'White&Black,' where clarity meets creativity in a pristine blend of information and inspiration. Our channel is your digital sanctuary, providing unbiased perspectives on diverse topics. Explore the latest trends, insightful analysis, and captivating content, all delivered with a fresh, white perspective. Immerse yourself in a world where knowledge is presented elegantly, offering a visually striking experience. 'White&Black' is more than a channel; it's a journey through the digital landscape, providing a clear lens on the ever-evolving world. Join us as we navigate through information with style and substance, redefining the way you engage with media.
we bring you the best in entertainment.Whether you're here to unwind after a long day or looking for something to spice up your mood, we've got you covered!"


White&Black

یہ ماننا پڑے گا کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اب کسی دور دراز ملک یا جنگ زدہ خطے کا مسئلہ نہیں رہیں، بلکہ ہمارے اپنے معاشرے کی روزمرہ حقیقت بن چکی ہیں۔ ہم بڑے فخر سے خود کو مہذب، بااخلاق اور مذہبی کہلوانا پسند کرتے ہیں، مگر عملی زندگی میں انسان کی عزت، جان، رائے اور وقار سب سے سستے ہو چکے ہیں۔ کمزور پر ظلم، طاقتور کو چھوٹ، اور سچ بولنے والے کو خاموش کرانا — یہی وہ اصول ہیں جن پر ہمارا سماجی نظام کھڑا دکھائی دیتا ہے۔ یہاں انسانی حقوق صرف تقریروں، سیمینارز اور عالمی دنوں تک محدود ہیں۔ عورت اگر ظلم کی بات کرے تو اسے کردار کے کٹہرے میں کھڑا کر دیا جاتا ہے، مزدور اگر حق مانگے تو اسے ناشکرا کہا جاتا ہے، صحافی اگر سوال کرے تو غدار ٹھہرتا ہے، اور اقلیت اگر اپنی شناخت مانگے تو اسے خطرہ بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ یہ کیسا انصاف ہے جہاں حق مانگنا جرم اور طاقت کا ناجائز استعمال معمول بن چکا ہو؟ ریاستی اور سماجی ڈھانچے دونوں اس خاموش ظلم میں برابر کے شریک نظر آتے ہیں۔ کہیں قانون کی کمزوری انسانی حقوق کو پامال کرتی ہے، کہیں قانون کی طاقت خود انسان کو کچل دیتی ہے۔ حراست میں تشدد، جبری گمشدگیاں، اظہارِ رائے پر قدغن، اور انصاف میں تاخیر یہ سب صرف الفاظ نہیں بلکہ زندہ انسانوں کی ٹوٹی ہوئی زندگیاں ہیں، مگر مسئلہ یہ ہے کہ ہمیں تب تک فرق نہیں پڑتا جب تک ظلم ہمارے دروازے پر دستک نہ دے۔ سب سے خطرناک پہلو ہماری اجتماعی بے حسی ہے۔ ہم ظلم کی ویڈیوز دیکھ کر چند لمحے افسوس کرتے ہیں، پھر اگلی خبر کی طرف بڑھ جاتے ہیں۔ ہم سوال اٹھانے کے بجائے خاموشی کو دانشمندی سمجھتے ہیں، اور ظالم کے ساتھ کھڑے ہو کر خود کو محفوظ محسوس کرتے ہیں۔ یہی خاموشی دراصل سب سے بڑی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے، کیونکہ یہ ظلم کو مزید طاقت دیتی ہے۔ اگر انسانی حقوق واقعی اہم ہیں تو انہیں صرف نعروں اور تحریروں تک محدود نہیں رکھا جا سکتا۔ اس کے لیے سچ بولنے کا حوصلہ، غلط کے خلاف کھڑا ہونے کی جرات، اور کمزور کے ساتھ کھڑے ہونے کی اخلاقی طاقت درکار ہے، ورنہ ہم آنے والی نسلوں کو صرف یہی سبق دیں گے کہ اس معاشرے میں انسان ہونا سب سے بڑی کمزوری ہے، اور انسانی حقوق صرف کتابوں میں دفن ایک خوبصورت خیال۔

