اللہُ محمد
سلطان الاولیاء مخدوم
حضرت شیخ سیّد علاؤالدین علی احمد صابر صاحب کلیری ( رحمۃ اللّٰہ علیہ) مفتی شہباز قاسمی اُتراکھنڈ


Bazme Sabir

اللہ رب العزت نے انسانوں کو مختلف رشتوں میں پرویا ہے ،ان میں کسی کو باپ بنایا ہے تو کسی کو ماں کا درجہ دیا ہے اور کسی کوبیٹا بنایا ہے تو کسی کو بیٹی کی پاکیزہ نسبت عطا کی ہے؛ غرض ر شتے بناکر اللہ تعالی نے ان کے حقوق مقر ر فرمادیے ہیں ، ان حقوق میں سے ہر ایک کا ادا کر نا ضروری ہے ، لیکن والد ین کے حق کو اللہ رب العزت نے قرآنِ کریم میں اپنی بندگی اورا طا عت کے فوراً بعد ذکر فرمایا ، یہ اس بات کی طرف اشا رہ ہے کہ رشتوں میں سب سے بڑا حق والدین کا ہے ۔

والدین سے حسن سلوک کا حکم

اللہ تعالی کا ارشاد گرامی ہے: ﴿وَقَضَی رَبُّکَ أَلاَّ تَعْبُدُواْ إِلاَّ إِیَّاہُ وَبِالْوَالِدَیْنِ إِحْسَاناً إِمَّا یَبْلُغَنَّ عِندَکَ الْکِبَرَ أَحَدُھُمَا أَوْ کِلاَھُمَا فَلاَ تَقُل لَّھُمَا أُفٍّ وَلاَ تَنْھَرْھُمَا وَقُل لَّھُمَا قَوْلاً کَرِیْما وَاخْفِضْ لَھُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَقُل رَّبِّ ارْحَمْھُمَا کَمَا رَبَّیَانِیْ صَغِیْراً رَّبُّکُمْ أَعْلَمُ بِمَا فِیْ نُفُوسِکُمْ إِن تَکُونُواْ صَالِحِیْنَ فَإِنَّہُ کَانَ لِلأَوَّابِیْنَ غَفُوراً﴾․(۱)

ترجمہ : اور تیرے رب نے یہ حکم دیا ہے کہ اس کے سواہ کسی کی عبادت مت کرو اور اپنے ماں باپ کے ساتھ حسنِ سلوک سے پیش آو ، اگر وہ یعنی ماں باپ تیری زندگی میں بڑھاپے کو پہنچ جائیں ، چاہے ان میں ایک پہنچے یا دونوں (اور ن کی کوئی بات تجھے ناگوار گزرے تو ) ان سے کبھی ”ہوں “ بھی مت کہنا اور نہ انھیں جھڑکنا اور ان سے خوب ادب سے با ت کر نا ، اور ان کے سامنے شفقت سے انکساری کے ساتھ جھکے رہنا اور یوں دعا کر تے رہنا :اے ہمارے پروردگار ! تو ان پر رحمت فرما، جیسا کہ انھوں نے بچپن میں مجھے پالا ہے(صرف ظاہر داری نہیں، دل سے ان کا احترام کرنا ) تمھارا رب تمھارے دل کی بات خوب جا نتا ہے اور اگر تم سعادت مند ہو تو وہ توبہ کرنے والے کی خطائیں کثرت سے معاف کرنے والا ہے۔

اس آیت کریمہ میں اللہ جلَّ جلالُہ نے سب سے پہلے اپنی بندگی و اطاعت کا حکم ارشاد فر ما یا ہے کہ میرے علاوہ کسی اور کی بندگی ہر گز مت کرنا ، اس کے بعد فر ما یا کہ اپنے والدین کے ساتھ حسنِ سلوک سے پیش آؤ۔اولاد کو یہ سوچنا چاہیے کہ والدین نہ صرف میرے وجود کا سبب ہیں؛ بلکہ آج میں جو کچھ بھی ہوں، انھیں کی برکت سے ہوں ، والدین ہی ہیں جو اولاد کی خاطر نہ صرف ہر طرح کی تکلیف دکھ اور مشقت کو برداشت کر تے ہیں؛بلکہ بسا اوقات اپنا آرام و راحت اپنی خوشی و خواہش کو بھی اولاد کی خاطر قربان کردیتے ہیں ۔

