In the name of Fallen

Let me tell you the sign of a momin.
When his death comes , he smiles!


In the name of Fallen

75 Shahadat Anniversary of Naik Malik Saif Ali Janjua Shaheed, Azad Kashmir Regiment (Was awarded Hilal-e-Kashmir - an equivalent to Nishan-e-Haider) Date of Shahadat : 26th April 1948

The Sole Possessor of the Hilal-e-Kashmir Medal

Naik Saif Ali Khan was born on 25 April 1922 in Khandbaz Tehsil Nakial (Azad Jammu & Kashmir). He was enlisted in the Royal Corps of Engineers in British Indian Army on 18 March 1941. After completing his service in the British Indian Army in 1947, he came back to his native town and started establishing Haidri Force with the support of Sardar Fateh Muhammad Karailvi. On 1st Janaury 1948, Haidri Force was raised as “Sher-e-Riasti Battalion” under the command of Lt. Col. Muhammad Sher Khan. Due to his unflinching devotion and undaunted courage, on the recognition of his dedication and commitment to the cause, he was accoladed with the rank of Naik and was made platoon commander. He set personal examples of gallantry and inflicted heavy losses on the enemy at Bhudha Khanna where his platoon was given the responsibility to defend Budha Khanna where he faced never-ending frontal and crossfire from machine guns. He defended the post with chivalry, which he established with his few jawans and repulsed many aggressive ventures by the enemy and imposed colossal losses on them. The enemy used every mean to capture the post with two companies attack and heavy Arty bombardment but with unwavering determination and passion for Martyrdom bought the enemies on their knees. Despite facing all odds, he led his jawans while setting personal example of bravery and valour and remained steadfast and unmoved on the post. During the course of action, despite being hit on his chest by Arty fire, he retained his position and frustrated the Indian assault. Due to severe injuries he embraced Martyrdom on 26 October 1948. On 14th March 1949, the Defence Council of Azad Jammu & Kashmir adorned him with Hilal-e-Kashmir (posthumous) and on 30th November 1995 Government of Pakistan initiated the gazette notification to declare his Hilal-e-Kashmir equilent to Nishan-e Haider.

This is an Exclusive Unseen Photograph of Shaheed.

#ISPR #PakistanArmy #Pakistanarmy #Pakarmy #Naiksaifjanjuashaheed #Nishanehaider #hilalekashmir

2 years ago (edited) | [YT] | 7

In the name of Fallen

Major Saqib Bajwa 129L/C ex 5Sig, 116W, embraced shahadat in an ambush at Turbat Balochistan.

He got married just 3 months ago.

Jannat Mubarak Soldier !!

2 years ago | [YT] | 15

In the name of Fallen

Pakistani Security Forces have eliminated 3x terrorists while 4x critically injured during a fire exchange in Miran Shah, North Waziristan ⚔ 🇵🇰

During exchange of fire, Subedar Asghar Ali, Sepoy Naseem Khan & Sepoy Muhammad Zaman, embraced martyrdom.🇵🇰

Weapons & ammunition were also recovered.