8 hours ago | [YT] | 0

White&Black

یہ ایک تلخ مگر ناقابلِ انکار حقیقت ہے کہ رہائشی مکانات کی کمی اب محض ایک شہری مسئلہ نہیں رہی بلکہ ایک گہرا سماجی بحران بن چکی ہے، جس کے اثرات خاموشی سے عام آدمی کی زندگی کو کچل رہے ہیں۔ آج ایک چھت محض ضرورت نہیں بلکہ ایک خواب بنتی جا رہی ہے، اور یہ خواب زیادہ تر اُن لوگوں کے لیے ہے جو دن رات محنت کرتے ہیں مگر آخرکار کرایے، فائلوں اور وعدوں کے بوجھ تلے دب جاتے ہیں۔ شہروں کی آبادی بے ہنگم رفتار سے بڑھ رہی ہے، مگر منصوبہ بندی، ذمہ داری اور احساسِ جوابدہی کہیں دکھائی نہیں دیتا۔ ہر طرف بلند و بالا پلازے، لگژری اپارٹمنٹس اور مہنگے ہاؤسنگ پراجیکٹس تو موجود ہیں، مگر وہ عام آدمی کے لیے نہیں بلکہ صرف اُن طبقات کے لیے ہیں جن کے لیے مکان نہیں بلکہ سرمایہ محفوظ کرنا اصل مسئلہ ہے۔ دیہات سے شہروں کی طرف ہجرت، روزگار کی تلاش، اور بنیادی سہولیات کی کمی نے شہروں کو بے ترتیب بستیوں میں بدل دیا ہے۔ کچی آبادیاں انہی ناکام پالیسیوں کی پیداوار ہیں، جہاں لوگ غیر انسانی حالات میں رہنے پر مجبور ہیں، مگر انہیں غیر قانونی کہہ کر نظرانداز کر دینا سب سے آسان حل سمجھا جاتا ہے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ یہ بستیاں کیوں بنیں، بلکہ یہ ہے کہ لوگوں کو باعزت اور محفوظ رہائش دینے میں مسلسل ناکامی کیوں رہی۔ زمین مافیا، منافع خور عناصر اور غیر شفاف منصوبہ بندی نے رہائش کو ایک بنیادی انسانی حق کے بجائے ایک منافع بخش کاروبار بنا دیا ہے، جہاں انسان کی ضرورت ثانوی اور فائدہ اولین حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ حکومتی اعلانات، دلکش اسکیموں کے نام، اور فائلوں کی سیاست نے عوام کو صرف امیدیں دی ہیں، عملی طور پر چھت نہیں۔ متوسط طبقہ قرضوں کے جال میں پھنستا جا رہا ہے، جبکہ غریب طبقہ نسل در نسل عدم تحفظ، بے یقینی اور بے دخلی کے خوف کے ساتھ جینے پر مجبور ہے۔ یہ وہ خاموش ناانصافی ہے جو کسی ایک دن بڑی سرخی نہیں بنتی، مگر آہستہ آہستہ معاشرے کی بنیادوں کو کھوکھلا کر دیتی ہے۔ جب ایک خاندان کو بار بار مکان بدلنا پڑے، جب بچوں کی تعلیم، ذہنی سکون اور خاندانی استحکام صرف کرائے کے دباؤ سے متاثر ہو، تو یہ مسئلہ محض رہائش تک محدود نہیں رہتا بلکہ پورے سماجی ڈھانچے میں بے چینی اور اضطراب پیدا کر دیتا ہے۔ رہائشی مکانات کی کمی کا حل صرف اینٹ اور سیمنٹ میں نہیں بلکہ نیت، ترجیحات اور دیانت میں پوشیدہ ہے، کیونکہ جب تک پالیسی سازی میں انسان کو مرکز میں نہیں رکھا جائے گا، جب تک سستی، محفوظ اور قابلِ رسائی رہائش کو ایک بنیادی حق کے طور پر تسلیم نہیں کیا جائے گا، تب تک یہ بحران بڑھتا ہی چلا جائے گا۔ یہ تحریر کسی فرد یا ادارے کی نیت پر الزام نہیں بلکہ ایک اجتماعی ناکامی کی نشاندہی ہے، جسے مانے بغیر، سمجھے بغیر اور درست کیے بغیر آگے بڑھنا محض خود فریبی کے سوا کچھ نہیں۔

