Syed Mujahid Islamic

Assalam.o.alaikum warahmatullahi wabarakatuhu.

*Hope so you guys are fine*
🌠🌠🌠🌠🌠🌠🌠🌠🌠🌠🌠🌠🌠🌠🌠🌠🌠🌠🌠
In sha Allah This channel will provide you.
● Quran Recitation.
● Nasheeds.
● Islamic lectures.
● And much more.

🎈🎈🎈🎈🎈🎈🎈🎈🎈🎈🎈🎈🎈🎈🎈🎈🎈🎈🎈
Stay connected and also share it with your family members,friends and relatives.

Subscribe my channel and also press the bell icon.👍

💖💖💖💖💖💖Keep loving and supporting.💖💖💖💖💖


Syed Mujahid Islamic

The Hajj 😍

2 years ago | [YT] | 11

Syed Mujahid Islamic

So who's going to Fast ? In Sha Allah ❤️

2 years ago | [YT] | 6

Syed Mujahid Islamic

*📍•• اعمال کی قبولیت کی اہم نشانی !! ••*

✏ - *امام ابن القيم رحمه الله فرماتے ہیں :*

⬅ "تمہارے عمل کے قبول ہونے کی نشانی یہ ہے کہ تمہیں اپنا عمل بہت ہی حقیر، ناکافی اور کمتر معلوم ہو۔ حتی کہ اللہ کے نیک بندے ہر نیکی کرنے کے بعد استغفار کرتے ہیں (کہ کہیں اس نیکی میں کوتاہی نہ ہوئی ہو)۔

⬅ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی جب نماز سے سلام پھیرتے تو اللہ سے تین بار استغفار کرتے، اسی طرح اللہ نے اپنے بندوں کو حج کے بعد استغفار کا حکم دیا ہے، اور قيام الليل کے بعد استغفار کرنے والوں کی تعریف کی ہے، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی وضو کے بعد توبہ و استغفار کو مشروع ٹھہرایا ہے۔

⬅ الغرض جسے اپنے رب کے حق کا اندازہ ہو جائے، اور اس کے بالمقابل وہ اپنے عمل کی مقدار دیکھے اور اپنی ذات کے عیوب پر نظر ڈالے؛ تو اس کے پاس ہر عمل کے بعد استغفار کرنے اور اس عمل کو ناکافی اور کم تر سمجھنے کے علاوہ کوئی چارہ نہ ہو!"

📙 *|[ مدارج السالكين : ٦۲/۲ ]|*

2 years ago | [YT] | 1

Syed Mujahid Islamic

🔸 سيدنا ابو هريرة رضى الله عنه فرماتے ہیں :

"میں نے نبی کریم ﷺ سے زیادہ حسین کوئی نہ دیکھا، گویا آپ کے رخِ انور پر آفتاب رواں تھا۔"

(سنن الترمذي : ٣٦٤٨ ، حسن)

🔸 سيدنا براء بن عازب رضى الله عنه فرماتے ہیں :

"نبی کریم ﷺ نے سرخ دھاریوں والا کُرتا پہنا ہوا تھا، میں نے آپ سے زیادہ حسین کوئی نہیں دیکھا۔"

(صحيح البخاري : ٣٥٥١، صحح مسلم : ٢٣٣٧)

🔸 سيدنا جابر بن سمرہ رضى الله عنه فرماتے ہیں :

"میں نے ایک چاندنی رات میں نبی کریم ﷺ کو دیکھا، آپ نے سرخ دھاریوں والا کُرتا زیبِ تن کر رکھا تھا۔ میں کبھی آپ کو دیکھتا اور کبھی چاند کو، بخدا آپ چاند سے زیادہ حسین تھے۔"

(سنن الترمذي :٢٨١١ ، صحيح)

🔸 سيدنا عمرو بن العاص رضى الله عنه فرماتے ہیں :

"اللہ کے رسول ﷺ سے بڑھ کر میرا محبوب اور نورِ نظر کوئی نہ تھا۔ آنکھ رخِ انور کے جلال کی تاب نہ لاتی تھی۔ کوئی مجھے کہے کہ حضور کا چہرہ مہرہ بیان کروں تو میری کیا مجال، کبھی آنکھ بھر کر دیکھ ہی نہ پایا!"

