Bashaar TV shares authentic Islamic knowledge through Quran Tafseer, Hadith Research, Islamic Lectures, and Islamic History. Our aim is to spread the true message of Islam with clarity and wisdom.
This channel highlights the work of Dr. M Owais Masoomi, founder of Talshehaq Foundation and editor of the famous magazine “Bashaar”, which covers important Islamic topics and issues. He is also the author of books like Ummul Qur’an and Ummul Hadees.
💬 For any religious question, comment below – Dr. Owais Masoomi will reply through video or direct response.
👉 Subscribe to Bashaar TV for authentic Islamic guidance.
🔔 Stay updated with new content.
Bashaar TV – Authentic Knowledge, True Guidance.
please follow on facebook page : Bashaar TV
Bashaar-Voice
*قسط نمبر 3*
دیوانہ بمع اپنے اھل و عیال 23دسمبر2025 بروز منگل اپنے آبائی علاقے فتح پور ضلع لیہ پہنچا تو اس کے ماموں زاد بھائی جناب عبدالماجد نقشبندی زید مجدہ نے اس کا استقبال کیا ۔ دیوانہ اپنی ماں جائی اور ماں جیسی بڑی ہمشیرہ سے ملا ۔ انہوں نے دعاؤں سے نوازا اور جی بھر کے باتیں کیں ۔ وہ قحط کے پڑوس اور غربت کے سائے میں جیتی ہیں ۔ انکی طبیعت فیاضانہ ، ہاتھ تنگ ، دستر خوان خالی مگر مزاج حاطم طائی جیسا ھے ۔ وہ اپنی مشکلات و مصائب کو بھول کر دوسروں کے دکھ درد کو محسوس کرتے ہوئے انکی مدد میں لگ جاتی ہیں ۔ نہایت با وقار ، بااعتماد اور متقی و پرہیز گار خاتون ہیں ۔ وہ اپنے نام کی طرح صابر اور اپنی ماں کی طرح بہادر ہیں ۔ انکے چھوٹے چھوٹے پوتے پوتیاں ان کے گھر کی رونقیں بحال رکھتے ہیں ۔ وہ ان کے ساتھ ہی خوش رہتی ہیں ۔ وہ ایک دفعہ دادی بول دیں تو وہ اپنے سارے غم بھول جاتی ہیں ۔ اللہ کریم انہیں شاد و آباد رکھے ۔ بھائی عبدالماجد نقشبندی زید مجدہ کے ساتھ " مکی مدنی " مسجد میں نمازیں پڑھیں اور بعض نمازیں پڑھائیں ۔ کیونکہ امام صاحب دیکھتے ہی ادبا مصلے سے ہٹ جاتے اور درخواست کرتے کہ نماز آپ پڑھائیں ۔ بھائی عابد حسین سے ملاقات ہوئی ۔ ان سے بچپن کی یادیں تازہ کیں ۔ دیوانے نے ان سے کئی پرانے دوستوں کے احوال معلوم کیئے ۔ خاص طور سے رحمت علی ، اکرم سنڈی ، مقصود گجر، استاذ غلام مصطفیٰ اور انکے بیٹے شیر محمد کا تذکرہ ھوا تھا ۔ پھر فتح پور کے چوتھے " پاوے" جناب چوھدری عبد اللطیف کمبوہ کی دعوت شیراز سے مستفید ہونے کا موقع ملا ۔ بعض سماجی مسائل کے حل پر تبادلہ خیال ھوا ۔ اور وہ مسائل خوش اسلوبی سے حل بھی ھو گئے ۔ بابا جی ولی کے ڈیرے پہ بھی گئے ۔ اپنی ماموں زاد بہن کی تیمارداری کی اور بھائی محمد عباس کمبوہ کی اھلیہ کی تعزیت کی ۔ جبکہ انہیں دوسری شادی پر مبارکباد بھی پیش کی اور اپنی نئی بھابھی صاحبہ سے ملاقات بھی کی ۔ اس موقع پر بھائی محمد سرور اپنی اھلیہ سمیت موجود تھے ۔ لیہ سے گاڑی کرائے پر لی تھی ۔ ڈرائیور جناب غلام یاسین صاحب نے بہت ساتھ دیا ۔ دیوانے نے سب کا شکریہ ادا کیا ۔ اللہ کریم سب کو صحت و تندرستی عطاء فرمائے ۔
ڈاکٹر محمد اویس معصومی
23-12-2025
1 month ago | [YT] | 1
View 1 reply
Bashaar-Voice
