اس چینل میں زیارت بلوچستان کے تفریحی مقامات کی سیر کرنے کیلئے علاؤہ آپ کو تعلیمی ومعلوماتی ویڈیوز دیکھنے کوملینگے۔ شکریہ
حنیف کاکڑ


Haneef Kakar

کوئٹہ سے شاہرگ ہرنائی روڈ — ایک اذیت ناک جہنم کی داستان

تحریر: حنیف کاکڑ

بلوچستان، جو پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے، اپنے سینے میں قدرتی وسائل کا بیش بہا خزانہ سمیٹے ہوئے ہے۔ اس کی پہاڑیاں تاریخ کی گواہ، اس کی وادیاں تمدن کے مراکز، اس کی ریت صدیوں کی داستانوں کی امین اور اس کے لوگ سادگی، بہادری اور محبت کے پیکر۔ مگر بدقسمتی یہ ہے کہ اسی صوبے کے عوام ہمیشہ حکومتی بے حسی، ناقص منصوبہ بندی، ناکام گورننس اور نمائشی ترقی کا شکار رہے ہیں۔ انہی مسائل کے دریا میں ایک مسئلہ ایسا ہے جو ہر روز سینکڑوں لوگوں کی زندگیوں پر اثر انداز ہوتا ہے، آنسو، درد، تکلیف اور دکھ کے رنگوں سے رنگا ہوا ایک مسئلہ — کوئٹہ سے شاہرگ ہرنائی روڈ کی تباہ حالی۔
یہ سڑک، جو کبھی ایک اہم رابطہ شاہراہ تھی، آج ایک عذابِ مسلسل کی علامت بن چکی ہے۔ اس کی ٹوٹ پھوٹ، اس کے کھڈوں، اس کی بے ترتیبی اور ناکارہ پن نے اسے ایک معمولی راستہ نہیں بلکہ سفر کرنے والوں کی زندگیوں پر حملہ کرنے والا ایک مستقل خطرہ بنا دیا ہے۔ گھنٹوں کا سفر دنوں میں تبدیل ہوتا ہے، 50 کلومیٹر کا فاصلہ انسان سے سو سال کی تھکن چھین لیتا ہے۔ اس راستے پر سفر کرنے والوں کے لیے ہر روز ایک نیا امتحان، ایک نئی آزمائش اور ایک نیا خوف ہوتا ہے۔سڑک کی تباہ حال—محض حادثات نہیں، ایک سوچے سمجھے مجرمانہ رویے کی علامت ہے
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ سڑک آخر کیوں تعمیر نہیں ہو رہی؟ کیوں ہر گزرتے دن کے ساتھ اس کی حالت مزید بدتر ہو رہی ہے؟ کیوں اربوں روپے کے منصوبے کاغذوں میں تو موجود ہیں مگر زمین پر ان کا نام و نشان دکھائی نہیں دیتا؟ آخر عوام کا قصور کیا ہے؟ گناہ کیا ہے؟
بلا شبہ یہ صرف حکومتی نااہلی نہیں، بلکہ اس علاقے کے منتخب نمائندوں کی بے حسی، غفلت اور مجرمانہ خاموشی کا نتیجہ ہے۔ اگر کوئی ایم پی اے یا ایم این اے اپنے علاقے کے لیے مخلص ہو، عوام کی تکالیف کا ادراک رکھتا ہو، تو وہ اس صورتحال پر خاموش نہیں رہ سکتا۔ لیکن یہاں تو معاملہ بالکل الٹ ہے۔ یہاں نمائندگی صرف جھنڈے، پروٹوکول، تصویریں اور تقریریں تک محدود ہے۔ یہاں عوام صرف ووٹ دینے والے “ادادوشمار“ ہیں، انسان نہیں۔
کیا ایم پی اے اور ایم این اے واقعی اندھے ہیں؟
سوال تو عوام بھی اٹھاتے ہیں:
"کیا ہمارے نمائندے اندھے ہیں؟"
نہیں، وہ اندھے نہیں ہیں۔ ان کی آنکھیں کھلی ہیں، مگر ان کی نظریں صرف اپنے ذاتی مفادات، ٹھیکوں، کمیشن اور طاقت کی سیاست پر ہیں۔ انہیں عوام کے زخم نظر نہیں آتے کیونکہ وہ ان زخموں کو محسوس ہی نہیں کرتے۔
