Dream 1M Subscribers 💓💓
Welcome to Funny Vibes 🥀🥀
First of all Thanks 😘 for Visiting ❣️❣️
This Channel is based on Love quiz, Fun games ,Love games, Personality games,Love test and Month games.💕I hope you will like these videos and videos is just for entertainment purpose only so take it for fun don't take it seriously 💞
Thanks you ☺️
Plz SUBSCRIBE to our channel for more fun videos 😘😘
💓🦋💓🦋💓🦋💓
This Channel provided contents like
📍Choose one number
📍Choose your birthday month
📍Vs videos
📍Personality Games
📍Love test
📍Love Games
📍Fun Games
📍Choose your food and many more
📍Choose one
📍Choose one Alphabet
📍Choose one number 2024
📍Love quiz game today new
📍Comparison videos
Subscribe if you enjoyed 🙏
Like if you want more 😍
Comment for doubts and compliments ❣️
Share for happiness 😊
🚫 Disclaimer : Videos are for fun and entertainment purpose only
🌍Buisness Inquiry : nawazanas380@gmail.com
FUNNY VIBES ♥️🥀
The blessed moon of Ramadan 🌙 has been sighted!
Wishing all Muslims a blessed and sacred month. This month is a time for righteous deeds, blessings, and the acceptance of prayers. Let us gather the mercies of Allah, and may Allah make this sacred month a means of mercy, forgiveness, and freedom from Hellfire for us all. Ameen.
1 day ago | [YT] | 0
View 4 replies
FUNNY VIBES ♥️🥀
𝗥𝗮𝗺𝗮𝗱𝗮𝗻 𝗶𝘀 𝗿𝗼𝘂𝗻𝗱 𝘁𝗵𝗲 𝗰𝗼𝗿𝗻𝗲𝗿..>>🫠✨
𝘴𝘰𝘰 𝘪 𝘫𝘶𝘴𝘵 𝘸𝘢𝘯𝘵𝘦𝘥 𝘵𝘰 𝘴𝘢𝘺 𝘪𝘧 𝘪 𝘸𝘪𝘭𝘭 𝘦𝘷𝘦𝘳 𝘩𝘶𝘳𝘵 𝘰𝘳 𝘶𝘱𝘴𝘦𝘵 𝘺𝘰𝘶 𝘪𝘯 𝘸𝘢𝘺 𝘬𝘯𝘰𝘸𝘪𝘭𝘨𝘺 𝘰𝘳 𝘶𝘯𝘬𝘰𝘸𝘪𝘯𝘭𝘨𝘺 𝘪 𝘢𝘮 𝘳𝘦𝘢𝘭𝘭𝘺 𝘴𝘰𝘳𝘳𝘺 𝘢𝘯𝘥 𝘪 𝘢𝘴𝘬 𝘺𝘰𝘶 𝘵𝘰𝘰 𝘧𝘰𝘳𝘨𝘪𝘷𝘦 𝘮𝘦 𝘧𝘰𝘳 𝘵𝘩𝘦 𝘴𝘢𝘬𝘦 𝘰𝘧 𝘈𝘭𝘭𝘢𝘩✨🫂
𝘔𝘢𝘺 𝘢𝘭𝘭𝘢𝘩 𝘧𝘰𝘳𝘨𝘪𝘷𝘦 𝘢𝘭𝘬 𝘰𝘶𝘳 𝘴𝘪𝘯𝘴 𝘢𝘤𝘤𝘦𝘰𝘵 𝘰𝘶𝘳 𝘧𝘢𝘴𝘵𝘴 𝘢𝘯𝘥 𝘥𝘶𝘢𝘴 𝘢𝘯𝘥 𝘮𝘢𝘬𝘦 𝘵𝘩𝘪𝘴 𝘙𝘢𝘮𝘢𝘥𝘢𝘯 𝘢 𝘣𝘭𝘦𝘴𝘴𝘦𝘥 𝘰𝘯𝘦 𝘧𝘰𝘳 𝘢𝘭𝘭 𝘰𝘧 𝘶𝘴. 𝘗𝘭𝘦𝘢𝘴𝘦 𝘬𝘦𝘦𝘱 𝘮𝘦𝘦 𝘪𝘯 𝘺𝘰𝘶𝘳 𝘥𝘶𝘢𝘴 𝘢𝘯𝘥 𝘪'𝘭𝘭 𝘬𝘦𝘦𝘱 𝘺𝘰𝘶 𝘪𝘯 𝘮𝘪𝘯𝘦 𝘵𝘰𝘰🤌🫂💗🌸🥹
𝗥𝗮𝗺𝗮𝗱𝗮𝗻 𝗠𝘂𝗯𝗯𝗮𝗿𝗮𝗸🎀💐💖🫠
1 day ago | [YT] | 0
View 0 replies
FUNNY VIBES ♥️🥀
📖 ناول: سلفائیٹ
✒️ تحریر: نور راجپوت
✨ قسط نمبر: 02
میز پر رکھا ہوا کافی کا کپ ٹھنڈا پڑ چکا تھا۔ اُسکی نظریں گلاس ڈور سے باہر تیزی سے گزرتی گاڑیوں پر جمی تھیں۔
جانے کس احساس کے تحت اس نے نگاہیں اپنے کپ کی طرف مرکوز کیں۔ کپ اٹھایا تو کافی ٹھنڈی ہوچکی تھی۔ ایک گہرہ سانس لینے کے بعد اس نے وہ کڑوا اور ٹھنڈا مشروپ اپنے اندر انڈیلا تھا۔۔۔
میز پر رکھے موبائل سے ٹائم دیکھا۔
”اووہ صرف دس منٹ رہ گئے ہیں“
