Hania khattak2122

dream 1million support you ❤️💕💕💕💕


Hania khattak2122

نیوز الرٹ

*جناب ‏عمران خان کیطرف سے 21 نکاتی ایجنڈہ*

۱- آرمی چیف کی تعیناتی چیف جسٹس کی طرح ہو، یعنی سینئر موسٹ آرمی چیف بنے۔

۲- کسی بھی سرکاری عہدے بشمول آُرمی چیف کے، کوئی ایکسٹینشن نہیں ہو گی، مکمل پابندی عائد کرنی ہو گی۔

۳- کسی بھی ریٹائرڈ یا حاضر سروس فوجی افسر کی سول اداروں میں بھرتی پر پابندی ہونی چاہیے۔

۴- وزیر اعظم ہاوس میں ملٹری سیکرٹری کے دفتر کو فی الفور بند کرنا ہو گا، فوجیوں کا حکومتی اور سیاسی امور سے کوئی دور کا بھی واسطہ نہیں ہونا چاہیے۔

۵- وزیراعظم ہاؤس کی سیکیورٹی پاک بحریہ اور پاک ائیر فورس کے حوالے کی جائے۔

۶- تمام سول اور فوجی افسران کی مراعات برابر ہوں۔ اہسپتال، سکول، کالج، یونیورسٹی، گولف کورس، کلب، پلاٹ، گھر، پنشن، تنخواہ سب برابر ہوں، ایک چپڑاسی اور جنرل کے بیٹے کو ایک جیسی تعلیمی اور صحت کی سہولیات ملیں۔

۷- بطور جنرل ترقی سے قبل افسر سے حلفنامہ لیا جائے کہ وہ بعد از ریٹائرمنٹ 10 سال تک بیرون ملک ملازمت یا کاروبار یا انویسٹمنٹ یا شہریت یا سرکاری رہائش نہیں رکھ سکتا۔

۸- آئی ایس آئی کو ری سٹرکچر کرکے وسیع تر قومی مفاد سے جوڑا جائے، بھارت، ترکیہ اور یورپ کے ماڈل پر جاسوسی کا نیا نظام بنایا جائے جو سویلین بالادستی کا عکس ہو، فوج کے تین ادارے اپنی اپنی انٹیلی جینس ایجنسی کو صرف اپنے دفاعی نظام سے متعلق کریں۔

۹- سول سروس اکیڈیمی اور جوڈیشل اکیڈیمی کو ری سٹرکچر کیا جاۓ، سول اور جوڈیشل ریفارمز سے پرانے نظام کو دفن کیا جاۓ، فوج سے سفارشی افسران کی سول سروس میں سالانہ بھرتی بند کی جاۓ۔

۱۰- فوج پر ہر قسم کے کاروبار پر پابندی ہونی چاہیے۔

۱۱- عدلیہ کے ججوں کے احتساب کیلئے whistle blower کا نظام بنایا جاۓ۔

۱۲- دفاعی پالیسی کو ری وزٹ کیا جاۓ اور دفاعی بجٹ میں 50% کمی لائی جاۓ۔

۱۳- آئی ایس پی آر ادارے کو صرف پیشہ وارانہ حدود میں رکھا جائے۔

۱۴- مطالعہ پاکستان کے سلیبس میں 1971 کی شکست، جمہوریت کی اہمیت اور غیر جمہوری قوتوں کے کردار کو شامل کیا جاۓ۔

۱۵- ریٹائرڈ جج یا بیوروکریٹ کی پبلک سیکٹر میں ریٹائرڈمنٹ کے بعد نوکریوں پر مکمل پابندی ہونی چاہیے اور دس سال تک ملک سے باہر نوکری، کاروبار اور رہائش پر پابندی ہونی چاہیے۔

۱۶- تمام سرکاری افسروں کی دوران ملازمت اور ریٹائرڈمنٹ کے بعد ٹیکس ریٹرن کو پبلک رکھا جاۓ، اس میں بیوی اور بچوں کی ٹیکس ریٹرن کو بھی شامل کیا جاۓ کیونکہ تمام کرپٹ گورنمنٹ افسران بیوی بچوں کے نام پر کرپشن کے پیسے سے جائیدادیں بناتے ہیں۔

۱۷- الیکشن کمشن کا ادارہ نئے سرے سے ری سٹرکچر کیا جاۓ اور EVM اور ڈیجیٹل ووٹنگ کے نظام کو لایا جاۓ۔

۱۸- اوورسیز پاکستانیوں کیلئے الیکشن کے دوران گھر بیٹھے ڈیجیٹل ووٹ کا نظام بنایا جاۓ۔

۱۹- ہمسایوں بھارت، افغانستان، چین، ایران اور ریجنل ممالک ترکیہ، وسطی ایشیائی ریاستیں اور روس کیساتھ ترجیحی بنیادوں پر تعلقات بہتر کیے جاۂیں۔

۲۰- کشمیر پر یو این کی قرارداد والا اصولی موقف رکھا جاۓ اور اپنی معاشی حالت بہتر کرکے اس ایشو پر اپنی آواز کو مضبوط کیا جاۓ۔

