The beauty of the universe is in its diversity. Similarly, the beauty of the world of thought is also due to differences of opinion. If we can maintain the unity of humanity in spite of differences of opinion and views. And if we do not allow it to become a source of enmity, our present world can also become beautiful.
The main purpose and goal of our channel is to try to live with love, tolerance, peace and harmony with differences of opinion. Make this difference of opinion the beauty of the human world.
To this end, we will try to present to you all the religions, sects, schools and ideas of the world. We will present all the great personalities and ideas in human history who have made a significant contribution to the world of thought and philosophy in an impartial, objective and sympathetic manner.
We hope you enjoy the extension of service and would like to thank you for your advice.
The difference of opinion that we consider beautiful is described by Ibrahim Zauq in this poem.
Shamsuddin Hassan Shigri
نیا پوڈ کاسٹ اپلوڈ ہو چکا ہے | EP 214
خدا کون ہے؟ مذاہب، فلسفہ اور تصوف اس سوال کا کیا جواب دیتے ہیں؟
انسانی فکر کا شاید سب سے قدیم، بنیادی اور مسلسل سوال ’’خدا کون ہے؟‘‘ ہے۔ تہذیبیں بدلیں، فلسفے وجود میں آئے، مذاہب نے مختلف زبانوں میں خدا کا تعارف کرایا، متکلمین نے عقلی و نقلی استدلال قائم کیا اور صوفیہ و عرفاء نے حقیقتِ مطلقہ کو ایک مختلف زاویے سے سمجھنے کی کوشش کی۔
لیکن سوال آج بھی اپنی پوری معنویت کے ساتھ موجود ہے:
کیا خدا کا تصور تمام مذاہب میں ایک ہی ہے؟
خدا، اللہ، ایشورا اور برہما جیسے مختلف نام کیا **ایک ہی ابدی حقیقت** کی طرف اشارہ کرتے ہیں، یا ان ناموں کے پیچھے تصوراتِ الوہیت بھی بنیادی طور پر مختلف ہیں؟
اور یہ کہنا کہ *’خدا بدیہی ہے‘ آخر اس کا مطلب کیا ہے؟
مہمان شخصیت
اس اہم موضوع پر ہمارے مہمان پروفیسر ڈاکٹر صلاح الدین محمد شمس الدین ازہری ہیں، جو طویل عرصے سے تقابلِ ادیان، اسلامی فکر، عربی و اسلامی علوم اور تصوف کے علمی و تدریسی میدان سے وابستہ ہیں۔ ان کا تدریسی و تحقیقی تعلق انڈونیشیا سے ہے اور وہ دھرماوانگسا یونیورسٹی، میدان، انڈونیشیا سے وابستہ رہے ہیں۔
اس نشست کی ایک خاص اہمیت یہ بھی ہے کہ ڈاکٹر صلاح الدین ازہری محض اس موضوع پر گفتگو کرنے والے محقق نہیں بلکہ زیرِ بحث کتاب ’مذاہبِ عالم میں خدائے معبود کی وحدانیت: تاریخی و تنقیدی مطالعہ‘‘کے مصنف ہیں۔ چنانچہ پوڈکاسٹ میں ہم کتاب کا تعارف ہی نہیں کرتے بلکہ مصنف سے براہِ راست یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ انہوں نے مختلف مذاہب اور فکری روایتوں کے تصورِ خدا کو ایک ہی مطالعے میں جمع کرنے کی ضرورت کیوں محسوس کی۔
گفتگو ایک وسیع تاریخی و فکری سفر طے کرتی ہے:
قدیم مذاہب میں خدائے معبود کا تصور کیا تھا؟
ہندو مذہبی فکر میں الوہیت، برہمن اور حقیقتِ مطلقہ کو کیسے سمجھا گیا؟
یونانی فلسفے میں خدا کا سوال کس طرح فلسفیانہ مسئلہ بنا؟
یہودیت اور مسیحیت میں خدا کا تصور کیا ہے اور توحید و تثلیث کی بحث کہاں سامنے آتی ہے؟
اسلام کا عقیدۂ توحید تصورِ خدا کو کس طرح بیان کرتا ہے؟
مسلم متکلمین نے ذات و صفاتِ الٰہی کے مباحث کو کیسے سمجھا؟
مسلم فلاسفہ کے ہاں خدا، علتِ اولیٰ اور واجب الوجود جیسے تصورات کیا معنی رکھتے ہیں؟
اور پھر تصوف و عرفان میں خدا اور کائنات کا تعلق کس طرح بیان ہوا؟
بالخصوص ابن عربی اور نظریۂ وحدت الوجود میں خدا، وجود اور کائنات کے باہمی تعلق کو کیسے سمجھا جائے؟
