“This channel shares daily life vlogs, trending news commentary, tech tips, and social updates with original voice and editing
I am Muhammad Mumtaz from khushab.
I am a professional Youtuber, and have experience of UK Insulation Comapny Marigold ,
now working remotely as a Senior Submission Officer.
graphic designer, PDF Editor Expert, Social Media Expert, logo designer, and flyer design.
Expert in Data Entry.

► Facebook:➜ web.facebook.com/Muhammadmumt...
► Instagram:➜ www.instagram.com/mmsmumtaz1/
► Subscribe: @mmsmumtaztech
► Linkedin ➜ www.linkedin.com/in/mmsmumtaz/




MMS MUMTAZ TECH

اگر کسی شخص کو وسیلہ پر اشکال ہو تو قرآنِ کریم ہی میں اللہ تعالیٰ نے اسباب اور وسیلوں کی متعدد مثالیں بیان فرمائی ہیں۔ اہلِ سنت ان مثالوں سے استدلال کرتے ہیں کہ سبب اختیار کرنا اور اللہ کے مقرب بندوں کو اللہ کی عطا سے وسیلہ ماننا شرک نہیں، جب تک عقیدہ یہ ہو کہ اصل مؤثر صرف اللہ تعالیٰ ہے۔
1۔ یعقوب کی قمیص سے بینائی لوٹ آئی
اِذْهَبُوْا بِقَمِيْصِيْ هٰذَا فَاَلْقُوْهُ عَلٰى وَجْهِ اَبِيْ يَاْتِ بَصِيْرًا
"میری یہ قمیص لے جاؤ اور میرے والد کے چہرے پر ڈال دو، ان کی بینائی لوٹ آئے گی۔"
(سورۃ یوسف: 93)
جب قمیص چہرے پر ڈالی گئی تو اللہ تعالیٰ نے بینائی واپس عطا فرمائی۔ قمیص خود مختار نہیں تھی، بلکہ اللہ نے اسے وسیلہ بنایا۔
2۔ یوسف کے بھائیوں نے والد سے دعا کی درخواست کی
يٰۤاَبَانَا اسْتَغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا
"ابا جان! ہمارے لیے اللہ سے مغفرت کی دعا کیجیے۔"
(سورۃ یوسف: 97-98)
اگر کسی نیک بندے سے دعا کی درخواست کرنا ناجائز ہوتا تو اللہ تعالیٰ اس واقعے کو قرآن میں بیان نہ فرماتا۔
3۔ موسیٰ کا عصا
اللہ تعالیٰ نے عصا کے ذریعے سمندر کو شق فرمایا۔
فَاضْرِبْ بِعَصَاكَ الْبَحْرَ فَانْفَلَقَ
(سورۃ الشعراء: 63)
اصل معجزہ اللہ کا تھا، عصا صرف وسیلہ تھا۔
4۔ مریم کو کھجور کا درخت ہلانے کا حکم
وَهُزِّيْ اِلَيْكِ بِجِذْعِ النَّخْلَةِ تُسَاقِطْ عَلَيْكِ رُطَبًا جَنِيًّا
(سورۃ مریم: 25)
اللہ تعالیٰ بغیر ہلائے بھی کھجوریں عطا فرما سکتا تھا، مگر اسباب اختیار کرنے کی تعلیم دی۔
5۔ فرشتوں کے ذریعے مدد
اَنِّيْ مُمِدُّكُمْ بِاَلْفٍ مِّنَ الْمَلٰٓئِكَةِ
"میں ایک ہزار فرشتوں کے ذریعے تمہاری مدد کرنے والا ہوں۔"
(سورۃ الانفال: 9)
مدد اللہ نے کی، مگر فرشتوں کو ذریعہ بنایا۔
اہلِ سنت کا خلاصہ
اہلِ سنت و جماعت کا عقیدہ یہ ہے کہ:
حقیقی مددگار صرف اللہ تعالیٰ ہے۔
اللہ تعالیٰ اپنی مشیت سے انبیاء، اولیاء، فرشتوں اور دیگر اسباب کو وسیلہ بناتا ہے۔
کسی ولی یا نبی کو مستقل، ذاتی اختیار والا ماننا جائز نہیں، لیکن اللہ کی عطا سے ان کے وسیلے سے مدد ماننا اہلِ سنت کے نزدیک جائز ہے۔
یہی فرق ہے "اللہ کی عطا سے وسیلہ" اور "ذاتی اختیار" کے عقیدے میں۔