۲۱- فلسطین کیلئے سپیشل ٹاسک فورس بنائی جاۓ اور انکی مالی، معاشی، عسکری، اخلاقی مدد کی جاۓ، اگر یورپ یوکرین کیلئے یہ سب کچھ کر سکتا ہے تو ہم کیوں نہ فلسطین کے مظلوم عوام کیلئے کچھ کریں۔ subscribe please

2 years ago | [YT] | 1

Hania khattak2122

خالد حربی سعودی ٹریفک پولیس میں آفیسر ہیں، یہ کہتے ہیں ایک دن ہمیں اطلاع ملی کہ مکہ روڑ پر ایک فیملی کی گاڑی کو حادثہ پیش آیا ہے،ہم جائے حادثہ پر پہنچے، پولیس کے علاوہ ریسکیو کی ٹیمیں بھی پہنچ چکی تھی، یہ سعودی عرب میں مقیم ایک مصری فیملی تھی،ماں، باپ اور دو بچے گاڑی میں سوار تھے، حادثہ انتہائی خطرناک تھا، باپ بری طرح کچلا گیا تھا، انکی موت واقع ہوچکی تھی بچے اور ماں معجزاتی طور پر بچ گئے تھے، انہیں معمولی چوٹیں لگی تھیں،ریسکیو ٹیمیں اپنا کام تیزی سے کر رہی تھی،بچے کسی سے قابو نہیں ہو رہے تھے وہ دوڑ کر اپنے ابو کی لاش سے لپٹ جاتے تھے پولیس انہیں مشکل سے الگ کرتی تھی، یہ سلسلہ جاری تھا لیکن حیرت یہ تھی کہ بچوں کی ماں حادثے سے کچھ دور خاموش بیٹھی تھی، نہ وہ چیخ چلا رہی تھی نہ وہ رو رہی تھی، اس کی زبان پر بس ایک ہی جملہ تھا کہ ہر حال میں اللہ تیرا شکر ہے،ہم سب اس عورت کے صبر پر حیران تھے، بچے بار بار باپ کی لاش کی طرف لپکتے تھے،یہ پھول جیسے دو بچے تھے ان کا رونا دیکھ کر میرے ضبط کا بندھن ٹوٹ گیا، مجھ سے رہا نہیں گیا، میں بھی بچوں کی طرح اونچی آواز میں رو رہا تھا،مجھے یوں دیکھ کر میرے ساتھی بھی پریشان ہو کر مجھے سمجھانے لگ گیے کہ آپ وردی میں اور ڈیوٹی پر ہیں اور آپ نے یہ پہلا حادثہ بھی نہیں دیکھا ہے، اس موقعے پر اپنے چہرے کے تاثرات کو چھپانا ہماری تربیت کا حصہ ہے، لیکن مجھ پر انکی باتوں کا اثر نہیں ہو رہا تھا میں بس روتے ہی جا رہا تھا، میری یہ حالت دیکھ کر میرے ساتھیوں نے مجھے گاڑی میں بٹھا کر گھر بھیج دیا،میں گھر آیا اور اپنی بیوی کو واقعے سے متعلق بتا دیا،میری بیوی ایک نیک خاتون ہے ہماری شادی کو اٹھارہ سال گزر چکے ہیں ہماری پسند کی شادی تھی، زندگی میں ہر طرح کی خوشیاں تھی، مالی آسودگی تھی، ہم سال میں دو بار ملک سے باہر گھومنے بھی جاتے تھے،ہاں مگر ہماری زندگی میں ایک کمی تھی وہ یہ کہ ہم دونوں اولاد سے محروم تھے، شادی کے بعد جب اولاد نہ ہوئی ہم نے علاج کیلئے ہاتھ پیر مارے، مختلف ملکوں کا سفر کیا، ہم علاج کیلئے مصر بھی گیے لیکن ہر جگہ سے ہمیں ایک ہی جواب ملتا تھا کہ آپ کی بیوی کبھی ماں نہیں بن سکتی ہے، پھر ہم نے اسے تقدیر کا لکھا سمجھ کر صبر کیا، ہمیں صبر آگیا تھا، ہم اللہ تعالیٰ کے فیصلے پر راضی تھے، بہرحال اس دن گھر آکر مجھے سخت بے چینی رہی، صبح آفس میں دوستوں سے پتہ چلا کہ وہ عورت اور بچے فلاں ہسپتال میں ہیں،میں گھر آیا اور اپنی بیوی کو لیکر ہسپتال گیا،میری بیوی نے اس خاتون اور بچوں سے تعزیت کی، انہیں حوصلہ دیا، صبر کی تلقین کی، اور ان سے کہا کہ تمہیں کسی بھی مدد کی ضرورت ہوگی ہم حاضر ہیں، ایک آدھ دن میں خاتون اور بچے اپنے گھر منتقل ہوچکے تھے البتہ اس بندے