The Unity Of Humanity وحدت انسانیت

The beauty of the universe is in its diversity. Similarly, the beauty of the world of thought is also due to differences of opinion. If we can maintain the unity of humanity in spite of differences of opinion and views. And if we do not allow it to become a source of enmity, our present world can also become beautiful.
The main purpose and goal of our channel is to try to live with love, tolerance, peace and harmony with differences of opinion. Make this difference of opinion the beauty of the human world.
To this end, we will try to present to you all the religions, sects, schools and ideas of the world. We will present all the great personalities and ideas in human history who have made a significant contribution to the world of thought and philosophy in an impartial, objective and sympathetic manner.
We hope you enjoy the extension of service and would like to thank you for your advice.
The difference of opinion that we consider beautiful is described by Ibrahim Zauq in this poem.


Shamsuddin Hassan Shigri

کچھ موضوعات ایسے ہوتے ہیں جو محض علمی مباحث نہیں ہوتے، بلکہ فکر کی بنیادیں ہلا دیتے ہیں۔
وحدت الوجود انہی موضوعات میں سے ایک ہے۔
یہ صرف ایک صوفیانہ اصطلاح نہیں، نہ ہی چند مشکل فلسفیانہ جملوں کا مجموعہ۔
یہ سوال ہے وجود کا۔
یہ سوال ہے تخلیق کا۔
یہ سوال ہے خدا، کائنات اور انسان کے تعلق کا۔
پوڈکاسٹ نمبر ۱۸۱
وحدت الوجود — جزو دوم
(وحدت سے کثرت کا ظہور اور مسئلۂ تخلیق)
مہمان: پروفیسر ڈاکٹر صلاح الدین محمد شمس الدین
میزبان: شمس الدین حسن شگری
چینل: وحدتِ انسانیت
ادارہ: کونسل برائے تکثیری تحقیق و مکالمہ
یہ نشست کیوں غیر معمولی ہے؟
ہم عام طور پر ایمان کی سطح پر یہ مان لیتے ہیں کہ “اللہ نے کائنات کو پیدا کیا”۔
لیکن فلسفہ یہاں سے سوال شروع کرتا ہے، ختم نہیں کرتا:
• اگر خدا مطلق واحد ہے، تو کثرت کہاں سے آئی؟
• اگر وجود ایک ہے، تو اشیاء کی انفرادیت کیا معنی رکھتی ہے؟
• کیا تخلیق ایک زمانی واقعہ ہے یا وجودی ظہور؟
• کیا “عدم” کوئی حقیقت ہے یا محض ذہنی مفہوم؟
یہ وہ سوالات ہیں جو صدیوں سے متکلمین، فلاسفہ اور صوفیا کے درمیان زیرِ بحث رہے ہیں۔
پوڈکاسٹ ۱۸۱ انہی سوالات کو گہرائی، ترتیب اور علمی دیانت کے ساتھ کھولتا ہے۔

مہمان — علمی گہرائی کی ضمانت
اس نشست کے مہمان پروفیسر ڈاکٹر صلاح الدین محمد شمس الدین ہیں —
عربی زبان و ادب، اسلامی فلسفہ، تصوف اور فکرِ اقبال کے ہمہ جہت محقق۔
نصف صدی سے زائد علمی خدمات،
جامعۃ الازہر سے تحقیقی وابستگی،
مصر، ملائشیا، انڈونیشیا اور برونائی میں تدریس،
اور دو سو سے زائد تحقیقی کام —
یہ محض تعارف نہیں، بلکہ اس بات کی ضمانت ہے کہ گفتگو سطحی نہیں ہوگی۔
ان کی معروف تصنیف
“Two Different Theories: Unity of Being and Absolute Unity of Being”
واضح کرتی ہے کہ وحدت الوجود کو سمجھنے کے لیے باریک فرقوں کی پہچان ضروری ہے۔
ان کے نزدیک وحدت الوجود کوئی شاعرانہ استعارہ نہیں بلکہ ایک مربوط ontological نظام ہے۔

