Owner & Host: Aatif Hussain
Welcome to SocialTVChannel101 History | Islamic History | Untold Stories | Historical Documentaries
Exploring the people, events and civilizations that shaped our world.
aatifbhatti33@gmail.com
youtube.com/@SocialTVChannel101
www.facebook.com/share/17vFtByHX5/
whatsapp.com/channel/0029Vb5s3NJ23n3WIFPSwE2t
SocialTVChannel
سعادت حسن منٹو
1 month ago | [YT] | 2
View 0 replies
SocialTVChannel
ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن
حضرت خدیجہ بنت خویلدؓ — نبی کریم ﷺ سے نکاح کے وقت آپ ﷺ کی عمر 25 سال اور حضرت خدیجہؓ کی عمر 40 سال بیان کی جاتی ہے۔ نکاح 595 عیسوی میں ہوا۔
حضرت سودہ بنت زمعہؓ — نکاح کے وقت نبی کریم ﷺ کی عمر تقریباً 50 سال اور حضرت سودہؓ کی عمر تقریباً 50 سے 55 سال بیان کی جاتی ہے۔ نکاح 619 عیسوی میں ہوا۔
حضرت عائشہ بنت ابی بکرؓ — نکاح کے وقت نبی کریم ﷺ کی عمر تقریباً 51 سے 54 سال تھی۔ حضرت عائشہؓ کی عمر کے بارے میں تاریخی روایات مختلف ہیں۔ نکاح 623 یا 624 عیسوی میں ہوا۔
حضرت حفصہ بنت عمرؓ — نکاح کے وقت نبی کریم ﷺ کی عمر تقریباً 56 سال اور حضرت حفصہؓ کی عمر تقریباً 18 سے 22 سال بیان کی جاتی ہے۔ نکاح 625 عیسوی میں ہوا۔
حضرت زینب بنت خزیمہؓ — نکاح کے وقت نبی کریم ﷺ کی عمر تقریباً 56 سال اور حضرت زینبؓ کی عمر تقریباً 30 سال بیان کی جاتی ہے۔ نکاح 625 عیسوی میں ہوا۔
حضرت ام سلمہؓ — نکاح کے وقت نبی کریم ﷺ کی عمر تقریباً 57 سال اور حضرت ام سلمہؓ کی عمر تقریباً 29 سے 32 سال بیان کی جاتی ہے۔ نکاح 626 عیسوی میں ہوا۔
حضرت زینب بنت جحشؓ — نکاح کے وقت نبی کریم ﷺ کی عمر تقریباً 58 سال اور حضرت زینبؓ کی عمر تقریباً 35 سے 38 سال بیان کی جاتی ہے۔ نکاح 627 عیسوی میں ہوا۔
حضرت جویریہ بنت الحارثؓ — نکاح کے وقت نبی کریم ﷺ کی عمر تقریباً 58 سے 59 سال اور حضرت جویریہؓ کی عمر تقریباً 20 سال بیان کی جاتی ہے۔ نکاح 628 عیسوی میں ہوا۔
حضرت ام حبیبہؓ — نکاح کے وقت نبی کریم ﷺ کی عمر تقریباً 59 سال اور حضرت ام حبیبہؓ کی عمر تقریباً 36 سے 40 سال بیان کی جاتی ہے۔ نکاح 628 یا 629 عیسوی میں ہوا۔
حضرت صفیہ بنت حییؓ — نکاح کے وقت نبی کریم ﷺ کی عمر تقریباً 60 سال اور حضرت صفیہؓ کی عمر تقریباً 17 سے 18 سال بیان کی جاتی ہے۔ نکاح 629 عیسوی میں ہوا۔
حضرت میمونہ بنت الحارثؓ — نکاح کے وقت نبی کریم ﷺ کی عمر تقریباً 60 سال اور حضرت میمونہؓ کی عمر کے بارے میں مختلف روایات ملتی ہیں۔ نکاح 629 عیسوی میں ہوا۔
حضرت ماریہ قبطیہؓ — حضرت ماریہؓ کے بارے میں تاریخی روایات میں مختلف تفصیلات ملتی ہیں، اور ان کا شمار ازواجِ مطہرات میں کرنے کے بارے میں بھی اہلِ علم کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔
نوٹ: عمروں اور تاریخوں سے متعلق بعض معلومات تاریخی روایات پر مبنی ہیں، اس لیے مختلف کتب میں معمولی اختلاف پایا جاتا ہے۔
@socialtvchannel101
1 month ago (edited) | [YT] | 2
View 0 replies
SocialTVChannel
وادی کاغان میں سیاحتی مقامات کے لیے کرایہ نامہ جاری
2 months ago | [YT] | 1
View 0 replies
SocialTVChannel
الحمدللہ!
