Quranic teachings and lessions


Haq studies

سلم علیکم
بَشَرٍ۔ادمی۔۔42/51
براۓ توصیح ترجمہ پارٹ 12
"يُّكَلِّمَهُ اللّٰهُ" یہ مرکب فعلی سورت الشوری کی ایت نمبر 51میں موجود ہے اس مرکب فعلی " يُّكَلِّمَهُ اللّٰهُ " کے ترجمہ کا جو حلیہ ہمارے پیارے مترجمین نے اپنے عقیدہ کو لے کر کہ " بَشَرٍ " ادمی ہے پوری آیت کے ترجمہ کا جو حلیہ بگاڑا گیا وہ بھی اپ کے سامنے رکھوں گا اور اس کا درست نحوی ترجمہ اور حقیقت بھی اپ کے سامنے رکھوں گا

👈✅مکمل لیکچر کے لیٸے نیچے دیٸے جانے والے یوٹیوب چینل کے لنک پر جاٸیں اور ویڈیو کو لاٸک و چینل کو سبسکراٸب بھی کریں

https://youtu.be/JcrOnuqx8Xc

تو اپ غور کریں میں اپ کے سامنے نمازی قرانسٹ جس نے مروجہ ترجمہ کی وجہ سے عقیدہ بنایا پھر اس عقیدہ کو لے کر قرانی تعلیمات کو سب سے زیادہ نقصان دیا اس نمازی قرآنسٹ کا نام محمد شیخ نمازی ہے اور اس کا ترجمہ لگا رہا ہوں غور کریں نمازی صاحب لکھتے ہیں کہ

💚وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ
کسی بشر کے لیٸے نہیں ہے

👈🔴 (1/ ترجمہ میں "کسی "لکھ دیا ہے جبکہ آیت کے متن میں کوٸی ایسا لفظ موجود نہیں جس کا معنی "کسی"کیا جاسکے بلکہ آیت میں تو اس کے لیٸے ضمیر" " هُ " بھی واحد آٸی ہے اگر "نکرہ" والا بہانہ ماریں تو وہ بھی " هُ " نے مٹی میں ملادیاہے لہذا اس ترجمہ میں " کسی " اس وجہ سے لگایا کیوں کہ " بَشَرٍ " کو انسان/ ادمی بنانا تھا جبکہ" انسان "و "ادم " تو قران کی الگ مینشنز ہيں

👈🔴(2) یہ نمازی قرآنسٹ " التورںة " انجیل " سمیت باقی بھی بہت سے الفاظ کا معنی کرتا ہے لیکن " بَشَرٍ "کا معنی کبھی نہیں کرے گا اس کی وجہ اگر یہ ترجمہ کرے گا تو خود منہ کے بل گرے گا اور اس کا سَامِرِیَانَہ بنا ہوا عقیدہ مٹی میں مل جاۓ گا

👈🔴(3) " " بَشَرٍ " کا تعلق " بَشَرَ" کے حروف اصلیہ سے ہے اور اسی سے "مُبَشِّرًا " بَشِیرُُ " بَشِیرََا "مُبَشِّرِینَ ۔ہیں بنیادی معنی ہی اگاہی والا یا اگاہی دینے والا ہے اور اگاہی قران دیتا ہے ۔ ادمی نہیں ۔جبکہ "بَشَرٍ" کا بنیادی معنی ہی بشارت والا / اگاہی دینے والا جبکہ اگر "بَشَرٍ" کا معنی "کوٸی بشر اس بنیاد پر ہے کہ یہ نکرہ ہے تو پھر "اللہ بھی تو " احدٍ " ہے اسکو بھی کوٸی اللہ بنالیا کریں

مزید دیکھیں تو نمازی قرآنسٹ محمد شیخ نے

اَنۡ يُّكَلِّمَهُ اللّٰهُ
کا ترجمہ لکھا ہے👇
👈کہ اللہ اس سے کلام کرے
👈🔴(1) ترجمہ میں " سے " لکھ دیا ہے جبکہ یہاں آیت کے متن میں "من "ہے ہی نہی اگر اس نمازی قرانسٹ کا يہ ترجمہ مان لیا جاۓ تو آیت کا متن یوں ہونا چاہیے 👇

👈يُكَلِّمُ اللَّهُ مِنَ الْبَشَرِ
جبکہ اس نے جو ترجمہ کیا وہ عربک قوعد اور نہ ہی قران کی عبارت کے مطابق ہے ۔اسکا درست ترجمہ میں اخر میں جاکر شیٸرکرتاہوں

مزید نمازی صاحب لکھتے ہیں کہ

👈🔴اِلَّا وَحۡيًا
مگر وحی /متاثر کے

👈♦️اس قرانسٹ نمازی نے ترجمہ میں ""کے " لگادیا اگر وحی کے / مثاثر کے " ترجمہ مان لیا جاۓ تو آیت کے متن میں لفظ " وَحۡيًا" نہیں بلکہ " وَحْيٍ " ہونا چاہیےتھا اس نمازی "ھادوا " نے " کے " لگا کر تحریف کردی ہے جبکہ ترجمہ میں "کے " اس " ھادوا " کو اس وجہ سے لگانا پڑا کیوں کہ پہلے حصے میں یہ " بَشَرٍ "کو ادمی / انسان بنا چکا ہے جبکہ ترجمہ میں "کے " یا " کے ذریعے "وغیرہ آ ہی نہیں سکتا " اور وہ مترجمین جنھوں نے اپنے ترجمہ میں " وَحۡيًا" کا معنی " وحی کے ذریعے لکھا ہے ان سب نے "إِلَّا وَحْيًا "کو " إِلَّا بِالْوَحْيِ" بنادیا ہے اور یہ سب نے صرف " بَشَرٍ" کو "آدمی بنانے کے لیٸے کیا ہے

👈🔴اَوۡ مِنۡ وَّرَآىٴِ حِجَابٍ
یا حجاب ( پردے )کے پیچھے سے

👈🔴(1)اگر ان کا یہ ترجمہ مان لیا جاۓ تو اللہ چوروں کی طرح کام کرتاہے چھپ چھپا کر ۔۔جبکہ اللہ تو "الظاہر " بھی ہے کیا اللہ چوری چوری چھپ چھپ کرپردہ کے پیچھے سے عاشق و کنواری محبوبہ کیطرح بات کرے گا۔ ؟

👈🔴(2) " پیچھے " / " پچھلا " معنی تو "اَلاَخِرُ "کا ہے مزے کی بات ہے اس کو "وَّرَآىٴِ"کا معنی بھی پتہ نہیں جبکہ اس کا معنی " پس منظر " یا "اُس پار " ہے
👈🔴(3) " حِجَابٍ" کا مطلب بھی پردہ نہیں بلکہ اس کا معنی اسکرین " ہے اور " اسکرین " کہتے ہیں جیساکہ کوٸی فلم یا ڈرمہ بڑی سطح پر دیکھانا ہوتو اس کو بڑا پردہ یا بڑی سکرین کہا جاتا ہے لہذا اس کا معنی معلومات دیکھانے والی سطح ہے

👈💚مِنۡ وَّرَآىٴِ حِجَابٍ کا حقیقی مطلب بنتا ہے
معلومات دیکھانے والی سطح کے پس منظر میں سے / سے

👈🔴 اَوۡ يُرۡسِلَ رَسُوۡلًا فَيُوۡحِىَ بِاِذۡنِهٖ مَا يَشَآءُ‌ؕ
یا رسول کو بھیج کر پس وہ اس کی اجازت سے وحی /متاثر کرے جو وہ چاہے