2 years ago | [YT] | 3

In the name of Fallen

کیپٹن محمد فہد خان شہید کی داستان عزم -ماہنامہ ہلال،اپریل 2023
لیفٹیننٹ کرنل (ریٹائرڈ) امجد حسین امجد
تعلیم و تربیت
کیپٹن محمد فہدخان شہید کا تعلق گاؤں ٹو پی ضلع صوابی سےہے۔ جو کہ غازیوں اور شہیدوں کی سرزمین ہے۔کیپٹن کرنل شیر خان،شہید نشان حیدر( 90 پی ایم اے لانگ کورس) کا تعلق بھی اسی ضلع سے ہے۔ضلع صوابی نے ایک سپاہی سے لے کر فور سٹار جنرل تک بہادر سپوت ملک و قوم کی خدمت کے لئے پاک فوج کو دئے ہیں۔ کیپٹن محمد فہدخان شہید نے یکم اگست 1996 کو یوسف زئی قبیلے میں آنکھ کھولی۔ بچپن سے ہی آ پ ایماندار، کم گو اورشائستہ اخلاق کے مالک تھے۔کیپٹن فہد نے ابتدائی تعلیم لاہور گرائمر سکول عارف جان روڈ لاہور کینٹ سے حاصل کی۔بعد میں جب والد صاحب میجر محمد توفیق خان کی پوسٹنگ کوئٹہ میں ہوئی تو کچھ عرصہ آرمی پبلک سکول سیون سٹریم میں زیر تعلیم رہے۔ کیپٹن فہدنے میٹرک گیریژن بوائز ہائی سکول لاہور کینٹ سے کیا اور ایف ایس سی گورنمنٹ کالج لاہور سے کیا۔وہ سکول میں ہونے والے کھیلوں کے مقابلوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے اور نمایاں کامیابی حاصل کرتے۔ایف ایس سی کرنے کے بعد 2016 میں کیپٹن فہد نے 137 پی ایم اے لانگ کورس جوائن کیا -کیپٹن فہد اپریل 2018 میں اپنے کورس کے ساتھ پاس آؤٹ ہوئے اور پاک فوج کی پلٹن 11 کیولری(ایف ایف)جوائن کی، جو اس وقت ملتان میں تھی۔11 کیولری ( ایف ایف) پاکستان آرمی کی تاریخی اور مایہ ناز رجمنٹ ہے۔جس نے کل 28 محاذوں پر جنگ میں حصہ لیا۔ یونٹ نے پاکستان کے قیام کے بعد ہونے والے تمام معرکوں میں اپنی کاکردگی کا لوہا منوایا-ہلال جرأت، ستارہ جرأت سمیت دوسرے کئی اعزازات یونٹ کی عظیم روایات کے ضامن ہیں۔پاکستان کے عظیم جنرل اور سفارت کار صاحبزادہ یعقوب خان کا تعلق بھی اسی یونٹ سے تھا۔کیپٹن فہد نے کور لیول کریو کمبٹ ایفیشنسی کے 2018 کے مقابلے میں بطور ٹیم کیپٹن حصہ لیا ۔آپ کی محنت اور لگن کی وجہ سے رجمنٹ نے نمایاں پوزیشن حاصل کی اور پاکستان کے سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ سے اول پوزیشن کی ٹرافی وصول کی۔کیپٹن فہد نے رجمنٹ کو اول پوزیشن دلوا کرپاکستان آرمی میں رجمنٹ کا نام فخر سے بلند کیا۔
دہشت گردی کی حالیہ لہر
دسمبر 2022کے مہینے میں اسلام آباد ، خیبر پختون خواہ اور بلوچستان میں دہشت گردی کے افسوس ناک واقعات رونما ہوئے اور پورے ملک میں خوف و ہراس کی ایک لہر دوڑ گئی ۔ چیف آف آرمی سٹاف جنرل عاصم منیر نے دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رکھنے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے عوام کی خواہشات کے مطابق کسی تفریق کے بغیر اس ناسور کا خاتمہ کردیا جائے گا۔ اس سے قبل 3 دسمبر کو چیف آف آرمی اسٹاف جنرل عاصم منیر نے بھارتی عہدیدار کی جانب سے گلگت بلتستان اور آزاد جموں اور کشمیر پر قبضے کے حوالے سے دیے گئے متنازع بیان کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ پاک فوج دشمن کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہے۔
18 دسمبر2022 کو خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں کے کینٹ ایریا میں قائم محکمہ انسدادِ دہشت گردی کے دفتر میں دو درجن کے قریب شدت پسندوں نے ڈیوٹی پر تعینات ایک اہلکار سے اسلحہ چھین کر فائرنگ کی اور وہاں موجود متعدد اہلکاروں کو یرغمال بنا لیا تھا۔ سیکیورٹی فورسز نے لگ بھگ اڑتالیس گھنٹے بعد آپریشن کر کے تمام دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا ۔ دہشت گردی کا سر کچلنے کے لئے آج اسی جذبے کی ضرورت ہے جو سانحہ آرمی پبلک سکول کے بعد دیکھنے میں آیا تھا، جب تمام سیاسی جماعتیں و ادارے ایک صفحے پر تھے اور سب کو صرف اور صرف قومی سالمیت عزیز تھی۔

