Under the esteemed umbrella of Jamia Rahmani Khanqah, Munger, our channel is dedicated to producing high-quality, thoughtful videos that address sensitive issues with clarity and compassion. Our foremost mission is to educate and enlighten our Muslim brothers and sisters, while also sharing with the world the true essence of Islam — a faith rooted in peace, justice, and mercy.
Through every piece of content, we strive to uphold the timeless values of Islamic teachings, presenting them in a manner that resonates with the contemporary world. Alongside our commitment to religious integrity, we also remain deeply attentive to the democratic and constitutional dimensions of the issues we explore.
In all our efforts, our aim is to inspire understanding, foster harmony, and encourage meaningful dialogue in society.
+919162365566
Fikr o Nazar TV
بلیا، اتر پردیش: سات سالہ راگنی، جو منیئر کے پرائمری اسکول دِگھیڑا میں جماعت اول کی طالبہ ہے، ایک حادثے میں ایک ٹانگ سے محروم ہونے کے باوجود تعلیم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ وہ روزانہ اپنی واحد صحت مند ٹانگ کے سہارے تقریباً 400 میٹر کا فاصلہ طے کرکے اسکول پہنچتی ہے۔ مالی مشکلات کے باعث اہلِ خانہ اس کے لیے مناسب سہولت یا مصنوعی ٹانگ کا انتظام نہیں کر سکے ہیں۔ اب راگنی نے بلیا کے ضلع مجسٹریٹ سے معصومانہ اپیل کی ہے: ’’DM انکل، مجھے سائیکل دِلوا دیجیے۔ میں روز اسکول پڑھنے آؤں گی....‘‘ راگنی کی خواہش ہے کہ وہ تعلیم حاصل کرکے آگے چل کر ڈاکٹر بنے اور دوسروں کی مدد کرے۔ اس کی اپیل نے انتظامیہ اور معاشرے سے اس بچی کی تعلیم اور آمدورفت کو آسان بنانے کے لیے فوری تعاون کی توقع پیدا کر دی ہے۔
۱۹ / ربیع الاول ١٤٤۸ھ
بروز بدھ
5 hours ago | [YT] | 14
View 0 replies
Fikr o Nazar TV
امارت شرعیہ ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر ٹرسٹ کی میٹنگ امیر شریعت حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی دامت برکاتہم سجادہ نشیں خانقاہ رحمانی مونگیر کی صدارت میں منعقد۔
7 hours ago | [YT] | 107
View 0 replies
Fikr o Nazar TV
مدھیہ پردیش کے اُجّین میں منگل، یکم ستمبر کو میونسپل کارپوریشن نے کے ڈی گیٹ سڑک کی توسیع کے منصوبے کے تحت مدینہ مسجد کے ایک حصے پر بلڈوزر چلا دیا۔
۱۹ / ربیع الاول ١٤٤۸ھ
بروز بدھ
9 hours ago | [YT] | 46
View 1 reply
Fikr o Nazar TV
کھٹمنڈو: نیپال میں شدید بارشوں اور سیلاب کے باعث ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 1,127 ہو گئی ہے، جبکہ تقریباً 4,000 افراد اب بھی لاپتہ ہیں، جن میں 583 غیر ملکی اور 83 سیکیورٹی اہلکار شامل ہیں۔ ریسکیو ٹیمیں اور سیکیورٹی فورسز متاثرہ آٹھ اضلاع میں امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں اور مختلف علاقوں سے لاشیں نکالی جا رہی ہیں۔
