live with khawar yousaf



Live with Khawar yousaf. TV USA

السلام علیکم! حافظ حمد اللہ صاحب کے اس دھماکے خیز انٹرویو میں آپ کس موضوع پر ان کا موقف سب سے پہلے سننا چاہتے ہیں؟ کمنٹ سیکشن میں اپنی رائے ضرور دیں اور لائیو اسٹریم کا ریمائنڈر سیٹ کرنا نہ بھولیں!"

3 weeks ago | [YT] | 3

Live with Khawar yousaf. TV USA

عیدِ الضحیٰ: ایثار، قربانی اور تقویٰ کا آفاقی پیغام
تحریر: خاور یوسف
اسلامی تقویم کے بارہویں مہینے ذوالحجہ کی دسویں تاریخ کو دنیا بھر کے مسلمان عیدِ الضحیٰ کا تہوار انتہائی عقیدت و احترام سے مناتے ہیں۔ یہ مبارک دن محض روایتی خوشیوں یا ایک سالانہ تہوار کا نام نہیں، بلکہ یہ اس عظیم الشان تاریخی قربانی کی یادگار ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام نے بارگاہِ الٰہی میں پیش کی تھی۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جب ایمان کامل ہو، تو خالقِ کائنات کے ایک اشارے پر انسان اپنی سب سے عزیز ترین متاع بھی قربان کرنے سے دریغ نہیں کرتا۔
عیدِ الضحیٰ کا اصل جوہر "تقویٰ" اور "ایثار" میں پنہاں ہے۔ قرآنِ کریم میں واشگاف الفاظ میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ تک نہ تو قربانی کے جانوروں کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ ہی ان کا خون، بلکہ اس کے حضور صرف تمہارا تقویٰ اور نیت کی سچائی پہنچتی ہے۔ اس لیے جب ایک مومن قربانی کے جانور پر چھری چلاتا ہے، تو درحقیقت وہ اپنی ذات کے اندر موجود انا، خود غرضی، اور دنیاوی مفادات کو اللہ کی رضا کے لیے قربان کرنے کا عہد کر رہا ہوتا ہے۔ یہ عمل اس بات کی علامت ہے کہ زندگی کے ہر شعبے میں جب بھی دین، ملت یا انسانیت کو ہماری قربانی کی ضرورت پڑے گی، ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
اس تہوار کا ایک انتہائی اہم اور خوبصورت پہلو اس کا سماجی نظام ہے۔ اسلام نے قربانی کے گوشت کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کی ہدایت فرمائی ہے: ایک حصہ اپنے گھر والوں کے لیے، دوسرا رشتہ داروں اور عزیز و اقارب کے لیے، اور تیسرا حصہ معاشرے کے غریب، مساکین اور ضرورت مندوں کے لیے۔ یہ تقسیم ہمیں سکھاتی ہے کہ خوشیاں اکیلے نہیں، بلکہ سب کو ساتھ ملا کر منائی جاتی ہیں۔ یہ دن ہمیں اپنے اردگرد بکھرے ان محروم طبقوں کی داد رسی کا موقع فراہم کرتا ہے جو سال بھر گوشت جیسی بنیادی نعمت سے محروم رہتے ہیں۔
آج کے اس پرآشوب دور میں، جہاں نفسا نفسی اور خود غرضی کا دور دورہ ہے، عیدِ الضحیٰ کا پیغام اور بھی بامعنی ہو جاتا ہے۔ یہ دن ہمیں اپنی ذات کے حصار سے نکل کر دوسروں کے کام آنے، صلہ رحمی کرنے اور معاشرتی ہم آہنگی کو فروغ دینے کا درس دیتا ہے۔
آئیے اس عید پر صرف جانوروں کی قربانی تک محدود نہ رہیں، بلکہ اپنے دلوں سے کینہ، بغض اور نفرتوں کو بھی قربان کریں۔ آئیے عہد کریں کہ ہم اپنی زندگیوں کو ایثار کے جذبے سے منور کریں گے اور ایک ایسے معاشرے کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کریں گے جہاں ہر فرد دوسرے کے دکھ درد کو اپنا سمجھے۔
تمام اہل اسلام کو عیدِ الضحیٰ بہت بہت مبارک ہو!

