'White&Black,' where clarity meets creativity in a pristine blend of information and inspiration. Our channel is your digital sanctuary, providing unbiased perspectives on diverse topics. Explore the latest trends, insightful analysis, and captivating content, all delivered with a fresh, white perspective. Immerse yourself in a world where knowledge is presented elegantly, offering a visually striking experience. 'White&Black' is more than a channel; it's a journey through the digital landscape, providing a clear lens on the ever-evolving world. Join us as we navigate through information with style and substance, redefining the way you engage with media.
we bring you the best in entertainment.Whether you're here to unwind after a long day or looking for something to spice up your mood, we've got you covered!"
White&Black
ماں صرف قربانی کا نام کیوں؟ یہ سوال اتنا سادہ ہے کہ سننے والا مسکرا کر آگے بڑھ جاتا ہے، مگر اتنا گہرا ہے کہ اگر اس پر ٹھہر کر سوچ لیا جائے تو پورا سماج کٹہرے میں کھڑا نظر آتا ہے۔ ہم نے ماں کو ایک تصور بنا دیا ہے خاموش، صابر، بے لوث—اور اس تصور کے نیچے ایک زندہ انسان کو دفن کر دیا ہے۔ ہم تالیاں قربانی پر بجاتے ہیں، مگر سوال ذمہ داری پر نہیں اٹھاتے۔ ہم ماں کو عظیم اس لیے کہتے ہیں کہ وہ سب کچھ سہہ لیتی ہے، مگر یہ نہیں پوچھتے کہ اسے سہنا کیوں پڑتا ہے۔ ہماری تقریریں، ہماری تحریریں، ہمارے اشتہارات ہر جگہ ماں کی عظمت کا شور ہے، مگر اسی شور میں ماں کی آواز گم ہو جاتی ہے۔ اس سے پوچھنے کی جسارت کون کرے کہ تم کیا چاہتی ہو؟ تمہاری تھکن کا حساب کون دے؟ تمہاری خواہشیں کب زندہ انسان سمجھی جائیں گی، اور کب تک انہیں “ماں تو ماں ہوتی ہے” کہہ کر قبر میں اتارا جاتا رہے گا؟ ہم نے ماں کو ایک ایسا کردار بنا دیا ہے جس کا کام صرف دینا ہے وقت، جسم، خواب اور بدلے میں خاموشی قبول کرنا۔ یہ بھی عجیب منطق ہے کہ جس عورت نے جنم دیا، اسی سے توقع کی جائے کہ وہ اپنی شناخت چھوڑ دے؛ شادی کے بعد وہ بیٹی نہیں رہتی، ماں بننے کے بعد عورت نہیں رہتی، بڑھاپے میں انسان نہیں رہتی صرف ایک فرض بن جاتی ہے۔ ہم اسے سکھاتے ہیں کہ اچھا ہونا تکلیف میں رہنے کا نام ہے، اور تکلیف کو تقدیس دے کر ہم خود کو بری الذمہ کر لیتے ہیں؛ یہی وہ مقام ہے جہاں ہماری تہذیب منافقت میں بدل جاتی ہے۔ سچ یہ ہے کہ قربانی اگر انتخاب نہ ہو تو ظلم بن جاتی ہے۔ ماں کی قربانی کو جب ہم فرض قرار دیتے ہیں تو دراصل اپنی نااہلی، اپنی بے حسی اور اپنی سہولت پسندی کو جواز دیتے ہیں؛ باپ کی غیرحاضری، معاشرے کی سرد مہری، ریاست کی ناکامی سب کا بوجھ ماں کے کندھوں پر رکھ کر ہم خود کو نیک سمجھ لیتے ہیں، اور یہ نیکی نہیں، یہ بزدلی ہے۔ اگر ہم واقعی ماں کا احترام چاہتے ہیں تو اسے صرف قربانی کی علامت نہ بنائیں؛ اسے حق دیں کہ وہ تھک سکے، انکار کر سکے، خواب دیکھ سکے، اور “نہیں” کہہ سکے۔ اس کی عظمت اس کے زخموں میں نہیں، اس کے اختیار میں ہے ماں کو آسمان پر بٹھانے سے پہلے زمین پر انسان تسلیم کیجیے، ورنہ یہ تمام نعرے، یہ تمام آنسو، اور یہ تمام تعریفی جملے سب ایک خوبصورت جھوٹ ہیں جو ہمیں سچ دیکھنے سے روکتے ہیں۔
