Here is the description with the hashtags:

"Unlock the Power of AI! Explore the latest AI trends, innovations, and insights in our short, snappy videos. Subscribe and stay ahead of the curve!

#AI #ArtificialIntelligence #MachineLearning #TechNews #Innovation #AIShorts #AIVideo #AIMedia #AITech #ViralShorts #ShortVideos #YouTubeShorts #VideoContent #ViralVideos"


The story

😂😂😂 what a joke

1 week ago | [YT] | 1

The story

1 week ago | [YT] | 0

The story

Mashallah

1 week ago | [YT] | 2

The story

کل جرات کا ایک طاقتور لمحہ سامنے آیا جب ریال سعید العسیری نے چھلانگ لگانے کی کوشش کرنے والے ایک شخص کو بچا لیا۔ ان کی بہادری سعودی سکیورٹی فورسز کی لگن کی عکاسی کرتی ہے، ہمہ وقت جانوں اور حرم کی حرمت کی حفاظت کرتی ہے۔ اللہ پاک جزائے خیر عطا فرمائے حرمین کی حفاظت فرمائے جدوجہد کرنے والوں کو اپنی رحمت عطا فرمائے اور ہر دل میں امن پھیلائے

کل بہادری سے پتہ چلا جب حقیقی سعید العصیری نے ایک جان بچائی جو تقریباً کھو گئی تھی۔ ایک ایسا رویہ جو سعودی سکیورٹی جوانوں کی جانوں اور حرمت کے تحفظ میں وقف کرتا ہے نَسْلُ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ اَحْسَنَ الْجَزَاءِ وَاَحْمَةُ الْح

#ماهر_المعيقلي

1 week ago | [YT] | 1

The story

قصور سے دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے ، جہاں آمنہ نامی لڑکی نے میڈیا کو بتایا کہ اس کے باپ نے پہلے اسکی چھوٹی بہن..See Mor

1 week ago | [YT] | 0

The story

Clean Image in Comment 🔥

1 week ago | [YT] | 0

The story

شادی کے دوسرے دن شوہر نے بیوی سے ناشتے میں انڈہ کھانے کی فرمائش کی۔
بیوی نے خوشی خوشی آملیٹ بنا دیا، مگر تنقیدی مزاج کے شوہر نے فوراً اعتراض جڑ دیا،
”انڈہ تو ٹھیک ہے، مگر میرا دل تو فرائی انڈے کا تھا۔“

بیوی کو افسوس ہوا کہ وہ شوہر کی خواہش پوری نہ کر سکی۔

اگلی صبح بیوی نے شوہر کے کہنے سے پہلے ہی فرائی انڈہ بنا کر پیش کر دیا۔
مگر وہی تنقیدی شوہر پھر بول اٹھا،
”انڈہ تو اچھا ہے، لیکن آج میرا دل آملیٹ کھانے کا تھا۔“

بیوی بیچاری ایک بار پھر شرمسار ہو گئی۔

تیسری صبح اس نے ڈرتے ڈرتے دونوں طرح کے انڈے... آملیٹ اور فرائی... میز پر رکھ دیے۔
شوہر نے دونوں انڈوں کو غور سے دیکھا، ماتھے پر تیور چڑھائے، اور غصّے سے بول اٹھا،
”بیگم! تم میری پسند پر کبھی پوری نہیں اتر سکتیں۔ جس انڈے کو فرائی ہونا چاہیے تھا، وہ تم نے آملیٹ بنا دیا اور جسے آملیٹ ہونا تھا اسے تم نے فرائی کر دیا!“

ہمارے معاشرے میں ایسے بہت سے ذہین نما خبطی لوگ موجود ہوتے ہیں جن کا کام صرف اور صرف تنقید کرنا ہوتا ہے، وہ ہر عمل کو صرف اپنی نظر سے دیکھتے ہیں اور پھر اس پر بحث کرتے ہوئے اپنی ذاتی پسند، ناپسند کی وضاحت کر ڈالتے ہیں جو کہ ان کی نظر میں حتمی اور قطعی ہوتی ہے،
ایسے لوگوں سے بحث کر کے جیتا نہیں جا سکتا البتہ خاموشی ضرور اختیار کی جاسکتی ہے۔

