Welcome to Sohail Balkhi | Safarnama & Stories — where journeys become emotions, and stories cross borders.
This channel is all about real safarnamas, deep conversations, and cultural narratives that connect hearts.

Travel with me through the deserts of Tharparkar, the streets of Tokyo, and the everyday lives of those who carry powerful stories — from Pakistan, India, Canada, Japan, and beyond.

🎥 Here you’ll find:

Safarnama-style travel videos

Cross-border human stories

Interviews and podcasts with real people

Hidden communities and minority voices

Emotional, culture-rich content beyond politics

If you love storytelling, culture, and authentic journeys — you’re in the right place.
New videos every week, InshaAllah.
Let’s explore the world together, one story at a time.




Sohail Balkhi

اگر آپ freelancing یا online earning میں
دلچسپی رکھتے ہیں تو یہ ضرور دیکھیں 👇
https://youtu.be/IqSd6-TqKpY

2 days ago (edited) | [YT] | 4

Sohail Balkhi

آج کل ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک نیا لفظ بہت تیزی سے پھیل رہا ہے: "وائب کوڈنگ"۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ اب آپ کو لمبا چوڑا کوڈ لکھنے کی ضرورت نہیں۔
آپ صرف اے آئی کو لکھ کر یا بول کر بتائیں کہ آپ کو کیسی ویب سائٹ، ایپ یا سافٹ ویئر چاہیے… اور اے آئی خود کوڈ لکھ کر وہ چیز بنا دیتا ہے۔
جی ہاں، وہ دن گئے جب خلیل خان فاختہ اڑاتے تھے ! :)

لیکن اس میدان میں ایک دلچسپ بات سامنے آئی ہے۔

اے آئی اسٹارٹ اپ لویبل( Lovable)کی ایک سینئر ایگزیکٹو کا کہنا ہے کہ بہت سخت مقابلہ ہے مگر انہیں اس میدان میں اب بھی چھوٹے اے آئی اسٹارٹ اپس سے زیادہ فکر بڑی کمپنیوں سے ہے۔

یعنی انکے خیال میں اصل مقابلہ چھوٹی کمپنیوں کے درمیان نہیں بلکہ اوپن اے آئی، گوگل، مائیکروسافٹ، ایپل اور اینتھروپک جیسی بڑی کمپنیوں کے درمیان ہوگا۔

وجہ یہ بتاتی ہیں کہ۔
ان کمپنیوں کے پاس صرف ٹیکنالوجی نہیں بلکہ اربوں صارفین، عالمی پلیٹ فارمز اور بے پناہ سرمایہ موجود ہے۔
اگر انہوں نے یہی اے آئی ٹیکنالوجی اپنے سسٹمز میں شامل کر دی تو بہت سے چھوٹے اسٹارٹ اپس کے لیے مقابلہ مشکل ہو سکتا ہے۔

ہم اجکل دفتر میں یہی باتیں کرتے ہیں کہ روزانہ ایک سے بڑھ کر ایک حیران کن حقائق سامنے آرہی یے، چھوٹی کمپنیاں کیا کریں؟۔
اس وقت دنیا میں روزانہ تقریباً دو لاکھ نئے ایسے پروجیکٹس شروع ہوتے ہیں جن میں پروگرامرز یا آئ ٹی اسٹاف کی ضرورت نہیں، سب کچھ اے آئی وائیب کوڈنگ سے ہورہا یے۔ انگلش یا اردو یا کسی بھی زبان میں ھدایات دیں اور اے آئ سے سارا کام کروائیں ۔۔۔

اس کا مطلب صاف ہے کہ سافٹ ویئر بنانے کا طریقہ تیزی سے بدل رہا ہے۔ سافٹوئیر انجنیئرز کی ڈیمانڈ تیزی سے کم ہوتی جارہی یے۔۔

اب صرف پروگرامرز ہی نہیں بلکہ عام لوگ بھی اے آئی سے بات کر کے ویب سائٹس اور ایپس بنا رہے ہیں۔۔ اب ہمارے دوست حاجی صاحب وہ سارے کام کرسکتے ہیں جو پہلے چار پانچ سالہ تجربہ کار آئ ٹی گریجویٹ ہی کرسکتا تھا ۔۔۔