1 day ago | [YT] | 0

White&Black

یہ جملہ بظاہر سادہ ہے، مگر اس کے اندر ایک پوری نسل کی چیخ چھپی ہوئی ہے۔ آپ کا بچہ آپ سے پچیس تیس سال بعد پیدا ہوتا ہے، اس لیے اسے پچیس تیس سال پرانی زندگی جینے پر مجبور نہ کریں۔ یہ بات والدین، اساتذہ اور پورے معاشرے کے لیے ایک ایسا آئینہ ہے جس میں ہم سب کو اپنا چہرہ صاف نظر آنا چاہیے، کیونکہ ہم اکثر تربیت اور نصیحت کے نام پر اپنے بچوں کو دراصل اپنی ناکامیاں، اپنے خوف اور اپنے ادھورے خواب منتقل کر دیتے ہیں۔ ہم انہیں وہی راستے دکھاتے ہیں جن پر خود چل کر ہم تھک چکے ہوتے ہیں، مگر پھر بھی پورے یقین کے ساتھ اصرار کرتے ہیں کہ یہی واحد درست راستہ ہے۔ دنیا بدل چکی ہے، ترجیحات بدل چکی ہیں، سوچنے کے زاویے بدل چکے ہیں، مگر ہمارے رویے آج بھی وہیں اٹکے ہوئے ہیں جہاں شاید ہمیں کبھی سکون ملا تھا یا جہاں ہم نے خود سمجھوتہ کرنا سیکھ لیا تھا۔ ہم چاہتے ہیں کہ بچہ وہی لباس پہنے جو ہمیں پسند ہے، وہی پیشہ اختیار کرے جو ہمارے ذہن میں محفوظ ہے، وہی بات مانے جسے ہم نے کبھی سوال کیے بغیر مان لیا تھا، اور ہم یہ حقیقت بھول جاتے ہیں کہ زمانہ صرف کیلنڈر کے صفحے بدلنے سے نہیں بدلتا بلکہ ذہن، مواقع، تقاضے اور چیلنجز بھی بدل جاتے ہیں، اور جو دنیا ہم نے دیکھی وہ اس کی دنیا نہیں ہے۔ یہ رویہ دراصل تربیت نہیں بلکہ کنٹرول ہے، کیونکہ ہم بچے کو سنوارنے کے بجائے اسے ایک تنگ سانچے میں ڈھالنا چاہتے ہیں جہاں اس کی اپنی سوچ، اپنی خواہش اور اپنی شناخت کے لیے کوئی جگہ نہیں ہوتی۔ ہم اس کے سوالوں کو بدتمیزی، اس کے اختلاف کو نافرمانی اور اس کی نئی سوچ کو بغاوت کا نام دے دیتے ہیں، جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ یا تو بچہ خاموش ہو جاتا ہے، یا جھوٹ بولنا سیکھ لیتا ہے، یا اندر ہی اندر ٹوٹ کر رہ جاتا ہے، اور پھر ہم ہی شکوہ کرتے ہیں کہ آج کی نسل ضدی ہے، نافرمان ہے یا سمجھدار نہیں رہی۔ مہذب معاشرے بچوں کو ان کی عمر اور وقت کے مطابق جینے دیتے ہیں، انہیں سننے کی عادت ڈالتے ہیں اور ان پر اپنی ادھوری خواہشات کا بوجھ نہیں لادتے، وہاں یہ سمجھا جاتا ہے کہ رہنمائی ضروری ہے مگر زبردستی نہیں، اصول ہونے چاہئیں مگر اندھا پن نہیں، اور اگر بچہ سوال کر رہا ہے تو اس کا مطلب بدتمیزی نہیں بلکہ یہ ہے کہ وہ سوچ رہا ہے۔ اصل مسئلہ نسلوں کے فرق کا نہیں بلکہ ہماری ضد اور انا کا ہے، کیونکہ ہم ماننے کو تیار نہیں ہوتے کہ شاید کچھ معاملات میں ہمیں بھی سیکھنے کی ضرورت ہے، اس لیے ضروری ہے کہ بچے کو اپنی دنیا میں سانس لینے دیں، اپنی رفتار سے چلنے دیں اور اپنی غلطیوں سے سیکھنے دیں، کیونکہ جو نسل مستقبل سنبھالے گی اگر ہم نے اسے ماضی میں جکڑ دیا تو پھر قصور وقت کا نہیں بلکہ ہمارا ہی ہوگا۔

2 days ago | [YT] | 1

White&Black

اداروں پر عدم اعتماد کوئی وقتی شکایت نہیں بلکہ ایک گہرا سماجی احساس ہے جو آہستہ آہستہ لوگوں کے اندر جڑ پکڑ چکا ہے۔ یہ احساس کسی اشتعال یا جذباتی فضا کا پیدا کردہ نہیں، بلکہ مسلسل نظر آنے والے تضادات، غیر واضح طرزِ عمل اور جوابدہی کے کمزور تصور کا فطری نتیجہ ہے۔ جب نظام بولنے سے زیادہ خاموشی کو ترجیح دے اور وضاحت دینے کے بجائے برداشت کا امتحان لے، تو اعتماد کمزور نہیں بلکہ مشکوک ہو جاتا ہے۔ یہ کہنا ضروری ہے کہ مسئلہ اداروں کے وجود یا ضرورت پر نہیں، بلکہ ان کے مجموعی رویّے پر ہے۔ وہ رویّہ جو عوام کو شریکِ سفر بنانے کے بجائے محض مطیع سمجھتا ہے۔ جب فیصلے سامنے تو آتے ہیں مگر ان کی بنیادیں واضح نہ ہوں، تو درست فیصلہ بھی بے وزنی محسوس ہونے لگتا ہے۔ اعتماد صرف نتیجے سے نہیں بنتا، اس کے لیے عمل کی شفافیت ضروری ہوتی ہے۔ ایک تلخ پہلو یہ بھی ہے کہ نظام اکثر غلطی کو ماننے کے بجائے اسے نظر انداز کرنے کو ترجیح دیتا ہے۔ اصلاح کے بجائے توجیہات دی جاتی ہیں، اور سوال کو مسئلے کے بجائے مسئلہ پیدا کرنے والا سمجھا جاتا ہے۔ یہی سوچ عوام کو سکھاتی ہے کہ سچ بولنے سے کچھ بدلتا نہیں، خاموش رہنا ہی آسان راستہ ہے۔ مگر جب خاموشی پھیلتی ہے تو اعتماد سکڑ جاتا ہے۔ عدم اعتماد اس وقت گہرا ہو جاتا ہے جب احتساب کا معیار یکساں محسوس نہ ہو۔ جب اصول موجود تو ہوں، مگر ان کا اطلاق حالات کے مطابق بدلتا دکھائی دے۔ اس فرق نے لوگوں کے ذہنوں میں ایک مستقل سوال چھوڑ دیا ہے، اور سوال جب جواب کے بغیر رہ جائے تو بدگمانی میں بدل جاتا ہے۔ شفافیت کا فقدان اس بحران کو مزید سخت بنا دیتا ہے۔ معلومات کم ہوں تو قیاس آرائیاں بڑھتی ہیں، وضاحت نہ ہو تو افواہیں جنم لیتی ہیں۔ وقت کے ساتھ یہ سب مل کر ایک ایسی فضا بناتے ہیں جہاں اعتماد ایک کمزور امید بن کر رہ جاتا ہے۔ اعتماد کا مسئلہ یہ ہے کہ اسے بحال کرنے کے لیے وقت، دیانت اور تسلسل درکار ہوتا ہے، جبکہ توڑنے کے لیے صرف لاپرواہی کافی ہوتی ہے۔ یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ اعتماد نعروں، احکامات یا خاموشی سے پیدا نہیں ہوتا۔ یہ مسلسل واضح رویّوں، کھلے مکالمے اور خود احتسابی سے جنم لیتا ہے۔ جب نظام خود کو سوال سے بالاتر سمجھے، تو پھر اعتماد کی توقع بھی غیر حقیقی ہو جاتی ہے۔ کیونکہ اداروں پر عدم اعتماد کسی ایک فریق کو نہیں، پورے معاشرتی ڈھانچے کو آہستہ آہستہ کھوکھلا کر دیتا ہے۔ یہ تحریر کسی فرد یا ادارے کی نیت پر سوال نہیں، بلکہ مجموعی سماجی احساسات کی عکاسی ہے جو وقتاً فوقتاً جنم لیتے رہتے ہیں۔

