AL ISLAM U DEEN UN NAZAFAH

Islamic videos
youtube.com/channel/UC_JsOUbBFWVQjiwyXnheSSQ
We upload islamic video
Calling_To_Allah


AL ISLAM U DEEN UN NAZAFAH

تقبل الله منا ومنكم صالح الأعمال وغفر الله لنا ولكم وكل عام وانتم بخير

اللّٰہ اکبر اللّٰہ اکبر لا إلٰه الا اللّٰہ واللّٰہ اکبر اللّٰہ اکبر وللّٰہ الحمد -

8 months ago | [YT] | 7

AL ISLAM U DEEN UN NAZAFAH

عشرہ ذوالحجہ
1 ذوالحجہ سے لیکر 13 کی شام تک کثرت سے تکبیرات پڑھنا
اللهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، وَلِلَّهِ الْحَمْدِ.
اللهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا ، وَسُبْحَانَ اللهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا

8 months ago | [YT] | 8

AL ISLAM U DEEN UN NAZAFAH

اگر کسی بستی میں کوئی بھی اعتکاف میں نہ بیٹھے تو کیا وہاں کی مسجد انتطامیہ یا تمام بستی والے گنہگار ہوں گے؟
الجواب بعون رب العباد
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حامدا ومصليا اما بعد!
قرآن وسنت سے ثابت ہوتا ہے کہ رمضان کے عشر اخیر میں اعتکاف کرنا ایک عظیم عبادت ہے اور سنت مؤکدہ ہے اسلئے کہ اس پر نبی ﷺ نے مواظبت کیا ہے جیساکہ احادیث صحیحہ سے ثابت ہے کہ نبی کریم ﷺ اپنی وفات تک رمضان کےآخری عشرے میں اعتکاف کرتے رہے۔۔۔۔۔۔۔ [حدیث بخاری2026].
لہذا ہر مسلمان مرد وعورت کو چاھئے کہ وہ اعتکاف کرنے کی کوشش کیا کریں اور اعتکاف مرد وعورت کو صرف مسجد میں کرنا جائز ہے۔ جیساکہ سورہ بقرہ آیت نمبر 187 میں اس کی طرف واضح اشارہ موجود ہے۔
فقہاء اور اصولیوں کے یہاں یہ بات طے ہے کہ تارک سنت چاھئے سنت مؤکدہ ہو یا غیر مؤکدہ گنہگار نہیں ہوگا البتہ ایسا شخص اس کے اجر وثواب سے محروم ضرور ہوگا۔
اعتکاف کی دو قسمیں ہیں ایک سنت۔دوسری واجب جیسے کہ کوئی شخص نذر مانے کہ میں فلاں وقت فلاں مسجد میں اعتکاف کروں گا نذر کی صورت میں اعتکاف چھوڑنے والا گنہگار ہوگا۔اور سنت مؤکدہ کی صورت میں گنہگار نہیں ہوگا۔
دلیل:حدیث ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ کہ نبی ﷺ کے پاس ایک اعرابی آیا اور اس نے آپﷺ سے ارکان اسلام کے متعلق سوال کیا اور وہ جب جب نبی ﷺسے پوچھتا کہ اس کے علاوہ تو آپ فرماتے (الا ان تطوع).الا اگر تم نفلی عبادت کرو اس شخص نےنکلتےوقت کہا کہ واللہ میں نہ کچھ زیادہ کروں گا نہ کم۔ آپﷺنے فرمایاکہ یہ کامیاب ہوگیا اگراس نےسچ میں کیا جو کچھ کہتا ہے۔[بخاری1397].
اس حدیث سے استدلال کیا جاسکتا ہے کہ سنت ترک کرنے کی صورت میں انسان گنہگار نہیں ہوگا۔
بعض لوگوں کا یہ کہنا کہ اگر کسی مسجد یا بستی میں کوئی اعتکاف میں نہ بیٹھےتو وہاں کے تمام بستی والے یا وہاں کی انتظامیہ مسجد والے گنہگار ہوں گے ایسا کہنا بے بنیاد بلا دلیل اور شرعی اصول کے خلاف ہے اسلئے کہ اعتکاف سنت ہے اور سنت کے ترک کرنے میں کوئی گناہ نہیں ہاں البتہ سنت کے اجر سے اس سنت پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے لوگ محروم رہیں گے۔
دوسری بات ہر کسی کو اپنے عمل کا حساب اور جزاء ملے گی شرعا کسی کا گناہ دوسرے کے ذمہ نہیں ڈالا جائے گا۔
اللہ کا فرمان ہے:﴿وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَىٰ..... ﴾.[سورہ فاطر18].
کوئی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔
لہذا ایسا کہنا بلکل غلط ہےکہ کسی بستی میں اگر کوئی بھی اعتکاف نہ کرے گا تو اس وجہ سے وہاں کے بستی یا انتظامیہ والے گنہگار ہوں گے۔
خلاصہ کلام
اعتکاف سنت ہے سنت کے ترک کرنے سے نہ خود نہ بستی والے گنہگار ہوں گے البتہ بہتر یہی ہے کہ اس سنت پر ہر شخص عمل کرنے کی کوشش کرے۔
هذا ما عندي والله اعلم بالصواب.