ماں کا مجاہدہ: سب سے زیا دہ محنت و مشقت اور تکلیف ماں برداشت کر تی ہے، سورة احقاف میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے: ﴿وَوَصَّیْنَا الْإِنسَانَ بِوَالِدَیْہِ إِحْسَاناً حَمَلَتْہُ أُمُّہُ کُرْھاً وَوَضَعَتْہُ کُرْھاً﴾(۲)ترجمہ : اس ماں نے تکلیف جھیل کر اسے پیٹ میں رکھا اور تکلیف برداشت کر کے اسے جنا ۔حمل کے نوماہ کی تکلیف اور اس سے بڑھ کر وضع حمل کی تکلیف، یہ سب ماں برداشت کر تی ہے ۔

جب بچہ پیدا ہو تا ہے تو اب اس کی پرورش کے لیے باپ محنت و مشقت برداشت کر تا ہے ، سردی ہو یا گر می ،صحت ہو یا بیما ری، وہ اپنی اولاد کی خاطر کسبِ معا ش کی صعوبتوں کو برداشت کر تا ہے اور ان کے لیے کما کر لاتا ہے، ان کے اوپر خرچ کرتا ہے ، ماں گھر کے اندر بچے کی پرورش کرتی ہے ،اس کو دودھ پلاتی ہے، اس کو گرمی و سردی سے بچانے کی خاطر خود گرمی و سردی برداشت کرتی ہے ،بچہ بیما ر ہوتا ہے تو ماں باپ بے چین ہو جا تے ہیں ، ان کی نیندیں حرام ہو جاتیں ہیں، اس کے علاج و معالجہ کی خا طر ڈاکٹروں کے چکر لگاتے ہیں ۔ غرض والدین اپنی راحت و آرام کو بچوں کی خاطر قربان کر تے ہیں؛اس لیے اللہ تعالی نے جہاں اپنا شکر ادا کر نے کا حکم دیا ہے وہیں والدین کی شکرگزاری کا بھی حکم ارشاد فر مایا ہے ،سو رة لقمان میں اللہ تعالی فرماتے ہیں:﴿أَنِ اشْکُرْ لِیْ وَلِوَالِدَیْکَ، إِلَیَّ الْمَصِیْرُ﴾(۳) ترجمہ :کہ میرا شکر یہ ادا کرو اور اپنے والدین کا شکریہ ادا کرو، میری طرف لوٹ کر آنا ہے۔

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کا قول: حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کسی نے پو چھا کہ میں نے خراسان سے اپنی والدہ کو اپنے کندھے پر اٹھا یا اور بیت اللہ لایا اور اسی طرح کندھے پر اٹھا کر حج کے منا سک ادا کروائے ،کیا میں نے اپنی والدہ کا حق ادا کردیا ؟تو حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہما نے فرما یا: ”نہیں ہر گز نہیں ، یہ سب تو ماں کے اس ایک چکر کے برابر بھی نہیں جو اس نے تجھے پیٹ میں رکھ کر لگا یا تھا ۔