2 months ago | [YT] | 2

Live with Khawar yousaf. TV USA

سائفر گم نہیں ہوا، بیچا گیا؟" – وہ راز جو گلے کا ہار بن گیا!
ملک کی سب سے حساس ترین دستاویز، جس پر سیاست چمکائی گئی، جلسوں میں لہرائی گئی اور پھر بڑی معصومیت سے کہہ دیا گیا کہ "وہ تو مجھ سے گم ہو گیا ہے"۔ اب وہ مبینہ سائفر ایک غیر ملکی ویب سائٹ پر سرِعام بک رہا ہے۔ یہ محض ایک دستاویز کا لیک ہونا نہیں، بلکہ ریاستِ پاکستان کی سیکیورٹی اور سفارتی وقار پر ایک کاری ضرب ہے۔
عمران خان صاحب کا یہ دعویٰ کہ سائفر ان سے گم ہو گیا تھا، اب ان کے اپنے ہی گلے کا پھندا بنتا دکھائی دے رہا ہے۔ اگر یہ وہی اصل سیکیورٹی دستاویز ہے، تو پھر خان صاحب کو اب عدالتوں میں یہ بتانا ہوگا کہ جو چیز ریاست کے پاس محفوظ ہونی چاہیے تھی، وہ ایک بیرونی پورٹل کے ہاتھ کیسے لگی؟
سوشل میڈیا پر اب اس بات کا خوب چرچا ہے کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت یہ سیدھا سیدھا سنگین غداری کا کیس بنتا ہے۔ قانون کی کتابوں میں ملکی سلامتی کے ساتھ اس طرح کے کھلواڑ کی سزا صرف جیل نہیں، بلکہ سزائے موت تک جا پہنچتی ہے۔ وہ جو کل تک اس کاغذ کو اپنا سیاسی ہتھیار سمجھ کر کھیل رہے تھے، شاید اب انہیں سمجھ آئے کہ ریاستی رازوں کے ساتھ کھیلا جانے والا کھیل کتنا خوفناک ہو سکتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ قانون کا ہتھوڑا کب اور کتنی سختی سے چلتا ہے۔
I don’t

2 months ago | [YT] | 1

Live with Khawar yousaf. TV USA

‏آئینی سرگوشیاں اور وفاق کا مستقبل
‏✍️ تحریر: خاور یوسف
‏اسلام آباد کے اقتدار کے گلیاروں میں جب بھی آئینی تبدیلیوں کی گونج سنائی دیتی ہے، تو پورے ملک کا سیاسی درجہ حرارت یکایک بڑھ جاتا ہے۔ ان دنوں وفاقی دارالحکومت میں زیرِ بحث مبینہ "28ویں آئینی ترمیم" نے ایک بار پھر ملکی سیاست میں ایک نیا بحث مباحثہ چھیڑ دیا ہے۔ جہاں ایک طرف وفاق کی سطح پر انتظامی اور مالیاتی امور کو زیادہ منظم اور فعال بنانے کی بات کی جا رہی ہے، وہاں دوسری طرف صوبائی حلقوں میں خودمختاری کے تحفظ کے حوالے سے تشویش کی لہریں بھی جنم لے رہی ہیں۔
‏پاکستان کا وفاقی نظام ہمیشہ سے ایک نازک توازن کا تقاضا کرتا رہا ہے۔ 18ویں ترمیم کے بعد صوبوں کو ملنے والی مالیاتی اور انتظامی خودمختاری نے بلاشبہ وفاق کو مضبوط کیا اور صوبوں کو اپنے فیصلے خود کرنے کا اختیار دیا۔ اب، 28ویں ترمیم کے حوالے سے سامنے آنے والی مبینہ اطلاعات— جیسے این ایف سی ایوارڈ (NFC Award) میں صوبوں کے حصے پر نظرِ ثانی، بعض وفاقی پروگراموں کا مالی بوجھ صوبوں پر منتقل کرنا، اور تعلیم و صحت جیسے شعبوں میں مرکز کے کردار کو دوبارہ مضبوط کرنا— نے دانشوروں اور تجزیہ کاروں کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ کیا ہم دوبارہ مرکزیت پسندی کی طرف بڑھ رہے ہیں؟
‏ایک لکھاری اور صحافی کی حیثیت سے، میرا یہ ماننا ہے کہ کسی بھی آئینی ترمیم کا اصل مقصد ریاست کو کمزور کرنا نہیں بلکہ عوام کو ریلیف فراہم کرنا ہونا چاہیے۔ اگر 28ویں ترمیم کا مقصد صوبوں اور مرکز کے درمیان تعاون کا ایک ایسا نیا اور پائیدار فریم ورک بنانا ہے جس سے معاشی استحکام آئے اور گورننس کا معیار بہتر ہو، تو یہ پاکستان کے مستقبل کے لیے ایک مثبت قدم ثابت ہو سکتا ہے۔ لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ کوئی بھی فیصلہ بند کمروں کے بجائے پارلیمان کے اندر تمام صوبوں کی یکساں مشاورت اور اعتماد کے ساتھ کیا جائے۔
‏سیاسی استحکام کی بنیاد ہمیشہ عوامی اور صوبائی اعتماد پر ہوتی ہے۔ اگر مرکز اور صوبے مل بیٹھ کر ایک دوسرے کے تحفظات کو دور کریں، تو آئین میں کی جانے والی تبدیلیاں کسی بحران کا سبب بننے کے بجائے ملک کو معاشی اور انتظامی طور پر مزید مضبوط اور مربوط بنا سکتی ہیں۔ اب گیند اقتدار کے حلقوں کے مٹھی میں ہے کہ وہ اس مجوزہ ترمیم کو ایک نئی سیاسی محاذ آرائی کا پیش خیمہ بناتے ہیں یا ایک مضبوط وفاق کی بنیاد۔