آج ہمارے یوٹیوب سفر کو ایک سال مکمل ہو گیا۔ آپ کی محبت، دعاؤں اور مسلسل حمایت نے اس خواب کو حقیقت بنایا۔ ہر ویو، لائک، کمنٹ اور سبسکرپشن ہمارے لیے بے حد قیمتی ہے۔ دل کی گہرائیوں سے شکریہ! ان شاء اللہ آئندہ بھی ہم آپ تک بہترین سفری اور تاریخی کہانیاں پہنچاتے رہیں گے۔
سالگرہ مبارک، SocialTVChannel101! 🎉 #post
2 months ago | [YT] | 3
View 0 replies
SocialTVChannel
زندگی تصویر بھی ھے اور تقدیر بھی!
فرق صرف رنگوں کا ھے،
مَن چاھے رنگوں سے بنے تو تصویر اور انجانے رنگوں سے بنے تو تقدیر۔
2 months ago | [YT] | 0
View 0 replies
SocialTVChannel
Alhamdulillah! ❤️ 943 Subscribers – Thank You! 🌍
Every journey begins with a single step, and today our 943-member family is making this journey unforgettable.
Your love, support, likes, comments, and shares inspire me to keep exploring Pakistan's beautiful destinations and uncovering its rich history.
Thank you from the bottom of my heart! ❤️
Next Stop: 1,000 Subscribers! 🎉
2 months ago | [YT] | 6
View 2 replies
SocialTVChannel
نادرہ بانو بیگم مغل شہنشاہ شاہ جہاں کے دور کی ایک مشہور شہزادی تھیں۔ وہ 1618 میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد شہزادہ پرویز مرزا تھے جو شہنشاہ جہانگیر کے بیٹے تھے۔ نادرہ بانو بچپن ہی سے شاہی محل میں پلی بڑھیں اور اپنی خوبصورتی، ذہانت اور نرم مزاجی کی وجہ سے مشہور تھیں۔
1633 میں ان کی شادی شہزادہ دارا شکوہ سے ہوئی۔ یہ شادی مغل تاریخ کی سب سے شاندار اور مہنگی شادیوں میں شمار کی جاتی ہے۔ شاہی محل کو قیمتی زیورات، سونے چاندی اور روشنیوں سے سجایا گیا۔ اس شادی پر بے پناہ دولت خرچ کی گئی اور کئی دن تک جشن منایا گیا۔ نادرہ بانو اور دارا شکوہ ایک دوسرے سے بے حد محبت کرتے تھے، اور نادرہ بانو ہر مشکل وقت میں اپنے شوہر کے ساتھ رہیں۔
جب مغل سلطنت میں تخت کے لیے جنگ شروع ہوئی تو اورنگزیب عالمگیر نے اپنے بھائی دارا شکوہ کے خلاف بغاوت کر دی۔ شکست کے بعد دارا شکوہ اور نادرہ بانو مسلسل سفر اور مشکلات کا شکار رہے۔ انہی سخت حالات میں 1659 میں نادرہ بانو بیگم شدید بیماری کا شکار ہو گئیں اور وفات پا گئیں۔
کہا جاتا ہے کہ ان کی موت نے دارا شکوہ کو اندر سے توڑ دیا تھا۔ نادرہ بانو بیگم کو میاں میر کا مزار کے قریب دفن کیا گیا، جہاں آج بھی ان کا مقبرہ خاموشی سے مغل تاریخ کی ایک دردناک محبت کی داستان سناتا ہے۔
https://youtu.be/dF9TdHqPdZE?si=fkQjy... full video link
4 months ago | [YT] | 6
View 1 reply
SocialTVChannel
چاندنی رات شالیمار باغ میں…