یعنی وقت ایسا آچکا ہے کہ اب
کوڈ کم لکھا جاتا یے اور اے آئی کو ہدایات دیکر ان سے کام کروایا جارہا یے۔۔۔۔
جو لوگ اس تبدیلی کو سمجھ لیں گے وہ اپنا راستہ بنانے کو تیزی سے ادھر ادھر دیکھ رہے ہیں یا پھر سے آئ کے سپروائز کا رول اختیار کرکے زیادہ کام کرکے زیادہ پیسے بنارہے ہیں۔۔۔
اور ہمارے وہ دیسی دوست جو صدی ہیں، ہر نئ چیز کو تسلیم کرنے سے انکاری ہیں، ہر نئ بات کو نظر انداز کرتے ہیں۔۔۔ وہ بہت پیچھے پیچھے رہ جائیں گے۔ اپنی انڈسٹری میں چل نہیں پائیں گے۔۔ بات اب صرف آئ ٹی کی نہیں رہی۔۔۔
دنیا واقعی ایک نئے ٹیکنالوجی دور میں داخل ہوچکی ہے جہاں چھوٹے بڑے سب کو یکساں طور پر اے آئ کی مدد بھی حاصل ہے اور یکساں خطرات کا بھی سامنا یے۔۔
جو جتنی جلد اس کو سمجھ لے گا وہ اپنے اداروں اور اپنے افراد کی ملازمتوں کا تحفظ کرسکے گا ۔۔

سہیل بلخی

3 weeks ago | [YT] | 1

Sohail Balkhi

Hey everyone! I've relaunched my dedicated Canada channel. All my new Canada vlogs will be there. Go subscribe to 'Canada ki Baaten'!

youtube.com/@CanadakiBaten

5 months ago | [YT] | 1

Sohail Balkhi

Meet ICNA founder Talat Sultan Sahab.....

5 months ago | [YT] | 1

Sohail Balkhi

Please watch my other Channel.

https://youtu.be/eY8N32YwA0I

6 months ago | [YT] | 1

Sohail Balkhi

I spent a day at Tokyo's car auction.

7 months ago | [YT] | 1

Sohail Balkhi

In this heartwarming and eye-opening journey, we meet Tariq Iqbal, a resident of Karachi, Pakistan, whose love transcends borders. Married to an Indian, Tariq has crossed the India-Pakistan divide not once, but ten times, each visit unfolding new chapters of understanding, connection, and discovery.

Tariq shares with us the rich tapestry of experiences he's gathered from his travels to India - a land that holds a special place in his heart due to his matrimonial ties. His stories are not just travel tales; they are narratives of love, cultural exchange, and the universal quest for harmony.

In This Video:
Cross-Border Love Story: Discover how love led Tariq to navigate the complexities of India-Pakistan relations.
Cultural Insights: From food to festivals, Tariq reveals the unique aspects of Indian culture that he's come to cherish.
Navigating Challenges: Learn about the logistical and emotional challenges of cross-border visits and how Tariq overcomes them.
Message of Peace: Tariq's experiences underscore a powerful message of peace and the potential for deeper understanding between neighboring nations.
Why You Should Watch:
If you're fascinated by stories that bridge divides, or if you're curious about the everyday realities of cross-border relationships, this video is for you. Tariq's journey is a testament to the fact that despite political boundaries, human connections can thrive and lead to meaningful exchanges and mutual respect.