کوئٹہ سے شاہرگ ہرنائی روڈ پر اگر کوئی نمائندہ خود سفر کرے، اگر وہ خود ان گڑھوں سے گزرے، اگر وہ اپنی گاڑی کو کئی گھنٹے بندش میں کھڑا دیکھے، اگر وہ زخمیوں کی آہیں سنے، اگر وہ کسی حادثے کے مقام پر جائے تو شاید اسے احساس ہو کہ عوام کس عذاب سے گزر رہے ہیں۔ مگر مسلہ یہی ہے کہ عوام کے حقیقی مسائل کا احساس کرنے کے لیے نمائندہ ہونا کافی نہیں، انسان ہونا ضروری ہے—اور انسانیت ان کرسیوں کے بازار میں سب سے مہنگا اور کمیاب جنس ہے۔
روزانہ سفر کرنے والوں کا دکھ ناقابل دید ہے
یہ سڑک صرف ایک راستہ نہیں، لوگوں کی زندگیوں کی شہ رگ ہے۔
مریضوں کو اسپتال پہنچانا ہو تو اس روڈ پر جان بچانا ایک معجزہ بن جاتا ہے۔
طلبہ کے لیے ہر روز سفر ایک خوف ناک مرحلہ ہے۔
مزدور، محنت کش، کاروباری حضرات، ٹرانسپورٹرز—سبھی اس اذیت ناک راستے سے گزرتے ہیں۔
حادثات میں جان گنوانے والوں کے گھروں میں ماتم برپا ہوتا ہے، مگر حکمرانوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔
کئی مائیں اس سڑک پر اپنے بچوں کی لاشیں اٹھا چکی ہیں، کئی عورتیں اپنے شوہروں کا سہاگ کھو چکی ہیں، کئی بچے یتیم ہو چکے ہیں—اور یہ سب کچھ محض اس لیے کہ ہمارے حکمرانوں کے لیے عوام کی جان سستی اور کمیشن مہنگا ہے۔
حکومتی دعوے—جملے بازی سے زیادہ کچھ نہیں
ہر دور میں حکومتیں آئیں، دعوے کیے، وعدے کیے، منصوبے بنائے، نئے فنڈز جاری کرنے کی بات کی، مگر نتیجہ صفر رہا۔
کبھی فنڈز "شفاف عمل" کے نام پر واپس ہو جاتے ہیں، کبھی پروجیکٹ "ریویو" میں چلا جاتا ہے، کبھی ٹھیکیدار "واپس" ہو جاتا ہے، کبھی سکیورٹی کا بہانہ، کبھی موسم کا، کبھی بجٹ کا—یہ تمام بہانے عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہیں۔
سڑک کا مسئلہ کوئی راکٹ سائنس نہیں۔ اگر نیت، خلوص، ایمانداری اور ذمہ داری ہو تو کوئی منصوبہ ناممکن نہیں۔ مگر نیت ہی خراب ہو، نیت ہی مفاد پرستی ہو، نیت ہی پیسہ کمانا ہو، تو سڑکیں نہیں بنتیں، صرف عوام کی امیدیں ٹوٹتی ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ عوام کب تک خاموش رہیں گے؟
عوام کی خاموشی ہی ظلم کی طاقت ہے۔ جب عوام سوال نہیں کرتے، جب عوام احتجاج نہیں کرتے، جب عوام اپنے حقوق کے لیے متحد نہیں ہوتے، تو حکمرانوں کی بے حسی مزید بڑھتی ہے۔
یہ بات تاریخ کے ہر ورق پر لکھی ہوئی ہے کہ ظالم کو ظلم سے روکنے والی کوئی قوت نہیں ہوتی، سوائے عوام کی اجتماعی آواز کے۔
کوئٹہ سے شاہرگ ہرنائی روڈ کا مسئلہ بھی اسی اجتماعی آواز کا منتظر ہے۔ یہاں کے عوام نے بہت سہا ہے، بہت برداشت کیا ہے۔ مگر اب برداشت حد سے بڑھ چکی ہے۔
عوام کو کیا کرنا چاہیے؟ ایک مکمل حکمتِ عملی کے ساتھ
1. متحد ہونا ہوگا
تقسیم در تقسیم قوم کبھی طاقتور نہیں ہوتی۔ عوام کو علاقائی، قبیلائی، سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونا ہوگا۔
2. تحریری قراردادیں
عوام نمائندوں سے جواب طلبی کے لیے مشترکہ مطالبات پر مبنی قراردادیں تیار کریں۔
3. مقامی میڈیا کو شامل کریں
صحافیوں کو حقائق دکھائیں، انہیں سڑک کی حالت دکھائیں، متاثرین کی کہانیاں سنائیں۔
