رابعہ ایک سادہ دل اور نرم مزاج لڑکی تھی۔ وہ ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتی تھی، مگر دل بہت بڑا تھا۔ شادی ہوئی تو اس نے سوچا اب نئی زندگی شروع ہو گی — محبت، عزت، سکون۔
لیکن قسمت نے کچھ اور لکھا تھا…
ساس ہر بات پر طعنہ دیتی: "تمہارے جیسے غریب لوگ ہمارے خاندان میں نہیں آتے!" چائے میں چینی کم ہو تو ڈانٹ، کھانے میں نمک زیادہ ہو تو طعنہ۔ شوہر سب کچھ سنتا… مگر خاموش رہتا۔
رابعہ راتوں کو روتی، دن میں مسکراتی… کیوں؟ کیونکہ وہ چاہتی تھی کہ اس کے گھر کا ماحول خراب نہ ہو۔
ایک دن ساس نے اتنی ذلت کی، کہ وہ کچن کے فرش پر بیٹھ کر رونے لگی۔ شوہر نے دیکھا… مگر پھر بھی کچھ نہ بولا۔ تب رابعہ نے رب سے بات کی، انسانوں سے نہیں۔
مہینوں بعد، وہی رابعہ ایک اسکول میں پڑھانے لگی، بچوں کو پیار سے سکھاتی، مسکراہٹ بانٹتی، آنکھوں میں درد چھپائے۔
ایک دن اس کے شوہر نے اسکول کے باہر اسے دیکھا… بچوں میں گھری، ہنستی ہوئی… ایک عزت دار، مضبوط عورت۔
اسی دن سے اس نے اپنی ماں کو خاموش کروا دیا، اور رابعہ سے معافی مانگی۔
رابعہ نے معاف کر دیا… مگر جو دل ٹوٹا تھا، وہ کبھی نہ جڑ سکا۔
❤️ سبق:
کبھی کسی کی خاموشی کو کمزوری نہ سمجھو۔ کچھ لوگ برداشت اس لیے کرتے ہیں، کیونکہ وہ رشتہ بچانا چاہتے ہیں، توڑنا نہیں…
اگر آپ چاہیں، میں اسی کہانی پر ویڈیو بھی بنا کر دے سکتا ہوں — جس میں موسیقی، تصویریں اور مکمل ویڈیو فائل ہو 💖 بس بتائیں، تیار کر دوں؟
رابعہ ایک سادہ دل اور نرم مزاج لڑکی تھی۔ وہ ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتی تھی، مگر دل بہت بڑا تھا۔ شادی ہوئی تو اس نے سوچا اب نئی زندگی شروع ہو گی — محبت، عزت، سکون۔
لیکن قسمت نے کچھ اور لکھا تھا…
ساس ہر بات پر طعنہ دیتی: "تمہارے جیسے غریب لوگ ہمارے خاندان میں نہیں آتے!" چائے میں چینی کم ہو تو ڈانٹ، کھانے میں نمک زیادہ ہو تو طعنہ۔ شوہر سب کچھ سنتا… مگر خاموش رہتا۔
رابعہ راتوں کو روتی، دن میں مسکراتی… کیوں؟ کیونکہ وہ چاہتی تھی کہ اس کے گھر کا ماحول خراب نہ ہو۔
ایک دن ساس نے اتنی ذلت کی، کہ وہ کچن کے فرش پر بیٹھ کر رونے لگی۔ شوہر نے دیکھا… مگر پھر بھی کچھ نہ بولا۔ تب رابعہ نے رب سے بات کی، انسانوں سے نہیں۔
مہینوں بعد، وہی رابعہ ایک اسکول میں پڑھانے لگی، بچوں کو پیار سے سکھاتی، مسکراہٹ بانٹتی، آنکھوں میں درد چھپائے۔
ایک دن اس کے شوہر نے اسکول کے باہر اسے دیکھا… بچوں میں گھری، ہنستی ہوئی… ایک عزت دار، مضبوط عورت۔
اسی دن سے اس نے اپنی ماں کو خاموش کروا دیا، اور رابعہ سے معافی مانگی۔
رابعہ نے معاف کر دیا… مگر جو دل ٹوٹا تھا، وہ کبھی نہ جڑ سکا۔
---
❤️ سبق:
کبھی کسی کی خاموشی کو کمزوری نہ سمجھو۔ کچھ لوگ برداشت اس لیے کرتے ہیں، کیونکہ وہ رشتہ بچانا چاہتے ہیں، توڑنا نہیں…
اداس لڑکی
📖 کہانی کا عنوان:
ساس کا ظلم، شوہر کی خاموشی اور بہو کا صبر 💔
✍️ کہانی (اردو میں):
رابعہ ایک سادہ دل اور نرم مزاج لڑکی تھی۔
وہ ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتی تھی، مگر دل بہت بڑا تھا۔
شادی ہوئی تو اس نے سوچا اب نئی زندگی شروع ہو گی — محبت، عزت، سکون۔
لیکن قسمت نے کچھ اور لکھا تھا…
ساس ہر بات پر طعنہ دیتی:
"تمہارے جیسے غریب لوگ ہمارے خاندان میں نہیں آتے!"
