے معتصم! تو کہاں ہے، میری مدد کو پہنچ!)

وہ رومی فوجی اس کی اس فریاد پر زور سے ہنسا اور طنز کرتے ہوئے بولا:
"ہاں ہاں! پکار اپنے خلیفہ کو... کیا وہ تجھے بچانے کے لیے کسی چتکبرے (سفید اور سیاہ رنگت والے) گھوڑے پر بیٹھ کر آئے گا؟"

دربارِ بغداد میں سناٹا:
ایک مسلمان تاجر جو بھیس بدل کر وہاں موجود تھا، اس نے یہ منظر دیکھا۔ وہ وہاں سے دیوانہ وار نکلا اور دن رات کا سفر طے کر کے سیدھا بغداد پہنچا۔ جب وہ خلیفہ المعتصم باللہ کے دربار میں داخل ہوا، تو خلیفہ کے ہاتھ میں پانی کا پیالہ تھا اور وہ پانی پینے لگے تھے۔
اس شخص نے روتے ہوئے چیخ کر کہا: "اے امیر المومنین! آپ یہاں ٹھنڈا پانی پی رہے ہیں اور وہاں رومی کفار مسلمان بیٹیوں کے چہروں پر تھپڑ مار رہے ہیں! میں نے اپنے کانوں سے ایک بہن کو 'وا معتصماہ' پکارتے سنا ہے اور رومی فوجی نے طنز کیا ہے کہ کیا تمہارا خلیفہ چتکبرے گھوڑے پر آئے گا؟"

خلیفہ کا لرزہ خیز ردعمل:
یہ سننا تھا کہ خلیفہ المعتصم کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا۔ ان کے ہاتھ کانپنے لگے۔ انہوں نے پانی کا پیالہ وہیں رکھ دیا اور اپنی جگہ سے کھڑے ہو کر باآوازِ بلند جواب دیا:
"لَبَّيْكِ يَا أُخْتَاهُ! لَبَّيْكِ يَا أُخْتَاهُ!" (میری بہن میں حاضر ہوں! میری بہن میں آ گیا!)

پھر خلیفہ نے قاضی کو بلایا اور فرمایا: "یہ پانی مجھ پر اس وقت تک حرام ہے جب تک میں اس رومی سے اپنی بہن کے تھپڑ کا بدلہ نہ لے لوں۔"

تاریخ کی انوکھی ترین جنگی تیاری (The Mobilization):
خلیفہ نے پوچھا کہ رومیوں کا سب سے مضبوط اور ناقابلِ تسخیر شہر کون سا ہے؟ جرنیلوں نے بتایا کہ "عموریہ" (Amorium)، جس کی دیواریں اتنی چوڑی ہیں کہ ان پر دو گاڑیاں ایک ساتھ چل سکتی ہیں۔
المعتصم نے بغداد میں عام اعلانِ جنگ کر دیا۔ تاریخ گواہ ہے کہ ایک اکیلی عورت کی پکار پر خلیفہ نے اتنی بڑی فوج تیار کی کہ جب فوج کا اگلا حصہ بغداد سے نکل رہا تھا، تو پچھلا حصہ ابھی شہر کے اندر ہی تھا۔

لیکن سب سے حیران کن بات یہ تھی کہ خلیفہ المعتصم نے پورے عرب سے ہزاروں چتکبرے (Piebald) گھوڑے منگوائے۔ انہوں نے حکم دیا کہ فوج کے ہراول دستے (Frontline) میں صرف وہ فوجی ہوں گے جو چتکبرے گھوڑوں پر سوار ہوں گے، تاکہ اس رومی فوجی کے طنز کا ایسا جواب دیا جائے جو رہتی دنیا تک تاریخ کا حصہ بن جائے۔

