Hi friends Assalam Alaekum ye channel Religious Knowledge k liye khaas islam k liye or kuch interested maloomat bhi mile gi


Salafi Ansari

حنفی کہتے چاروں مسلک ہی حق پر ہے لیکن موجودہ تنازع میں حنفیوں کی اکثریت جعفری فقہ سے اتحاد کر کے مالکی اور حنابلہ (عرب ) کو یہو د کا مسلک بتا رہے ۔اور ایران کا میزائل حنابلہ مالکی پر گرتا دیکھ یہ کُھوس بھی ہو رہے !! دراصل کبھی یہ چاروں مسلک کا آپس میں اتحاد ہو ہی نہیں سکا ۔ تاریخ کا مطالعہ کرو تو حنفی اور شافعی کی جنگ پڑھنے ملتی ہے جو چوتھی صدی میں ہوئی تھی ، اور بھی جنگ ہو چکی ہے لیکن حنفی کی کبھی شیعہ جعفری فقہ کو ماننے والے سے کچھ ہوا ایسا نہیں پڑھنے ملا مجھے ۔ کسی بھی مسلک کی اکثریت کا کیا موقف ہوتا ہے وہ دیکھا جاتا گنتی کے چند علماء کی حیثیت ہاشیہ پر ہوتی ہے

1 week ago | [YT] | 54

Salafi Ansari

اہل سنت پر ایران کے حملوں کی پشت پناہی ابو حنیفہ کوفی کی قوم کر رہی ہے ۔
کوفی لا یوفی

1 month ago | [YT] | 35

Salafi Ansari

انور شاہ کشمیری کہتے پہلے گیارہ رکعات تراویح لمبی قرات کے ساتھ تھی لیکن لوگوں کا تقویٰ کمزور ہوگیا تو قرات کو کم کیا گیا رکعات کو بڑھا دیا گیا تاکہ کھڑے ہو سکے قیام میں ۔
وعندي أنه يمكن أن يكون عمر رضي الله عنه نقل عشرًا إلى عشرين بتخفيف القراءة وتضعيف الركعات، ولتعلمن أن التراويح في عهد عمر رضي الله عنه منها ثبت أنه صلى إحدى عشرة ركعة، ومنها أنه صلى ثلاث عشرة ركعة، ومنها إحدى وعشرين ركعة، ومنها إحدى وعشرين ركعة، وفي موطأ مالك ذكرت الأولى والثانية والرابعة، واستقر الأمر على عشرين ركعة.
میرے نزدیک بعید نہیں کہ حضرت عمرؓ نے گیارہ رکعت (آٹھ تراویح اور تین وتر) کو بیس رکعت میں تبدیل کیا ہو، یعنی قراءت کو کم کیا اور رکعتوں کو بڑھا دیا ہو۔ اس بارے میں (عمر رض سے ) مختلف روایات منقول ہیں: بعض میں گیارہ رکعت، بعض میں تیرہ، بعض میں اکیس اور بعض میں تئیس رکعت کا ذکر ہے۔۔

اب دیکھے انور شاہ کشمیری کا قول فیض الباری سے ويعلم من «موطأ مالك» أنه خفف في القراءة، وزاد في الركعات بتضعيف القراءة، وتضعيف الركعات.

وأما من اكتفى بالركعات الثمانية، وشذ عن السواد الأعظم، وجعل رميهم بالبدعة، فليتأمل عاقبته، والله تعالى أعلم.

ترجمہ: اور امام مالک کی موطا سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے قراءت ہلکی کی اور رکعتوں میں اضافہ کیا، یعنی قراءت کو کم کر کے رکعتیں بڑھا دیں۔
اخری کی اس لائن کا نیچے اسکین میں دیوبندی نے غلط ترجمہ کیا ہے وأما من اكتفى بالركعات الثمانية، وشذ عن السواد الأعظم، وجعل رميهم بالبدعة، فليتأمل عاقبته، والله تعالى أعلم.
درست ترجمہ:
اور جو شخص آٹھ رکعتوں پر اکتفا کرے، اور بڑی جماعت سے الگ ہو جائے، اور ان پر بدعت کا الزام لگائے، تو وہ اپنی عاقبت پر غور کرے۔ اور اللہ تعالیٰ زیادہ جاننے والا ہے۔

