Mufti Umar Siddiqui Qasmi

#mufti #umar #siddiqui #qasmi
#Mufti_Umar_Siddiqui_Qasmi
#MuftiUmarSiddiquiQasmi
#IslamicLectures
#QuranAndHadith
#IslamicKnowledge
#DarulUloomDeoband
#IslamicHistory
#FiqhMasail
#IslamicReminders
#IslamicScholar
#DawahAndTableegh
السلام علیکم و رحمة اللہ وبرکاتہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم

Welcome to Mufti Umar Siddiqui Qasmi Official YouTube Channel.
Mufti Umar Siddiqui Qasmi is a Qualified Islamic Scholar (Mufti), graduated from Darul Uloom Waqf Deoband.
Here you will find Islamic Lectures, Quran & Hadith Teachings, Islamic History, Tafseer, Fiqh, Masail, and Motivational Islamic Content. Our mission is to spread authentic Islamic knowledge, guidance, and Dawah.

: Islamic Lectures, Quran Tafseer, Hadith Explanation, Fiqh Masail, Islamic History, Dawah, Mufti Umar Siddiqui Qasmi.


---


Mufti Umar Siddiqui Qasmi

سوال :

کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیان شرع متین درمیان مسئلہ ھذا کے کہ غیر عالم وعظ ونصیحت اور بیان کرنا کیسا ہے؟ ایک امام صاحب صرف حافظ ہیں، جمعہ کے دن دس پندرہ منٹ کسی موضوع پر اکابر علماء کرام کی تحریروں کی روشنی میں کچھ اصلاحی بات کرتے ہیں تو کیا ان کا ایسا کرنا جائز ہے یا نہیں؟ مدلل جواب عنایت فرمائیں اور عنداللہ ماجور ہوں۔
(المستفتی : حافظ عبداللہ، مالیگاؤں)
----------------------------------------------------
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب وباللہ التوفيق : وعظ ونصیحت بیان وتقریر کرنا جہاں ایک عظیم کار ثواب ہے، وہیں اگر اسے صحیح طور پر انجام نہ دیا جائے تو یہ خود کرنے والے کے لیے وبال بن سکتا ہے۔ مثلاً موضوع (من گھڑت) روایات اور تفاسیر کا بیان کرنا، ایسا انداز اختیار کرنا کہ سامعین بجائے عبرت حاصل کرنے نفرت اور بے زاری کا اظہار کریں، نیز شہرت، ریاکاری اور فخر کی وجہ سے بیان کرنا۔ لہٰذا بغیر تیاری اور ضرورت کے وعظ وبیان سے بچنا چاہیے۔ اس تمہید کے بعد اب آپ کے سوال کی طرف آتے ہیں۔

غیر عالم کا وعظ وتقریر کرنا مطلقاً ناجائز نہیں ہے۔ کیونکہ اردو مطبوعہ فتاوی میں عموماً جہاں بھی کسی غیر عالم کے وعظ وتقریر کرنے کو ناجائز کہا گیا ہے وہیں جواز کی کچھ شکلیں بھی بیان کی گئی ہیں۔

صاحب فتاوی رحیمیہ مفتی عبدالرحیم صاحب لاجپوری رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں :
غیر عالم کا وعظ کہنا ممنوع ہے، لیکن تبلیغ جس کا دائرہ کار چھ نمبروں کے اندر محدود ہے اور ان چھ نمبروں سے متعلق جو کتاب تبلیغی اکابرین نے مرتب فرمائی ہے اسی کے اندر رہ کر دعوت دی جائے اور اس سے تجاوز کرکے اپنی طرف سے اضافہ اور استنباط نہ کیا جائے تو یہ کام واقف مسلمان کر سکتا ہے اس کے لیے عالم ہونا ضروری نہیں ہے۔ (فتاوی رحیمیہ : ٣/١٦٠)

ارشاد المفتین میں ہے :
صورت مذکورہ میں مذکورہ شخص اگر وعظ ونصیحت بیان کرتا ہے اور ایسے مسائل بیان کرتا ہے جس کا اس کو علم ہے مثلاً نماز اور روزہ کی فرضیت تو ایسے شخص کو ان مسائل کی تبلیغ کرنا اور وعظ ونصیحت کرناجائز ہے، اور اگر وعظ ونصیحت میں اختلافی واجتہادی مسائل بیان کرتا ہے یا ایسے مسائل بیان کرتا ہے جس کا اس کو علم نہیں ہے تو ایسے شخص کے لیے تبلیغ کرنا جائز نہیں ہے، اور ایسے شخص کا علماء وفقہاء کے سامنے وعظ ونصیحت کرنا درست نہیں ہے، کیونکہ یہ سوء ادب ہے۔ (١/٣٥٢)