1 day ago | [YT] | 0
View 0 replies
White&Black
رمضان میں ایک مثالی معاشرہ کیسا ہوتا ہے؟ یہ سوال ہر سال ہمارے خطبوں، ٹی وی پروگراموں اور سوشل میڈیا پوسٹس میں بڑے جوش سے دہرایا جاتا ہے، مگر عملی زندگی میں اس کا جواب ڈھونڈنا سب سے مشکل کام بن چکا ہے۔ مثالی معاشرہ وہ نہیں ہوتا جس میں سحر و افطار کی تصاویر وائرل ہوں، بلکہ وہ ہوتا ہے جہاں روزہ صرف بھوک پیاس کا نام نہیں بلکہ کردار کی اصلاح کا ذریعہ بنے۔ ایک مثالی معاشرے میں رمضان آتے ہی جھوٹ سستا نہیں ہوتا، سچ مہنگا نہیں ہو جاتا، دکاندار ناپ تول میں کمی کو “رمضان کی برکت” کا نام نہیں دیتا، ملاوٹ عبادت نہیں بن جاتی، اور ذخیرہ اندوزی کو ہوشیاری نہیں کہا جاتا۔ وہاں روزہ دار کی زبان بند اور دل کھلا ہوتا ہے، مگر ہمارے ہاں اکثر زبان تو تسبیح میں مصروف ہوتی ہے اور دل نفرت، حسد اور دھوکے سے بھرا رہتا ہے۔ مثالی معاشرے میں مسجد آباد ہوتی ہے، مگر بازار بھی انصاف سے چلتا ہے، وہاں افطار دسترخوان کی نمائش نہیں بلکہ ضرورت مند کی ضرورت پوری کرنا اصل عبادت سمجھا جاتا ہے۔ ہم نے رمضان کو مقابلہ بنا دیا ہے کس کی افطاری زیادہ شاہانہ ہے، کس کی تراویح زیادہ لمبی، اور کس کی نیکی زیادہ دکھاوے والی حالانکہ اصل مثالی معاشرہ وہ ہے جہاں نیکی خاموش ہو اور برائی شرمندہ۔ ایک حقیقی مثالی معاشرے میں ملازم رمضان میں بھی انسان سمجھا جاتا ہے، مشین نہیں، گھریلو ملازمہ، مزدور اور ڈرائیور کے لیے روزہ آسان بنایا جاتا ہے، مشکل نہیں، مگر ہمارے ہاں الٹا ہوتا ہے: کام وہی، دباؤ زیادہ، اور تنخواہ پر احسان جتایا جاتا ہے۔ مثالی معاشرہ طاقتور سے حساب لیتا ہے اور کمزور کا سہارا بنتا ہے۔ رمضان کے مثالی معاشرے میں سوشل میڈیا پر دین بیچا نہیں جاتا بلکہ عمل سے سکھایا جاتا ہے، وہاں دین کا مطلب صرف مخصوص عبادات نہیں بلکہ وعدہ پورا کرنا، وقت کی پابندی اور دوسروں کے حقوق کا خیال رکھنا ہوتا ہے، مگر ہم نے دین کو پوسٹ اور اسٹیٹس تک محدود کر دیا ہے جبکہ کردار کو نظرانداز کر دیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مثالی معاشرہ خطبوں سے نہیں بنتا، خود احتسابی سے بنتا ہے، اگر رمضان ہمیں وہی انسان بنا کر رخصت کرے جو ہم پہلے تھے وہی جھوٹ، وہی ناانصافی، وہی منافقت تو پھر روزے صرف رسم رہ جاتے ہیں، اصلاح نہیں بنتے، مثالی معاشرہ وہ ہے جہاں رمضان کے بعد بھی سچ سچ رہتا ہے، انصاف انصاف، اور انسان انسان، اور اگر یہ نہیں تو مان لینا چاہیے کہ ہم نے رمضان پایا ضرور ہے، مگر سمجھا نہیں۔
2 days ago | [YT] | 0
View 0 replies
White&Black
رمضان آ گیا ہے، وہی رمضان جسے ہم تقویٰ، سچائی، صبر اور خود احتسابی کا مہینہ کہتے نہیں تھکتے، مساجد بھر گئی ہیں، سوشل میڈیا پر دعاؤں اور آیات کی بہار ہے، ہر زبان پر دینداری کے دعوے ہیں، مگر اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہمارا معاشرہ واقعی دیندار ہو گیا ہے یا صرف رمضان کی نمائش شروع ہوئی ہے، یہ سوال اس لیے تلخ ہے کیونکہ سچ یہی ہے کہ ہمارا مسئلہ بے دینی نہیں بلکہ جھوٹی دینداری ہے، ہم وہ قوم ہیں جو