اللہ تعالی نے والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم دیاہے:﴿وَبِالْوَالِدَیْنِ إِحْسَانًا﴾ یعنی ان کے ساتھ انتہائی تواضع و انکساری اور ا کرام و احترام کے ساتھ پیش آئے، بے ادبی نہ کرے ، تکبر نہ کرے ، ہر حال میں ان کی اطاعت کرے ، إلّا یہ کی وہ اللہ کی نا فرمانی کا حکم دیں تو پھر ان کی اطا عت جا ئز نہیں۔سورہٴ عنکبوت میں اللہ تعالی کا ارشاد گرامی ہے:﴿وَوَصَّیْنَا الإِنسَانَ بِوَالِدَیْہِ حُسْناً وَإِن جَاھَدَاکَ لِتُشْرِکَ بِیْ مَا لَیْسَ لَکَ بِہِ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْھُمَا﴾(۴) تر جمہ : ہم نے انسان کو اس کے ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کر نے کا حکم دیا ہے اور ساتھ یہ بھی بتادیا ہے کہ اگر وہ تجھ پر اس با ت کا ذور ڈالیں کہ تو ایسی چیز کو میرے شریک ٹھہرائے جس کے معبود ہونے کی کوئی دلیل تیرے پاس نہ ہو تو ان کا کہنا مت ما ننا ۔

حضرت حسن رضی اللہ عنہ کا فرمان:حضرت حسن رضی اللہ عنہ سے کسی نے دریا فت کیا کہ ماں باپ کے ساتھ حسنِ سلوک کس طرح کیا جائے ؟ تو انھوں نے فرما یا: تو ان پر اپنا مال خرچ کر ، اور وہ تجھے جو حکم دیں اس کی تعمیل کر ، ہاں اگر گناہ کا حکم دیں تو مت مان ۔(۵)

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ارشاد: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہمانے فر ما یا کہ والدین کے ساتھ حسنِ سلوک میں سے یہ بھی ہے کہ تم ان کے سامنے اپنے کپڑے بھی مت جھا ڑو، کہیں کپڑوں کا غبا ر اور دھول ان کو لگ نہ جا ئے۔

بڑھاپے میں حسنِ سلوک کا خصوصی حکم: اللہ تعالی نے خاص طور سے والدین کے پڑھاپے کو ذکر فر ما کر ارشاد فر ما یا کہ اگر ان میں کوئی ایک، یا دونوں تیری ز ند گی میں پڑھا پے کو پہنچ جا ئیں تو ان کو ”اف “بھی مت کہنا اور نہ ان سے جھڑک کر با ت کر نا ۔ حضرت تھا نوی رحمہ اللہ نے بیا ن القرآن میں ”اف “ کا تر جمہ ”ہوں “ سے کیا ہے کہ اگر ان کی کوئی بات نا گوار گزرے تو ان کو جواب میں ”ہوں “بھی مت کہنا ۔ اللہ رب العزت نے بڑھا پے کی حالت کو خا ص طور سے اس لیے ذکر فر ما یا کہ والدین کی جوا نی میں تو اولاد کو نہ” ہوں“ کہنے کی ہمت ہوتی اور نہ ہی جھڑکنے کی، جوانی میں بدتمیزی اور گستاخی کا اندیشہ کم ہو تا ہے؛ البتہ بڑھاپے میں والدین جب ضعیف ہوجاتے ہیں اور اولاد کے محتاج ہوتے ہیں تو اس وقت اس کا زیا دہ اندیشہ رہتا ہے ۔،پھر بڑھا پے میں عا م طور سے ضعف کی وجہ سے مزاج میں چڑچڑا پن اور جھنجھلاہٹ پیدا ہوتی ہے، بعض دفعہ معمولی باتوں پر بھی والدین اولاد پر غصہ کر تے ہیں، تو اب یہ اولاد کے امتحان کا وقت ہے کہ وہ اس کو برداشت کر کے حسنِ سلوک کا مظاہرہ کر تے ہیں، یا نا ک بھوں چڑھا کر بات کا جواب دیتے ہیں، اس موقع کے لیے اللہ تعالی نے یہ حکم دیا ہے کہ جواب دینا اور جھڑک کر با ت کر نا تو دور کی با ت ہے، ان کو” اف“ بھی مت کہنا اور ان کی بات پر معمولی سی ناگواری کا اظہا ر بھی مت کر نا ۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ کا فرمان:حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فر ما یا کہ اگر والدین کی بے ادبی میں ” اف “ سے کم درجہ ہوتا تو بھی اللہ جلَّ شانہُ اسے بھی حرام فرمادیتے۔ (۶)