(صحيح مسلم : ١٢١)

🔸 سيدنا انس بن مالك رضى الله عنه فرماتے ہیں :

"میں نے نبی کریم ﷺ کی خوشبو سے زیادہ عمدہ مِسک و عنبر کبھی نہیں سونگھی، اور میں نے آپ کی ہتھیلیوں سے زیادہ نرم دیباج و ریشم کبھی نہیں چھوا۔"

(صحيح البخاري : ١٩٧٣ ، صحيح مسلم : ٢٣٣٠)

🔸 سيدنا انس بن مالك رضى الله عنه فرماتے ہیں :

"پیر کا دن تھا، نبی کریم ﷺ نے پردہ اٹھا کر دیکھا کہ لوگ ابوبکر کی اقتداء میں نماز پڑھ رہے ہیں۔ میں نے آپ کے رخِ انور کو دیکھا، گویا مصحف کا ورق ہو۔ یہ آخری دیدار تھا۔ دن ڈھلنے کے ساتھ آپ چل بسے۔"

(صحيح البخاري : ٦٨٠ ، شمائل الترمذي : ٣٨٥)

2 years ago | [YT] | 1

Syed Mujahid Islamic

*’’محدث العصر، شیخ ناصر الدین البانی رحمہ اللہ اپنی بیٹی سُکَینہ کے قلم سے‘‘*

✿۔ ’’اللہ تعالی میرے ابا جی کو جزائے خیر دے کہ انہوں نے میرے چھوٹے چھوٹے سوالوں پر صبر کیا، مجھے نہیں یاد کہ کبھی انہوں نے میرے سوال پر سوال ڈالا ہو، یا کسی اشکال پر ڈانٹا ہو، بلکہ میں ان کے سامنے جو بھی سوال رکھتی، خطیر ہوتا یا یسیر ہوتا، ان کی بڑی عنایت و توجہ اور ہدایت و اصلاح کا مرکز ہوتا، بلکہ مجھے ان کے بعض جوابات وہ بھی یاد ہیں کہ جب اپنی آخری بیماری میں بستر پر دائیں یا بائیں کروٹ پر لیٹے ہوتے، میں زمین پر بیٹھی ہوتی اور میرا منہ پیارے بابا جان کے منہ کے بالکل سامنے ہوتا۔‘‘ (سألت أبي العالم الإمام محمد ناصر الدین الألباني، ص : ٨)
✿۔ ’’مجھے ان کا نماز فجر کے لیے جگانا بھی یاد ہے کہ کبھی ان کے جگانے سے پہلے مرغ بانگ دے چکا ہوتا اور کبھی ان کے بعد دیتا۔‘‘ (أيضا : ٩)
✿۔ ’’میں نے اپنے بھائی عبد المہیمن کے ہاتھ ایک دفعہ خط بھیجا، اس میں میرے کچھ احادیث کی صحت کے متعلق سوالات تھے تو بھائی نے بتایا کہ ابو خط لیتے ہی فورا مکتبے میں چلے گئے اور جو جوابی خط مجھے آیا اس سے ان کی علم حدیث سے محبت ٹپکتی تھی۔‘‘ (أيضا : ٦)
✿۔ ’’میں جب بھی ملنے جاتی تو کاپی پنسل پاس رکھتی، جب اُن کا میرے سوالات کے جواب دینے کا ارادہ ہوتا تو پوچھتے: آپ کی کتاب کہاں ہے؟
اسی طرح میرے پاس ایک چھوٹا سا ٹیپ ریکارڈ تھا جس میں ان کے ساتھ بیٹھ کر کیے گئے سوال ریکارڈ کیا کرتی تھی، میرے لانے تک بیٹھ کر انتظار کرتے اور میں کبھی مائیک ان کی قمیض پر بھی لگا دیا کرتی ۔‘‘ (أيضا : ٧)
✿۔ ’’کبھی میرے کسی سوال پر مسکرا پڑتے، یا کسی جملے پر ہنس دیتے۔‘‘ (أيضا : ٩)
✿۔ ’’ایک دن میں اپنے کسی مسئلے پر ان کا جواب بڑی چھوٹی چھوٹی لکھائی میں لکھ رہی تھی، تو کہنے لگے : ہمارے ایک استاد، ہمیں چھوٹا چھوٹا لکھتے دیکھ کر کہا کرتے تھے کہ یوں کیڑے مکوڑے نہ مارا کرو، کیوں کہ ایک دن آپ کو اپنی یہ گڈ مڈ لکھائی پڑھنے کے لیے بڑی ساری عینک لگانا پڑے گی۔‘‘ (أيضاً : ٣١٩)
✿۔ ’’ایک دن راحت طعام سے فراغت کے بعد ہم بیٹھے تو پوچھنے لگے : آپ کے پاس کوئی سوال نہیں ہے؟ میرے پاس کوئی سوال تیار نہیں تھا تو اپنی کاپی کے صفحے الٹ پلٹ کرنے لگی تاکہ دیکھوں کہ کسی مسئلے کا جواب باقی تو نہیں ہے تو فرمانے لگے : تاجر جب مفلس ہو جاتا ہے تو اپنے پرانے اوراق کی طرف پلٹتا ہے۔ اسی دوران مجھے ایک سوال مل گیا جو ابھی منتظرِ جواب تھا۔‘‘ (أيضا)
✿۔ ’’کسی بات کے دوران ایک مرتبہ کسی حدیث کا حوالہ دیا جو میں نے کبھی نہیں سنی تھی تو میں نے حیرانی سے پوچھا : یہ حدیث صحیح ہے؟ تو ہنس کر فرمانے لگے : تو اور کیا؟؟‘‘ (أيضاً)
✿۔ ’’ایک دن فون پر میں نے پوچھا : ابو جی کیا حال ہیں؟ ہر چیز بالکل ٹھیک ہے؟ فرمانے لگے : الحمد للہ، باقی ہر چیز تو دنیا میں ٹھیک نہیں ہوتی۔‘‘ (أيضاً)
✿۔ ’’امی بتاتی ہیں کہ ابو جان کہا کرتے تھے، میں نے ایک کتاب دو مرتبہ خریدی، قصہ مختصر! ہوا یوں کہ انہوں نے کوئی کتاب خرید کر اپنی لائبریری کی الماری میں رکھی تھی، ایک شخص نے ادھار مانگ لی، جب انہوں نے واپس مانگی تو مُکر گیا کہ میں نے تو کوئی کتاب نہیں لی، کچھ عرصے بعد ابو جان نے اس کے ہاتھ میں وہی کتاب دیکھی تو اسے کہا یہ میری کتاب ہے، بہتیرا منایا بلکہ نشانی بھی دکھائی کہ دیکھو میری کتاب ہے، لیکن وہ ٹس سے مس نہ ہوا، بلکہ کہنے لگا : میں نے ایسے ہی خریدی تھی ۔ تو ابا جان نے کہا چلو پھر مجھے بیچ دو اور اس طرح ایک کتاب کی دوہری خریداری پڑ گئی۔‘‘ (أيضاً : ٣١٥)
✿۔ ‘‘فون کرتے ہی ایک دفعہ میں نے جھٹ سے پوچھا : ابو جی! میرے کچھ سوالات ہیں، اگر آپ کے پاس کچھ وقت ہو تو!!!؟؟ فرمانے لگے : اگر میرے پاس وقت نہ بھی ہو تو آپ کے لیے تو ضرور نکال لوں گا، اللہ ان پر رحم فرمائے اور انہیں جزائے خیر دے، ابا جی! ابھی بھی میرے پاس بہت سے سوالات ہیں کہ جو اتنے بڑھ گئے ہیں کہ اب محض خیالوں میں جا بسے ہیں۔‘‘ (أيضاً : ٣٢١)


