دو بھکاری اٹلی کے شہر روم میں آمنے سامنے بیٹھے بھیک مانگ رہے تھے۔ ایک نے اپنے سامنے صلیب رکھی تھی، جب کہ دوسرے نے ایک مورتی سجا رکھی تھی۔ جو بھی شخص وہاں سے گزرتا، دونوں کو دیکھتا اور زیادہ تر عیسائی فقیر کو پیسے ڈال کر آگے چل دیتا۔
یہ سلسلہ جاری تھا کہ وہاں سے ایک پادری گزرا۔ اس نے دونوں کو دیکھا اور پھر ہندو فقیر سے کہا: "تم غلطی کر رہے ہو۔ یہ ایک عیسائی شہر ہے اور یہاں تمہیں زیادہ بھیک نہیں ملے گی، خاص طور پر جب تم ایک عیسائی فقیر کے سامنے بیٹھے ہو۔"
یہ کہہ کر پادری نے ایک نوٹ صلیب والے فقیر کو دیا اور وہاں سے چل دیا۔
یہ منظر دیکھ کر مورتی والے فقیر نے صلیبی فقیر سے طنز کے انداز میں کہا: "شیدے، اب یہ ہم پاکستانیوں کو بزنس کے طریقے سکھائے گا!" . جن کو سمجھ نہی آئی ان کو بتاتا چلوں کہ دونو بھکاری آپس میں ملے ہوئے تھے۔۔ 😁🤪 ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ایسی ہی مزاحیہ/طنزیہ/اصلاحی کہانیاں پڑھنے کے لیے میری پروفائل فالو کر لیں۔ میرے قسط وار ناول پڑھنے کے لیے پروفائل وِزٹ کریں۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ #Latifoonkidunia#fblifestylelife#fblifestyle#photographychallengechallengeraphychallengechallenge#viralphotochallenge#funny
ایک پاگل خانے میں ایک مریض سوئمنگ پول کے کنارے ٹہل رہا تھا کہ اس نے اچانک دیکھا: ایک پاگل لڑکی پول میں کود کر سیدھی تہہ تک جا پہنچی اور غائب ہوگئی۔ یہ منظر دیکھ کر وہ مریض فوراً بغیر سوچے سمجھے تالاب میں کود گیا، نیچے تک تیر کر پہنچا اور لڑکی کو پکڑ کر باہر نکال لایا۔
جب یہ بات پاگل خانے کے ڈائریکٹر تک پہنچی تو اس نے مریض کو بلایا اور کہا: "تمہارے لیے ایک اچھی خبر ہے اور ایک بری خبر۔"
مریض نے دلچسپی سے پوچھا: "اچھی خبر کیا ہے؟"
ڈائریکٹر بولا: "کل تم نے جس طرح ایک لڑکی کو ڈوبنے سے بچایا ہے، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ تمہارے اندر انسانی ہمدردی کے جذبات جاگ چکے ہیں اور تمہارا ذہن بھی ٹھیک کام کرنے لگا ہے۔ اس لیے بورڈ نے فیصلہ کیا ہے کہ تمہیں گھر جانے کی اجازت دی جائے۔"
پاگل خوشی سے اچھل پڑا: "اچھا جی! لیکن بری خبر کیا ہے؟"
ڈائریکٹر نے افسوس سے کہا: "جس لڑکی کی تم نے جان بچائی تھی... وہ چھت پر جا کر گلے میں رسی ڈال کر خودکشی کر چکی ہے۔ اور..."
پاگل نے فوراً بات کاٹ دی: "نہیں جناب! اس نے خودکشی نہیں کی۔ میں نے اُسے پانی سے نکال کر سوکھنے کے لیے رسی سے لٹکایا تھا۔ تو بتائیں... میں گھر کب جا سکتا ہوں؟" #منقول 😅😅😅 #Copy
ایک بادشاہ نے تین بے گناہ افراد کو سزائے موت سنا دی۔ بادشاہ کے حکم کی تعمیل میں ان تینوں کو پھانسی گھاٹ پر لے جایا گیا جہاں ایک بہت بڑا لکڑی کا تختہ تھا
جس کے ساتھ پتھروں سے بنا ایک مینار اور مینار پر ایک بہت بڑا بھاری پتھر مضبوط رسے سے بندھا ہوا ایک چرخے پر جھول رہا تھا، رسے کو ایک طرف سے کھینچ کر جب چھوڑا جاتا تھا تو دوسری طرف بندھا ہوا پتھرا زور سے نیچے گرتا اور نیچے آنے والی کسی بھی چیز کو کچل کر رکھ دیتا تھا...!!!!
چنانچہ ان تینوں کو اس موت کے تختے کے ساتھ کھڑا کیا گیا، ان میں سے... ایک عالم دوسرا وکیل اور تیسرا فلسفی سب سے پہلے عالم کو اس تختہ پر عین پتھر گرنے کے مقام پر لٹایا گیا اور اس کی آخری خواہش پوچھی گئی تو عالم کہنے لگا میرا خدا پر پختہ یقین ہے وہی موت دے گا اور زندگی بخشے گا۔ بس اس کے سوا کچھ نہیں کہنا۔ اس کے بعد رسے کو جیسے ہی کھولا تو پتھر پوری قوت سے نیچے آیا اور عالم کے سر کے اوپر آکر رک گیا۔ یہ دیکھ کر سب حیران رہ گئے اور عالم کے پختہ یقین کی وجہ سے اس کی جان بچ گئی اور رسہ واپس کھینچ لیا گیا...!!!!