اس پوڈ کاسٹ کا مقصد محض یہ جاننا نہیں کہ مختلف مذاہب خدا کو کیا نام دیتے ہیں۔ اصل علمی سوال اس سے کہیں آگے ہے:
جب مذہب، علمِ کلام، فلسفہ اور تصوف ’’خدا‘‘ کی بات کرتے ہیں تو کیا سب ایک ہی حقیقت کو ایک ہی معنی میں بیان کررہے ہوتے ہیں؟
قدیم مذاہب → یونانی فلسفہ → یہودیت → مسیحیت → اسلامی توحید → مسلم علمِ کلام → اسلامی فلسفہ → تصوف و وحدت الوجود
تصورِ خدا کے اس طویل مذہبی، کلامی، فلسفیانہ اور عرفانی سفر پر خود کتاب کے مصنف کے ساتھ تفصیلی علمی گفتگو۔
مہمان: پروفیسر ڈاکٹر صلاح الدین محمد شمس الدین ازہری
مصنف: مذاہبِ عالم میں خدائے معبود کی وحدانیت
میزبان: شمس الدین حسن شگری
EP 214 | وحدت انسانیت
کونسل برائے تکثیری تحقیق ومکالمہ
پوڈ کاسٹ اب وحدت انسانیت پر اپلوڈ ہو چکا ہے۔
دیکھیے، سنیے اور اس بنیادی انسانی سوال پر ازسرِنو غور کیجیے:
’’خدا کون ہے؟‘
#خدا_کون_ہے #تصور_خدا #مذاہب_عالم #توحید #تقابل_ادیان #فلسفہ #تصوف #عرفان #وحدت_الوجود #ابن_عربی #علم_الکلام #اسلامی_فلسفہ #صلاح_الدین_ازہری #شمس_الدین_حسن_شگری #وحدت_انسانیت #WhoIsGod #ConceptOfGod #WorldReligions #ComparativeReligion #IslamicPhilosophy #Mysticism #Sufism #Tawhid #IbnArabi #WahdatAlWujud #EP214
3 hours ago | [YT] | 2
View 0 replies
Shamsuddin Hassan Shigri
کتاب خریدنے کے لیے
کتاب منگوانے، قیمت اور دیگر تفصیلات کے لیے واٹس ایپ پر پیغام کیجیے:
0340-2442023
کونسل برائے تکثیری تحقیق و مکالمہ (CPRD)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
فہرستِ موضوعات
ف
عرضِ ناشر
شمس الدین حسن شگری
تعارف
پروفیسر ڈاکٹر زریدہ محمد دون
پیش لفظ
پروفیسر ڈاکٹر صلاح الدین محمد شمس الدین
باب اول: قدیم مذاہب میں خدائے معبود سے متعلق مختلف تصورات
خدائے معبود سے متعلق مختلف مذہبی تصورات کے مابین متفقہ اصول
1۔ ہندو عقیدہ میں خدائے معبود کا تصور
ا۔ ہندو عقیدہ میں "اتحاد یا وجودی وحدت" کا تصور
ب۔ وجودی وحدت کی تعریف
ج۔ یونانی اور ہندوستانی فلسفہ میں وجود کی وحدت کا تصور
د۔ ہندو مت کا فکری تانا بانا
1۔ برہمن
2۔ آتماں (Atman)
3۔ کرما (Karma)
4۔ روحوں کا تناسخ
5۔ نجات (موکش)
6۔ ہندو مت کے عقیدہ میں روحوں کا تناسخ
7۔ (تناسخ) یا (پنر جنم) کے نظریہ پر مبصرین کی آراء کا خلاصہ
2۔ بدھ مت کے عقیدہ میں خدائے معبود کا تصور
3۔ (الف) چینی عقیدہ کا آسمانی خدا
3۔ (ب) چین کا شمنی مذہب
4۔ (الف) ایران کے زرتشتی عقائد میں خدائے معبود کا تصور
4۔ (ب) آریوں کے مذہبی عقائد میں خدائے معبود کا تصور
4۔ (ج) زرتشت کی اخلاقی تعلیمات کے تین ستون
4۔ (د) زرتشتی عقیدہ میں خدائے معبود کا تصور
5۔ (ا) قدیم یونان میں خدائے معبود کا تصور
5۔ (ب) افلاطون اور ارسطو کے یہاں خدائے معبود کا تصور
5۔ (ج) اسکندریہ کے فلسفیوں کا جدید افلاطونی نظریہ
باب دوم: یہود و نصاریٰ کے عقائد میں خدائے معبود کا تصور
1۔ بنی اسرائیل کا تاریخی پس منظر
ا۔ یہود اور یہودیت کا ایک تعارف
ب۔ یہودیت
ج۔ یہودی شریعت کے دس احکام
2۔ عیسائیت کا تاریخی پس منظر
ا۔ قرآن مجید میں عیسیٰ ابن مریم کی ولادت
ب۔ کتاب مقدس میں عیسیٰ ابن مریم کی ولادت
3۔ عیسائیوں کے نظریۂ تثلیث میں خدائے معبود کا تصور
ا۔ عیسائیوں کا نظریۂ توحید
ب۔ عیسائیوں کا نظریۂ تثلیث
ج۔ عیسائیوں کا عقیدۂ اتحاد و حلول
د۔ عقیدۂ تثلیث کے بارے میں عیسائیوں کے دلائل
4۔ عیسیٰ علیہ السلام کے اقوال سے نظریۂ تثلیث کی تردید
5۔ عیسائیت کی تحریف میں قسطنطین کا کردار
باب سوم: مسلمانوں کے عقیدۂ توحید میں خدائے معبود کا تصور
موضوع کا تعارف: خدا تعالیٰ پر ایمان
