نریٹر: کہتے ہیں… وقت بدل جاتا ہے، لوگ بدل جاتے ہیں، مگر سچی محبت کبھی نہیں بدلتی۔ یہ کہانی ہے علی اور ہنا کی — دو دل جو حالات کی دیواروں میں قید ہوگئے، مگر ایک دوسرے کو کبھی بھول نہ سکے۔
(ہلکی ہوا، پرندوں کی آوازیں)
نریٹر: علی ایک چھوٹے سے شہر کا سیدھا سادہ لڑکا تھا۔ خوابوں میں جیتا، دل میں محبت بھری۔ ہنا، شہر کی چمک دمک میں پلی بڑھی، مگر دل سے وہ بھی صاف اور نرمی بھری تھی۔ دونوں کی ملاقات ایک کتابوں کے میلے میں ہوئی، جب علی نے ہنا کا گرایا ہوا نوٹ بک اٹھایا — اور یوں ان کی زندگی کا پہلا صفحہ لکھا گیا۔
ہنا (مسکراتے ہوئے): شکریہ… تم نے میری نوٹ بک بچا لی۔ علی (نرم لہجے میں): شاید قسمت چاہتی تھی کہ میں تمہیں نہ گرنے دوں۔
(پس منظر میں ہلکی سی موسیقی بڑھتی ہے)
نریٹر: پھر باتیں شروع ہوئیں، ملاقاتیں بڑھیں، اور دو دل ایک دوسرے کے قریب آنے لگے۔ مگر جیسے ہی محبت نے اپنی زبان کھولی، قسمت نے اپنی خاموشی توڑ دی۔ ہنا کے والدین نے اس کی شادی ایک اور جگہ طے کر دی۔ علی کچھ نہ کہہ سکا، بس اتنا بولا — "اگر تم خوش ہو، تو میں بھی خوش ہوں…"
(اداس موسیقی چلتی ہے)
نریٹر: سال گزرتے گئے۔ علی نے خود کو کام میں گم کر دیا، مگر دل کے کسی کونے میں ہنا اب بھی زندہ تھی۔ ایک دن، کئی سال بعد، وہ پھر سے اسی کتابوں کے میلے میں گیا۔ وہی جگہ، وہی خوشبو… اور عین سامنے — ہنا کھڑی تھی۔ اب وہ ایک ماں تھی، مگر آنکھوں میں وہی چمک تھی جو علی نے برسوں پہلے دیکھی تھی۔
ہنا (ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ): وقت بدل گیا، مگر یادیں نہیں۔ علی (مسکراتے ہوئے): ہاں… محبت کبھی وقت کی قید میں قید نہیں ہوتی۔
(پچھلے پس منظر میں نرم دھن کے ساتھ)
نریٹر (اختتام): یہ کہانی ختم نہیں ہوئی… کیونکہ سچی محبت ختم نہیں ہوتی — وہ صرف وقت کے ساتھ ایک نئی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ یہ محبت کی طاقت ہے… جو وقت کو بھی ہرا دیتی ہے۔
Qadirbaloch
Title: "محبت جو وقت کی قید میں قید نہ ہو سکی"
(ابتدا — نرم پس منظر میوزک کے ساتھ)
نریٹر:
کہتے ہیں… وقت بدل جاتا ہے، لوگ بدل جاتے ہیں، مگر سچی محبت کبھی نہیں بدلتی۔
یہ کہانی ہے علی اور ہنا کی — دو دل جو حالات کی دیواروں میں قید ہوگئے، مگر ایک دوسرے کو کبھی بھول نہ سکے۔
(ہلکی ہوا، پرندوں کی آوازیں)
نریٹر:
علی ایک چھوٹے سے شہر کا سیدھا سادہ لڑکا تھا۔ خوابوں میں جیتا، دل میں محبت بھری۔
ہنا، شہر کی چمک دمک میں پلی بڑھی، مگر دل سے وہ بھی صاف اور نرمی بھری تھی۔
دونوں کی ملاقات ایک کتابوں کے میلے میں ہوئی، جب علی نے ہنا کا گرایا ہوا نوٹ بک اٹھایا —
اور یوں ان کی زندگی کا پہلا صفحہ لکھا گیا۔
ہنا (مسکراتے ہوئے):
شکریہ… تم نے میری نوٹ بک بچا لی۔
علی (نرم لہجے میں):
شاید قسمت چاہتی تھی کہ میں تمہیں نہ گرنے دوں۔
(پس منظر میں ہلکی سی موسیقی بڑھتی ہے)
نریٹر:
پھر باتیں شروع ہوئیں، ملاقاتیں بڑھیں، اور دو دل ایک دوسرے کے قریب آنے لگے۔
مگر جیسے ہی محبت نے اپنی زبان کھولی، قسمت نے اپنی خاموشی توڑ دی۔
ہنا کے والدین نے اس کی شادی ایک اور جگہ طے کر دی۔
علی کچھ نہ کہہ سکا، بس اتنا بولا —
"اگر تم خوش ہو، تو میں بھی خوش ہوں…"
(اداس موسیقی چلتی ہے)
نریٹر:
سال گزرتے گئے۔ علی نے خود کو کام میں گم کر دیا، مگر دل کے کسی کونے میں ہنا اب بھی زندہ تھی۔
ایک دن، کئی سال بعد، وہ پھر سے اسی کتابوں کے میلے میں گیا۔
وہی جگہ، وہی خوشبو…
اور عین سامنے — ہنا کھڑی تھی۔
اب وہ ایک ماں تھی، مگر آنکھوں میں وہی چمک تھی جو علی نے برسوں پہلے دیکھی تھی۔
ہنا (ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ):
وقت بدل گیا، مگر یادیں نہیں۔
علی (مسکراتے ہوئے):
ہاں… محبت کبھی وقت کی قید میں قید نہیں ہوتی۔
(پچھلے پس منظر میں نرم دھن کے ساتھ)
نریٹر (اختتام):
یہ کہانی ختم نہیں ہوئی…
کیونکہ سچی محبت ختم نہیں ہوتی — وہ صرف وقت کے ساتھ ایک نئی شکل اختیار کر لیتی ہے۔
یہ محبت کی طاقت ہے… جو وقت کو بھی ہرا دیتی ہے۔
..
کتابوں کا میلہ
بارش میں چلتا لڑکا
لڑکی کا نوٹ بک گرانا
یادوں کے مناظر (پرانے خطوط، تنہائی، ملاقات)
آخر میں دونوں کا ایک لمحے کے لیے دوبارہ ملنا
2 months ago | [YT] | 2
View 1 reply