دریں اثنا، بھارت نے امدادی سرگرمیوں میں تعاون کے لیے 11 رکنی ریسکیو ٹیم، خصوصی آلات اور 5.5 ٹن ضروری ادویات سے لیس اپنا پانچواں طیارہ نیپال روانہ کیا ہے۔ مسلسل بارش کے باعث سندھولی میں سن کوشی، گورکھا میں بدھی گنڈکی اور ڈڈیلدھورا میں مہاکالی سمیت کئی دریاؤں کی سطحِ آب انتباہی حد سے تجاوز کر گئی ہے، جبکہ مرسیانگدی میں بھی پانی مسلسل بڑھ رہا ہے۔ نیپالی حکام نے دریاؤں کے کنارے اور نشیبی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو انتہائی محتاط رہنے، صورتِ حال بگڑنے پر محفوظ مقامات کی جانب منتقل ہونے اور تازہ صورتحال پر نظر رکھنے کی ہدایت کی ہے۔
۱۹ / ربیع الاول ١٤٤۸ھ
بروز بدھ
14 hours ago | [YT] | 46
View 0 replies
Fikr o Nazar TV
’’وطن کے سپوت‘‘نئی نسل کوملک کی حقیقی تاریخ، شناخت اور تہذیب سے جوڑنے کی ایک مؤثر کوشش: فضل رحمٰں رحمانی
جنگِ آزادیِ ہند کی نظر انداز کردہ تاریخ اور خانوادۂ رحمانی کی مختلف خدمات پر مفتی ریاض احمد قاسمی کی تحقیقی تصنیف منظرِ عام پر
مونگیر (پریس ریلیز)2 ستمبر 2026 جامعہ رحمانی مونگیر کے استاذِ حدیث و فقہ مولانا مفتی ریاض احمد قاسمی کی تازہ تصنیف ’’وطن کے سپوت‘‘ شاندار کتابت و طباعت کے ساتھ منظرِ عام پر آ گئی ہے۔ کتاب کو دارالاشاعت، خانقاہ رحمانی مونگیر نے شائع کیا ہے اور اس کی قیمت دو سو روپے مقرر کی گئی ہے۔ مصنف جامعہ رحمانی مونگیر میں تفسیر، فقہ اور حدیث کی تدریس سے وابستہ ہیں اور دارالعلوم دیوبند کے سابق معین المدرسین ہیں۔ یہ کتاب انہی کی تحقیق و مطالعے کا نچوڑ ہے۔
کتاب کی اشاعت پر امیرِ شریعت، مفکرِ ملت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی دامت برکاتہم، سجادہ نشیں خانقاہ رحمانی مونگیر نے گہری مسرت کا اظہار کیا اور اسے ایک قابلِ قدر علمی و ادبی کاوش قرار دیا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ کتاب دراصل مختلف النوع مقالات کا مجموعہ ہے، جسے موضوعی اعتبار سے دو بڑے حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ پہلا حصہ جنگِ آزادیِ ہند کے ان ابتدائی نقوش کو سامنے لاتا ہے، جو 1857ء سے بہت پہلے ہی اس سرزمین میں آزادی کی تڑپ، فکری بیداری اور عملی جدوجہد کی صورت میں موجود تھے، ( جسے اب ایک خاص نظریے کے تحت گمنام کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ) جب کہ دوسرا حصہ خانقاہ رحمانی مونگیر کے دو عظیم بزرگوں قطبِ عالم مولانا محمد علی مونگیری ؒاور والدِ گرامی، مفکرِ اسلام مولانا محمد ولی رحمانی ؒکی علمی، فکری، اصلاحی اور عملی و سیاسی خدمات کا آئینہ دار ہے۔ امیرِ شریعت کے بقول قطبِ عالم مولانا محمد علی مونگیری کی فقہی خدمات پر مبنی مقالہ اختصار کے باوجود جامعیت کا حامل ہے اور ان کی فقہی خدمات کے تعارف کے لیے ایک معتبر و مفید ماخذ کی حیثیت رکھتا ہے، جب کہ اس کے بعد کے مقالات مفکرِ اسلام مولانا محمد ولی رحمانیؒ کی فقہی بصیرت، تعلیمی جدوجہد، سماجی خدمات اور سیاسی فکر کو سادہ مگر مؤثر انداز میں پیش کرتے ہیں۔ امیرِ شریعت نے یہ بھی کہا کہ مصنف کا اسلوب سادہ، شگفتہ اور عام فہم ہے اور غیر ضروری طوالت سے اجتناب کے ساتھ جامعیت کا اہتمام اس کتاب کی نمایاں خوبیوں میں سے ہے، جس کے باعث یہ کتاب نہ صرف مدارس کے طلبہ و اساتذہ، بلکہ آزادی کی تاریخ، اکابرین کی خدمات اور خانقاہ رحمانی مونگیر کے علمی و فکری ورثے میں دلچسپی رکھنے والے تمام اہلِ ذوق کے لیے یکساں مفید ہے۔
دارالعلوم دیوبند کے شیخ الحدیث و مہتمم مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی نے بھی اس موقع پر اپنے تاثرات قلم بند کیے ہیں۔ ان کے بقول ’’وطن کے سپوت‘‘ ایک محققانہ اور فکر انگیز کتاب ہے جو مجموعی طور پر اہلِ ذوق کے لیے دلچسپ معلومات کا خزانہ ہے اور حواشی و حوالہ جات کی پابندی نے اس کی علمی معتبریت میں مزید اضافہ کیا ہے، جب کہ امارت شرعیہ کے نائب ناظم مفتی محمد ثناء الہدی قاسمی کے بقول مصنف نے کتاب کی ترتیب میں جدید تحقیقی اسلوب اپنایا ہے، پیش لفظ اور تمہید کے بعد وطن کی محبت، وطن کی آزادی و تعمیر میں حصہ داری اور جنگِ آزادی کے مفہوم و مقاصد پر گفتگو کر کے قاری کو موضوع سے قریب کیا گیا ہے، جس کے بعد ایک مختصر مقدمہ بھی شامل ہے، جس میں یورپی اقوام کی ہندوستان آمد اور ان کے خلاف مزاحمت کی طویل داستان کو اس خوبصورتی سے سمیٹا گیا ہے کہ دریا بکوزہ کی مثال سامنے آجاتی ہے۔ اس تمہیدی گفتگو کے بعد کتاب کا اصل مقالہ تین ابواب پر مشتمل ہے: پہلے باب میں علی وردی خان، سراج الدولہ، میر قاسم، نواب حیدر علی، ٹیپو سلطان شہید، اہلِ کیرالہ کی انگریزوں کے خلاف مسلح مزاحمت اور جدوجہدِ آزادی میں خدمات زیرِ بحث آئی ہیں۔ دوسرے باب میں شاہ ولی اللہ محدث دہلوی، شاہ عبدالعزیز، سید احمد شہید، علماءِ صادق پور، مولانا سید محمد علی رام پوری، مولانا احمد اللہ اور بنگال کی فرائضی تحریک کی انگریز مخالف سرگرمیوں اور ان کے اثرات کا تحقیقی جائزہ لیا گیا ہے، جبکہ تیسرا باب ان تحریکوں کے براہِ راست نتائج کو سامنے لاتا ہے، جس میں روہیل کھنڈ کی جنگ، امیر خان، مفتی محمد عوض، مولانا نصیر الدین دہلوی، علماءِ دیوبند اور جنگِ شاملی، اور جنگِ بریلی جیسے واقعات کا تاریخی و تحقیقی تجزیہ شامل ہے۔
اسی ذیل میں مصنف نے ایک اہم اصطلاحی نکتہ بھی واضح کیا ہے کہ 1857ء انگریزوں کے خلاف پہلی جنگ نہیں تھی، بلکہ اس سے پہلے ہی مسلمان ہندوستان کو انگریزی تسلط سے آزاد کرانے کے لیے مختلف محاذ پر سرگرمِ عمل ہو چکے تھے۔ اس پہلے تفصیلی مقالے کے بعد کتاب میں مزید چار اہم عنوانات کے تحت مقالات کا سلسلہ جاری رہتا ہے، پہلا مقالہ مولانا محمد علی مونگیری کی علمی و فقہی خدمات اور ان کے تربیت یافتہ فقہاء کے تعارف پر مشتمل ہے، جب کہ باقی تین مقالات بالترتیب امیرِ شریعتِ سابع مولانا محمد ولی رحمانیؒ کی فقہی بصیرت، ان کی دینی وعصری تعلیم سے متعلق فکر و عمل کے چند گوشوں اور ان کے سیاسی نظریات کے تفصیلی جائزے پر مشتمل ہیں۔ کتاب کے سلسلہ میں یہ تفصیلات جناب فضل رحمٰں رحمانی ،ایچ او ڈی شعبہ صحافت جامعہ رحمانی مونگیر نے ایک پریس بیانیہ مین پیش کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ کتاب کا اصل مقصد نئی نسل کو موجودہ ہندوستان میں اپنی تاریخ، علمی روایات، تعلیمی نظام اور سیاسی حکمتِ عملی کے متعلق صحیح رہنمائی فراہم کرنا ہے، تاکہ اپنی شناخت اور ثقافت کے ساتھ اس ملک میں سر اٹھا کر جینے کی راہ آسان ہو سکے۔ کتاب کی ایک نمایاں خوبی یہ بھی ہے کہ اس میں مذکور شخصیات، مقامات، تحریکات اور اصطلاحات کو حروفِ تہجی کی ترتیب سے اشاریے کے تحت یکجا کر دیا گیا ہے، جو قاری کے لیے سہولت کے ساتھ ساتھ مزید تحقیق کے دروازے بھی کھولتا ہے۔ کتاب کی زبان سادہ اور سلیس رکھی گئی ہے اور عربی و فارسی الفاظ کی بھرمار سے اسے بوجھل بنانے کی کوشش نہیں کی گئی۔یوں ’’وطن کے سپوت‘‘ ایک ایسا علمی سرمایہ بن کر سامنے آتا ہے، جو جنگِ آزادی کی نظرانداز شدہ کڑیوں کو تاریخی حوالوں کی روشنی میں مربوط اور مستحکم کر تا ہے، ساتھ ہی خانقاہ رحمانی مونگیر کے اکابر کی علمی، فقہی، تعلیمی اور سیاسی خدمات کو ایک حسین گلدستہ کی صورت میں پیش کرتا ہے، جس سے نسلِ نو کو یہ پیغام جاتا ہے کہ یہ ملک ہمارا ہے اور ہمیں اس کے وسائل سے استفادہ کا پورا حق ہے، جیسا کہ اس کی حفاظت اور استحکام و ترقی ہمارا فرض ہے۔
پیغام کی اسی جامعیت اور مختلف ضروری افکار کے اس حسین امتزاج کے باعث اہلِ علم و تحقیق کے حلقوں میں کتاب کا پرتپاک استقبال کیا جا رہا ہے۔
کتاب حاصل کرنے کے لئے براہ راست مصنف سے 7079707529 پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔
17 hours ago | [YT] | 91
View 1 reply
Fikr o Nazar TV
امارتِ شرعیہ بہار، اڈیشہ، جھارکھنڈ و مغربی بنگال کے مرکزی دفتر پھلواری شریف، پٹنہ میں امارتِ شرعیہ ٹرسٹ کی اہم میٹنگ کا منظر۔
17 hours ago | [YT] | 90
View 1 reply
Fikr o Nazar TV
بہار کے سیمانچل خطے کے کشن گنج ضلع کے بہادر گنج اسمبلی حلقے سے ایک تصویر سامنے آئی ہے، جس میں ایک میت کو تدفین کے لیے قبرستان لے جانے والے افراد ندی کا پانی عبور کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ مقامی سطح پر بنیادی راستے یا پل کی سہولت نہ ہونے کے باعث لوگوں کو پانی میں اتر کر جنازہ دوسری جانب پہنچانا پڑا، جس نے علاقے میں بنیادی شہری سہولتوں اور عوامی نمائندگی کے دعوؤں پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اس واقعے کے تناظر میں لوک سبھا رکن ڈاکٹر جاوید، بہادر گنج کے موجودہ رکنِ اسمبلی توصیف عالم اور دیگر مقامی نمائندوں کی ذمہ داری پر بھی سوال اٹھائے گئے ہیں۔ تصویر میں اس صورتِ حال کو آزادی کے 80 برس بعد بھی پسماندہ علاقوں میں بنیادی سہولتوں کی کمی کی افسوس ناک مثال قرار دیتے ہوئے عوامی نمائندوں سے جواب طلب کیا گیا ہے۔