👈🔴(1) آپ غور کریں یہاں "رَسُوۡلًا" ایا ہے تو ترجمہ میں "کو لگایا " ہے لیکن "وَحۡيًا" ایا ہے تو "کے "لگایا یےجبکہ اس نے " کے " غلط لگایا تھا

👈🔴(2) " رَسُوۡلًا" کا معنی ہی نہیں کیا بلکہ اس کو بدل کر "رسول " کردیا جبکہ اس کا معنی ہونا ہے اور اس کا معنی ہے "جاری شدہ " روانہ شدہ "بھیجاہوا "اور " پیغام " اس نے معنی اس وجہ سے نہیں کیا کیوں کہ شاٸد خود کو بھی نبی و رسول و بشر سمجھتا ہوگا

کہتے ہیں علم نہ ہونا خطرناک نہیں بلکہ ادھورا علم پھیلا یا بتانا زیادہ خطرناک ہوتاہے جو نسلیں بربادکر دیتا ہے

👈🔴(3) "بِاِذۡنِهٖ" میں " بِ "کا معنی " سے "کردیا ہے یعنی "ب "کو " مِن " میں بدل کر تحریف کردی ہے جبکہ " بِ "کا معنی "پر /کیساتھ ہوتا ہے جبکہ "مِن "کامعنی سے /میں سے ہوتا ہے اسکے علاوہ اسکا کوٸی معنی نہیں اگر اس کا ترجمہ مان لیا جاۓ تو آیت میں " "بِاِذۡنِهٖ" نہیں بلکہ " مِنْ إِذْنِهِ "ہونا چاہیے تھا
دوستو یہ سب اس نمازی سمیت سب مترجمین نے کارنامہ دیکھایا ہے اسکی وجہ "بَشَرٍ "کو انسان/ آدمی "بنانا تھا لہذا یہ سب کھلواڑ ان کو کرنا پڑا جبکہ قران کہتاہے
" الذین یومنون بالغیب "
اگر بشر ادمی یا انسان ہوگا تو غیب کے ساتھ ایمان کیسے ۔؟ یہ اس لحاظ سے یہ متقی بھی نہیں ہیں
اب عربک قواعد کے مطابق آیت کا ترجمہ کرلیتے


👈🔴وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنۡ يُّكَلِّمَهُ اللّٰهُ اِلَّا وَحۡيًا
اوراگاہی والے / بشارت والے کے لیٸے نہ تھا کہ اللہ اس کو بات/ گفتگو کرتا ہے اس کے علاوہ انکشاف
یہ بلکل ایسا ہی ہے جیسا کہ کہا جاۓ کہ اللہ نے قران کو تیری بات کردیا ہے

🌟دوستو ہم کتاب پڑھتے ہیں تو اللہ اس کتاب / بشر کو اللہ ہماری بات چیت کردیتا ہے اس کے علاوہ وحی کو بھی ہماری بات چیت کردیتا ہے نہ کہ ہم کو ادمی بنادیتا ہے اور کتاب پڑھنے سے وحی ہوتی ہے جس کو اللہ ہماری بات چیت / گفتگو بناتا یا کرتا ہے

اس کا دوسرا ترجمہ کریں تو

👈❤️وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنۡ يُّكَلِّمَهُ اللّٰهُ اِلَّا وَحۡيًا
ایک اگاہی دینے والے کے لیٸے نہ تھا کہ اللہ اس اگاہی دینے والے کو بات چیت کردیتاہے اس کے علاوہ انکشاف کو
یعنی بشر/قران / کتاب کو گفتگو/ بات چیت بناتا ہے اور وحی یعنی انکشاف جو ہوتا ہے وہ بھی ہماری گفتگو کا سبب بنتاہے نہ کہ بشر ادمی یا انسان بن جاتا یے یہ بات یاد رہے اگر بشر ادمی بنتا ہے تو الذین یومنون بالغیب ہوہی نہیں سکتا غیب کیساتھ ایمان کیسے ہوگا۔؟

👈🔴اَوۡ مِنۡ وَّرَآىٴِ حِجَابٍ
یا اللہ بشر /کتاب کو بات چیت کرتاہے معلومات دیکھانے والی سطح کے پس منظر میں سے


یعنی کتاب/ بشر کو آپ کی بات چیت اللہ تب کرے گا جب معلومات جہاں سے دیکھنی ہیں اس کا پس منظر کیا ہے وہ نظر اۓ گا تو تب یہ بشر/ کتاب کو اپکی بات چیت کردے گا پھر یہ بات چیت زبان سے ادا ہوگی


👈🔴اَوۡ يُرۡسِلَ رَسُوۡلًا فَيُوۡحِىَ بِاِذۡنِهٖ مَا يَشَآءُ‌ؕ
یا اللہ پیغام/ جاری شدہ کو رواں کرتا ہے پس وہ اللہ کی اجازت کے ساتھ انکشاف ہوتا ہے جو اس کا مقصد ہے

🌟یعنی جو اللہ کی اجازت سے انکشاف / وحی ہو جاۓ وہ رسول یعنی جاری شدہ پیغام ہوتا ہےوہ نفس میں جاری ہوتا ہے تو اس کو بھی آپ کی گفتگو کردیتا ہے یہ کرنا ہی اللہ کا مقصد ہے
جیسے اوپر بشر / کتاب کو گفتگو بنارہاہے ویسے ہی یہاں وحی یعنی انکشاف کو رسول یعنی جاری شدہ / پیغام بنارہایا کررہاہے


👈🔴اِنَّهٗ عَلِىٌّ حَكِيۡمٌ ۞
اور اللہ بہت ہی بلند پاٸیہ بہت سمجھ بوجھ دینےوالا ہے

اب اپ دوست کہو گے کہ کتاب بشر نہی ہوسکتی تو غور کریں

41/3
👈🔴كِتٰبٌ فُصِّلَتۡ اٰيٰتُهٗ قُرۡاٰنًا عَرَبِيًّا لِّقَوۡمٍ يَّعۡلَمُوۡنَۙ ۞
ایک تحریر اس کی دلیلیں تفسیر کی گٸی ہیں بلکل آسان واضح پڑھی جانے والی ہم قدم ہونے والے افراد کے لیٸے وہ جانتے بوجھتے ہیں
41/4
👈🔴بَشِيۡرًا وَّنَذِيۡرًا‌ ۚ

اگاہ کرنے/ بشارت دینے والی اور متنبہ کرنے والی ہے


👈🔴فَاَعۡرَضَ اَكۡثَرُهُمۡ فَهُمۡ لَا يَسۡمَعُوۡنَ ۞
کفر کرنے والے فرد 42/85پس ان کے زیادہ تر افراد اس گروہ نے کنی کتراٸی پس وہ ادراک نہیں کررہے

1 week ago |[YT] | 2

Haq studies

Surah talaaq verse 1 urdu and englis translation
☝️اگر اس آیت کا مروجہ ترجمہ مان لیا جاۓ تو ہر مٶمن کو قران کی اس اس آیت پر اور نبی کی سنت پر چلتے ہوۓ اپنی بیویقوں کو طلاق دینا لازم ہے وہ اپنی بیویوں کو طلاق نہ دے کر نبی کی سنت اور اس ایت پر عمل نہیں کررہے تو یہ مٶمن کیسے ہوۓ۔؟