11 months ago | [YT] | 8

AL ISLAM U DEEN UN NAZAFAH

اِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَآءِ وَالْمَسَاكِيْنِ وَالْعَامِلِيْنَ عَلَيْـهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوْبُـهُـمْ وَفِى الرِّقَابِ وَالْغَارِمِيْنَ وَفِىْ سَبِيْلِ اللّـٰهِ وَابْنِ السَّبِيْلِ ۖ فَرِيْضَةً مِّنَ اللّـٰهِ ۗ وَاللّـٰهُ عَلِيْـمٌ حَكِـيْـمٌ(آیت60)
➊ اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَآءِ وَ الْمَسٰكِيْنِ …: منافقین کا طعن دور کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے خود صدقات کے حق دار بیان فرما دیے، تاکہ سب لوگ جان لیں کہ صدقات کی تقسیم کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اختیار نہیں، لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر طعن بے سود ہے۔ یہاں صدقات سے مراد فرض صدقات، یعنی زکوٰۃ و عشر ہیں، کیونکہ حکومت کی طرف سے وصولی کے لیے عاملین فرض زکوٰۃ ہی کے لیے بھیجے جاتے تھے، یہ الگ بات ہے کہ کوئی ان کے پاس نفل صدقہ بھی جمع کروا دے۔ صدقے کو صدقہ اس لیے کہتے ہیں کہ اللہ کے لیے مال خرچ کرنے والا عملی طور پر اپنے ایمان کے صدق کا مظاہرہ کرتا ہے۔ یہ لفظ عام طور پر نفلی خرچ پر بولا جاتا ہے، مگر کبھی فرض پر بھی بولا جاتا ہے، جیسا کہ فرمایا: «خُذْ مِنْ اَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً» [ التوبۃ: ۱۰۳ ] یہاں فرض صدقات ہی مراد ہیں۔ اس آیت کے آخر میں ” فَرِيْضَةً مِّنَ اللّٰهِ “ سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے، کیونکہ نفلی صدقات کو فریضہ نہیں کہا جاتا۔ ” اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ “ سے معلوم ہوا کہ ان مقامات کے علاوہ زکوٰۃ و عشر خرچ کرنا جائز نہیں۔