اور اکثر اوقات یہی تنقید پسند لوگ ہماری فیس بک پوسٹس پر بھی چلے آتے ہیں۔
نہ پوری بات سمجھتے ہیں، نہ سیاق و سباق سمجھنے کا دماغ ہوتا ہے، اور آدھی ادھوری معلومات کی بنیاد پر ایسی تنقید کرتے ہیں جو درحقیقت بدتمیزی کے سوا کچھ نہیں ہوتی۔

یہ لوگ دلیل نہیں دیتے... صرف شور مچاتے ہیں۔
بحث نہیں کرتے... بس اپنی جھوٹی برتری ثابت کرنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔
انہیں نہ الفاظ کی ذمہ داری کا احساس ہوتا ہے اور نہ ہی گفتگو کی تہذیب ہوتی ہے۔

ایسے کمینٹس کا جواب دینا وقت کا ضیاع ہے۔
ان کے ساتھ دلیل کی بات ویسے ہی ہے جیسے بہرے کے سامنے بانسری بجانا۔
سمجھنے کی صلاحیت ہی نہیں تو گفتگو کی گہرائی کہاں سے آئے؟

لہٰذا بہتر یہی ہے کہ ان پر غصہ کرنے کے بجائے انہیں نظرانداز کر دیا جائے۔
کیونکہ بعض لوگ سیکھنے نہیں آتے، صرف اپنے ذہنی انتشار کو دوسروں پر اتارنے آتے ہیں اور ذہنی پستی کاقظہار کرنے آتے ہیں۔
ایسے لوگوں کو نظر انداز کرنا ہی بہادری ہے اور خاموشی اکثر بحث سے زیادہ طاقتور جواب ہوتی ہے۔

یہ تحریر زندہ دل میرے نہایت ہی محترم دوست قیصر باہروال صاحب کے نام
جن کا ایک مشہور فیسبک پیج ہے ”میں اور میرا پاکستان“
میری اکثر تحاریر کی طرح ان کی ویڈیوز پر بھی کچھ ناہنجار بے وجہ بدتمیزی کر جاتے ہیں۔ میرے ساتھ بھی ایسا ہوتا ہے۔ ان کی اعلیٰ ظرفی ہے کہ وہ اس طرح کے کمنٹ ڈیلیٹ بھی نہیں کرتے۔ لیکن میں ڈیلیٹ کر دیتا ہوں، کیونکہ گھر کی طرح اور پودوں کی طرح پوسٹ کے کمنٹ سیکشن میں بھی ہمیشہ کانٹ چھانٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔ انہیں نظر انداز کرنا اچھا ہے لیکن بہتر یہی ہے کہ ان کے کمنٹ ڈیلیٹ کر دیئے جائیں۔
تنقید برائے اصلاح ایک مثبت پہلو ہے لیکن بدتمیزی ایک منفی پہلو ہے جس کا جواب دینے سے اپنا کردار داغدار ہوتا ہے۔

بات اتنی سی ہے قیصر بھائی کہ تنقید بری چیز نہیں لیکن تنقید کی آڑ میں بدتمیزی کرنے والے صرف اور صرف اپنی نسل اور تربیت ظاہر کرتے ہیں۔ وہ اپنی دنیا میں مگن رہیں، کیونکہ ان کا یہی کام ہے۔
البتہ ہم جو کر رہے ہیں، وہ نیک نیتی سے جاری رکھیں۔ ان لوگوں کے منہ پر یہی سب سے بڑا طمانچہ ہے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
انسانیت اور جنات کی جنگ پر مبنی ناول 20 دسمبر 2025 سے شروع کیا جائے گا۔
یہ سنسنی خیز ناول پڑھنے کے لیے یا روزمرہ کی مختصر کہانیاں پڑھنے کے لیے میری پروفائل فالو کر لیں۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
#زائپس #ZIPES #زیاداصغرزارون
#viralchallenge #viralphoto #viralchallenge #funny #BestPhotographyChallenge #photochallenge #PhotoEditingChallenge

3 weeks ago | [YT] | 0

The story

جمعہ کے دن ایک مولوی صاحب نے خطبے میں فرمایا کہ
"عورت کے ایک ایک بال کے نیچے بیس بیس مکاریاں چھپی ہوتی ہیں۔"

یہ بات ایک دیہاتی کسان نے سن لی۔ گھر آ کر اس نے بلا کسی وجہ کے اپنی نیک سیرت، سادہ دل بیوی کا سر منڈوا دیا۔ حالانکہ اس کی بیوی نے کبھی اونٹ پٹانگ فرمائش نہیں کی تھی، نہ ہی اس کے کردار پر کوئی حرف تھا۔ وہ تو فرشتہ صفت عورت تھی۔