کی لاش ابھی ہسپتال میں پڑی تھی،قانونی کارروائی کے بعد اسے مصر بھیجنے کی اجازت ملنی تھی، دو دن بعد ہم کچھ سامان اور بچوں کی دل جوئی کیلئے کچھ تحائف لیکر اس خاتون کے گھر پہنچے،اس دن ہم دیر گیے تک خاتون کے گھر میں رہے میری بیوی اس خاتون سے باتیں کرتی رہی اور میں بچوں کا دل بہلاتا رہا، یہاں ان کا کوئی نہیں تھا،واپس آتے ہوئے ہم نے خاتون سے پوچھا کہ ہم آپ کی کیا مدد کرسکتے ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ ہم اب اپنا ملک واپس جانا چاہتے ہیں اگر آپ سے ہوسکے تو ہماری واپسی کے انتظامات کریں، میں نے اگلا پورا ہفتہ آفس سے چھٹی لیا، اس فیملی کی ٹکٹیں کروائی،ان کے منع کرنے کے باوجود بچوں کو شاپنگ کروائی اور پھر وہ دن آیا کہ ہم انہیں ائیرپورٹ پر چھوڑنے جا رہے تھے ہمارے دل بھی بہت اداس تھے، ائیرپورٹ جاتے ہوئے میری بیوی نے اس خاتون کو ایک لفافہ پکڑا دیا اس میں اچھی خاصی رقم تھی کہ وہاں جا کر سیٹل ہونے میں پریشانی نہ ہو، ہم انہیں الوداع کہہ کر گھر لوٹ آئے، چند مہینوں کے بعد مصر سے اس خاتون کا فون آیا حال احوال پوچھنے کے بعد میری بیوی کو ایک دیسی نسخہ لکھوایا کہ فلاں درخت کے پتے، فلاں بوٹی اور فلاں چیز ملا کر ایک معجون بنائیں اور صبح نہار اس کا استعمال شروع کریں،اب ہر دوسرے دن ان کا فون آتا تھا اور وہ نسخے سے متعلق پوچھتی تھی کہ استعمال کیا جا رہا ہے کہ نہیں، میری بیوی بھی پابندی سے نسخہ استعمال کر رہی تھی، شاید اس خاتون کا دل رکھنے کیلئے ایسا کرتی تھی ورنہ ہم دونوں اولاد سے مایوس ہوچکے تھے،اس نسخے کو استعمال کرتے ہوئے چار مہینے گزر گئے ہوں گے کہ ایک دن میں گھر آیا تو کچھ عجیب ماحول تھا میری بیوی تقریباً چیختے ہوئے مجھے خوش خبری دے رہی تھی کہ وہ حاملہ ہوچکی ہے، ہم فوری اسپتال پہنچے، ڈاکٹر بھی حیران تھے کہ یہ کیسے ہوگیا، ہم گھر آئے اور اس خاتون کو فون کرکے ان کا شکریہ ادا کیا، انہوں نے آگے سے کہا کہ یہ پہلا بیٹا ہے لیکن آخری نہیں ایک اور بیٹا بھی ہوگا، وقت گزرتا گیا اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایک کے بعد دوسرے بیٹے کی نعمت سے بھی نوازا، پھر ہم گھومنے کیلئے مصر چلے گئے، اس خاتون اور انکی فیملی نے ہمارا خوب استقبال کیا،باتوں باتوں کے دوران میری بیوی نے اس نسخے سے متعلق پوچھا کہ کیوں نہ ہم اس نسخے کو عام کریں تاکہ بے اولاد جوڑوں کو اولاد کی خوشی مل جائے، وہ خاتون مسکرائی اور کہنے لگی کہ آج میں آپ کو حقیقت بتاتی ہوں وہ نسخہ کچھ بھی نہیں تھا، میں نے آپ لوگوں کو نفسیاتی طور پر بچوں کے لیے تیار کرنے کی خاطر بتایا تھا ورنہ وہ ایسے ہی تھا، البتہ میں جب سے سعودی عرب سے لوٹی تھی، دعا کی قبولیت کی کوئی ایسی گھڑی نہیں تھی جس میں میں نے آپ لوگوں کیلئے رب تعالیٰ سے اولاد نہ مانگی ہو، میں ہمیشہ دعا میں آپ دونوں کا ذکر کرتی تھی، مجھے یقین ہوچکا تھا کہ اللہ تعالیٰ ضرور آپ لوگوں کو اولاد کی خوشی دے گا.
صدقہ،دوسروں کی مدد اور یقین کے ساتھ دعا یہ ایسے کام ہیں جن کے ثمرات بہت عظیم ہیں -