1۔ مسلمان فقہاء کے عقیدۂ توحید میں خدائے معبود کا تصور
(ا) امام ابو حنیفہ (رحمۃ اللہ علیہ)
(ب) امام مالک بن انس (رحمۃ اللہ علیہ)
(ج) امام شافعی (رحمۃ اللہ علیہ)
(د) امام احمد بن حنبل (رحمۃ اللہ علیہ)
2۔ علمائے کلام کے عقیدۂ توحید میں خدائے معبود کا تصور
(الف) معتزلہ کے نزدیک عقیدۂ توحید میں خدائے معبود کا تصور
1۔ خالص ذاتی صفات
2۔ شکلی شرکت کی صفات
اول: ذاتی صفات
1۔ قدرت و طاقت
2۔ علمیت
3۔ زندگی
4۔ وجود اور وجودیت
دوم: عملی صفات
1۔ کلام کی حقیقت
2۔ قرآن کی تخلیق
3۔ تنزیل (وحی)
4۔ لوح محفوظ
سوم: صفات نفی
الف۔ جسمانی صفات کا انکار
ب۔ مثال کا انکار
ج۔ احتیاج کا انکار
د۔ دوئی کا انکار
2۔ معتزلہ کا خدائے معبود کی صفاتِ حدوث سے انکار
ا۔ جسمانیت کا انکار
ب۔ اعراض سے انکار
ج۔ خدا کی رؤیت سے انکار
3۔ صفات الٰہیہ پر جہمیہ اور معتزلہ کی تردید میں ابن حنبل کا تبصرہ
ا۔ لافانی کے فنا ہونے سے متعلق تصور پر ابن حنبل کی تنقید
ب۔ خدائے معبود کا دیدار اور اس کا ثبوت
4۔ اشاعرہ کے نزدیک عقیدۂ توحید میں خدائے معبود کا تصور
اول: خدا کے وجود پر اشعری کی دلیل
دوم: خدا کی صفات پر اشعری کی دلیل
(ا) ذات معبود کی صفات
(ب) خدا کی صفات، نہ تو عین ذات ہیں اور نہ ہی غیر ذات
ج۔ مخلوقہ معلومات اور خدا کے ازلی علم کے درمیان تعلق
د۔ صفات خبریہ
سوم: قیامت کے دن خدا کے دیدار کا جواز
چہارم: خدا کا کلام (کلام نفسی اور کلام لفظی)
باب چہارم: مسلم فلاسفہ کے نظریۂ الوہیت میں خدائے معبود کا تصور
کندی کے نظریۂ الوہیت کا ایک اجمالی تعارف
(الف) کندی کے فلسفۂ الوہیت میں خدائے معبود کا تصور
(ب) فارابی کے فلسفۂ الوہیت میں خدائے معبود کا تصور
(ج) ابن سینا کے فلسفۂ الوہیت میں خدائے معبود کا تصور
(د) مسلمان فلسفیوں کے فلسفۂ الوہیت پر غزالی کا تبصرہ
(ھ) متکلمین اور فلسفیوں کے یہاں مسئلۂ الوہیت پر ابن رشد کا تبصرہ
(و) معتزلہ اور فلسفیوں کے یہاں مسئلۂ الوہیت پر ابن تیمیہ کا تبصرہ
باب پنجم: صوفیوں کے نظریۂ وحدت وجود میں خدائے معبود کا تصور
1۔ ابن عربی کے نظریۂ وحدت الوجود میں خدائے معبود کا تصور
1۔ (ا) محیی الدین ابن عربی
1۔ (ب) ابن عربی کے نظریۂ وحدت الوجود میں وجود کے مراتب
1۔ (ج) ابن عربی کے نزدیک خیال یا برزخ کا تصور
2۔ ابنِ عربی کی اصطلاح "ألوھہ" یا "الوہیت"
3۔ ابنِ عربی کے تصور "ألوہیت" کے فکری سرچشمے
ا۔ افلوطین کے نظریۂ فیض میں خدائے معبود کا تصور
ب۔ نظریۂ کمون
ج۔ نظریۂ معدوم
4۔ خلاصۂ بحث و تحقیق
أ۔ ابنِ عربی، فارابی اور ابنِ سینا کے یہاں فلسفۂ عقولِ عشرہ کی اہمیت
ب۔ ابنِ عربی اور اسماعیلی باطنی فلسفہ
2۔ ابن سبعین: نظریۂ وحدت وجود مطلق میں خدائے معبود کا تصور
1۔ (ا) ابنِ سبعین کا تعارف
1۔ (ب) ابنِ سبعین کے نظریۂ "وحدتِ وجودِ مطلق" پر علماء کی آراء
(ج) ابنِ سبعین کے نظریۂ «وحدتِ وجودِ مطلقہ» میں خدائے معبود کا تصور
3۔ «وحدتِ الوجود» اور «وحدتِ وجود مطلق» کے درمیان موازنہ
بحث و تحقیق کا خلاصہ
ختامیہ کلمات
(الف) شرک سے مطلق پاکی کا تصور
(ب) رحمت و جمال، اور قہر و غضب سے متعلقہ صفات
(ج) ضمیر و وجدان اسلامی عقیدہ کا ایک بنیادی وسیلہ
(د) باطل مشرکانہ عقائد کا مکمل سد باب
بحث و تحقیق کے مصادر اور مراجع
کونسل برائے تکثیری تحقیق و مکالمہ: تعارف اور اغراض و مقاصد
____
کتابوں کے آرڈر کی تفصیلات
1۔ مذاہبِ عالم میں خدائے معبود کی وحدانیت
مصنف: پروفیسر ڈاکٹر صلاح الدین محمد شمس الدین ازہری
قیمت بمع ڈاک خرچ: 1,800 روپے
2۔ وحدت الوجود
قیمت بمع ڈاک خرچ: 1,200 روپے
دونوں کی مجموعی قیمت: 3,000 روپے
دونوں کتابیں ایک ساتھ آرڈر کرنے پر خصوصی قیمت: 2,500 روپے بمع ڈاک خرچ
ادائیگی
Account number
IBN number