دعاگوہ قدیر احمد مصطفائی

3 hours ago | [YT] | 0

MMS MUMTAZ TECH

تھوڑا اور آسان کر دوں ۔۔۔۔
اور مزید آپ لوگوں کے لیے آسانی سے سمجھ اجائے ۔۔۔۔

اگر کوئی شخص کہے کہ "وسیلہ لینا شرک ہے" تو اسے عام زندگی کی یہ مثالیں دی جا سکتی ہیں۔ ان سے واضح ہوتا ہے کہ سبب اختیار کرنا اور اصل مؤثر اللہ کو ماننا قرآن و سنت کے مطابق ہے۔
چند آسان مثالیں
بیمار ہونے پر ڈاکٹر کے پاس جانا
شفا دینے والا اللہ تعالیٰ ہے۔
ڈاکٹر صرف ایک ذریعہ (وسیلہ) ہے۔
اگر ڈاکٹر کے پاس جانا شرک نہیں، تو اللہ کے حکم سے کسی نیک بندے کو وسیلہ ماننا بھی بذاتِ خود شرک نہیں۔
وَإِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِينِ
"اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہ (اللہ) ہی مجھے شفا دیتا ہے۔"
(سورۃ الشعراء: 80)
2. دوا کھانا
دوا خود شفا نہیں دیتی۔
شفا اللہ دیتا ہے، دوا صرف سبب ہے۔
3. بھوک لگے تو کھانا کھانا
رزق دینے والا اللہ ہے۔
کھانا رزق حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔
4. پیاس لگے تو پانی پینا
سیراب کرنے والا اللہ ہے۔
پانی ایک وسیلہ ہے۔
5. ملازمت کے لیے سفارش
اگر کوئی نیک آدمی آپ کی سفارش کرے تو اسے شرک نہیں کہا جاتا۔
اسی طرح اللہ کے مقرب بندوں کی دعا اور وسیلہ بھی اللہ کی اجازت سے ہے۔
6. امتحان میں استاد سے پڑھنا
علم دینے والا اللہ ہے۔
استاد ذریعہ ہے۔
مختصر جواب
اگر کوئی کہے:
"ہم صرف اللہ سے مانگتے ہیں، وسیلہ کیوں؟"
تو جواب یہ ہے:
ہم بھی صرف اللہ ہی کو حقیقی مددگار مانتے ہیں، لیکن اللہ نے دنیا کا نظام اسباب پر رکھا ہے۔ جیسے شفا کے لیے ڈاکٹر، رزق کے لیے محنت، اور علم کے لیے استاد وسیلہ ہیں، اسی طرح اللہ کے مقرب بندوں کا وسیلہ بھی اللہ کی عطا اور اجازت سے ہے، نہ کہ ان کے ذاتی اختیار سے۔
یہی عقیدہ اہلِ سنت و جماعت کا ہے کہ اصل فاعل اور حقیقی مددگار صرف اللہ تعالیٰ ہے، باقی سب اس کے عطا کردہ اسباب اور وسائل ہیں۔

3 hours ago | [YT] | 0

MMS MUMTAZ TECH

🇮 🇸 🇱 🇦 🇲 🇮 🇨 REVOLUTION DASTAN E KARBALA 🚨

واقعۂ کربلا کے بعد — قسط نمبر 13
اہلِ بیت کی مدینہ منورہ واپسی اور امت پر واقعۂ کربلا کے اثرات
جب یزید نے اہلِ بیت کو مدینہ منورہ واپس جانے کی اجازت دی تو رسول اللہ ﷺ کے گھرانے کا یہ غم زدہ قافلہ شام سے روانہ ہوا۔ اس قافلے میں خواتین، بچے اور علی بن حسین زین العابدین شامل تھے، جو کربلا کے بعد اہلِ بیت کے واحد بالغ مرد زندہ بچے تھے۔
راستے بھر ہر منزل پر لوگوں کو معلوم ہوتا کہ یہ رسول اللہ ﷺ کے اہلِ بیت ہیں، تو وہ رنج و غم کا اظہار کرتے اور ان کے ساتھ ہمدردی کرتے۔
مدینہ منورہ میں واپسی
جب قافلہ مدینہ منورہ کے قریب پہنچا تو شہر میں خبر پھیل گئی کہ رسول اللہ ﷺ کے نواسے امام حسین رضی اللہ عنہ شہید ہو چکے ہیں اور اہلِ بیت واپس آ رہے ہیں۔
مدینہ کی فضا غم سے بھر گئی۔ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اور تابعین رحمہم اللہ کو اس سانحے کا بے حد صدمہ پہنچا۔ ہر طرف غم اور آنسو تھے، کیونکہ امت نے رسول اللہ ﷺ کے محبوب نواسے کو کھو دیا تھا۔
امام زین العابدین رضی اللہ عنہ
امام زین العابدین رضی اللہ عنہ نے اپنی باقی زندگی عبادت، تقویٰ، علم اور اخلاق کی تعلیم میں گزاری۔ آپ نے امت کو صبر، اللہ پر توکل اور اہلِ بیت کی سیرت سے روشناس کرایا۔
آپ کی نسل سے آگے اہلِ بیت کا مبارک سلسلہ جاری رہا، اور امت نے آپ کو علم، عبادت اور زہد کے بلند مقام کی وجہ سے ہمیشہ عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا۔
واقعۂ کربلا کے اثرات
واقعۂ کربلا نے امتِ مسلمہ کو کئی عظیم اسباق دیے:
حق پر قائم رہنا، خواہ حالات کتنے ہی سخت ہوں۔
ظلم اور ناانصافی کی حمایت نہ کرنا۔
اہلِ بیتِ رسول ﷺ سے محبت اور ان کا ادب کرنا۔
صبر، استقامت اور اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی رہنا۔
دنیا کی خاطر دین اور حق کا سودا نہ کرنا۔
امام حسین رضی اللہ عنہ نے اپنے عمل سے ثابت کیا کہ عزت کی زندگی حق کے ساتھ ہے، نہ کہ ظلم کے سامنے جھک جانے میں۔
اہلِ سنت کا عقیدہ
اہلِ سنت و جماعت کے نزدیک:
امام حسین بن علی جنتی نوجوانوں کے سرداروں میں سے ہیں۔
اہلِ بیتِ اطہار سے محبت ایمان کا حصہ ہے۔
،
محرم کا سب سے بڑا مسنون عمل 9 اور 10 یا 10 اور 11 محرم کے روزے رکھنا ہے، جیسا کہ صحیح احادیث میں ثابت ہے۔
اختتامیہ
واقعۂ کربلا صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں، بلکہ یہ ایمان، صبر، وفاداری، قربانی اور حق پر ثابت قدمی کا ایسا روشن باب ہے جو قیامت تک مسلمانوں کو یہ سبق دیتا رہے گا کہ باطل کے سامنے سر نہیں جھکانا، چاہے اس کی قیمت اپنی جان ہی کیوں نہ ہو۔