چیپٹر اول: اعیانِ ثابتہ — تخلیق کی قبل از ظہور حقیقت
گفتگو کا آغاز اعیانِ ثابتہ سے ہوتا ہے۔
اعیانِ ثابتہ کیا ہیں؟
کیا وہ خارج میں موجود ہیں؟
یا محض علمِ الٰہی میں تعینات ہیں؟
یہاں ابنِ عربی کے نظامِ فکر کی بنیاد سامنے آتی ہے:
کائنات پہلے “علم” میں ہے، پھر “وجود” میں ظاہر ہوتی ہے۔
اسی سیاق میں “عماء” کی بحث آتی ہے —
وہ ماورائی حالت جس میں تعینات ابھی ظاہر نہیں ہوئیں۔
پھر حدیثِ قدسی
“کنت کنزاً مخفیاً…”
کا استدلال سامنے رکھا جاتا ہے۔
یہاں محبت کا مفہوم، وجودِ مطلق کی حقیقت، اور ظہور کی معنویت پر ایسی گفتگو ہوتی ہے جو سننے والے کو وجود کے بنیادی سوال تک لے جاتی ہے۔
عدم کا مسئلہ — فلسفے کا سب سے نازک مرحلہ
ایک نہایت دقیق سوال اٹھایا جاتا ہے:
عدم محض وجود کو کیسے قبول کرے؟
اگر عدم کچھ نہیں ہے، تو وہ کیسے “قبول” کرے گا؟
اور اگر وہ کچھ ہے، تو پھر وہ عدم نہیں رہا۔
ابنِ عربی کے نزدیک “عدم” محض محال نہیں، بلکہ ایک اعتباری مفہوم ہے۔
وجود ہی اصل حقیقت ہے، اور کثرت اسی وجود کے مختلف تعینات ہیں۔
یہاں سے ایک بڑا سوال جنم لیتا ہے:
کیا تخلیق عدم سے وجود ہے؟
یا واحد حقیقت کا تدریجی ظہور؟
نظریۂ فیض اور صدور — یونان سے اسلام تک
گفتگو یونانی فلسفے کی طرف بڑھتی ہے۔
فلوطینوس کے “The One” سے عقل اور نفس کا فیضان —
ایک لازمی عمل۔
لیکن اگر کائنات کا صدور لازمی ہے،
تو کیا خدا مجبور ہو گیا؟
یہاں اسلامی فلاسفہ کے عقولِ عشرہ کا نظریہ سامنے آتا ہے —
وحدت اور کثرت کے درمیان ایک عقلی پل۔
پھر ابنِ عربی کا تصورِ ظہور سامنے آتا ہے،
جو صدور سے مختلف ہے۔
یہاں ظہور ارادی ہے، لازمی نہیں۔
یہ فرق معمولی نہیں —
یہ خدا کی آزادی اور ارادے کے تصور کو محفوظ رکھتا ہے۔
چیپٹر دوم: عقل، خیال اور وجود کی تعبیر
فلاسفہ نے عقل کو کائناتی اصول کیوں بنایا؟
ابنِ عربی کے ہاں خیال کی کیا حیثیت ہے؟
یہاں عقل اور خیال کا فرق کھولا جاتا ہے۔
عقل حد بندی کرتی ہے،
خیال ربط قائم کرتا ہے۔
ابنِ عربی کا “خیالِ مطلق” وجود کے درجات کو سمجھنے کی کلید بن جاتا ہے۔
اسی مقام پر علامہ اقبال کی طرف اشارہ ہوتا ہے:
اقبال کے نزدیک عقل اور قلب کا توازن کیا ہے؟
کیا صوفیانہ عقلیت اور فلسفیانہ عقلیت ایک ہیں؟
یہ بحث اسلامی اور یونانی فکر کے بنیادی فرق کو واضح کرتی ہے۔

بگ بینگ — سائنس اور تصوف کا سامنا
گفتگو یہاں ایک معاصر زاویہ اختیار کرتی ہے۔
بگ بینگ کہتی ہے کہ وقت، مکان اور مادہ کا آغاز ہوا۔
لیکن آغاز سے پہلے کیا تھا؟
جب سائنس “پہلے” کے سوال پر خاموش ہو جاتی ہے،
تو کیا یہ سائنسی حد ہے؟
یا فلسفیانہ مسئلہ؟
یہاں مذہب اور الحاد دونوں کا تنقیدی جائزہ لیا جاتا ہے۔
اگر مذہبی نظریات کو خرافات کہا جاتا ہے،
تو کیا سائنسی نظریات مکمل یقینی ہیں؟
یہ حصہ سننے والے کو جذباتی بحث سے نکال کر فکری دیانت کی طرف لے جاتا ہے۔

چیپٹر سوم: حقیقتِ محمدیہ — وجودی نظام کا قلب
گفتگو اپنے عروج پر پہنچتی ہے۔
حقیقتِ محمدیہ —
پہلا تعین؟
اولین ظہور؟
برزخی حقیقت؟
اگر حقیقتِ محمدیہ کو نظر انداز کیا جائے،
تو کیا ابنِ عربی کا نظام مکمل رہتا ہے؟
یہاں انسانِ کامل کا تصور محض اخلاقی مثالیہ نہیں بلکہ کائناتی مرکز کے طور پر سامنے آتا ہے۔
انسان وہ مقام ہے جہاں وحدت شعوری طور پر خود کو پہچانتی ہے۔