#indiapakistan #pakistaniinindia

11 months ago | [YT] | 1

Sohail Balkhi

آج بھی جب کوئی پوچھتا ہے کہ ’چائے چاہیے‘ تو زبان سے خود بخود ’کون سی جناب‘ نکل ہی آتا ہے۔۔۔ بارش میں ’اے ابرِ کرم‘ گُنگنانا آج بھی بہت سے لوگوں کی عادت ہے اور ’کوکو کورینا‘ تو نوجوان نسل کو بھی زبانی یاد ہے۔ شاید ہی کسی نے سمندر پر جا کر ’ساتھی تیرا میرا ساتھی ہے لہراتا سمندر‘ نہ گایا ہو اور پاکستان کا قومی ترانہ تو سکول میں سب ہی نے پڑھا ہو گا۔

اِن سب گیتوں، جینگلز، نغموں اور ترانوں کے پیچھے احمد رشدی کی آواز ہے جنھوں نے 25 سال سے زائد عرصے تک گلوکاری کی دنیا میں دھوم مچا رکھی تھی۔

پاکستان فلموں میں سو سے زائد اداکاروں پر ایک ہزار کے قریب گیت گانے والے احمد رشدی کا تعلق کسی موسیقی کے گھرانے سے نہیں تھا۔ احمد رشدی 24 اپریل 1934 کو حیدر آباد دکن میں ایک انتہائی مذہبی گھرانے میں پیدا ہوئے تھے۔

11 months ago | [YT] | 3

Sohail Balkhi

آج ہم کراچی کے مضافاتی علاقے کوہی گوٹھ پہنچے، اور وہاں جو کچھ دیکھا، سنا اور محسوس کیا، وہ حیران کن، متاثر کن، اور دل کو جھنجھوڑ دینے والا تھا- ہمارے میزبان تھے ڈاکٹر سراج الدولہ، جنہوں نے نہایت شفقت سے ہمیں کوہی گوٹھ ہسپتال کی تفصیلی سیر کروائی۔
شدید گرمی کے باوجود، وہ نہ تھکے نہ رکے — بلکہ ایک ایک شعبے میں لے جا کر دکھایا کہ یہ محض ایک عمارت نہیں بلکہ انسانی خدمت، علم، اور نظم کا ایک جیتا جاگتا مظہر ہے۔
ہر کمرے، ہر وارڈ، ہر دیوار کی ایک الگ کہانی تھی — جو صرف زبان سے نہیں، بلکہ روح سے سنی گئی۔

یہ اسپتال کوئی عام ادارہ نہیں — یہ اُن خواتین کے لیے ایک پناہ گاہ ہے جو معاشرتی خاموشی کے اندھیروں میں فسٹیولا جیسے اذیت ناک مرض کا شکار ہوتی ہیں۔
یہی وہ جگہ ہے جہاں ڈاکٹر شیر شاہ سید جیسے دردمند معالج نے ہزاروں خواتین کو نئی زندگی دی۔
یہاں فسٹولا کا جدید ترین علاج مکمل طور پر مفت ہوتا ہے، اور یہ جنوبی ایشیا کا سب سے بڑا مرکز ہے — جہاں خواتین کو نہ صرف علاج بلکہ عزت اور امید بھی ملتی ہے۔

مگر کوہی گوٹھ صرف علاج کا مرکز نہیں — یہ ایک علمی تحریک بھی ہے۔
یہاں دیہی اور کم آمدنی والے خاندانوں کی بچیوں کو مڈوائیفری، نرسنگ، فارمیسی، پیرامیڈکس، اور لیب ٹیکنالوجی جیسے شعبوں میں مفت تربیت، قیام و طعام کے ساتھ فراہم کی جاتی ہے — تاکہ وہ نہ صرف خود کفیل ہوں بلکہ اپنی کمیونٹی میں تبدیلی کا ذریعہ بنیں۔

اور پھر اس خواب کو مزید وسعت دینے کے لیے قائم کی گئی —
ملیر یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (MUST)،
یہ یونیورسٹی حکومتی امداد کے بغیر، صرف خلوص، نیت، اور مسلسل محنت سے وجود میں آئی — اور ایک تعلیمی انقلاب کی بنیاد بن چکی ہے۔

یہ سب کچھ ایک ایسے علم دوست خاندان کے دم سے ممکن ہوا —
جس کی جڑیں تو بہار (بھارت) سے تھیں، مگر جس نے پاکستان کی مٹی میں تعلیم، طب، اور خدمت کے بیج بوئے۔