حضرت مجاہد رحمہ اللہ کا قول: حضرت مجاہد رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اگر والدین بوڑھے ہو جائیں اور تمھیں ان کا پیشا ب دھو نا پڑجا ئے تو بھی” اف“ مت کہنا کہ وہ پچپن میں تمہارا پیشا ب پاخانہ دھوتے تھے۔(۷)

والدین کا ادب: حضرت عا ئشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے ، وہ فر ما تی ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس کے ساتھ ایک بوڑھا آدمی بھی تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ یہ بوڑھا کون ہے؟ اس شخص نے جواب میں کہا کہ یہ میرا باپ ہے، آپ علیہ السلام نے فرمایا: لا تَمْشِ أمامَہ، وَلَاتَقْعُدْ قَبْلَہ، وَلاَتَدْعُہْ بِاسْمِہ، وَلَاتَسْتَبَّ لَہ․(۸) یعنی ان کے آگے مت چلنا ، مجلس میں ان سے پہلے مت بیٹھنا ، ان کا نام لے کر مت پکارنا، ان کو گا لی مت دینا ۔

بڑھا پے میں جب والدین کی کوئی با ت نا گوار گزے تو ان سے کیسے گفتگوکی جا ئے، اس کے بارے میں اللہ تعالی نے فر ما یا: ﴿ وَقُل لَّھُمَا قَوْلاً کَرِیْما﴾(۹) یعنی: ان سے خوب ادب سے با ت کر نا ، اچھی بات کر نا ، لب ولہجہ میں نر می اور الفا ظ میں تو قیر و تکریم کا خیال رکھنا ۔ قول کریم کے بارے میں حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے فر ما یا: خطا ر کار اور زر خرید غلام سخت مزاج اور ترش روی آقا سے جس طرح با ت کر تا ہے، اس طرح با ت کر نا قول کریم ہے(۱۰)۔

آگے فر ما یا: ﴿ وَاخْفِضْ لَھُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ﴾ یعنی ان کے سامنے شفقت کے ساتھ انکساری سے جھکتے رہنا ۔ حضرت عروہ رحمہ اللہ سے کسی نے پوچھا کہ اللہ نے قران میں والدین کے سامنے جھکے رہنے کا حکم دیا ہے، اس کا کیا مطلب ہے؟ تو انھوں نے فر ما یا کہ اگر وہ کوئی با ت تیری نا گواری کی کہیں تو ترچھی نگا ہ سے بھی ان کو مت دیکھ کہ آدمی کی نا گواری اول اس کی آنکھ سے پہچانی جا تی ہے۔(۱۱) اور فر ما یا کہ ان کے سامنے ایسی روش اختیار کر کہ تیری وجہ سے ان کی دلی رغبت پوری کر نے میں فرق نہ آئے اور جس چیز کو والدین پسند کریں تو وہ ان کی خدمت میں پیش کر نے میں کنجوسی مت کرنا۔ (بر الوالدین، ص: ۴۰)

حضرت مفتی محمد شفیع صا حب رحمہ اللہ نے معارف القر آن میں لکھا ہے کہ والدین کی خدمت و اطاعت کا حکم کسی زمانے و عمر کے ساتھ مقید نہیں ، بہرحال ہر عمر میں والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرنا واجب ہے؛کیونکہ والدین کی خدمت اور ان کی رضا مندی میں اللہ تعالی کی رضامندی ہے اور ان کی ناراضگی میں اللہ کی نا راضگی ہے۔ (۱۲)

اللہ تعالی کی رضا و ناراضگی: حضرت عبد اللہ بن عمر ورضی اللہ عنہ فر ما تے کہ رسول ا للہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فر ما یا : رضا اللہ مع رضا الوالدین و سخطُ اللہِ مع سخطِ الوالدین․(۱۳) یعنی اللہ کی رضا مندی والدین کی رضا مندی میں ہے اور اللہ کی ناراضگی ماں باپ کی ناراضگی میں ہے۔