4 days ago | [YT] | 1

White&Black

یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہم خود کو تہذیب یافتہ، مذہبی اور خاندانی اقدار کا محافظ کہتے نہیں تھکتے، مگر جیسے ہی بات بزرگ افراد کی دیکھ بھال کی آتی ہے تو ہمارا سارا دعویٰ کھوکھلا ثابت ہو جاتا ہے۔ وہ ماں باپ، دادا دادی اور بزرگ رشتہ دار جنہوں نے اپنی جوانی، صحت، خواہشات اور خواب ہماری پرورش پر قربان کیے، آج اسی معاشرے میں بوجھ سمجھے جا رہے ہیں۔ ان کی خاموشی کو رضا مندی سمجھ لیا گیا ہے، ان کی کمزوری کو نااہلی، اور ان کی بیماری کو جھنجھلاہٹ کا سبب بنا دیا گیا ہے۔ یہ کیسی ترقی ہے جہاں اولڈ ہومز بڑھ رہے ہیں مگر دل سکڑتے جا رہے ہیں، جہاں بزرگوں کو وقت دینے کے بجائے انہیں دوائیں دے کر خاموش کرا دیا جاتا ہے، اور جہاں ان کی بات سننے کے بجائے موبائل اسکرین کو ترجیح دی جاتی ہے۔ ہمیں یہ ماننا ہوگا کہ بزرگ افراد کی دیکھ بھال کی کمی صرف مالی مسئلہ نہیں بلکہ اخلاقی دیوالیہ پن کی علامت ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ ہمارے پاس وسائل نہیں، مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے پاس احساس نہیں رہا۔ ہم ان کے تجربے کو فرسودہ سمجھتے ہیں، ان کے مشورے کو مداخلت، اور ان کی موجودگی کو اپنی آزادی کے لیے خطرہ تصور کرتے ہیں۔ ہم بھول جاتے ہیں کہ آج جو ہم ہیں، وہ انہی کے کل کی محنت کا نتیجہ ہیں۔ مگر جیسے ہی وہ محتاج ہوتے ہیں، ہم انہیں غیر ضروری سمجھنے لگتے ہیں، جیسے انسان نہیں بلکہ استعمال شدہ اشیاء ہوں۔ یہ بھی ایک کڑوی حقیقت ہے کہ ہم مذہب، اخلاق اور انسانیت کی بات صرف تقریروں اور سوشل میڈیا پوسٹس تک محدود رکھتے ہیں۔ اگر واقعی ہمارے دل میں بزرگوں کے لیے احترام ہوتا تو وہ تنہائی کا شکار نہ ہوتے، وہ نفسیاتی دباؤ میں مبتلا نہ ہوتے، اور وہ یہ جملہ بار بار نہ کہتے کہ “ہم کسی پر بوجھ نہیں بننا چاہتے”۔ یہ جملہ دراصل ہمارے اجتماعی رویے پر ایک خاموش فردِ جرم ہے۔ بزرگوں کی دیکھ بھال کا مطلب صرف ان کے لیے کھانا، دوا اور چھت فراہم کرنا نہیں، بلکہ انہیں عزت، وقت، توجہ اور احساسِ تحفظ دینا ہے۔ ان کے ساتھ بیٹھ کر بات کرنا، ان کی یادوں کو سننا، اور انہیں یہ یقین دلانا کہ وہ آج بھی اس گھر اور معاشرے کا اہم حصہ ہیں۔ اگر ہم نے آج اس ذمہ داری سے منہ موڑ لیا تو کل یہی سلوک ہمارے ساتھ ہوگا، کیونکہ یہ معاشرہ آئینے کی طرح ہوتا ہے، جو کچھ ہم دوسروں کے ساتھ کرتے ہیں، وقت ہمیں وہی لوٹا دیتا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ بزرگ افراد کیوں تنہا ہیں، اصل سوال یہ ہے کہ ہم اتنے بے حس کیوں ہو گئے ہیں۔