... ترجمہ و تلخیص : حافظ محمد طاهر

2 years ago | [YT] | 1

Syed Mujahid Islamic

🍀 *ایک اہم معاشرتی ادب ؛ بطورِ مروت دی جانے والی دعوت قبول نہیں کرنی چاہیے ..*

📌 فقيه الأمة، شيخ *محمد بن صالح العثيمين* - رحمه الله تعالى - فرماتے ہیں :

"اگر کسی شخص کو گھر والے کی طرف سے کہا جائے کہ بیٹھیے کھانا کھا کر جاییے، اور *وہ جانتا ہو کہ اسے بطورِ مروت کہا جا رہا ہے تو اسے چاہیے کہ کھانے کیلیے مت بیٹھے، بلکہ اس کیلیے ایسی دعوت قبول کرنا جائز نہیں ہے۔* بہت دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ آدمی گھر سے کسی کام کیلیے نکلتا ہے اور اس کا سامنا کسی ساتھی سے اس کے گھر کے دروازے پر ہو جاتا ہے۔ اگلا بھی بطورِ مروت اسے کہتا ہے آئیے تشریف لائیے، جبکہ درحقیقت وہ میزبانی کا ارادہ نہیں رکھ رہا ہوتا۔ تو اس شخص کیلیے جائز نہیں کہ وہ واقعتاً ساتھ چل پڑے، کیونکہ اس کے ساتھی نے محض مروتا دعوت دی ہے، حقیقتاً نہیں۔"