PK46DU IB000000
1122320001
Account Taital
COUNCIL FOR PLURALISTIC RESEARCH AND DIALOGUE
Bank name
Dubai Islamic Bank
رقم منتقل کرنے کے بعد ادائیگی کا اسکرین شاٹ، مکمل نام، مکمل پتہ اور فون نمبر ارسال کر دیجیے۔
CPRD — کونسل برائے تکثیری تحقیق و مکالمہ
6 days ago | [YT] | 11
View 2 replies
Shamsuddin Hassan Shigri
EP 213
سید ابو الاعلی مودودی صاحب حنفی دیوبندی مجتہدِ مطلق، مجدد یا ایک نئے مکتبِ فکر کے بانی؟
سید ابوالاعلیٰ مودودی کو ہم عموماً جماعت اسلامی اور سیاسی اسلام کے حوالے سے جانتے ہیں، لیکن ان کی اپنی دینی و علمی شناخت کیا تھی؟
اس تفصیلی نشست میں مفتی عطاء الرحمن کے سامنے فکرِ مودودی کے تقریباً تمام بنیادی پہلو رکھ دیے گئے ہیں:
مولانا مودودی کا مسلک کیا تھا؟ حنفی اور دیوبندی روایت سے ان کا تعلق کہاں تک تھا؟ کیا انہیں مقلد، مجتہد فی المذہب یا مجتہدِ مطلق کہا جاسکتا ہے؟ اور کیا جماعت اسلامی محض ایک دعوتی و سیاسی تحریک ہے یا فکرِ مودودی نے عملاً ایک مستقل مکتبِ فکر کی صورت اختیار کرلی ہے؟
بات یہاں سے آگے بڑھتی ہے تو کئی اہم سوالات سامنے آتے ہیں:
فکرِ مودودی کن تاریخی حالات میں پیدا ہوئی؟
برطانوی استعمار، تحریکِ آزادی، سقوطِ خلافتِ عثمانیہ، مسلم قومیت، جدیدیت، سیکولرزم اور مذہب مخالف تحریکوں نے ان کی فکر کو کیسے متاثر کیا؟
روایتی درسِ نظامی کے بغیر ان کی علمی تشکیل کیسے ہوئی؟
کیا سید صاحب باقاعدہ فاضل درس نظامی تھے ؟
مدرسہ اور چند معروف اساتذہ کونسے تھے ؟
عقیدہ اور مصادرِ دین:
مودودی صاحب کے نزدیک عقیدے کا ماخذ قرآن ہے یا قرآن و سنت دونوں؟ ایمان، عقیدہ، ضروریاتِ دین اور ضروریاتِ مذہب میں کیا فرق ہے؟ اور عقل عقیدے کا ماخذ ہے یا وحی کو سمجھنے کا ذریعہ؟
تفہیم القرآن:
صدیوں کی تفسیری روایت موجود تھی تو ایک نئی تفسیر کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ تفہیم القرآن کس کے لیے لکھی گئی اور مودودی صاحب کا منہجِ تفسیر کیا تھا؟
حدیث اور سنت:
مودودی صاحب حدیث اور سنت کو کیسے سمجھتے تھے؟ کیا ان کا منہج جمہور اہلِ سنت سے مختلف تھا؟
اور ان سے منسوب تعبیر ’’مزاج شناسِ رسول‘‘ آخر ہے کیا؟
علامہ غلام احمد پرویز کے ساتھ حجیتِ حدیث و سنت کے مشہور مباحثے میں مودودی صاحب نے کیا دلائل دیے؟ ان کا تصورِ حدیث امین احسن اصلاحی، چکڑالوی، اسلم جیراج پوری، پرویز اور جاوید احمد غامدی سے کہاں مختلف ہے؟
فقہ، تقلید اور اجتہاد:
کلاسیکی فقہ پر مودودی صاحب کی تنقید دراصل فقہ پر تھی یا فقہی جمود اور تقلید پر؟
وہ فقہی طور پر حنفی تھے یا تقابلِ مذاہب اور آزاد اجتہاد کے قائل؟
اور بنیادی سوال پھر وہی: کیا مودودی صاحب واقعی مجتہد تھے؟
اہلِ سنت، 73 فرقے اور فرقۂ ناجیہ:
مودودی صاحب کے نزدیک اہلِ سنت والجماعت کون ہیں؟
فرقہ، مسلک اور مکتبِ فکر میں کیا فرق ہے؟
73 فرقوں والی حدیث اور ’’فرقۂ ناجیہ‘‘ کو وہ کیسے سمجھتے تھے؟
شیعہ، تکفیر اور دائرۂ اسلام:
شیعہ مسلمانوں کی تکفیر کے بارے میں مودودی صاحب کا موقف کیا تھا؟
شیعہ، معتزلہ، صوفیہ، اہلِ حدیث، دیوبندی اور بریلوی مکاتب سے اختلاف کے باوجود کسی گروہ کو دائرۂ اسلام کے اندر یا باہر قرار دینے کا ان کا اصول کیا تھا؟
اور پھر گفتگو پہنچتی ہے فکرِ مودودی کے شاید سب سے زیادہ زیرِ بحث پہلو تک:
کیا مولانا مودودی نے اسلام کی ’’سیاسی تعبیر‘‘ پیش کی؟
اسلام اور سیاست کا تعلق ایک بات ہے، لیکن پورے دین کو سیاسی زاویے سے دیکھنا دوسری بات مودودی صاحب کہاں کھڑے تھے؟
حاکمیتِ الٰہیہ کیا ہے؟
اسلامی ریاست اور قیامِ دین کا باہمی تعلق کیا ہے؟
کیا سیاسی اقتدار دین کا صرف ایک شعبہ ہے، یا فکرِ مودودی میں قیامِ دین کا مرکزی وسیلہ؟