5 days ago | [YT] | 2

White&Black

سماجی تقسیم اور نفرت ہمارے معاشرے کا وہ خاموش زہر ہے جو آہستہ آہستہ رگوں میں اتر کر انسان کو انسان سے کاٹ دیتا ہے، یہ نفرت کسی ایک دن میں پیدا نہیں ہوئی اور نہ ہی یہ اچانک وجود میں آئی ہے بلکہ برسوں کی بے حسی، جانبدار سوچ اور خودغرض مفادات نے اسے پروان چڑھایا ہے۔ آج ہم زبان، مسلک، طبقے، نسل اور خیالات کی بنیاد پر ایک دوسرے کو تولتے ہیں، پرکھتے ہیں اور پھر مسترد کر دیتے ہیں، جیسے سامنے انسان نہیں بلکہ کوئی بے جان شے ہو۔ ہم نے اختلاف کو دشمنی بنا دیا ہے اور جو ہم سے مختلف سوچ رکھتا ہے وہ ہمیں برداشت کے قابل نہیں رہا۔ دلیل کی جگہ طعنہ، مکالمے کی جگہ گالی اور اختلافِ رائے کی جگہ نفرت نے لے لی ہے۔ سوشل میڈیا ہو یا گلی کا نکڑ، ہر جگہ لوگ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے درپے ہیں اور ہمیں شاید احساس ہی نہیں کہ ہم اپنے ہی سماج کی جڑیں کاٹ رہے ہیں۔ یہ تقسیم اب صرف خیالات تک محدود نہیں رہی بلکہ دلوں میں گھر کر چکی ہے۔ امیر غریب سے نفرت کرتا ہے، غریب امیر کو ظالم سمجھتا ہے، ایک مسلک دوسرے کو کافر کہنے میں دیر نہیں لگاتا اور ایک زبان بولنے والا دوسری زبان کو حقیر جانتا ہے۔ اس نفرت کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ اسے اکثر حق، غیرت اور سچ کے نام پر پیش کیا جاتا ہے، حالانکہ حقیقت میں یہ محض انا، تعصب اور خود پسندی کی پیداوار ہے۔ ہمیں یہ ماننا ہوگا کہ معاشرے کی یہ ٹوٹ پھوٹ کسی بیرونی دشمن کی نہیں بلکہ ہماری اپنی سوچ کی دین ہے۔ جب ہم بچوں کو برداشت کے بجائے نفرت سکھاتے ہیں، جب ہم سوال کرنے والوں کو باغی اور سوچنے والوں کو خطرہ قرار دیتے ہیں، تو پھر یہی سماج ہمیں بکھرا ہوا نظر آتا ہے۔ ہم امن کی بات تو کرتے ہیں، مگر دلوں میں نفرت پالے رکھتے ہیں۔ سماجی تقسیم ہمیں کمزور کرتی ہے، ہماری آواز کو بے اثر اور ہمارے مسائل کو ناقابلِ حل بنا دیتی ہے۔ ایک بٹا ہوا معاشرہ کبھی مضبوط قوم نہیں بن سکتا۔ ہمیں اب فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہمیں اختلاف کے ساتھ جینا ہے یا نفرت کے ساتھ مرنا ہے، کیونکہ برداشت کوئی کمزوری نہیں بلکہ ایک باشعور اور زندہ معاشرے کی پہچان ہے، اور اگر ہم نے نفرت کی اس آگ کو بروقت نہ بجھایا تو یہ ہمیں سب کو جلا کر راکھ کر دے گی اور پھر الزام دینے کے لیے بھی کوئی دوسرا باقی نہیں بچے گا۔