آخری سوال — ابنِ عربی کی حیثیت
کیا ابنِ عربی کو صرف صوفی کہنا کافی ہے؟
یا وہ ایک مکمل metaphysical architect ہیں؟
یہ سوال اس نشست کا اختتامی مگر سب سے طاقتور مرحلہ ہے۔
یہ ہمیں مجبور کرتا ہے کہ ابنِ عربی کو نئی آنکھ سے دیکھیں۔

کیوں سنیں؟
کیونکہ یہ گفتگو محض اصطلاحات نہیں سکھاتی —
یہ وجود کو دیکھنے کا زاویہ بدل دیتی ہے۔
آپ اگر فلسفہ پڑھتے ہیں،
اگر تصوف میں دلچسپی رکھتے ہیں،
اگر سائنس اور مذہب کے تعلق پر سوچتے ہیں،
یا اگر صرف یہ جاننا چاہتے ہیں کہ “ہم کہاں سے آئے ہیں” —
تو یہ نشست آپ کو ایک نئی فکری دنیا میں لے جائے گی۔

نشر ہونے کا وقت
21 فروری 2026
بمطابق 4 رمضان
شام 5 بجے
چینل: وحدتِ انسانیت
یہ صرف ایک پوڈکاسٹ نہیں۔
یہ وحدت اور کثرت کے درمیان پردہ اٹھانے کی کوشش ہے۔
اور شاید،
یہ گفتگو سننے کے بعد
آپ دنیا کو ویسا نہ دیکھ سکیں جیسا پہلے دیکھتے تھے۔
شمس الدین حسن شگری