پاک فوج کا عزم
25دسمبر کو شدید سردی کا احساس کئے بغیر فرض کی پکار اور سبز ہلالی پرچم کی خاطر بلوچستان کے سنگلاخ پہاڑ وں میں کیپٹن فہد اور ان کے جانثار ساتھی حکم کی تعمیل کرتے ہوئے دہشت گردوں کو ختم کرنے کے لئے رواں دواں تھے کہ ایک بارودی دھماکے کے نتیجے میں انہوں نے اپنی جان کا نظرانہ پیش کر دیا-اس وقت اپنے گھر سے دور ایک بار تو والدہ کا چہرہ سامنے آیا ہوگا، والدکا پیار اور بہن بھائیوں کی محبت ضرور جاگی ہوگی لیکن سبز پرچم کی حفاظت کی قسم جو کھائی ہے ۔ اس دھرتی سے دہشت گردی کا ناسور ختم کرنے کی قسم ۔ اس سے پہلے کتنے آفیسرز اور جوانوں نے اپنے خون کی سیاہی سے عہد وفا لکھا-
اور بلوچستان میں تو 2022 کے سال میں کئی افسروں اور سپاہیوں نے جام شہادت نوش کیا،جن میں سپاہی سے لے کر جنرل آفیسر کے رینک کے جانثار شامل ہیں ۔فروری 2022 میں کوہلو کے علاقے میں ایس ایس جی کے بہادر کیپٹن حیدر بھی شہید ہوئے تھے۔ 25 دسمبر 2022 کو کیپٹن فہد اپنے چار جوانوں سمیت کوہلو کے علاقے میں شہید ہوئے۔بعد ازاں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد اور چیف آف آرمی سٹاف جنرل عاصم منیر کے علاوہ کثیر تعداد میں شہریوں نے راولپنڈی میں کیپٹن فہد شہید کے جنازے میں شرکت کی۔ اور شہید کو پورے فوجی اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کیا گیا۔شہید کی قبر کو فوجی اعزازی سلامی دی گئی اور پھولوں کی چادریں چڑھائی گئیں۔
میر ی یونٹ ،میرا گھر
کیپٹن فہد شہید کے والد میجر توفیق پاکستان آرمی میں میجر کے رینک سے ریٹائر ڈہیں اور ان کا تعلق بلوچ رجمنٹ کی ایک مایہ ناز یونٹ 41 بلوچ ( فاتح قیصر ہند) سے ہے۔اس یونٹ کی تاریخ جرأت ،بہادری اور زمانہ امن اور جنگ میں شاندار کارکردگی سے رقم ہے۔وہ 1971 کا حسینی والہ سیکٹر ہو یا سیاچین کے برف پوش پہاڑ،اقوام متحدہ کا مشن ہو یا آپریشن المیزان ،ضرب عضب ہو یا کشمیر کی سرحد،اس یونٹ نے ہمیشہ پاک وطن کی سربلندی کے لئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کیا۔اور یونٹ کے آفیسرز، سردار صاحبان اور جوان اپنی یونٹ کا نام روشن کرتے ہیں۔پی ایم اے جانے سے پہلے کیپٹن فہد شہید کا زیادہ تر وقت اس یونٹ کے ساتھ گزرااور وہ یونٹ کو اپنے گھر کی طرح سمجھتے تھے۔اور یونٹ کے لوگ بھی ان کا بہت خیال رکھتے تھے۔میجر توفیق سے ملاقات کے بعدپتہ چلا کہ کیپٹن فہد وطن کے دفاع کی خاطر ہر طرح کا خطرہ مول لینے کے لئے تیار تھے۔اور شہادت کا جذبہ ان کے دل میں ہمیشہ سر شار تھا۔
کیپٹن محمد فہدخان شہید کے والد کو اپنے جوان بیٹے کی شہادت پر فخر ہے کہ دفاع وطن کی خاطر اس کے بیٹے نے اپنی جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اپنے فرض کو اولیت دی۔ اور پاکستان کے عظیم شہداء کی فہرست میں اپنا نام سنہری حروف سے لکھوایا۔میجر توفیق سے بات چیت کے دوران کئی آفیسرز سے ملاقات بھی ہوئی ان میں کرنل معصوم بھی شامل تھے۔
کرنل معصوم کا بیٹا بھی کیپٹن فہد شہید کا کورس میٹ ہے اور وہ دونوں اکٹھے پاکستان ملٹری اکیڈمی گئے تھے۔ان دنوں کرنل معصوم کا بیٹا ڈگری کے سلسلے میں ریسالپور میں تربیت حاصل کر رہا ہے۔ کرنل معصوم کیپٹن فہد کو اپنے بیٹے کی طرح سمجھتے تھے۔ مجھے شہید کے درجات کی بلندی کے لئے کی جانے والی فاتحہ خوانی میں جانے کا اعزاز بھی حاصل ہوا،جہاں مقررہ وقت سے پہلے ہی شہید کے دوست، کورس میٹ ، یونٹ آفیسرز اور سوسائٹی کے لوگ پہنچے ہوئے تھےاور اپنے اپنے انداز میں شہید کے والد اور بھائی کا حوصلہ بڑھا رہے تھے۔