اس کے بعد وکیل کی باری تھی اس کو بھی تختہ دار پر لٹا کر جب آخری خواہش پوچھی گئی تو وہ کہنے لگا میں حق اور سچ کا وکیل ہوں اور جیت ہمیشہ انصاف کی ہوتی ہے۔ میں بے گناہ ہوں اور یہاں بھی میرا رب انصاف کرے گا۔ اس کے بعد رسے کو دوبارہ کھولا گیا پھر پتھر پوری قوت سے نیچے آیا اور اس بار بھی وکیل کے سر پر پہنچ کر رک گیا۔ پھانسی دینے والے اس انصاف سے حیران رہ گئے اور وکیل کی جان بھی بچ گئی...!!!!
اس کے بعد فلسفی کی باری تھی اسے جب تختے پر لٹا کر آخری خواہش کا پوچھا گیا تو وہ کہنے لگا، "اس دنیا میں نہ ہی کوئی خدا ہے اور نہ وہ کسی کو بچاتا ہے۔ عالم کو نہ خدا نے بچایا ہے اور نہ ہی وکیل کو اس کے انصاف نے، دراصل میں نے غور سے دیکھا ہے کہ رسے پر ایک جگہ گانٹھ ہے جو چرخی کے اوپر گھومنے میں رکاوٹ کی وجہ بنتی ہے جس سے رسہ پورا کُھلتا نہیں اور پتھر پورا نیچے نہیں گرتا۔" فلسفی کی بات سُن کر سب نے رسے کو بغور دیکھا تو وہاں واقعی گانٹھ تھی۔ انہوں نے جب وہ گانٹھ کھول کر رسہ آزاد کیا تو پتھر پوری قوت سے نیچے گرا اور فلسفی کا ذہین فطین سر کچل کر رکھ دیا...!!!!
1950ء ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک آدمی کی شادی ہوئی۔ اس نے بیوی پر رعب جمانے کے لیے سہاگ رات کو پلنگ کے پاؤں سے بکری کا بچہ باندھ دیا۔ جب بکری کا بچہ چیخا تو اس نے کہا، “چپ ہوجا، ورنہ تجھے ذبح کر دوں گا۔” آخر کار جب بکری کا بچہ تیسری بار چیخا تو وہ آدمی اسے وہاں ہی ذبح کر دیا۔ پھر وہ بیوی کو ڈرتے ہوئے دیکھ کر بولا، "جب کوئی میرے سامنے بلند آواز میں چیخے گا تو میں اس کا یہی حشر کروں گا۔" بیوی سہم گئی اور ساری زندگی میاں کے سامنے چُوں تک نہ کی۔
2025ء دوسری دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک آدمی کی شادی ہوئی۔ اس نے بیوی پر رعب جمانے کے لیے سہاگ رات کو پلنگ کے پاؤں سے بکری کا بچہ باندھ دیا۔ جب بکری کا بچہ چیخا تو اس نے کہا، "چپ ہوجا، ورنہ تجھے ذبح کر دوں گا۔"
جب بکری کا بچہ تیسری بار چیخا تو بیوی نے پستول نکال کر بکری کے بچے کو وہاں ہی گولی مار دی اور بولی، "تم تو صرف تڑی لگاتے ہو، میں بندے کو ٹھوک دیتی ہوں۔" پھر شوہر نے کبھی چوں تک نہ کی
سبق: مہربانی کرو اور دادا بننے کی کوشش نہ کرو، یہ 2025ء ہے۔ چپ چاپ ٹائم پاس کرو😅 #
ایک دفعہ کا ذکر ہے 😅😅😅 ایک جن نے ایک پاکستانی سے سودا کیا کہ وہ کھیت بھی دے گا اور بیج بھی، اور پاکستانی اس میں فصل اُگائے گا۔ طے پایا کہ فصل کا آدھا حصہ پاکستانی کا اور آدھا حصہ جن کا ہوگا۔
جن نے کہا: "یاد رکھنا، فصل کے اوپر والا حصہ میرا ہوگا، باقی تمہارا۔"
پاکستانی بولا: "ٹھیک ہے جناب!"
پاکستانی نے آلو کی فصل اگائی۔ جب فصل تیار ہوئی تو معاہدے کے مطابق جن کو فصل کا اوپر والا حصہ ملا... یعنی سوکھی ڈنڈیاں اور بھوسہ... جبکہ پاکستانی آلو اٹھا کر خوشی خوشی گھر لے گیا۔
اگلی بار جن نے کہا: "اس دفعہ میں فصل کا نچلا حصہ لوں گا، باقی تمہارا۔"
پاکستانی نے مسکرا کر کہا: "جی جناب، جیسے آپ کی مرضی۔"
اس مرتبہ پاکستانی نے گندم کاشت کی۔ جب فصل تیار ہوئی تو جن کو جڑیں اور خشک تنکے ملے، اور پاکستانی سونے جیسی چمکتی گندم گھر لے گیا۔
اب کی بار جن نے جھنجھلا کر کہا: "اچھا، اس بار اوپر اور نیچے والا حصہ میرا ہوگا، درمیان والا تمہارا!"