3 days ago | [YT] | 24

Shamsuddin Hassan Shigri

Podcast No. 181
Wahdat al-Wujud — Part Two
(The Emergence of Multiplicity from Unity and the Problem of Creation)
Guest: Professor Dr. Salahuddin Muhammad Shamsuddin
Host: Shamsuddin Hasan Shigri
Channel: Wahdat-e-Insaniyat
Institution: Council for Pluralistic Research and Dialogue
Comprehensive Introduction of the Distinguished Guest
Professor Dr. Salahuddin Muhammad Shamsuddin is regarded as one of the prominent contemporary Muslim scholars who, for more than half a century, has carried out profound and wide-ranging research in Arabic language and literature, Islamic philosophy, Sufism, comparative literature, and particularly the thought of Allama Muhammad Iqbal. His scholarly contributions are equally appreciated across the Arab world, the Subcontinent, and Southeast Asia.
Dr. Shamsuddin’s academic identity is not confined to a single specialization. His work is shaped by the interconnection of linguistics, rhetoric, philosophy of language, Islamic theology, existential thought, Sufism, and modern intellectual debates. This breadth distinguishes him not merely as a researcher, but as a representative scholar of a living intellectual tradition.
His academic career spans nearly five decades. More than two hundred scholarly works—books, research articles, critical studies, and translations—are listed under his name on Google Scholar. His research areas include the structure and intellectual foundations of the Arabic language, Abd al-Qahir al-Jurjani’s theory of nazm, comparative studies of Arabic rhetoric and modern linguistics, critical engagement with Orientalist scholarship, Islamic philosophy and Aristotelian logic, Sufism and metaphysics, and the intellectual project of Iqbal.
At the international level, he has served in distinguished universities in Egypt, Malaysia, Indonesia, and Brunei Darussalam. After his academic association with Al-Azhar University in Cairo, he taught Arabic language, Islamic literature, and Iqbal studies in Malaysia and Indonesia within a comparative and global framework. At Sultan Sharif Ali Islamic University (UNISSA) in Brunei, he played an effective role in shaping modern curricula and research trends in Arabic language, literature, and Islamic intellectual discourse. Teaching in diverse cultural and academic environments enriched his scholarship with a unique synthesis of Arab tradition, South Asian intellectual sensitivity, and Southeast Asian diversity.
In the field of Sufism and existential philosophy—especially Wahdat al-Wujud—Dr. Shamsuddin’s work is particularly significant and intellectually rigorous. His well-known book,
Two Different Theories: “Unity of Being” and “Absolute Unity of Being,”
clarifies, through scholarly argument, the subtle yet fundamental distinction between Unity of Being and Absolute Unity of Being. By situating the thought of Ibn Arabi and Ibn Sab‘in within their historical and metaphysical contexts and relating them to contemporary philosophical discussions, he demonstrates that Wahdat al-Wujud is not merely a mystical slogan but a coherent ontological system essential for understanding the intellectual spirit of Islamic Sufism.
Similarly, his research on Allama Muhammad Iqbal holds special importance. His PhD at Al-Azhar University focused on Islamic intellectual trends in Iqbal’s poetry. For Dr. Shamsuddin, Iqbal is not merely a poet but a comprehensive thinker, a critic of modernity, and a proponent of religious renewal. His works on Iqbal’s concept of khudi (selfhood), religious experience, the relationship between revelation and reason, and critique of Western civilization present Iqbal as a structured intellectual system rather than an isolated literary figure.
His contributions in Arabic language, rhetoric, and comparative literature are equally noteworthy. His studies on Abd al-Qahir al-Jurjani’s theory of nazm, the problem of word and meaning, style, and modern linguistic theories represent a substantial addition to Arabic literary criticism. In comparative literature, he offers balanced and critical engagements between Western theoretical models and Islamic literary tradition, marked by scholarly objectivity rather than emotional reaction.
________________________________________
Central Theme of the Discussion
This episode constitutes the second and crucial part of the ongoing intellectual exploration of Wahdat al-Wujud. In this scholarly dialogue, Professor Dr. Salahuddin Muhammad Shamsuddin and host Shamsuddin Hasan Shigri focus on a fundamental and complex metaphysical question in Islamic thought: How does multiplicity emerge from unity, and what is the true nature of creation?
The discussion begins with the concept of Ayān Thābitah (Fixed Archetypes) and the explanation of ‘Ama. Ibn Arabi’s interpretation of the famous hadith qudsi, “Kuntu Kanzan Makhfiyan” (“I was a hidden treasure…”), is examined in depth, clarifying whether creation should be understood as creation ex nihilo (from nothing) or as the gradual manifestation of a single ultimate reality. The philosophical background of emanation (fayḍ) and the emergence of multiplicity is also explored.
The debate then extends to Greek philosophy, particularly Plotinus’ concept of “The One,” the Islamic philosophical doctrine of the Ten Intellects, and Suhrawardi’s Illuminationist philosophy. Through this comparative analysis, the conversation examines how Islamic Sufism and philosophy address the problem of unity and multiplicity, and what essential differences exist between their approaches.
In the second half, modern cosmological theories—especially the Big Bang theory—are critically discussed. The question is raised whether contemporary scientific cosmology converges with Sufi metaphysics or whether both operate within distinct intellectual frameworks.
The episode concludes with a profound examination of Haqiqat Muhammadiyah (Muhammadan Reality) and Insan al-Kamil (the Perfect Human), raising the fundamental question: Is it sufficient to understand Ibn Arabi merely as a mystic, or should he be recognized as the architect of a comprehensive and systematic metaphysical worldview?
Presented by the Council for Pluralistic Research and Dialogue and broadcast on the Wahdat-e-Insaniyat channel, this episode continues a serious and scholarly engagement with classical Islamic thought.
The full discussion will be uploaded on 21 February 2026 (4th Ramadan) at 5:00 PM on Shamsuddin Hasan Shigri’s YouTube channel “Wahdat-e-Insaniyat.”