وہ بڑبڑاتے ہوئے ایک دم کھڑی ہوٸی۔ کافی کے پیسے اس نے میز پر رکھے اور دروازے کی طرف قدم بڑھادیئے۔ یہ اسکی تقریباً روزانہ کی روٹین تھی۔
”گھڑی پہننے کے باوجود موبائل پر وقت دیکھنے کی عادت آج بھی نہيں بدلی تمہاری۔۔!!“
اس سے کچھ فاصلے پر بیٹھے ہوئے شخص کی نظریں دروازے سے باہر نکلتی لڑکی پر جمی تھیں۔ وہ ہلکا سا مسکرایا تھا۔
"جب سے ڈوبا ہوں تیری آنکھوں کے دریا میں
"تڑپ رہا ہوں چشم یعقوب کی مانند"
اس شخص کا آدھا چہرہ چھپا ہوا تھا۔ تقریباً پانچ منٹ بعد وہ اٹھا اور اسکے پیچھے چلنا شروع کردیا۔
ان دونوں کے جانے کے بعد ایک لڑکا تیزی سے ریسٹورینٹ کے اندر داخل ہوا اور کاٶنٹر کی طرف بڑھا۔
”ہے البرڈ اینجل آئی تھی کیا؟“
میڈی نے کاٶنٹر پر کھڑے لڑکے پوچھا۔
”ہاں ہمیشہ کی طرح۔۔۔“
البرڈ نے کافی کپ میں ڈالتے ہوئے جواب دیا۔
”اور مون۔۔“
”ہاں وہ بھی آیا تھا اور اسکے پیچھے چلا گیا ہمیشہ کی طرح۔۔“
”یہ مون مرجائے گا میرے ہاتھوں۔۔“
میڈی کو نا جانے کس بات کا غصہ آیا تھا۔
”ریلیکس میڈی وہ اسے نقصان نہيں پہنچانے والا“
البرڈ ٹرے اٹھا کر ایک میز کی طرف بڑھ گیا۔
”لیکن مجھے اس پر بالکل بھی بھروسہ نہيں ہے“
میڈی اسکے پیچھے لپکا۔
”اگر بھروسہ نہيں ہے تو جاٶ نا اسکے پیچھے۔۔ ویسے بھی تمہاری ان فضول باتوں میں ٹرین گزر چکی ہوگی۔۔“
”اووو شٹ“
البرڈ کی بات سن کر میڈی چلایا اور باہر کی طرف بھاگالیکن شاید قسمت نے اسکا ساتھ نہيں دیا تھا۔ ٹرین گزر چکی تھی اب اسے پندرہ منٹ انتظار کرنا تھا جب تک دوسری ٹرین نہيں آجاتی۔ میڈی کا موڈ بری طرح خراب ہوچک تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جب وہ گھر پہنچی تو تقریباً پوری بھیگ چکی تھی۔ اکیڈمی میں اسے رکشے پر آنا جانا پڑتا تھا۔ جو اسے مین روڈ پر اتار دیتا تھا۔ مین روڈ سے گھر تک کا سفر پانچ منٹ کا تھا۔ اور ان پانچ منٹوں میں وہ بارش تیز ہونے کی وجہ سے بھیگ گٸی تھی۔
”کتنی بار کہا ہے کہ رکشے والے سے کہہ کر گھر تک رکشہ لے آیا کرو۔ اپنے گھر کے سامنے اتارا کرو“
آسیہ بیگم نے اپنی بیٹی سے کہا جو ہمیشہ انکی بات ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکال دیتی تھی۔
”اماں رکشے والا پیسے زیادہ مانگتا ہے۔ پانچ منٹ کے سفر کیلئے میں اسے زیادہ پیسے ہرگز نہيں دے سکتی۔“
وہ تولیے سے بال صاف کرتے ہوئے بڑبڑاٸی۔
”وہ تو ٹھیک ہے لیکن کبھی کبھی حالات کو بھی دیکھ لینا چاہیے نا آج موسم خراب تھا اور اتنی تیز بارش تھی آج تو آجاتی نا۔۔“
”کیا مجھے کھانا ملے گا“
وہ اپنی ماں کی بات مکمل نظرانداز کر گٸی تھی۔
آسیہ بیگم سے اسکی بات سن کر سر جھٹکا۔ وہ اچھی طرح جانتی تھی کہ انکی بیٹی اپنی من مانی کرتی ہے ہمیشہ۔