عموریہ کا محاصرہ اور کلائمیکس (838ء):
المعتصم کی فوج نے عموریہ کا محاصرہ کر لیا۔ یہ محاصرہ 55 دن تک جاری رہا۔ رومیوں کو یقین تھا کہ ان کی دیواریں کوئی نہیں توڑ سکتا۔ خلیفہ خود اپنی تلوار لے کر میدان میں موجود تھے اور منجنیقوں سے شہر پر پتھروں کی بارش کر دی گئی۔ بالآخر، شہر کی ایک کمزور فصیل ٹوٹ گئی اور مسلمان فوج اللہ اکبر کے نعروں کے ساتھ شہر میں داخل ہو گئی۔
دنیا کا مضبوط ترین شہر عموریہ فتح ہو گیا، رومی بادشاہ فرار ہو گیا اور عموریہ کی گلیاں رومیوں کے غرور کی طرح مٹی میں مل گئیں۔

ایک وعدے کی تکمیل:
شہر فتح ہونے کے بعد، خلیفہ المعتصم باللہ نے سب سے پہلے اس مسلمان قیدی عورت کو تلاش کروایا۔ جب وہ عورت خلیفہ کے سامنے لائی گئی، تو خلیفہ چتکبرے گھوڑے پر سوار تھے۔ انہوں نے اس عورت کے ہاتھ اپنے خنجر سے کھولے اور پوچھا:
"اے میری بہن! گواہی دے، کیا تیرے خلیفہ نے تیری پکار سن کر چتکبرے گھوڑوں پر آ کر تجھے آزاد کروا لیا ہے؟"
عورت نے روتے ہوئے سجدہ شکر ادا کیا اور خلیفہ کو دعائیں دیں۔

پھر خلیفہ نے اس رومی فوجی کو بیڑیوں میں جکڑ کر سامنے پیش کرنے کا حکم دیا جس نے اس عورت کو تھپڑ مارا تھا۔ خلیفہ نے اسے اس عورت کے قدموں میں ڈلوایا اور فرمایا: "اس کی غلامی کر، کیونکہ جس عورت کے پیچھے المعتصم کھڑا ہو، اس کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے والے کا یہی انجام ہوتا ہے۔"
اس کے بعد المعتصم نے پانی کا وہ پیالہ منگوا کر پیا جسے انہوں نے بغداد میں چھوڑا تھا۔

اس واقعے سے ملنے والے اسباق:
غیرتِ ایمانی: اسلام میں ایک اکیلی عورت کی عزت بچانے کے لیے پوری ریاست کو داؤ پر لگانا بھی گھاٹے کا سودا نہیں ہے۔ حقیقی حکمران اپنی عوام کی تکلیف کو اپنے جسم کی تکلیف سمجھتے ہیں۔

عزم کی پختگی: جب انسان کسی مقصد کو اپنی عزت اور ایمان کا مسئلہ بنا لے (جیسے المعتصم کا پانی چھوڑ دینا)، تو بڑی سے بڑی دیوار بھی اس کا راستہ نہیں روک سکتی۔

قول کا پاس: دشمن کے طنز کو بے بسی سے سننے کے بجائے، اس کا اسی انداز میں (چتکبرے گھوڑوں کے ساتھ) عملی اور منہ توڑ جواب دینا سچے لیڈروں کا شیوہ ہے۔

تاریخی حوالے (History & Sources):
یہ تاریخِ اسلام کا انتہائی مستند اور مشہور ترین جنگی واقعہ ہے، جسے عربی ادب اور تاریخ کی تمام کلاسیکی کتابوں میں بڑے فخر کے ساتھ درج کیا گیا ہے:

الکامل فی التاریخ: عظیم مؤرخ علامہ ابن الاثیرؒ نے سال 223 ہجری کے واقعات میں اس جنگ کی مکمل تفصیل، عورت کی پکار اور چتکبرے گھوڑوں کے واقعے کو تفصیل سے نقل کیا ہے۔