یہ نشست محض ’’مودودی موافق یا مودودی مخالف‘‘بحث نہیں، بلکہ سوال یہ ہے کہ:
مولانا مودودی کو علمی طور پر آخر کہاں رکھا جائے؟
مفسر؟ متکلم؟ مجدد؟ مجتہد؟ سیاسی مفکر؟
یا جدید مسلم دنیا میں ایک نئے فکری مکتب کے معمار؟
مہمان: مفتی عطاء الرحمن
میزبان: شمس الدین حسن شگری
EP 213 | وحدتِ انسانیت
کونسل برائے تکثیری تحقیق و مکالمہ
ایک غیر معمولی نشست جس میں فکرِ مودودی کے تقریباً ہر بنیادی دروازے پر سوال رکھا گیا ہے۔
مکمل پوڈکاسٹ اپلوڈ ہو چکا ہے۔
لنک کمنٹس میں
#مولانا_مودودی #سید_ابوالاعلی_مودودی #فکر_مودودی #تفہیم_القرآن #جماعت_اسلامی #سیاسی_اسلام #اسلامی_ریاست #حاکمیت_الٰہیہ #قیام_دین #اجتہاد #تقلید #فقہ_حنفی #دیوبند #اہل_سنت #حدیث #سنت #حجیت_حدیث #فرقہ_ناجیہ #شیعہ_سنی #مکاتب_فکر #اسلامی_فکر #اسلامی_علوم #مفتی_عطاء_الرحمن #شمس_الدین_حسن_شگری #وحدت_انسانیت #CPRD #Maududi #SyedAbulAlaMaududi #MaulanaMaududi #TafhimulQuran #JamaatEIslami #PoliticalIslam #IslamicThought #IslamicState #IslamicStudies #UrduPodcast #PakistanPodcast #WahdatEInsaniyat #Episode213
1 week ago | [YT] | 1
View 0 replies
Shamsuddin Hassan Shigri
آج شام 6 بجے
1 week ago | [YT] | 1
View 0 replies
Shamsuddin Hassan Shigri
عرض ناشر
خدا کا تصور انسانی فکر، مذہب اور تہذیب کے بنیادی ترین موضوعات میں سے ہے۔ انسان نے اپنے فکری سفر کے ہر دور میں یہ سوال اٹھایا ہے کہ اس کائنات کا سرچشمہ کیا ہے، خدا اور انسان کا باہمی تعلق کس نوعیت کا ہے، خدا دنیا سے ماورا ہے یا اس میں کسی صورت جلوہ گر بھی ہے، اور انسانی عقل خدا کی ذات و صفات کے بارے میں کہاں تک رسائی حاصل کرسکتی ہے۔ ان سوالات کے جوابات نے صرف مذہبی عقائد ہی کو تشکیل نہیں دیا بلکہ انسانی اخلاق، معاشرت، فلسفے اور تہذیبی رویوں پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔
زیرِ نظر کتاب ’’خدائے معبود کا تصور: یہودیوں، عیسائیوں اور مسلمانوں کے عقائد میں‘‘ پروفیسر ڈاکٹر صلاح الدین محمد شمس الدین ازہری کی اسی اہم اور پیچیدہ موضوع پر ایک وسیع علمی کاوش ہے۔ اسے شائع کرتے ہوئے ہم مسرت محسوس کرتے ہیں کہ ہمارے ادارے کے اشاعتی سلسلے میں ایک اور ایسی کتاب شامل ہورہی ہے جو مذاہب، فلسفے، علم الکلام اور تصوف کے باہمی تعلق کو سمجھنے میں معاون ثابت ہوسکتی ہے۔
یہ کتاب ہمارے ادارے کی جانب سے مختصر عرصے میں شائع ہونے والی ساتویں کتاب ہے۔ ہمارے لیے کتابوں کی تعداد سے زیادہ ان کے موضوعات، علمی افادیت اور اردو دنیا میں ان کی ضرورت اہم ہے۔ ہماری کوشش ہے کہ اردو قارئین کے سامنے ایسے موضوعات اور علمی مباحث لائے جائیں جن تک رسائی عام طور پر محدود ہے یا جو اب تک اردو میں مطلوبہ وسعت اور سنجیدگی کے ساتھ زیرِ بحث نہیں آسکے۔
اگرچہ کتاب کے عنوان میں یہودیت، عیسائیت اور اسلام کا خصوصی ذکر ہے، لیکن اس کا دائرۂ مطالعہ ان تین مذاہب تک محدود نہیں۔ مصنف نے تصورِ خدا کے تاریخی اور فکری پس منظر کو واضح کرنے کے لیے ہندومت، بدھ مت، قدیم چینی عقائد، زرتشتیت اور یونانی فلسفے سے بھی بحث کی ہے۔ اس کے بعد یہودی اور عیسائی تصوراتِ خدا کا جائزہ لیتے ہوئے اسلامی عقیدۂ توحید، صفاتِ الٰہیہ، مسلم متکلمین، فلاسفہ اور صوفیہ کے افکار تک گفتگو کو وسعت دی گئی ہے۔ یوں یہ کتاب تقابلِ ادیان کے ساتھ ساتھ علم الکلام، فلسفۂ مذہب اور اسلامی تصوف کے متعدد بنیادی مباحث کو بھی اپنے اندر سمیٹتی ہے۔