6 days ago | [YT] | 2

White&Black

آن لائن نفرت اور سائبر کرائم ہمارے عہد کے وہ مسائل ہیں جو خاموشی سے معاشرتی اقدار کو متاثر کر رہے ہیں۔ ڈیجیٹل دنیا نے انسان کو اظہار کا وسیع موقع دیا، مگر افسوس کہ اس آزادی کو اکثر ذمہ داری کے بغیر استعمال کیا جا رہا ہے۔ الفاظ، جو کبھی مکالمے اور فہم کا ذریعہ تھے، آج اکثر تضحیک، تحقیر اور الزام تراشی کی صورت اختیار کر چکے ہیں۔ آن لائن نفرت محض رائے کے اختلاف کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک ایسا رویہ ہے جو دوسروں کی عزتِ نفس کو مجروح کرتا ہے۔ کسی کی شخصیت، خیالات یا نجی زندگی کو نشانہ بنانا دراصل اخلاقی حدود سے تجاوز ہے۔ سائبر کرائم کی مختلف صورتیں جیسے بلیک میلنگ، جعلی اکاؤنٹس، نجی معلومات کا غلط استعمال اور کردار کشی نہ صرف فرد کو نقصان پہنچاتی ہیں بلکہ معاشرے میں خوف اور بداعتمادی کو بھی جنم دیتی ہیں۔ یہ حقیقت تسلیم کرنا ضروری ہے کہ اسکرین کے پیچھے چھپ کر کیا گیا عمل بھی ویسا ہی اثر رکھتا ہے جیسا کہ سامنے آ کر کیا گیا عمل۔ ڈیجیٹل شناخت، حقیقی ذمہ داری سے آزاد نہیں ہوتی۔ جب ہم آن لائن گفتگو میں شائستگی کو ترک کر دیتے ہیں تو دراصل ہم اپنے ہی اخلاقی معیار کو کمزور کر رہے ہوتے ہیں۔ اختلافِ رائے جمہوری معاشروں کی بنیاد ہے، مگر یہ اختلاف احترام کے دائرے میں رہ کر ہی بامقصد ہوتا ہے۔ تشویشناک امر یہ ہے کہ آن لائن نفرت کو بعض اوقات معمول کا حصہ سمجھ لیا گیا ہے۔ کسی کو اجتماعی تنقید کا نشانہ بنانا، طنز اور تمسخر کو تفریح سمجھنا، اور پھر اسے آزادیِ اظہار کا نام دینا یہ سب رویے ہماری سماجی حساسیت کے زوال کی علامت ہیں۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ ہر پروفائل کے پیچھے ایک انسان موجود ہے، جس کے جذبات، تعلقات اور وقار ہیں۔ سائبر کرائم کی روک تھام صرف قوانین سے ممکن نہیں، اس کے لیے اجتماعی شعور، اخلاقی تربیت اور ذمہ دار رویے کی ضرورت ہے۔ والدین، تعلیمی ادارے، اور خود صارفین سب کو اس بات کا ادراک ہونا چاہیے کہ ڈیجیٹل دنیا میں اختیار کے ساتھ احتساب بھی لازم ہے۔ آخرکار سوال یہ نہیں کہ ٹیکنالوجی نے ہمیں کیا دیا، بلکہ سوال یہ ہے کہ ہم اس کا استعمال کس مقصد کے لیے کر رہے ہیں۔ اگر ہم نے آن لائن نفرت کو مکالمے میں اور جرم کو شعور میں تبدیل نہ کیا تو یہ مسائل مزید گہرے ہوں گے۔ شائستگی، احترام اور ذمہ داری ہی وہ اقدار ہیں جو ڈیجیٹل معاشرے کو محفوظ اور انسان دوست بنا سکتی ہیں