جنت یا جہنم کے دروازے : حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فر ماتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : مَنْ أَصْبَحَ مُطِیْعًا فِی وَالِدَیْہِ أَصْبَحَ لَہ بَابَانِ مَفْتُوْحَانِ مِنَ الْجَنَّةِ، وَانْ کَانَ وَاحِدًا فَوَاحِدًا، وَمَنْ أمسیٰ عَاصِیًا للہ فی وَالِدَیْہِ أَصْبَحَ لَہ بَابَانِ مَفْتُوْحَانِ مِنَ النَّارِ، وَانْ کَانَ وَاحِدًا فَوَاحِدًا، قال الرجلُ: وانْ ظَلَمَاہُ؟ قال: وانْ ظَلَمَاہُ، وان ظَلَمَاہُ، وان ظلماہ․(۱۴)

یعنی جس شخص نے اس حال میں صبح کی کہ وہ اپنے والدین کے حقوق کی ادائیگی کے بارے میں اللہ کا فر ما نبر دار رہا تو اس کے لیے جنت کے دو دروازے کھلے ہو تے ہیں اوراگر والدین میں سے ایک زندہ ہو اور اس کے ساتھ حسنِ سلوک کرے تو جنت کا ایک دروازہ کھلا رہتا ہے ۔اور جس نے اپنے والدین کے حقوق کی ادائیگی میں اللہ کی نا فر ما نی کی، اس کے بتائے ہوے احکا ما ت کے مطا بق حسنِ سلوک نہ کیا تو اس کے لیے جہنم کے دو دروازے کھلے رہتے ہیں اوراگر والدین میں ایک زندہ ہواوراس کے ساتھ بد سلوکی کر ے تو جہنم کا ایک دروازہ کھلا رہتا ہے۔کسی نے پوچھا کہ اے اللہ کے نبی! اگر چہ ماں باپ نے اس پر ظلم کیا ہو ؟تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دفعہ فر ما یا: اگرچہ والدین نے ظلم کیا ہو

4 weeks ago | [YT] | 8

Bazme Sabir

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

الجامعۃ الاسلامیۃ دارالعلوم وقف دیوبند

۱۸۵۷ءمیں مغلیہ سلطنت کے زوال کے بعد ہندوستان میں سب سے پہلی علمی اور اصلاحی تحریک کا آغاز شمالی ہند کے ایک چھوٹے سے قصبے دیوبند سے ہوا۔ حجۃ الاسلام حضرت الامام مولانا محمد قا سم نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ نے۱۵/ محرم الحرام ۱۲۸۳ھ کو سرزمین دیوبند پر مدرسہ عربی اسلامی دیوبند قائم فرمایا۔ قیام مدرسہ کی اس مبارک تحریک ميں بالخصوص حاجی عابد حسین دیوبندی اور امام ربانی مولانا رشید احمد گنگوہی رحمہما اللہ نے امام محمد قا سم نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ کو اہم تعاون فراہم کیا ۔اور دیکھتے ہی دیکھتےامام محمد قا سم نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ کے 'مدرسہ عربی اسلامی دیوبند' نے 'جامعہ اسلامیہ دارالعلوم دیوبند' کے نام سے ایک عالمی شہرت یافتہ یونیورسٹی کی شکل اختیار کر لی۔ یہاں دنیا کے مختلف ممالک سے طلبہ تفسیر، حدیث، فقہ اور دیگر اسلامی علوم کے حصول کے لئے آتے رہے ہیں۔ دراصل امام محمد قا سم نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ نے دارالعلوم دیوبند کے قیام کے ذریعے سرزمین دیوبند پر امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی قدس سرہ العزیز کے مکتب فکر کے احیاء کا عظیم کارنامہ انجام دیا۔ اورحکیم الاسلام  حضرت مولانا قاری محمد طیّب رحمۃ اللہ علیہ (مہتم دارالعلوم دیوبند از۱۳۴۸ھ تا ۱۴۰۳ھ) نے ۱۴۰۲ھ (۱۹۸۲ء) میں ولی اللہی اور قاسمی علمی وراثت کو دارالعلوم وقف دیوبند کی شکل میں محفوظ کر دیا- وللہ الحمد والمنۃ