رضی اللہ تعالیٰ عن الإمام الحسین، وعن أهل بیت رسول اللہ ﷺ، وأرضاهم أجمعین۔ آمین۔

3 hours ago | [YT] | 0

MMS MUMTAZ TECH

DASTAN E KARBALA 🚨


واقعۂ کربلا کے بعد — قسط نمبر 12
یزید کے دربار میں اہلِ بیت کی آمد
قیدیانِ اہلِ بیت کا قافلہ طویل سفر کے بعد دمشق پہنچا، جہاں اس وقت یزید کا دارالحکومت تھا۔ انہیں یزید کے دربار میں پیش کیا گیا۔
یہ واقعہ اسلامی تاریخ کے ان ابواب میں سے ہے جن کی تفصیلات مختلف تاریخی کتابوں میں مختلف انداز سے منقول ہیں۔ اس لیے یہاں وہی باتیں بیان کی جا رہی ہیں جنہیں اہلِ سنت کے معتبر مؤرخین نے اصل تاریخی واقعہ کے طور پر ذکر کیا ہے۔
دربار میں اہلِ بیت
جب اہلِ بیت دربار میں پہنچے تو حضرت زینب بنت علی اور علی بن حسین زین العابدین نے نہایت وقار اور صبر کا مظاہرہ کیا۔
تاریخی روایات میں آتا ہے کہ یزید نے امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت پر ایسے الفاظ کہے جن سے اس کے رویّے پر سخت تنقید ہوئی۔ اہلِ سنت کے بہت سے علماء نے لکھا ہے کہ امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت پر خوشی منانا یا اسے جائز سمجھنا سخت گمراہی ہے۔
امام زین العابدین رضی اللہ عنہ کا خطاب
بعض معتبر تاریخی روایات کے مطابق، امام زین العابدین رضی اللہ عنہ نے دربار میں ایسا مؤثر خطاب فرمایا جس میں اپنے خاندان کا تعارف کرایا۔
آپ نے فرمایا کہ ہم وہ گھرانہ ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے عزت بخشی، ہم رسول اللہ ﷺ کے اہلِ بیت ہیں، اور ہم پر ظلم کیا گیا ہے۔
جب لوگوں نے یہ کلمات سنے تو دربار میں موجود بہت سے افراد متاثر ہوئے اور انہیں احساس ہوا کہ جن قیدیوں کو لایا گیا ہے، وہ کوئی عام لوگ نہیں بلکہ رسول اللہ ﷺ کے اہلِ بیت ہیں۔
حضرت زینب رضی اللہ عنہا کی استقامت
حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے بھی نہایت جرأت اور وقار کے ساتھ حق کی بات کہی اور ظلم کی مذمت کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ دنیا کی طاقت ہمیشہ باقی نہیں رہتی، جبکہ اللہ تعالیٰ کی عدالت میں ہر شخص کو اپنے اعمال کا حساب دینا ہوگا۔
یزید کا بعد کا رویہ
اہلِ سنت کے معتبر مؤرخین، جیسے امام ابن کثیر، یہ ذکر کرتے ہیں کہ بعد میں یزید نے انہیں عزت کے ساتھ مدینہ منورہ واپس جانے کی اجازت دی۔ تاہم، اس سے واقعۂ کربلا کی ذمہ داری یا اس سانحے کی سنگینی ختم نہیں ہو جاتی، اور اس بارے میں اہلِ سنت کے علماء کے درمیان تاریخی تفصیلات پر مختلف آراء بھی پائی جاتی ہیں۔
اہلِ سنت کا معتدل موقف
اہلِ سنت و جماعت کے نزدیک:
امام حسین بن علی مظلوم اور برحق شہید ہیں۔
اہلِ بیت سے محبت ایمان کا حصہ ہے۔
واقعۂ کربلا اسلامی تاریخ کا نہایت دردناک سانحہ ہے۔
اس واقعے میں بہت سی تاریخی روایات موجود ہیں، اس لیے صرف معتبر اور ثابت روایات ہی بیان کرنی چاہییں۔
کسی بھی صحابی یا اہلِ بیت کے بارے میں بے ادبی اہلِ سنت کا طریقہ نہیں۔
اگلی قسط نمبر 13
اس میں ان شاء اللہ:
اہلِ بیت کی مدینہ منورہ واپسی،
امتِ مسلمہ پر واقعۂ کربلا کے اثرات،
اور امام حسین رضی اللہ عنہ کی قربانی سے ملنے والے اہم اسباق بیان کیے جائیں گے، پھر آخر میں پوری سیریز کا جامع خلاصہ بھی پیش کیا جائے گا۔