تاریخ الطبری (Tarikh al-Tabari): امام محمد بن جریر الطبریؒ نے اپنی اس شہرہ آفاق کتاب کی جلد نمبر 9 میں خلیفہ المعتصم کی اس شاندار فوجی مہم اور عموریہ کے محاصرے کا ایک ایک پہلو قلمبند کیا ہے۔

البدایہ والنہایہ (Al-Bidayah wa al-Nihayah): مشہور مفسرِ قرآن اور مؤرخ علامہ ابن کثیرؒ نے بھی اپنی اس کلاسک تاریخی کتاب میں 'وا معتصماہ' کی اس دردناک پکار اور اس کے بعد ہونے والی فتح کو تاریخ کے عظیم ترین انتقام کے طور پر لکھا ہے۔

2 months ago | [YT] | 2

Momin Studios

اندلس کا خفیہ انتقام اور طارق بن زیاد کی جلتی ہوئی کشتیاں
پس منظر اور ایک باپ کا خفیہ انتقام (710ء):
یہ وہ دور تھا جب موجودہ سپین (اندلس) پر 'وِزیگوتھ' (Visigoths) قوم کی حکومت تھی اور ان کا بادشاہ 'راڈرک' (King Roderick) ایک انتہائی ظالم، عیاش اور مغرور حکمران تھا۔ اندلس کے بالکل سامنے، سمندر پار افریقہ (موجودہ مراکش) کے ساحل پر ایک چھوٹا سا شہر 'سبتہ' (Ceuta) تھا، جس کا عیسائی گورنر 'کاؤنٹ جولین' (Count Julian) تھا۔

کاؤنٹ جولین نے رواج کے مطابق اپنی بیٹی 'فلورنڈا' (Florinda) کو تعلیم اور دربار کے آداب سیکھنے کے لیے راڈرک کے محل میں بھیجا۔ لیکن ظالم راڈرک نے اس کی بیٹی کی عزت لوٹ لی۔ جب جولین کو اس بات کا علم ہوا تو اس کے سینے میں انتقام کی آگ بھڑک اٹھی۔
لیکن جولین جانتا تھا کہ وہ اکیلا راڈرک کی لاکھوں کی فوج کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ اس نے اپنی بیٹی کے آنسوؤں کا بدلہ لینے کے لیے ایک انتہائی خفیہ اور پراسرار چال چلی۔ اس نے افریقہ کے مسلمان گورنر 'موسیٰ بن نصیرؒ' اور ان کے عظیم جرنیل 'طارق بن زیادؒ' سے خفیہ طور پر رابطہ کیا۔

جولین نے مسلمانوں کو اندلس کے خفیہ راستے، راڈرک کی فوج کی کمزوریاں اور نقشے فراہم کیے اور اپنے بحری جہاز بھی مسلمانوں کو دے دیے تاکہ وہ سمندر پار کر سکیں۔ یہ تاریخ کا ایک ایسا خفیہ گٹھ جوڑ تھا جس نے راڈرک کی جڑیں کھوکھلی کر دیں۔

سمندر کا سفر اور جبلِ طارق کا ساحل (اپریل 711ء):
طارق بن زیادؒ محض 7 ہزار (بعض روایات میں 12 ہزار) مجاہدین کی ایک چھوٹی سی فوج لے کر اندلس کے ساحل پر اترے۔ یہ فوج جن بحری جہازوں میں آئی تھی، انہیں ساحل پر کھڑا کر دیا گیا۔ جس پہاڑی کے پاس طارق بن زیادؒ اترے، وہ آج تک انہی کے نام پر 'جبرالٹر' (Jabal Tariq - جبل الطارق) کہلاتی ہے۔

مسلمان ساحل پر خیمہ زن تھے کہ اچانک ان کے جاسوسوں نے ایک ایسی لرزہ خیز خبر دی جس نے پوری مسلم فوج میں سنسنی پھیلا دی۔