بقلم فر

2 years ago | [YT] | 1

Hania khattak2122

ﺣﺎﺟﯽ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﯽ ﮔﺎﺭﻣﻨﭩﺲ ﻓﯿﮑﭩﺮﯼ ﺗﮭﯽ، - ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﻭﮦ ﻓﯿﮑﭩﺮﯼ ﭘﮩﻨﭽﮯ ﺗﻮ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺍﯾﮏ ﺩﺭﻣﯿﺎﻧﮯ ﻗﺪ ﮐﺎﭨﮫ ﮐﺎ ﮐﺘﺎ ﮔﮭﺴﭧ ﮔﮭﺴﭧ ﮐﺮ ﺍﻥ ﮐﮯ ﮔﻮﺩﺍﻡ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ، ﺣﺎﺟﯽ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﻏﻮﺭ ﮐﯿﺎ ﺗﻮ ﭘﺘﮧ ﭼﻼ ﮐﺘﺎ ﺷﺪﯾﺪ ﺯﺧﻤﯽ ﮨﮯ، ﺷﺎﯾﺪ ﻭﮦ ﮐﺴﯽ ﮔﺎﮌﯼ ﮐﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﺁ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﺟﺲ ﮐﮯ ﺑﺎﻋﺚ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺗﯿﻦ ﭨﺎﻧﮕﯿﮟ ﭨﻮﭦ ﮔﺌﯽ ﺗﮭﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺻﺮﻑ ﺍﯾﮏ ﭨﺎﻧﮓ ﮐﮯ ﺫﺭﯾﻌﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺟﺴﻢ ﮐﻮ ﮔﮭﺴﯿﭧ ﮐﺮ ﺍﻥ ﮐﮯ ﮔﻮﺩﺍﻡ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺗﮭﺎ- ﺣﺎﺟﯽ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﻮ ﮐﺘﮯ ﭘﺮ ﺑﮍﺍ ﺭﺣﻢ ﺁﯾﺎ، ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺳﻮﭼﺎ ﻭﮦ ﮐﺘﮯ ﮐﻮ ﺟﺎﻧﻮﺭﻭﮞ ﮐﮯ ﮐﺴﯽ ﮈﺍﮐﭩﺮ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﻟﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ، ﺍﺱ ﮐﺎ ﻋﻼﺝ ﮐﺮﺍﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺟﺐ ﮐﺘﺎ ﭨﮭﯿﮏ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺍﺳﮯ ﮔﻠﯽ ﻣﯿﮟ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﯾﮟ ﮔﮯ-

ﺣﺎﺟﯽ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﮈﺍﮐﭩﺮ ﺳﮯ ﺭﺍﺑﻄﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮱ ﻓﻮﻥ ﺍﭨﮭﺎﯾﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﻧﻤﺒﺮ ﻣﻼﻧﮯ ﺳﮯ ﻗﺒﻞ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺍﻧﻮﮐﮭﺎ ﺧﯿﺎﻝ ﺁﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺣﺎﺟﯽ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﻓﻮﻥ ﻭﺍﭘﺲ ﺭﮐﮫ ﺩﯾﺎ..... ﺣﺎﺟﯽ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﺳﻮﭼﺎ ﮐﺘﺎ ﺷﺪﯾﺪ ﺯﺧﻤﯽ ﮨﮯ، ﺍﺱ ﮐﯽ ﺗﯿﻦ ﭨﺎﻧﮕﯿﮟ ﭨﻮﭦ ﭼﮑﯽ ﮨﯿﮟ، ﺍﺱ ﮐﺎ ﺟﺒﮍﺍ ﺯﺧﻤﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﭘﯿﭧ ﭘﺮ ﺑﮭﯽ ﭼﻮﭦ ﮐﺎ ﻧﺸﺎﻥ ﮨﮯ ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﮐﺘﺎ ﺭﻭﺯﯼ ﺭﻭﭨﯽ ﮐﺎ ﺑﻨﺪﻭﺑﺴﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﺎ- ﺣﺎﺟﯽ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﺳﻮﭼﺎ' ﺍﺏ ﺩﯾﮑﮭﻨﺎ ﯾﮧ ﮨﮯ ﻗﺪﺭﺕ ﺍﺱ ﮐﺘﮯ ﮐﯽ ﺧﻮﺭﺍﮎ ﮐﺎ ﺑﻨﺪﻭﺑﺴﺖ ﮐﯿﺴﮯ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﮯ،

