IHS 0.1 River of knowlage



IHS 0.1 River of knowlage

Story time for all kids
**آسمانوں کے دروازوں کی تلاش**

ایک دن، تین بھائی، حاشر، اشعر، اور یوسف، اپنے گاؤں کے ایک پرانے درخت کے نیچے بیٹھے تھے۔ ان کے دلوں میں آسمان کی وسعتوں کے بارے میں جاننے کا شوق تھا۔ حاشر ہمیشہ آسمان کی جانب دیکھتا اور سوچتا، "کیا وہاں کچھ خاص ہے؟ کیا آسمان میں واقعی دروازے ہیں؟"

اشعر نے مسکراتے ہوئے کہا، "بھائی، کیوں نہ ہم آسمان کے دروازوں کی تلاش کریں؟ ہو سکتا ہے ہمیں کوئی راز مل جائے!"

### **پہلا راستہ: قرآن کی روشنی میں**

حاشر اور اشعر نے اپنے والد سے سنا تھا کہ قرآن میں آسمان کے بارے میں خاص ذکر ہے۔ ایک دن، جب وہ گھر میں تھے، ان کے والد نے انہیں سورۃ المؤمنون کی آیت 17 کا ذکر کیا:
**"وَلَقَدْ خَلَقْنَا فَوْقَكُمْ سَبْعَ طَرَائِقَ"**
والد نے انہیں بتایا کہ یہ آسمان کی سات تہوں کی بات کرتا ہے۔ حاشر نے سوچا، "کیا ہم ان راستوں کی حقیقت جان سکتے ہیں؟"

والد نے کہا، "ہاں، بیٹے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں علم دیا ہے تاکہ ہم کائنات کی وسعتوں کو سمجھ سکیں۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے آسمان کے راستوں کا ذکر کیا ہے، اور اگر تم علم حاصل کرو گے تو تم آسمانوں کے راز جان سکو گے۔"

### **دوسرا راستہ: احادیث کا علم**

پھر ایک دن، والد نے اپنے بیٹوں کو ایک حدیث سنائی، جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
**"اللہ تعالیٰ نے آسمان کو تین طرح کے راستوں میں تقسیم کیا ہے..."**
یہ سن کر حاشر کی آنکھیں چمک اٹھیں۔ "یعنی آسمان میں واقعی راستے ہیں!" والد نے مزید کہا، "بیٹے، علم حاصل کرو اور یقین رکھو کہ اللہ تمہیں وہ سب کچھ عطا کرے گا جو تم جاننا چاہتے ہو۔"

### **یوسف کی شمولیت**

یوسف، جو ان کا چھوٹا بھائی تھا، ہمیشہ بڑے بھائیوں کی باتیں سنتا اور ان کے ساتھ شامل ہونا چاہتا تھا۔ اس نے پوچھا، "کیا میں بھی آسمان کے راستوں کی تلاش میں آپ کے ساتھ جا سکتا ہوں؟"

اشعر نے مسکراتے ہوئے کہا، "ضرور! ہم تینوں مل کر اس راز کی تلاش کریں گے۔"

### **ماں کی محبت اور حوصلہ افزائی**

ان کے سفر کی شروعات سے پہلے، ان کی والدہ نے انہیں دودھ دیا اور حوصلہ دیتے ہوئے کہا، "میرے بچوں، اللہ تمہارے ساتھ ہے۔ جیسے تم اپنے دل میں علم اور اللہ اور رسول اللہ کی محبت رکھتے ہو، ویسے ہی یہ راستے تمہارے لیے کھلیں گے۔ یقین رکھو، تم یہ کر سکتے ہو!"

انہوں نے کہا:
**"بیشک اللہ فرماتا ہے: 'وَلَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللَّهِ'"**
(ترجمہ: اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو) - سورۃ الزمر، آیت 53۔

### **سائنس کا علم: محمد مہدی کا ساتھ**

اسی دوران، گاؤں میں خبر آئی کہ ایک نامور سائنسدان، **محمد مہدی**، ناسا سے آیا ہے۔ وہ آسمان اور خلا کے بارے میں تحقیق کر رہا تھا اور اس کے پاس کئی راز تھے۔ حاشر، اشعر، اور یوسف فوراً اس سے ملنے گئے۔

انہوں نے محمد مہدی سے پوچھا، "کیا آپ ہمیں آسمان کے راستوں کے بارے میں کچھ بتا سکتے ہیں؟"
محمد مہدی نے مسکراتے ہوئے جواب دیا، "آسمان میں واقعی راستے موجود ہیں۔ ناسا کی تحقیق کے مطابق، ہمارے آسمان میں بے شمار ستارے اور سیارے ہیں، جو اپنے مخصوص راستوں پر گردش کر رہے ہیں۔"

محمد مہدی نے مزید وضاحت کی، "ناسا کی 'وائیجر' اور 'پارکر سولر پروب' جیسی مشن نے یہ ثابت کیا ہے کہ خلا میں مختلف راہیں اور قوانین ہیں، جن کے تحت اجرام فلکی حرکت کرتے ہیں۔ یہ دراصل آسمان کی تہوں کے وہی راستے ہیں جن کا ذکر قرآن میں کیا گیا ہے۔"

### **خوابوں میں آسمان**

اس رات، حاشر، اشعر، اور یوسف نے خواب میں ایک روشن دروازہ دیکھا، جو آسمان کی بلندیوں کی طرف جاتا تھا۔ حاشر نے دروازے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا، "یہ دروازہ علم کا ہے، جو ہمیں اللہ کی ہدایت اور کائنات کے رازوں کی طرف لے جاتا ہے۔"

اشعر نے مزید کہا، "یہ دروازہ قرآن اور سائنس کے علم سے کھلتا ہے۔ اگر ہم اللہ کی ہدایت پر عمل کریں اور علم کی جستجو میں رہیں، تو یہ دروازے ہمارے لیے ہمیشہ کھلے رہیں گے۔"

### **حقیقت کی تلاش**

جب وہ بیدار ہوئے تو ان کے دلوں میں عزم اور مضبوط ہو گیا۔ انہوں نے سوچا کہ آسمان کے راستے تلاش کرنا صرف ایک جسمانی سفر نہیں، بلکہ علم اور روحانیت کا سفر بھی ہے۔ ان کے والد ہمیشہ انہیں کہتے تھے، "اللہ پر بھروسہ رکھو اور علم کی جستجو میں کبھی پیچھے نہ ہٹو۔"

### **نتیجہ**

حاشر، اشعر، اور یوسف نے یہ سیکھا کہ آسمان کے راستے صرف وہاں نہیں بلکہ دلوں اور علم میں بھی موجود ہیں۔ جب ہم علم اور ہدایت کی تلاش کرتے ہیں، تو ہم آسمان کی بلندیوں کو چھو لیتے ہیں۔

یہ کہانی ہمیں یہ سمجھاتی ہے کہ قرآن کی تعلیمات، سائنسی تحقیق، اور اللہ اور رسول اللہ کی محبت کا ملاپ ہمارے علم اور ایمان کو بڑھاتا ہے۔ جب ہم علم کی روشنی میں چلتے ہیں، تو ہمیں آسمان کے دروازوں کی حقیقت کا پتہ چلتا ہے، اور اللہ کی رحمت سے ہمیں وہ سب کچھ ملتا ہے جس کی ہم تلاش کرتے ہیں۔

1 year ago | [YT] | 0