➋ لِلْفُقَرَآءِ وَ الْمَسٰكِيْنِ: فقیر اور مسکین دونوں لفظ محتاج کے معنی میں آتے ہیں، بعض اہل علم فقیر کو زیادہ بدحال قرار دیتے ہیں، بعض مسکین کو اور بعض دونوں کو ایک ہی قرار دیتے ہیں۔ دلائل کے لحاظ سے راجح بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ فقیر مسکین سے زیادہ بدحال ہوتا ہے، کیونکہ یہ ” فقر“ سے مشتق ہے، کمر کے مہروں کو ” فَقَرَاتُ الظَّهْرِ“ کہتے ہیں۔ فقیر بمعنی مفقور ہے، یعنی ضرورت کی اشیاء نہ ہونے کی وجہ سے گویا اس کی کمر ٹوٹی ہوئی ہے۔ مسکین ”سکن“ سے مشتق ہے کہ ضرورت مندی نے اس کی حرکت کو سکون میں بدل دیا ہے۔ گویا فقیر کی حالت اس شخص کی سی ہے جس کے پاس کچھ نہیں اور مسکین وہ ہے جس کی آمدنی اس کی ضروریات سے کم ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «اَمَّا السَّفِيْنَةُ فَكَانَتْ لِمَسٰكِيْنَ يَعْمَلُوْنَ فِي الْبَحْرِ» ‏‏‏‏ [ الکہف: ۷۹ ] یعنی وہ کشتی چند مساکین کی تھی جو سمندر میں کام کرتے تھے۔ ظاہر ہے کہ کشتی کا مالک جو کام بھی کرتا ہو بالکل خالی ہاتھ نہیں ہوتا۔ ہاں، آمدنی ضرورت سے کم ہونے کی وجہ سے وہ ضرورت مند و محتاج ہوتا ہے۔ زیر تفسیر آیت میں فقراء کو پہلے لانے سے بھی ان کے زیادہ بدحال ہونے کا اشارہ ملتا ہے۔ لیکن یہ بات یاد رہنی چاہیے کہ یہ فرق اس وقت ضروری ہو گا جب فقیر اور مسکین دونوں لفظ اکٹھے آئیں، جیسے ایمان اور اسلام کا فرق ہے، لیکن الگ الگ آئیں تو دونوں ایک ہی ہیں۔ اسی طرح ان میں سے صرف فقیر یا مسکین کا لفظ آئے تو وہ دونوں قسم کے ضرورت مندوں پر بول لیا جاتا ہے، خواہ ان کے پاس کچھ ہو یا نہ ہو۔ یہ دونوں زکوٰۃ کے مستحق ہیں، خواہ وہ بدحال فقیر ہوں یا سفید پوش ضرورت مند۔

➌ وَ الْعٰمِلِيْنَ عَلَيْهَا: زکوٰۃ و عشر کی وصولی کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آدمی مقرر فرماتے تھے اورباقاعدہ ان کا محاسبہ فرماتے تھے، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن اللتبیہ رضی اللہ عنہ کو اس کام پر مقرر فرمایا تھا اور ان کی آمد پر محاسبہ کرتے ہوئے حکومت کے عمال کو ملنے والے تحائف کو ان کے لیے ناجائز قرار دیا تھا۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے ” كِتَابُ الْاَحْكَامِ“ میں باب قائم فرمایا ہے: ” بَابُ رِزْقِ الْحُكَّامِ وَالْعَامِلِيْنَ عَلَيْهَا۔“

➍ وَ الْمُؤَلَّفَةِ قُلُوْبُهُمْ: اس سے مراد وہ نومسلم ہیں جن کی دل جوئی کرکے انھیں اسلام پر ثابت قدم رکھنا مقصود ہو، یا وہ کفار جن کی دل جوئی سے ان کے اسلام لانے کی امید ہے، یا وہ بااثر لوگ جن پر خرچ کرنے سے کئی لوگوں کے مسلمان ہونے کی امید ہے، یا وہ کافر سردار جن پر خرچ کرنے سے ان کے علاقے میں مسلمانوں کے ظلم و ستم سے محفوظ رہنے کی امید ہے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ اسلام کے غلبے کے بعد یہ مد ختم ہو گئی، جیسا کہ امیر المومنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا، مگر موجودہ زمانے کے حالات کو سامنے رکھیں تو آج کل شاید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے بھی زیادہ اس کی ضرورت ہے، کیونکہ کفار اسی طریقے سے مسلمانوں کو مرتد کر رہے ہیں۔