2 months ago | [YT] | 0

Live with Khawar yousaf. TV USA

متنازعہ انٹرویو اور صحافتی ذمہ داری: ایک اہم سبق

حال ہی میں سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے ایک انٹرویو نے نہ صرف عوامی توجہ حاصل کی بلکہ صحافت کے اصولوں پر بھی ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اس انٹرویو میں ایک معروف اداکارہ اور ایک میزبان کے درمیان ہونے والی گفتگو نے کئی لوگوں کو حیران کیا، خاص طور پر اس وجہ سے کہ سوالات کا رخ ذاتی اور نجی معاملات کی طرف جاتا دکھائی دیا۔

ایک اچھے صحافی کی پہچان صرف سوال پوچھنا نہیں بلکہ یہ بھی ہے کہ وہ کس حد تک اخلاقیات اور احترام کو مدِنظر رکھتا ہے۔ کسی بھی فرد، خصوصاً ایک خاتون، کی نجی زندگی کو اس انداز میں موضوعِ بحث بنانا جس سے اس کی عزتِ نفس متاثر ہو، صحافتی اصولوں کے منافی سمجھا جاتا ہے۔ یہ واقعہ اسی پہلو کو اجاگر کرتا ہے کہ آزادیٔ اظہار کے ساتھ ساتھ ذمہ داری اور حساسیت بھی بے حد ضروری ہے۔

اس انٹرویو کا ایک مثبت پہلو اداکارہ کا رویہ بھی ہے، جنہوں نے نہایت تحمل، وقار اور سمجھداری کا مظاہرہ کیا۔ مشکل اور غیر آرام دہ سوالات کے باوجود ان کا پُرسکون انداز اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کسی بھی صورتحال کو عزت اور سنجیدگی سے کیسے سنبھالا جا سکتا ہے۔

یہ واقعہ میڈیا کے لیے ایک سبق ہے کہ سنسنی خیزی اور توجہ حاصل کرنے کی دوڑ میں بنیادی اصولوں کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ صحافت کا اصل مقصد سچائی کو سامنے لانا اور معاشرے کی رہنمائی کرنا ہے، نہ کہ کسی کی ذاتی زندگی کو متنازعہ بنا کر پیش کرنا۔

آخر میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ایسے واقعات ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ میڈیا کا کردار کتنا اہم اور حساس ہے۔ اگر صحافت اپنی حدود میں رہ کر کام کرے تو نہ صرف معاشرے کا اعتماد بحال رہتا ہے بلکہ ایک مثبت اور مہذب ماحول بھی پروان چڑھتا ہے