”کپڑے بدل لو۔ میں گرم کر کے لاتی ہوں کھانا۔“
آسیہ بیگم برآمدے ملحقہ چھوٹے سے کچن میں چلی گٸی تھیں۔جبکہ وہ کمرے کی طرف بڑھ گٸی۔
”ماہم اور جواد کہاں ہیں؟ نظر نہيں آ رہے؟“
گھر میں چھاٸی خاموشی کو محسوس کرکے اسے اپنے دونوں چھوٹے بہن بھاٸی یاد آگئے تھے۔
”چھت پر ہیں۔ کچن کی چھت ٹپک رہی تھی تو سیمنٹ لگا رہے ہیں دونوں۔۔
بھاٸی صاحب پیسے دے دیتے تو مرمت ہی کروالیتی مکانوں کی لیکن جو اللہ کو منظور۔“
آسیہ بیگم نے ایک گہری سانس لیتے ہوئے جواب دیا۔اور کھانا برآمدے میں بچھی چارپاٸی پر رکھ دیا۔
”مجھے نہيں لگتا امی کہ وہ ہمیں پیسے دینگے۔ لوگ یتمیوں اور غریبوں کا حق بہت آسانی اور بنا خوف کے مار لیتے ہیں“
اور اسے قرآن کی آیت مبارکہ اور احادیث مبارکہ یاد آئی جس میں یتیموں کے حقوق بیان فرمائے گئے ہیں اور سوچا کیوں لوگ صرف قران کو صرف پڑھتے ہیں سمجھتے کیوں نہیں۔۔۔۔
#بِسْمِ اللّـٰهِ الرَّحْـمٰنِ الرَّحِيْـمِ
وَاٰتُوا الْيَتَامٰٓى اَمْوَالَـهُـمْ ۖ وَلَا تَتَبَدَّلُوا الْخَبِيْثَ بِالطَّيِّبِ ۖ وَلَا تَاْكُلُـوٓا اَمْوَالَـهُـمْ اِلٰٓى اَمْوَالِكُمْ ۚ اِنَّهٝ كَانَ حُوْبًا كَبِيْـرًا°
#ترجمہ۔۔۔
اور یتیموں کو ان کے مال دے دو، اور ناپاک کو پاک سے نہ بدلو، اور نہ کھاؤ ان کے مال کو اپنے مال کے ساتھ ملا کر، بے شک یہ بڑا گناہ ہے۔
#سورۃ النساء:2
یتیم کی سرپرستی اور خیرخواہی :۔
معاشرتی قباحتوں میں سے سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے یتیموں کے حقوق کی طرف توجہ دلائی۔ یتیم کی پرورش کرنا بہت بڑی نیکی ہے۔ چناچہ
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
میں اور یتیم کا سرپرست جنت میں اس طرح ہوں گے۔ پھر آپ نے اپنی شہادت کی اور درمیانی انگلی ذرا کھول کر اشارہ کیا۔
(بخاری۔ کتاب الادب۔ باب فضل من یعول یتیما)
لیکن عرب میں یتیموں کے حقوق کئی طرح سے پامال ہو رہے تھے۔ انہی حقوق کی پامالی کا بالترتیب یہاں ذکر ہو رہا ہے۔ مثلاً جو چیزیں بطور امانت سرپرست کے پاس ہوتیں انہیں واپس کرتے وقت وہ یہ کوشش کرتا کہ اچھی چیز کے بدلے کوئی پرانی اور گھٹیا چیز دے کر خانہ پری کر دے۔
دوسری صورت یہ تھی کہ کھانے پینے کی اشیاء کو ملا جلا لیا جس میں یتیم کو کسر لگانے اور اپنا فائدہ ملحوظ رکھنے کی کوشش کی جاتی تھی۔۔۔۔۔۔۔
لیکن یہ تو بس اس کی سوچ تھی نہ کہ دنیا ویسا سوچ سکتی بس یہ سوچ کر ہی خاموش ہو گئی
وہ پیسوں کے ذکر پر سخت بدمزہ ہوٸی تھی۔
”اچھا تم کھانا کھا لو میں ذرا ان دونوں کو دیکھ لوں بھیگ رہے ہونگے اوپر“