ایک لاکھ کی فوج اور موت کا سایہ:
جاسوسوں نے بتایا کہ راڈرک اپنے غرور کے نشے میں چور، سر سے پیر تک لوہے میں غرق ایک لاکھ کے قریب فوج لے کر مسلمانوں کو کچلنے آ رہا ہے۔
طارق بن زیادؒ کی فوج میں کھلبلی مچ گئی۔ 7 ہزار بمقابلہ ایک لاکھ! یہ جنگ نہیں بلکہ سیدھی سیدھی موت لگ رہی تھی۔ کچھ کمانڈروں نے طارق بن زیادؒ کو مشورہ دیا کہ:
"امیر! ہماری تعداد بہت کم ہے۔ اس سے پہلے کہ راڈرک یہاں پہنچے، ہمیں اپنی ان کشتیوں میں بیٹھ کر واپس افریقہ لوٹ جانا چاہیے تاکہ ہم زندہ بچ سکیں۔"

طارق بن زیاد کا لرزہ خیز فیصلہ (The Ultimate Climax):
طارق بن زیادؒ کوئی عام انسان نہیں تھے۔ انہیں معلوم تھا کہ اگر فوج کے دل میں واپسی کی امید باقی رہی، تو وہ ایک لاکھ کی فوج کے سامنے کبھی ڈٹ کر نہیں لڑ سکیں گے۔
اگلی صبح، جب فجر کے وقت مجاہدین کی آنکھ کھلی، تو انہوں نے سمندر کے کنارے ایک ایسا ہولناک اور حیرت انگیز منظر دیکھا جس نے ان کے ہوش اڑا دیے۔

سمندر کی لہروں پر کھڑی مسلمانوں کی تمام کشتیاں اور بحری جہاز آگ کے شعلوں میں جل رہے تھے!
آگ کے بلند ہوتے شعلوں نے آسمان کو سرخ کر دیا تھا۔ فوجی حیرت اور خوف سے دوڑے کہ کشتیاں کون جلا رہا ہے، تو دیکھا کہ طارق بن زیادؒ خود مشعل ہاتھ میں لیے اپنے ہی جہازوں کو جلا رہے ہیں۔

مجاہدین نے چیخ کر کہا: "امیر! آپ یہ کیا کر رہے ہیں؟ ہم اگر جنگ ہار گئے تو واپس کیسے جائیں گے؟ ہمارے بال بچے افریقہ میں ہیں!"

تاریخ کا سب سے عظیم اور سنسنی خیز خطبہ:
کشتیوں کی راکھ اور سمندر کی لہروں کے درمیان، طارق بن زیادؒ ایک چٹان پر کھڑے ہوئے، اپنی تلوار نکالی اور وہ تاریخی خطبہ دیا جس کے الفاظ آج بھی تاریخ کے اوراق کو گرما دیتے ہیں۔ آپؒ نے گرجدار آواز میں فرمایا:

"أيها الناس، أين المفر؟ البحر من ورائكم، والعدو أمامكم..."
"اے لوگو! اب بھاگ کر کہاں جاؤ گے؟ تمہارے پیچھے سمندر ہے اور تمہارے سامنے دشمن کی لاکھوں کی فوج! اللہ کی قسم، اب تمہارے پاس سوائے سچائی اور صبر کے کچھ نہیں بچا۔ کشتیاں جل چکی ہیں، اب واپسی کا کوئی راستہ نہیں۔ اب تمہارے پاس دو ہی راستے ہیں: یا تو سامنے دشمن کو چیر کر رکھ دو اور اس زمین کے وارث بن جاؤ، یا پھر کٹ مر کر شہید ہو جاؤ!"