ایایت کا ترجمہ کرلیتے ہیں تو

يٰۤاَيُّهَا النَّبِىُّ اِذَا طَلَّقۡتُمُ النِّسَآءَ
متوجہ ہوں خبر دینے والے نے جب اپنے پسے ہوۓ / غیر مستنداکارین کو الگ کرنا/ ازاد کرناہے

فَطَلِّقُوۡهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ
تو تم نے ان کو ان کے شمارہ / فہرست کے لیٸے الگ کرنا ہے

وَاَحۡصُوا الۡعِدَّةَ ‌ ۚ
اورتم ا مقرر شمارہ/فہرست کی تفصیل بتانا

وَاتَّقُوا اللّٰهَ رَبَّكُمۡ‌ ۚ لَ
اور اللہ تمہارے پالنہار کو تم راہ راست لو

لا تُخۡرِجُوۡهُنَّ مِنۡۢ بُيُوۡتِهِنَّ وَلَا يَخۡرُجۡن
تم ان غیر مستند اکابرین کو ان کے منشوروں سے باہر نہ کرنااور نہ وہ خود کو دستوروں سے باہر کریں

اِلَّاۤ اَنۡ يَّاۡتِيۡنَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ‌ ؕ
مگر وہ واضح ہونے والے برے منصوبے کے ساتھ اٸیں تو

دوستو دنیا کا کوٸی بھی فرد جو برے منصوبے یعنی فاحشةکے ساتھ آتا ہے تو ان کو الگ کیا جاتاہے اور برا منصوبہ ہی ان کا دستور یعنی بیت ہوتا ہے

وَتِلۡكَ حُدُوۡدُ اللّٰهِ‌ ؕ
اور وہ شمارجات/ فہرست اللہ کی مقررہ حدیں ہیں

وَمَنۡ يَّتَعَدَّ حُدُوۡدَ اللّٰهِ
اور جو کوٸی وہ اللہ کے مقررہ شمارجات / فہرست کی حدوں کو عبور کرتا ہے

فَقَدۡ ظَلَمَ نَفۡسَهٗ‌ ؕ
تو وہ اپنے خود کے نظریہ کو اندھیرا کرتا ہے

لَا تَدۡرِىۡ لَعَلَّ اللّٰهَ يُحۡدِثُ بَعۡدَ ذٰ لِكَ اَمۡرًا ۞
تو نہیں جانتا تاکہ اللہ وہ نٸی بات کرتا ہے مذکورہ بالا حکم کیاگیا ہے



If the conventional translation of this verse is accepted, then every believer would have to divorce his wives by following this verse of the Qur’an and the Sunnah of the Prophet. If he does not divorce his wives, then he is not following the Sunnah of the Prophet and this verse. So how can such a person be a believer?
Let us translate the verse as follows:
يٰۤاَيُّهَا النَّبِىُّ اِذَا طَلَّقۡتُمُ النِّسَآءَ
Pay attention, the one who gives news, when he has to separate / free his followers / unreliable leaders
فَطَلِّقُوۡهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ
Then you have to separate them for their count / list
وَاَحۡصُوا الۡعِدَّةَ ‌ ۚ
And give the details of the prescribed count / list
وَاتَّقُوا اللّٰهَ رَبَّكُمۡ‌ ۚ لَ
And you should take your Sustainer Allah onto the straight path
لا تُخۡرِجُوۡهُنَّ مِنۡۢ بُيُوۡتِهِنَّ وَلَا يَخۡرُجۡن
You should not drive those unreliable leaders out of their manifestos, nor should they themselves come out of the constitutions
اِلَّاۤ اَنۡ يَّاۡتِيۡنَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ‌ ؕ
Except when they come with an evident evil plan
Friends, any individual in the world who comes with an evil plan, that is, فاحشة, is separated, and the evil plan itself is their constitution, that is, بيت.
وَتِلۡكَ حُدُودُ اللّٰهِ‌ ؕ
And those are the prescribed limits / lists of Allah
وَمَنۡ يَّتَعَدَّ حُدُودَ اللّٰهِ
And whoever crosses the limits of the prescribed counts / lists of Allah
فَقَدۡ ظَلَمَ نَفۡسَهٗ‌ ؕ
Then he darkens his own self-theory
لَا تَدۡرِىۡ لَعَلَّ اللّٰهَ يُحۡدِثُ بَعۡدَ ذٰ لِكَ اَمۡرًا ۞
Then you do not know, so that Allah brings about a new matter; the above-mentioned command has been given.

2 weeks ago (edited) |[YT] | 7

Haq studies

Urdu and english translation
3/84 سورت العمران / عنوان سماجیات/معاشرت

👈🔴اَفَغَيۡرَ دِيۡنِ اللّٰهِ يَبۡغُوۡنَ وَلَهٗۤ اَسۡلَمَ
یہ فاسقین کتاب اور حکمت اور پیغام مل جانے 3/83 کے بعد کیااللہ کے دہٸے ہوۓ زندگی گزارنے کے طریقہ کار کے علاوہ وہ کوٸی دوسرا / پرایا ڈھونڈھتے ہیں اور اسی کے لیٸے سلامتی دینے والے ہیں ۔؟؟

👈🔴 مَنۡ فِى السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ طَوۡعًا وَّكَرۡهًا وَّاِلَيۡهِ يُرۡجَعُوۡنَ ۞
جو کوٸی تعارفات اور جو گہراٸی کے اندر زیر سایہ ہونے کو اور زہر سایہ نہ ہونے کو اس حال میں وہ اللہ کی طرف ہی پلٹتے ہیں

👇👇لفظی ترجمہ 👇👇

👈اَفَغَيۡرَ . . . کتاب اور الحکمة اور پیغام پاس اجانے3/83 کے بعد بھی کیا دوسرا/ پرایا
👈دِيۡنِ اللّٰهِ ۔۔۔اللہ کے دیٸے ہوۓ زندگی گزارنے کے طریقہ کار کے
👈يَبۡغُوۡنَ ۔۔وہ تلاش کرتے ہیں
👈وَلَهٗۤ اَسۡلَمَ۔اور اللہ کے لیٸے سلامتی دینے والے ہیں
👈 مَنۡ فِى السَّمٰوٰتِ۔۔۔جو بھی تعارفات کے اندر
👈 وَالۡاَرۡضِ۔۔اور گہراٸی کے
👈 طَوۡعًا۔۔زیر سایہ ہونے کو
👈 وَّكَرۡهًا ۔۔۔اور سایہ میں نہ ہونے کو
👈وَّاِلَيۡهِ ۔۔اور سی کی طرف
👈يُرۡجَعُوۡنَ ۞۔۔وہ لوٹنے/ پلٹتے ہيں

3/84 Surah Aal-e-Imran / Title: Sociology / Society

👈🔴 اَفَغَيۡرَ دِيۡنِ اللّٰهِ يَبۡغُوۡنَ وَلَهٗۤ اَسۡلَمَ
After receiving the Book, Wisdom, and the Message in 3/83, do these Fasiqeen seek any other/foreign way of living apart from the way of living given by Allah, and are they the ones who give peace only for Him?

👈🔴 مَنۡ فِى السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ طَوۡعًا وَّكَرۡهًا وَّاِلَيۡهِ يُرۡجَعُوۡنَ ۞
Whoever is within the introductions and whoever is under the shade and whoever is not under the shade, while in this state they return only to Allah.