پاکستانی نے چالاکی سے سر ہلایا اور مکئی کی فصل کاشت کر دی۔ جب فصل تیار ہوئی تو معاہدے کے مطابق جن کو اوپر کی بالیاں اور نیچے کی جڑیں ملیں، اور پاکستانی درمیان والے بھٹے اٹھا کر ہنستے ہوئے چل دیا۔
یہ دیکھ کر جن نے ہاتھ جوڑ کر کہا: "پناہ اے اللہ! اب دوبارہ کسی پاکستانی کے ساتھ تجارت نہیں کروں گا!"
ایک دلچسپ نہایت ہی سبق آموز سٹوری۔ جنگل میں شیروں نے گدھے کا بچہ شکار کر لیا۔ گدھے کا بچہ کافی حد تک زخمی تھا تو ایک بزرگ شیر نے کہا: اسے مزید مارنے یا کھانے کے بجائے اسے اپنے پاس رکھ کر پال پوس کر بڑا کرنا زیادہ فائدہ مند ہے... بوڑھے شیر کی بات مان کر شیروں نے اس گدھے کو گود لے لیا اور اس کا اچھے سے خیال رکھا حتیٰ کہ وہ شیروں کا وفادار گدھا بن گیا... ایک دن اسی بزرگ شیر نے کہا، اب وقت آگیا ہے کہ اس گدھے کو واپس اس کی برادری میں چھوڑ دیا جائے... شیروں نے ایسا ہی کیا اور اس گدھے کو اپنی ہمراہی میں لے جا کر گدھا برادری کے سپرد کردیا اور کہا یہ گدھا تم میں سے باقی گدھوں سے ممتاز ہے کیونکہ یہ ہمارا حمایت یافتہ گدھا ہے... گدھوں نے فورا اس گدھے کو اپنا سردار مان لیا اور شیروں کی حمایت حاصل ہونے وجہ سے اس کے ہر حکم کی تعمیل کرتے۔ اور نافرمانی سے ڈرتے رہتے۔ کیونکہ جو بھی گدھا اس سردار گدھے کی حکم عدولی کرتا تو سردار گدھا اس نافرمان گدھے کو گرفتار کرکے شیروں کے حوالے کر دیتا اور وہ اس نافرمان کو چیر پھاڑ کر کھا جاتے تھے.. اس طرح گدھوں کو سردار مل گیا اور شیروں کو شکار کی پریشانی سے نجات مل گئی۔۔۔ جہاں تک بات ہے اس سردار گدھے کی تو وہ گدھوں کے نزدیک شیر تھا اور شیروں کے درمیان گدھا تھا...
سراج گنج کی ایک خاتون، صالحہ بیگم (65) چل بسیں، وہ اپنے پیچھے 3 بوریاں چھوڑ کر چلی گئیں جو اس نے ساری زندگی بھیک مانگ کر جمع کی تھیں۔
اس نے ہر سکہ بچایا، لیکن ایک بھی سکہ اپنے ساتھ نہ لے جا سکی۔ یہ زندگی کی حقیقت ہے مال ٹھہرتا ہے، جسم مٹتے رہتے ہیں۔
ان کے رزق میں جو لکھا ہے اس سے زیادہ کوئی نہیں لے سکتا۔ اگر یہ مقدر ہے، تو آپ اسے حاصل کریں گے چاہے کچھ بھی ہو۔ آپ اس سے لطف اندوز نہیں ہو سکتے جو آپ کا نہیں ہے۔ ہمیں صرف وہی ملتا ہے جو ہمارے رزق میں لکھا ہے، ایک قطرہ زیادہ نہیں، ایک قطرہ کم نہیں۔
اس لیے زندگی کو "زیادہ سے زیادہ" کا پیچھا کرنے میں گزارنے کے بجائے اس چیز کی قدر کریں جو آپ کے پاس پہلے سے ہے۔ اپنے پیاروں کے ساتھ اپنی نعمتوں سے لطف اندوز ہوں۔
لوگوں کو دھوکہ دینے کا کوئی فائدہ نہیں۔ آپ کسی بھی چیز سے لطف اندوز نہیں ہو سکتے جو آپ کے لیے نہیں ہے۔ ہم سب کو اس سادہ سچائی کو سمجھنے کی عقل ہو کیونکہ ہم سب خالی ہاتھ چلے جاتے ہیں۔
Hamza Yousaf
دو بھکاری اٹلی کے شہر روم میں آمنے سامنے بیٹھے بھیک مانگ رہے تھے۔ ایک نے اپنے سامنے صلیب رکھی تھی، جب کہ دوسرے نے ایک مورتی سجا رکھی تھی۔ جو بھی شخص وہاں سے گزرتا، دونوں کو دیکھتا اور زیادہ تر عیسائی فقیر کو پیسے ڈال کر آگے چل دیتا۔
یہ سلسلہ جاری تھا کہ وہاں سے ایک پادری گزرا۔ اس نے دونوں کو دیکھا اور پھر ہندو فقیر سے کہا:
"تم غلطی کر رہے ہو۔ یہ ایک عیسائی شہر ہے اور یہاں تمہیں زیادہ بھیک نہیں ملے گی، خاص طور پر جب تم ایک عیسائی فقیر کے سامنے بیٹھے ہو۔"
یہ کہہ کر پادری نے ایک نوٹ صلیب والے فقیر کو دیا اور وہاں سے چل دیا۔
یہ منظر دیکھ کر مورتی والے فقیر نے صلیبی فقیر سے طنز کے انداز میں کہا:
"شیدے، اب یہ ہم پاکستانیوں کو بزنس کے طریقے سکھائے گا!"