”آپ رہنے دیں امی میں دیکھ لونگی کھانے کے بعد۔۔ آپ بس آواز دے کر دونوں کو نیچے بلا لیں“
وہ کہہ کر کھانے کی طرف متوجہ ہوچکی تھی۔ البتہ ذہن بری طرح انتشار کا شکار تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شور کی آواز پر وہ چونکی۔ اسکے بالکل سامنے ایک لڑکے کا بیگ نیچے گر گیا تھا۔ ٹرین کی رفتار آہستہ ہوٸی۔
#Marne_la_Vallee_station
وہ ایک دم سیدھی ہوٸی۔ اسکا اسٹیشن آگیا تھا ہر وہ ایسے ہی خیالوں میں کھوٸی رہتی تو شاید اسثیشن گزر جاتا۔
اس نے مسکرا کر اپنے سامنے بیٹھے ٹین ایج لڑکے کو دیکھا جیسے شکریہ ادا کیا ہو۔
اور پھر ٹرین رکنے پر وہ ٹرین باہر نکل گٸی۔
اسکے بالکل سامنے وہ گاٶں تھا۔۔۔ ہاں (Disney village) جس سے ایک منٹ کے فاصلے پر Disney land تھا۔۔
شہزادیوں اور پریوں کا دیس۔۔ اسکے لئے آج بھی ویسا ہی تھا۔
بہت سے لوگ ٹرین سے اترے تھے اور اب انکا رخ ڈزنی لینڈ کی طرف تھا۔
”تھینکس بڈی۔۔“
ٹرین سے باہر نکلتے ہوئے اس آدھے چھپے ہوئے چہرے والے شخص نے سیٹ پر بیٹھے اس لڑکے سے کہا جس نے جان بوجھ کر اسکے اشارے پر اپنا بیگ نیچے گرایا تھا۔
اب اسکی نگاہیں اینجل کو ڈھونڈ رہی تھیں۔۔ اتنے سارے لوگوں کے ہجوم میں وہ کہیں کھو گٸی تھی۔ وہ تھوڑا سا بےچین ہوا۔۔
پھر اسے ایک طرف وہ نظر آگٸی تھی۔۔ ہاں وہی۔۔ اینجل۔۔
اینجل کو دیکھتے ہی اسکے چہرے پر سکون پھیل گیا تھا اور اب تھوڑا سا فاصلہ رکھ کر وہ اسکے پیچھے پیچھے چل پڑا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
”سن رہا ہے نا تو
رو رہا ہوں میں۔۔
سن رہا ہے نا تو۔۔“
”ماہم ٹی وی کی آواز کم کرلو۔۔ کب سے کہہ رہی ہوں۔۔“
وہ اپنی کتابيں پھیلائے بیٹھی تھی۔ مسلسل آنے والی گانے کی آواز اسکی توجہ اپنی طرف کھینچ رہی تھی۔
”ارے ہانی ذرا آکر دیکھو آج RJ کا شو ہے۔۔ قسم سے کمال لگ رہا ہے۔۔“
ماہم نے آواز کیا کم کرنی تھی اوپر سے چلا کر کہا۔
”ہاں ہانی آپی۔۔ بہت اچھا لگتا ہے مجھے بھی RJ “
جواد نے بھی ماہم کی پیروی کی۔
”عاشقی ٹو والا آر جے۔۔؟ اففف توبہ ذرا نہيں پسند مجھے نہ یہ فلم۔۔۔ نہ اسکے گانے اور نہ ہیرو۔۔ اور اگر اب تم لوگوں نے آواز کم نہ کی تو میں امی سے کہہ دونگی۔۔“
وہ جانے کیوں غصے کرنے لگ گٸی تھی۔۔ شاید حالات نے اسے چڑچڑا بنا دیا تھا۔
”نہيں یہ وہ آر جے نہيں ہے یہ تو پاکستان کا مشہور۔۔۔
“بلاٶں امی کو۔۔؟“
ہانی نے ماہم کی بات کاٹ کر دھمکی دی تو وہ منہ بنا کر آواز کم کرنے لگ گٸی۔
”ہائے کتنا اچھا گاتا ہے نا یہ۔۔۔ کاش میں بڑا ہو کر ایسا بن جاٶں۔۔“
جواد کے لہجے میں حسرت تھی۔۔۔ وہ چھوٹا سا بچہ جانے کب سکرین پر گٹار پکڑے گاتے ہوئے لڑکا فین بن چکا تھا اسے خود بھی معلوم نہيں تھا۔