4. سوشل میڈیا مہم
آج کے دور میں آواز دبانا آسان نہیں۔ ہر گھر سے آواز اٹھے، ہر موبائل سے حقیقت سامنے آئے۔
5. منتخب نمائندوں سے ملاقات
ان کے سامنے سوز و گداز کے ساتھ عوامی مسائل رکھے جائیں، جواب طلب کیا جائے۔
6. پرامن احتجاج
مرکزی شاہراہوں پر بیٹھ کر نہیں، بلکہ منظم، پرامن، قانونی احتجاج جس سے حکمرانوں پر دباؤ بڑھے۔
7. ڈیٹا جمع کرنا—حادثات، اموات، نقصانات
دستاویزی حقائق کسی بھی عوامی تحریک کو مضبوط بناتے ہیں۔
سیاستدانوں کی بے حسی کیوں؟
سیاست دان، جب تک عوام ان کی سیاست کا ایندھن رہتے ہیں، ان کے لیے "اہم" ہوتے ہیں۔ لیکن انتخابی وعدوں کے بعد عوام سے ان کی دوری زمین اور آسمان جیسی ہو جاتی ہے۔ کوئٹہ سے شاہرگ ہرنائی روڈ کا مسئلہ بھی اسی سیاسی رویے کی بھینٹ چڑھا ہوا ہے۔ جب نمائندوں کی آنکھوں سے عوام کے مسائل اوجھل ہو جاتے ہیں تو عوام کے لیے راستہ صرف ایک رہ جاتا ہے—کہ وہ خود اٹھ کھڑے ہوں۔
جب حکومتیں ترقیاتی منصوبوں، میگا پراجیکٹس اور اربوں کے فنڈز کی بات کرتی ہیں تو اس سڑک کی بربادی ان دعوؤں کے منہ پر طمانچہ نظر آتی ہے۔ یہ سوال چھوڑ جاتی ہے کہ ترقی کا معیار کیا ہے؟ اگر عوام کی بنیادی ضرورت—صاف اور محفوظ راستہ—پوری نہیں ہو سکتی تو پھر کسی بھی ترقی کا کیا فائدہ؟
وقت کا تقاضا ہے—اعوام اپنی قسمت خود لکھیں
وقت آگیا ہے کہ عوام اپنے حقوق کے لیے کھڑے ہوں۔ ظلم کے خلاف بغاوت صرف تلوار سے نہیں ہوتی، آواز سے بھی ہوتی ہے۔ اتحاد سے ہوتی ہے۔ بصیرت سے ہوتی ہے۔ یہ سڑک صرف راستہ نہیں، عوام کی تقدیر کا فیصلہ ہے۔
اگر آج یہ مسئلہ حل نہ ہوا تو آنے والی نسلیں اسی روڈ پر اسی اذیت کا سامنا کریں گی، پھر سوال کریں گی کہ"ہم کب تک ظلم سہتے رہے؟"
اور جواب دینے کے لیے کوئی دلیل نہیں ہو گی۔
کوئٹہ سے شاہرگ ہرنائی روڈ کی تباہ حالی محض ایک سڑک کی بدحالی نہیں، یہ نظام کی ناکامی، حکمرانوں کی بے حسی، نمائندوں کی غفلت اور عوام کی خاموشی کا مشترکہ نتیجہ ہے۔
اب وقت ہے کہ عوام اپنی آواز بلند کریں، اپنے حقوق کا مطالبہ کریں اور اپنے مستقبل کی جنگ خود لڑیں۔
کیا عوام تیار ہیں؟
کیا وہ ظلم کے مقابل کھڑے ہونے کے لیے تیار ہیں؟
کیا وہ اپنے حق کو لانے کے لیے متحد ہوں گے؟
یہ سوال اب عوام کے سامنے ہے، اور اس کا جواب صرف عوام ہی دے سکتے ہیں۔

2 months ago | [YT] | 0

Haneef Kakar

GBHS Malik Jan Muhammad Kasi Quetta

3 months ago | [YT] | 0

Haneef Kakar

خوابوں کاگھر

10 months ago | [YT] | 0

Haneef Kakar

جماعت اسلامی کے ممبر بنئے

1 year ago | [YT] | 2

Haneef Kakar

مولانا ہدایت الرحمان بلوچ کو وزیراعلی بلوچستان بنایاجائے۔ نواب سلیمان خلجی

1 year ago | [YT] | 0

Haneef Kakar

khaleel dumar

2 years ago | [YT] | 1

Haneef Kakar

Mubarak Eid ul Azha to all muslim brothers and sisters

2 years ago | [YT] | 1