فتحِ اندلس کا معجزہ:
جب فوج نے دیکھا کہ واپسی کا راستہ کٹ چکا ہے اور موت سامنے کھڑی ہے، تو وہ شیروں کی طرح راڈرک کی فوج پر ٹوٹ پڑے۔ 'وادی لکہ' (Battle of Guadalete) کے مقام پر یہ ہولناک جنگ آٹھ دن تک جاری رہی۔
جس فوج کے دل سے موت کا ڈر نکل جائے اور واپسی کا راستہ ختم ہو جائے، اسے دنیا کی کوئی طاقت نہیں ہرا سکتی۔ طارق بن زیادؒ کی 7 ہزار کی فوج نے راڈرک کی ایک لاکھ کی فوج کو وہ عبرتناک شکست دی کہ راڈرک میدانِ جنگ سے بھاگا اور دریا میں ڈوب کر مر گیا۔

اس دن طارق بن زیادؒ کی جلی ہوئی کشتیوں کی راکھ پر ایک ایسی عظیم الشان اسلامی سلطنت (اندلس) کی بنیاد رکھی گئی جس نے اگلے 800 سال تک یورپ پر شاندار حکومت کی!

اس واقعے سے ملنے والے اسباق:
پلٹ کر نہ دیکھنا (Burn your boats): جب انسان کسی بڑے مقصد کے لیے نکلے، تو اسے واپسی کے راستے (Plan B) کو ذہن سے نکال دینا چاہیے۔ جب پیچھے ہٹنے کا آپشن نہیں ہوتا، تبھی انسان اپنی سو فیصد صلاحیت استعمال کرتا ہے۔

لیڈر کا بے خوف فیصلہ: ایک عظیم لیڈر وہ ہوتا ہے جو بحران کے وقت گھبرانے کے بجائے ایسے جرات مندانہ فیصلے کرے جو اس کی ٹیم کے حوصلے کو آسمان پر پہنچا دیں۔

خفیہ تدبیر کی طاقت: کاؤنٹ جولین کا مسلمانوں سے ملنا یہ ثابت کرتا ہے کہ دشمن کی صفوں میں موجود ایک کمزوری یا ایک غدار، پوری سلطنت کو گرا سکتا ہے۔ جنگ سے پہلے معلومات (Intelligence) اور حکمتِ عملی بہت ضروری ہے۔

تاریخی حوالے (History & Sources):
یہ واقعہ اندلس کی تاریخ کا سب سے مشہور اور کلاسیکی باب ہے۔ اسے مغرب اور مشرق دونوں کے مؤرخین نے تسلیم کیا ہے۔

اسے سب سے پہلے کس نے اور کن کتابوں میں تحریر کیا؟
اس واقعے کو سب سے پہلے شمالی افریقہ اور اندلس کے ابتدائی مؤرخین نے تحریر کیا۔ آج یہ واقعہ درج ذیل مستند اور کلاسک کتابوں میں پوری شان و شوکت کے ساتھ موجود ہے:

نفح الطيب من غصن الأندلس الرطيب (Nafh al-Tib): اندلس کی تاریخ پر لکھی گئی یہ سب سے عظیم اور ضخیم کلاسک کتاب ہے جس کے مصنف علامہ المقریؒ ہیں۔ انہوں نے طارق بن زیادؒ کے اس خطبے (أين المفر؟) کو مکمل عربی متن اور کشتیوں کے جلانے کے واقعے کے ساتھ نقل کیا ہے۔

فتوح مصر والمغرب (Futuh Misr wa'l Maghrib): مشہور مؤرخ ابن عبد الحکمؒ (وفات 257 ہجری) کی یہ کتاب اسلامی فتوحات کا سب سے پرانا اور مستند ذریعہ ہے۔ اس میں اندلس کی فتح اور کاؤنٹ جولین کے اس پراسرار کردار کو تفصیل سے درج کیا گیا ہے۔

نزهة المشتاق في اختراق الآفاق: عظیم جغرافیہ دان اور مؤرخ علامہ ادریسیؒ نے بھی اپنی مشہور زمانہ کتاب میں جبلِ طارق پر اترنے اور اس شاندار معرکے کی تفصیلات بیان کی ہیں۔ آج انگریزی محاورہ "Burning your boats" (اپنی کشتیاں جلا دینا) اسی واقعے سے ماخوذ ہے۔