”کل رات مولانا صاحب کی #روح پرواز کر گٸی“
ہانی کی نظر سامنے رکھے اخبار پر پڑی تھی۔
اسکے دماغ نے لفظ روح کو بہت بری طرح سے Capture کیا تھا۔
روح۔۔۔ روح۔۔
وہ بڑبڑاٸی۔
”روح کیا ہے۔۔؟؟“
ایک سادہ سے سوال نے اسکے دماغ میں جنم لیا۔
اسکا ذہن اٹکا تھا۔۔ وہ سوچتی رہی لیکن کوٸی سرا نہ پکڑ پاٸی۔
تھک ہار کر اس نے کتابيں اٹھا کر ایک طرف رکھیں اور لیٹ گٸی۔۔ اسکا ذہن آج کل پڑھاٸی میں نہيں لگ رہا تھا۔
عجیب و غریب سوچوں نے اسکے دماغ کو گھیرا ہوا تھا۔
”کبھی تم لوگ پڑھ بھی لیا کرو۔۔ہر وقت ٹی وی میں گھسے رہتے ہو۔۔“
ہانی نے اپنے دونوں بہن بھاٸیوں کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ جو اس سے کچھ فاصلے پر نظریں ٹی وی میں گاڑے بیٹھے تھے۔
”ہمیں کتابی کیڑا نہيں بننا۔۔۔ کیوں جواد۔۔؟؟“
ماہم نے جواد کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔
وہ بھی مسکرادیا تھا جبکہ ہانی نے افسوس سے سر ہلایا۔
یہ تھی اُمِ حَانم عرف ہانی۔۔ جو بی ایس سی سال دوٸم کی طالبہ تھی جسکی کل کاٸنات اسکی ماں اور دو بہن بھاٸی تھے۔
ماہم،ہانی سے دو سال چھوٹی تھی جو سیکنڈایٸر میں تھی اور جواد ماہم سے چار سال چھوٹا تھا۔
ابصار صاحب جو کہ ہانی کے والد سات سال پہلے ہی دنیا سے رخصت ہوگئے تھے۔ وقت اور حالات نے اسے عمر سے بڑا بنا دیا تھا۔ البتہ ماہم میں ابھی بچپنا تھا۔
”روح کیا ہے؟“
ایک بار پھر اسکا ذہن الجھا۔۔ بالآخر وہ اٹھ کر کمرے سے باہر نکل گٸی تھی۔
”تیرے سنگ گزر جائے یہ عمر جو باقی ہے۔۔
ہنس دو نا ذرا کھل کر۔۔ کاہے کی اداسی ہے۔۔“
دروازے سے باہر نکلتے وقت اسکی سماعت سے گانے کی آواز ٹکراٸی۔
آواز اچھی تھی۔چاہنے کے باوجود وہ واپس پلٹ کر ٹی وی پر نظر آتے اس آر جے کو نہيں دیکھ پاٸی تھی۔ اور خاموشی سے وہ صحن کی طرف بڑھ گٸی تھی جہاں ٹھنڈی ہوا نے اسکا استقبال کیا تھا۔۔ اسے روزانہ رات کو صحن میں ٹہلنے کی عادت تھی۔۔ اور آج تو پھر ٹھنڈی ہواٸیں اسے سکون بخش رہی تھیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
2 weeks ago | [YT] | 3
View 4 replies
FUNNY VIBES ♥️🥀
📖 ناول: سلفائیٹ
✒️ تحریر: نور راجپوت
✨ قسط نمبر: 01
بوندوں نے گر کے غضب سا ہے ڈالا
موسم میں موسم عجب سا ہے ڈالا
یہ بارش کا بادل بھی مجھ سا ہے رنج
جو چھلکا ذرا ، سب بَدَل سا ہے ڈالا
ہلکی پھلکی بوندا باندی نے جب موسلا دھار بارش کا روپ دھارا تو ایلا نے چونک کر اس پاگل لڑکی کی طرف دیکھا جو آنکھیں موندے دونوں بازو پھیلائے محبتوں کے شہر میں طلسم خیز جگہ پر بے فکر گھوم رہی تھی ہواؤں کے سنگ جھوم رہی تھی!