آج انجمن اساتذہ پاکستان سندھ کے صدر ڈاکٹر محمد اویس معصومی نے ایک سابق متحرک و فعال ھمدرد ، ریٹائرڈ پروفیسر عبد الحفیظ تھند صاحب سے لیہ شہر میں انکے ڈیرے پر ملاقات کی ۔ ان سے ٹیلیفونک رابطہ تو گزشتہ تین برس سے تھا مگر بالمشافہ ملاقات کا موقع پہلی دفعہ میسر آیا ہے ۔ پہلے جو رابطہ تھا وہ " تھند" یعنی کمبوہ ھونے کے حوالے سے تھا ۔ اور یہ رابطہ انکے بڑے بھائی ، ممتاز مورخ ، ادیب شہیر ، مہر نور محمد تھند مرحوم کے حوالے سے ھوا تھا ۔ جن کا رابطہ نمبر مؤرخ اھلسنت ، ماہر نیازیات ، محقق و مصنف ، مشفق و مہربان جناب محمد صادق قصوری رحمۃ اللہ علیہ نے راقم کو دیا تھا ۔ راقم نے جب ان سے رابطے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ وہ اس جہان فانی سے جہان باقی کی طرف کوچ کر چکے ہیں ۔ پروفیسر عبد الحفیظ تھند انکے چھوٹے بھائی ہیں ۔ انکا نمبر تعلقہ ایجوکیشن آفیسر پرائمری اسکول لیہ جناب محمد انور تھند نے دیا تھا ۔جو رشتے میں پروفیسر صاحب کے بھتیجے لگتے ہیں ۔ پروفیسر عبد الحفیظ تھند صاحب کے پاس "ماھنامہ بشار کراچی" بھی تشریف لاتا ھے ۔ اگرچہ پروفیسر صاحب کی دلچسپی کا خاص میدان " فزکس" ھے ۔ پھر بھی ماھنامہ بشار اور صاحب بشار انہیں یاد تھے۔ راقم نے انہیں فون پہ کہا: اگر آپ گھر پہ ہیں تو ھم آپ سے ملاقات کے لیے آنا چاہتے ہیں ۔ فرمایا: میں آج گھر پہ ہی ھوں ، اگر کوئی ایمرجنسی پیش نہ آ گئی تو ! راقم نے کہا: ھم آپ کو اطلاع دے کر ہی آئیں گے ۔ بالآخر عصر کے وقت راقم نے انہیں آگاہ کیا اور ملاقات کے لیے روانہ ہو گیا ۔ وہ لیہ یونیورسٹی سے ذرا آگے اڈا حافظ آباد کے پاس اپنے کھیتوں میں ٹہلتے ہوئے محو انتظار تھے ۔ ملاقات ہوئی تو راقم نے کہا : آپ ھمارا انتظار کر رہے تھے!!!! فرمایا : جب آپ نے صبح دس بجے آنے کا کہا تھا ، میں تب سے ہی آپ کے انتظار میں ہوں ۔ پروفیسر عبد الحفیظ تھند صاحب نے بتایا کہ وہ انجمن طلبہ اسلام کے ابتدائی دور کے ھمدرد ہیں ۔ علامہ احمد سعید کاظمی ، حاجی حنیف طیب ، پروفیسر مظہر سعید کاظمی ، علامہ حامد سعید کاظمی اور پروفیسر ندیم احمد اشرفی سے اپنے روابط و مراسم کا تذکرہ کیا ۔ بہاوالدین زکریا یونیورسٹی ملتان میں پروفیسر مظہر سعید کاظمی کی بے نیاز طبیعت و دنیا بے زار رویئے اور علامہ حامد سعید کاظمی سے اپنی ملاقاتوں ، مکالموں اور بیٹھکوں کا ذکر بھی ایک ہوٹل میں چائے کے گرم کپ کے ساتھ کیا ۔ انجمن اساتذہ پاکستان کے مرکزی صدر ڈاکٹر ندیم احمد اشرفی صاحب سے وابستہ لمحات پر بھی انہوں نے روشنی ڈالی ۔ اگرچہ فکری لحاظ سے وہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللّٰہ علیہ اور امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ کے پیروکار ہیں ۔ مگر اپنوں کی لاپرواہی ، غیر سنجیدگی اور سستی کی عادت سے تنگ آ کر انہوں نے " تنظیم اساتذہ پاکستان" میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا اور 2010تا2013 ضلعی سطح پر ذمہ دار رہے ۔ جس سے اپنے ھم مسلک و ھم مشرب لوگ ان سے ناراض بھی ہوگئے تھے ۔ بعد ازاں انہوں نے انجمن اساتذہ پاکستان کےلئے ضلع لیہ میں اساتذہ کو جمع کرنے کی بھرپور کوشش کی مگر کامیاب نہ ہو سکے ۔ گورنمنٹ ڈگری کالج لیہ سے 2021 میں ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے اپنے سیاسی پس منظر ، سماجی خدمات اور مسائل کے حل میں گہری دلچسپی کے باعث جمعیت علمائے پاکستان ، جماعت اھلسنت پاکستان ، سنی تحریک پاکستان ، تحریک لبیک پاکستان اور تحریک منھاج القرآن کی ضلعی قیادت سے رابطہ کیا مگر ان سب کے غیر سنجیدہ معمولات ، عہدوں کی خواہشات ، سستی شہرت کے مطالبات اور عدم تعاون کے سانحات نے انہیں پریشان کردیا ۔ وہ مذھبی قیادت کے عدم برداشت اور غیر لچکدار رویئے سے نہ صرف سخت نالاں تھے بلکہ اسے ناکامی کا سبب بھی قرار دیا ۔ اس لیئے انہوں نے تنہا ہی آزادانہ الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا ۔ تب مندرجہ بالا تمام جماعتوں نے ان سے رابطہ کیا اور انہیں اپنی جماعت کے جھنڈے تلے الیکشن میں حصہ لینے کی پیشکش کی ۔ مگر انہوں نے سب کو صاف منع کر دیا ۔ وہ سنیت کا درد رکھنے والے نہایت فکر مند شخص ہیں۔ انہوں نے کوشش جاری رکھتے ہوئے جمعیت علمائے پاکستان نورانی گروپ کے ذمہ داران سے رابطہ کیا اور انہیں ضلعی سطح پر جمعیت علمائے پاکستان کو منظم کرنے کے لئے اپنی خدمات کو پیش کیا ۔ اور اپنے گھر ایک اھم میٹنگ طے کر لی ۔ مگر جمعیتِ علماء پاکستان کے ذمہ داران نے اس میٹنگ کو بازیچہ اطفال بناتے ہوئے قل خوانی میں بدل دیا ۔ جس سے وہ دل برداشتہ ہو گئے ۔ اب جب راقم نے ان سے انجمن اساتذہ پاکستان اور انجمن طلبہ اسلام کو ضلع لیہ میں از سر نو منظم کرنے کی درخواست کی اور بعض اسکول و کالج کے اساتذہ کو آپ کے پاس تربیت کے لیے بھیجنے کی اجازت چاہی تو فرمایا : میں راہنمائی کے لیے حاضر ھوں ۔ گویا :
*ھم تو مائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیں*
*رہ دکھلائیں کسے کوئی رہ روے منزل ہی نہیں*
پروفیسر عبد الحفیظ تھند صاحب نے نہ صرف روح کی تازگی و شادابی کا خوبصورت انتظام کیا بلکہ جسم کی رونق کے لیے لذیذ " چائے و چاہت" کا اھتمام بھی کیا ۔ باذان احمد سے اس کی تعلیم کے متعلق پوچھا اور فرمایا: تم میرے پاس آتے جاتے رہنا ۔ تم چاہو تو میں تمہیں سائینس کے مضامین پڑھا بھی سکتا ھوں ۔ راقم نے انہیں بتایا کہ باذان احمد چند دنوں کے لیے ہی لیہ آیا ہے ۔ پرسوں واپس چلا جائے گا ۔ اس موقع پر راقم نے اپنی کتاب *مزاج کے تیور* اور *بدشگونی اور فال کی شرعی حیثیت* انہیں تحفة و هدية پیش کی ۔ باذان احمد نے حسب معمول عکس بندی کی تو انہوں نے فرمایا: باذان احمد کی خواہش کے مطابق ہی تصویر بنوائیں گے!!!!! اور پھر غروب آفتاب کے خوبصورت منظر کے ساتھ ہی یہ خوبصورت ملاقات بھی اپنے اختتام کو پہنچی ۔!!!! باذان احمد اور راقم واپس اپنے گھر آگئے ۔
ڈاکٹر محمد اویس معصومی
صدر انجمن اساتذہ پاکستان سندھ
28-12-2025
1 month ago | [YT] | 0
View 0 replies
Bashaar-Voice
1 month ago | [YT] | 0
View 0 replies
Bashaar-Voice
Hi everyone, welcome to my new YouTube Community! Now you can post on my channel, too. To get started, tell me in a post what you'd like to see next on my channel.
Visit my Community: youtube.com/@BashaarVoice/community
1 month ago | [YT] | 0
View 0 replies
Bashaar-Voice
کون کہتا ہے کہ خادم حسین رضوی غالی دیتے تھے بیان: ڈاکٹر محمد اویس معصومی
1 year ago | [YT] | 0
View 0 replies