1 week ago | [YT] | 0

White&Black

یہ اب مسئلہ نہیں رہا، یہ **قوم پر فردِ جرم** ہے۔ **صحت اور غذائی قلت** وہ خاموش قتل ہے جو نہ گولی سے ہوتا ہے، نہ بارود سے بلکہ پالیسیوں کی سرد مہری، ترجیحات کی بےشرمی اور اجتماعی بےحسی سے ہوتا ہے۔ ہم انسان کو زندہ رکھنے کا ڈرامہ تو خوب کرتے ہیں، مگر اسے صحت مند رکھنے کا بوجھ اٹھانے کو تیار نہیں، اور یہی اصل جرم ہے۔ غذائی قلت صرف خالی پیٹ کا نام نہیں، یہ انسان کی تذلیل ہے، یہ بچے کے جسم سے اس کی طاقت، اس کے ذہن سے اس کی تیزی، اور اس کے مستقبل سے اس کا حق چھین لیتی ہے۔ وہ بچہ جو کم غذا پر پلتا ہے، دراصل آدھا شہری بن کر رہ جاتا ہے اور ہم اس آدھے پن کو غربت کے کھاتے میں ڈال کر مطمئن ہو جاتے ہیں، حالانکہ یہ غربت نہیں بلکہ منظم لاپرواہی ہے۔ ماں کی خون کی کمی، بچے کی کم قدی، نوجوان کی مسلسل تھکن یہ سب قدرت کی غلطی نہیں، یہ ہمارے فیصلوں کا عکس ہیں۔ صحت کا نظام اس زخم پر پردہ ڈالنے کا ہنر جانتا ہے، علاج کرنا نہیں؛ سرکاری اسپتالوں میں انسان مریض نہیں بلکہ نمبر بن جاتا ہے، انتظار لمبا، سہولت مختصر اور عزت ناپید ہوتی ہے۔ دوا بیماری سے زیادہ مہنگی نہیں، مگر مریض کی پہنچ سے باہر ضرور ہے، جبکہ نجی اسپتال چمکتی دیواروں کے پیچھے کھڑے ہیں جہاں علاج نہیں بلکہ انتخاب ہوتا ہے، اور یہ انتخاب صرف جیب کی بنیاد پر ہوتا ہے اگر اسے فرق نہ کہا جائے تو اور کیا کہا جائے۔ سب سے زیادہ شرمناک بات یہ ہے کہ ہم نے اس سب کو اخلاقیات کا لبادہ پہنا دیا ہے؛ خالی پلیٹ کو صبر، کمزور جسم کو محنت اور بیماری کو آزمائش قرار دے کر ہم نے ظلم کو قابلِ قبول بنا دیا ہے، حالانکہ یہ تہذیب نہیں بلکہ سہولت پسند منافقت ہے۔ قومیں تقریروں، دعاؤں اور نعروں سے نہیں بنتیں، قومیں دودھ، دال، روٹی، صاف پانی اور بروقت علاج سے بنتی ہیں۔ یہ بات کڑوی ہے مگر سچی کہ جس معاشرے میں صحت اور غذائیت ترجیح نہ ہوں، وہاں انسان محض ایندھن ہوتا ہے؛ بجٹ میں صحت کو پیچھے رکھنا دراصل انسان کو پیچھے رکھنا ہے، ماں کی غذا بہتر کیے بغیر نسل مضبوط نہیں ہوتی، بچے کی پلیٹ بھرے بغیر تعلیم بےمعنی ہے، اور بیمار قوم کے لیے ترقی محض ایک اشتہار ہے۔ یہ تحریر سخت ہے مگر غیرمہذب نہیں، کیونکہ اصل بدتہذیبی سچ بولنا نہیں بلکہ سچ کو مسلسل نظرانداز کرنا ہے۔

1 week ago | [YT] | 0

White&Black

یہ جملہ سننے میں سادہ لگتا ہے مگر اس کے اندر پورے معاشرے کی منافقت ننگی کھڑی ہے: **گھر والوں پر بلاوجہ سختی کرنا اور باہر والوں کے ساتھ کھلکھلا کر ہنسنا اخلاق نہیں، یہ کردار کی شکست ہے۔** ہم میں سے اکثر لوگ اسی دوہرے معیار کے ساتھ جیتے ہیں، گھر میں داخل ہوتے ہی لہجہ بدل جاتا ہے، آواز سخت ہو جاتی ہے، چہرے پر تیور آ جاتے ہیں، بیوی، بچے، ماں باپ سب کو ایسے مخاطب کیا جاتا ہے جیسے وہ ہمارے غصے، ناکامیوں اور محرومیوں کے ذمہ دار ہوں، مگر جونہی ہم گھر سے باہر قدم رکھتے ہیں تو مسکراہٹ خود بخود چہرے پر آ جاتی ہے، آواز میں نرمی آ جاتی ہے اور اخلاق کا ایسا ڈرامہ شروع ہو جاتا ہے جیسے ہم دنیا کے سب سے مہذب انسان ہوں۔ یہ کون سی شرافت ہے جو صرف اجنبیوں کے لیے محفوظ ہے اور یہ کون سا اخلاق ہے جو سڑک، دفتر، محفل اور سوشل میڈیا پر تو جاگ جاتا ہے مگر گھر کی دہلیز پر آ کر مر جاتا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ ہم نے اخلاق کو عبادت نہیں بلکہ ایک **نمائش** بنا لیا ہے، باہر کے لوگوں کے سامنے اچھا بننا ہمیں فائدہ دیتا ہے—تعریف، تعلقات، مفاد اور پہچان—مگر گھر والوں کے سامنے اچھا بننے میں ہمیں کوئی فوری فائدہ نظر نہیں آتا، اس لیے ہم بے رحم ہو جاتے ہیں اور یہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ گھر والے تو برداشت کر ہی لیں گے، خاموش رہیں گے، چھوڑ کر نہیں جائیں گے، حالانکہ یہی سوچ سب سے بڑی بزدلی ہے۔ یاد رکھیں، آپ کی اصل شخصیت وہ نہیں جو آپ محفل میں دکھاتے ہیں بلکہ وہ ہے جو آپ اپنے گھر میں ہوتے ہیں، اگر آپ باہر ہنس مکھ اور اندر تلخ ہیں تو آپ مہذب نہیں بلکہ محض موقع پرست ہیں۔ کچھ لوگ نماز، وعظ، اخلاقی پوسٹس اور اقوالِ زریں کے پیچھے چھپ جاتے ہیں مگر گھر میں زبان زہر بن جاتی ہے، بیوی کی عزت مجروح کی جاتی ہے، بچوں پر چیخا جاتا ہے اور والدین کے صبر کو آزمائش بنا دیا جاتا ہے، پھر یہی لوگ باہر جا کر اخلاقیات کے لیکچر دیتے ہیں، یہ دینداری نہیں بلکہ خالص منافقت ہے۔ اگر آپ واقعی اچھے انسان ہیں تو اس کا پہلا حق دار آپ کا خاندان ہے، آپ کی نرم آواز، آپ کی مسکراہٹ، آپ کا صبر اور آپ کی برداشت سب سے پہلے گھر میں نظر آنی چاہیے، کیونکہ دوسروں پر احسان کرنا آسان ہوتا ہے جہاں حساب کتاب ہوتا ہے، مگر اپنوں کے ساتھ اچھا ہونا مشکل ہوتا ہے کیونکہ وہاں انا ٹوٹتی ہے۔ اس لیے خود سے ایک ایماندار سوال پوچھیں کہ کیا میں گھر میں بھی وہی انسان ہوں جو باہر بن کر دکھاتا ہوں؟ اگر جواب “نہیں” ہے تو مسئلہ غصے کا نہیں بلکہ **کردار** کا ہے، اور کردار کا علاج صرف ایک ہے: دوسروں پر مہربان ہونے سے پہلے، اپنے گھر والوں کے ساتھ مسکرانا سیکھیں۔