👇👇 Literal Translation 👇👇
👈 اَفَغَيۡرَ . . . After receiving the Book, Wisdom, and the Message in 3/83, still any other/foreign [way]?
👈 دِيۡنِ اللّٰهِ . . . the way of living given by Allah
👈 يَبۡغُوۡنَ . . . they seek
👈 وَلَهٗۤ اَسۡلَمَ . . . and they are the ones who give peace for Allah
👈 مَنۡ فِى السَّمٰوٰتِ . . . whoever is within the introductions
👈 وَالۡاَرۡضِ . . . and of the depth
👈 طَوۡعًا . . . being under the shade
👈 وَّكَرۡهًا . . . and not being under the shade
👈 وَّاِلَيۡهِ . . . and toward Him
👈 يُرۡجَعُوۡنَ ۞ . . . they return / turn back

2 weeks ago (edited) |[YT] | 7

Haq studies

5/45
وَكَتَبۡنَا عَلَيۡهِمۡ فِيۡهَاۤ
اور ہم نے کتابی قانون میں انفارمیشن دینے والوں کے اوپر لکھ دیاتھا
اَنَّ النَّفۡسَ بِالنَّفۡسِۙ
بے شک نظریہ کو نظریاتی افراد کے ساتھ

وَالۡعَيۡنَ بِالۡعَيۡنِ
اور توجہ دینے والے افراد کو توجہ دینے والے افراد کے ساتھ

وَالۡاَنۡفَ بِالۡاَنۡفِ
اور احساس تکبروالے افراد کو احساس تکبر والوں کے ساتھ

وَالۡاُذُنَ بِالۡاُذُنِ
غور سے سننے والے افراد کو غور سے سننے والت افراد کے ساتھ
وَالسِّنَّ بِالسِّنِّۙ
اور قوت کاٹ کو کاٹ کی قوت رکھنے والوں کے ساتھ

وَالۡجُرُوۡحَ قِصَاصٌ‌ؕ
اور دل آہ زاروں کو برابر چلنا ہے

فَمَنۡ تَصَدَّقَ بِهٖ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَّهٗ ‌ؕ

اس کے بعد جس نے برابر چلنے کو سچ ثابت کیا تو وہ اس کے لیٸے تلافی/ کمی کو پورا کرنا ہے

وَمَنۡ لَّمۡ يَحۡكُمۡ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ
اور جو گروہ حکم نہیں کررہا اس کے ساتھ جو اللہ نے فراہم کیا

فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوۡنَ ۞
تو وہ وہی افراد اندھیرا کرنے والے ہیں

2 weeks ago |[YT] | 11

Haq studies

سلم علیکم
براۓ توصیح ترجمہ پارٹ 10
لَا تَقۡرَبُوا الصَّلٰوةَ" یہ مرکب فعلی نافیہ " سورت النساء "کی ایت نمبر "43میں موجود ہے نماز کو الکتب المبین سے ثابت کرنے کے لیٸے جو اس کے ترجمہ کا حلیہ بگاڑا گیا وہ میں اپ کے سامنے رکھوں گا
👈🔴مکمل تفصیل کے لیٸے دیٸے جانے والے یوٹیوب چینل کے لنک پر جاٸیں اور یوٹیوب چینل کو لاٸک کو سبسکراٸب بھی کريں
https://youtu.be/96NP4Xflc6k

اپ غورکریں سب سے پہلے میں پاکستان کے شہر کراچی میں رہنے والے نمازی قرانسٹ محمد شیخ کا ترجمہ لگارہاہوں غور کریں
👈🔴"لَا تَقۡرَبُوا الصَّلٰوةَ"کا ترجمہ اس نمازی قرآنسٹ محمد شیخ نے کیا ہے کہ ۔۔تم نماز کے قریب نہ جاٶ

👈🔴اہل تشیع کے علامہ محمد حسین نجفی صاحب لکھتے ہیں کہ
نماز کے قریب مت جاٶ

👈🔴مفتی تقی عثمانی صاحب لکھتے ہیں کہ
نماز کے قریب نہ جاٶ

دوستو ان تینوں سمیت جس جس نے بھی ایسا ترجمہ کیا ہے قہ درست ترجمہ نہیں کیوں کہ "کے "اور "جاٶ "جو ترجمہ میں لکھا گیا یے یہ آ ہی نہیں سکتا اگر ان کا یہ ترجمہ مان لیا جاۓ کہ نماز کے قریب نہ جاٶ تو آیت کا متن یوں ہونا چاہیےتھا

👈🔴يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَذْهَبُوا عِنْدَ الصَّلَوةِ
تو انکے والا ترجمہ بنے گا کہ صلوة کے قریب نہ جاٶ
ان تینوں سمیت سب نمازی مترجمین نے نے تحریف کہاں کی تو غور کریں

👈🔴(1)ایت میں " تَقۡرَبُوا الصَّلٰوةَ"مرکب فعلی ہے لیکن انھوں نے مرکب اضافی کی طرز پر ترجمہ کردیا جو عربک قواعد کے ہی خلاف ہے

👈🔴(2) انھوں نے ترجمہ میں "کے" لگادیا جبکہ "کے "کی جگہ "کو " انا تھا کیوں کہ " الصَّلٰوةَ"مفعول بہ ہے کیوں کہ " ةَ " پر زبر ہے جو یہاں "کو "کا معنی دے گا لیکن انھوں نے ترجمہ میں "کے "لکھا ہے یعنی انھوں نے "الصَّلٰوةَ" بدل کر "الصَّلٰوةِ "کردیأ ہے اسی وجہ سے انکو ترجمہ میں " کے "جو کہ غلط ہے وہ کرنا پڑا اور "جاٶ "کا اضافہ کرنا پڑا کیوں کہ انھوں نے " الصَّلٰوةَ"کو " الصَّلٰوةِ "کردیا ہے دراصل ان سب نے یہ قران میں تحریف کی ہے

میں " "تَقۡرَبُوا الصَّلٰوةَ "کی طرح کے کچھ مرکب لگارہاہوں جن کا ترجمہ کرتے وقت انھوں نے خود "کو" ترجمہ میں لکھا ہے غور کریں

👈🔴5/68میں ہے کہ " تُقِيۡمُوا التَّوۡرٰٮةَ وَالۡاِنۡجِيۡلَ ترجمہ کرتے پیں توراة اور انجیل کو قاٸم کرو۔۔کو۔۔لگاتے ہیں

👈🔴لاتَقْتُلُوا أَنفُسَكُمْ —
اپنے آپ کو قتل نہ کرو۔ (النساء 4:29)

👈🔴لَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ —
اپنی اولاد کو قتل نہ کرو۔ (الأنعام 6:151)

👈🔴لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُم —
اپنے مالوں کو آپس میں نہ کھاؤ۔ (النساء 4:29)

یہ سب جو میں نے لگاۓ یہ مرکب فعلی ہیں اوور ان میں ان سب نےترجمہ میں "کو "لکھا ہے اور "جاٶ" لکھا ہی نہیں جبکہ " تُقِيۡمُوا التَّوۡرٰٮةَ جو کہ اقیمواالصلوة کے جیسا ہی بنتا ہے دونوں کے ترجمہ میں "کو " ہی اۓ گا جبکہ اس کے علاوہ باقی یہ تمام " لاتقربواالصلوة " کی طرح مرکب نافیہ ہیں "



جب ان کے ترجمہ میں " کو "لکھ رہےہیں تو "لَا تَقۡرَبُوا الصَّلٰوةَ" کے ترجمہ میں بھی " کو "لکھا جاۓ گا اور " جاٶ " ہٹیا جاۓ گا

لہذا اگر ان ان کا ترجمہ جو کہ " نماز کے قرہب نہ جاٶ مان لیا جاۓ جو کہ انھوں نے کیا ہے تو ایت کا متن یوں بنے گا