بیوی کو شدید دکھ ہوا۔ اس نے پوچھا:
"آپ نے میرے ساتھ ایسا کیوں کیا؟"

شوہر بولا:
"ارے نیک بخت! ہمارے مسجد کے مولوی صاحب نے یہ بات کہی ہے۔ میں نے سوچا تمہاری مکاریاں ختم کر دوں۔"

عورت دل ہی دل میں کڑھی، مگر خاموش رہی۔ اس نے سوچ لیا کہ اس بےوقوف کو اصل مکاری دکھانی ہی پڑے گی۔

اگلے دن وہ بازار گئی، چند مچھلیاں خریدیں، کھیتوں میں جا کر مچھلیاں مختلف جگہوں پر مٹی میں دبا دیں۔ ایک چھوٹی مچھلی دھاگے سے باندھ کر اپنے گلے میں ڈال لی اور گریبان میں چھپا لی۔

جب شوہر کھیتوں میں کام کرنے پہنچا تو اسے جگہ جگہ سے مچھلیاں ملنے لگیں۔ وہ حیران ہوا، سب مچھلیاں اکٹھی کیں، تھیلی میں ڈالیں اور خوشی خوشی گھر لے آیا۔

بیوی کو تھیلی پکڑاتے ہوئے بولا:
"لو آج مچھلی پکائیں گے۔"

بیوی نے معصومیت سے پوچھا:
"اس وقت مچھلی کہاں سے آ گئی؟"

شوہر بولا:
"کھیتوں میں ہاتھ لگ گئی ہیں۔"

بیوی نے "اچھا" کہا، مچھلیاں لے جا کر کہیں چھپا دیں اور دوسرے کاموں میں لگ گئی۔

کھانے کے وقت شوہر نے کہا:
"کھانا لاؤ۔"

بیوی بولی:
"گھر میں کچھ ہوگا تو پکاؤں گی نا؟"

شوہر غصے سے بولا:
"اوئے! میں مچھلی لایا تھا پکانے کے لیے!"

بیوی نے حیرت سے پوچھا:
"کون سی مچھلی؟"

شوہر بولا:
"وہی جو میں کھیتوں سے پکڑ کر لایا تھا!"

اسی وقت بیوی نے اپنے بھائیوں کو پیغام بھیج دیا:
"جلدی آؤ، میرا شوہر پاگل ہو گیا ہے۔"

بھائی آئے تو عورت نے سارا ماجرا سنا دیا:
"کل مجھے گنجا کر دیا، اب کہتا ہے کھیتوں میں مچھلیاں اگ آئی ہیں!"

شوہر بیوی کو مارنے لپکا، مگر بھائیوں نے پکڑ کر اسے کرسی سے باندھ دیا۔

تب عورت نے بھائیوں سے نظر بچا کر، گریبان سے مچھلی نکالی، شوہر کو دکھائی اور فوراً واپس چھپا لی۔

شوہر چیخ اٹھا:
"دیکھو! مچھلی! مچھلی!"

عورت نے بھائیوں سے کہا:
"دیکھ لو؟ پاگل پن بڑھتا ہی جا رہا ہے۔"

بھائیوں کو یقین ہو گیا کہ ان کا جیجا واقعی پاگل ہو چکا ہے۔ وہ ڈاکٹر کو بلانے چلے گئے۔

گھر میں اکیلے رہتے ہی بیوی مسکرائی اور بولی:
"یہ ہوتی ہے مکاری... جو بالوں سے نہیں، دماغ سے ہوتی ہے۔ اب بتاؤ، پاگل خانے جانا ہے یا معافی مانگو گے؟"

شوہر روتے ہوئے بولا:
"میری ماں باپ کی بھی توبہ! آئندہ کسی عورت ذات سے پنگا نہیں لوں گا۔"