3 hours ago | [YT] | 0

MMS MUMTAZ TECH

DASTAN E KARBALA🙌🏻🚨


واقعۂ کربلا کے بعد — قسط نمبر 11
عبید اللہ بن زیاد کے دربار میں اہلِ بیت
جب قیدیانِ اہلِ بیت کو کوفہ میں عبید اللہ بن زیاد کے دربار میں پیش کیا گیا تو دربار میں فوجی افسر، امراء اور شہر کے لوگ موجود تھے۔
عبید اللہ بن زیاد نے تکبر کے ساتھ اہلِ بیت کی طرف دیکھا اور امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت پر خوشی کا اظہار کرنے کی کوشش کی۔ اہلِ بیت نے نہایت صبر، وقار اور عزت کے ساتھ اس کے سوالات کے جواب دیے۔
حضرت زینب رضی اللہ عنہا کا جواب
جب عبید اللہ بن زیاد نے حضرت زینب بنت علی سے گستاخانہ انداز میں کہا:
"تم نے دیکھا اللہ نے تمہارے بھائی کے ساتھ کیا کیا؟"
حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے انتہائی ایمان افروز جواب دیا:
"میں نے اللہ کی طرف سے خیر ہی دیکھی۔ یہ وہ لوگ تھے جن کے لیے اللہ تعالیٰ نے شہادت لکھ دی تھی، سو وہ اپنے مقامِ شہادت تک پہنچ گئے۔"
پھر فرمایا کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ظالموں اور مظلوموں کے درمیان فیصلہ فرمائے گا۔
یہ جواب سن کر دربار پر خاموشی چھا گئی۔
امام زین العابدین رضی اللہ عنہ
اس کے بعد عبید اللہ بن زیاد کی نظر بیمار نوجوان علی بن حسین زین العابدین پر پڑی۔
اس نے پوچھا:
"تم کون ہو؟"
آپ نے فرمایا:
"میں علی بن حسین ہوں۔"
اس نے کہا:
"کیا اللہ نے علی بن حسین کو قتل نہیں کیا؟"
امام زین العابدین رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
"میرا ایک بڑا بھائی بھی علی نام کا تھا، وہ شہید ہو گئے۔"
پھر آپ نے قرآنِ مجید کی اس حقیقت کی طرف اشارہ فرمایا کہ موت اللہ تعالیٰ کے حکم سے آتی ہے، نہ کہ کسی انسان کے اختیار سے۔
یہ جواب سن کر عبید اللہ بن زیاد غصے میں آ گیا اور اس نے امام زین العابدین رضی اللہ عنہ کو بھی قتل کرنے کا ارادہ کیا۔
اس موقع پر حضرت زینب رضی اللہ عنہا فوراً آگے بڑھیں، امام زین العابدین رضی اللہ عنہ کو اپنے ساتھ لپٹا لیا اور فرمایا:
"اگر اسے قتل کرنا ہے تو پہلے مجھے قتل کرو۔"
اللہ تعالیٰ نے ایسا سبب پیدا فرمایا کہ عبید اللہ بن زیاد اپنے ارادے سے باز آ گیا، اور یوں امام زین العابدین رضی اللہ عنہ کی جان محفوظ رہی۔ یہی وہ مبارک ہستی ہیں جن سے آگے اہلِ بیت کی نسل جاری ہوئی۔
شام روانگی
چند دن بعد عبید اللہ بن زیاد نے حکم دیا کہ قیدیانِ اہلِ بیت کو دمشق روانہ کیا جائے تاکہ انہیں یزید کے دربار میں پیش کیا جائے۔
یوں اہلِ بیت کا غم سے بھرا ہوا قافلہ کوفہ سے شام کی طرف روانہ ہوا۔
اہلِ سنت کا موقف
اہلِ سنت کے نزدیک:
اہلِ بیت نے ہر مرحلے پر صبر، عزت اور اللہ تعالیٰ پر کامل اعتماد کا مظاہرہ کیا۔
ان کے ساتھ ہونے والا ظلم تاریخِ اسلام کا نہایت افسوسناک باب ہے۔
بعض تفصیلی مکالمات مختلف تاریخی کتب میں مختلف الفاظ کے ساتھ منقول ہیں، اس لیے انہیں نقل کرتے وقت احتیاط ضروری ہے، جبکہ اصل واقعہ تاریخی طور پر معروف ہے۔
اگلی قسط نمبر 12
ان شاء اللہ:
یزید کے دربار میں اہلِ بیت کی آمد،
حضرت زینب رضی اللہ عنہا اور امام زین العابدین رضی اللہ عنہ کے تاریخی خطبات،
اور یزید کے ردِّ عمل کو اہلِ سنت کے معتبر مؤرخین کی روشنی میں بیان کیا جائے گا۔