"ماہی" ایلا نے جو شان و شوکت اور پر اسرار انداز میں کھڑے ایفل ٹاور، جسے دنیا کو خوبصورت ترین ٹاور ہونے کا اعزاز حاصل ہے، اس کی خوبصورتی کو کیمرے کی آنکھ میں قید کرنے میں محو تھی، آخری سی کوشش کرتے ہوئے اسے پکارا،
"ماہی بس کر جاؤاب اور کتنا انتظار کرو گی؟
دیکھو بارش اب تیز ہو رہی ہے ہمیں چلنا چاہیے"
کسی بھی خطرے کے پیش نظر وہ پہلے سے اُسے وارن کر رہی تھی۔مگر وہ سب چیزوں سے بیگانہ اپنی دھن میں سر دھنتی بارش سے لطف اندوز ہو رہی تھی۔
ایلا نے قریب جا کر چھاتہ اس کے اوپر کیا جو لاپروائی سے بھیگ رہی تھی۔کچھ لمحات یوں ہی گزر گئے بارش کی بوندیں چہرے پر نہ پا کر ماہی نے آنکھیں کھولیں،اوپر کی جانب سر کو جنبش دی اور چھاتے کو دیکھ کر برا سا منہ بنایا۔
"بس کر جاؤ ماہی پاگل پن کی بھی کوئی حد ہوتی ہے"ایلا نے ڈپٹا۔
"تمہیں پتا ہے ایلا آج 2 نومبر ہے، یہ دن میرے لیے بہت خاص دن ہے،یہی وہ دن ہے جب مجھے وہ شخص پہلی بار یہاں اسی جگہ ملا تھا۔"ماہی نے اک جذب سے کہا۔
"اور تم پچھلے تین سالوں سے لگاتار یہاں تشریف لارہی ہو، وہ دوبارہ ملا کیا؟؟" ایلا نے ماہی کا ہاتھ پکڑ کر اب باقاعدہ چلنا شروع کر دیا تھا جبکہ ساتھ ساتھ وہ اپنی ناراضی اور غصے کا اظہار کر رہی تھی۔
"رکو ایلا، ابھی صرف شام کے چار ہی تو بجے ہیں،میں مزید اس دشمن جاں کا انتظار کرنا چاہتی ہوں،کچھ لمحات اس کی یاد کے نام کرنا چاہتی ہوں،اس نے کہا تھا میں اسی جگہ ملوں گا دوبارہ۔۔۔"
"پاگل مت بنو ماہی،اب میں مزید تمہاری بکواس برداشت نہیں کرسکتی"ایلا نے غصیلے لہجےمیں ڈپٹا۔سردی کی بارش میں بھیگنے کی وجہ سے ماہی کے خوبصورت گلابی لب اب نیلے پڑنے لگے تھے۔ایلا اس کی کپکپاہٹ واضح طور پہ محسوس کر چکی تھی جو ٹھنڈ کے باعث کپکپا رہے تھے۔
"لیکن۔۔"
"ایک دم چپ تمہاری آواز نہ آئے۔۔"وہ کچھ کہنا چاہتی تھی مگر ایلا اسے سختی سے خاموش رہنے کا عندیہ دے کر اس کا ہاتھ تھامے تیزی سے گاڑی کی جانب رواں تھی۔ماہی نے ایک الوداعی پر شکوہ نظر ٹاور پر ڈالی اسکی آنکھوں میں شکوہ ابھرا۔
"آج پھر وہ نہیں آیا۔۔"جیسے جیسے وہ اس جگہ سے دور جا رہی تھی اسے محسوس ہو رہا تھا وہ بہت کچھ پیچھے چھوڑ رہی ہو،اک شدت سے وہ گزری منزل کی جانب نظریں واہ کئے ہوئے تھی شاید وہ کہیں سے ایک بار اسے نظر آجائے پر اس کی خواہش کی تکمیل نہ ہوئی۔اس کا دل ہمیشہ کی طرف افسردہ تھا اور ڈوب رہا تھا،وہ لمبے کڑے انتظار کے بعد بھی نظر نہ آ سکا تھا۔
گاڑی کے پاس پہنچتے ہی ایلا نے اس کی طرف کا دروازہ کھولا اور اندر بٹھایا۔
"تو یہ طے ہے مجھے اسکا ایک لمبا انتظار کرنا ہے"آنکھیں چھلکنے کو تیار تھیں۔
"اب وہ دیدار میسر ہے نہ قُربت نہ سخن
اِک جُدائی ہے جو تقدیر ہوئی جاتی ہے"
ماہی نے اک بار پھر سے آب و تاب سے بارش میں نہاتے ٹاور کو دیکھتے ہوئے دل کی گہرائیوں سے سوچا، اس سے پہلے کہ وہ مزید کچھ سوچتی ایلا زن سے گاڑی آگے کی جانب بڑھا چکی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کا ناجانے کونسا پہر تھا۔ہوا میں خنکی بہت زیادہ بڑھ چکی تھی۔ آرام دہ بستر پر پرسکون نیند کے زیراثر نظر آنے والا وہ شخص ایک جھٹکے سے اٹھ بیٹھا تھا۔
کچھ ایسے حادثے بھی زندگی میں ہوتے ہیں کہ انسان بچ تو جاتا ہے مگر زندہ نہیں رہتا