کتاب کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ مصنف مختلف زبانوں، تہذیبوں اور علمی روایتوں سے استفادہ کرتے ہیں۔ ان کا ازہری علمی پس منظر، عربی زبان و ادب سے گہرا تعلق اور مختلف ممالک کی جامعات میں طویل تدریسی و تحقیقی تجربہ اس تصنیف میں نمایاں طور پر محسوس ہوتا ہے۔ انہوں نے تصورِ خدا کو محض ایک مجرد مذہبی مسئلہ سمجھ کر پیش نہیں کیا بلکہ مختلف مذاہب اور فلسفیانہ مکاتب میں اس تصور کی تشکیل، تعبیر اور تاریخی ارتقا کو بھی موضوع بنایا ہے۔
اسلامی فکر کے حوالے سے کتاب میں فقہاء، متکلمین، فلاسفہ اور صوفیہ کے مناہج کو الگ الگ سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ امام ابو حنیفہ، امام مالک، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل کے ساتھ معتزلہ اور اشاعرہ کے کلامی مباحث، صفاتِ الٰہیہ، کلامِ الٰہی، رؤیتِ باری تعالیٰ اور ذات و صفات کے تعلق جیسے مسائل زیرِ بحث آئے ہیں۔ اسی طرح کندی، فارابی، ابن سینا، غزالی، ابن رشد اور ابن تیمیہ کے فلسفیانہ و تنقیدی مباحث کے بعد ابن عربی اور ابن سبعین کے تصوراتِ وحدت الوجود کا جائزہ بھی کتاب کا حصہ ہے۔ اس وسعت کی وجہ سے کتاب مختلف علمی ذوق رکھنے والے قارئین کے لیے افادیت کی حامل ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر صلاح الدین محمد شمس الدین ازہری کی ایک اور کتاب ’’اسلامی تصوف میں ابن عربی کا نظریۂ وحدت الوجود: مراتبِ وجود اور نظریۂ فیض‘‘ بھی اس سے پہلے ہمارے ادارے کی جانب سے شائع ہوچکی ہے۔ زیرِ نظر تصنیف ان کے فکری و تحقیقی کام کا نسبتاً زیادہ وسیع پہلو سامنے لاتی ہے، کیونکہ اس میں تصورِ خدا کو مذاہب، علم الکلام، فلسفے اور تصوف کے ایک جامع تناظر میں دیکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔
تاہم کتاب کے منہج کے بارے میں ایک بنیادی بات واضح کرنا ضروری ہے۔ یہ تصنیف مختلف مذہبی تصورات کا محض غیر جانب دار یا توضیحی تعارف نہیں، بلکہ مصنف نے اسلامی عقیدۂ توحید کو اپنا بنیادی فکری و اعتقادی معیار بناتے ہوئے دوسرے مذہبی اور فلسفیانہ تصورات کا تنقیدی جائزہ لیا ہے۔ خصوصاً تثلیث، حلول، تعددِ آلہہ اور بعض فلسفیانہ و صوفیانہ نظریات پر مصنف کی تنقید واضح اور بعض مقامات پر مناظرانہ رنگ رکھتی ہے۔ اس لیے اس کتاب کو مختلف مذاہب میں تصورِ خدا کا اسلامی نقطۂ نظر سے تقابلی و تنقیدی مطالعہ کہنا زیادہ موزوں ہوگا۔
یہاں ہم اپنے ادارے، کونسل برائے تکثیری تحقیق و مکالمہ، کی اشاعتی پالیسی بھی پوری وضاحت کے ساتھ قارئین کے سامنے رکھنا چاہتے ہیں۔ ہمارے ادارے کا مقصد کسی مخصوص مذہب، مسلک، مکتبِ فکر، فلسفیانہ نظام یا نظریے کی تبلیغ کرنا نہیں ہے۔ ہم مختلف مذہبی اور فکری روایتوں سے تعلق رکھنے والے اہلِ علم کی سنجیدہ علمی کاوشوں کو سامنے لانا چاہتے ہیں، تاکہ قارئین کو مختلف زاویہ ہائے نظر تک رسائی حاصل ہو اور ہمارے معاشرے میں مطالعے، سوال، تحقیق، تنقید اور علمی مکالمے کی روایت مضبوط ہو۔
کسی کتاب کی اشاعت کا یہ مطلب نہیں کہ ادارہ اس کتاب میں پیش کیے گئے ہر دعوے، تعبیر، استدلال یا نتیجے کی لازماً توثیق کرتا ہے۔ ہر کتاب بنیادی طور پر اپنے مصنف کے نقطۂ نظر کی نمائندگی کرتی ہے۔ اگر ہمارے ادارے سے شائع ہونے والی کسی کتاب کا اسلوب تبلیغی ہو، اس میں کسی مذہب، مسلک یا عقیدے کی صداقت یا برتری کا اظہار کیا گیا ہو، یا دوسرے مذہبی و فکری تصورات پر تنقید کی گئی ہو تو اسے متعلقہ مصنف کا علمی و اعتقادی موقف سمجھا جائے گا، نہ کہ کونسل برائے تکثیری تحقیق و مکالمہ کی ادارہ جاتی پالیسی۔
ہمارے نزدیک تکثیریت کا مطلب یہ نہیں کہ مختلف اور متضاد افکار کے درمیان حقیقی اختلافات کو چھپا دیا جائے، یا ہر مذہبی اور فلسفیانہ دعوے کو یکساں قرار دے دیا جائے۔ تکثیریت کا بنیادی تقاضا یہ ہے کہ ہر صاحبِ فکر کو اپنا موقف علمی دیانت اور ذمہ داری کے ساتھ پیش کرنے کا حق حاصل ہو، اور اسی طرح دوسروں کو اس موقف سے اختلاف، اس پر سوال اٹھانے اور اس کا علمی نقد پیش کرنے کی آزادی بھی حاصل ہو۔ حقیقی مکالمہ اسی وقت جنم لیتا ہے جب اختلاف کو دبانے کے بجائے اسے مہذب، مدلل اور علمی اظہار کا موقع دیا جائے۔