.
جن کو سمجھ نہی آئی ان کو بتاتا چلوں کہ دونو بھکاری آپس میں ملے ہوئے تھے۔۔ 😁🤪
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ایسی ہی مزاحیہ/طنزیہ/اصلاحی کہانیاں پڑھنے کے لیے میری پروفائل فالو کر لیں۔
میرے قسط وار ناول پڑھنے کے لیے پروفائل وِزٹ کریں۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
#Latifoonkidunia #fblifestylelife#fblifestyle #photographychallengechallengeraphychallengechallenge #viralphotochallenge #funny
1 month ago | [YT] | 0
View 0 replies
Hamza Yousaf
ایک پاگل خانے میں ایک مریض سوئمنگ پول کے کنارے ٹہل رہا تھا کہ اس نے اچانک دیکھا: ایک پاگل لڑکی پول میں کود کر سیدھی تہہ تک جا پہنچی اور غائب ہوگئی۔
یہ منظر دیکھ کر وہ مریض فوراً بغیر سوچے سمجھے تالاب میں کود گیا، نیچے تک تیر کر پہنچا اور لڑکی کو پکڑ کر باہر نکال لایا۔
جب یہ بات پاگل خانے کے ڈائریکٹر تک پہنچی تو اس نے مریض کو بلایا اور کہا:
"تمہارے لیے ایک اچھی خبر ہے اور ایک بری خبر۔"
مریض نے دلچسپی سے پوچھا: "اچھی خبر کیا ہے؟"
ڈائریکٹر بولا:
"کل تم نے جس طرح ایک لڑکی کو ڈوبنے سے بچایا ہے، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ تمہارے اندر انسانی ہمدردی کے جذبات جاگ چکے ہیں اور تمہارا ذہن بھی ٹھیک کام کرنے لگا ہے۔ اس لیے بورڈ نے فیصلہ کیا ہے کہ تمہیں گھر جانے کی اجازت دی جائے۔"
پاگل خوشی سے اچھل پڑا:
"اچھا جی! لیکن بری خبر کیا ہے؟"
ڈائریکٹر نے افسوس سے کہا:
"جس لڑکی کی تم نے جان بچائی تھی... وہ چھت پر جا کر گلے میں رسی ڈال کر خودکشی کر چکی ہے۔ اور..."
پاگل نے فوراً بات کاٹ دی:
"نہیں جناب! اس نے خودکشی نہیں کی۔ میں نے اُسے پانی سے نکال کر سوکھنے کے لیے رسی سے لٹکایا تھا۔ تو بتائیں... میں گھر کب جا سکتا ہوں؟"
#منقول 😅😅😅
#Copy
1 month ago | [YT] | 0
View 0 replies
Hamza Yousaf
ایک بادشاہ نے تین بے گناہ افراد کو سزائے موت سنا دی۔ بادشاہ کے حکم کی تعمیل میں ان تینوں کو پھانسی گھاٹ پر لے جایا گیا جہاں ایک بہت بڑا لکڑی کا تختہ تھا
جس کے ساتھ پتھروں سے بنا ایک مینار اور مینار پر ایک بہت بڑا بھاری پتھر مضبوط رسے سے بندھا ہوا ایک چرخے پر جھول رہا تھا، رسے کو ایک طرف سے کھینچ کر جب چھوڑا جاتا تھا تو دوسری طرف بندھا ہوا پتھرا زور سے نیچے گرتا اور نیچے آنے والی کسی بھی چیز کو کچل کر رکھ دیتا تھا...!!!!
چنانچہ ان تینوں کو اس موت کے تختے کے ساتھ کھڑا کیا گیا، ان میں سے...
ایک عالم
دوسرا وکیل
اور تیسرا فلسفی
سب سے پہلے عالم کو اس تختہ پر عین پتھر گرنے کے مقام پر لٹایا گیا اور اس کی آخری خواہش پوچھی گئی تو عالم کہنے لگا میرا خدا پر پختہ یقین ہے وہی موت دے گا اور زندگی بخشے گا۔ بس اس کے سوا کچھ نہیں کہنا۔
اس کے بعد رسے کو جیسے ہی کھولا تو پتھر پوری قوت سے نیچے آیا اور عالم کے سر کے اوپر آکر رک گیا۔ یہ دیکھ کر سب حیران رہ گئے اور عالم کے پختہ یقین کی وجہ سے اس کی جان بچ گئی اور رسہ واپس کھینچ لیا گیا...!!!!
اس کے بعد وکیل کی باری تھی اس کو بھی تختہ دار پر لٹا کر جب آخری خواہش پوچھی گئی تو وہ کہنے لگا میں حق اور سچ کا وکیل ہوں اور جیت ہمیشہ انصاف کی ہوتی ہے۔ میں بے گناہ ہوں اور یہاں بھی میرا رب انصاف کرے گا۔
اس کے بعد رسے کو دوبارہ کھولا گیا پھر پتھر پوری قوت سے نیچے آیا اور اس بار بھی وکیل کے سر پر پہنچ کر رک گیا۔ پھانسی دینے والے اس انصاف سے حیران رہ گئے اور وکیل کی جان بھی بچ گئی...!!!!