3 months ago | [YT] | 0

Live with Khawar yousaf. TV USA

امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی ایک بار پھر عالمی سیاست کا اہم موضوع بن چکی ہے۔ حالیہ پیش رفت میں امریکہ نے ایک سخت مؤقف اپناتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ ایران کے مذاکرات پر آمادہ ہونے کا انتظار کرے گا، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن اب مزید رعایت دینے کے بجائے دباؤ کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ دوسری جانب ایران کی خاموشی اور غیر یقینی رویہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ فوری طور پر کسی معاہدے کی طرف بڑھنے کے لیے تیار نہیں، بلکہ ممکنہ طور پر بہتر شرائط کے حصول کے لیے وقت لے رہا ہے۔ اس صورتحال نے نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی کمی کو بڑھایا ہے بلکہ پورے خطے میں بے چینی کی فضا بھی پیدا کر دی ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر یہ تعطل طویل ہو گیا تو اس کے اثرات عالمی معیشت، خاص طور پر تیل کی منڈی، پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ موجودہ حالات میں سفارتکاری ہی واحد راستہ دکھائی دیتی ہے، تاہم دونوں فریقوں کی ضد اور سخت رویہ اس عمل کو مشکل بنا رہا ہے، جس سے یہ خدشہ بڑھ جاتا ہے کہ کشیدگی مزید شدت اختیار کر سکتی ہے

3 months ago | [YT] | 1

Live with Khawar yousaf. TV USA

بریکنگ نیوز: ایران کا کہنا ہے کہ امریکہ نے اپنے وعدوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سفارتکاری کو دھوکہ دیا ہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد اور مذاکراتی عمل کو شدید دھچکا پہنچا ہے

3 months ago | [YT] | 0

Live with Khawar yousaf. TV USA

اوباما اور نیویارک کے میئر کی بچوں کے ساتھ خوبصورت ملاقات

سابق امریکی صدر باراک اوباما نے ہفتے کے روز نیویارک کے میئر زوہران ممدانی سے پہلی بار ملاقات کی۔ یہ ملاقات ایک چائلڈ کیئر سینٹر میں ہوئی جہاں دونوں رہنماؤں نے بچوں کے ساتھ وقت گزارا۔

اس موقع پر اوباما اور میئر ممدانی نے پری اسکول کے بچوں کو کہانیاں پڑھ کر سنائیں اور ان کے ساتھ مل کر گانے بھی گائے۔ بچوں کے ساتھ یہ خوشگوار لمحات نہ صرف تعلیمی تھے بلکہ محبت اور توجہ کا ایک خوبصورت اظہار بھی تھے۔

یہ ملاقات اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ بڑے رہنما بھی معاشرے کے چھوٹے افراد، یعنی بچوں، کے ساتھ جڑنے کو اہمیت دیتے ہیں۔ اس طرح کی سرگرمیاں بچوں کی ذہنی اور جذباتی نشوونما میں اہم کردار ادا کرتی ہیں

3 months ago | [YT] | 0

Live with Khawar yousaf. TV USA

صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ٹروتھ سوشل” پر ایک پیغام میں کہا:

“پاکستان اور اس کے عظیم وزیرِ اعظم اور فیلڈ مارشل کا شکریہ، یہ دونوں نہایت شاندار شخصیات ہیں!!!”

3 months ago | [YT] | 0

Live with Khawar yousaf. TV USA

پاکستان کے حوالے سے حالیہ ایک دلچسپ بیان سامنے آیا ہے، جس میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کے بارے میں مثبت خیالات کا اظہار کیا ہے۔ ایک صحافی کے سوال کے جواب میں، کہ کیا وہ کسی معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے پاکستان جائیں گے، ٹرمپ نے واضح طور پر کہا کہ وہ پاکستان آنے کے لیے تیار ہیں۔

ٹرمپ نے گفتگو کے دوران کہا کہ پاکستان ایک بہترین ملک ہے اور وہاں کے لوگوں نے ہمیشہ مثبت رویہ دکھایا ہے۔ انہوں نے خاص طور پر اسلام آباد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی اہم معاہدہ اسلام آباد میں طے پاتا ہے تو وہ وہاں جانے پر غور کر سکتے ہیں۔ ان کے مطابق، پاکستان کی قیادت نے بھی ان کے ساتھ اچھا تعاون کیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے فیلڈ مارشل اور وزیرِاعظم دونوں نے بہت اچھا کردار ادا کیا ہے، جس کی وہ قدر کرتے ہیں۔ ٹرمپ کے اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کو اہمیت دیتے ہیں اور مستقبل میں ممکنہ دورے کے لیے بھی تیار ہیں۔

یہ بیان نہ صرف پاکستان کے لیے سفارتی سطح پر اہمیت رکھتا ہے بلکہ اس سے دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری کی امید بھی ظاہر ہوتی ہے۔ اگر واقعی ایسا کوئی دورہ ہوتا ہے تو یہ پاکستان کے لیے ایک مثبت پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے

3 months ago | [YT] | 0