لیمپ کی مدھم روشنی میں چہرے پر پسینے کی ننھی ننھی بوندیں واضح تھیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے اذیت کی ایک لہر اس شخص کے چہرے پر پھیل گئی۔ حواس بحال ہونے پر اس نے غصے سے ساٸیڈ ٹیبل پر رکھا لیمپ ہاتھ بڑھا کر نیچے گرا دیا۔سسکیوں کی آواز واضح سنائی دے رہی تھی اور یہ آواز اسکی روح کو کسی تلوار کی طرح زخمی کر رہی تھی۔ بالآخر اسکی برداشت جواب دے گٸی۔
"Shut up.. just shut up"
وہ نےبسی سے چلایا۔ وہ دونوں ہاتھ کانوں پر رکھ کر اس آواز سے بچنا جا رہا تھا۔۔ لیکن شاید کسی نے رونے کی قسم کھا رکھی تھی۔ ایسا پہلی بار نہيں ہوا تھا، پچھلے تین سالوں میں ایک بھی دن ایسا نہيں گزرا تھا جب اس آواز نے اُسکا پیچھا نہ کیا ہو۔ ایک بھی رات وہ سکون سے نہيں سو پایا تھا۔ اور پھر ایک جھٹکے سے وہ اٹھا۔۔ اب اسکا رخ اس شفیق ہستی کے کمرے کی جانب تھا جسکی آغوش اسے سکون پہنچاتی تھی۔ اپنے مطلوبہ کمرے کے باہر پہنچنے کے بعد اس نے دروازے پر دستک دی۔ وہ جانتا تھا اندر وہ شفیق ہستی جاگ رہی ہونگی۔
”آجاٶ“دستک پر اندر سے آواز ابھری تھی۔ وہ جھٹکے سے دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا۔ سامنے وہ ہستی اپنے بستر پر بیٹھیں سورہ یسین کی تلاوت کر رہی تھیں۔
”بی جان“وہ تڑپ کر انکی طرف بڑھا۔ بی جان نے سورہ یسین کو عقیدت سے چوم کر ساٸیڈ ٹیبل پر رکھے اونچے طاق پر رکھا۔
”شاہ بیٹا تم۔۔ سب خیریت تو ہے نا۔۔؟“بی جان کے چہرے پر پریشانی ابھری۔
”وہ بی جان ۔۔ وہ میں۔۔“وہ کچھ کہنا چاہتا تھا لیکن آنسوٶں کا ایک گولا سا اسکے گلے میں اٹک گیا تھا۔ وہ آگے بڑھ کر بی جان کی گود میں سر رکھ کر لیٹ گیا تھا۔
”آج پھر کوٸی برا خواب دیکھا کیا۔۔؟“بی جان پیار بھرے لہجے میں پوچھ رہی تھیں اور ساتھ ساتھ اسکے بالوں میں انگلیاں بھی پھیر رہی تھیں۔ جانے دو آنسو کیسے اسکی آنکهوں سے پھسل کر بی جان کی گود میں جذب ہوگئے تھے۔
”کوٸی اتنا کیسے رو سکتا ہے بی جان۔۔کیسے۔۔؟“وہ اذیت سے دوچار لہجے میں پوچھ رہا تھا۔ بی جان نے اسکی بات پر ایک گہرہ سانس لیا۔
”کوٸی تین سالوں سے لگاتار رو رہا ہے بی جان، ایک بھی رات وہ چپ نہيں ہوا،کوٸی اتنا کیسے رو سکتا ہے۔۔؟" بی جان کا کلیجہ جیسے اپنے بیٹے کی بات پر چھلنی سا ہوگیا تھا۔
”کیا وہ شخص تھکتا نہيں بی جان؟ کہاں سے آتے ہیں اسکے پاس اتنے آنسو؟ وہ چپ کیوں نہيں ہوتا بی جان؟ کوٸی اتنا کیسے رو سکتا ہے۔۔؟“
وہ بار بار ایک ہی سوال دہرا رہا تھا۔
”زخم گہرا دیا ہے تم نے بیٹا۔۔ اتنا گہرا زخم کہ تم سوچ بھی نہيں سکتے"بی جان نے کہنے کے بعد اسکے سر پر پھونک ماری جیسے ساری بلاٸیں ٹالنا چاہتی ہوں۔
”اُسے کہہ دیں کہ وہ چپ کر جائے بی بی جان، چپ کر جائے خدا کا واسطہ ہے۔۔“وہ کہہ رہا تھا، اور بی جان نم آنکھیں لئے سن رہی تھیں۔
کتنی ہی دیر وہ یہی الفاظ دہراتا رہا اور پھر تھک ہار کر یا شاید اس سکون کے باعث جو اسے بی جان کی گود میں ملا تھا وہ ایک بار پھر نیند کی آغوش میں جاچکا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