اس کے بعد فلسفی کی باری تھی اسے جب تختے پر لٹا کر آخری خواہش کا پوچھا گیا تو وہ کہنے لگا،
"اس دنیا میں نہ ہی کوئی خدا ہے اور نہ وہ کسی کو بچاتا ہے۔ عالم کو نہ خدا نے بچایا ہے اور نہ ہی وکیل کو اس کے انصاف نے، دراصل میں نے غور سے دیکھا ہے کہ رسے پر ایک جگہ گانٹھ ہے جو چرخی کے اوپر گھومنے میں رکاوٹ کی وجہ بنتی ہے جس سے رسہ پورا کُھلتا نہیں اور پتھر پورا نیچے نہیں گرتا۔"
فلسفی کی بات سُن کر سب نے رسے کو بغور دیکھا تو وہاں واقعی گانٹھ تھی۔ انہوں نے جب وہ گانٹھ کھول کر رسہ آزاد کیا تو پتھر پوری قوت سے نیچے گرا اور فلسفی کا ذہین فطین سر کچل کر رکھ دیا...!!!!
سبق ہے کہ
بعض اوقات بہت کچھ جانتے ہوئے بھی منہ بند رکھنا حکمت میں شمار ہوتا ہے
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ایسی ہی مزاحیہ/طنزیہ/اصلاحی کہانیاں پڑھنے کے لیے میری پروفائل فالو کر لیں۔
#luckyeducationalmaterial #photographychallengechallengeraphychallengechallenge #viralphotochallenge #viralchallenge #PhotoEditingChallenge #photochallenge #funny
1 month ago | [YT] | 0
View 0 replies
Hamza Yousaf
1950ء
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک آدمی کی شادی ہوئی۔ اس نے بیوی پر رعب جمانے کے لیے سہاگ رات کو پلنگ کے پاؤں سے بکری کا بچہ باندھ دیا۔ جب بکری کا بچہ چیخا تو اس نے کہا، “چپ ہوجا، ورنہ تجھے ذبح کر دوں گا۔” آخر کار جب بکری کا بچہ تیسری بار چیخا تو وہ آدمی اسے وہاں ہی ذبح کر دیا۔ پھر وہ بیوی کو ڈرتے ہوئے دیکھ کر بولا، "جب کوئی میرے سامنے بلند آواز میں چیخے گا تو میں اس کا یہی حشر کروں گا۔"
بیوی سہم گئی اور ساری زندگی میاں کے سامنے چُوں تک نہ کی۔
2025ء
دوسری دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک آدمی کی شادی ہوئی۔ اس نے بیوی پر رعب جمانے کے لیے سہاگ رات کو پلنگ کے پاؤں سے بکری کا بچہ باندھ دیا۔ جب بکری کا بچہ چیخا تو اس نے کہا،
"چپ ہوجا، ورنہ تجھے ذبح کر دوں گا۔"
جب بکری کا بچہ تیسری بار چیخا تو بیوی نے پستول نکال کر بکری کے بچے کو وہاں ہی گولی مار دی اور بولی،
"تم تو صرف تڑی لگاتے ہو، میں بندے کو ٹھوک دیتی ہوں۔"
پھر شوہر نے کبھی چوں تک نہ کی
سبق: مہربانی کرو اور دادا بننے کی کوشش نہ کرو، یہ 2025ء ہے۔ چپ چاپ ٹائم پاس کرو😅
#
1 month ago | [YT] | 0
View 0 replies
Hamza Yousaf
ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ تھا
ﺟﺲ ﻧﮯ ﺩﺱ ﺟﻨﮕﻠﯽ ﮐﺘﮯ ﭘﺎل رکھے ﺗﮭﮯ۔ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻭﺯﯾﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺟﺐ ﺑﮭﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﻭﺯﯾﺮ ﻏﻠﻄﯽ ﮐﺮﺗﺎ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺍﺳﮯ ﺍﻥ ﮐﺘﻮﮞ ﮐﮯ ﺁﮔﮯ ﭘﮭﻨﮑﻮﺍ ﺩﯾﺘﺎ ﮐﺘﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺑﻮﭨﯿﺎﮞ ﻧﻮﭺ ﻧﻮﭺ ﮐﺮ ﻣﺎﺭ ﺩﯾﺘﮯ۔
ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﺧﺎﺹ ﻭﺯﯾﺮ ﻧﮯ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﻮ ﻏﻠﻂ ﻣﺸﻮﺭﮦ ﺩﮮ ﺩﯾﺎ ﺟﻮ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﻮ ﺑﻠﮑﻞ ﭘﺴﻨﺪ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﯾﺎ۔
ﺍﺱ ﻧﮯ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﺳﻨﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﻭﺯﯾﺮ ﮐﻮ ﮐﺘﻮﮞ ﮐﮯ ﺁﮔﮯ ﭘﮭﯿﻨﮏ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ۔