3 hours ago | [YT] | 0

MMS MUMTAZ TECH

DASTAN E KARBALA 🙌 🚨


واقعۂ کربلا کے بعد — قسط نمبر 10
قیدیانِ اہلِ بیت کا کوفہ میں داخلہ
شہدائے کربلا کی تدفین کے بعد یزیدی لشکر نے اہلِ بیت کی خواتین، بچوں اور بیمار علی بن حسین زین العابدین کو قیدی بنا لیا۔ امام زین العابدین رضی اللہ عنہ شدید بیمار تھے، اسی وجہ سے جنگ میں شریک نہ ہو سکے اور اللہ تعالیٰ نے انہی کے ذریعے امام حسین رضی اللہ عنہ کی نسل کو آگے جاری فرمایا۔
قیدیوں کے قافلے کو میدانِ کربلا سے کوفہ کی طرف روانہ کیا گیا۔
راستے بھر اہلِ بیت کی خواتین اور بچے اپنے شہیدوں کو یاد کر کے غم زدہ رہے، مگر کسی نے اللہ تعالیٰ کی رضا سے شکوہ نہ کیا۔ ہر زبان پر صبر اور اللہ پر بھروسہ تھا۔
جب قافلہ کوفہ کے قریب پہنچا تو شہر کے لوگ بڑی تعداد میں جمع ہو گئے۔ ان میں بہت سے وہی لوگ بھی تھے جنہوں نے پہلے امام حسین رضی اللہ عنہ کو خطوط لکھے تھے، لیکن وقت آنے پر ان کا ساتھ چھوڑ دیا تھا۔
تاریخی روایات میں آتا ہے کہ جب لوگوں نے اہلِ بیت کی حالت دیکھی تو بہت سے افراد رونے لگے اور انہیں اپنی بے وفائی کا احساس ہوا۔
اس موقع پر زینب بنت علی نے نہایت مؤثر انداز میں اہلِ کوفہ کو ان کی بے وفائی پر متنبہ کیا۔ مختلف تاریخی کتابوں میں اس خطبے کے الفاظ کچھ فرق کے ساتھ نقل ہوئے ہیں، لیکن اس کا مرکزی پیغام یہی تھا:
"اے اہلِ کوفہ! تم نے ہمیں بلایا، پھر ہمارا ساتھ چھوڑ دیا۔ آج تم روتے ہو، مگر یہ رونا اس ظلم کو نہیں مٹا سکتا جو تم نے ہونے دیا۔"
یہ خطبہ سن کر مجمع پر گہرا اثر ہوا، اور بہت سے لوگ شدتِ غم سے آبدیدہ ہو گئے۔
اس کے بعد قیدیوں کو عبید اللہ بن زیاد کے دربار میں لے جایا گیا، جہاں اہلِ بیت نے بڑی استقامت اور وقار کے ساتھ اپنے موقف کا اظہار کیا۔
اہلِ سنت کی اہم وضاحت
اہلِ سنت کے نزدیک حضرت زینب رضی اللہ عنہا صبر، شجاعت اور استقامت کی عظیم مثال ہیں۔ البتہ ان کے خطبات کے مکمل الفاظ مختلف تاریخی مصادر میں مختلف انداز سے منقول ہیں، اس لیے کسی ایک متن کو سو فیصد قطعی نہیں کہا جا سکتا۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے ظلم کے سامنے حق کی آواز بلند کی اور اہلِ بیت کے وقار کی حفاظت فرمائی۔
اگلی قسط نمبر 11
عبید اللہ بن زیاد کے دربار میں پیش آنے والے واقعات، امام زین العابدین رضی اللہ عنہ کا جرات مندانہ جواب، اور حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے تاریخی موقف کو مستند روایات کی روشنی میں بیان کیا جائے گا۔