ان باطل ترجمہ کرنے والے کو اتنی حیا نہیں آئ کہ عجیب بات انور شاہ خود کہتے

انور شاہ کشمیری کہتے ہیں :
ولا مناص من تسليم أن تراويحه عليه السلام كانت ثمانية ركعات ولم يثبت في رواية من الروايات أنه صلى التراويح والتهجد على حدة في رمضان بل طول التراويح، وبين التراويح والتهجد في عهد صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لم يكن فرق في الركعات بل في الوقت والصفة أي التراويح تكون بالجماعة في المسجد بخالف التهجد في آخر الليل...
...وأما النبي – صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – فصح عنه ثمان ركعات، وأما عشرون ركعة فهو عنه بسند ضعيف وعلى ضعفه اتفاق
اس بات کو تسلیم کرنے کے سوا کوئی چھٹکارہ نہیں کہ آپ ﷺ کی تراویح 8 آٹھ رکعت تھی اور روایات میں سے کسی ایک روایت سے بھی یہ ثابت نہیں آپﷺ نے رمضان میں تراویح اور تہجد علیحدہ پڑھی ہوں۔اور رسول صلیٰ علیہ وسلم کے دور میں تراویح اور تہجد کے درمیان رکعتوں میں کوئی فرق نہیں تھا، لیکن وقت اور صفات میں تھا یعنی تراویح جماعت کے ساتھ مسجد میں اور تہجّد رات کے آخر میں....
( اس کے بعد کشمیری تابعین اور آئمہ اربعہ کے عمل ذکر کرتے ہے پھر کہتے ہے)..
....رہے نبی ﷺ تو ان سے 8اٹھ رکعت ہی ثابت ہے اور رہی 20بیس رکعت تو وہ آپ ﷺ سے ضعیف سند کے ساتھ ہے اور اس کے ضعیف ہونے پر سب کا اتفاق ہے۔
اور اسکین میں اوپر شروع کی ہرے رنگ سے انڈر لائن والی عبارت میں آئمہ اربعہ اور جمہور صحابہ کا عمل ذکر کرتے ہے کشمیری اور امام مالک کے کے قول پر کچھ تبصرے کرتے اہل مدینہ کے اور پھر اہل مکہ کے عمل پر اور پھر حدیث ذکر کرتے عائشة رضي الله عنها کی چار چار رکعت کی خوبورتی والی اور اس روایت کے بارے میں کہتے ہیں:
وفي تصريح أنه حال رمضان، فإن السائل سال عن حال رمضان وغيره كما عند الترمذي ومسلم ۔
اس حدیث میں رمضان کے حال کی تصریح ہے کیو کے سوال کرنے والے نے رمضان اور غیر رمضان کے بارے میں سوال کیا تھا ۔

(العرف الشذی ج2 ص 208)

1 month ago | [YT] | 70

Salafi Ansari

انور شاہ کشمیر دیوبندی کہتے ہیں: عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں 11 رکعات تراويح بھی مضبوط (قوی ) سند سے ثابت .

وليعلم أن التراويح في عهد عمر تروى بخمس صفات،اربعة منها ثابتة بألاسانيد القوية ، منها أنه صلى أحد عشرة ركعة، (العرف الشذی )

1 month ago (edited) | [YT] | 47

Salafi Ansari

افطار کا وقت اہل حدیث حنفی یا شیعہ

وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ ۖ ثُـمَّ اَتِمُّوا الصِّيَامَ اِلَى اللَّيْلِ ۚ

’’فجر کے وقت جب تک سفید دھاری کالی دھاری سے واضح طور پر نمایاں نہ ہوجائے کھاؤ پیو، پھر رات تک روزہ پورا کرو (البقرہ : 187)

آیت میں رات تک روزہ پورا کرنے کا حکم ہیں شیعہ کا ماننا ہے سورج غروب ہونے پر روزہ افطار کا حکم نہیں بلکہ رات تک ہے اور شیعہ کی رات غروب آفتاب کے دس منٹ باد ہی ہوجاتی ہے!! حالانکہ (تاریکی ،اندھیرا) وہ غروب آفتاب کے 10 منٹ نہیں 50 منٹ باد ہوتا ہے، 10 دس مِنٹ باد کون سی تاریکی اندھیرا ہوتا ہے؟ ! ہم اہل سنت مسلمانوں کا ماننا ہے لیل غروب آفتاب سے ہی شروع ہوجاتی ہے جس طرح فجر روشنی ہونے سے پہلے ہی افق کی چوڑائی پر سفیدی انے سے شروع ہوجاتی. افسوس کی بات تو یہ ہے اہل سنت کہلانے والے مسلمانوں میں سے بھی حنفی فقہ والے غروب آفتاب کے بعد 4 یا 5 منٹ انتظار کرتے اگر پانچ منٹ غلط نہیں تو یہ حنفی 10 منٹ تاخیر والوں کو کس منہ سے غلط کہتے ہیں ؟