2 months ago | [YT] | 2

Momin Studios

یہ واقعہ اس دور کی سب سے بڑی سپر پاور (رومی سلطنت) کے بادشاہ اور ایک قیدی صحابی، حضرت عبداللہ بن حذافہ السہمی رضی اللہ عنہ کے درمیان ہونے والے ایک ہولناک اور سنسنی خیز ٹکراؤ کا ہے۔ اس واقعے میں بادشاہ نے ایک مسلمان کو توڑنے کے لیے دولت کی انتہا بھی کر دی اور ظلم کی حد بھی پار کر دی، لیکن نتیجہ وہ نکلا جس نے روم کے بادشاہ کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا۔

ابلتا ہوا تیل، روم کا بادشاہ اور ایک بے خوف قیدی
پس منظر اور گرفتاری (19 ہجری / 639ء):
یہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا دورِ خلافت تھا۔ مسلمانوں کی ایک فوج روم (Byzantine Empire) کے خلاف محاذ پر تھی۔ رومی بادشاہ (ہرقل کے بعد آنے والا قیصر) نے اپنے کمانڈروں کو حکم دے رکھا تھا کہ "مسلمانوں کو مارنے کے بجائے اگر کوئی زندہ پکڑا جائے تو اسے میرے پاس لایا جائے، میں دیکھنا چاہتا ہوں کہ ان لوگوں کے دلوں میں آخر ایسا کون سا جادو ہے کہ یہ موت سے نہیں ڈرتے۔"
دورانِ جنگ، حضرت عبداللہ بن حذافہؓ کو رومیوں نے گرفتار کر لیا اور بیڑیاں پہنا کر روم کے بادشاہ کے دربار میں پیش کر دیا۔

دولت اور حسن کی پیشکش:
بادشاہ نے حضرت عبداللہؓ کو غور سے دیکھا اور ایک ایسی پیشکش کی جو کسی بھی عام انسان کا ایمان خریدنے کے لیے کافی تھی۔ اس نے کہا:
"اے قیدی! میں نے تمہاری بہادری کے قصے سنے ہیں۔ میں تمہیں ایک پیشکش کرتا ہوں... تم اپنا دین (اسلام) چھوڑ کر عیسائیت قبول کر لو۔ میں تمہیں اپنی آدھی سلطنت دے دوں گا اور اپنی بیٹی کی شادی تم سے کر دوں گا، تم میرے ساتھ تخت پر بیٹھو گے۔"

حضرت عبداللہ بن حذافہؓ نے بادشاہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر وہ تاریخی جملہ کہا جس نے بادشاہ کے غرور کو خاک میں ملا دیا:
"اللہ کی قسم! اگر تم مجھے اپنی پوری سلطنت دے دو، اور پورے عرب کی بادشاہت بھی لا کر میرے قدموں میں رکھ دو، تب بھی میں محمد ﷺ کے دین کو آنکھ جھپکنے کے برابر وقت کے لیے بھی نہیں چھوڑ سکتا۔"

سنسنی خیز اور ہولناک تشدد (The Torture):
بادشاہ یہ سن کر آگ بگولہ ہو گیا۔ اس نے کہا: "تو پھر میں تمہیں ایسی موت ماروں گا کہ تم یاد رکھو گے۔"
اس نے حکم دیا کہ انہیں سولی پر لٹکا دیا جائے۔ پھر اپنے تیر اندازوں کو بلایا اور کہا کہ تیر ان کے جسم کے بالکل قریب سے گزار کر لکڑی پر مارو، تاکہ یہ ڈر جائیں اور موت کے خوف سے اپنا دین چھوڑ دیں۔ تیر ان کے چہرے، ہاتھوں اور پیروں کے بالکل قریب سے گزرتے رہے لیکن عبداللہ بن حذافہؓ کے چہرے پر خوف کا ایک سایہ تک نہ آیا۔ بادشاہ کی یہ نفسیاتی چال ناکام ہو گئی۔