اسی اصول کی بنا پر ہم یہ اعلان بھی ضروری سمجھتے ہیں کہ اگر کوئی صاحبِ علم ہمارے ادارے سے شائع ہونے والی کسی کتاب، بشمول زیرِ نظر تصنیف، کا سنجیدہ علمی جواب یا مفصل نقد لکھتا ہے تو ہم اسے شائع کرنے کے اصولی اور اخلاقی طور پر پابند ہیں۔ مصنف یا ناقد کا مذہبی، مسلکی یا فکری تعلق ہمارے لیے فیصلہ کن نہیں ہوگا؛ اصل معیار تحریر کی علمی سنجیدگی، استدلال، شائستگی اور موضوع سے براہِ راست تعلق ہوگا۔ ہم کسی کتاب کی اشاعت کو مکالمے کا اختتام نہیں بلکہ اس کے آغاز کا وسیلہ سمجھتے ہیں۔ اگر ایک کتاب سوالات پیدا کرتی ہے، اختلاف کو متحرک کرتی ہے اور اہلِ علم کو علمی جواب لکھنے پر آمادہ کرتی ہے تو یہی ایک زندہ علمی روایت کی علامت ہے۔
زیرِ نظر کتاب میں بھی بعض مباحث اور نتائج ایسے ہوسکتے ہیں جن سے مختلف مذاہب یا مکاتبِ فکر سے وابستہ قارئین اتفاق نہ کریں۔ ہم اس اختلاف کو نہ صرف فطری سمجھتے ہیں بلکہ اہلِ علم کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے اختلاف کو محض جذباتی ردِعمل کے بجائے باقاعدہ تحقیق، دلیل اور تحریر کی صورت میں سامنے لائیں۔ کونسل ایسے علمی مکالمے کے لیے اپنا پلیٹ فارم فراہم کرنا اپنی فکری ذمہ داری سمجھتی ہے۔
ہماری اشاعتی سرگرمیوں کا بنیادی مقصد اردو زبان میں فکری امکانات کو وسعت دینا اور ان علمی مباحث تک عام قارئین کی رسائی ممکن بنانا ہے جو عموماً جامعات، مخصوص علمی حلقوں یا دوسری زبانوں تک محدود رہتے ہیں۔ اسی مقصد کے تحت ہماری کوشش ہوتی ہے کہ کتابوں کی قیمت حتیٰ الامکان کم رکھی جائے، تاکہ علم چند افراد اور مخصوص طبقات تک محدود نہ رہے۔
ہم امید کرتے ہیں کہ ’’خدائے معبود کا تصور‘‘ مذاہب، الٰہیات، اسلامی علم الکلام، فلسفے اور تصوف سے دلچسپی رکھنے والے قارئین کے لیے ایک مفید علمی ماخذ ثابت ہوگی۔ ہمیں یہ توقع بھی ہے کہ قارئین اس کتاب کو محض قبول یا رد کرنے کے جذبے سے نہیں بلکہ سوال، تحقیق، تقابل اور تنقیدی مطالعے کے ساتھ پڑھیں گے۔ اگر یہ تصنیف تصورِ خدا کے بارے میں موجود مختلف مذہبی اور فلسفیانہ تعبیرات کو سمجھنے، اپنی فکری روایت پر نئے زاویے سے غور کرنے اور سنجیدہ علمی مکالمے کو آگے بڑھانے میں مدد دیتی ہے تو ہم اس کی اشاعت کو اپنے ادارے کے بنیادی مقاصد سے ہم آہنگ ایک بامعنی علمی خدمت سمجھیں گے۔
شمس الدین حسن شگری
کونسل برائے تکثیری تحقیق و مکالمہ
ستمبر ۲۰۲۶
__________
مذاہبِ عالم میں خدائے معبود کی وحدانیت
مصنف: پروفیسر ڈاکٹر صلاح الدین محمد شمس الدین ازہری
مذاہبِ عالم میں تصورِ توحید اور خدائے معبود کی وحدانیت کا تاریخی و تنقیدی مطالعہ۔
399 صفحات | اعلیٰ معیار کی ہارڈ بائنڈنگ
مصنف 1990ء سے مصر، نائیجیریا، انڈونیشیا، ملیشیا اور برونائی کی مختلف جامعات میں تدریسی خدمات انجام دیتے رہے ہیں اور اس وقت دھرماونگسا یونیورسٹی، میدان، شمالی سماٹرا، انڈونیشیا سے وابستہ ہیں۔
کتاب کی تفصیلات اور حصول کے لیے واٹس ایپ پر رابطہ کریں:
0340-2442023
ناشر: کونسل برائے تکثیری تحقیق و مکالمہ (CPRD)
1 week ago | [YT] | 4
View 0 replies
Shamsuddin Hassan Shigri
EP 213 | مولانا مودودی :فکر، روایت اور اختلاف
مولانا مودودی کون تھے؟
اہلِ سنت، حنفی و دیوبندی علمی روایت کا تسلسل؟
یا ایک نئے مکتبِ فکر اور فرقے کے بانی؟
کیا ان کی فکر محض ایک تجدیدی و اصلاحی تعبیر تھی، یا عقیدہ، تفسیر، فقہ اور سیاست میں انہوں نے روایتی مذہبی فکر سے ایک مختلف راستہ اختیار کیا؟