لعت عربی میں لیل(رات) سے مراد کیا ہے ⬇️

اللَّيْلُ: عقيب النهار ومَبْدَؤُه من غروب الشمس
رات: دن کے بعد میں سورج غروب سے شروع ہوتی ہے.
(المعجم لسان العرب)


ـ لَيْلُ ولَيْلاةُ: من مَغْرِبِ الشمسِ إلى طُلوعِ الفَجْرِ الصادِقِ أو الشمسِ،
رات: سورج غروب ہونے سے لے کر طلوع فجر صادق یا طلوع شمش تک ہے
(المعجم القاموس المحيط)

حدیث رسول ﷺ ہمیں بتاتی⬇️
"تمہیں سحری کھانے سے بلال کی اذان باز نہ رکھے اور نہ ہی لمبی فجر باز رکھے، ہاں وہ فجر باز رکھے جو کناروں میں پھیلتی ہے۔ (سنن الترمذی : 706، صحیح مسلم : 1094)".

اسی طرح "آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفید کالے دھاگے سے مراد فرمایا کہ اس سے تو رات کی تاریکی اور دن کی سفیدی ( صبح صادق ) مراد ہے۔ (صحیح بخاری : 1916، صحیح مسلم : 1090)".

یہاں کوئی کپاس کا دھاگہ مراد نہیں آیت میں ،
لہذا واضح طلوع فجر سے پہلے ہی سحری بند کرنا ہیں،
اسی طرح ثُـمَّ اَتِمُّوا الصِّيَامَ اِلَى اللَّيْلِ روزہ پورا کرو رات تک سے مراد سورج غروب تک ہے سورج غروب کے ساتھ ہی رات شروع ہوجاتی ہیں ۔

"حافظ ابن عبد البر رحمہ اللہ (٤٦٣هـ) فرماتے ہیں :

والنَّهارُ الَّذِي يَجِبُ صِيامُهُ مِن طُلُوعِ الفَجْرِ إلى غُرُوبِ الشَّمْسِ عَلى هَذا إجْماعُ عُلَماءِ المُسْلِمِينَ.

’’جس دن کا روزہ واجب ہے وہ طلوع فجر سے غروب شمس تک ہے اور اس پر مسلمان علماء کا اجماع ہے۔‘‘ (التمهيد : ١٠/ ٦٢)"

مسلمانوں کے مابین اس مسئلے میں کوئی اختلاف نہیں کہ سرخی ظاہر ہونے سے پہلے اُفق پر چوڑائی میں سفید فجر کے ساتھ ہی روزے دار پر کھانا پینا حرام ہو جاتا ہے۔‘‘ (أحكام القرآن : ١/ ٢٨٥)

صحیح بخاری 1954 میں رسول ﷺ نے سورج غروب ہوتے افطار کرنے کا حکم دیا . 5 یا دس منٹ تاخیر کرنے کی کوئی گنجائش نہیں بعض روایات میں تاخیر کو یہو-د-یوں سے مشابہت قرار دیا گیا ہے

اسی طرح افطار کے لیے ستارے کے نکلنے کے انتظار سے منع فرمایا .(صحیح ابن حبان‘‘، کتاب الصوم، ، الحدیث: ۳۵۰۱، ج۵، ص۲۰۹)
اسی طرح صحیح مسلم افطار میں جلدی (سورج غروب ہوتے ہی) کرنے کا حکم ہے
نجوم جمع کا صیغہ ہے دو سے زیادہ کے لیے استعمال ہوتا ہے اگر آپ افطار کر رہے اور تین ستارے نظر آرہے تو آپ کا وقت خلاف سنت ہے اس حدیث کے مطابق

قران اور اہل سنت کی حدیث میں کوئی ٹکراؤ نہیں اب جس کو فجر اور لیل کا مفہوم ہی نہیں معلوم کیا کہ سکتے ایسے کے بارے میں

1 month ago | [YT] | 78

Salafi Ansari

امام السیوطی کہتے تراویح کی تعداد میں علماء کے درمیان اختلاف ہے .(کتاب المصابيح في صلاۃ التراويح 30)
لہٰذا جو کہتے 20 رکعات پر اجماع ہے اُن کا دعویٰ باطل ہے اختلاف سے لا علمی کی بنیاد پر ہے ہم نے پچھلے پوسٹ میں امام مالک اور امام محمد کا قول بھی ثابت کیا 11 رکعات کا ۔
SALAFI Ansari