👈لَا تَذْهَبُوا عِنْدَ الصَّلَوةِ۔۔ا س کا ترجمہ ہوگا نماز کے قریب/پاس نہ جاٶ لہذا ایت کا متن ایسا ہرگز بھی نہیں اور نہ آیت میں کہیں ایسا لکھا ہوا

👈🔴آیت کے متن میں " لَا تَقۡرَبُوا الصَّلٰوةَ " ہے اسکا درست ترجمہ ہوگا ۔۔تم صلوة کو قریب نہ کرنا یا دوسرا ترجمہ ہوگا ۔۔تم صلوة کو قریب نہ کرو

اپ دیکھیں جو درست ترجمہ میں نے کیا ہےتو " کے "ختم ہوگیا اسکی جگہ درست ترجمہ "کو " نے لے لی اور"جاٶ " جو کہ انھوں نے نماز نکالنے کے لیٸے ڈالا تھا وہ ایسے غاٸب ہوا جیسے گدھے کے سر سے سینگ غاٸب ہوتا یے

دوستو الکتب المبین میں

👈🔴 "لَا تَقۡرَبُوا الصَّلٰوةَ " کے قریب ترین اس کی طرز کے اور بھی نافیہ والے مرکب فعلی موجود ہیں ان مرکبات کا ترجمہ بھی ان نمازی مترجمین نے غلط کیا ہوا ہے ان مترجمین کا ان کا کیا ہوا ترجمہ اور پھر جو درست ترجمہ بنتا ہے وہ میں اپ کے سامنے رکھ رہاہوں غور کریں

لَا تَقْرَبُوا الزِّنَىٰ — الإسراء 17:32
زنا کے قریب نہ جاؤ۔

☝️یہ غلط ترجمہ ہے درست یہ ہوگا 👇
👈🔴"لَا تَقْرَبُوا الزِّنَىٰ —زنا کو قریب نہ کرنا

لَا تَقْرَبُوا الْفَوَاحِشَ — الأنعام 6:151
فواحش کے قریب نہ جاؤ۔

☝️یہ بھی غلط ہے درست یوں ہوگا👇

👈🔴لَا تَقْرَبُوا الْفَوَاحِشَ —فواحش کو قریب نہ کرنا

لَا تَقْرَبُوا مَالَ الْيَتِيمِ — الأنعام 6:152
یتیم کے مال کے قریب نہ جاؤ۔

☝️یہ بھی غلط ہے درست یوں ہوگا 👇

👈🔴لَا تَقْرَبُوا مَالَ الْيَتِيمِ — الأنعام
یتیم کےمال کو قریب نہ کرنا/ یتیم کے مال کو نہ ہتھیانہ

👈🔴"لَا تَقْرَبُوا مَالَ الْيَتِيمِ —"میں " "لَا تَقْرَبُوا مَالَ کا مطلب ہے "مال کو قریب نہ کرنا ۔

۔اب اپ دیکھیں "الْيَتِيمِ"کے " میم "کے نیچے زیر ہے اس وجہ سے "ترجمہ میں کے ایا کیوں "مَالَ الْيَتِيمِ" مال کے یتیم کے یا یتیم کے مال کو ۔۔۔کو "معنی "لام پر "زبر "کا ہے "اور " کے "معنی "الْيَتِيمِ " کے میم کے نیچے " زیر "کا ہے

دوستو دیکھا اپ نے اپنا عقیدہ کو اور اپنا نظریہ کو الکتب المبین پر تھوپنے کے لیٸے کیسے باریک باریک وارداتیں کرتے ہیں بلکہ ایسے ہی اپنی نماز کو " الکتب المبین "سے نکالنے کے لیٸے کیسی ""لَا تَقۡرَبُوا الصَّلٰوةَ " " کے ترجمہ میں باریک واردات کی ہے۔۔جبکہ مروجہ نماز سے تو الکتب المبین کے صفحات بلکل پاک ہیں ۔لہذا کتب احادیث کی طرف رجوع کریں تمام نمازی اور نمازی قرانسٹ کیوں کہ نماز ان کو انہی کتابوں سے ملے گی بھلا اسکا قران سے کیا لینا دینا۔

1 month ago |[YT] | 3

Haq studies

3/65
يٰۤـاَهۡلَ الۡكِتٰبِ
ہوشیار باش کتاب کی بات ماننے والو
لِمَ تُحَآجُّوۡنَ فِىۡۤ اِبۡرٰهِيۡمَ
بھلا کیوں تم دلیل والے کے اندر لیجسلشن /قانون سازی کرتے ہو

وَمَاۤ اُنۡزِلَتِ التَّوۡرٰٮةُ وَالۡاِنۡجِيۡلُ اِلَّا مِنۡۢ بَعۡدِهٖؕ
اور ہم نے کتاب کا قانون اور کتاب کی اگاہی فراہم نہیں کی مگر دلیل والے کے بعد سے

اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ۞
کیا اس کے بعد بھی تم عقل نہیں رکھتے ہو


اس سے یہ ثابت ہوا کہ ۔۔تورںة اور انجیل ابراہیم کے پہلے سے ہیں

4 months ago |[YT] | 12

Haq studies

In surah mujadlah sayyam not here

In this verse there is neither any mention of two months nor any hunger strike at all.
وَالَّذِيۡنَ يُظٰهِرُوۡنَ مِنۡ نِّسَآئِهِمۡ ثُمَّ يَعُوۡدُوۡنَ
Those people who support/help the common public or the weaker members of society, then they renew/reiterate.
That is, after providing support, they repeatedly speak with those ordinary people to whom they give confidence. What they say is also mentioned by saying:
لِمَا قَالُوۡا فَتَحۡرِيۡرُ رَقَبَةٍ مِّنۡ قَبۡلِ اَنۡ يَّتَمَآسَّا‌
For whom they say that before the two groups remain in mutual contact, the weaker members of society/common people must be looked after and made self-reliant, and their settlement must be arranged.
That is, influential people will remain in mutual contact with the common people and will settle them, meaning they will empower or make the socially weak self-sufficient.
ذٰلِكُمۡ تُوۡعَظُوۡنَ بِهٖ‌
Through this command mentioned above, you have been continuously warned.
وَاللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِيۡرٌ
And the Creator of the universe is informing about whatever deeds you perform.
Word-by-word
وہ لوگ جو — Those people who
وہ مدد کرتے/تعاون کرتے/سہارا بنتے ہیں — They help/cooperate/provide support
انکے عام عوام/معاشرتی کمزور افراد/معاشرتی بے وثوق افراد کا — Of their common public/socially weak people/socially insecure people
پھر وہ تجدید کرتے/اعادہ کرتے — Then they renew/repeat
اس کے لئے جو — For that which
انہوں نے بتایا — They said/explained
پس ایڈجسٹ کرنا/سیٹل کرنا — Then adjust/settle
دیکھ بھال/نگرانی میں کرنی ہے — Care/supervision has to be provided
کہ وہ باہمی طور پر رابطہ میں رہتے ہیں — That they remain in mutual contact
مذکورہ بالا تمہارا/وہ تمہیں — The above-mentioned is yours/that is for you
تم نے مستقبل کے انعام — You have future reward
اس کے ساتھ — With it
اور کائنات کا کریئیٹر — And the Creator of the universe
ساتھ جو تم عمل کرتے ہو — Along with whatever actions you perform
خبردینے والا ہے — Is the One who informs
فَمَنۡ لَّمۡ يَجِدۡ فَصِيَامُ شَهۡرَيۡنِ مُتَتَابِعَيۡنِ مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ يَّتَمَآسَّاؕ
Then whoever does not attain settlement, and if the two parties are already in mutual contact, then both parties continuously announce/publicize the matter.
That is, continuous contact should be maintained with those who need to be settled so that they may be adjusted and enabled to live a better life.
فَمَنۡ لَّمۡ يَسۡتَطِعۡ
Then whoever does not have the capability.
What should be done for the one who lacks capability is also stated by saying:
فَاِطۡعَامُ سِتِّيۡنَ مِسۡكِيۡنًا‌
Then the necessities of life should be provided to the maximum number of needy poor people.
ذٰلِكَ لِتُؤۡمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهٖ‌
This is so that you believe in Allah and His message.
وَتِلۡكَ حُدُوۡدُ اللّٰهِ‌
And those mentioned above are Allah’s rules of law/restrictions.
وَلِلۡكٰفِرِيۡنَ عَذَابٌ اَلِیْمٌ
And for those who deny these rules of law, there are pains and sufferings in the form of social disorder.
That is, if you do not provide the necessities of life to the common public and the weaker members of society, then punishment will come in the form of disorder. Today, in Pakistan, one can see that young people are not getting jobs or employment, resulting in disorder, violence, killings, and lawlessness. This too is a form of punishment.