چائے میں چینی کم ہو تو ڈانٹ، کھانے میں نمک زیادہ ہو تو طعنہ۔
شوہر سب کچھ سنتا… مگر خاموش رہتا۔
رابعہ راتوں کو روتی، دن میں مسکراتی…
کیوں؟ کیونکہ وہ چاہتی تھی کہ اس کے گھر کا ماحول خراب نہ ہو۔
ایک دن ساس نے اتنی ذلت کی، کہ وہ کچن کے فرش پر بیٹھ کر رونے لگی۔
شوہر نے دیکھا… مگر پھر بھی کچھ نہ بولا۔
تب رابعہ نے رب سے بات کی، انسانوں سے نہیں۔
مہینوں بعد، وہی رابعہ ایک اسکول میں پڑھانے لگی،
بچوں کو پیار سے سکھاتی، مسکراہٹ بانٹتی، آنکھوں میں درد چھپائے۔
ایک دن اس کے شوہر نے اسکول کے باہر اسے دیکھا…
بچوں میں گھری، ہنستی ہوئی… ایک عزت دار، مضبوط عورت۔
اسی دن سے اس نے اپنی ماں کو خاموش کروا دیا،
اور رابعہ سے معافی مانگی۔
رابعہ نے معاف کر دیا… مگر جو دل ٹوٹا تھا، وہ کبھی نہ جڑ سکا۔
❤️ سبق:
کبھی کسی کی خاموشی کو کمزوری نہ سمجھو۔
کچھ لوگ برداشت اس لیے کرتے ہیں، کیونکہ وہ رشتہ بچانا چاہتے ہیں،
توڑنا نہیں…
اگر آپ چاہیں، میں اسی کہانی پر ویڈیو بھی بنا کر دے سکتا ہوں —
جس میں موسیقی، تصویریں اور مکمل ویڈیو فائل ہو 💖
بس بتائیں، تیار کر دوں؟
رابعہ ایک سادہ دل اور نرم مزاج لڑکی تھی۔
وہ ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتی تھی، مگر دل بہت بڑا تھا۔
شادی ہوئی تو اس نے سوچا اب نئی زندگی شروع ہو گی — محبت، عزت، سکون۔
لیکن قسمت نے کچھ اور لکھا تھا…
ساس ہر بات پر طعنہ دیتی:
"تمہارے جیسے غریب لوگ ہمارے خاندان میں نہیں آتے!"
چائے میں چینی کم ہو تو ڈانٹ، کھانے میں نمک زیادہ ہو تو طعنہ۔
شوہر سب کچھ سنتا… مگر خاموش رہتا۔
رابعہ راتوں کو روتی، دن میں مسکراتی…
کیوں؟ کیونکہ وہ چاہتی تھی کہ اس کے گھر کا ماحول خراب نہ ہو۔
ایک دن ساس نے اتنی ذلت کی، کہ وہ کچن کے فرش پر بیٹھ کر رونے لگی۔
شوہر نے دیکھا… مگر پھر بھی کچھ نہ بولا۔
تب رابعہ نے رب سے بات کی، انسانوں سے نہیں۔
مہینوں بعد، وہی رابعہ ایک اسکول میں پڑھانے لگی،
بچوں کو پیار سے سکھاتی، مسکراہٹ بانٹتی، آنکھوں میں درد چھپائے۔
ایک دن اس کے شوہر نے اسکول کے باہر اسے دیکھا…
بچوں میں گھری، ہنستی ہوئی… ایک عزت دار، مضبوط عورت۔
اسی دن سے اس نے اپنی ماں کو خاموش کروا دیا،
اور رابعہ سے معافی مانگی۔
رابعہ نے معاف کر دیا… مگر جو دل ٹوٹا تھا، وہ کبھی نہ جڑ سکا۔
---
❤️ سبق:
کبھی کسی کی خاموشی کو کمزوری نہ سمجھو۔
کچھ لوگ برداشت اس لیے کرتے ہیں، کیونکہ وہ رشتہ بچانا چاہتے ہیں،
توڑنا نہیں…
5 months ago | [YT] | 0
View 0 replies