➎ وَ فِي الرِّقَابِ: گردنیں چھڑانے سے مراد غلاموں کو خرید کر آزاد کرنا ہے۔ مکاتب غلاموں کی (جنھوں نے اپنے مالکوں سے اپنی قیمت قسطوں میں ادا کرنے کی شرط پر آزادی کا معاہدہ کیا ہوا ہے) مدد کرنا ہے۔ آج کل عدالتوں کے کفریہ نظام کی وجہ سے بے گناہ لوگ یا وہ گناہ گار جن کی شرعی سزا قید نہیں ہے، مگر کافرانہ قانون کی وجہ سے قید ہیں، یا کفر کی عدالتوں کا عائد کر دہ جرمانہ ادا نہ کر سکنے کی وجہ سے یا مقدمہ کے اخراجات ادا نہ کر سکنے کی وجہ سے جیلوں میں سال ہا سال سے سڑ رہے ہیں ان کو چھڑانے پر زکوٰۃ صرف کرنا بھی اس میں شامل ہے۔ (واللہ اعلم)

➏ وَ الْغٰرِمِيْنَ: وہ مقروض جو قرض ادا نہیں کر سکتے، یا وہ کاروباری لوگ یا زمیندار وغیرہ جو کاروبار یا فصل برباد ہوجانے کی وجہ سے زیر بار ہو گئے، اگر وہ اپنی جائداد میں سے قرض ادا کریں تو فقیر ہو جائیں، یا وہ بااثر لوگ جنھوں نے صلح کروانے کے لیے لوگوں کی دیتیں یا رقوم اپنے ذمے لے لیں، یہ سب غارمین میں آتے ہیں۔

➐ وَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ: اس لفظ کے دو استعمال ہیں، ایک تو ہر نیکی ہی اللہ کے لیے اور اللہ کے راستے میں ہے اور فقراء و مساکین وغیرہ پر خرچ بھی فی سبیل اللہ ہے، جن کا ذکر اسی آیت میں پہلے ہو چکا ہے۔ دوسرا ان سب سے الگ فی سبیل اللہ ہے۔ اس سے مراد تمام مفسرین کے اتفاق کے ساتھ جہاد فی سبیل اللہ ہے۔ مجاہد غنی بھی ہو تو اس پر جہادی ضروریات کی خاطر خرچ کیا جا سکتا ہے۔ حدیث میں حج و عمرہ کو بھی اس مد میں شامل کیا گیا ہے۔ آپ تفسیر کی کتابیں دیکھ لیں یا فقہ کی ” وَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ “ کی تشریح ” هُمُ الْغُزَاةُ “ ہی پائیں گے کہ اس سے مراد اللہ کی راہ میں لڑنے والے ہیں، بلکہ اہل علم کا فیصلہ ہے کہ اگر ایک طرف فقراء و مساکین ہوں اور ایک طرف غازیانِ اسلام کو ضرورت ہو تو مجاہدین کی مدد کو ترجیح دی جائے گی، کیونکہ شکست کی صورت میں فقر و مسکنت کے ساتھ کفار کی غلامی کی ذلت اور اسلام کی بے حرمتی کی مصیبت بھی جمع ہو جائے گی۔

➑ وَ ابْنِ السَّبِيْلِ: مسافر خواہ صاحب حیثیت ہو اگر سفر میں اسے ضرورت پڑ جائے تو اس پر زکوٰۃ میں سے خرچ کیا جا سکتا ہے۔

➒ فَرِيْضَةً مِّنَ اللّٰهِ: معلوم ہوا کہ یہ مصارف فرض صدقات و عشر کے بیان ہوئے ہیں۔ چند اہل علم نے کہا کہ ضروری ہے کہ زکوٰۃ اور عشر میں آنے والا مال آٹھ حصوں میں تقسیم کیا جائے اور لازماً ہر مصرف میں خرچ کیا جائے، مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفاء کے عمل کو سامنے رکھتے ہوئے اکثر اہل علم کا کہنا یہ ہے کہ ان میں سے جس مصرف میں زیادہ ضرورت ہو وہاں زیادہ بلکہ سب کا سب بھی صرف کیا جا سکتا ہے۔ ہاں، ان مصارف کے علاوہ خرچ کرنا جائز نہیں اور یہی بات درست ہے۔ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی اجازت دی ہے۔ یاد رہے کہ فرض صدقہ صرف مسلمانوں پر خرچ کیا جا سکتا ہے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجتے وقت انھیں اہل یمن کو کلمۂ شہادت اور روزانہ پانچ نمازیں تسلیم کر لینے کے بعد زکوٰۃ بتانے کا حکم دیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اموال میں صدقہ فرض فرمایا ہے: [ تُؤْخَذُ مِنْ أَغْنِيَاءِ هِمْ فَتُرَدُّ فِيْ فُقَرَاءِ هِمْ ] ”جو ان کے اغنیاء سے لیا جائے گا اور انھی کے فقراء پر واپس کر دیا جائے گا۔“ [ بخاری، الزکوٰۃ، باب أخذ الزکوٰۃ من الأغنیاء …: ۱۴۹۶ ] مؤلفۃ القلوب پر خرچ بھی دراصل مسلمانوں ہی پر خرچ کی ایک صورت ہے۔