Word-by-word
پھر جو — Then whoever
وہ نہیں پاتا — Does not attain/find
تو پھر رکنا/باز رہنا ہے — Then one must stop/refrain
مسلسل دونوں دونوں ہی معاملے کا اعلان/ایڈورٹائزمنٹ کرنے والے ہیں — Continuously both parties are announcing/publicizing the matter
پہلے سے — Beforehand/already
اگر وہ دونوں باہمی طور پر رابطہ میں ہوتے ہیں — If the two are in mutual contact
پھر جو کوئی — Then whoever
وہ صلاحیت نہ رکھتا ہو/وہ قابل نہ ہو — Does not have the ability/is not capable
ضروریات زندگی فراہم کرنا ہے — The necessities of life are to be provided
زیادہ تر/ہر صورت جلدی سے کم درجہ لوگوں کو — Mostly/in any case quickly to lower-status people
غریب افراد کو — To poor people
مذکورہ بالا/وہ — The above-mentioned/that
کہ تم اللہ اور اس کے پیغام کو مانتے ہو ساتھ — That you believe in Allah and His message
اور مندرجہ بالا — And the above-mentioned
اللہ کی شقیں/اللہ کی پابندیاں ہیں — Are Allah’s clauses/restrictions
اور ان حدبندیوں کا انکار کرنے والوں کے لئے — And for those who deny these limits
بگاڑ کی صورت میں والا دکھ تکلیف میں مبتلا کرنے والا عذاب ہے — There is punishment that causes pain and suffering in the form of disorder.
Note: 👈🔴 To review the lecture in detail, please visit the link given below. Thank you.


https://youtu.be/1ACy5vqDWTU

4 months ago (edited) |[YT] | 3

Haq studies

صیام سورت مجادلة
اس ایت میں کوٸی دوماہ نہیں اور بھوک ہڑتال تو بلکل بھی نہیں
اسکے58/3
وَالَّذِيۡنَ يُظٰهِرُوۡنَ مِنۡ نِّسَآئِهِمۡ ثُمَّ يَعُوۡدُوۡنَ لِمَا قَالُوۡا فَتَحۡرِيۡرُ رَقَبَةٍ مِّنۡ قَبۡلِ اَنۡ يَّتَمَآسَّا‌ ؕ ذٰلِكُمۡ تُوۡعَظُوۡنَ بِهٖ‌ ؕ وَاللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِيۡرٌ

وَالَّذِيۡنَ يُظٰهِرُوۡنَ مِنۡ نِّسَآئِهِمۡ ثُمَّ يَعُوۡدُوۡنَ
وہ لوگ جو عام عوام /معاشرےکےکمزورافراد کو سہارا دیتےہیں/تعاون کرتےہیں پھر وہ تجدید کرتے ہیں

یعنی سہارادینےکےبعد بارہا اعتماد دینےوالی ان عام عوام سےبات کرتےہیں تووہ کیاکہتےہیں وہ بھی بتایاگیاہےیہ کہہ کرکے

لِمَا قَالُوۡا فَتَحۡرِيۡرُ رَقَبَةٍ مِّنۡ قَبۡلِ اَنۡ يَّتَمَآسَّا‌ ؕ
جسکےلئے وہ کہتےہیں کہ پس اس سےپہلے کہ وہ دونوں گروہ باہمی طورپر رابطہ میں رہتے ہیں تو اس کے بعد معاشرےکے کمزورافراد/عام پبلک کی دیکھ بھال کرکے انکوخودمختارکرناہے/انکی سیٹل منٹ کرنی ہے

یعنی عام کیساتھ بااختیارلوگ باہمی طورپررابطہ میں رہیں گےاورانکو سیٹل کریں گےیعنی معاشرتی کمزورافرادکو بااختیاریا خودمختاربنائیں گے

ذٰلِكُمۡ تُوۡعَظُوۡنَ بِهٖ‌ ؕ

وہ/مذکورہ بالا تمہیں اس فرمان کےساتھ تمہیں مستقل خبردارکیاگیاہے۔

وَاللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِيۡرٌ
اور کائنات خلق کرنےوالاہے ساتھ خبردینےوالاہے جو تم کام کرتے ہو

۞
وَالَّذِيۡنَ------وہ لوگ جو
يُظٰهِرُوۡنَ۔۔۔۔۔۔وہ مددکرتے/تعاون کرتے /سہارا بنتے ہیں
مِنۡ نِّسَآئِهِمۡ۔۔۔۔۔۔۔انکے عام عوام/معاشرتی کمزور افراد /معاشرتی بےوثوق افرادکا
ثُمَّ يَعُوۡدُوۡنَ۔۔۔۔۔پھر وہ تجدیدکرتے/اعادہ کرتے
لِمَا ۔۔۔۔۔اسکے لئےجو
قَالُوۡا ۔۔۔۔۔۔۔انھوں نے بتایا
فَتَحۡرِيۡرُ ۔۔۔۔۔۔۔پس ایڈجیسٹ کرنا/سیٹل کرنا
رَقَبَةٍ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔دیکھ بھال/نگرانی میں کرنی ہے
مِّنۡ قَبۡلِ
اَنۡ يَّتَمَآسَّا‌ ؕکہ وہ باہمی طور پر رابطہ میں رہتے ہیں
ذٰ لِكُمۡ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مذکورہ بالا تمہارا/وہ تمہیں
تُوۡعَظُوۡنَ ۔۔۔۔تم نےمستقبل کےانعام
بِهٖ‌ ؕ۔۔۔۔۔۔۔۔اسکےساتھ
وَاللّٰهُ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور کائنات کآکرئیٹر
بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ ۔۔۔۔ساتھ جو تم عمل کرتے ہو
خَبِيۡرٌ۔۔۔۔خبردینے والاہے
58;4
فَمَنۡ لَّمۡ يَجِدۡ فَصِيَامُ شَهۡرَيۡنِ مُتَتَابِعَيۡنِ مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ يَّتَمَآسَّاؕ فَمَنۡ لَّمۡ يَسۡتَطِعۡ فَاِطۡعَامُ سِتِّيۡنَ مِسۡكِيۡنًا‌ؕ ذٰلِكَ لِتُؤۡمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهٖ‌ؕ وَتِلۡكَ حُدُوۡدُ اللّٰهِ‌ؕ وَلِلۡكٰفِرِيۡنَ عَذَابٌ اَلِیْمٌ ۞