ابو ظفر آزاد صاحب نے ہجرت کے بعد کراچی میں تعلیمی ادارے کی بنیاد رکھی۔
ڈاکٹر عطیہ ظفر نے گائناکالوجی اور غریب خواتین کے علاج کو اپنی زندگی کا مشن بنایا۔
اسی روایت کو آگے بڑھایا ان کے بیٹوں نے —
پروفیسر ڈاکٹر ٹیپو سلطان، ڈاکٹر شیر شاہ سید، ڈاکٹر سراج الدولہ —
جنہوں نے تعلیم اور خدمت کو ورثے کی طرح اپنایا، اور تین نسلوں پر مشتمل ڈاکٹروں کے قافلے نے ملک بھر میں روشنی پھیلائی۔

یہ خاندان صرف معالج نہیں، معلم بھی ہے — رہنما بھی ہے، مشعل راہ بھی۔ ان کے لیے علم صرف ڈگری نہیں، بلکہ خدمت کا ذریعہ ہے۔ ان کی ہر عمارت، ہر ادارہ، ہر منصوبہ — ایک خاموش انقلاب کی نمائندگی کرتا ہے۔

جب ڈاکٹر سراج الدولہ نے اپنے والدین کی قربانیوں، جدوجہد اور ایمان افروز کہانی سنائی —
تو دل میں ایک ہی خواہش جاگی:
کاش اس پر فلم بنے — تاکہ نئی نسل کو پتہ چلے کہ اصل کامیابی ڈگری یا دولت میں نہیں، بلکہ
نیت، قربانی، علم اور اخلاص میں ہے۔

کوہی گوٹھ کا یہ دورہ ہمارے لیے محض ایک وزٹ نہیں تھا — یہ ایک سبق، ایک دعوتِ فکر، اور ایک روشنی ہے۔
جو ہمیں یاد دلاتی ہے کہ:

"جہاں دل میں درد ہو اور نیت میں صداقت — وہاں نہ وسائل کی کمی معنی رکھتی ہے، نہ حالات کی سختی۔"

یہ اسپتال، یہ یونیورسٹی، یہ خاندان —
پاکستان کے اصل چہرے کا عکس ہیں -ایک روشن، خاموش، مگر طاقتور عکس…
اور صرف کوہی گوٹھ نہیں — یہ پاکستان کی اصل امید ہے
آج ہم کراچی کے مضافاتی علاقے کوہی گوٹھ پہنچے، اور وہاں جو کچھ دیکھا، سنا اور محسوس کیا، وہ حیران کن، متاثر کن، اور دل کو جھنجھوڑ دینے والا تھا- ہمارے میزبان تھے ڈاکٹر سراج الدولہ، جنہوں نے نہایت شفقت سے ہمیں کوہی گوٹھ ہسپتال کی تفصیلی سیر کروائی۔
شدید گرمی کے باوجود، وہ نہ تھکے نہ رکے — بلکہ ایک ایک شعبے میں لے جا کر دکھایا کہ یہ محض ایک عمارت نہیں بلکہ انسانی خدمت، علم، اور نظم کا ایک جیتا جاگتا مظہر ہے۔
ہر کمرے، ہر وارڈ، ہر دیوار کی ایک الگ کہانی تھی — جو صرف زبان سے نہیں، بلکہ روح سے سنی گئی۔

یہ اسپتال کوئی عام ادارہ نہیں — یہ اُن خواتین کے لیے ایک پناہ گاہ ہے جو معاشرتی خاموشی کے اندھیروں میں فسٹیولا جیسے اذیت ناک مرض کا شکار ہوتی ہیں۔
یہی وہ جگہ ہے جہاں ڈاکٹر شیر شاہ سید جیسے دردمند معالج نے ہزاروں خواتین کو نئی زندگی دی۔
یہاں فسٹولا کا جدید ترین علاج مکمل طور پر مفت ہوتا ہے، اور یہ جنوبی ایشیا کا سب سے بڑا مرکز ہے — جہاں خواتین کو نہ صرف علاج بلکہ عزت اور امید بھی ملتی ہے۔