11 months ago | [YT] | 8

AL ISLAM U DEEN UN NAZAFAH

علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس امت کا بہترین شخص اس کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ابو بکر رضي الله عنه ہیں، پھر عمر رضي الله عنه۔ یہ بات علی رضی اللہ عنہ نے قسم کھا کر کہی، اور یہ ان سے متواتر طور پر منقول ہے کیونکہ انہوں نے یہ بات کوفہ کے منبر پر کہی تھی۔
📗السیر 362/2
‏ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: علی رضی اللہ عنہ سے متواترا منقول ہے کہ کوفہ کے منبر پر فرمایا کرتے تھے: اس امت کا بہترین شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ابو بکر ہیں پھر عمر۔ یہ بات ان سے 80 سے زائد سندوں سے نقل کی گئی ہے، اور اسے بخاری و دیگر محدثین نے روایت کیا ہے۔
الفتاوى436/4

1 year ago | [YT] | 9

AL ISLAM U DEEN UN NAZAFAH

بر وضو کے وقت احتیاط کے طور پر موزوں کا اتار دینا یا یہ سمجھ کر کہ پانی ٹھنڈا نہیں ہے خلاف سنت ہے، شیخ علامہ ابن عثیمین رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ ہر وضو کے وقت بطور احتیاط جرابوں کا اتار دینا اسکا کیا حکم ہے تو شیخ رحمہ اللہ فرمایا کہ جرابوں کا ہر وضو کے وقت اتار دینا خلاف سنت ہے اسمیں روافض (شیعہ) کے ساتھ مشابہت ہے جو موزوں پر مسح کرنا جائز نہیں سمجھتے ہیں۔ اور رسول اللہ ﷺ نے حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا جب مغیرہ نے وضو کے وقت آپ ﷺ کے موزے اتارنا چاہا تو آپ ﷺ نے فرمایا مغیرہ موزوں کا اتارنا چھوڑ دو میں نے موزوں کو وضو کرکے پہنا ہے۔
فتاوی ارکان اسلام ص 228)۔ انتھی۔