فَمَنۡ لَّمۡ يَجِدۡ فَصِيَامُ شَهۡرَيۡنِ مُتَتَابِعَيۡنِ مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ يَّتَمَآسَّاؕ
پھر جو وہ سیٹلمنٹ نہیں پاتاپھراگر وہ دونوں فریق پہلے سے باہمی طور پر رابطہ میں ہوتےہیں تو
مسلسل دونوں فریق دونوں ہی معاملے کی /ایڈوٹاززمنٹس /اعلان کرتےہیں

یعنی جنکو سیٹل کرناہےانکےساتھ مسلسل رابطہ رکھناہےتاکہ انکوسیٹل یاانکی ایڈجسٹمنٹ کیجائےتاکہ وہ بہترین زندگی گزارنےکےقابل ہوجائیں

فَمَنۡ لَّمۡ يَسۡتَطِعۡ
پھر جوکوئی وہ صلاحیت نہیں رکھتا

جسکےپاس صلاحیت نہیں اسکےلئےکیاکرناہےوہ بھی بتایاگیاہےیہ کہہ کرکے

فَاِطۡعَامُ سِتِّيۡنَ مِسۡكِيۡنًا‌ؕ
پھر زیاد سے زیادہ درج کنندہ غریب افرادکو ضروریات زندگی فراہم کرنی ہے

ذٰلِكَ لِتُؤۡمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهٖ‌ؕ
مذکورہ بالاکہ ساتھ کہ تم اللہ اور اسکے ییغام کو مانتے ہو

وَتِلۡكَ حُدُوۡدُ اللّٰهِ‌ؕ
وہ مندرجہ بالا اللہ کارول آف لاءز/پابندیاں ہیں

وَلِلۡكٰفِرِيۡنَ عَذَابٌ اَلِیْمٌ
اور ان رول آف لاءز کا انکار کرنے والوں کے لئے بگاڑ کیصورت میں دکھ تکالیف ہیں
یعنی آپ عام عوام اور معاشرے کے کمزور افراد کو ضروریات زندگی فراہم نہیں کروگے تو بگاڑ کیصورت میں عذاب ملے گا آج آپ پاکستان میں دکھ لیں نوجوان کو نوکریاں یا روز گار نہیں مل رہا جسکی وجہ سے بگاڑ ہے اور مار دھاڑ قتل وغارت گیری جاری و ساری ہے یہ بھی عذاب کی ایک قسم ہے

ورڈ بائےورڈ
فَمَنۡ ۔۔۔۔پھر جو
لَّمۡ يَجِدۡ ۔۔۔۔۔۔وہ نہیں پاتا
فَصِيَامُ ۔۔تو پھر رکنا /بازرہنا ہے
شَهۡرَيۡنِ مُتَتَابِعَيۡنِ ۔۔۔۔۔۔مسلسل دونوں دونوں ہی معاملے کااعلان /ایڈوٹائزمنٹ کرنے والےہیں

مِنۡ قَبۡلِ ۔۔؟پہلے سے
اَنۡ يَّتَمَآسَّاؕ۔۔۔۔۔۔اگروہ دونوں باہمی طورپر رابطہ میں ہوتے ہیں

يَسۡتَطِعۡ فَاِطۡعَامُ سِتِّيۡنَ مِسۡكِيۡنًا‌ؕ
فَمَنۡ لَّمۡ -----پھر جوکوئی
يَسۡتَطِعۡ ۔۔۔۔وہ صلاحیت نہ رکھتاہو/وہ
قابل نہ ہو
فَاِطۡعَامُ ۔۔۔۔۔ضروریات زندگی فراہم کرناہے
سِتِّيۡنَ۔۔۔ زیادہ تر ۔۔۔۔ہر صورت جلدی سے کم درجہ لوگوں کو
مِسۡكِيۡنًا‌ؕ۔۔۔۔۔غریب افراد کو

ذٰلِكَ ۔۔۔۔مذکورہ بالا/وہ
لِتُؤۡمِنُوۡا بِاللّٰهِ ۔۔۔۔۔۔کہ تم اللہ اور اسکے پیغام کو مانتے ہو ساتھ

وَتِلۡكَ ۔۔۔اور مندرجہ بالا
حُدُوۡدُ اللّٰهِ‌ؕ۔۔۔۔۔۔اللہ کی شقیں /اللہ پابندیاں ہیں۔

وَلِلۡكٰفِرِيۡنَ ۔۔۔۔۔اور ان۔حدبندیوں کاانکار کرنے والوں کےلئے
عَذَابٌ اَلِیْمٌ ۞۔بگاڑکیصورت میں والادکھ تکلیف میں متبتلاکرنے والا عذاب ہے


نوٹ 👈🔴 لیکچر کا تفصیلی جاٸزہ لینے کے لیٸے نیچے دیٸے جانے والے لنک پر جاٸیں ۔شکریہ

https://youtu.be/1ACy5vqDWTU

4 months ago |[YT] | 2

Haq studies

عربک ادب میں "امرات کا معنی " عورت " نہیں اور اس بات کی تاٸید قران بھی کرتا ہے ایت پیش خدمت ہے اور اسکرین شارٹ بھی پیش خدمت ہے
👈🔴سورۂ نمل 27:23:
إِنِّي وَجَدْتُ امْرَأَةً تَمْلِكُهُمْ
میں نے ایک مجاز اتھارٹی کو پایا وہ ان کو کنٹرول کرتی ہے
👈
تملکھم۔۔میں ۔مالک۔۔کنٹرول کرنا۔۔کا معنی ہے اور کنٹرول ہمشہ مجاز اتھارٹی کرتی ہے مالک صرف حکم جاری کرتا ہے

