قُلِ اللّٰهُمَّ مٰلِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِی الْمُلْكَ مَنْ تَشَآءُ وَ تَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَآءُ٘-وَ تُعِزُّ مَنْ تَشَآءُ وَ تُذِلُّ مَنْ تَشَآءُؕ-بِیَدِكَ الْخَیْرُؕ-اِنَّكَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ (القرآن)
ترجمہ:
تُو کہہ دے اے میرے اللہ! سلطنت کے مالک! تُو جسے چاہے فرمانروائی عطا کرتا ہے اور جس سے چاہے فرمانروائی چھین لیتا ہے۔ اور تُو جسے چاہے عزت بخشتا ہے اور جسے چاہے ذلیل کر دیتا ہے۔ خیر تیرے ہی ہاتھ میں ہے۔ یقیناً تُو ہر چیز پر جسے تُو چاہے دائمی قدرت رکھتا ہے۔
——-
صِبۡغَۃَ اللّٰہِ ۚ وَمَنۡ اَحۡسَنُ مِنَ اللّٰہِ صِبۡغَۃً ۫ وَّنَحۡنُ لَہٗ عٰبِدُوۡنَ (القرآن)
ترجمہ:
اللہ کا رنگ پکڑو۔ اور رنگ میں اللہ سے بہتر اور کون ہو سکتا ہے اور ہم اسی کی عبادت کرنے والے ہیں۔
۔۔۔
حضرت مسیح موعود ؑ فرماتے ہیں
"اسلام کا منشا یہ ہے کہ بہت سے ابراہیمؑ بنائے۔۔۔ میں تمہیں سچ سچ کہتاہوں کہ ولی پرست نہ بنو بلکہ ولی بنو اور پیر پرست نہ بنو بلکہ پیر بنو"
۔۔۔۔
Be Shah! 🌹🐝
Be Shah (اللہ المالک الملک)
الابتسامة
The Smile 🙂
عن الابتسامة، أكتب.
I write about the smile.
ابتسم؛ فالابتسامة لا تُكلِّف شيئًا، بل تجعلك جميلًا.
Smile—smiling does not cost you anything; it makes you beautiful.
انظر إلى نفسك وأنت تبتسم؛ ستجد نفسك جميلًا بلا شك.
Look at yourself while you smile; undoubtedly, you will find yourself beautiful.
وبالرغم من مصاعب الحياة، حاول دائمًا أن تبتسم.
Despite the hardships of life, always try to smile.
بالتأكيد لن تحلَّ مشاكلك، لكن ستجعلك أفضل.
Of course, it will not solve your problems, but it will make you better.
قالوا عن الابتسامة: هي اللغة الوحيدة التي لا تحتاج إلى ترجمة.
They said about the smile: “It is the only language that does not need translation.”
وهي لغةٌ يفهمها الجميع.
It is also a language that everyone understands.
فاجعل ابتسامتك شيئًا أساسيًا في حياتك اليومية.
Make your smile something essential in your daily life.