3 hours ago | [YT] | 0

MMS MUMTAZ TECH

DASTAN E KARBALA 🙌 🛰️ 🚨


واقعۂ کربلا — قسط نمبر 9
امام حسین رضی اللہ عنہ کی عظیم شہادت
عاشوراء کے دن دوپہر تک امام حسین رضی اللہ عنہ کے تمام رفقاء اور اہلِ بیت کے جوان شہید ہو چکے تھے۔ اب میدانِ کربلا میں رسول اللہ ﷺ کے نواسے تنہا کھڑے تھے، لیکن ان کا عزم، ایمان اور اللہ تعالیٰ پر توکل پہلے سے بھی زیادہ مضبوط تھا۔
امام حسین رضی اللہ عنہ نے ایک بار پھر دشمن کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:
"اے لوگو! غور کرو، میں کون ہوں؟ کیا میں تمہارے نبی ﷺ کی بیٹی کا بیٹا نہیں؟ کیا میرے نانا رسول اللہ ﷺ نہیں؟ کیا میرے والد علی المرتضیٰ اور میری والدہ سیدہ فاطمہ الزہراء رضی اللہ عنہما نہیں؟ پھر تم میرا خون کیوں بہانا چاہتے ہو؟"
لیکن ہزاروں کے لشکر پر دنیا کی محبت غالب آ چکی تھی۔ کسی نے آپ کی بات قبول نہ کی۔
امام حسین رضی اللہ عنہ نے تنِ تنہا نہایت بہادری سے مقابلہ کیا۔ تاریخی روایات کے مطابق دشمن کا کوئی سپاہی آسانی سے آپ کے قریب آنے کی ہمت نہیں کرتا تھا، کیونکہ وہ آپ کی شجاعت اور عظمت سے مرعوب تھے۔
آخرکار دشمن نے چاروں طرف سے حملہ کیا۔ مسلسل زخم لگنے کے باوجود امام حسین رضی اللہ عنہ ثابت قدم رہے اور اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے رہے۔
پھر وہ لمحہ آیا جب رسول اللہ ﷺ کے نواسے امام حسین رضی اللہ عنہ اس دنیا سے پردہ فرما گئے اور 10 محرم 61 ہجری کو جامِ شہادت نوش کیا۔
﴿إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ﴾
شہادت کے بعد دشمن نے نہایت ظلم کا مظاہرہ کیا۔ تاریخی روایات میں آتا ہے کہ آپ کے جسدِ مبارک کے ساتھ بے حرمتی کی گئی، خیموں کو لوٹا گیا اور آگ لگائی گئی، جبکہ اہلِ بیت کی خواتین اور بچوں کو قیدی بنا لیا گیا۔ یہ واقعات اسلامی تاریخ کے نہایت دردناک ابواب میں شمار ہوتے ہیں۔
حضرت زینب رضی اللہ عنہا کا صبر
زینب بنت علی نے اس عظیم مصیبت میں صبر، ہمت اور ایمان کی ایسی مثال قائم کی جو قیامت تک یاد رکھی جائے گی۔ انہوں نے اہلِ بیت کے بچوں کی حفاظت کی اور ہر آزمائش میں اللہ تعالیٰ کی رضا پر قائم رہیں۔
اہلِ سنت و جماعت کا عقیدہ
ہم امام حسین بن علی سے بے پناہ محبت کرتے ہیں۔
ان کی شہادت کو اسلام کی عظیم قربانی مانتے ہیں۔
اہلِ بیتِ اطہار کا ادب و احترام ایمان کا حصہ سمجھتے ہیں۔
واقعۂ کربلا سے صبر، استقامت، حق پر ڈٹے رہنے اور ظلم کے سامنے نہ جھکنے کا سبق حاصل کرتے ہیں۔
البتہ اہلِ سنت کے علماء یہ بھی تاکید کرتے ہیں کہ واقعۂ کربلا بیان کرتے وقت صرف معتبر روایات اختیار کی جائیں، اور ضعیف یا من گھڑت قصوں سے اجتناب کیا جائے۔
اگر آپ چاہیں تو اگلی قسط میں �⁠قیدیانِ اہلِ بیت کا کوفہ اور شام کا سفر، �⁠زینب بنت علی کے خطبات، اور �⁠بعد کے تاریخی واقعات بھی اہلِ سنت کے معتبر مصادر کی روشنی میں بیان کر سکتا ہوں۔