ﺣﺎﺟﯽ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﻣﺸﺎﮨﺪﮮ ﮐﺎ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﭼﭗ ﭼﺎﭖ ﺑﯿﭩﮫ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﺌﮯ... ﻭﮦ ﮐﺘﺎ ﺳﺎﺭﺍ ﺩﻥ ﮔﻮﺩﺍﻡ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﮩﻮﺵ ﭘﮍﺍ ﺭﮨﺎ، ﺷﺎﻡ ﮐﻮ ﺟﺐ ﺍﻧﺪﮬﯿﺮﺍ ﭘﮭﯿﻠﻨﮯ ﻟﮕﺎ ﺗﻮ ﺣﺎﺟﯽ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻓﯿﮑﭩﺮﯼ ﮐﮯ ﮔﯿﭧ ﮐﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺮﺍ ﮐﺘﺎ ﺍﻧﺪﺭ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮﺍ، ﮐﺘﮯ ﮐﮯ ﻣﻨﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻟﻤﺒﯽ ﺳﯽ ﺑﻮﭨﯽ ﺗﮭﯽ- ﮐﺘﺎ ﭼﮭﭙﺘﺎ ﭼﮭﭙﺎﺗﺎ ﮔﻮﺩﺍﻡ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭽﺎ، ﺯﺧﻤﯽ ﮐﺘﮯ ﮐﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﺁﯾﺎ، ﺍﺱ ﻧﮯ ﭘﺎﺅﮞ ﺳﮯ ﺯﺧﻤﯽ ﮐﺘﮯ ﮐﻮ ﺟﮕﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﻮﭨﯽ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻣﻨﮧ ﻣﯿﮟ ﺩﮮ ﺩﯼ- ﺯﺧﻤﯽ ﮐﺘﮯ ﮐﺎ ﺟﺒﮍﺍ ﺣﺮﮐﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮ ﭘﺎ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺑﻮﭨﯽ ﻭﺍﭘﺲ ﺍﮔﻞ ﺩﯼ- ﺻﺤﺖ ﻣﻨﺪ ﮐﺘﮯ ﻧﮯ ﺑﻮﭨﯽ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﻨﮧ ﻣﯿﮟ ﮈﺍﻟﯽ، ﺑﻮﭨﯽ ﭼﺒﺎﺋﯽ، ﺟﺐ ﻭﮦ ﺍﭼﮭﯽ ﻃﺮﺡ ﻧﺮﻡ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺑﻮﭨﯽ ﮐﺎ ﻟﻘﻤﮧ ﺳﺎ ﺑﻨﺎ ﮐﺮ ﺯﺧﻤﯽ ﮐﺘﮯ ﮐﮯ ﻣﻨﮧ ﻣﯿﮟ ﺩﮮ ﺩﯾﺎ- ﺯﺧﻤﯽ ﮐﺘﺎ ﺑﻮﭨﯽ ﻧﮕﻞ ﮔﯿﺎ.... ﺍﺳﮑﮯ ﺑﻌﺪ ﻭﮦ ﮐﺘﺎ ﮔﻮﺩﺍﻡ ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﺁﯾﺎ، ﺍﺱ ﻧﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﮯ ﺣﻮﺽ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﺩﻡ ﮔﯿﻠﯽ ﮐﯽ، ﻭﺍﭘﺲ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺩﻡ ﺯﺧﻤﯽ ﮐﺘﮯ ﮐﮯ ﻣﻨﮧ ﻣﯿﮟ ﺩﮮ ﺩﯼ- ﺯﺧﻤﯽ ﮐﺘﮯ ﻧﮯ ﺻﺤﺖ ﻣﻨﺪ ﮐﺘﮯ ﮐﯽ ﺩﻡ ﭼﻮﺱ ﻟﯽ- ﺻﺤﺖ ﻣﻨﺪ ﮐﺘﺎ ﺍﺱ ﮐﺮﻭﺍﺋﯽ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﻃﻤﯿﻨﺎﻥ ﺳﯽ ﻭﺍﭘﺲ ﭼﻼ ﮔﯿﺎ-

ﺣﺎﺟﯽ ﺻﺎﺣﺐ ﻣﺴﮑﺮﺍ ﭘﮍﮮ- ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﯾﮧ ﮐﮭﯿﻞ ﺭﻭﺯﺍﻧﮧ ﮨﻮﻧﮯ ﻟﮕﺎ- ﺭﻭﺯ ﮐﺘﺎ ﺁﺗﺎ ﺍﻭﺭ ﺯﺧﻤﯽ ﮐﺘﮯ ﮐﻮ ﺑﻮﭨﯽ ﮐﮭﻼﺗﺎ، ﭘﺎﻧﯽ ﭘﻼﺗﺎ ﺍﻭﺭ ﭼﻼ ﺟﺎﺗﺎ،ﺣﺎﺟﯽ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﺌﯽ ﺩﻧﻮﮞ ﺗﮏ ﯾﮧ ﮐﮭﯿﻞ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﺭﮨﮯ... ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﺣﺎﺟﯽ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ "ﻭﮦ ﻗﺪﺭﺕ ﺟﻮ ﺍﺱ ﺯﺧﻤﯽ ﮐﺘﮯ ﮐﻮ ﺭﺯﻕ ﻓﺮﺍﮨﻢ ﮐﺮ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ ﮐﯿﺎ ﻭﮦ ﻣﺠﮭﮯ ﺩﻭ ﻭﻗﺖ ﮐﯽ ﺭﻭﭨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﮮ ﮔﯽ؟"

ﺳﻮﺍﻝ ﺑﮩﺖ ﺩﻟﭽﺴﭗ ﺗﮭﺎ، ﺣﺎﺟﯽ ﺻﺎﺣﺐ ﺭﺍﺕ ﺗﮏ ﺍﺱ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﺗﻼﺵ ﮐﺮﺗﮯ ﺭﮨﮯ ﯾﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺗﻮﮐﻞ ﮐﯽ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﺑﮭﺎﻧﭗ ﮔﺌﮯ، ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻓﯿﮑﭩﺮﯼ چھوڑی ﺍﻭﺭ ﺗﺎﺭﮎ ﺍﻟﺪﻧﯿﺎ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ...

ﻭﮦ ﻣﮩﯿﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺗﯿﺲ ﺩﻥ ﺭﻭﺯﮮ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﺍﻭﺭ ﺻﺒﺢ ﺻﺎﺩﻕ ﺳﮯ ﺍﮔﻠﯽ ﺻﺒﺢ ﮐﺎﺫﺏ ﺗﮏ ﺭﮐﻮﻉ ﻭ ﺳﺠﻮﺩ ﮐﺮﺗﮯ، ﻭﮦ ﺑﺮﺳﻮﮞ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺩﺭﺑﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﮍﮮ ﺭﮨﮯ، ﺍﺱ ﻋﺮﺻﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﻟﻠﮧ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺭﺯﻕ ﺑﮭﯽ ﺩﯾﺘﺎ ﺭﮨﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺩﻋﺎﺅﮞ ﮐﻮ ﻗﺒﻮﻟﯿﺖ ﺑﮭﯽ- ﯾﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺻﻮﻓﯽ ﺑﺎﺑﺎ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﺳﮯ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﮨﻮ گئے . . .