1 week ago | [YT] | 0

White&Black

یہ کوئی خاموش بیماری نہیں، یہ چیختا ہوا بحران ہے دماغی صحت کا بحران مگر ہم نے کانوں میں سماجی وقار، غیرت، شرم اور “لوگ کیا کہیں گے” کے پلگ ٹھونس رکھے ہیں۔ یہاں لوگ روز مر رہے ہیں، مگر خون نظر نہیں آتا، اس لیے ہمیں لگتا ہے کچھ ہوا ہی نہیں۔ کوئی نوجوان چھت سے نہیں کودتا تو ہم سمجھتے ہیں سب ٹھیک ہے، حالانکہ وہ اندر سے روز تھوڑا تھوڑا مر رہا ہوتا ہے۔ ڈپریشن کو سستی کہا جاتا ہے، اینگزائٹی کو کمزوری، اور ٹراما کو “وقت کے ساتھ ٹھیک ہو جانے والی چیز”۔ یہ وہ معاشرہ ہے جہاں ٹانگ ٹوٹ جائے تو پورا خاندان ہسپتال پہنچ جاتا ہے، مگر دماغ ٹوٹ جائے تو کہا جاتا ہے: “نماز پڑھو، سب ٹھیک ہو جائے گا”۔ کیا دماغ اللہ نے نہیں بنایا؟ کیا درد صرف وہی معتبر ہے جو ایکسرے میں دکھ جائے؟ ہم نے ذہنی اذیت کو کردار کی خرابی بنا دیا ہے، اور پھر اسی کردار کے جنازے پڑھ کر رونا بھی چاہتے ہیں۔ اسکولوں میں نمبرز کی دوڑ ہے، گھروں میں توقعات کا بوجھ، دفاتر میں استحصال، سوشل میڈیا پر جھوٹی خوشی کی نمائش—اور بیچ میں ایک انسان، جسے سانس لینے کی بھی اجازت نہیں۔ مرد کو رونے کی اجازت نہیں، عورت کو بولنے کی نہیں، بچے کو سمجھنے کی نہیں، اور بوڑھے کو یاد رکھنے کی نہیں۔ ہر عمر، ہر جنس، ہر طبقہ اس بحران کی زد میں ہے، مگر علاج صرف نصیحتیں ہیں۔ ہم نے ماہرِ نفسیات کو پاگلوں کا ڈاکٹر بنا دیا، جبکہ پاگل پن اصل میں اس نظام میں ہے جو انسان کو مشین سمجھتا ہے۔ جو نوجوان خودکشی کرتا ہے، ہم اس کی بیماری نہیں دیکھتے، اس کی “کمزوری” پر لیکچر دیتے ہیں۔ جو زندہ رہ جاتا ہے، اسے خاموش رہنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ یہ بحران اس لیے بھی گہرا ہے کہ ہم ماننے کو تیار نہیں کہ ہمیں مدد کی ضرورت ہے۔ ہم نے دماغی صحت کو امیروں کی لگژری، اور غریبوں کی عیاشی بنا دیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ذہنی بیماری علاج نہ ہونے پر جرم، نشہ، تشدد اور خودکشی بن کر پھٹتی ہے اور پھر ہم حیران ہوتے ہیں کہ معاشرہ اتنا سفاک کیوں ہو گیا۔ جب تک ہم ذہن کو جسم جتنی اہمیت نہیں دیں گے، جب تک سوال کرنے والے کو بدتمیز اور مدد مانگنے والے کو کمزور کہتے رہیں گے، یہ بحران مزید لاشیں مانگتا رہے گا خاموش، بے آواز، مگر پوری شدت کے ساتھ۔

1 week ago | [YT] | 1