4 weeks ago | [YT] | 8

Bazme Sabir

خانہ کعبہ کا غلاف دارالعلوم وقف دیوبند میں ماشاء اللّٰہ

🌹 فرودگاہ صالحین کا مختصر سا تعارف 🌹
مہمان خانہ دارالعلوم وقف دیوبند
فرودگاہ صالحین دار العلوم وقف دیوبند
شکستگی میں بھی کیا شان ہے عمارت کی
کہ دیکھنے کو اسے سر اٹھانا پڑتا ہے
ہر ملک، ہرخطے ہر مذہب اور ہر قوم میں  مہمان نوازی کے انداز و اطوار مختلف ضرور ہیں لیکن اس بات میں کسی قوم کا بھی اختلاف نہیں کہ آنے والے مہمان کے اعزاز و اکرام میں اس کا پرتپاک استقبال کرنا، اسے خوش آمدید کہنا اور اس کی اپنی حیثیت کے مطابق بڑھ چڑھ کر ہر ممکنہ خدمت سر انجام دینا اس کا بنیادی حق ہے۔ اس لیے کہ دنیا کی ہر مہذب قوم کے نزدیک مہمان کی عزت و توقیر خود اپنی عزت و توقیر اور مہمان کی ذلت و توہین خود اپنی ذلت و توہین کے مترادف سمجھی جاتی ہے۔

لیکن  مذہب اسلام نے مہمان نوازی کی مناسبت سےجو عمدہ اصول و قواعد بیان کیے ہیں یا جس خوب صورت انداز سے مذہب اسلام نے ہمیں مہمان نوازی کے آداب و ضوابط کا پابند بنایا ہے، دنیا میں اس کی مثال نہیں ملتی۔
اس کی مثالیں قران کریم میں بھی ملتی ہیں اور احادیث نبوی میں اس کو وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے اور مسلمانوں کے مابین اس کی اہمیت و افادیت کو دو بالا کیا ہے اس سے آپ کو اندازہ ہوگا کہ اللہ تبارک و تعالی نے مہمان کے لیے انسانوں کو کس قدر پابند بنایا ہے اور ساتھ ہی ساتھ انسانوں کے لیے اس میں منافع رکھے ہیں جس کا پھل انسان کو اس روئے زمین پر بھی اللہ تبارک و تعالی عطا کرتے ہیں اور یہاں سے جانے کے بعد بھی اللہ تبارک و تعالی اس کا اجر عطا فرمائیں گے