روزہ رکھ کر جھوٹ بولتی ہے، تراویح پڑھ کر دھوکہ دیتی ہے، اور افطار کے بعد سود، ذخیرہ اندوزی اور ملاوٹ کو “کاروباری مجبوری” کہہ کر جائز قرار دیتی ہے، رمضان آتے ہی زبان پر “اللہ دیکھ رہا ہے” کا ورد شروع ہو جاتا ہے مگر ترازو میں کمی کرتے وقت، ملازم کی تنخواہ دباتے وقت یا کسی کمزور کا حق مارتے وقت یہی اللہ اچانک غائب ہو جاتا ہے، یہ کیسا دین ہے جو صرف عبادات تک محدود ہے اور کردار کے دروازے پر آ کر دم توڑ دیتا ہے، ہم افطار دسترخوان سجا کر تصویریں لگاتے ہیں مگر بھوکے پڑوسی کا دروازہ نہیں کھٹکھٹاتے، ہم سحری میں دعائیں مانگتے ہیں مگر دن بھر بدزبانی، بددیانتی اور بے رحمی کو اپنا حق سمجھتے ہیں، رمضان میں بھی جھوٹے وعدے، جعلی ہمدردیاں اور منافقانہ مسکراہٹیں ختم نہیں ہوتیں بلکہ بعض اوقات تو بڑھ جاتی ہیں کیونکہ ہمیں یقین ہوتا ہے کہ چند عبادات سب کچھ دھو ڈالیں گی، یہ جھوٹا دیندار معاشرہ صرف عام لوگوں تک محدود نہیں بلکہ بازار، دفاتر، ادارے حتیٰ کہ مذہبی لبادے میں لپٹے کئی چہرے بھی اسی منافقت کا حصہ ہیں، رمضان میں تقویٰ کے لیکچر دینے والے سال بھر ناانصافی پر خاموش رہتے ہیں، اخلاقیات پر بولنے والے اپنے گھروں، دفاتر اور تعلقات میں وہی ظلم دہراتے ہیں جن کے خلاف وہ منبر سے آواز اٹھاتے ہیں، یہی دوہرا معیار اصل بیماری ہے، رمضان ہمیں بدلنے نہیں آتا بلکہ ہم رمضان کو اپنے مفاد کے مطابق بدل لیتے ہیں، ہم روزے کو بھوک پیاس کی مشق بنا دیتے ہیں مگر نفس کی اصلاح سے بھاگتے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ اللہ ہمیں معاف کر دے مگر ہم ایک دوسرے کو معاف کرنے کے لیے تیار نہیں، ہم دعا مانگتے ہیں کہ معاشرہ درست ہو جائے مگر خود درست ہونے کی قیمت ادا نہیں کرنا چاہتے، اگر رمضان بھی ہمیں سچ، انصاف اور رحم سکھانے میں ناکام ہو جائے تو پھر مسئلہ دین کا نہیں ہمارے جھوٹے دعوؤں کا ہے، اصل روزہ صرف کھانے پینے سے رکنے کا نام نہیں بلکہ جھوٹ، ظلم اور منافقت سے رکنے کا نام ہے، جب تک ہم یہ سچ قبول نہیں کریں گے ہر رمضان آئے گا، گزر جائے گا، اور ہمارا جھوٹا دیندار معاشرہ ویسا ہی رہے گا، کھوکھلا، خود فریب اور اخلاقی دیوالیہ۔
3 days ago | [YT] | 3
View 0 replies
White&Black
کیا دنیا ختم ہونے والی ہے؟ یا ہم نے اسے پہلے ہی مار دیا ہے؟ یہ سوال اب کسی عقیدے، پیش گوئی یا فلسفے کا محتاج نہیں۔ جواب ہمارے سامنے پڑا ہے خون میں لتھڑا، دھوئیں میں گھرا، اور بے حسی میں دفن۔ دنیا شاید نقشے پر موجود ہے، مگر انسانی ضمیر قبر میں اتر چکا ہے، اور جب ضمیر مر جائے تو دنیا کا زندہ رہنا محض ایک تاخیر ہوتی ہے، نجات نہیں۔ ہم نے ظلم کو نظام بنا لیا ہے؛ طاقتور کے لیے ہر دروازہ کھلا، کمزور کے لیے ہر راستہ بند۔ جنگیں ضرورت کہلاتی ہیں، لاشیں “اعداد و شمار”، اور بربادی “ضمنی نقصان”۔ بچے مرتے ہیں تو سرخیاں بدل دی جاتی ہیں، شہر جلتے ہیں تو بیانات جاری ہوتے ہیں، دکھ اب خبر نہیں بلکہ اسکرول کرنے کا مواد ہے یہی ہماری تہذیب ہے، تیز، بے رحم اور بے حس۔ زمین چیخ رہی ہے مگر ہم نے شور کی عادت ڈال لی ہے؛ دریا نالے بن چکے، ہوا زہر ہو چکی، موسم پاگل ہو گئے، اور ہم پھر بھی خود کو معصوم کہتے ہیں۔ ہر تباہی کے بعد سوال وہی کیوں؟ اور جواب بھی وہی: کیونکہ ہم نے لالچ کو عقل، سہولت کو حق، اور بے حسی کو فہم بنا لیا ہے؛ ہم نے لینے کا فن سیکھا اور لوٹانے کی اخلاقیات دفن کر دیں۔ اخلاق اب ایک پرانی فائل ہے جسے کوئی کھولتا نہیں؛ سچ بوجھ لگتا ہے اس لیے جھوٹ مقبول ہے، سوال خطرہ بن گیا ہے اس لیے خاموشی محفوظ ہے، رشتے مفاد کی رسیدوں پر قائم ہیں اور انسان کی قیمت اس کے فائدے سے لگتی ہے اگر کام کا نہیں تو قابلِ رحم بھی نہیں، یہی ہمارا غیر تحریری قانون ہے۔ ہم انجام کو کسی دھماکے میں ڈھونڈتے ہیں، مگر اصل تباہی دھماکوں سے نہیں آتی، وہ عادت سے آتی ہے: ظلم دیکھ کر عادی ہو جانا، ناانصافی سن کر کندھے اچکا دینا، اور دوسروں کے درد کو “میرا مسئلہ نہیں” کہہ دینا؛ جب دل ہلنا چھوڑ دے، آنکھ نم ہونا چھوڑ دے اور زبان سچ بولنے سے کترانے لگے، وہی لمحہ اختتام کا اعلان ہوتا ہے۔ تو کیا دنیا ختم ہونے والی ہے؟ شاید نہیں لیکن ہم نے اسے انسان کے بغیر جینے کی تربیت دے دی ہے، اور یہ انجام سب سے زیادہ خوفناک ہے، کیونکہ جب زمین باقی رہے اور انسان اندر سے خالی ہو تو وہ دنیا نہیں رہتی، وہ صرف ایک چلتی پھرتی قبر بن جاتی ہے۔
4 days ago | [YT] | 0
View 0 replies
White&Black
کیا واقعی ہم اس حد تک آ چکے ہیں کہ انسان ہونے کا واحد حق بھی مشین کے ساتھ بانٹنے کو تیار ہیں؟ کیا وہ ہاتھ جو پسینہ نہیں بہاتے، وہ دماغ جو خوف، بھوک، بے روزگاری اور لاشوں کی بو نہیں سونگھتے، کیا وہ ووٹ ڈالنے کے اہل ہو سکتے ہیں؟ یہ سوال بظاہر جدید لگتا ہے، مگر درحقیقت یہ انسانیت کی سب سے بڑی اخلاقی شکست کا اعلان ہے۔ ووٹ محض ایک بٹن دبانے کا عمل نہیں، یہ تاریخ، تکلیف، قربانی، اور ذمہ داری کا نچوڑ ہے۔ ووٹ اس ماں کی چیخ ہے جس کا بیٹا جنگ میں مرا، اس مزدور کی آہ ہے جس کی تنخواہ مہنگائی کھا گئی، اس طالب علم کی امید ہے جس کا مستقبل اندھیروں میں دھکیلا جا رہا ہے۔ اب اگر ہم کہتے ہیں کہ AI کو بھی ووٹ دینے کا حق ملنا چاہیے تو دراصل ہم یہ اعتراف کر رہے ہوتے ہیں کہ انسانی تجربہ غیر ضروری ہو چکا ہے۔ AI نہ ظلم سہتا ہے، نہ جبر، نہ غربت، نہ خوف؛ وہ صرف ڈیٹا نگلتا ہے، نمبرز اُگلتا ہے، اور وہی نتیجہ دیتا ہے جو اس کے مالک چاہتے ہیں۔ جس دن AI کو ووٹ ملا، اُس دن ووٹ عوام کا نہیں رہے گا، کارپوریشنز، طاقتور ریاستوں اور پوشیدہ مفادات کا ہو گا۔ یہ کہنا کہ AI غیر جانبدار ہے، سب سے بڑا فریب ہے؛ غیر جانبدار وہ ہوتا ہے جس کا کوئی مالک نہ ہو، کوئی ایجنڈا نہ ہو، اور کوئی فائدہ وابستہ نہ ہو—AI ان تینوں شرائط میں ناکام ہے۔ پھر یہ دلیل دی جاتی ہے کہ انسان جذباتی ہوتے ہیں، غلط فیصلے کرتے ہیں؛ مگر یہی جذبات انسان کو ظالم کے خلاف کھڑا کرتے ہیں، یہی غصہ آمریت کو چیلنج کرتا ہے، یہی درد انقلاب کو جنم دیتا ہے۔ ایک مشین انقلاب نہیں لاتی، وہ صرف اس نظام کو بہتر بناتی ہے جس نے اسے خریدا ہو۔ AI کو ووٹ دینا جمہوریت نہیں، جمہوریت کی خودکشی ہے؛ یہ عوامی رائے کو الگورتھم میں دفن کرنے کے مترادف ہے۔ اگر آج ہم نے یہ دروازہ کھول دیا تو کل یہ دلیل آئے گی کہ چونکہ AI تیز ہے اس لیے پارلیمنٹ بھی AI چلائے، عدالتیں بھی، اور آخرکار انسان صرف تماشائی رہ جائے۔ سوال یہ نہیں کہ AI کتنا ذہین ہے، سوال یہ ہے کہ اقتدار کس کے ہاتھ میں رہے گا۔ ووٹ انسان کا آخری ہتھیار ہے اسے مشین کے حوالے کرنا اپنی ہی گردن پر چھری رکھنے جیسا ہے۔