تفہیم القرآن، حاکمیتِ الٰہیہ، اقامتِ دین، اسلامی ریاست، اجتہاد، تقلید، جمہوریت، تکفیر اور مولانا مودودی پر ہونے والی بڑی علمی تنقیدات ،سب زیرِ بحث۔
اور بنیادی سوال:
کیا ’’فکرِ مودودی‘‘ کو ایک مستقل مکتبِ فکر کہنا علمی طور پر درست ہے؟
جماعتِ اسلامی کے معروف عالم و مفتی
مفتی عطاء الرحمن
کے ساتھ ایک طویل، سنجیدہ اور بے تکلف علمی نشست۔
میزبان: شمس الدین حسن شگری
وحدتِ انسانیت | EP 213
بروز جمعہ شام — مکمل ویڈیو اپلوڈ ہوگی۔
#مولانا_مودودی #سید_ابوالاعلی_مودودی #فکر_مودودی #جماعت_اسلامی #مفتی_عطاء_الرحمن #تفہیم_القرآن #اسلامی_فکر #اسلامی_ریاست #حاکمیت_الٰہیہ #اقامت_دین #اجتہاد #تقلید #دیوبندی #اہل_سنت #اسلامی_سیاست #پاکستان #پوڈکاسٹ #وحدت_انسانیت #ShamsuddinHassanShigri #MaulanaMaududi #AbulAlaMaududi #JamaatEIslami #IslamicThought #WahdatEInsaniyat #Podcast
1 week ago | [YT] | 10
View 5 replies
Shamsuddin Hassan Shigri
کتاب شائع ہوگئی
مذاہبِ عالم میں خدائے معبود کی وحدانیت
مصنف: پروفیسر ڈاکٹر صلاح الدین محمد شمس الدین ازہری
مذاہبِ عالم میں تصورِ توحید اور خدائے معبود کی وحدانیت کا تاریخی و تنقیدی مطالعہ۔
399 صفحات | A5 سائز | اعلیٰ معیار کی ہارڈ بائنڈنگ
مصنف 1990ء سے مصر، نائیجیریا، انڈونیشیا، ملیشیا اور برونائی کی مختلف جامعات میں تدریسی خدمات انجام دیتے رہے ہیں اور اس وقت دھرماونگسا یونیورسٹی، میدان، شمالی سماٹرا، انڈونیشیا سے وابستہ ہیں۔
کتاب کی تفصیلات اور حصول کے لیے واٹس ایپ پر رابطہ کریں:
0340-2442023
ناشر: کونسل برائے تکثیری تحقیق و مکالمہ (CPRD)
1 week ago | [YT] | 11
View 0 replies
Shamsuddin Hassan Shigri
شوذب عسکری کا تعصب—مسلکی، مذہبی یا استعمار مخالف؟
🎙️ EP 212 | یمن A to Z
https://youtu.be/clxI0Rt1j-E?si=4upSs...
#شوذب_عسکری #یمن #حوثی #مسلکی_تعصب #وحدت_انسانیت
2 weeks ago | [YT] | 15
View 0 replies
Shamsuddin Hassan Shigri
بہت جلد وحدتِ انسانیت پر
یمن A to Z
تین ہزار سالہ تاریخ سے 2026ء تک
حوثی تحریک، سعودی عرب، ایران اور باب المندب کے قضیے پر جامع گفتگو۔
میزبان: شمس الدین حسن شگری
مہمان :محور مقاومت کے حامی اسکالر شوذب عسکری
پوڈکاسٹ EP 212
#یمن #حوثی #حوثی_تحریک #سعودی_عرب #ایران #باب_المندب #مشرق_وسطیٰ #Yemen #Houthis #SaudiArabia #Iran #BabAlMandeb #MiddleEast #WahdatEInsaniyat #Podcast #EP212
2 weeks ago | [YT] | 8
View 3 replies
Shamsuddin Hassan Shigri
ائمہ اہلِ بیتؑ سے مختار ثقفی کے بارے میں کیا منقول ہے؟
مدح اور ذم کی روایات
مختار ثقفی اسلامی تاریخ کی ان شخصیات میں سے ہیں جن کے بارے میں شدید اختلاف پایا جاتا ہے۔ لیکن ایک اہم سوال یہ ہے کہ ائمہ اہلِ بیتؑ سے خود مختار کے متعلق کیا روایات منقول ہیں؟
کیا امام محمد باقرؑ اور امام جعفر صادقؑ سے مختار کی مدح اور تحسین منقول ہے؟
اور پھر وہ روایات کیا ہیں جن میں مختار کے بارے میں منفی موقف ملتا ہے؟
اس مختصر کلپ میں انہی متعارض روایات اور ان کی تاریخی حیثیت پر گفتگو کی گئی ہے۔
مکمل پوڈکاسٹ: EP 211
مختار ثقفی: ہیرو، کذاب یا تاریخ کا ایک معما؟
مختار ثقفی پر 737 صفحات پر مشتمل تحقیقی کتاب کے مصنف کے ساتھ، اہلِ سنت و اہلِ تشیع کے معتبر مصادر کی روشنی میں تفصیلی گفتگو۔
مکمل پوڈکاسٹ وحدتِ انسانیت پر ملاحظہ کریں۔
#مختار_ثقفی #MukhtarAlThaqafi #اہل_بیت #امام_باقر #امام_جعفر_صادق #امام_حسین #کربلا #تاریخ_اسلام #شیعہ #اہل_سنت #اسلامی_تاریخ #EP211 #WahdatEInsaniyat
2 weeks ago | [YT] | 20
View 1 reply
Load more