بلا شبہ مہمان کا آنا برکتوں کا آنا ہے مہمان نوازی ایمان کی مضبوط علامت اور انبیاءِ کرام علیہم السلام کی سنت ہے،
قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی مہمان نوازی کا تذکرہ فرمایا ہے،حضرت ابراہیم علیہ السلام بڑے مہمان نواز تھے، نبی کریم ﷺ کی خصوصیات میں سے ایک خصوصیت احادیث میں مہمان نواز ہونے کی بیان کی گئی ہے۔
حضور اقدس ؐ کا ارشاد گرامی ہے : ’’جو شخص اللہ جل شانہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے مہمان کا اکرام کرے۔
مہمان نوازی  ایک دن ایک رات ہے، اور مہمانی تین دن تین رات ہے۔ اور مہمان کے لیے یہ بات جائز نہیں کہ وہ اتنا طویل قیام کرے کہ جس سے میزبان مشقت میں پڑجائے۔‘‘ ( بخاری، مسلم )
مہمانوں کے تعلق سے غیر معمولی اہمیت کے پیش نظر گھر گھر مہمان خانے بناءے جاتے ہیں اور اپنے سے زیادہ بہتر سہولت فراہم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ الحمدللہ ہمارے یہاں ہر چھوٹے بڑے اداروں میں بھی اس کا نظم ہوتا ہے اور تشریف لانے والے بہی خواہان ادارہ شب گزاری کرتے ہیں ، دارالعلوم وقف  دیوبند میں بھی اس سنت کو باقی رکھا گیا اور کم مائیگی او ربے بضاعتی کے باووجود محبین ادارہ کو اس احساس سے دور رکھا گیا کہ  یہاں باضابطہ مہمان خانہ نہیں ہے
الغرض  مہمان نوازی کے تعلق سے دار العلوم وقف دیوبند کے ذمہ داران بہت کوشاں تھے کیونکہ دار العلوم وقف میں مہمانوں کے لیے کوئی مستقل عمارت نہیں تھی بلکہ کچھ جگہوں پر انتظام وانصرام کیا جاتا تھا خواہ وہ المکتبۃ القاسمیہ کا بالائی حصہ ہو یا دار القرآن کا بالائی حصہ وہیں پر قیام وطعام کاانتظام رہتا تھا لیکن کوئی ایک مستقل جگہ نہیں تھی الحمدللہ ثم الحمدللہ دارالعلوم وقف دیوبند میں ابھی چند مہینے قبل ایک مہمان خانے کی بنیاد رکھی گئی  تھی دار الحدیث کے بائیں جانب والے حصے میں بہت خوشی اور مسرت کی بات ہے کہ چند ہی مہینوں میں یہ تعمیر اپنے اختتام کی طرف  ہے الحمدللہ بہت شاندار پر کیف اور خوبصورت انداز میں اس کو تعمیر کیا گیا ہے جو تقریباً دس کمروں پر مشتمل ہے یہ کمرے اٹیچ ہیں باتھ روم کے ساتھ اور اسمیں دو شاندار ہال ہیں تاکہ ایک بڑی جماعت بھی آرام کرسکے یہ عمارت فرودگاہ صالحین کے نام سے موسوم ہے۔آپ عمارت میں جیسے ہی داخل ہونگے تو آپ کی نظر استقبالیہ پر پڑیگی جو بہت پرکشش انداز میں لکھا ہوا ہے اس عمارت میں مہمانوں کے لیے تمام تر سہولیات کو ملحوظ رکھا گیا ہے اور اس کو خوبصورت انداز میں تعمیر کیا گیا ہے
بہرحال مادر علمی دارالعلوم دیوبند نے تقریبا آٹھ دس سالوں میں جو ترقی کا سفر طے کیا ہے وہ اپنے آپ میں خود ایک مثال ہے دارالعلوم وقف دیوبند کے حالات ہمیشہ بدلتے رہے آپ ماضی کی طرف اگر نظر دوڑائیں گے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ جہاں نہ تعلیم کا ہی انتظام نہ تھا توتعمیر کاکیا مطلب بلکہ صرف مایوسی ہی مایوسی تھی لیکن باذن اللہ آج مادر علمی  میں تمام تر انتظامات ہیں پڑھنے کے لیے بہترین درسگاہیں رہنے کے لیے بہترین دارالاقامہ عمدہ سڑکیں پانی کے لیے اچھا نظم یہیں پر بس نہیں بلکہ طلبہ کی سہولت کو پیش نظر رکھتے ہوئے ادارے نے ہر چیز میں بہتر کرنے کی کوشش کی ہے جس سے آج ہر ایک واقف ہے۔
میں جب ادارے میں داخل ہوا تو اس وقت یہ باغ  بہت خشک نظر آتا تھا لیکن دیکھتے ہی دیکھتے چند ہی سالوں میں یہ باغ سرسبز و شاداب ہو گیا اور آج  تمام تر سہولتیں میسر ہیں  ذمہ داران ادارہ ہمیشہ ایک ایک چیز کی طرف توجہ  رکھتے ہیں خواہ وہ تعلیمی ہو یا تعمیری ہر چیز کی طرف مکمل نگرانی کی جاتی ہے  یہاں کے ذمہ داران اور اساتذہ کو ہم نے دیکھا کہ کس قدر جدوجہد محنت  لگن جذبے اور حوصلے کے ساتھ کام انجام دیتے ہیں  ذمہ داران ادارہ ہر وقت ادارے کی ترقی کے لیے کوشاں رہتے ہیں اس میں خصوصاً دارالعلوم وقف دیوبند کے مہتمم  حضرت مولانا محمد سفیان صاحب قاسمی اور نائب مہتمم حضرت مولانا ڈاکٹر محمد شکیب صاحب قاسمی کی توجہات قابل ستائش ہیں حضرت اکثر بیشتر اوقات  ادارے کے لیے ہی صرف کرتے ہیں ایسا بہت کم ہوتا ہےجس میں حضرت موجود نہ رہتے ہوں  خواہ تعلیمی اوقات ہوں یا اسکےعلاوہ  ہوں حضرت کی توجہات ایک ایک چیز پر رہتی ہیں
بس ہم بارگاہ ایزدی میں دعا گو ہیں اللہ تبارک وتعالیٰ مادرعلمی دار العلوم وقف دیوبند کو مزید ترقیات سے نوازے اور تمام تر شرور فتن سے محفوظ فرمائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آمین