ﻟﯿﮑﻦ ﭘﮭﺮ ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺮﺍ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﭘﯿﺶ ﺁﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺻﻮﻓﯽ ﺑﺎﺑﺎ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﺣﺎﺟﯽ ﺻﺎﺣﺐ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ.... ﯾﮧ ﺳﺮﺩﯾﻮﮞ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﻧﯿﻢ ﮔﺮﻡ ﺩﻭﭘﮩﺮ ﺗﮭﯽ، ﺻﻮﻓﯽ ﺑﺎﺑﺎ ﮐﯽ ﺑﯿﭩﮭﮏ ﻣﯿﮟ ﺩﺭﺟﻨﻮﮞ ﻋﻘﯿﺪﺕ ﻣﻨﺪ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﺗﮭﮯ- ﺻﻮﻓﯽ ﺑﺎﺑﺎ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺭﻭﺣﺎﻧﯿﺖ ﮐﮯ ﺭﻣﻮﺯ ﭘﺮ ﺑﺎﺕ ﭼﯿﺖ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ- ﺑﺎﺗﻮﮞ ﮨﯽ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺻﻮﻓﯽ ﺑﺎﺑﺎ ﻧﮯ ﮐﺘﮯ ﮐﺎ ﻗﺼﮧ ﭼﮭﯿﮍ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻗﺼﮯ ﮐﮯ ﺁﺧﺮ ﻣﯿﮟ ﺣﺎﺿﺮﯾﻦ ﮐﻮ ﺑﺘﺎﯾﺎ.... "ﺭﺯﻕ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﺎ ﭘﯿﭽﮭﺎ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﮨﻢ ﺑﯿﻮﻗﻮﻑ ﺍﻧﺴﺎﻧﻮﮞ ﻧﮯ ﺭﺯﻕ ﮐﺎ ﭘﯿﭽﮭﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ- ﺍﮔﺮ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﯽ ﺗﻮﮐﻞ ﺯﻧﺪﮦ ﮨﻮ ﺗﻮ ﺭﺯﻕ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺗﮏ ﺿﺮﻭﺭ ﭘﮩﻨﭽﺘﺎ ﮨﮯ ﺑﻠﮑﻞ ﺍﺱ ﮐﺘﮯ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺟﻮ ﺯﺧﻤﯽ ﮨﻮﺍ ﺗﻮ ﺩﻭﺳﺮﺍ ﮐﺘﺎ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺣﺼﮯ ﮐﺎ ﺭﺯﻕ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺁ ﮔﯿﺎ- ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺯﺧﻤﯽ ﮐﺘﮯ ﺳﮯ ﺗﻮﮐﻞ ﺳﯿﮑﮭﯽ- ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺩﻧﯿﺎﺩﺍﺭﯼ ﺗﺮﮎ ﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺭﺍﮦ ﻣﯿﮟ ﻧﮑﻞ ﺁﯾﺎ- ﺁﺝ ﺍﺱ ﺭﺍﮦ ﮐﺎ ﺍﻧﻌﺎﻡ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﮨﻮﮞ- ﺍﻥ ﺗﯿﺲ ﺑﺮﺳﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﯾﺴﺎ ﺩﻥ ﻧﮩﯿﮟ ﮔﺰﺭﺍ ﺟﺐ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﻧﮯ ﮐﺴﯽ ﻧﮧ ﮐﺴﯽ ﻭﺳﯿﻠﮯ ﺳﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺭﺯﻕ ﻧﮧ ﺩﯾﺎ ﮨﻮ ﯾﺎ ﻣﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﺭﺍﺕ ﺑﮭﻮﮐﺎ ﺳﻮﯾﺎ ﮨﻮﮞ- ﻣﯿﮟ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺍﺱ ﺯﺧﻤﯽ ﮐﺘﮯ ﮐﻮ ﺗﮭﯿﻨﮏ ﯾﻮ ﮐﮩﺘﺎ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﺟﺲ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺗﻮﮐﻞ ﮐﺎ ﺳﺒﻖ ﺳﮑﮭﺎﯾﺎ ﺗﮭﺎ"-