1 month ago | [YT] | 29

Salafi Ansari

تراویح اور تہجد کو الگ نماز ماننا ایک بدعت ہے ، سلف صالحین کا اس بات پر اجماع ہے ( بشمول قدیم حنفی آئمہ ) اماں عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ کی حدیث 11 رکعات والی تراویح اور تہجد دونوں کے متعلق ہے اسی لیے اس روایت کو دونوں باب میں ذکر کیے محدثین نے ۔ اس بات سے صرف روافض کو اختلاف تھا

1 month ago | [YT] | 39

Salafi Ansari

امام مالک رحمہ اللہ گیارہ رکعات تراویح کے قائل تھے ناقابل انکار ثبوت ۔
مالکی حوالہ
کتاب التبصرة میں علي بن محمد الربعي، أبو الحسن، المعروف باللخمي المالکی ( 478 هـ) کہتے ہے مدونہ میں مالک رح نے کہا 39 رکعات، اور کتاب مختصر ما لیس فی مختصر میں کہا مالک رح نے میں اپنے لیے جو اختیار کرتا ہو وہ وہی ہے جس پر عمر رض نے لوگوں کو جمع کیا تھا گیارہ رکعات وتر کے ساتھ اور یہی رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کی نماز .... صفحہ 822.

کتاب مختصر ما لیس فی مختصر ابن شعبان
شيخ المالكية أبو إسحاق مُحمّد بن القاسم بن شعبان (270 هـ - 355 هـ کی ہے .

اس کے علاوہ
العدوي مالکی کتاب (حاشيته على كفاية الطالب ) میں کہتے امام مالك سے روایت ہے انہوں نے اپنے لیے گیارہ اختیار کیا ....
اور بھی ہے حوالے مالکی کے لیکن تکبر سے پاک کے لیے اتنا کافی ہے

مزید
عبدالحق الأندلسی امام مالک رحمہ اللہ کے شاگرد ابن قاسم رح کی کتاب سے بیان کرتے ہیں امام مالک نے لوگوں کی 39 رکعات تراويح میں کمی کرانے کو ناپسند کیا لیکن خود امام مالک اپنے لیے گیارہ رکعات اختیار کیے
(سند صحیح کتاب التہجد287)

ہم نے اپنی طرف سے نہیں کہا عبدالحق الأندلسی رح نے امام مالک کے شاگرد کی کتاب سے بیان کیا بلکہ خو عبدالحق الأندلسی کہتے ہیں :
وأقتصر من السند على اسم صحاب الكتاب.

ترجمہ :میں نے سندو کو کتاب کے مصنفین کے نام تک محدود رکھا ہے.
اس مذکور سند کو ابن قاسم رح تک محدود رکھا ہے جو امام مالک کے شاگرد ہے لہذا کتاب کے
مصنف وہی ہے انہی کی کتاب سے نقل کیا ہے .
جب عبدالحق الأندلسي نے روایت نقل کیا امام مالک کے شاگرد ابن قاسم کی کتاب سے تو اس کو بے سند کہنے والوں کی کوئی علمی حیثیت نہیں ایسے لوگ کو علم پر بات کرنے کا کوئی حق نہیں ۔

المدونۃ میں بھی ابن قاسم سے اہل مدینہ کا عمل 39 مذکور ہے جسے لوگوں نے امام مالک کا عمل سمجھ لیا تفصیل اگے..

اسی طرح عبدالحق الاندلسی ابن مغیث کے حوالے سے امام مالک کے اور ایک شاگرد اشہب بن عبدالعزيز رح سے بیان کرتے
الذي آخذ به لنفسي في قيام رمضان هو الذي جمع عمر ابن الخطاب عليه الناس أحدعشرة وهي صلاة رسول الله ولا أدري من أحدث هذا الركوع الكثير،
(الصلاة والتهجد،ت عادل. صفحه ٢٨٧)
ترجمہ :
امام مالک اپنے لیے جو تراویح کی رکعات اختیار کرتے وہ وہی ہے جس پر عمر رض نے لوگوں کو جمع کیا اور وہ گیارہ رکعات ہیں اور یہی رسول ﷺ کی نماز تھی، میں نہیں جانتا یہ لوگوں نے اتنی رکعات کہا سے لائے .