ﻭﺯﯾﺮ ﻧﮯ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺳﮯ ﺍﻟﺘﺠﺎ ﮐﯽ ﮐﮧ ﺣﻀﻮﺭ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺩﺱ ﺳﺎﻝ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺧﺪﻣﺖ ﻣﯿﮟ ﺩﻥ ﺭﺍﺕ ﺍﯾﮏ ﮐﺌﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﺍﯾﮏ ﻏﻠﻄﯽ ﭘﺮ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﺗﻨﯽ ﺑﮍﯼ ﺳﺰﺍ ﺩﮮ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﺁﭖ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﺳﺮ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﭘﺮ ﻟﯿﮑﻦ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﮯﻟﻮﺙ ﺧﺪﻣﺖ ﮐﮯ ﻋﻮﺽ ﻣﺠﮭﮯ ﺁﭖ ﺻﺮﻑ ﺩﺱ ﺩﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﻣﮩﻠﺖ ﺩﯾﮟ ﭘﮭﺮ بے شک ﻣﺠﮭﮯ ﮐﺘﻮﮞ کے سامنے ﭘﮭﻨﮑﻮﺍ ﺩﯾﮟ۔
ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﯾﮧ ﺳﻦ ﮐﺮ ﺩﺱ ﺩﻥ ﮐﯽ ﻣﮩﻠﺖ ﺩﯾﻨﮯ ﭘﺮ ﺭﺍﺿﯽ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ۔
ﻭﺯﯾﺮ ﻭﮨﺎﮞ ﺳﮯ ﺳﯿﺪﮬﺎ ﺭﮐﮭﻮﺍﻟﮯ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﮔﯿﺎ ﺟﻮ ﺍﻥ ﮐﺘﻮﮞ ﮐﯽ ﺣﻔﺎﻇﺖ ﭘﺮ ﻣﺎﻣﻮﺭ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺟﺎ ﮐﺮ ﮐﮩﺎ
ﻣﺠﮭﮯ ﺩﺱ ﺩﻥ ﺍﻥ ﮐﺘﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮔﺰﺍﺭﻧﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻣﮑﻤﻞ ﺭﮐﮭﻮﺍﻟﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﺮﻭﻧﮕﺎ۔
ﺭﮐﮭﻮﺍﻻ ﻭﺯﯾﺮ ﮐﮯ ﺍﺱ ﻓﯿﺼﻠﮯ ﮐﻮ ﺳﻦ ﮐﺮ ﭼﻮﻧﮑﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﭘﮭﺮ ﺍﺟﺎﺯﺕ ﺩﮮ ﺩﯼ۔
ﺍﻥ ﺩﺱ ﺩﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻭﺯﯾﺮ ﻧﮯ ﮐﺘﻮﮞ ﮐﮯ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﭘﯿﻨﮯ , ﺍﻭﮌﮬﻨﮯ ﺑﭽﮭﻮﻧﮯ، ﻧﮩﻼﻧﮯ ﺗﮏ ﮐﮯ ﺳﺎﺭﮮ ﮐﺎﻡ ﺍﭘﻨﮯ ﺫﻣﮯ لے کر ﻧﮩﺎﯾﺖ ﮨﯽ ﺗﻨﺪﮨﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﺮ ﺍﻧﺠﺎﻡ ﺩﯾﺌﮯ۔
ﺩﺱ ﺩﻥ ﻣﮑﻤﻞ ﮨﻮﺋﮯ
ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ سپاہیوں ﺳﮯ کہہ کر ﻭﺯﯾﺮ ﮐﻮ ﮐﺘﻮﮞ کے سامنے ﭘﮭﻨﮑﻮﺍﯾﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﻭﮨﺎﮞ ﮐﮭﮍﺍ ﮨﺮ ﺷﺨﺺ ﺍﺱ ﻣﻨﻈﺮ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺣﯿﺮﺍﻥ رہ گیا ﮐﮧ ﺁﺝ ﺗﮏ ﻧﺠﺎﻧﮯ ﮐﺘﻨﮯ ﮨﯽ ﻭﺯﯾﺮ ﺍﻥ ﮐﺘﻮﮞ ﮐﮯ ﻧﻮﭼﻨﮯ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﺎﻥ ﮔﻨﻮﺍ ﺑﯿﭩﮭﮯ
لیکن ﺁﺝ ﯾﮩﯽ ﮐﺘﮯ ﺍﺱ ﻭﺯﯾﺮ ﮐﮯ ﭘﯿﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﭼﺎﭦ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﯾﮧ ﺳﺐ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺍ ﺁﺝ ﺍﻥ ﮐﺘﻮﮞ ﮐﻮ؟
ﻭﺯﯾﺮ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ،
ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺳﻼﻣﺖ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﻮ ﯾﮩﯽ ﺩﮐﮭﺎﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺻﺮﻑ ﺩﺱ ﺩﻥ ﺍﻥ ﮐﺘﻮﮞ ﮐﯽ ﺧﺪﻣﺖ ﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﺍﻥ ﺩﺱ ﺩﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﺌﮯ ﮔﺌﮯ ﺍﺣﺴﺎﻧﺎﺕ ﺑﮭﻮﻝ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﺎ ﺭﮨﮯ۔
ﺍﻭﺭ ﯾﮩﺎﮞ ﺍﭘﻨﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﮯ ﺩﺱ ﺳﺎﻝ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺧﺪﻣﺖ ﮐﺮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺩﻥ ﺭﺍﺕ ﺍﯾﮏ ﮐﺮ ﺩﯾﺌﮯ
ﻟﯿﮑﻦ ﺁﭖ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﺍﯾﮏ ﻏﻠﻄﯽ ﭘﺮ ﻣﯿﺮﯼ ﺳﺎﺭﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﯽ ﺧﺪﻣﺖ ﮔﺰﺍﺭﯼ ﮐﻮ ﭘﺲ ﭘﺸﺖ ﮈﺍﻝ ﺩﯾﺎ۔
ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﻮ ﺷﺪﺕ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﻏﻠﻄﯽ ﮐﺎ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﮨﻮﺍ، ﺍﺱ ﻧﮯ ﻭﺯﯾﺮ ﮐﻮ ﺍﭨﮭﻮﺍ ﮐﺮ ﻣﮕﺮﻣﭽﮭﻮﮞ ﮐﮯ ﺗﺎﻻﺏ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﻨﮑﻮﺍ ﺩﯾﺎ۔
ﻧﻮﭦ: ﺟﺐ ﻣﯿﻨﯿﺠﻤﻨﭧ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﮐﺮ ﻟﮯ ﮐﮧ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺑﺠﺎﻧﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺑﺲ ﺑﺠﺎﻧﯽ ﮨﮯ..!!😅
_________________________________
#photographychallengechallengeraphychallengechallenge #viralphotochallenge #viralchallenge #photographychallenge #PhotoEditingChallenge #photochallenge #funny
1 month ago | [YT] | 0
View 0 replies
Hamza Yousaf
ایک دفعہ کا ذکر ہے 😅😅😅
ایک جن نے ایک پاکستانی سے سودا کیا کہ وہ کھیت بھی دے گا اور بیج بھی، اور پاکستانی اس میں فصل اُگائے گا۔ طے پایا کہ فصل کا آدھا حصہ پاکستانی کا اور آدھا حصہ جن کا ہوگا۔
جن نے کہا:
"یاد رکھنا، فصل کے اوپر والا حصہ میرا ہوگا، باقی تمہارا۔"
پاکستانی بولا:
"ٹھیک ہے جناب!"
پاکستانی نے آلو کی فصل اگائی۔ جب فصل تیار ہوئی تو معاہدے کے مطابق جن کو فصل کا اوپر والا حصہ ملا... یعنی سوکھی ڈنڈیاں اور بھوسہ...
جبکہ پاکستانی آلو اٹھا کر خوشی خوشی گھر لے گیا۔
اگلی بار جن نے کہا:
"اس دفعہ میں فصل کا نچلا حصہ لوں گا، باقی تمہارا۔"
پاکستانی نے مسکرا کر کہا:
"جی جناب، جیسے آپ کی مرضی۔"
اس مرتبہ پاکستانی نے گندم کاشت کی۔ جب فصل تیار ہوئی تو جن کو جڑیں اور خشک تنکے ملے، اور پاکستانی سونے جیسی چمکتی گندم گھر لے گیا۔
اب کی بار جن نے جھنجھلا کر کہا:
"اچھا، اس بار اوپر اور نیچے والا حصہ میرا ہوگا، درمیان والا تمہارا!"
پاکستانی نے چالاکی سے سر ہلایا اور مکئی کی فصل کاشت کر دی۔
جب فصل تیار ہوئی تو معاہدے کے مطابق جن کو اوپر کی بالیاں اور نیچے کی جڑیں ملیں، اور پاکستانی درمیان والے بھٹے اٹھا کر ہنستے ہوئے چل دیا۔
یہ دیکھ کر جن نے ہاتھ جوڑ کر کہا:
"پناہ اے اللہ! اب دوبارہ کسی پاکستانی کے ساتھ تجارت نہیں کروں گا!"
_________________________________
1 month ago | [YT] | 0
View 0 replies
Hamza Yousaf
ایک دلچسپ نہایت ہی سبق آموز سٹوری۔
جنگل میں شیروں نے گدھے کا بچہ شکار کر لیا۔
گدھے کا بچہ کافی حد تک زخمی تھا تو ایک بزرگ شیر نے کہا: اسے مزید مارنے یا کھانے کے بجائے اسے اپنے پاس رکھ کر پال پوس کر بڑا کرنا زیادہ فائدہ مند ہے...
بوڑھے شیر کی بات مان کر شیروں نے اس گدھے کو گود لے لیا اور اس کا اچھے سے خیال رکھا حتیٰ کہ وہ شیروں کا وفادار گدھا بن گیا...
ایک دن اسی بزرگ شیر نے کہا، اب وقت آگیا ہے کہ اس گدھے کو واپس اس کی برادری میں چھوڑ دیا جائے...
شیروں نے ایسا ہی کیا اور اس گدھے کو اپنی ہمراہی میں لے جا کر گدھا برادری کے سپرد کردیا اور کہا یہ گدھا تم میں سے باقی گدھوں سے ممتاز ہے کیونکہ یہ ہمارا حمایت یافتہ گدھا ہے...
گدھوں نے فورا اس گدھے کو اپنا سردار مان لیا اور
شیروں کی حمایت حاصل ہونے وجہ سے اس کے ہر حکم کی تعمیل کرتے۔ اور نافرمانی سے ڈرتے رہتے۔
کیونکہ جو بھی گدھا اس سردار گدھے کی حکم عدولی کرتا تو سردار گدھا اس نافرمان گدھے کو گرفتار کرکے شیروں کے حوالے کر دیتا اور وہ اس نافرمان کو چیر پھاڑ کر کھا جاتے تھے..
