Mohammed Yousuf jamai

masjid Towhid kotturu


Mohammed Yousuf jamai

*✒️ حافظ عبد الحسيب العمري المدني:*

موبائل کے اسکرین پر ایک انجان نمبر نظر آیا، کال رسیو کیا تو دوسری طرف سے ایک نوجوان کی آواز تھی، بڑی ہی مستحکم آواز میں اس نے مجھے جو کچھ بتایا وہ یہ تھا کہ “ میری عمر تقریبا 26 سال ہے، میں بلڈ کینسر کا مریض ہوں، ہندوستان میں ڈاکٹروں نے جواب دے دیا اور مجھ سے کہا کہ آپ صرف کیلیفورنیا امریکہ میں کوشش کر سکتے ہیں، میں وہاں بھی گیا اور ڈاکٹروں نے معائنہ کے بعد صاف صاف بتادیا کہ “علاج ممکن نہیں ہے، اب تمھارے پاس زیادہ سے زیادہ دو سال کا عرصہ ہے، بس اتنی ہی زندگی بچی ہے۔"

یہ سب بتانے کے بعد اس نوجوان نے مجھ سے پوچھا میں نے زندگی میں کوئی بڑا گناہ نہیں کیا نہ ہی میں نے کبھی کسی کے ساتھ ظلم و زیادتی سے کام لیا ہے اور نہ کسی کی حق تلفی کی ہے اور نہ ہی ایسا کچھ میری زندگی میں ہے کہ میں خود کو اس سزا کے قابل سمجھوں پھر اللہ نے مجھے کیوں یہ سزا دی ہے؟؟؟"

سپاٹ لہجے میں وہ بولتا چلا گیا اور میں سنتا تھوڑی دیر کے لیے لگا اب بیمار وہ نہیں میں ہوں۔ پتہ نہیں آپ قارئین کو بھی کبھی ایسا تجربہ ہوا ہے کہ نہیں؟ جس نوجوان کے ابھی جینے جاگنے کے دن ہوں وہ خود اپنی متوقع موت کی خبر دے اور آپ سے کچھ پوچھے تو پھر اس سے کیا بولا جاتا ہے؟ اور اسے کیسے تسلی دی جاتی ہے؟ لمحوں میں کئی خیال سائے کی طرح آئے اور گزر گئے، میڈیکل سائنس کے عروج اور مادی ترقی کے اس دور میں بھی انسان کی یہ بے بسی بہت کچھ یاد دلا گئی، یوں لگا جیسے موت کا فرشتہ میرے پاس سے گزر کر کسی اور تک پہنچا ہو۔

ابتداء میرے پاس اس بھائی سے کہنے کے لیے کچھ نہیں تھا مگر پھر خود کو سنبھال کر میں نے اس سے تین باتیں کہیں:

1۔ پہلی بات تو یہ کہ اس دنیا کی یہ مصیبتیں ہمیشہ سزا نہیں ہوا کرتیں، کئی بار ہمیں بلندی درجات کے لیے بھی آزمایا جاتا ہے: (( كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ ۗ وَنَبْلُوكُمْ بِالشَّرِّ وَالْخَيْرِ فِتْنَةً ۖ وَإِلَيْنَا تُرْجَعُونَ } ہر نفس کو موت کا مزہ چکھنا ہے، اور ہم اچھے اور بُرے حالات میں ڈال کر تم سب کو آزماتے ہیں۔ اور بالآخر تمھیں ہماری ہی طرف لوٹایا جائے گا۔ ( سورة الأنبياء : ٣٥)

2۔ دوسری بات یہ کہ اللہ کے فیصلے حکمتوں بھرے ہوتے ہیں اللہ ہی بہتر جانے اس کی کیا حکمت . علمت ہے؟ آپ اللہ کے فیصلے پر خود کو راضی کیجیے اور خیال رکھیے، رھیے، بظاہر آپ کی دنیا لٹ گئی ہے کہیں ابلیس اس موقعے کا فائدہ اٹھا کر اللہ کے تئیں منفی خیالات سے آپ کی آخرت بھی تباہ نہ کردے۔

3۔ اور تیسری بات یہ کہ یہ ڈاکٹروں کا تجربہ اور ان کا علم ہے جو آپ کو بتلا رہا ہے کہ آپ کے پاس وقت کم رہ گیا ہے، یہ لوگ اسباب کی اس دنیا میں اسباب کو دیکھ کر متوقع نتائج بتا سکتے ہیں لیکن آپ اپنے مسبب الأسباب رب سے شفا مانگتے رہیں اور یہ بھی مانگیں کہ مقدر کے فیصلے میں جانا ہی لکھا ہے تو پھر ان شیطانی خیالات سے بچا کر ایمان کی سلامتی کے ساتھ موت دے۔

جواب دینے کو تو دے دیا لیکن میں پورے وثوق سے بتا سکتا ہوں کہ اپنی کہی باتوں پر مکمل یقین کے باوجود میرے اپنے جواب دینے میں ایک کھوکھلا پن تھا، مجھے نہیں پتہ ایسے موقعے پر ڈاکٹر حضرات وہ کلیجہ کہاں سے لاتے ہوں گے جب وہ مریض یا اس کے متعلقین کو ایسی خبریں دیتے ہوں گے۔

اس کال کو گزرے ایک گھنٹہ سے زیادہ ہو چکا ہے مگر دل اچاٹ ہو گیا ہے، عجیب سی کیفیت سے دوچار ہے۔ اسی کیفیت میں بیٹھے بیٹھے یہ سطریں تحریر کردی ہیں جنھیں آپ کے حوالے کرتے ہوئے چاہتا یہ ہوں کہ اس بھائی کے لیے اور اسی جیسے دیگر افراد کے لیے دعا ضرور فرمائیں کہ اللہ انھیں شفاء کامل عطا فرمائے اور اگر رب حکیم کا فیصلہ کچھ اور ہے تو ان کو ثابت قدمی اور رب قدیر کے فیصلے پر رضامندی نصیب فرمائے۔ آمین