شہید کے لئے فاتحہ خوانی کرنے والے خطیب صاحب نے شہید کے چھ درجات بہت عمدہ اندازمیں بتائے۔
خطیب صاحب نے مزید کہا کہ شہید کے والدین کے لئے یہ ایک اعزاز کی بات ہے کہ ان کے بیٹے نے دفاع وطن کی خاطر اپنی جان کا نظرانہ پیش کیا۔آخر میں انہوں نےدعا کی کہ اللہ تعالی تمام شہداء کے درجات بلند فرمائے۔
جب کیپٹن فہد چھٹی پر آتا تھا تو پورے گھر میں رونق لگ جاتی تھی اور وہ ہر کام کا محور ہوتا تھا۔کچھ عرصہ بعد اس کے بڑے بھائی کی شادی طے پائی تھی اور وہ بہت خوش نظر آرہا تھا۔اپنے سکول اور کالج میں وہ نصابی سگرمیوں کے علاوہ سپورٹس اور غیر نصابی سر گرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتا تھااور ہر وقت مستعد نظر آتاتھا۔جیسے کسی عظیم مقصد کی تکمیل اس کا راستہ دیکھ رہی ہو-مجھے شہید کیپٹن فہد کے کچھ کورس میٹس سے ملنے کا اتفاق بھی ہوا ۔جن میں کیپٹن حیدر اور کیپٹن اسماعیل شامل تھے۔انہوں نے بتایا کہ وہ ٹینس اور باسکٹ بال کے نیشنل لیول کے کھلاڑی تھے۔ وہ مشکلات کا سامنا کرنا جانتا تھا۔ ہنس مکھ تھا اور کورس میٹس کا بہت خیال رکھتا تھا۔
برگیڈئیر ظہور احمد(ریٹائرڈ) کرنل آف دی بٹالین 41 بلوچ کے تاثرات
برگیڈئیر ظہور احمد ( ریٹائرڈ) پاکستان ملٹری اکیڈمی میں ہمارے پلاٹون کمانڈر تھے اور سخت پروفیشنل آفیسر تھے۔وہ کیپٹن فہد شہید کے والد محترم میجر تو فیق( ریٹائرڈ) کے یونٹ آفیسر ہیں۔ وہ لکھتے ہیں۔
" اللہ تعالیٰ شہید کو جنت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ میں ان سے ذاتی وابستگی کی وجہ سے اس صدمے سے باہر نہیں آ سکا۔ میرے ساتھ کام کرنے والے یونٹ افسر کا بیٹا ہونے کے ناطے میں نے اسے اپنے بچوں کے ساتھ بڑھتے ہوئے دیکھا۔ ان کے والد نے فوج میں انتخاب کے بعد مجھے کیپٹن فہد کا اتالیق منتخب کیا۔ میں پاکستان ملٹری اکیڈمی میں پلاٹون کمانڈر کے طور پر اپنے تجربے کی بنیاد پر کیپٹن فہد کی رہنمائی کر رہا تھا اور اس کا ایک پروفیشنل آرمی کیریئر بنانے کی کوشش کر رہا تھا۔ ہم اس وقت سے رابطے میں تھے جب وہ بطور جی سی( جنٹل مین کیڈٹ) پی ایم اے میں جا رہے تھے اور بعد میں اپنے کیریئر میں بھی مسلسل رابطہ رہا۔ وہ ہمیشہ صحیح کام کرنے ، محنت اور لگن کے ساتھ آگے بڑھنے کی خواہش رکھتا تھا۔ وہ اتنے کم عرصے میں اعلیٰ ترین رتبے پر فائز ہواہے۔وہ مجھے دیکھ کر آسمانوں سے مسکرا رہا ہوگا۔یہ 2022 کا دہشت گردی کا آخری بڑا حملہ تھا۔ امید ہے کہ اس طرح کا کچھ دوبارہ نہیں ہوگا۔ اور اگلے سال ملک میں امن ہو گا"۔
آنے والی نسلوں اور ملکی دفاع کی خاطر کیپٹن فہد شہید کی قربانی مشعل راہ ہے۔جب بھی پاکستان کی خاطر جان کا نظرانہ پیش کرنے والوں کا ذکر ہو گا ،کیپٹن فہد شہید کا نام بھی اس میں جگمگا رہا ہوگا۔
پاکستان کے غیور عوام ،حکومت اور مسلح افواج دہشت گردی کے ناسور کو ختم کرنے کے لئے تمام ذرائع کو بروئے کا ر لاتے ہوئے عنقریب اس کا خاتمہ کر دیں گے اور پاکستان حقیقی معنوں میں امن کا گہوارہ بن جائے گا۔