ابلتے ہوئے تیل کا دیگچہ (The Climax):
جب بادشاہ نے دیکھا کہ یہ کسی طرح نہیں ٹوٹ رہے، تو اس نے ظلم کی آخری حد پار کر لی۔
اس نے تانبے کا ایک بہت بڑا دیگچہ (Cauldron) منگوایا، اس میں تیل بھرا اور اس کے نیچے اتنی آگ جلائی گئی کہ تیل بری طرح ابلنے لگا۔ بادشاہ نے ایک اور مسلمان قیدی کو بلایا اور حضرت عبداللہ بن حذافہؓ کی آنکھوں کے سامنے اس قیدی کو اٹھا کر اس ابلتے ہوئے تیل میں پھینک دیا۔
چند ہی سیکنڈز میں اس قیدی کا گوشت گل کر ہڈیوں سے الگ ہو گیا اور ہڈیاں تیل کے اوپر تیرنے لگیں۔ پورے دربار میں ایک لرزہ خیز خاموشی چھا گئی۔

پھر بادشاہ نے جلادوں کو حکم دیا: "اب عبداللہ کو سولی سے اتارو اور اسے بھی اس ابلتے ہوئے تیل میں ڈال دو!"

ایک آنسو اور بادشاہ کی غلط فہمی:
جلاد حضرت عبداللہؓ کو کھینچ کر اس کھولتے ہوئے دیگچے کی طرف لے جانے لگے۔ جب وہ دیگچے کے بالکل قریب پہنچے اور موت ان کے سامنے تھی، تو اچانک حضرت عبداللہؓ کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
بادشاہ نے فوراً جلادوں کو روکا۔ وہ خوشی سے مسکرایا کہ بالآخر یہ قیدی موت کے خوف سے ٹوٹ گیا ہے۔ اس نے فوراً کہا: "میں نے کہا تھا نا تم ڈر جاؤ گے۔ اب بھی وقت ہے، عیسائیت قبول کر لو میں تمہیں آدھی سلطنت دے دوں گا۔"

حضرت عبداللہ بن حذافہؓ نے جو جواب دیا، اس نے روم کے بادشاہ اور پورے دربار پر سکتہ طاری کر دیا۔ آپؓ نے فرمایا:
"تم غلط سمجھے، اے بادشاہ! میرے آنسو موت کے ڈر سے نہیں نکلے۔ میں تو اس لیے رو رہا ہوں کہ آج میرے پاس صرف ایک ہی جان ہے، جو ابھی اس دیگچے میں ڈالی جائے گی اور اللہ کی راہ میں قربان ہو جائے گی۔ میری تو یہ حسرت تھی کہ کاش! میرے جسم کے ہر بال کے برابر میری جانیں ہوتیں، اور میں ہر جان کو باری باری اللہ کے راستے میں اس ابلتے ہوئے تیل میں قربان کر دیتا۔"

بادشاہ کی شکست اور ایک انوکھا معاہدہ:
بادشاہ یہ سن کر دنگ رہ گیا۔ اسے سمجھ آ گئی کہ جس شخص کے دل میں موت کی بجائے شہادت کا ایسا بے پناہ عشق ہو، اسے دنیا کی کوئی طاقت شکست نہیں دے سکتی۔
بادشاہ نے مایوسی اور ہار مانتے ہوئے کہا: "عبداللہ! تم جیت گئے۔ کیا تم میرے ماتھے پر ایک بوسہ دو گے؟ اگر تم میرے ماتھے کو چوم لو تو میں تمہیں آزاد کر دوں گا۔"

