Welcome to my YouTube channel! As an avid tourist, I'm passionate about capturing and sharing the beauty and excitement of my travels. Here you'll find a growing collection of videos showcasing different destinations, cultures, and experiences. Subscribe to follow along on my journey!


Sobi Ahad

مدنی مسجد کی شہادت!
اسلام آباد کی فضا کل صبح سے ہی عجیب سی تھی۔ یہ وہ شہر ہے جہاں قانون، ادارے اور فیصلے طاقت کے سب سے اونچے منبر پر بیٹھے ہیں، مگر رات کے اندھیرے میں اسی شہر کی ایک بستی میں ایمان کی سب سے قدیم علامت، مدنی مسجد، مٹی میں ملا دی گئی۔
وہ اینٹیں جن پر ہزاروں سجدوں کا لمس تھا، وہ محراب جہاں قرآن کی تلاوت کی بازگشت گونجتی تھی، اور وہ منبر جہاں سے محبت، صبر اور اتحاد کا پیغام دیا جاتا تھا—سب خاموشی سے گرا دیے گئے۔

صبح جب اہلِ محلہ بیدار ہوئے تو وہاں مسجد کی جگہ ملبہ نہیں، بلکہ زمین ہموار کر کے پودے لگا دیے گئے تھے—جیسے ایمان کی یاد کو سبز پتیوں کی اوٹ میں چھپا دیا جائے۔ مگر یہ پتے مسجد کی خوشبو نہیں، زخم کی تازگی سنبھالے ہوئے تھے۔

یہ کوئی عام عمارت نہیں تھی، یہ ایک صدیق و فاروق کی یادگار تھی، ایک ایسی جگہ جہاں نمازی اپنے دکھ سجدوں میں بہا دیتے اور طالب علم علم کی روشنی دل میں اتارتے۔ انتظامیہ نے اپنے فیصلے کا جواز چاہے کاغذ پر لکھا ہو، مگر تاریخ کے کاغذ پر یہ ایک ایسا دھبہ ہے جو نسلوں تک دکھائی دے گا۔

ہم مانتے ہیں کہ قانون اپنی جگہ ضروری ہے، مگر جب قانون کی آنکھ سے انصاف کا نور چھن جائے تو فیصلے ظلم میں بدل جاتے ہیں۔ مدنی مسجد کی شہادت صرف اینٹوں اور گارے کی ٹوٹ پھوٹ نہیں، بلکہ یہ ایک قوم کے روحانی ڈھانچے میں دراڑ ڈالنے کے مترادف ہے۔

افسوس اس بات کا ہے کہ یہ سب رات کی تاریکی میں ہوا، جب زبانیں سو رہی تھیں اور آنکھیں خوابوں میں تھیں۔ جن ہاتھوں کو عبادت گاہوں کے تحفظ کے لیے اٹھنا چاہیے تھا، وہ انہی کو زمین بوس کرنے پر تُل گئے۔ یہ ایک ایسا زخم ہے جسے وقت بھر نہیں سکتا، کیونکہ یہ زخم مٹی کا نہیں، ایمان کا ہے۔

ہم اس عمل کی پرزور مذمت کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ مدنی مسجد کو اسی جگہ پر دوبارہ تعمیر کیا جائے، اور اس جرم کے ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ عبادت گاہیں کسی بھی ریاست کی شناخت اور امن کی علامت ہوتی ہیں۔ جو قوم اپنی مساجد کی حرمت کی حفاظت نہ کر سکے، وہ اپنی پہچان اور وقار بھی کھو بیٹھتی ہے۔

آج مدنی مسجد کی اینٹیں خاموش ہیں، مگر ان پر پڑے سجدوں کا حق چیخ چیخ کر گواہی دے رہا ہے—کہ ایمان کی خوشبو کو مٹی میں دفن نہیں کیا جا سکتا۔
#madnimasjid #youtube