وہ لمحہ جب تاریخ، فن اور فطرت ایک ہی دھڑکن میں ہم آہنگ ہو گئے۔
فضا میں عرقِ گلاب کی مہک، چاندنی کی نرم روشنی، سازوں کی لے، فارسی اشعار اور صوفی رقص—سب مل کر ایک ایسی نفیس کیفیت پیدا کر رہے تھے جو دل کو ہمیشہ کے لیے مسحور کر دیتی ہے۔
شالیمار کے پرانے سنگِ مرمر، محرابیں اور کُنگرے صدیوں کی بادشاہت کے قصے سناتے ہیں۔ یہ وہ لمحہ تھا جب وقت جیسے تھم سا گیا۔
Experience the magic of Chandni Raatein at Shalimar Bagh—where history, art, and nature
8 months ago | [YT] | 1
View 1 reply
SocialTVChannel
جنرل الارڈ — نپولین کی فوج سے لاہور تک کا سفر
فرانس کا نوجوان سپاہی ژاں فرانسیس الارڈ پہلے نپولین کی فوج میں خدمات انجام دیتا تھا۔ جب نپولین کو شکست ہوئی تو ہزاروں فرانسیسی سپاہی بکھر گئے، اور الارڈ بھی اُن میں شامل تھا۔ وہ بچتے بچاتے ایران پہنچا۔
لیکن برطانیہ نے ایران پر دباؤ ڈالا کہ
“تمام فرانسیسی سپاہیوں کو ملک سے نکال دو، یہ ہمارے خلاف ہو سکتے ہیں.”
یوں الارڈ سمیت کئی فرانسیسی فوجی ایران چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔
الارڈ کابل کے راستے ہند کی طرف آیا۔
جب وہ ہندوستان پہنچا تو اُس پر فوراً شک کیا گیا کہ شاید وہ برطانوی جاسوس ہو۔
اس پر تحقیقات ہوئیں، اس کی شناخت، دستاویزات اور پس منظر کی جانچ کی گئی۔
جب ثابت ہو گیا کہ وہ اصل میں فرانسیسی افسر ہے اور نپولین کی شکست کے بعد دربدر پھر رہا ہے، تو الزام ختم کر دیا گیا۔
یہاں سے اس کی زندگی کا نیا باب شروع ہوتا ہے۔
الارڈ لاہور پہنچا، اور مہاراجہ رنجیت سنگھ نے اس کی صلاحیت کو فوراً پہچان لیا۔
مہاراجہ نے اسے اپنی فوج میں شامل کیا، اور الارڈ نے:
سکھ فوج کو یورپی طرز پر منظم کیا
جدید تربیت دی
گھڑ سوار فوج (Cavalry) کو نیا رنگ دیا
فوجی ڈسپلن کو مضبوط کیا
لاہور اس کا گھر بن گیا۔ اس نے یہاں شادی کی، خاندان بسایا، اور آخرکار اسی شہر میں دفن ہوا۔
آج انارکلی میں اس اور اس کی ننھی بیٹی کی قبریں اُس دوستی، اعتماد اور تاریخ کی گواہ ہیں جو پنجاب اور ایک فرانسیسی سپاہی کے درمیان قائم ہوئی۔
10 months ago | [YT] | 1
View 0 replies
SocialTVChannel
ڈھکی پاکپتن، پاکپتن کے قریب ایک فراموش شدہ قدیم شہر، اپنی مٹی کے نیچے صدیوں کی تاریخ سمیٹے ہوئے ہے۔
ہڑپہ اپا اور موہنجو دڑو کے دور سے لے کر بابا فرید کے روحانی دور تک اس سرزمین نے تہذیبوں کے عروج و زوال کا مشاہدہ کیا ہے۔
اس پراسرار ٹیلے کو دریافت کریں جسے 17 بار دفن کیا گیا تھا — پھر بھی تاریخ کی آوازوں سے گونجتا رہتا ہے۔
📍 مقام: پاکپتن، پنجاب، پاکستان
🎥 عاطف حسین کی ایک تاریخی تحقیق
10 months ago | [YT] | 2
View 0 replies
Load more