3 hours ago | [YT] | 0

MMS MUMTAZ TECH

DASTAN E KARBALA 🙌 🚨


واقعۂ کربلا — قسط نمبر 8
امام حسین رضی اللہ عنہ کے آخری لمحات سے پہلے
جب امام حسین رضی اللہ عنہ کے تقریباً تمام ساتھی اور اہلِ بیت کے جوان شہید ہو چکے تو خیموں میں صرف خواتین، بچے اور بیمار علی بن حسین زین العابدین باقی تھے، جو شدید بیماری کی وجہ سے جنگ میں شریک نہ ہو سکے۔
خیموں میں کئی دن سے پانی نہ ہونے کی وجہ سے بچے شدتِ پیاس سے نڈھال تھے۔ امام حسین رضی اللہ عنہ نے صبر و استقامت کے ساتھ ہر آزمائش برداشت کی اور اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی رہے۔
حضرت علی اصغر رضی اللہ عنہ کا واقعہ
امام حسین رضی اللہ عنہ کے شیر خوار صاحبزادے علی اصغر بن حسین بھی شدید پیاس سے بے حال تھے۔
بہت سی تاریخی روایات میں ذکر ملتا ہے کہ امام حسین رضی اللہ عنہ اپنے شیر خوار بچے کو لے کر دشمن کے سامنے گئے اور فرمایا کہ اگر میرا کوئی قصور سمجھتے ہو تو اس معصوم بچے پر تو رحم کرو، اسے پانی دے دو۔
مشہور تاریخی روایت کے مطابق اسی دوران دشمن کی طرف سے ایک تیر چلایا گیا جو حضرت علی اصغر رضی اللہ عنہ کو لگا، اور وہ شہید ہو گئے۔
اہم وضاحت: یہ واقعہ اسلامی تاریخ کی مشہور کتابوں میں مذکور ہے، لیکن اس کی بعض جزئیات مختلف روایات میں مختلف انداز سے بیان ہوئی ہیں۔ اس لیے اہلِ سنت کے علماء تاریخی تفصیلات بیان کرتے وقت احتیاط کا طریقہ اختیار کرتے ہیں۔
امام حسین رضی اللہ عنہ کا آخری خطاب
اس کے بعد امام حسین رضی اللہ عنہ نے دشمن کو آخری مرتبہ نصیحت کی۔
آپ نے فرمایا کہ:
"اگر تم مجھے پسند نہیں کرتے تو مجھے واپس جانے دو، یا کسی سرحد پر چلا جانے دو۔ میرے قتل میں تمہارے لیے دنیا و آخرت کی بھلائی نہیں۔"
لیکن کسی نے اس نصیحت کو قبول نہ کیا۔
اب امام حسین رضی اللہ عنہ تنہا رہ گئے تھے۔ آپ نے اپنے اہلِ بیت کو صبر کی تلقین فرمائی، خواتین کو اللہ پر بھروسہ رکھنے کا حکم دیا، اور میدانِ کربلا کی طرف روانہ ہوئے۔
آپ کے چہرۂ مبارک پر صبر، یقین اور اللہ تعالیٰ کی رضا نمایاں تھی۔ آپ جانتے تھے کہ اب شہادت کا وقت قریب ہے، مگر حق اور سچائی کے راستے سے ایک قدم بھی پیچھے نہ ہٹے۔
اگلی قسط نمبر 9
اس میں ان شاء اللہ:
امام حسین رضی اللہ عنہ کی آخری جنگ،
آپ کی عظیم شہادت،
اور اس کے بعد پیش آنے والے واقعات
مستند تاریخی روایات اور اہلِ سنت کے موقف کے مطابق تفصیل سے بیان کیے جائیں گے۔

3 hours ago | [YT] | 0

MMS MUMTAZ TECH

DASTAN E KARBALA 🚨

واقعۂ کربلا — قسط نمبر 7
حضرت عباس بن علی رضی اللہ عنہ کی شجاعت اور شہادت
جب عاشوراء کے دن جنگ شدت اختیار کر گئی اور خیموں میں کئی دن کی پیاس سے بچے اور خواتین بے قرار ہو گئے، تو امام حسین رضی اللہ عنہ کے بھائی عباس بن علی نے پانی لانے کی اجازت طلب کی۔
حضرت عباس رضی اللہ عنہ اپنی بہادری، وفاداری اور غیر معمولی قوت کی وجہ سے اہلِ بیت کے علمبردار تھے۔ امام حسین رضی اللہ عنہ نے اجازت دی، تو وہ مشکیزہ لے کر دریائے فرات کی طرف روانہ ہوئے۔
راستے میں دشمن نے انہیں روکنے کی کوشش کی، لیکن حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے بڑی دلیری سے مقابلہ کرتے ہوئے راستہ بنایا اور فرات تک پہنچ گئے۔
روایات میں بیان ہوتا ہے کہ جب آپ نے پانی تک رسائی حاصل کی تو سخت پیاس کے باوجود پہلے مشکیزہ بھرنے کو ترجیح دی تاکہ خیموں میں موجود بچوں اور خواتین تک پانی پہنچا سکیں۔
واپسی پر دشمن نے چاروں طرف سے حملہ کر دیا۔ شدید لڑائی کے دوران آپ زخمی ہوئے، مشکیزہ بھی نشانہ بنا، اور آخرکار حضرت عباس رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے۔
جب امام حسین رضی اللہ عنہ کو اپنے بھائی کی شہادت کی خبر ملی تو آپ ان کے پاس پہنچے۔ اپنے وفادار بھائی کو اس حال میں دیکھ کر آپ کو شدید صدمہ پہنچا۔
حضرت عباس رضی اللہ عنہ کی وفاداری، ایثار اور بہادری کی مثال تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔
اہلِ سنت کی اہم وضاحت
اہلِ سنت کے نزدیک حضرت عباس رضی اللہ عنہ اہلِ بیت کے عظیم فرد، نہایت جلیل القدر مسلمان اور شہید ہیں۔ تاہم ان کی شہادت کی بعض جزئیات (مثلاً بعض مکالمے یا تفصیلی مناظر) مختلف تاریخی روایات میں مختلف انداز سے مذکور ہیں، اس لیے انہیں قطعی اور یقینی واقعہ نہیں کہا جاتا۔ مستند بات یہی ہے کہ وہ امام حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ وفاداری سے ڈٹے رہے اور میدانِ کربلا میں شہید ہوئے۔
اگلی قسط نمبر 8 میں: امام حسین رضی اللہ عنہ کے شیر خوار فرزند علی اصغر بن حسین کا واقعہ، امام حسین رضی اللہ عنہ کا آخری خطاب، اور پھر میدان میں تنہا رہ جانے کا بیان، مستند تاریخی روایات کی روشنی میں۔