6 months ago | [YT] | 2

Sobi Ahad

آج کل دل کے دورے بہت زیادہ ہو رہے ہیں، اور اس کی کئی ممکنہ وجوہات ہو سکتی ہیں۔ ان وجوہات کو سمجھ کر ہم ان سے بچنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ ذیل میں چند اہم وجوہات کی تفصیل دی گئی ہے:
1. غیر صحت مند طرز زندگی (Unhealthy Lifestyle)
آج کل کی مصروف زندگی میں لوگ اکثر اپنی صحت کا خیال نہیں رکھ پاتے۔
* غلط خوراک: تلی ہوئی چیزیں، فاسٹ فوڈ، زیادہ چکنائی اور نمک والی غذاؤں کا استعمال دل کی شریانوں میں کولیسٹرول جمع ہونے کا سبب بنتا ہے۔
* جسمانی سرگرمی کا فقدان: ورزش نہ کرنا یا سست طرز زندگی گزارنا بھی دل کے امراض کا خطرہ بڑھاتا ہے۔ بیٹھ کر کام کرنے والے افراد کو اس کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔
* تمباکو نوشی اور شراب نوشی: تمباکو نوشی شریانوں کو نقصان پہنچاتی ہے اور خون کو گاڑھا کرتی ہے، جس سے دل پر دباؤ بڑھتا ہے۔
2. ذہنی دباؤ اور تناؤ (Stress)
آج کے دور میں ہر شخص کسی نہ کسی طرح کے ذہنی دباؤ کا شکار ہے۔
* دائمی تناؤ: کام کا دباؤ، مالی مسائل یا خاندانی پریشانیاں دل کی دھڑکن کو تیز کر سکتی ہیں اور بلڈ پریشر بڑھا سکتی ہیں، جو دل کے دورے کا سبب بنتا ہے۔
* کورٹیسول (Cortisol): تناؤ کی حالت میں جسم میں کورٹیسول نامی ہارمون کا اخراج ہوتا ہے، جو خون میں شکر اور چکنائی کی سطح کو بڑھا سکتا ہے، اور دل کی صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔
3. ہائی بلڈ پریشر اور ذیابیطس (High Blood Pressure and Diabetes)
یہ دونوں بیماریاں دل کے دورے کا بڑا سبب بنتی ہیں۔
* بلڈ پریشر: ہائی بلڈ پریشر شریانوں کو سخت اور تنگ کر دیتا ہے، جس سے خون کے بہاؤ میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔
* ذیابیطس: خون میں شکر کی زیادہ مقدار شریانوں کو نقصان پہنچاتی ہے اور خون کے لوتھڑے بننے کا خطرہ بڑھا دیتی ہے۔
4. ماحولیاتی عوامل (Environmental Factors)
ماحول میں موجود آلودگی بھی دل کی صحت پر اثر انداز ہوتی ہے۔
* فضائی آلودگی: ہوا میں موجود باریک ذرات (PM2.5) سانس کے ذریعے خون میں شامل ہو کر شریانوں میں سوزش پیدا کر سکتے ہیں۔
* موسمی تبدیلیاں: زیادہ سردی یا گرمی کا موسم بھی دل کے مریضوں کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔
5. نیند کی کمی (Lack of Sleep)
پوری نیند نہ لینا بھی دل کے امراض کا باعث بن سکتا ہے۔
* نیند کی کمی: جب ہم کافی نیند نہیں لیتے، تو جسم تناؤ کی حالت میں رہتا ہے، جس سے بلڈ پریشر اور سوزش بڑھ سکتی ہے۔ ایک بالغ شخص کو روزانہ 7-8 گھنٹے کی نیند لینی چاہیے۔
ان وجوہات کو مدنظر رکھتے ہوئے، یہ ضروری ہے کہ ہم اپنی زندگی میں کچھ مثبت تبدیلیاں لائیں جیسے کہ صحت مند غذا، روزانہ ورزش، اور ذہنی تناؤ کو کم کرنے کے لیے یوگا یا مراقبہ وغیرہ۔ اگر آپ کو اپنی صحت کے بارے میں کوئی تشویش ہے، تو ڈاکٹر سے ضرور مشورہ کریں۔
#health
#healthylifestyle #HeartHealth #heartattack

6 months ago | [YT] | 2

Sobi Ahad

The sun, already high in the Islamabad sky, cast a warm glow on the group as they began their ascent of Trail 5 in the Margalla Hills. The rocky path, a popular escape from the city's bustle, wound its way upwards, promising stunning views and a welcome dose of nature. Among them was Ijaz Ahmad, a seasoned hiker, and his friends, all eager for a morning of fresh air and camaraderie.
As they rounded a bend, Ijaz paused, a flicker of surprise crossing his face. "Look who it is," he murmured, nudging his companions. Standing a short distance ahead, leaning on a hiking stick, was Senator Mushtaq Ahmed Khan. He was dressed casually, a stark contrast to the formal attire they were accustomed to seeing him in.
"Senator Ahmed Khan!" Ijaz exclaimed, a mix of surprise and respect in his voice.
The Senator turned, a friendly smile spreading across his face. "Good morning," he greeted them, his voice echoing slightly in the quiet of the hills. "Beautiful day for a walk, isn't it?"
The group exchanged glances, a bit starstruck. They had seen him on television, heard him speak in the assembly, but here he was, sharing the same trail, the same mountain air.
"It is, sir," replied one of Ijaz's friends, a young man named Sabir Khan. "We didn't expect to see you here."
"Even politicians need to escape the city sometimes," the Senator chuckled. "This trail is one of my favorites."
An unexpected conversation began to unfold. They spoke of the beauty of the Margallas, the importance of preserving the natural environment, and the joy of hiking. The Senator, far from the imposing figure they had seen on television, was relaxed and approachable, sharing stories and insights with genuine enthusiasm.
As they continued their hike, the Senator pointed out various landmarks, sharing his knowledge of the area's flora and fauna. He spoke of the challenges facing the region, the need for sustainable development, and the importance of connecting with nature.
The group, initially hesitant, found themselves drawn into the conversation, their initial awe replaced by a comfortable sense of camaraderie. It was a chance encounter, a moment of shared humanity in the midst of a busy political life.
As their paths eventually diverged, the Senator shook hands with each of them, his grip firm and his smile genuine. "Enjoy the rest of your hike," he said. "And remember to appreciate the beauty around you."
The group continued their ascent, the encounter leaving a lasting impression. It was a reminder that even those in positions of power were, at their core, human beings, sharing the same love for nature and the same desire for connection. And it was a reminder that sometimes, the most unexpected encounters could lead to the most meaningful experiences.

9 months ago | [YT] | 6