مگر کوہی گوٹھ صرف علاج کا مرکز نہیں — یہ ایک علمی تحریک بھی ہے۔
یہاں دیہی اور کم آمدنی والے خاندانوں کی بچیوں کو مڈوائیفری، نرسنگ، فارمیسی، پیرامیڈکس، اور لیب ٹیکنالوجی جیسے شعبوں میں مفت تربیت، قیام و طعام کے ساتھ فراہم کی جاتی ہے — تاکہ وہ نہ صرف خود کفیل ہوں بلکہ اپنی کمیونٹی میں تبدیلی کا ذریعہ بنیں۔

اور پھر اس خواب کو مزید وسعت دینے کے لیے قائم کی گئی —
ملیر یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (MUST)،
یہ یونیورسٹی حکومتی امداد کے بغیر، صرف خلوص، نیت، اور مسلسل محنت سے وجود میں آئی — اور ایک تعلیمی انقلاب کی بنیاد بن چکی ہے۔

یہ سب کچھ ایک ایسے علم دوست خاندان کے دم سے ممکن ہوا —
جس کی جڑیں تو بہار (بھارت) سے تھیں، مگر جس نے پاکستان کی مٹی میں تعلیم، طب، اور خدمت کے بیج بوئے۔

ابو ظفر آزاد صاحب نے ہجرت کے بعد کراچی میں تعلیمی ادارے کی بنیاد رکھی۔
ڈاکٹر عطیہ ظفر نے گائناکالوجی اور غریب خواتین کے علاج کو اپنی زندگی کا مشن بنایا۔
اسی روایت کو آگے بڑھایا ان کے بیٹوں نے —
پروفیسر ڈاکٹر ٹیپو سلطان، ڈاکٹر شیر شاہ سید، ڈاکٹر سراج الدولہ —
جنہوں نے تعلیم اور خدمت کو ورثے کی طرح اپنایا، اور تین نسلوں پر مشتمل ڈاکٹروں کے قافلے نے ملک بھر میں روشنی پھیلائی۔

یہ خاندان صرف معالج نہیں، معلم بھی ہے — رہنما بھی ہے، مشعل راہ بھی۔ ان کے لیے علم صرف ڈگری نہیں، بلکہ خدمت کا ذریعہ ہے۔ ان کی ہر عمارت، ہر ادارہ، ہر منصوبہ — ایک خاموش انقلاب کی نمائندگی کرتا ہے۔

جب ڈاکٹر سراج الدولہ نے اپنے والدین کی قربانیوں، جدوجہد اور ایمان افروز کہانی سنائی —
تو دل میں ایک ہی خواہش جاگی:
کاش اس پر فلم بنے — تاکہ نئی نسل کو پتہ چلے کہ اصل کامیابی ڈگری یا دولت میں نہیں، بلکہ
نیت، قربانی، علم اور اخلاص میں ہے۔

کوہی گوٹھ کا یہ دورہ ہمارے لیے محض ایک وزٹ نہیں تھا — یہ ایک سبق، ایک دعوتِ فکر، اور ایک روشنی ہے۔
جو ہمیں یاد دلاتی ہے کہ:

"جہاں دل میں درد ہو اور نیت میں صداقت — وہاں نہ وسائل کی کمی معنی رکھتی ہے، نہ حالات کی سختی۔"

یہ اسپتال، یہ یونیورسٹی، یہ خاندان —
پاکستان کے اصل چہرے کا عکس ہیں -ایک روشن، خاموش، مگر طاقتور عکس…
اور صرف کوہی گوٹھ نہیں — یہ پاکستان کی اصل امید ہے۔

-سہیل بلخی

11 months ago | [YT] | 10

Sohail Balkhi

Channel Update! From today, we’re focused on Safarnama, cultural stories, and real people talks. Karachi and Canada videos will now go to their own channels. Thank you for your support!

11 months ago | [YT] | 4