۱۹ / ربیع الاول ١٤٤۸ھ
بروز بدھ
18 hours ago | [YT] | 111
View 3 replies
Fikr o Nazar TV
نئی دہلی: طلبہ مظاہرین کے خلاف درج مقدمات کے معاملے میں سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ مرکزی حکومت اور دہلی پولیس نے سی جے پی قیادت کو دی گئی یقین دہانیوں پر عمل کرنے کا عزم ظاہر کیا، جس کے بعد کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے ترجمان سورو داس نے عدالت کو بتایا کہ مظاہرین کے خلاف مقدمات واپس لینے کے لیے حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کے پیش نظر پارٹی 5 ستمبر کو مجوزہ مارچ منسوخ کر رہی ہے۔ سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے بتایا کہ 20 سے 25 جولائی کے درمیان درج ایف آئی آرز کی پیروی نہ کرنے اور مزید ایف آئی آر درج نہ کرنے سمیت دیگر یقین دہانیوں پر عمل کیا جا رہا ہے۔ عدالت نے سنگین جرائم میں ملوث 2,873 افراد کے خلاف تازہ ایف آئی آر درج کرنے کی اجازت دیتے ہوئے خودکشی کرنے والے طلبہ کے اہل خانہ کو تین ماہ کے اندر معاوضہ فراہم کرنے کی بھی ہدایت دی۔ مرکزی وزیر جے پی نڈا نے سی جے پی کی جانب سے مارچ منسوخ کرنے کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا، "طلباء کے مستقبل کو ذہن میں رکھتے ہوئے، ہم نے حکومت ہند کی جانب سے یقین دہانی کرائی تھی کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف درج مقدمات واپس لے لیے جائیں گے اور مستقبل میں ان کے خلاف کوئی سخت کارروائی نہیں کی جائے گی۔"
۱۸ / ربیع الاول ١٤٤۸ھ
بروز منگل
1 day ago | [YT] | 59
View 0 replies
Fikr o Nazar TV
کاکروچ جنتا پارٹی کے سورَو داس سپریم کورٹ کے سامنے پیش ہوئے اور کہا کہ مظاہرین کے خلاف مقدمات واپس لینے کے لیے مرکز کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کے پیش نظر سی جے پی نے 5 ستمبر کو ہونے والے مارچ کی اپیل واپس لے لی ہے۔
۱۸ / ربیع الاول ١٤٤۸ھ
بروز منگل
1 day ago | [YT] | 51
View 0 replies
Fikr o Nazar TV
وطن کے سپوت: جنگِ آزادیِ ہند کی نظر انداز کردہ تاریخ اور خانوادۂ رحمانی کی مختلف خدمات پر مفتی ریاض احمد قاسمی کی تحقیقی تصنیف منظرِ عام پر
فضل رحمٰں رحمانی
ایچ او ڈی شعبۂ صحافت
جامعہ رحمانی خانقاہ مونگیر
جامعہ رحمانی مونگیر کے استاذِ حدیث و فقہ مولانا مفتی ریاض احمد قاسمی کی تازہ تصنیف ’’وطن کے سپوت‘‘ شاندار کتابت و طباعت کے ساتھ منظرِ عام پر آ گئی ہے۔ کتاب کو دارالاشاعت، خانقاہ رحمانی مونگیر نے شائع کیا ہے اور اس کی قیمت دو سو روپے مقرر کی گئی ہے۔ مصنف جامعہ رحمانی مونگیر میں تفسیر، فقہ اور حدیث کی تدریس سے وابستہ ہیں اور دارالعلوم دیوبند کے سابق معین المدرسین ہیں۔ یہ کتاب انہی کی تحقیق و مطالعے کا نچوڑ ہے۔