3 hours ago | [YT] | 0

MMS MUMTAZ TECH

DASTAN E KARBALA 🙌 🚨


واقعۂ کربلا — قسط نمبر 6
اہلِ بیت کی عظیم قربانیاں
جب امام حسین رضی اللہ عنہ کے اکثر جانثار ساتھی شہید ہو گئے تو اب اہلِ بیت کے نوجوان ایک ایک کر کے میدانِ جہاد میں جانے لگے۔ ہر ایک کی خواہش تھی کہ رسول اللہ ﷺ کے نواسے پر اپنی جان قربان کرے۔
حضرت علی اکبر رضی اللہ عنہ کی شہادت
سب سے پہلے امام حسین رضی اللہ عنہ کے جوان بیٹے علی اکبر بن حسین نے میدان میں جانے کی اجازت طلب کی۔
روایات میں آتا ہے کہ حضرت علی اکبر رضی اللہ عنہ شکل و صورت، اخلاق اور گفتگو میں رسول اللہ ﷺ سے بہت زیادہ مشابہ تھے۔ جب اہلِ مدینہ کو نبی کریم ﷺ کی یاد آتی تو وہ علی اکبر رضی اللہ عنہ کو دیکھ کر اپنے دل کو تسلی دیتے تھے۔
امام حسین رضی اللہ عنہ نے اپنے لختِ جگر کو رخصت کیا اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی۔
حضرت علی اکبر رضی اللہ عنہ نے بڑی بہادری سے جنگ لڑی، لیکن آخرکار دشمن کے حملوں سے شدید زخمی ہو کر شہید ہو گئے۔
امام حسین رضی اللہ عنہ دوڑتے ہوئے اپنے بیٹے کے پاس پہنچے، ان کا سر اپنی گود میں رکھا، آنکھوں سے آنسو جاری تھے، مگر زبان پر اللہ تعالیٰ کی رضا تھی۔
حضرت قاسم بن حسن رضی اللہ عنہ
اس کے بعد امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ عنہ کے کم سن فرزند قاسم بن حسن نے میدان میں جانے کی اجازت مانگی۔
ابتدا میں امام حسین رضی اللہ عنہ نے ان کی کم عمری کی وجہ سے اجازت نہ دی، لیکن حضرت قاسم رضی اللہ عنہ نے اصرار کیا کہ وہ بھی حق کی خاطر جان قربان کرنا چاہتے ہیں۔
اجازت ملنے کے بعد وہ میدان میں اترے اور بے مثال شجاعت سے لڑے، یہاں تک کہ دشمن نے انہیں شہید کر دیا۔
روایات میں آتا ہے کہ امام حسین رضی اللہ عنہ فوراً ان کی طرف دوڑے، دشمن کو پیچھے ہٹایا اور اپنے بھتیجے کے جسدِ مبارک کو اٹھا کر خیمے میں لے آئے۔
دیگر اہلِ بیت کی شہادتیں
اس کے بعد اہلِ بیت کے کئی دیگر نوجوان بھی یکے بعد دیگرے میدان میں اترے اور شہادت کا عظیم رتبہ پایا۔ ہر شہادت کے ساتھ امام حسین رضی اللہ عنہ کا غم بڑھتا گیا، مگر آپ کی استقامت اور صبر میں کوئی کمی نہ آئی۔
اہلِ بیت کی خواتین، خصوصاً زینب بنت علی، صبر و رضا کی عظیم مثال بنیں۔ خیموں میں بچوں کی پیاس، شہداء کی جدائی اور سخت حالات کے باوجود ان کا ایمان متزلزل نہ ہوا۔
اہم وضاحت
واقعۂ کربلا کے بعض جزوی واقعات مختلف تاریخی کتابوں میں مختلف انداز سے بیان ہوئے ہیں۔ اہلِ سنت کے نزدیک ایسی روایات میں احتیاط ضروری ہے۔ اسی لیے ہم وہی باتیں بیان کرتے ہیں جو معتبر تاریخی مصادر میں مشہور ہیں، اور کمزور یا غیر ثابت روایات کو قطعی حقیقت کے طور پر پیش نہیں کرتے۔
�⁠اگلی قسط نمبر 7 میں: حضرت عباس بن علی رضی اللہ عنہ کی بہادری، دریائے فرات تک پہنچنے کا واقعہ، اور ان کی شہادت کا تفصیلی بیان۔

3 hours ago | [YT] | 0