5 days ago | [YT] | 1
View 0 replies
White&Black
پاکستان میں کرائے کے مکانات کی مہنگائی اب محض ایک معاشی مسئلہ نہیں رہی بلکہ یہ سماجی بے حسی، ریاستی کمزوری اور اخلاقی زوال کی علامت بن چکی ہے، بڑے شہروں سے لے کر چھوٹے قصبوں تک کرایہ دار ایک ایسی اذیت ناک دوڑ میں پھنسے ہیں جہاں ہر سال بلکہ ہر چھ ماہ بعد “مارکیٹ ریٹ” کے نام پر ان کی کمر توڑ دی جاتی ہے، مکان بنیادی انسانی ضرورت ہے مگر یہاں یہ ضرورت ایک منافع خور مافیا کے ہاتھوں یرغمال بن چکی ہے، سب سے تلخ حقیقت یہ ہے کہ کرایوں میں اضافے کی کوئی معقول منطق موجود نہیں، نہ تو سہولیات بہتر ہوتی ہیں، نہ مرمت، نہ تحفظ؛ البتہ مالک مکان کی زبان پر ایک ہی جملہ ہوتا ہے کہ “مہنگائی ہے، سب مہنگا ہو گیا ہے”، سوال یہ ہے کہ جب تنخواہیں جوں کی توں ہوں، روزگار غیر یقینی ہو اور بجلی، گیس، پانی کے بل پہلے ہی جان لے رہے ہوں تو کرایہ دار کہاں جائے، اس ملک میں کم آمدنی والا طبقہ گھر کے خواب سے محروم ہو چکا ہے اور کرایہ دار ہونا ایک مستقل سزا بن گیا ہے، ریاستی سطح پر قوانین موجود ہونے کے باوجود ان کا نفاذ محض کاغذی ہے، کرایہ داری کے ضابطے، حدِ اضافہ، معاہدوں کی شفافیت سب کچھ کتابوں میں دفن ہے جبکہ عملی طور پر طاقت ہمیشہ مالک کے پاس رہتی ہے، کرایہ دار شکایت کرے تو جواب ملتا ہے کہ “نہیں رہنا تو خالی کر دیں”، یہ جملہ صرف مکان خالی کرنے کی دھمکی نہیں بلکہ پورے خاندان کے امن، بچوں کی تعلیم اور ذہنی سکون پر حملہ ہے، اس بحران کا ایک گہرا اخلاقی پہلو بھی ہے کیونکہ جب معاشرہ مکان کو محض سرمایہ کاری اور انسان کو محض ادائیگی کی مشین سمجھنے لگے تو رشتے ٹوٹتے ہیں، اعتماد ختم ہوتا ہے اور نفرت جنم لیتی ہے، مہنگائی کا بوجھ سب پر ہے مگر اس بوجھ کو یکطرفہ طور پر کمزور طبقے پر ڈال دینا ظلم کے زمرے میں آتا ہے، مہذب معاشروں میں منافع اور انصاف ساتھ ساتھ چلتے ہیں لیکن یہاں منافع اکیلا دوڑتا ہے اور انصاف پیچھے رہ جاتا ہے، حل مشکل نہیں مگر نیت درکار ہے: کرایوں پر حقیقی نگرانی، معاہدوں کا لازمی اندراج، حدِ اضافہ کا سخت نفاذ اور تنازعات کے فوری حل کے ادارے، سب سے بڑھ کر ایک ایسا سماجی شعور کہ مکان محض چار دیواری نہیں بلکہ انسان کی عزتِ نفس سے جڑا ہوتا ہے، جب تک ہم اس سچ کو نہیں مانیں گے پاکستان میں کرائے کے مکانات کی مہنگائی صرف اعداد و شمار کا مسئلہ نہیں رہے گی بلکہ یہ اجتماعی ضمیر کا کڑا امتحان بنی رہے گی۔
6 days ago | [YT] | 1
View 0 replies
White&Black
گھریلو نوکروں کی کم اجرت اور ان پر ہونے والا تشدد ہمارے معاشرے کا وہ مکروہ چہرہ ہے جسے ہم جان بوجھ کر آئینے سے دور رکھتے ہیں، کیونکہ اس میں ہمیں اپنی شکل پہچان میں آ جاتی ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ہمارے گھروں کی دیواروں کے اندر ہماری زندگی کو آسان بناتے ہیں، مگر انہی دیواروں کے اندر ان کی عزت، محنت اور وجود کو سب سے سستا سمجھا جاتا ہے۔ چند ہزار روپے کی اجرت، وہ بھی مہینوں کی تاخیر کے ساتھ، اور اس پر یہ احساسِ برتری کہ ہم نے احسان کر دیا—یہ سوچ کسی ایک فرد کی نہیں، پورے سماجی رویّے کی علامت ہے۔ ہم انہیں “نوکر” کہتے ہیں، جیسے یہ لفظ ہی ان کے انسان ہونے کی نفی کے لیے کافی ہو، اور پھر اسی نفی کو جواز بنا کر آواز بلند کرنا، گالی دینا، دھکے دینا، اور بعض اوقات ہاتھ اٹھا لینا بھی قابلِ قبول سمجھ لیا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ گھریلو ملازمہ یا ملازم کے ساتھ تشدد کسی غصے کے لمحے کی لغزش نہیں، بلکہ طاقت کے غلط استعمال کی سوچی سمجھی صورت ہے۔ طاقت وہ جو پیسے کی ہے، گھر کی ملکیت کی ہے، اور اس سماجی یقین کی ہے کہ غریب کے پاس شکایت کا حق نہیں۔ بچے پر ہاتھ اٹھانے پر ہم چیخ اٹھتے ہیں، مگر اسی گھر میں کام کرنے والی لڑکی یا بوڑھے آدمی پر تشدد ہو تو اسے “ڈانٹ” یا “سختی” کہہ کر معمول بنا دیا جاتا ہے۔ یہ دہرا معیار ہماری اخلاقی دیوالیہ پن کی واضح دلیل ہے۔ کم اجرت دراصل خاموش تشدد ہے۔ یہ وہ زخم ہے جو روز لگتا ہے مگر خون نظر نہیں آتا۔ مہنگائی کے اس دور میں جب ایک عام خاندان کی ضروریات پوری کرنا مشکل ہو چکا ہے، وہاں گھریلو نوکروں سے یہ توقع رکھنا کہ وہ معمولی اجرت میں بارہ بارہ گھنٹے کام کریں، محض بے حسی نہیں بلکہ سفاکی ہے۔ بیمار ہوں تو چھٹی جرم، غلطی ہو جائے تو تنخواہ کٹ جائے، اور اگر سوال اٹھا دیں تو نوکری سے نکالنے کی دھمکی یہ سب ایک ایسے نظام کی علامت ہے جو انسان کو انسان نہیں، قابلِ استعمال شے سمجھتا ہے۔ سب سے زیادہ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ یہ ظلم زیادہ تر “مہذب” گھروں میں ہوتا ہے، جہاں زبان پر اخلاق، دیواروں پر آیات، اور محفلوں میں انسانیت کے درس دیے جاتے ہیں۔ ہم عبادت کو پاکیزگی سمجھتے ہیں مگر انصاف کو بھول جاتے ہیں، حالانکہ انصاف کے بغیر ہر عبادت محض ایک رسم رہ جاتی ہے۔ گھریلو نوکروں کی عزت، مناسب اجرت اور تحفظ کوئی خیرات نہیں، یہ ان کا حق ہے۔ جب تک ہم اس حق کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہوں گے، تب تک ہمارا معاشرہ جتنا بھی خود کو مہذب کہے، حقیقت میں وہ طاقتور کے ظلم اور کمزور کی خاموشی پر کھڑا ایک کھوکھلا ڈھانچہ ہی رہے گا۔
1 week ago | [YT] | 0
View 0 replies
White&Black
ووٹ خریدنے اور فروخت کرنے کا رجحان ہمارے سیاسی اور سماجی نظام کی ایک تلخ حقیقت بن چکا ہے، جو جمہوریت کی روح کو اندر سے کھوکھلا کر رہا ہے۔ ووٹ دراصل عوام کی امانت، رائے اور مستقبل کے فیصلے کا حق ہوتا ہے، مگر جب یہی ووٹ چند نوٹوں، وقتی مراعات یا ذاتی فائدے کے عوض بیچ دیا جائے تو یہ عمل صرف ایک فرد کی کمزوری نہیں رہتا بلکہ پورے معاشرے کی اخلاقی شکست بن جاتا ہے۔ ووٹ کی خرید و فروخت دراصل اس سوچ کی عکاسی کرتی ہے کہ اصول، ضمیر اور اجتماعی بھلائی سے زیادہ فوری مفاد کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ اس رجحان کی جڑیں غربت، لاعلمی، سیاسی شعور کی کمی اور طاقتور طبقے کی بے لگام بالادستی میں پیوست ہیں۔ جب ایک عام شہری بنیادی ضروریات سے محروم ہو، روزگار غیر یقینی ہو اور ریاست اس کے مسائل حل کرنے میں ناکام دکھائی دے، تو ووٹ ایک مقدس حق کے بجائے ایک قابلِ فروخت شے بن جاتا ہے۔ سیاسی امیدوار اس کمزوری کو ہتھیار بناتے ہیں، انتخابی مہم کے دوران نقد رقم، راشن، نوکریوں کے وعدے اور ذاتی سفارشات کے ذریعے ووٹرز کو خریدنے کی کوشش کرتے ہیں، نتیجتاً اسمبلیوں تک وہ لوگ پہنچتے ہیں جو عوامی خدمت نہیں بلکہ اپنی سرمایہ کاری کا منافع واپس لینے آئے ہوتے ہیں۔ ووٹ کی فروخت کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ اس سے احتساب کا تصور ختم ہو جاتا ہے، جب ووٹ خرید کر اقتدار حاصل کیا جائے تو حکمران خود کو عوام کے سامنے جواب دہ نہیں سمجھتے کیونکہ ان کا خیال ہوتا ہے کہ انہوں نے خدمت نہیں بلکہ سودا کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کرپشن، اقربا پروری اور نااہلی بڑھتی چلی جاتی ہے جبکہ عام آدمی مزید مسائل میں گھرتا چلا جاتا ہے، یوں ایک شیطانی چکر جنم لیتا ہے جس میں غربت ووٹ فروشی کو جنم دیتی ہے اور ووٹ فروشی مزید غربت کو۔ اس رجحان کے خاتمے کے لیے محض قوانین کافی نہیں، اگرچہ سخت سزائیں اور شفاف نگرانی ضروری ہیں، اصل ضرورت شعور کی بیداری، تعلیم اور سیاسی تربیت کی ہے۔ عوام کو یہ سمجھانا ہوگا کہ ووٹ بیچنے کا مطلب اپنے بچوں کے مستقبل، اپنے حقِ نمائندگی اور اپنی عزتِ نفس کو گروی رکھ دینا ہے، ساتھ ہی سیاسی جماعتوں پر لازم ہے کہ وہ کردار، کارکردگی اور نظریے کی بنیاد پر سیاست کریں نہ کہ پیسے کے بل بوتے پر۔ جب تک ووٹ کو عبادت، امانت اور ذمہ داری سمجھ کر استعمال نہیں کیا جائے گا، جمہوریت محض ایک دکھاوا رہے گی، ووٹ خریدنے اور فروخت کرنے کا رجحان صرف ایک جرم نہیں بلکہ ایک اجتماعی اخلاقی بحران ہے جس سے نکلنے کے لیے فرد، معاشرہ اور ریاست—تینوں کو اپنا کردار ایمانداری سے ادا کرنا ہوگا۔
1 week ago | [YT] | 1
View 0 replies
White&Black
خاندانی نظام کا زوال کوئی اچانک حادثہ نہیں بلکہ ایک طویل، خاموش اور اجتماعی غفلت کا نتیجہ ہے جسے ہم برسوں سے نظرانداز کرتے آئے ہیں۔ وہ خاندان جو کبھی تحفظ، تربیت، اخلاق اور شناخت کی علامت تھا، آج مفاد، انا، موبائل اسکرین اور خود غرضی کے ملبے تلے دب چکا ہے۔ ماں باپ جو کبھی بچوں کی پہلی درسگاہ ہوتے تھے، اب خود مصروف، تھکے ہوئے اور اکثر لاپروا دکھائی دیتے ہیں، جبکہ بچے جنہیں وقت، توجہ اور رہنمائی کی ضرورت ہے، انہیں یوٹیوب، ٹک ٹاک اور بے مقصد آزادی کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ نسلیں جسمانی طور پر ایک ہی گھر میں رہتے ہوئے بھی ذہنی اور جذباتی طور پر میلوں دور جا چکی ہیں۔ احترام، برداشت اور قربانی جیسے الفاظ اب صرف کتابوں اور تقاریر تک محدود ہو گئے ہیں، عملی زندگی میں ان کی کوئی قیمت نہیں رہی۔ شادی جو کبھی دو خاندانوں کے درمیان مضبوط رشتہ ہوتی تھی، آج وقتی ضرورت، مالی سودے بازی اور سوشل اسٹیٹس کی نمائش بن چکی ہے، اور ذرا سی ناچاقی پر رشتے توڑ دینا بہادری سمجھا جاتا ہے۔ بوڑھے والدین جنہوں نے پوری زندگی اولاد کے لیے قربان کر دی، آج اولڈ ہاؤسز یا خاموش کمروں میں بے وقعت پڑے ہیں، کیونکہ نئی نسل کے پاس ان کے لیے وقت نہیں، صبر نہیں اور شاید احساس بھی نہیں۔ خاندانی اختلافات کو بات چیت سے حل کرنے کی روایت ختم ہو چکی ہے؛ اب ہر مسئلے کا حل علیحدگی، قطع تعلقی اور الزام تراشی میں ڈھونڈا جاتا ہے۔ میڈیا اور نام نہاد جدیدیت نے آزادی کو بے لگام خواہشات کا نام دے کر پیش کیا، مگر یہ نہیں بتایا کہ حدود کے بغیر آزادی تباہی بن جاتی ہے۔ ہم نے بچوں کو سہولتیں تو دیں مگر کردار نہیں دیا، تعلیم تو دی مگر تربیت نہیں دی، حقوق تو یاد کرائے مگر فرائض سکھانا بھول گئے۔ یہی وجہ ہے کہ آج گھروں میں رہتے ہوئے بھی لوگ تنہا ہیں، رشتوں کے نام پر صرف لیبل باقی رہ گئے ہیں اور خاندان ایک مضبوط قلعہ نہیں بلکہ بکھرا ہوا ہجوم بن چکا ہے۔ اگر اس زوال کو اب بھی نہ روکا گیا تو آنے والی نسلیں خاندان کو ایک ناکام تجربہ سمجھیں گی، اور تب ہمیں الزام دینے کے لیے کوئی اور نہیں، صرف ہم خود ہوں گے۔
1 week ago | [YT] | 0
View 0 replies
White&Black
یہ صرف ایک بیماری کی کہانی نہیں، یہ ایک پورے خاندان کے معاشی قتل کی داستان ہے۔ **صحت کے اخراجات سے خاندانی دیوالیہ** کوئی مبالغہ نہیں، یہ اس سماج کی روزمرہ حقیقت ہے جہاں انسان کے زندہ رہنے کی قیمت اس کی حیثیت، جیب اور رسائی سے طے ہوتی ہے۔ آج بیمار ہونا صرف جسمانی آزمائش نہیں رہا، یہ مالی سزا بن چکا ہے۔ ایک دن کی بیماری، چند ٹیسٹ، ایک ایمرجنسی وزٹ، اور برسوں کی جمع پونجی مٹی ہو جاتی ہے۔ علاج سے پہلے بل سامنے آ جاتا ہے، اور مریض سے زیادہ اس کا خاندان خوف میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ ہسپتال اب شفا کے گھر نہیں، منافع کے مراکز بن چکے ہیں۔ داخلے کے ساتھ ہی رسید تھما دی جاتی ہے، اور سوال یہ نہیں ہوتا کہ مریض بچ پائے گا یا نہیں، بلکہ یہ ہوتا ہے کہ ادائیگی ممکن ہے یا نہیں۔ سرکاری نظام ناکارہ، نجی نظام بے رحم—درمیان میں پسنے والا خاندان۔ والد اپنی زمین گروی رکھ دیتا ہے، ماں زیور بیچ دیتی ہے، بہن کی تعلیم رک جاتی ہے، بھائی مزدوری پر لگ جاتا ہے۔ بیماری ایک فرد کو نہیں لگتی، پورا گھر اس کے بخار میں جلتا ہے۔ ادویات کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرتی ہیں، ٹیسٹ غیر ضروری مگر لازمی قرار دیے جاتے ہیں، اور ڈاکٹر کا وقت بھی ایک پریمیم سروس بن چکا ہے۔ جو دے سکتا ہے وہ زندہ رہنے کی امید خریدتا ہے، جو نہیں دے سکتا وہ قسمت کے نام پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ یہ کیسا نظام ہے جہاں صحت حق نہیں، لگژری بن گئی ہے؟ جہاں ایمبولینس کی آواز کے ساتھ ساتھ گھر کے بجٹ کا جنازہ بھی نکلتا ہے؟ خاندانی دیوالیہ صرف پیسے کا خاتمہ نہیں، یہ عزتِ نفس کی شکست ہے۔ قرض کے کاغذات، ساہوکار کی دھمکیاں، اور ہر مہینے کی بے خوابی۔ علاج مکمل ہونے کے بعد بھی زخم باقی رہتے ہیں—قرض، خوف، اور مستقبل کی بند گلیاں۔ بچے سیکھتے ہیں کہ بیماری سے ڈرنا ہے، کیونکہ بیمار ہونا غربت کی دہلیز پار کرنا ہے۔ یہ سب محض بدانتظامی نہیں، اجتماعی بے حسی کا نتیجہ ہے۔ پالیسی ساز خاموش، ریگولیٹر بے بس، اور عوام مجبور۔ جب تک صحت کو بنیادی حق نہیں مانا جائے گا، جب تک علاج کو کاروبار سے آزاد نہیں کیا جائے گا، تب تک ہر بیماری ایک نیا دیوالیہ پیدا کرتی رہے گی۔ سوال یہ نہیں کہ علاج مہنگا کیوں ہے، سوال یہ ہے کہ ہم نے انسان کی جان کو اتنا سستا اور علاج کو اتنا مہنگا کیوں بنا دیا؟
1 week ago | [YT] | 1
View 0 replies
Load more