7 months ago | [YT] | 19

Bazme Sabir

Darul uloom waqf Deoband

7 months ago | [YT] | 14

Bazme Sabir

Shahbaz Sharafat Qasmi Uttarakhand India

1 year ago | [YT] | 20

Bazme Sabir

اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الۡحَـىُّ الۡقَيُّوۡمُۚ لَا تَاۡخُذُهٗ سِنَةٌ وَّلَا نَوۡمٌؕ لَهٗ مَا فِى السَّمٰوٰتِ وَمَا فِى الۡاَرۡضِؕ مَنۡ ذَا الَّذِىۡ يَشۡفَعُ عِنۡدَهٗۤ اِلَّا بِاِذۡنِهٖؕ يَعۡلَمُ مَا بَيۡنَ اَيۡدِيۡهِمۡ وَمَا خَلۡفَهُمۡۚ وَلَا يُحِيۡطُوۡنَ بِشَىۡءٍ مِّنۡ عِلۡمِهٖۤ اِلَّا بِمَا شَآءَ ۚ وَسِعَ كُرۡسِيُّهُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَۚ وَلَا يَـــُٔوۡدُهٗ حِفۡظُهُمَا ۚ وَ هُوَ الۡعَلِىُّ الۡعَظِيۡمُ‏ ٢٥٥

اللہ وہ معبود برحق ہے جس کے سوا کوئی الٰہ نہیں وہ زندہ ہے نہ اس کو اونگھ آتی ہے نہ نیند. سب کا قائم رکھنے والا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب اسی کا ہے کون ہے وہ جو شفاعت کرسکے اس کے پاس کسی کی مگر اس کی اجازت سے ! وہ جانتا ہے جو کچھ ان کے سامنے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہے اور وہ احاطہ نہیں کرسکتے اللہ کے علم میں سے کسی شے کا بھی سوائے اس کے جو اللہ چاہے اس کی کرسی تمام آسمانوں اور زمین کو محیط ہے اور اس پر گراں نہیں گزرتی ان دونوں کی حفاظت اور وہ بلند وبالا (اور) بڑی عظمت والا ہے

#allah #allahummabarik #Allahuakbar
#bmwlife

1 year ago (edited) | [YT] | 19

Bazme Sabir

Shahbaz Sharafat 👑 Qasmi

1 year ago | [YT] | 13

Bazme Sabir

Friends
Darul uloom waqf Deoband 🥰🤍
Shahbaz Qasmi Uttarakhand

1 year ago | [YT] | 20

Bazme Sabir

Shahbaz Qasmi Uttarakhand India

Qutub Minar Delhi

1 year ago | [YT] | 19

Bazme Sabir

Shahbaz Qasmi M.r Umar Faridi Muzaffarnagar

1 year ago | [YT] | 20