کتاب کی اشاعت پر امیرِ شریعت مفکرِ ملت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی دامت برکاتہم، سجادہ نشیں خانقاہ رحمانی مونگیر نے گہری مسرت کا اظہار کیا اور اسے ایک قابلِ قدر علمی و ادبی کاوش قرار دیا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ کتاب دراصل مختلف النوع مقالات کا مجموعہ ہے، جسے موضوعی اعتبار سے دو بڑے حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ پہلا حصہ جنگِ آزادیِ ہند کے ان ابتدائی نقوش کو سامنے لاتا ہے، جو 1857ء سے بہت پہلے ہی اس سرزمین میں آزادی کی تڑپ، فکری بیداری اور عملی جدوجہد کی صورت میں موجود تھے، ( جسے اب ایک خاص نظریے کے تحت گمنام کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ) جب کہ دوسرا حصہ خانقاہ رحمانی مونگیر کے دو عظیم بزرگوں — قطبِ عالم مولانا محمد علی مونگیری اور والدِ گرامی، مفکرِ اسلام مولانا محمد ولی رحمانی — کی علمی، فکری، اصلاحی اور عملی و سیاسی خدمات کا آئینہ دار ہے۔ امیرِ شریعت کے بقول قطبِ عالم مولانا محمد علی مونگیری کی فقہی خدمات پر مبنی مقالہ اختصار کے باوجود جامعیت کا حامل ہے اور ان کی فقہی خدمات کے تعارف کے لیے ایک معتبر و مفید ماخذ کی حیثیت رکھتا ہے، جب کہ اس کے بعد کے مقالات مفکرِ اسلام مولانا محمد ولی رحمانیؒ کی فقہی بصیرت، تعلیمی جدوجہد، سماجی خدمات اور سیاسی فکر کو سادہ مگر مؤثر انداز میں پیش کرتے ہیں۔ امیرِ شریعت نے یہ بھی کہا کہ مصنف کا اسلوب سادہ، شگفتہ اور عام فہم ہے اور غیر ضروری طوالت سے اجتناب کے ساتھ جامعیت کا اہتمام اس کتاب کی نمایاں خوبیوں میں سے ہے، جس کے باعث یہ کتاب نہ صرف مدارس کے طلبہ و اساتذہ، بلکہ آزادی کی تاریخ، اکابرین کی خدمات اور خانقاہ رحمانی مونگیر کے علمی و فکری ورثے میں دلچسپی رکھنے والے تمام اہلِ ذوق کے لیے یکساں مفید ہے۔
دارالعلوم دیوبند کے شیخ الحدیث و مہتمم مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی نے بھی اس موقع پر اپنے تاثرات قلم بند کیے ہیں۔ ان کے بقول ’’وطن کے سپوت‘‘ ایک محققانہ اور فکر انگیز کتاب ہے جو مجموعی طور پر اہلِ ذوق کے لیے دلچسپ معلومات کا خزانہ ہے اور حواشی و حوالہ جات کی پابندی نے اس کی علمی معتبریت میں مزید اضافہ کیا ہے، جب کہ امارت شرعیہ کے نائب ناظم مفتی محمد ثناء الہدی قاسمی کے بقول مصنف نے کتاب کی ترتیب میں جدید تحقیقی اسلوب اپنایا ہے، پیش لفظ اور تمہید کے بعد وطن کی محبت، وطن کی آزادی و تعمیر میں حصہ داری اور جنگِ آزادی کے مفہوم و مقاصد پر گفتگو کر کے قاری کو موضوع سے قریب کیا گیا ہے، جس کے بعد ایک مختصر مقدمہ بھی شامل ہے، جس میں یورپی اقوام کی ہندوستان آمد اور ان کے خلاف مزاحمت کی طویل داستان کو اس خوبصورتی سے سمیٹا گیا ہے کہ دریا بکوزہ کی مثال سامنے آجاتی ہے۔ اس تمہیدی گفتگو کے بعد کتاب کا اصل مقالہ تین ابواب پر مشتمل ہے: پہلے باب میں علی وردی خان، سراج الدولہ، میر قاسم، نواب حیدر علی، ٹیپو سلطان شہید، اہلِ کیرالہ کی انگریزوں کے خلاف مسلح مزاحمت اور جدوجہدِ آزادی میں خدمات زیرِ بحث آئی ہیں۔ دوسرے باب میں شاہ ولی اللہ محدث دہلوی، شاہ عبدالعزیز، سید احمد شہید، علماءِ صادق پور، مولانا سید محمد علی رام پوری، مولانا احمد اللہ اور بنگال کی فرائضی تحریک کی انگریز مخالف سرگرمیوں اور ان کے اثرات کا تحقیقی جائزہ لیا گیا ہے، جبکہ تیسرا باب ان تحریکوں کے براہِ راست نتائج کو سامنے لاتا ہے، جس میں روہیل کھنڈ کی جنگ، امیر خان، مفتی محمد عوض، مولانا نصیر الدین دہلوی، علماءِ دیوبند اور جنگِ شاملی، اور جنگِ بریلی جیسے واقعات کا تاریخی و تحقیقی تجزیہ شامل ہے۔
اسی ذیل میں مصنف نے ایک اہم اصطلاحی نکتہ بھی واضح کیا ہے کہ 1857ء انگریزوں کے خلاف پہلی جنگ نہیں تھی، بلکہ اس سے پہلے ہی مسلمان ہندوستان کو انگریزی تسلط سے آزاد کرانے کے لیے مختلف محاذ پر سرگرمِ عمل ہو چکے تھے۔
اس پہلے تفصیلی مقالے کے بعد کتاب میں مزید چار اہم عنوانات کے تحت مقالات کا سلسلہ جاری رہتا ہے، پہلا مقالہ مولانا محمد علی مونگیری کی علمی و فقہی خدمات اور ان کے تربیت یافتہ فقہاء کے تعارف پر مشتمل ہے، جب کہ باقی تین مقالات بالترتیب امیرِ شریعتِ سابع مولانا محمد ولی رحمانی کی فقہی بصیرت، ان کی دینی وعصری تعلیم سے متعلق فکر و عمل کے چند گوشوں اور ان کے سیاسی نظریات کے تفصیلی جائزے پر مشتمل ہیں۔ کتاب کا اصل مقصد نئی نسل کو موجودہ ہندوستان میں اپنی تاریخ، علمی روایات، تعلیمی نظام اور سیاسی حکمتِ عملی کے متعلق صحیح رہنمائی فراہم کرنا ہے، تاکہ اپنی شناخت اور ثقافت کے ساتھ اس ملک میں سر اٹھا کر جینے کی راہ آسان ہو سکے۔ کتاب کی ایک نمایاں خوبی یہ بھی ہے کہ اس میں مذکور شخصیات، مقامات، تحریکات اور اصطلاحات کو حروفِ تہجی کی ترتیب سے اشاریے کے تحت یکجا کر دیا گیا ہے، جو قاری کے لیے سہولت کے ساتھ ساتھ مزید تحقیق کے دروازے بھی کھولتا ہے۔ کتاب کی زبان سادہ اور سلیس رکھی گئی ہے اور عربی و فارسی الفاظ کی بھرمار سے اسے بوجھل بنانے کی کوشش نہیں کی گئی۔
یوں ’’وطن کے سپوت‘‘ ایک ایسا علمی سرمایہ بن کر سامنے آتا ہے، جو جنگِ آزادی کی نظرانداز شدہ کڑیوں کو تاریخی حوالوں کی روشنی میں مربوط اور مستحکم کر تا ہے، ساتھ ہی خانقاہ رحمانی مونگیر کے اکابر کی علمی، فقہی، تعلیمی اور سیاسی خدمات کو ایک حسین گلدستہ کی صورت میں پیش کرتا ہے، جس سے نسلِ نو کو یہ پیغام جاتا ہے کہ یہ ملک ہمارا ہے اور ہمیں اس کے وسائل سے استفادہ کا پورا حق ہے، جیسا کہ اس کی حفاظت اور استحکام و ترقی ہمارا فرض ہے۔
پیغام کی اسی جامعیت اور مختلف ضروری افکار کے اس حسین امتزاج کے باعث اہلِ علم و تحقیق کے حلقوں میں کتاب کا پرتپاک استقبال کیا جا رہا ہے۔
کتاب حاصل کرنے کے لئے براہ راست مصنف سے 7079707529 پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔
۱۸ / ربیع الاول ١٤٤۸ھ
بروز منگل
1 day ago | [YT] | 86
View 1 reply
Load more