2 years ago | [YT] | 43

In the name of Fallen

#SouthWaziristan:
One Soldier martyred while three including two Captain rank officers got injured during a search operation against terrorists in Azam Warsak/Wana area.
Martyred:
Sepoy Hamid Rasool

Injured
1. Capt Taha
2. Capt Bilal
3. Sepoy Muhmmad Yaseen

Salute bravehearts

2 years ago | [YT] | 1

In the name of Fallen

Col Khalid Masood was a Pakistan Army officer who got shahadat on 7 September 2011 in Quetta FC blast he was from Army Service Corps (ASC) of Pakistan Army 🇵🇰️

2 years ago | [YT] | 4

In the name of Fallen

Ramzan Mubarak Everyone!!

2 years ago | [YT] | 30

In the name of Fallen

Protecting the nation comes at heavy price.

Major Jawad and Capt Sagheer embraced shahadat in an IED blast in Kahan area of Kohlu district.

Rest well heroes , we will keep telling your stories !!

#Pakistanarmy #ISPR

2 years ago | [YT] | 37

In the name of Fallen

5 Sons of the Soil embraced shahadat in an IED attack by terrorists in Kahan/Kohlu Balochistan.
Martyers inclu Captain Fahad.

Martyers :
1.Capt Fahad
2. Sep Asghar
3. Sep Shamoon
4. Sep Mehran
5. Lance Naik Imtiaz

Injured:
1.Naik Ameenullah
2.Nk Shoaib
3.Sep Shahbaz
4.Sep Sajid
5. Sepoy Abdur Rehman
6. Sepoy Faisal Shah

3 years ago | [YT] | 65

In the name of Fallen

مٹی کا قرض
فلائیٹ لیفٹیننٹ سعید افضل خان شہید
ستارہ جرات
4 دسمبر 1971

پاک فضائیہ کے اس جانباز نے ایک فوجی گھرانے میں آنکھ کھولی, آپ کے والد برگیڈیر محمد افضل نے پاک فوج میں بے انتہا خدمات دیں
آپ نے ایک فائٹر پائیلٹ کے حثیت سے پاک فضائیہ میں شمولیت اختیار کی
آپ کو فائٹر کورس مکمل کرنے کے بعد نمبر 18 سکوڑرن میں تعینات کیا گیا
بعد ازاں 1971 کی پاک بھارت جنگ کے دوران آپ کو نمبر 14 سکوڑرن ڈھاکہ میں تعینات کیا گیا
شہادت کے جذبے سے سر شار سعید افضل کو فضائی مشن پر بھجا گیا
جس میں آپ نے دشمن کا جان فشانی سے مقابلہ کیا
اور وشمن کے کئی جہاز تباہ کر دیۓ
دشمن نے اپنے مگ 21 طیاروں کا ایک سکورڑن بھجا
اسی اثنا میں آپ کا جہاز دشمن کی گولیوں کا نشانہ بن گیا

آپ کے آخری الفاظ تھے " میرا جہاز کریش ہو گیا ہے میں اجیکٹ کر رہا ہوں"
وہ علاقہ باغیوں کے قبضے میں ہونے کی وجہ سے آپ کا کوئی سراغ نا مل سکا
اور آپ کو مسنگ ان ایکشن شہید قرار دیا گیا

3 years ago | [YT] | 19