وأخيرًا: ابتسم ولك الأجر. قال رسولُ الله ﷺ: «تَبَسُّمُكَ في وجهِ أخيكَ لكَ صدقةٌ». (رواه الترمذي)
And finally: smile, and you will be rewarded. The Messenger of Allah ﷺ said: “Your smile in your brother’s face is charity.” (Narrated by al-Tirmidhi)
❤️
1 day ago | [YT] | 5
View 0 replies
Be Shah (اللہ المالک الملک)
نمونے قائم کرنا مردوں کا کام ہے۔
’ہما ری جما عت کے لئے ضروری ہے کہ اپنی پر ہیز گا ری کے لئے عورتوں کو پر ہیز گا ری سکھاویں ورنہ وہ گناہ گار ہوں گے۔‘‘
یہ مرد کا فرض ہے، عورت کا حق ہے اس کو سکھایا جائے اور عورت کا یہ حق ہے کہ اس کا خاوند اور مرد اپنا حق ادا کرنے والا ہو۔ فرمایا کہ ’’اور جبکہ اس کی عورت سامنے ہو کر بتلا سکتی ہے کہ تجھ میں فلا ں فلاں عیب ہیں تو پھر عورت خدا سے کیا ڈرے گی۔ جب تقویٰ نہ ہو تو ایسی حالت میں اولاد بھی پلید پیدا ہوتی ہے۔
اولاد کا طیب ہونا تو طیبات کا سلسلہ چاہتا ہے۔ اگر یہ نہ ہو تو پھر اولاد خراب ہوتی ہے۔ اس لیے چاہئے کہ سب توبہ کریں اور عورتوں کو اپنا اچھا نمونہ دکھلاویں۔
عورت خاوند کی جاسوس ہوتی ہے۔ وہ اپنی بدیاں اس سے پوشیدہ نہیں رکھ سکتا۔ نیز عورتیں چھپی ہوئی دانا ہوتی ہیں یہ نہ خیال کرنا چاہئے کہ وہ احمق ہیں وہ اندر ہی اندر تمہارے سب اثروں کو حاصل کرتی ہیں۔ جب خاوند سیدھے رستہ پر ہو گا تو وہ اس سے بھی ڈرے گی اور خدا سے بھی۔‘‘پس یہ
نمونے قائم کرنا مردوں کا کام ہے۔
پھر فرمایا کہ ’’…سب انبیاء اولیاء کی عورتیں نیک تھیں اس لئے کہ ان پر نیک اثر پڑتے تھے۔ جب مرد بدکار اور فاسق ہوتے ہیں تو ان کی عورتیں بھی ویسے ہی ہوتی ہیں۔
ایک چور کی بیوی کو یہ خیال کب ہو سکتا ہے کہ میں تہجد پڑھوں۔ خاوند تو چوری کرنے جاتا ہے تو کیا وہ پیچھے تہجد پڑھتی ہے؟‘‘
یہ تو نہیں ہو سکتا۔ اگر خاوند میں برائیاں ہیں تو عورت میں بھی وہی برائیاں پیدا ہوں گی۔ فرمایا کہ ’’اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلٰى النِّسَاءِ اسی لیے کہا ہے کہ عورتیں خاوندوں سے متاثر ہوتی ہیں۔ جس حد تک خاوند صلاحیت اور تقویٰ بڑھاوے گا کچھ حصہ اس سے عورتیں ضرور لیں گی۔ ویسے ہی اگر وہ بدمعاش ہو گا تو بدمعاشی سے وہ حصہ لیں گی۔‘‘
(ملفوظات جلد 5 صفحہ 217-218)
2 days ago | [YT] | 55
View 0 replies
Be Shah (اللہ المالک الملک)
کلَ عام وانتم بخیر ❤️
1 week ago | [YT] | 10
View 1 reply
Be Shah (اللہ المالک الملک)
چاند ستارے پھول پرندے شام سویرا ایک طرف
ساری دنیا اس کا چربہ اس کا چہرا ایک طرف
وہ لڑ کر بھی سو جائے تو اس کا ماتھا چوموں میں
اس سے محبت ایک طرف ہے اس سے جھگڑا ایک طرف
جس شے پر وہ انگلی رکھ دے اس کو وہ دلوانی ہے
اس کی خوشیاں سب سے اول سستا مہنگا ایک طرف