4 months ago |[YT] | 7

Haq studies

surah Al_Ahzaab verse 37👇👇
english translation
السلام علیکم
In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
Friends, today we will discuss Surah Al-Ahzab, verse 37. Let me tell you that atheists use the conventional translation of this verse to utter blasphemies against the sacred personality of Muhammad ﷺ. The kind of offensive remarks they make cannot be repeated here. You must have seen their posts, live discussions, and lectures regarding the conventional translation of this verse. Our religious scholars and leaders have also heard them. Yet, instead of revisiting this translation, they continue to listen to such offensive discussions, lectures, and posts, but are unwilling to free themselves from this translation.
The discussions of atheists based on this conventional translation are heartbreaking. Sadly, our religious leaders are not reconsidering it.
👈♦️Note: For the complete lecture, visit the YouTube channel through the following link:
https://youtu.be/VI_-6B4UXS0
Friends, we will discuss later what the verse is actually saying. First, let us examine the conventional translation and how a belief derived from historical books has been imposed upon the verse, making it subordinate to historical narratives.
Translation:
👈 “And when you were saying to him (Zayd) upon whom Allah had bestowed favor and upon whom you had bestowed favor...”
Friends, the name “Zayd” in brackets is not present in this part of the verse at all. In this section, “لِلَّذِىۡۤ” is a masculine singular relative pronoun, and the pronoun “هِ” in “عَلَيۡهِ” (repeated twice) refers back to “مُؤْمِنٍ” mentioned in the previous verse. The address is therefore to any believer (peaceful person), because Allah’s favor upon a believer includes the Book, knowledge, and the blessings found throughout creation.
The translation further states:
👈 “Keep your wife (Zaynab) with you and fear Allah.”
This translation is taken from the phrase:
“اَمۡسِكۡ عَلَيۡكَ زَوۡجَكَ وَاتَّقِ اللّٰهَ”
The translators have rendered “عَلَيۡكَ” as “with you,” whereas it is a compound of “عَلَيۡ” and “كَ”. As is well known, “عَلَيۡ” means “upon” or “on.” However, because of a story found in traditions and history regarding a man named Zayd, they have translated it as “keep her with you” in order to fit that narrative.
Likewise, “اَمۡسِكۡ” relates to holding firmly, but it has been given meanings that are not inherent in the word. Furthermore, “زَوۡجَكَ” is an idafah (construct phrase), yet it has not been translated as such. The word “زَوۡجَ” means a counterpart or like-minded partner; it does not specifically mean “wife.” The specific feminine form “زَوْجَة” does not occur anywhere in the Qur’an.
The translation further says:
👈 “And you were concealing in your heart what Allah was going to reveal.”
This translation is taken from:
“وَتُخۡفِىۡ فِىۡ نَفۡسِكَ مَا اللّٰهُ مُبۡدِيۡهِ”
However, there is no word here that literally means “heart.” “نَفۡسِكَ” is itself an idafah construction, yet it has not been translated as such.
The translation further says:
👈 “And you feared the people concerning marriage to Zaynab, while Allah has more right that you should fear Him.”
This translation is based on:
“وَتَخۡشَى النَّاسَ ‌ۚ وَاللّٰهُ اَحَقُّ اَنۡ تَخۡشٰٮهُ”
Yet there is no mention of “Zaynab” in this phrase. Because of a pre-existing belief derived from traditions and historical reports, the verse has been made subordinate to that belief.
The translation further says:
👈 “Then when Zayd had fulfilled his desire with her (and divorced her)...”
The relevant part contains the word “زَيۡدٌ,” which is an adjective, similar to “خَيرٌ”. Translators render “خَيرٌ” according to its meaning, but because of their beliefs they leave “زَيۡدٌ” untranslated. “زَيۡدٌ” and “مَزِيدٌ” belong to the same word family.
According to this translation, it appears that a man named Zayd fulfilled his sexual desire and then divorced an innocent woman so that someone else could fulfill his desire with her. The words “divorced her” are inserted in brackets even though no such words exist in the verse.
The translation further says:
👈 “We married her to you so that there would be no difficulty for the believers regarding the wives of their adopted sons when they had fulfilled their desire with them.”
According to this translation, every believer could fulfill his sexual desire with his wife, divorce her, and then hand her over to another believer. It would also imply that adopted sons should divorce their wives after fulfilling their desire so that their adoptive fathers could marry them. This translation reduces women to mere objects of sexual gratification.
However, in the phrase:
“زَوَّجۡنٰكَهَا لِكَىۡ لَا يَكُوۡنَ عَلَى الۡمُؤۡمِنِيۡنَ حَرَجٌ فِىۡۤ اَزۡوَاجِ اَدۡعِيَآئِهِمۡ”
there is no word corresponding to “marriage ceremony” or “nikah.” Instead, we find:
“زَوَّجۡنٰكَهَا”
where “زَوَّج” relates to pairing, “نَا” is the plural speaker, “كَ” is the masculine singular addressee, and “هَا” refers back to the believing community.
Similarly, “اَدۡعِيَآئِهِمۡ” is an idafah construction, yet it has not been translated as such. Its root is “دُعَاء,” which means calling, invitation, appeal, request, supplication, or proclamation.
Likewise, “قَضَوۡا” means “they decided,” and “وَطَرًا” is a descriptive noun meaning an objective, purpose, or intended goal.
Now let us translate the verse:
👇👇👇👇👇👇👇
👈♦️وَاِ ذْ تَقُوْلُ لِلَّذِيْۤ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَيْهِ وَاَ نْعَمْتَ عَلَيْهِ
“And whenever you say to that peaceful individual upon whom Allah has bestowed a gift (the Book), and upon whom you also bestowed a gift...”
Note: The favor mentioned in “اَنْعَمْتَ” is the Book, as indicated in Al-Baqarah 40 and 47. Through it, Allah’s commands are conveyed to peaceful individuals.
👈♦️اَمْسِكْ عَلَيْكَ زَوْجَكَ وَا تَّقِ اللّٰهَ
“Hold firmly to your like-minded companion upon yourself, and make Allah your guide.”
👈♦️وَتُخْفِيْ فِيْ نَفْسِكَ مَا اللّٰهُ مُبْدِيْهِ
“And you were concealing within your own self what Allah was going to make manifest.”
👈♦️وَتَخْشَى النَّا سَ ۚ وَا للّٰهُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشٰہ ۗ
“And you seek sincerity among the people, but Allah is more deserving that you be sincere to Him.”
👈♦️فَلَمَّا قَضٰى زَيْدٌ مِّنْهَا وَطَرًا زَوَّجْنٰكَهَا
“Then gradually Allah increases the objective within this choice, and We joined this believing community to you.”
👈♦️لِكَيْ لَا يَكُوْنَ عَلَى الْمُؤْمِنِيْنَ حَرَجٌ فِيْۤ اَزْوَا جِ اَدْعِيَآئِهِمْ
“So that there may be no restriction upon the believers concerning the like-minded companions of their call and invitation.”
👈♦️اِذَا قَضَوْا مِنْهُنَّ وَطَرًا ۗ
“Whenever they decide upon the objective and purpose from among those believing groups.”
👈♦️وَكَا نَ اَمْرُ اللّٰهِ مَفْعُوْلًا
“And Allah’s command is bound to be carried out.”
Word-for-word meanings:
وَاِ ذْ — And whenever
تَقُوْلُ — You say
لِلَّذِيْۤ — To that individual who
اَنْعَمَ اللّٰهُ — Allah bestowed favor upon
عَلَيْهِ — Upon him
وَاَ نْعَمْتَ — And you bestowed favor
عَلَيْهِ — Upon him
اَمْسِكْ — Hold firmly
عَلَيْكَ — Upon yourself
زَوْجَكَ — Your like-minded companion
وَا تَّقِ اللّٰهَ — And rely upon Allah
وَتُخْفِيْ — And you conceal
فِيْ نَفْسِكَ — Within yourself
مَا اللّٰهُ — What Allah
مُبْدِيْهِ — Will make manifest
وَتَخْشَى النَّا سَ — And you seek sincerity among the people
وَا للّٰهُ — And Allah
اَحَقُّ — Is more deserving
اَنْ تَخْشٰہ — That you be sincere to Him
فَلَمَّا — Then / thereafter
قَضٰى — He decided
زَيْدٌ — One who increases
مِّنْهَا — From this choice
وَطَرًا — The intended objective
زَوَّجْنٰكَهَا — We joined it to you
لِكَيْ — So that
لَا يَكُوْنَ — There may not be
عَلَى الْمُؤْمِنِيْنَ — Upon the believers
حَرَجٌ — Any restriction
فِيْۤ اَزْوَا جِ — Among the like-minded companions
اَدْعِيَآئِهِمْ — Of their call and invitation
اِذَا قَضَوْا — Whenever they decide
مِنْهُنَّ — From among them
وَطَرًا — The intended objective
وَكَا نَ — And it is
اَمْرُ اللّٰهِ — Allah’s command
مَفْعُوْلًا — Destined to be carried out.

4 months ago |[YT] | 2