” گیلیٹ برگس (Gelett Burgess) نے دنیا کے انسانوں کو دو اقسام میں تقسیم کیا ہے۔ ایک بروماٸڈز (Bromide)اور دوسرے سلفاٸٹس (Sulphites) بروماٸڈ عام لوگ ہوتے ہیں جنکی سوچ ایک سی ہوتی ہے جبکہ سلفاٸٹس خاص لوگ ہوتے ہیں جو کہ نایاب ہوتے ہیں۔ جو عام لوگوں سے ہٹ کر سوچتے ہیں جو اپنی سوچ اور اپنے عمل دونوں سے لوگوں کو چونکا دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جو غیر معمولی کام کو معمولی طریقے سے جبکہ معمولی کام کو غیر معمولی طریقے سے سرانجام دیتے ہیں۔“کلاس روم میں ٹیچر کی آواز گونج رہی تھی۔ یہ بی ایس سی کی کلاس تھی اور اس وقت انکا انگلش کا لیکچر تھا۔ وہ دونوں دوسری قطار میں بیٹھی تھیں۔ ایک طرف لڑکوں کی قطار تھی تو دوسری جانب لڑکیوں کی۔
”اوہو امی نے کل کہا تھا کہ چھت پر سیمنٹ لگا دینا میں پھر بھول گٸی۔۔“آسمان پر چھائے گہرے بادلوں کو دیکھ کر اس نے سوچا۔ پچھلے کچھ دنوں سے ہوتی لگاتار بارش نے انکے ایک کمرے کی چھت کو ٹپکنے پر مجبور کردیا تھا۔
”کاش میں سیمنٹ لگا ہی دیتی، اب امی کو محنت کرنی پڑے گی اور اگر انہيں بھی یاد نہ رہا تو آج رات پھر۔۔۔
”مس اُم حَانم"وہ مزید سوچ نہيں پاٸی تھی کہ کلاس ٹیچر کی سخت سی آواز اسے خیالوں کی دنیا سے نکال کر حقيقت میں لے آئی تھی۔
”یہ۔۔یس۔۔ میم۔۔“وہ ہڑبڑا کر کھڑی ہوگئی۔
”دھیان کدھر ہے آپکا؟“میم نے غصے سے پوچھا۔
"جج۔۔ جی۔۔ وہ۔۔" وہ کچھ کہنا چاہتی تھی لیکن الفاظ دم توڑ گئے۔
”اگر آپ جیسے سٹوڈنٹ کلاس میں ایسا رویہ اپناٸیں گے تو باقیوں کا کیا ہوگا؟“غالباً میم کافی غصے میں تھیں۔ لڑکوں کی دبی دبی سی ہنسی کی آواز وہ صاف سن سکتی تھی۔ وہ سر جھکائے کھڑی تھی۔ واقعی اسکا دھیان کلاس میں نہيں تھا۔
”بیٹھ جاٸیں اور آٸندہ ایسی حرکت مت کیجئے گا“میم کو شاید اس پر رحم آگیا تھا۔ وہ خاموشی سے بیٹھ گٸی۔ اس نے سنا ہی نہيں تھا کہ سلفاٸٹس کیا ہوتے ہیں؟ اسکا ذہن تو بس چھت سے ٹپکتے پانی میں الجھا تھا جو برتن میں گرتا اور ایک عجیب سی آواز پیدا کرتا تھا اور آواز اسے انتہائی بری لگتی تھی۔
_______________________
تنقید کی بھرپور دعوت دی جاتی ہے لیکن بے پرکی ہانکنے سے گریز کیا جائے اختلاف رائے کا آپ کاحق ہے ۔۔۔۔۔
❤❤❤❤❤❤❤❤
پیج پر بھی روزانہ قسط پوسٹ ہوگی۔
3 weeks ago | [YT] | 3
View 18 replies
FUNNY VIBES ♥️🥀
`Pov; Mushaf`🪄
جو دل سے اُتر جائے تو کیا ہیرا
*اور کیا خاک ؟🙂🖤
3 weeks ago | [YT] | 1
View 12 replies
FUNNY VIBES ♥️🥀
Ap ko Kiya pasand ha ?
3 weeks ago | [YT] | 1
View 3 replies
FUNNY VIBES ♥️🥀
गुलाब अपनी सारी ज़िंदगी काँटों में गुज़ार देता है
कौन कहता है फूलों की ज़िंदगी में ग़म नहीं होते _❤️🩹🕊️
گلاب اپنی ساری زندگی کانٹوں میں گزار دیتا ہے
*کون کہتا ہے پھولوں کی زندگی میں غم نہیں ہوتے _❤️🩹🕊️
3 weeks ago | [YT] | 4
View 4 replies
FUNNY VIBES ♥️🥀
تم نے ہنسنے والوں کو دیکھا ہی کہاں؟
جب وہ روتے ہیں تو کندھے نہیں، کونے ڈھونڈتے ہیں……!!! 🙂
तुमने हँसने वालों को देखा ही कहाँ?
जब वे रोते हैं तो कंधे नहीं, कोने ढूँढते हैं……!!! 🙂
4 weeks ago | [YT] | 1
View 3 replies
FUNNY VIBES ♥️🥀
दिल थकते नहीं, थका दिए जाते हैं।
دل تھکتے نہیں تھکا دیئے جاتے ہیں۔
1 month ago | [YT] | 3
View 7 replies
FUNNY VIBES ♥️🥀
उसे पता ही नहीं था सलीक़ा-ए-मोहब्बत का 💔
मैंने चाह कर बताया उसे, ऐसे चाहा करते हैं..! ❤️
اُسے پتہ ہی نہیں تھا سلیقہ محبت کا 💔
میں نے چاہ کر بتایا اُسے، ایسے چاہا کرتے ہیں.!❤️
1 month ago | [YT] | 5
View 9 replies
Load more