ساری دنیا جو بھی بولے سب کچھ شور شرابہ ہے
سب کا کہنا ایک طرف ہے اس کا کہنا ایک طرف
زخموں پر مرہم لگواؤ لیکن اس کے ہاتھوں سے
چارہ سازی ایک طرف ہے اس کا چھونا ایک طرف
اس نے ساری دنیا مانگی میں نے اس کو مانگا ہے
اس کے سپنے ایک طرف ہیں میرا سپنا ایک طرف
ورن آنند
1 week ago | [YT] | 102
View 2 replies
Be Shah (اللہ المالک الملک)
سود
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: ’’حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ سؤرکھانے کی تو بھوک کی حالت میں، اضطرار کی حالت میں جب انسان بھوک سے مر رہا ہو، اجازت ہے۔ لیکن سود کی تو بالکل اجازت نہیں ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے تو سود پر قرض لینے والوں کو بھی اس زمرہ میں رکھا ہے جو خدا سے جنگ کرتے ہیں اور سود پر قرض دینے والا تو کھڑا ہی خدا کے حکم کے خلاف ہے۔
بعض لوگ اپنا پیسہ، اپنی رقم معین منافع کی شرط کے ساتھ کسی کو دیتے ہیں کہ ہر ماہ یا چھ ماہ بعد یا سال بعد اتنا منافع مجھے ادا ہوگا۔تو یہ بھی سود کی ایک قسم ہے۔یہ تجارت نہیں ہے بلکہ تجارت کے نام پر دھوکہ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے سود کی جو تعریف فرمائی ہے، وہ یہ ہے کہ ’’ایک شخص اپنے فائدے کے لئے دوسرے کو روپیہ قرض دیتا ہے اور فائدہ مقرر کرتا ہے‘‘۔ ایک اور جگہ فرمایا یا کسی کو رقم دیتا ہے اور فائدہ مقرر کرتا ہے، تو فائدہ مقرر کرنا یا منافع مقرر کرنا سود کی شکل ہے۔آپؑ نے فرمایا ’’یہ تعریف جہاں صادق آوے گی وہ سود کہلا وے گا۔‘‘ (ملفوظات جلد سوم صفحہ ۱۶۰ جدید ایڈیشن)
پس اس تعریف کے لحاظ سے منافع رکھ کر یعنی پہلے سے منافع معین کر کے کسی کو قرض دینا یا رقم دینا یا تجارت میں لگانا، یہ سب چیزیں سود ہیں۔نفع نقصان پہ جو آپ لگاتے ہیںجو اسلام کا حکم ہے وہ ٹھیک ہے، وہ جائز ہے، وہ تجارت ہے۔‘‘
(خطبہ جمعہ فرمودہ ۱۵؍ جون ۲۰۰۷ء،خطبات مسرور جلد ۵ صفحہ ۲۴۷-۲۴۸)
3 weeks ago | [YT] | 67
View 0 replies
Be Shah (اللہ المالک الملک)
روح کا قبر سے تعلق
حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی اس مضمون کو بڑی تفصیل کے ساتھ بیان فرمایا ہے۔ چنانچہ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے آپؑ فرماتے ہیں:
اصل بات یہ ہے کہ جو کچھ ارواح کے تعلق قبور کے متعلق احادیث رسول اللہﷺمیں آیا ہے وہ بالکل سچ اور درست ہے۔ ہاں یہ دوسرا امر ہے کہ اس تعلق کی کیفیت اور کُنہ کیا ہے؟ جس کے معلوم کرنے کی ہم کو ضرورت نہیں۔…پس جب روح جسم سے مفارقت کرتا ہے یا تعلق پکڑتا ہے تو ان باتوں کا فیصلہ عقل سے نہیں ہو سکتا۔ اگر ایسا ہوتا تو فلسفی اور حکماء ضلالت میں مبتلا نہ ہوتے۔ اس طرح پر قبور کے ساتھ جو تعلق ارواح کا ہوتا ہے یہ ایک صداقت تو ہے مگر اس کا پتہ دینا اس آنکھ کا کام نہیں یہ کشفی آنکھ کا کام ہے کہ وہ دکھلاتی ہے۔…پس جب یہ بات ثابت ہوگئی کہ روح کے متعلق علوم چشمۂ نبوت سے ملتے ہیں تو یہ امر کہ ارواح کا قبور کے ساتھ تعلق ہوتا ہے اسی چشم سے دیکھنا چاہئے اور کشفی آنکھ نے بتلایا ہے کہ اس تودۂ خاک سے روح کا ایک تعلق ہوتا ہے اور السَّلَامُ عَلَيْكُمْ یَا أَهْلَ الْقَبُوْر کہنے سے جواب ملتا ہے۔ پس جو آدمی ان قویٰ سے کام لے جن سے کشف قبور ہو سکتا ہے وہ ان تعلقات کو دیکھ سکتا ہے۔…قبور کے ساتھ تعلق ارواح کے دیکھنے کے لئے کشفی قوت اور حس کی ضرورت ہے۔ اگر کوئی کہے کہ یہ ٹھیک نہیں ہے تو وہ غلط کہتا ہے۔ انبیاء علیہم السلام کی ایک کثیر تعداد کروڑ ہا اولیاء و صلحاء کا سلسلہ دنیا میں گزرا ہے اور مجاہدات کرنے والے بیشمار لوگ ہو گزرے ہیں اور وہ سب اس امر کی زندہ شہادت ہیں۔ گو اس کی سمت اور تعلقات کی وجہ عقلی طور پر ہم معلوم کر سکیں یا نہ، مگر نفس تعلق سے انکار نہیں ہوسکتا۔ غرض کشفی دلائل ان ساری باتوں کا فیصلہ کئے دیتے ہیں۔ کان اگر دیکھ نہ سکیں تو ان کا کیا قصور؟ وہ اور قوت کا کام ہے۔ ہم اپنے ذاتی تجربہ سے گواہ ہیں کہ روح کا تعلق قبر کے ساتھ ضرورت ہوتا ہے۔ انسان میّت سے کلام کر سکتا ہے۔ روح کا تعلق آسمان سے بھی ہوتا ہے جہاں اس کے لیے ایک مقام ملتا ہے۔ میں پھر کہتا ہوں کہ یہ ایک ثابت شدہ صداقت ہے۔ ہندوؤں کی کتابوں میں بھی اس کی گواہی موجود ہے۔
(الحکم نمبر ۳جلد ۳ مورخہ ۲۳؍جنوری ۱۸۹۹ء صفحہ ۳،۲)
4 weeks ago | [YT] | 61
View 0 replies
Be Shah (اللہ المالک الملک)
إن المُحب إذا أحبَّ حبيبهُ
تلقاهُ يبذل فيه ما لا يُبذلُ!
"
جب عاشق سچے دل سے اپنے محبوب سے محبت کرتا ہے
تو اس کی خاطر وہ کچھ بھی نچھاور کر دیتا ہے،
جو کسی اور کے لیے کبھی نہ کرے!"
❤️
1 month ago | [YT] | 16
View 0 replies
Be Shah (اللہ المالک الملک)
واہ رے باغِ محبت موت جس کی رہگذر
وصلِ یار اسکا ثمر پر ارد گرد اس کے ہیں خار
(حضرت مسیح موعودؑ)
❤️
1 month ago | [YT] | 43
View 0 replies
Be Shah (اللہ المالک الملک)
يدخُل الجنَّةَ أقوامٌ أفئِدتهم مِثل أفئِدةِ الطَّيْر.
“ایسے لوگ جنت میں داخل ہوں گے جن کے دل پرندوں کے دلوں کی طرح ہیں۔”
❤️
1 month ago | [YT] | 11
View 0 replies
Be Shah (اللہ المالک الملک)
ہزاراں سال با فطرت نشستم
بہ او پیوستم و از خود گسستم
ولیکن سرگزشتم ایں دو حرف است
تراشیدم، پرستیدم، شکستم
اقبال
میں ہزاروں سال فطرت کے ساتھ بیٹھا رہا،
اس میں گم ہو گیا اور اپنے آپ سے جدا ہو گیا۔
لیکن میری ساری داستان صرف دو لفظوں میں سمٹی ہے:
میں نے تراشا، پوجا، اور آخرکار توڑ دیا
2 months ago | [YT] | 8
View 0 replies
Load more