حضرت عبداللہ بن حذافہؓ نے موقع کی نزاکت دیکھی اور ایک عظیم لیڈر کی طرح شرط رکھی: "میں تمہارے ماتھے کو صرف ایک شرط پر چوموں گا، اگر تم میرے ساتھ ساتھ روم کی قید میں موجود باقی تمام مسلمان قیدیوں کو بھی آزاد کرو گے۔"
بادشاہ نے ہار مانتے ہوئے یہ شرط قبول کر لی۔ حضرت عبداللہؓ نے آگے بڑھ کر اس کا ماتھا چوما اور بادشاہ نے ان کے ساتھ 80 (بعض روایات کے مطابق 300) مسلمان قیدیوں کو فوراً رہا کر دیا۔

مدینہ واپسی اور خلیفہ کا استقبال:
جب یہ تمام قیدی آزاد ہو کر مدینہ منورہ پہنچے اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو اس پورے لرزہ خیز واقعے اور حضرت عبداللہؓ کی استقامت کا علم ہوا، تو امیر المومنین نے ایک ایسا تاریخی اعلان کیا جس نے عبداللہ بن حذافہؓ کو تاریخ میں امر کر دیا۔
حضرت عمرؓ نے کھڑے ہو کر فرمایا:
"آج ہر مسلمان پر یہ حق ہے کہ وہ آگے بڑھ کر عبداللہ بن حذافہ کے ماتھے کو چومے، اور اس کی شروعات میں خود کروں گا۔"
پھر خلیفہ وقت، حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے آگے بڑھ کر اس عظیم قیدی کے ماتھے پر بوسہ دیا، اور پھر پورے مدینہ کے مسلمانوں نے ان کا ماتھا چوما۔

اس واقعے سے ملنے والا سبق:
ایمان کی طاقت موت کے خوف سے بڑی ہے: سچے مسلمان کو نہ دولت خریدی سکتی ہے اور نہ ہی موت کا خوف ڈرا سکتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ یہ دنیا عارضی ہے اور اصل زندگی اللہ کے پاس ہے۔

اپنے بھائیوں کی فکر: حضرت عبداللہؓ چاہتے تو صرف اپنی جان بچا کر نکل سکتے تھے، لیکن انہوں نے اس کڑے وقت میں بھی اپنے ساتھی مسلمان قیدیوں کی آزادی کا سودا کیا، جو ایک سچے لیڈر کی نشانی ہے۔

عزت کرنے کا قرینہ: حضرت عمرؓ کا ان کے ماتھے کو چومنا یہ بتاتا ہے کہ اسلام میں اصل عزت عہدے یا دولت کی نہیں، بلکہ ایمان کی مضبوطی اور اللہ کے راستے میں استقامت کی ہے۔

تاریخی حوالے (History & Sources):
یہ واقعہ سیرت اور صحابہ کرامؓ کی تاریخ کا ایک انتہائی مشہور اور مستند واقعہ ہے۔

اسے سب سے پہلے کس نے اور کن کتابوں میں تحریر کیا؟
اس واقعے کو جلیل القدر تابعین اور محدثین نے اپنی معتبر ترین کتابوں میں سند (راویوں کی زنجیر) کے ساتھ تحریر کیا ہے۔ آج یہ واقعہ درج ذیل کتب میں تفصیل سے موجود ہے:

الاصابہ فی تمییز الصحابہ (Al-Isabah): امام حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ کی یہ کتاب صحابہ کرام کی زندگیوں کا انسائیکلوپیڈیا مانی جاتی ہے۔ اس میں 'عبداللہ بن حذافہ' کے نام کے تحت یہ واقعہ مکمل تفصیلات سے درج ہے۔

اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ (Usd al-Ghabah): عظیم مؤرخ علامہ ابن الاثیر الجزریؒ نے بھی اس واقعے کو اپنی مشہور تاریخی کتاب میں نقل کیا ہے۔

سیر اعلام النبلاء (Siyar A'lam al-Nubala): امام شمس الدین الذہبیؒ کی اس شہرہ آفاق تصنیف میں صحابہ کی سیرت کے باب میں اس واقعے اور روم کے بادشاہ کے ساتھ مکالمے کو ہو بہو تحریر کیا گیا ہے۔

2 months ago | [YT] | 2