1 year ago | [YT] | 2

Mohammed Yousuf jamai

کتابوں کی خریداری سے متعلق چند راہ نما اصول:
___________________
(1) اہلِ علم وتجربہ سے مشاورت کیجیے، ان سے مفید کتابوں اور عمدہ ایڈیشنوں کے متعلق پوچھیے۔

(2) بنیادی (حوالہ جاتی) کتب جن سے کوئی بھی عالم اور طالبِ علم مستغنی نہیں، ان کے حصول کی حرص پیدا کیجیے، خصوصا علمائے سلف کی کتابیں۔

(3) تحقیقی مزاج کے حامل اہلِ علم کی محقق کتب اور ممتاز مقالات حاصل کیجیے۔

(4) خریدنے سے قبل کتاب کی ورق گردانی کر لیجیے، تاکہ کہیں بیاض نہ رہ جائے، کوئی حصہ چھوٹا ہوا نہ ہو اور جلد کی کمزوری یا اس نوعیت کے دیگر عیوب نہ نکل آئیں۔

(5) مطلوبہ کتاب کی تحقیق ہوئی ہو تو سب سے عمدہ ومحقق نسخہ حاصل کرنے کی کوشش کیجیے، جس کی پہچان کتاب کا مقدمہ پڑھنے سے ہوگی، نیز وہ نسخہ لیجیے جس کی تحقیق کے دوران مخطوطات پیشِ نظر رہے ہوں، مقدمے میں "تحقیق کے منہج" کے عنوان سے اس کا علم ہوجاتا ہے، اس سلسلے میں کسی ایسے ساتھی سے معلومات لیجیے جس کے پاس وہ نسخہ ہو۔

(6) کتاب کا مقدمہ پڑھیے، فہارس پر نظر ڈال کر اس کے مضامین کا جائزہ لیجیے اور اس کی اہمیت کا اندازہ کیجیے۔

(7) ایسے ایڈیشن خریدیئے جو اہلِ علم کے ہاں معتمد ہوں اور جن کا حوالہ دیا جاتا ہو۔

(8) متقدمین ومتاخرین علما میں سے ممتاز و ماہر محقق اہلِ علم کی کتب حاصل کیجیے، جیسے (آخری دور میں) شیخ احمد شاکر (م 1377ھ)، شیخ عبدالرحمن معلمی یمانی (م1389ھ) اور شیخ عبدالسلام ہارون رحمہم اللہ وغیرہ۔

(9) ایسے طباعتی اداروں سے احتیاط برتیے جو بد معاملگی یا علمی سرقہ کے حوالے سے معروف ہوں، البتہ بعض اوقات ایسے اداروں کے ہاں عمدہ ایڈیشن بھی دستیاب ہو جاتے ہیں۔

(10) کتاب کے کئی ایڈیشن ہوں تو درج ذیل امور میں تقابلی جائزہ لیجیے:
ا ـ تحقیق کے دوران پیشِ نظر نسخے
ب ـ تخریجِ احادیث کا اہتمام
ج ـ علمی فہارس
یہ تینوں چیزیں کسی ایڈیشن میں جمع ہوں تو کیا کہنے!

(11) مفید کتابوں کی خریداری میں صَرف کی گئی رقم کو زیادہ نہ سمجھیے۔

(12) کتابی نمائشوں اور قیمتوں میں کمی سے فائدہ اٹھائیے ( تاکہ زیادہ سے زیادہ مفید کتابیں حاصل ہوسکیں)۔

(13) کتابوں کی خریداری میں تنوع سے کام لیجیے، ایک دو فنون پر اکتفا نہ کیجیے۔

(شیخ ابن عثیمن رحمہ اللّٰہ کی ’’ کتاب العلم‘‘ سے ماخوذ)
اردو ترجمہ: مولانا محمد یاسر عبداللہ زیدمجدھم
(استاذ جامعہ علوم اسلامیہ، علامہ بنوری ٹاؤن)

1 year ago | [YT] | 2

Mohammed Yousuf jamai

اخلاق و آداب کا زیور:

غصے کو قابو میں رکھنا 1️⃣

ایک‌ ادمی نے امام شعبی رحمہ اللہ کو گالی دی، تو امام شافعی نے اس ادمی سے کہا: "اگر تو میرے بارے میں سچا ہے تو اللہ تعالی میری مغفرت فرمائے، اور اگر تو میرے بارے میں جھوٹا ہے تو اللہ تعالی تیری مغفرت فرمائے"
📚العقد الفرید:(2/276)

اللہ تعالی ہمیں اپنے غصے پر قابو کرنے اور کمزوروں کو معاف کرنے کی توفیق عطاء فرمائے آمین

Akhlaaq o aadab ka zewar:

Ghusse ko qabu me rakhna1️⃣
Aik aadmi me imam sha,bi Rahimahullah ko gaali di, to imam sha,bi Rahimahullah ne us aadmi se kaha: "agar to mere bare me sachcha hai to allah ta,aala meri maghfirat farmaye aur agar to mere bare me jhota hai to allah ta,aala Teri maghfirat farmaye Aameen"
📚Al_aqd ul fareed:(2/276)

Allah ta,aala hame apne ghusse par qabu karne aur kamzoorou ko maaf karne ki toufeeq ata farmaye Aameen.

1 year ago | [YT] | 2