1 year ago (edited) | [YT] | 9

AL ISLAM U DEEN UN NAZAFAH

*سنگ دلی کی انتہا*
ایک عرصے سے قحط سالی ہو رہی ہے کہیں جگہوں پر پانی کے لئے کہیں مخلوق ترس رہی ہیں اس قسم کے حالات انسانوں کے اعمال کی وجہ سے بنتے ہیں جیسا کہ اسلاف امت سے منقول ہے۔ امام مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "جب قحط سالی شدید ہو جاتی ہے اور بارش رُک جاتی ہے جانور نافرمان انسانوں پر لعنت بھیجتے ہیں، اور کہتے ہیں: یہ آدم کی اولاد کے گناہوں کی وجہ سے ہے۔" عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں "زمین کے جتنے بھی جانور اور کیڑے مکوڑے ہیں، حتیٰ کہ بھنورے اور بچھو بھی کہتے ہیں کہ: آدم کی اولاد کے گناہوں کی وجہ سے بارش کو ہم سے روکا گیا ہے۔"(📗 الداء والدواء لابن القیم) دینِ اسلام جو سراپا دینِ رحمت ہے ایسے حالات میں توبہ استغفار اور نماز استسقاء کی تعلیمات دیتا ہے۔ لیکن بجائے اس کے کہ رجوع الی اللہ ہو، کچھ جاہل اور درندوں سے سخت دل رکھنے والوں نےکہیں جنگلوں کو آگ کی نظر کر دیا۔ نہ جانے کتنی بے زبان مخلوق کو جلایا۔کتنے پرندے تڑپ تڑپ کر اپنے گھونسلوں میں بچوں سمیت جلیں ہوں گے۔ اُن بے زبانوں کی آہ کی وجہ سے مستقبل میں نہ جانے کیسے کیسے حالات پیدا ہوں گی۔ دینِ اسلام کسی بھی مخلوق کو بے وجہ تکلیف دینا یا اسے بے گناہ قتل کرنے کی قطعاً اجازت نہیں دیتا۔ اور آگ سے جلانے کا تو شریعت اسلامیہ نے بالکل منع کیا ہے۔ رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " *بیشک آگ سے عذاب صرف اللہ ہی دیتا ہے* ۔"(📗صحیح بخاری) یعنی یہ صرف اللہ کا حق ہے۔ اسی طرح نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے چیونٹیوں کی ایک جگہ کو دیکھا کسی نے آگ سے جلا دیا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " *آگ سے عذاب دینا صرف آگ کے رب کو ہی مناسب ہے* ۔" (📗سلسلہ صحیحہ للالبانی) جو لوگ اس قسم کی بھیانک حرکتوں کے مرتکب ہوئے ہیں اُنہیں فوراً اللہ کی بارگاہ میں توبہ کرنی چاہئے۔ورنہ ایسے مجرموں کو محشر کے میدان میں سخت پکڑ ہوگی۔ جنہوں نے جنگلوں میں آگ لگا کر کہیں بے زبان جانوروں، پرندوں اور کیڑوں کو جلایا۔ ایسے درندہ صفت لوگوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ یہ قانون فطرت ہے جیسا کرو گے ویسا بھرو گے۔ آخرت سے پہلے دنیا میں دردناک تکلیفوں کا سامنا کرنا ہوگا۔ ممکن ہے توبہ کرکے آخرت میں سزا سے بچ جائیں گے لیکن دنیا میں *کما تدین تدان* کے قاعدے کے مطابق جس تکلیف سے اُن بے زبان چرند و پرند کو دو چار کیا ایسی ہی تکلیف سے گزرنا ہوگا۔
اللہ سے دعا ہے کہ ہمارے گناہوں کو معاف کرے اور ہم پر اپنی رحمت باران کا نزول فرمائے۔آمین
✍️
عبد القدیر بالی
استاد الكلية السلفية للبنات بمنہ سرینگر
26 دسمبر 2024

1 year ago | [YT] | 11

AL ISLAM U DEEN UN NAZAFAH

‏قال الامام الشافعي:-
اللهُ يغضبُ إن تركت سؤاله وبُنيَّ آدم حين يُسأل يغضبُ
اللہ تعالی کی شان یہ ہے کہ جب تو اس سے نہ مانگے تو وہ ناراض ہوتا ہے اور انسان کی یہ حالت ہے کہ اس سے منگا جاۓ۔ تو وہ ناراض ہوجاتا ہے