ﺻﻮﻓﯽ ﺑﺎﺑﺎ ﮐﯽ ﻣﺤﻔﻞ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﭘﺮﻭﻓﯿﺴﺮ ﺑﮭﯽ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﺗﮭﺎ، ﭘﺮﻭﻓﯿﺴﺮ ﻧﮯ ﺟﯿﻨﺰ ﭘﮩﻦ ﺭﮐﮭﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮐﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﻢ ﭘﯽ ﺗﮭﺮﯼ ﮐﺎ ﺍﺋﺮ ﻓﻮﻥ ﻟﮕﺎ ﺗﮭﺎ- ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﭘﺮﻭﻓﯿﺴﺮ ﻧﮯ ﺍﺋﺮ ﻓﻮﻥ ﺍﺗﺎﺭﺍ ﺍﻭﺭ ﻗﮩﻘﮩﮧ ﻟﮕﺎ ﮐﺮ ﺑﻮﻻ "ﺻﻮﻓﯽ ﺑﺎﺑﺎ ﺍﻥ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮐﺘﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﻓﻀﻞ ﺯﺧﻤﯽ ﮐﺘﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ ﺑﻠﮑﮧ ﻭﮦ ﮐﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﺟﻮ ﺭﻭﺯ ﺷﺎﻡ ﮐﻮ ﺯﺧﻤﯽ ﮐﺘﮯ ﮐﻮ ﺑﻮﭨﯽ ﭼﺒﺎ ﮐﺮ ﮐﮭﻼﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﯽ ﮔﯿﻠﯽ ﺩﻡ ﺳﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﭘﯿﺎﺱ ﺑﺠﮭﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ- ﮐﺎﺵ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺯﺧﻤﯽ ﮐﺘﮯ ﮐﮯ ﺗﻮﮐﻞ ﮐﯽ ﺑﺠﺎﺋﮯ ﺻﺤﺖ ﻣﻨﺪ ﮐﺘﮯ ﮐﯽ ﺧﺪﻣﺖ، ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﺜﺎﺭ ﭘﺮ ﺗﻮﺟﮧ ﺩﯼ ﮨﻮﺗﯽ ﺗﻮ ﺁﺝ ﺁﭖ ﮐﯽ ﻓﯿﮑﭩﺮﯼ ﭘﺎﻧﭻ، ﭼﮫ ﺳﻮ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﺎ ﭼﻮﻟﮩﺎ ﺟﻼ ﺭﮨﯽ ﮨﻮﺗﯽ"- ﺻﻮﻓﯽ ﺑﺎﺑﺎ ﮐﻮ ﭘﺴﯿﻨﮧ ﺁ ﮔﯿﺎ-

ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﭘﺮﻭﻓﯿﺴﺮ ﺑﻮﻻ "ﺻﻮﻓﯽ ﺑﺎﺑﺎ! ﺍﻭﭘﺮ ﻭﺍﻻ ﮨﺎﺗﮫ ﻧﯿﭽﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﺳﮯ ﺍﻓﻀﻞ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ، ﻭﮦ ﺻﺤﺖ ﻣﻨﺪ ﮐﺘﺎ ﺍﻭﭘﺮ ﻭﺍﻻ ﮨﺎﺗﮫ ﺗﮭﺎ ﺟﺒﮑﮧ ﺯﺧﻤﯽ ﮐﺘﺎ ﻧﯿﭽﮯ ﻭﺍﻻ- ﺍﻓﺴﻮﺱ ﺁﭖ ﻧﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﻭﺍﻻ ﮨﺎﺗﮫ ﺗﻮ ﺩﯾﮑﮫ ﻟﯿﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺍﻭﭘﺮ ﻭﺍﻻ ﮨﺎﺗﮫ ﻧﻈﺮ ﻧﮧ ﺁﯾﺎ- ﻣﯿﺮﺍ ﺧﯿﺎﻝ ﮨﮯ ﺁﭖ ﮐﺎ ﯾﮧ ﺳﺎﺭﺍ ﺗﺼﻮﻑ ﺍﻭﺭ ﺳﺎﺭﺍ ﺗﻮﮐﻞ ﺧﻮﺩ ﻏﺮﺿﯽ ﭘﺮ ﻣﺒﻨﯽ ﮨﮯ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺍﯾﮏ ﺳﺨﯽ ﺑﺰﻧﺲ ﻣﯿﻦ ﺩﺱ ﮨﺰﺍﺭ ﻧﮑﻤﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﮯ ﮨﻨﺮ ﺩﺭﻭﯾﺸﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﮩﺘﺮ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ" ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﺍﭨﮭﺎ' ﺍﺱ ﻧﮯ ﺳﻼﻡ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﯿﭩﮭﮏ ﺳﮯ ﻧﮑﻞ ﮔﯿﺎ..

ﺣﺎﺟﯽ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﺩﻭ ﻧﻔﻞ ﭘﮍﮬﮯ، ﺑﯿﭩﮭﮏ ﮐﻮ ﺗﺎﻻ ﻟﮕﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﻓﯿﮑﭩﺮﯼ ﮐﮭﻮﻝ ﻟﯽ، ﺍﺏ ﻭﮦ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﺑﮭﯽ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﮐﺎﺭﻭﺑﺎﺭ ﺑﮭﯽ..
#imran khan