مزید امام سیوطی رحمہ اللہ لکھتے :
امام علی بن حسين الجوری وفات 238 کہتے ہے ہمارے ساتھی نے امام مالک سے بیان کیا انہوں نے کہا اپنے لیے وہی پسند کیے جس پر عمر رض نے لوگوں کو جمع کیا اور وہ گیارہ رکعات تھی اور یہی رسول ﷺ کی نماز تھی ..
(کتاب المصابيح صلاۃ التراويح 42)

علامہ عینی حنفی گیارہ رکعات پر کہتے ہیں :
وهوا اختيار مالك لنفسي
امام مالک نے اسے اپنے لیے اختیار کیا
(عمدۃالقاری 128/11)
اور 36 رکعات پر کہتے عینی
وقيل ست و وثلاثون وهو الذي عليه عمل أهل المدينة (ﻭﺍﻟﻮﺗﺮ ﺑﺜﻼﺙ ‏( ﻋﻤﺪﺓ
ﺍﻟﻘﺎﺭﻱ ﺝ ١١ ﺹ٦)
کہا گیا ہے 36 رکعات تو یہ اہل مدینہ کا عمل ہے .

لہذا امام مالک کا قول سند سے اور دیگر طریقوں دونوں سے ثابت ہے ۔ تحقیق سلفی انصاری (نوٹ : اگر آپ کو ہماری خاص تحقیقاتی ویڈیو یا پوسٹ پسند آتی ہے تو آپ ہمیں ہدیہ دے سکتے ہے تا کہ ہم مزید آپ کے لیے مواد تحقیقات فراہم کر سکے )

1 month ago (edited) | [YT] | 97

Salafi Ansari

"سارے حنفی علماء کا اجماع ہے تراویح میں آٹھ رکعت سنت ہے باقی مستحب "
.
ہندوستان میں انگریز کے آشیرباد سے بننے والے مدرسہ دارالعلوم دیوبند سے پہلے کوئی حنفی عالم ایسا نہیں گزرا جو آٹھ رکعت تراویح کے سنت رسول ہونے کا منکر ہو،
دیوبندیو نے ہندوستان میں پیدا ہونے کے بعد حنفیت کا جھوٹا لیبل خود پر لگا کر دیگر سنتوں کی طرح آٹھ رکعت تراویح کی مخالفت شروع کر دی،
ابن نجیم حنفی جو ابوحنیفہ ثانی کے لقب سے مشہور ہیں ان کی کتاب کنز الدقائق کا سکین آپ کے سامنے ہے ،
ابوحنیفہ ثانی فرماتے ہیں :
"بے شک صحیحین(بخاری و مسلم) میں سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی حدیث سے (تراویح) گیارہ رکعت مع وتر ثابت ہے ،اور ہمارے (حنفی) مشائخ کے اصول کے مطابق بیس رکعت میں سے آٹھ رکعت سنت اور باقی بارہ رکعت مستحب ہیں"
.
ابوحنیفہ ثانی کے بیان کے مطابق سارے حنفی علماء بیس رکعت میں سے آٹھ رکعت کو سنت سمجھتے تھے اور باقی بارہ رکعت کو مستحب بلکہ یہ حنفی اصول کے مطابق ہے ،یہ ہے بیس رکعت کی حقیقت، یہ صرف حنفی علماء نہیں بلکہ جو بھی عالم بیس رکعت یا اس سے زائد کا قائل تھا اس کے نزدیک آٹھ رکعت سنت اور باقی مستحب تھیں،
اور ابوحنیفہ ثانی کے بیان سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ان کے نزدیک بخاری و مسلم میں حدیثِ عائشہ تراویح کے متعلق ہے، جبکہ ہندوستان کے دیوبندیو کے نزدیک حدیث عائشہ تراویح کے بارے نہیں بلکہ تہجد کے بارے میں ہے،
.
ہمارا چیلنج ہے ساری دیوبندیت کو ہندوستان میں انگریز کے آشیرباد سے بننے والے مدرسہ دارالعلوم دیوبند سے پہلے ایک حنفی عالم ہی دکھا دو جو آٹھ رکعت تراویح کے سنت رسول ہونے کا منکر ہو،
ایسی آفر کون دے گا تمہیں کہ جن کو تو مانتا ہے انہی سے دکھانے کی چھوٹ دے رہا ہوں

1 month ago | [YT] | 42

Salafi Ansari

سعودی عرب 🇸🇦 میں رمضان المبارک 2026م کا چاند 🌙 نظر آگیا ہے کل بروز بدھ یکم رمضان 18 فروری کو پہلا روزہ اور آج پہلی تراویح ہوگی سعودی میں

1 month ago | [YT] | 13