فقیہ الامت مفتی محمود حسن گنگوہی رحمہ اللہ لکھتے ہیں :
غیر عالم کے لئے بہتر یہ ہے کہ وہ کتاب پڑھ کر سنادے مستقل تقریر نہ کرے، کیونکہ عامۃً حدود کی رعایت نہیں کر پاتا۔ اگر حدود کی رعایت کرے اور جو بات کہے مستند کہے تو اس کو اجازت ہے۔ (فتاویٰ محمودیہ : ۴؍۳۳۳)

درج بالا فتاوی سے معلوم ہوا کہ غیر عالم تبلیغی جماعت کے اصولوں کے مطابق چھ صفات کے دائرہ میں رہ کر بیان کرے تو اس میں کوئی قباحت نہیں ہے۔ البتہ جمعہ کا خطاب جس میں عموماً ایک بڑی تعداد جمع ہوتی ہے، جس میں ہر طرح کے لوگ ہوتے ہیں، اس موقع پر حالاتِ حاضرہ اور امت کے سلگتے مسائل پر گفتگو کرنا مفید ثابت ہوتا ہے، جس پر صحیح رہنمائی مستند اور جید عالم ہی بہتر طور پر کرسکتا ہے۔ لہٰذا حتی الامکان اس بات کی کوشش کی جائے کہ جمعہ کا خطاب کوئی مستند اور جید عالم کرے، تاکہ اختلاف و انتشار سے حفاظت رہے، لیکن اگر کوئی مستند عالم نہ مل سکے تو امامِ مسجد جو صرف حافظ ہو وہ موضوع سے متعلق کوئی تحریر پڑھ کر سنادے یا مکمل تیاری کے ساتھ بیان بھی کرسکتا ہے، کیونکہ فی زمانہ معتبر تنظیموں کی جانب سے حالات حاضرہ پر تیار شدہ مواد انٹرنیٹ پر شائع کیے جاتے ہیں جن تک رسائی بہت آسان ہے، جس کی وجہ سے مقرر کے لیے غلطی کا امکان بالکل نہ کے برابر ہوتا ہے۔

عن عبد اللّٰہ بن عمرو رضي اللّٰہ عنہ أن النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال: بلغوا عني ولو آیۃ۔ (صحیح البخاري، کاب الأنبیاء / باب ما ذکر عن بني إسرائیل ۱؍۴۹۱ رقم: ۳۴۶۱)

الأمر بالمعروف یحتاج إلی خمسۃ أشیاء: أولہا العلم؛ لأن الجاہل لایحسن الأمر بالمعروف۔ (الفتاویٰ : ۵؍۳۵۳)

التذکیر علی المنابر للوعظ والا تعاظ سنۃ الأنبیاء والمرسلین۔ (درمختار : ۹؍۶۰۴)فقط
واللہ تعالٰی اعلم
محمد عامر عثمانی ملی
19 ربیع الآخر 1442

2 weeks ago | [YT] | 15

Mufti Umar Siddiqui Qasmi

یہ بات اچھی طرح سمجھ لیجیے کہ جب کسی معتبر محقق کی جانب سے یہ کہا جائے کہ یہ روایت بے سند اور غیر ثابت ہے، تو یہی اس کی تحقیق ہوا کرتی ہے کیونکہ جب کوئی روایت سند کے ساتھ ثابت ہی نہیں تو اس کے بعد تحقیق میں کیا لکھا جائے؟؟ باقی تفصیلی تحقیق تو سند والی روایت سے متعلق ذکر کی جاسکتی ہے کہ اس میں سند وغیرہ سے بحث کی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر جمعہ کے دن عصر کے بعد مخصوص درود والی مخصوص روایت بے سند اور غیر ثابت ہے، یہی اس کی تحقیق ہے بس، البتہ اگر کسی کو یہ دعوی ہو کہ اس کی سند موجود ہے تو پیش کردے!

1 month ago | [YT] | 11

Mufti Umar Siddiqui Qasmi

کئی سارے اہلِ علم اصولِ حدیث پڑھتے پڑھاتے اور مطالعہ کرتے وقت زیادہ تر سند والی احادیث سے متعلق اصول پر توجہ دیتے ہیں، جبکہ امت میں بے سند روایات کا بھی ایک اچھا خاصہ ذخیرہ موجود ہے، اس لیے اس پہلو پر بھی کام کرنے، اصول مرتب کرنے، ان کو پڑھانے اور عام کرنے کی ضرورت ہے کہ حدیث کن طریقوں سے ثابت ہوتی ہے؟ حدیث کے ثبوت کے معتبر اور غیر معتبر ذرائع کونسے ہیں؟ بے سند روایات کی تحقیق کیسے کی جائے؟ کوئی روایت سامنے آئے تو ہم پر کیا ذمہ داریاں لاگو ہوتی ہیں؟ خلاصہ یہ کہ بے سند ذکر کی جانے والی روایات سے متعلق بھی اصول پر توجہ دینے کی ضرورت ہے!