2 years ago | [YT] | 2

Hania khattak2122

This man will be change the district Karak

2 years ago | [YT] | 0

Hania khattak2122

#مسیحا

موٹر سائیکل کا پنکچر لگواتے ہوئے میں فیصلہ کر چکا تھا کہ اس ہفتے بھی اپنے گھر واپس نہ ہی جاؤں تو بہتر ہے ،
دیر تو ویسے بھی ہوچکی تھی اورجہاں پچھلےتین ہفتے گذر گئے ہیں یہ بھی گذار ہی لوں تو گرمیوں کی چھٹیوں میں ایک ہی بار چلا جاؤں گا۔
اسی سوچ بچار میں روڈ پر کھڑے میں نے پندرہ سولہ سال کے ایک نوجواں کو اپنی طرف متوجہ پایا۔
وہ عجیب سوالیہ نظروں سے میری جانب دیکھ رہا تھا، جیسے کوئی بات کرنا چاہ رہا ہو۔ لیکن رش کی وجہ سے نہیں کر پا رہاتھا________!!!!!
جب پنکچر لگ گیا تو میں نے دکاندار کو 100 روپے کا نوٹ دیا اس نے 20 روپے کاٹ کر باقی مجھے واپس کر دیے۔ میں موٹر سائیکل پر سوار ہوکر جونہی واپس شہر کی طرف مڑنے لگاتو وہ لڑکا جلدی سے میرے پاس آکر کہنے لگا_____!!!!!
بھائی جان میں گھر سے مزدوری کرنے آیا تھا ،
آج دیہاڑی نہیں لگی آپ مجھے واپسی کا کرایہ 20 روپے دے دیں گے
میں نے ایک اچٹتی سی نگاہ اس پر ڈالی ،
سادہ سا لباس،
ماتھے پر تیل سے چپکے ہوئے بال ،
پاوں میں سیمنٹ بھراجوتا۔ مجھے وہ سچا لگا،
میں نے 20 روپے نکال کر اس کے ہاتھ پر رکھ دئیے ،
وہ شکریہ ادا کر کے چلنےلگا تو نہ جانے میرے دل میں کیا خیال آیا ، میں نے کہا،
"سنو ،تمہیں دیہاڑی کتنی ملتی ہے______!!!
اس کے جواب دینےسے پہلے ہی میں نے باقی کے 60 روپے بھی اس کی طرف بڑھا دیے وہ ہچکچاتے ہوئے پیچھے ہٹا اور کہنے لگا
"نہیں بھائی جان !
میرا گھر منڈھالی شریف ہے، میں پیدل بھی جاسکتا تھا لیکن کل سےماں جی کی طبیعت ٹھیک نہیں ،اوپر سے دیہاڑی بھی نہیں لگی،سوچا آج جلدی جا کر ماں جی کی خدمت کر لوں گا"۔
میں نے کہا_____!!!!!
اچھا یہ پیسے لے لو ماں جی کے لیے دوائی لے جانا
وہ کہنے لگا دوائی تو میں کل ہی لے گیا تھا۔آج میں سارا دن ماں جی کے پاس رہوں گا تو وہ خود ہی ٹھیک ہو جائیں گی،مائیں دوائی سے کہاں ٹھیک ہوتی ہیں بابوجی___________
میں نے حیران ہو کرپوچھا تمہارا نام کیا ہے اتنے میں اس کی بس بھی آگئی،وہ بس کی چھت پر لپک کر چڑھ گیا اور میری طرف مسکراتے ہوئے زور سے بولا گلو ____!!!
گلو کی بس آہستہ آہستہ دور ہوتی جا رہی تھی ۔ لیکن گلو کے واپس کیے ہوئے 60 روپے میری ہتھیلی پر پڑے ہوئے تھے اورمیں ہائی سٹریٹ کے رش میں خود کو یک دم بہت اکیلا محسوس کرنے لگا کچھ سوچ کر میں نے موٹرسائیکل کارخ ریلوے اسٹیشن کی طرف موڑ لیا۔موٹر سائیکل کو اسٹینڈ پر کھڑا کرکے ٹوکن لیا اور ٹکٹ گھر سے 50 روپے میں خانیوال کا ٹکٹ لے کر گاڑی کے انتظار میں بینچ پر بیٹھ گیا_______!!!
کب گاڑی آئی ،کیسے میں سوار ہوا کچھ خبر نہیں، خانیوال اسٹیشن پر اتر کے پھاٹک سے کبیروالا کی وین پر سوار ہوا،آخری بچے ہوئے10 روپے کرایہ دے کر جب شام ڈھلے اپنے گھر کے دروازے سے اندر داخل ہوا تو سامنے صحن میں چارپائی پر امی جان سر پر کپڑا باندھے نیم دارز تھیں۔میرا بڑا بھائی دوائی کا چمچ بھر کر انہیں پلا رہا تھا۔مجھے دیکھتے ہی امی جان اٹھ کر کھڑی ہوئیں اور اونچی آواز میں کہنے لگیں_____!!!!
او! میرا پترخیر سے گھر آگیا ہے اب میں بالکل ٹھیک ہوں
میں آنکھوں میں آنسو بھرتے ہوئے دوڑ کر ان کے سینے سے جالگا بس کے گیٹ میں کھڑے گلوکا مسکراتا ہوا چہرہ یک دم میری آنکھوں کے سامنے آگیا اور میں سمجھ گیا کہ اس نے مجھے 60روپے واپس کیوں کیےتھے_____!!!!!
چراغ لے کے کوئی ،راستے میں بیٹھا تھا_________!!!
مجھے سفر میں جہاں رات ہونے والی تھی____
#riyan khattak

2 years ago | [YT] | 2