یہ ایک تمثیلی کہانی ہے۔
ایک پیغام کہ... شریفوں کو شرافت میں ہی رہنے دو... انہیں مجبور مت کرو کہ وہ آپ کو اپنا وہ روپ دکھائیں، جو وہ خود سے بھی چھپا کر رکھتے ہیں۔
ہر انسان میں ایک درندہ ہوتا ہے، جو تب ہی جاگتا ہے، جب اس کی برداشت اور صبر ٹوٹ جاتا ہے۔
لہٰذا دوسروں کی شرافت اور صبر کا احترام کریں، تاکہ آپ کی زندگی میں سکون بنا رہے۔
#منقول
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
انسانیت اور جنات کی جنگ پر مبنی ناول 20 دسمبر 2025 سے شروع کیا جائے گا۔
یہ سنسنی خیز ناول پڑھنے کے لیے یا روزمرہ کی مختصر کہانیاں پڑھنے کے لیے میری پروفائل فالو کر لیں۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
#زائپس #ZIPES #زیاداصغرزارون #BestPhotographyChallenge #viralphoto #viralphotochallenge #viralchallenge #photographychallenge #PhotoEditingChallenge #photochallenge

3 weeks ago | [YT] | 0

The story

پرانے زمانے کی بات ہے، ایک عالمِ دین بغاوت کے الزام میں جیل چلے گئے۔ جب جمعے کا دن آتا تو وہ نہا دھو کر، تیل کنگھی کر کے تیار ہو جاتے اور بےچینی سے انتظار کرتے۔ جونہی جمعے کی اذان ہوتی، وہ تیز قدموں سے جیل کے مین گیٹ کی طرف بڑھتے۔ پوری اذان جیل کے گیٹ کی سلاخیں تھام کر سنتے، پھر بوجھل قدموں اور افسردہ چہرے کے ساتھ، آنسو پونچھتے ہوئے واپس اپنی بیرک میں آ جاتے۔

گیٹ پر مامور جیلر، جو غیر مسلم تھا، کافی عرصے سے اس عالمِ دین کا یہ معمول دیکھ رہا تھا۔ آخر ایک دن وہ ضبط نہ کر سکا۔ اس نے عالمِ دین کو اپنے پاس بلایا اور پوچھا:

"تم ہر جمعے یہ کیا کرتے ہو؟ تیار ہو کر گیٹ تک آتے ہو، جبکہ تمہیں معلوم ہے کہ جیل کا دروازہ تمہارے لیے بند ہے اور تم باہر نہیں جا سکتے۔ پھر بھی اتنی دور چل کر کیوں آتے ہو؟"

عالمِ دین نے جواب دیا:
"جیلر صاحب! میرے اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ جب جمعے کی اذان سنو تو سارے کام چھوڑ کر جلد از جلد مسجد کی طرف بڑھو۔ اسی لیے میں اپنے رب کا حکم بجا لاتا ہوں اور جہاں تک میرے لیے ممکن ہوتا ہے، وہاں تک پہنچتا ہوں۔"

انہوں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا:
"پھر میں جیل کے گیٹ کی سلاخیں پکڑ کر اپنے رب سے مخاطب ہوتا ہوں اور عرض کرتا ہوں:
یا اللہ! تو میری مجبوری دیکھ رہا ہے۔ تیرے حکم کی خاطر میں یہاں تک تو آ گیا ہوں، لیکن اس سے آگے نہیں بڑھ سکتا۔ اب تو میری نیت کو دیکھتے ہوئے خود ہی میری حاضری لگا دینا۔
کیونکہ میرا اللہ کسی جان پر اس کی استطاعت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا، اس لیے مجھے امید ہے کہ میرا رب مجھے جمعے کا اجر ضرور عطا فرمائے گا، اگرچہ میں نمازِ ظہر جیل ہی میں ادا کرتا ہوں۔"

آخر میں عالمِ دین نے کہا:
"جو چیز آپ کو تماشا لگتی ہے، وہ میرے لیے میرا دین اور میرا ایمان ہے۔"
#منقول
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
انسانیت اور جنات کی جنگ پر مبنی ناول 20 دسمبر 2025 سے شروع کیا جائے گا۔
یہ سنسنی خیز ناول پڑھنے کے لیے یا روزمرہ کی مختصر کہانیاں پڑھنے کے لیے میری پروفائل فالو کر لیں۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
#زائپس #ZIPES #زیاداصغرزارون #BestPhotographyChallenge #viralphoto #viralphotochallenge #viralchallenge #photographychallenge #PhotoEditingChallenge #photochallenge

3 weeks ago | [YT] | 0

The story

اکشے کھنہ (رحمان ڈکیت) اور چوہدری اسلم (سنجے دت)کا بھی لاہور میں چالان 🤣

3 weeks ago | [YT] | 0