✍️۔۔۔ مفتی عمر صدیقی القاسمی

1 month ago | [YT] | 19

Mufti Umar Siddiqui Qasmi

زہر محبت سے دیا جائے یا سختی سے؛ وہ زہر ہی ہوتا ہے، لُوٹنا نرمی سے بھی ہو تو وہ ڈاکہ ہی کہلایا جاتا ہے۔ ڈاکو مہذب بھی ہو تب بھی وہ ڈاکو اور مذموم ہی ہوتا ہے۔ اس لیے کفر اور گمراہی جتنی بھی تہذیب واخلاق سے پیش کی جائے وہ کفر اور گمراہی ہی ہوتی ہے، سو ایسے مہذب اور با اخلاق ایمان کے ڈاکوؤں سے بھی بچنا ضروری ہے، محض ان کے اخلاق وتہذیب کی بنیاد پر ان کے اس ڈاکے کی تعریف نہیں کی جاسکتی اور نہ ہی ان کو درست قرار دیا جاسکتا ہے!

✍️۔۔۔ مفتی عمر صدیقی القاسمی امام و خطیب مکہ مسجد موضع سونٹی ضلع سرہند شریف پنجاب

1 month ago | [YT] | 7

Mufti Umar Siddiqui Qasmi

حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں کہ: جب تک محدثین کے نزدیک حدیث ثابت نہ ہو، ہر کتاب میں لفظِ حدیث دیکھ کر اس کے حدیث ہونے کا یقین نہ کرو۔ اور ’’أنا عرب بلا عین وأنا أحمد بلا میم‘‘ [میں بلا عَین عرب ہوں اور بلا میم احمد ہوں] اور اسی قسم کے خرافات الفاظ کو حدیثِ رسول جاننا ضلالت ہے۔
(حکیم الامت کا منگھڑت روایات پر تعاقب صفحہ: 52 بحوالہ: اصلاح الاغلاط والاخلاط)

3 months ago | [YT] | 13

Mufti Umar Siddiqui Qasmi

یاد رکھیے کہ منگھڑت، موضوع، بے سند، بے اصل، غیر ثابت، بے بنیاد اور شدید ضعیف روایات کے بارے میں یہ اصول ہرگز جاری نہیں ہوسکتا کہ فضائل میں ضعیف روایات چل جاتی ہیں، کیونکہ یہ اصول صرف اُن ضعیف روایات میں جاری ہوتا ہے جو کہ شدید ضعیف نہ ہوں، صرف ایسی ضعیف روایات فضائل میں چل سکتی ہیں بس۔ خوب سمجھ لیں!

3 months ago | [YT] | 12

Mufti Umar Siddiqui Qasmi

کتاب :- غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ

مؤلفہ :- مفتی طارق امیر خان صاحب حفظہ اللّٰہ

تقریظ :- استاد العلماء حضرت مولانا سلیم اللّٰہ خان رحمہ اللّٰہ
حضرت مولانا نورالبشر صاحب حفظہ اللّٰہ

صفحات :- 4920

جلد :- ١٠ جلدیں

〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
کتابیں پورے بھارت میں کہیں بھی منگواسکتے ہیں۔

*کتابیں بذریعہ ڈاک ارسال کی جاتی ہیں۔*
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰

۔ 🛒🎁🛍️ 🛍️🎁🛒

مکتبہ صفدریہ دیوبند 8881030588

آرڈر کیلیے لنک ⬇️
wa.me/918881030588

واٹس ایپ گروپ ⬇️
chat.whatsapp.com/EfHfGShHZAI5DkB6IEyJv1

فہرست (catalogue) لنک ⬇️
wa.me/c/918881030588

ٹیلیگرام چینل ⬇️
t.me/maktabasafdariyyadbd/3193

فیس بک لنک ⬇️
www.facebook.com/maktaba.safdariya?mibextid=ZbWKwL

3 months ago | [YT] | 10

Mufti Umar Siddiqui Qasmi

کئی لوگوں کو حضور اقدس ﷺ کی طرف بلا ثبوت کوئی بات منسوب کیے جانے پر تو غیرت نہیں آتی، البتہ ان کی دینی غیرت اس وقت ضرور جاگتی ہے جب کسی بزرگ کی ذکر کردہ غیر ثابت روایت کی نشاندہی کی جائے، پھر انھیں سارے خود ساختہ آداب اور تاویلات یاد آجاتی ہیں اور یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں جیسے وہ بزرگ غلطی سے محفوظ یا معصوم ہوں، یہ قابلِ اصلاح طرزِ عمل ہے! اور ہاں ہم الحمدللّٰہ غیر ثابت روایات کی نشاندہی پورے ادب واحترام اور شرعی حدود کی رعایت کے ساتھ کرتے ہیں!

3 months ago | [YT] | 24