1 year ago | [YT] | 10

AL ISLAM U DEEN UN NAZAFAH

بــــــــــﻢِﺍﻟﻠّﻪِﺍﻟﺮَّﺣْﻤَﻦِﺍﻟﺮَّﺣِﻴْﻢ

یایھاالناس اتقو رباکم ان زلزت الساعة شیء عظیم الخ
ترجمہ:۔ لوگو ڈرو اپنے رب سے بیشک زلزلہ قیامت کی ایک بڑی چیز ہے۔
قرآن کریم نے زلزلہ کو قیامت کی نشانی قرار دیا ۔ قیامت کے عظیم الشان زلزلہ دو ہیں ۔ ایک عین قیامت کے وقت یا نفخہء ثانیہ کے بعد دوسرا قیامت سے کچھ پیشتر جو علامات قیامت میں سے ہے۔ قیامت صور اسرافیل کی خوفناک چیخ کانام ہے جس سے پوری کائنات زلزلہ میں آجائے گا، اس زلزلہ کے ابتدائی جھٹکوں ہی سے دہشت زدہ ہو کر دودھ پلانے والی مائیں اپنے دودھ پیتے بچوں کو بھول جائیں گی، حاملہ عورتوں کے حمل ساقط ہوجائیں گے اس چیخ اور زلزلہ کی شدت بڑھتی جائےگی جس سے تمام انسان اور جانور مر نے شرع ہوجائیں گے یہاں تک زمین و آسمان میں کوئی جاندار زندہ نہ بچے گا ، پہاڑ دھنی ہوئی روئی کی طرح اڑتے پھریں گے ستارے اور سیارے ٹوٹ ٹوٹ کر گر پڑیں گے۔ آفتاب کی روشنی فنا ہو جائیگی، آسمان کے پر خچے اڑ جائیں گے اور پوری کائنات موت کی آغوش میں چلی جائے گی۔ قیامت ایک حقیقت ہے اس کا کوئی انکار نہیں کر سکتا خاص طور پر ایمان والوں کوقیامت کی حقیقت کے بارے میں مزید باور کرانے کی ضرورت نہیں قرآن وحدیث میں بیشمار دلائل موجود ہیں اور اس عظیم دن کی خبر تمام انبیاء کرام علیہم السلام اپنی اپنی امتوں کو دیتے چلے آئے تھے مگر رسول ﷲ ﷺ نے آکر یہ بتایا کہ قیامت قریب ہے، رسول ﷲ ﷺ کے بعد کوئی نیا نبی پیدا ہونے والا نہیں اسلئے آپ نے اس کی علامات سب سے زیادہ تفصیل سے ارشاد فرمائیں، تاکہ لوگ یوم آخرت کی تیاری کرلیں، اپنے اعمال کی اصلاح کر لیں اور نفسانی خوہشات و لذت میں انہماک سے باز آجائے۔ قیامت کی علامات میں سے رسول اکرمﷺ نے بعض علامات ایسی بیان فر مائی ہیں جن کے وقوع سے پہلے قیامت نہیں آئیگی۔ راقم کو ان تمام نشانیوں کو قلم بند کر نا مقصود نہیں بلکہ ان علامات کی نشان دہی کر نی ہے جو کہ موجودہ زمانے میں ہمیں صاف اور واضح نظر آتی ہے،
(بخاری اور مسلم) میں ایک روایت ہیں جس کے راوی حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہے قیامت اس وقت نہ آئے گی جب تک تیس کے ایسے دجال وکذاب پیدا نہ ہو جائیں جن میں سے ہر ایک اپنے آپ کو ﷲ کا رسول بتا ئے گا اور اس وقت تک قیامت نہ آئیگی جب تک زلزلوں کی کثرت نہ ہو جائے۔ (ترمذی شریف ) میں اسی قسم کی ایک تفصیلی روایت ملتی جس کہ راوی بھی حضرت ابو ہریرہؓ ہیں فرماتے ہیں کہ حضورﷺ نے ارشاد فر مایا کہ جب مال غنیمت کو گھر کی دولت سمجھا جانے لگے اور امانت غنیمت سمجھ کر دبالی جایا کرے اور زکوٰة کو تاوان سمجھا جانے لگے اور دینی تعلیم دنیا کے لئے حاصل کی جا ئے اور انسان اپنی بیوی کی اطاعت کر نے لگے اور ماں کو ستا ئے اور دوست کو قریب کرے اور ماں باپ کو دور کرے اور انسان کی عزت اسلئے کی جائے تاکہ وہ شرارت نہ پھیلائے۔ گانے بجانے والی عورتیں اور گانے بجانے کے سامان کی کثرت ہو جائے شرابیں پی جا نے لگے اور بعد میں آنے والے لوگ امت کے پچھلے لوگوں پر لعنت کرنے لگیں تو اس زمانہ میں سرخ اور زلزلوں کا انتظار کرو، زمین میں دھنس جانے اور صورتیں مسخ ہوجانے اور آسمان سے پتھر برسنے کے بھی منتظر رہو اور ان عذابوں کے ساتھ دوسری ان نشانیوں کا بھی انتظار کرو جو پے در پے اس طرح ظاہر ہوں گی جیسے کسی لڑی کا تاگہ ٹوٹ جائے اور پے در پے دانے گر نے لگیں۔ اس ارشاد میں جن باتوں کی خبر دی گئی ہے سب کی سب سو فیصد پوری ہوچکی ہیں یہ وہ برائیاں ہیں جن میں آج پوری دنیا مبتلا ہے اور ان کے بعض نتیجے ہمارے سامنے ظاہر ہورہے ہیں کسی ملک میں طوفان و سونامی اور سرخ آندھی اور کسی ملک میں خطرناک اور خوفناک زلزلے- اگر ہم اس کے اسباب وجوہات اور امت کے کارناموں پر ایک سرسری نظر ڈالیں اور پھر ان عذابوں پر غورکریں تو پھر ہمیں معلوم ہو گا کہ جو زلزلہ کی صورت سامنے آرہی ہیں، ہمیں اس حقیقت کا پورا یقین ہو جائے گاکہ جو کچھ مصائب وآفات آج ہم دیکھ رہے ہیں وہ ہماری کرتوتوں کا نتیجہ اور بدکاریوں کا بدلہ ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے زمین کی رگیں بنائی ہیں اور وہ فرشتوں کے ہاتھ میں دیدی ہیں جہاں کہیں گناہوں کا بار بڑھ جا تا ہے اور اﷲ تعالیٰ وہاں فوری عذاب نازل کر نا چاہتا ہے تو فرشتوں کو حکم فرماتا ہے۔ فرشتہ زمین کی رگ کو کھینچتا ہے زمین لرزتی ہے، زلزلہ آجاتا ہے
حضورﷺ کے مبارک زمانہ میں زلزلہ آیا۔ آپﷺ نے صحابہ ؓ کوخطاب کر تے ہوئے فر مایا کہ تمہارا رب تم سے توبہ چاہتا ہے تم توبہ کرو۔ بہرحال ان احادیث سے معلوم ہواکہ گناہوں کی کثرت زلزلہ کا سبب ہوتا ہے۔ اور تو بہ ذریعہ نجات ہے۔ حضرت عمرفاروقؓ کے مبارک دور میں بھی زلزلہ آیا۔ آپؓ نے لوگوں کوخطاب کر کے فرمایا۔ کوئی خاص گنا ہ ہے جس کا ارتکاب ہو رہاہے ۔ لوگوتوبہ کرو، میں قسم کہتاہوں کہ اگر دوبارہ زلزلہ آیا تومیں یہاں نہیں رہوگا۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓسے زلزلہ کے متعلق پو چھاتو فر مایا ۔ کہ زنا، شراب نوشی، رقص، گانا بجا نا لوگوں کا مزاج بن جائے ۔تو غیرت حق کوبھی جوش آتاہے ۔ اگر معمولی تنبیہہ پر توبہ کرلیں ۔ تو فبہا، ورنہ عمارتیں منہدم اور عالی شان تعمیرات خاک کے تودے کردئے جاتے ہیں ۔ پوچھا گیاکہ کیا زلزلہ عذاب ہے؟ فرمایا مومن کے حق میں رحمت اور کا فر کےلئے عذاب۔ حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ نے بحیثیت خلیفہ ہونے کے ایک فرمان نامہ لکھ کر ملکوں میں روانہ کیا۔ کہ یہ زلزلہ ایک ایسی چیز ہے کہ ﷲتعالیٰ اس سے اپنے بندوں پر اپنا عتاب ظاہر فرماکر ان سے توبہ کا مطالبہ فرماتے ہیں، اس وقت صدق دل سے توبہ کرنی چاہئے بدکاری چھوڑدینی چاہئے۔ ہر مسلمان کے لئے ضروری ہے کہ حتیٰ الامکان اس بات کی کوشش کرے کہ وہ اپنی ذات کوقیامت کی ان علامتوں میں سے کسی بھی علامت کے ظہور کا ذریعہ نہ بنے دے
اﷲ تعالیٰ ہم سب کی حفاظت فرمائیں آمین

1 year ago | [YT] | 10