📗 - *|[ التعليق على كتاب القواعد والأصول الجامعة || ص : ٤٢ ]|*

2 years ago | [YT] | 1

Syed Mujahid Islamic

🏷️ - *ایک فقہی و تربیتی مسئلہ ...*

👈 امام مالک رحمہ اللہ (١٧٩ھ) فرماتے ہیں : ”میں نے جن بھی مشایخ کو پایا ہے، سب یہی کہتے تھے کہ مرد اگر عورت پر خرچ نہ کرتا ہو تو ان کے درمیان علیحدگی کروا دی جائے۔“ کہا گیا : صحابہ کرام بھی تو تنگدست اور محتاج ہوا کرتے تھے؟! فرمایا : ”اب وہ لوگ نہیں رہے؛ اب عورت کسی امید پر شادی کرتی ہے۔“

📚 (المدونة : ١٨٤/٢، ويُنظر : المحلى : ٢٥٨/٩)

👈 امام ابن قیم رحمہ اللہ (٧٥١ھ) فرماتے ہیں : ”امام صاحب کی مراد یہ ہے کہ صحابیات آخرت اور اجرِ الہی کی طلبگار ہوا کرتی تھیں، انہیں اپنے خاوندوں کی تنگدستی کی پروا نہیں ہوتی تھی۔ لیکن فی زمانہ خواتین مردوں کے مال اور رہنے اوڑھنے کو دیکھ کر شادی کرتی ہیں، اور انہیں خاوند سے دنیا کی امید ہوتی ہے۔ تو یہ عرف اب شرط کے قائم مقام ہے۔“

📚 (زاد المعاد : ٤٦١/٥)

👈 امام ابن قیم رحمہ اللہ اس مسئلے پر تفصیلی بحث کے بعد فرماتے ہیں : ”شریعت کے اصول و قواعد اس بات کے متقاضی ہیں کہ اگر مرد نے عورت کو دولت کے سبزباغ دکھلا کر شادی کی ہو اور معاملہ برعکس نکل آئے، یا وہ مالدار ہو مگر بیوی پر خرچ نہ کرتا ہو اور عورت بھی بقدرِ ضرورت اس کے مال سے نہ لے سکتی ہو تو اسے نکاح فسخ کرنے کا حق ہے۔ لیکن اگر اسے شادی سے قبل مرد کی تنگدستی کا علم ہو، یا اس کا شوہر ویسے تو مالدار ہو مگر کسی آفت کے نتیجے میں حالات سازگار نہ رہیں، تب اسے نکاح فسخ کرنے کا اختیار نہیں ہے۔“

📚 (زاد المعاد : ٤٦٥/٥)

👈 یہ مسئلے کی فقہی تحلیل ہے۔ لیکن جو بات قابلِ غور ہے وہ اس مسئلے کا تربیتی پہلو ہے۔ اور وہ یہ کہ صحابہ کرام میں اکثریت فقراء کی تھی، اور صحابیات دنیاوی مطالبات کی بجائے اللہ سے اجر کی امید پر گھر بسایا کرتی تھیں۔ دوسری بات یہ قابلِ غور ہے کہ لوگوں کی ترجیحات کتنی تیزی سے بدل جاتی ہیں، اور دورِ نبوت سے دوری کس طرح معاشرتی اعراف و روایات تک پر اثر انداز ہوتی ہے کہ امام مالک رحمہ اللہ کے دور میں ہی خواتین صحابیات کے طرزِ معاشرت سے قدرے ہٹ چکی تھیں۔ بہر حال لوگوں کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ ہر چیز دنیا میں حاصل نہیں ہو سکتی۔ دین و عفت کی حفاظت یا دیگر بڑے مصالح کیلیے معاشرتی رسوم و رواج کی قربانی دینی پڑے تو دے دینی چاہیے اور اللہ سے اجر کی امید رکھنی چاہیے۔ واللہ اعلم

✍️ (فیضان فیصل)

2 years ago | [YT] | 1

Syed Mujahid Islamic

Faisal Mosque Islamabad 💖

2 years ago | [YT] | 6

Syed Mujahid Islamic

Join them

2 years ago | [YT] | 2