اس طرح گدھوں کو سردار مل گیا اور شیروں کو شکار کی پریشانی سے نجات مل گئی۔۔۔
جہاں تک بات ہے اس سردار گدھے کی تو وہ گدھوں کے نزدیک شیر تھا اور شیروں کے درمیان گدھا تھا...
2 months ago | [YT] | 1
View 0 replies
Hamza Yousaf
Log in
You said:
جج اور ملزم کا مزاحیہ مکالمہ😅😅😅 ﺟﺞ : ﻗﺘﻞ ﮐﺲ ﻧﮯ ﮐﯿﺎ؟ ﻣﻠﺰﻡ : ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻗﺘﻞ ﮐﯿﺎ ﺟﺞ : ﻻﺵ ﮐﮩﺎﮞ ﮨﮯ؟ ﻣﻠﺰﻡ : ﻻﺵ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺟﻼﺩﯼ ﺟﺞ : ﻭﮦ ﺟﮕﮧ ﺩﮐﮭﺎﺅ ﺟﮩﺎﮞ ﻻﺵ ﺟﻼﺋﯽ ﺗﮭﯽ ﻣﻠﺰﻡ : ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻭﮦ ﺳﺎﺭﯼ ﺯﻣﯿﻦ ﮐﮭﻮﺩ ﺩﯼ جج : ﺗﻮ ﮐﮭﻮﺩﯼ ﮨﻮﺋﯽ ﻣﭩﯽ ﮐﺪﮬﺮ ﮨﮯ؟ ﻣﻠﺰﻡ : ﺍﺱ ﮐﯽ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ اینٹیں ﺑﻨﺎ دیں ﺟﺞ : ﺗﻮ ﻭﮦ اینٹیں ﺩﮐﮭﺎﺅ ﻣﻠﺰﻡ : ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﻥ ﺳﮯ ﻣﮑﺎﻥ ﺑﻨﺎ ﻟﯿﺎ ﺟﺞ : ﻭﮦ ﻣﮑﺎﻥ ﮐﺪﮬﺮ ﮨﮯ؟ ﻣﻠﺰﻡ : ﺯﻟﺰﻟﮯ ﻣﯿﮟ ﮔﺮ ﮔﯿﺎ ﺟﺞ : ﺗﻮ ﻣﻠﺒﮧ ﮐﺪﮬﺮ ﮨﮯ؟ ﻣﻠﺰﻡ : ﻭﮦ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺑﯿﭻ ﺩﯾﺎ ﺟﺞ : ﮐﺲ ﮐﻮ ﺑﯿﭽﺎ؟ ﻣﻠﺰﻡ : ﭘﮍﻭﺳﯽ ﮐﻮ ﺟﺞ : ﭘﮍﻭﺳﯽ ﮐﻮ ﺑﻼﺅ ﻣﻠﺰﻡ : ﻭﮦ ﻣﺎﺭﺍ ﮔﯿﺎ ﺟﺞ : ﮐﺲ ﻧﮯ ﻣﺎﺭﺍ؟ ﻣﻠﺰﻡ : ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻣﺎﺭﺍ ﺟﺞ : ﺗﻮ ﻻﺵ ﮐﺪﮬﺮ ﮨﮯ؟ ﻣﻠﺰﻡ : ﻻﺵ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺟﻼ ﺩﯼ ﺟﺞ : کھوتے دیا پترا... فیر شروع توں شروع ہونڑ لگا ایں ۔۔ ﺗﻮ ﻗﺘﻞ کیتا اے ﯾﺎ ﺳﺮﺟﯿﮑﻞ ﺳﭩﺮﺍﺋﯿﮏ؟😅😅😅
2 months ago | [YT] | 1
View 0 replies
Hamza Yousaf
سراج گنج کی ایک خاتون، صالحہ بیگم (65) چل بسیں، وہ اپنے پیچھے 3 بوریاں چھوڑ کر چلی گئیں جو اس نے ساری زندگی بھیک مانگ کر جمع کی تھیں۔
اس نے ہر سکہ بچایا، لیکن ایک بھی سکہ اپنے ساتھ نہ لے جا سکی۔ یہ زندگی کی حقیقت ہے مال ٹھہرتا ہے، جسم مٹتے رہتے ہیں۔
ان کے رزق میں جو لکھا ہے اس سے زیادہ کوئی نہیں لے سکتا۔ اگر یہ مقدر ہے، تو آپ اسے حاصل کریں گے چاہے کچھ بھی ہو۔ آپ اس سے لطف اندوز نہیں ہو سکتے جو آپ کا نہیں ہے۔ ہمیں صرف وہی ملتا ہے جو ہمارے رزق میں لکھا ہے، ایک قطرہ زیادہ نہیں، ایک قطرہ کم نہیں۔
اس لیے زندگی کو "زیادہ سے زیادہ" کا پیچھا کرنے میں گزارنے کے بجائے اس چیز کی قدر کریں جو آپ کے پاس پہلے سے ہے۔ اپنے پیاروں کے ساتھ اپنی نعمتوں سے لطف اندوز ہوں۔
لوگوں کو دھوکہ دینے کا کوئی فائدہ نہیں۔ آپ کسی بھی چیز سے لطف اندوز نہیں ہو سکتے جو آپ کے لیے نہیں ہے۔ ہم سب کو اس سادہ سچائی کو سمجھنے کی عقل ہو کیونکہ ہم سب خالی ہاتھ چلے جاتے ہیں۔
2 months ago | [YT] | 0
View 0 replies