3 days ago | [YT] | 9

Shamsuddin Hassan Shigri

پوڈکاسٹ نمبر ۱۸۱
وحدت الوجود — جزو دوم
(وحدت سے کثرت کا ظہور اور مسئلۂ تخلیق)
مہمان: پروفیسر ڈاکٹر صلاح الدین محمد شمس الدین
میزبان: شمس الدین حسن شگری
چینل: وحدتِ انسانیت
ادارہ: کونسل برائے تکثیری تحقیق و مکالمہ
مہمانِ خصوصی کا جامع تعارف
پروفیسر ڈاکٹر صلاح الدین محمد شمس الدین عصرِ حاضر کے اُن ممتاز مسلم اہلِ علم میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے عربی زبان و ادب، اسلامی فلسفہ، تصوف، تقابلی ادب اور بالخصوص فکرِ اقبال پر نصف صدی سے زائد عرصے تک گہرا اور ہمہ گیر تحقیقی کام انجام دیا ہے۔ ان کی علمی خدمات عرب دنیا، برصغیر اور جنوب مشرقی ایشیا کے فکری حلقوں میں یکساں طور پر قدر کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہیں۔
ڈاکٹر شمس الدین کی علمی شناخت کسی ایک میدان تک محدود نہیں۔ ان کا کام لسانیات، بلاغت، فلسفۂ زبان، اسلامی الہیات، وجودی فکر، تصوف اور جدید فکری مباحث کے باہمی ربط سے تشکیل پاتا ہے۔ یہی جامعیت انہیں محض ایک محقق نہیں بلکہ ایک زندہ علمی روایت کے نمائندہ عالم کے طور پر ممتاز کرتی ہے۔
ان کی علمی زندگی تقریباً پانچ دہائیوں پر محیط ہے۔ گوگل اسکالر پر ان کے نام سے دو سو سے زائد علمی کام—جن میں کتب، تحقیقی مقالات، تنقیدی مطالعات اور تراجم شامل ہیں—دستیاب ہیں۔ ان کے تحقیقی موضوعات میں عربی زبان کی ساخت اور فکری بنیادیں، عبدالقاہر الجرجانی کا نظریۂ نظم، عربی بلاغت اور جدید لسانیات کا تقابلی مطالعہ، مستشرقین کی تنقید کا علمی محاسبہ، اسلامی فلسفہ اور یونانی منطق، تصوف اور مابعدالطبیعیات، اور فکرِ اقبال جیسے بنیادی مباحث نمایاں ہیں۔
بین الاقوامی سطح پر آپ نے مصر، ملائشیا، انڈونیشیا اور برونائی دارالسلام کی ممتاز جامعات میں تدریسی و تحقیقی خدمات انجام دیں۔ جامعۃ الازہر، قاہرہ سے علمی وابستگی کے بعد ملائشیا اور انڈونیشیا میں عربی زبان، اسلامی ادب اور فکرِ اقبال کو تقابلی اور عالمی تناظر میں پیش کیا۔ برونائی کی سلطان شریف علی اسلامی یونیورسٹی (UNISSA) میں آپ نے عربی زبان و ادب اور اسلامی فکری مباحث کے جدید نصاب کی تشکیل میں مؤثر کردار ادا کیا۔ مختلف تہذیبی و علمی ماحولوں میں تدریس کے اس تجربے نے ان کی تحریروں کو ایک ایسی وسعت عطا کی جس میں عربی روایت، برصغیر کی فکری حساسیت اور جنوب مشرقی ایشیا کا علمی تنوع ایک دوسرے سے ہم کلام نظر آتا ہے۔
تصوف اور وجودی فلسفہ، خصوصاً وحدت الوجود کے باب میں ڈاکٹر شمس الدین کا کام نہایت اہم اور گہرائی کا حامل ہے۔ ان کی معروف تصنیف
Two Different Theories: “Unity of Being” and “Absolute Unity of Being”
میں وحدت الوجود اور وحدت الوجودِ مطلق کے مابین باریک مگر بنیادی فرق کو علمی استدلال کے ساتھ واضح کیا گیا ہے۔ ابنِ عربی اور ابنِ سبعین کے تصورات کو تاریخی اور مابعدالطبیعی سیاق میں رکھ کر جدید فلسفیانہ مباحث سے مربوط کرنا ان کی تحقیق کا امتیازی پہلو ہے۔ ان کے نزدیک وحدت الوجود محض ایک صوفیانہ اصطلاح نہیں بلکہ ایک مربوط وجودی نظام ہے جسے سمجھے بغیر اسلامی تصوف کی فکری روح تک رسائی ممکن نہیں۔
اسی طرح علامہ محمد اقبال پر ان کی تحقیق خاص اہمیت رکھتی ہے۔ جامعۃ الازہر سے ان کی پی ایچ ڈی اقبال کی شاعری میں اسلامی فکری رجحانات کے موضوع پر مکمل ہوئی۔ ڈاکٹر شمس الدین کے ہاں اقبال ایک شاعر سے بڑھ کر ایک ہمہ گیر مفکر، جدیدیت کے ناقد اور تجدیدِ فکرِ دینی کے داعی کے طور پر سامنے آتے ہیں۔ اقبال کے تصورِ خودی، مذہبی تجربے، وحی و عقل کے تعلق اور مغربی تہذیب پر تنقید جیسے موضوعات پر ان کا کام اقبال کو ایک مربوط فکری نظام کے طور پر سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔
عربی زبان، بلاغت اور تقابلی ادب کے میدان میں بھی ان کی خدمات نمایاں ہیں۔ عبدالقاہر الجرجانی کے نظریۂ نظم، لفظ و معنی کے مسئلے، اسلوب اور جدید لسانی نظریات پر ان کے تحقیقی مقالات عربی ادبی تنقید میں معتبر اضافہ ہیں۔ تقابلی ادب کے ضمن میں انہوں نے مغربی نظریات اور اسلامی ادبی روایت کا سنجیدہ موازنہ پیش کیا ہے، جس میں علمی توازن اور تنقیدی شعور نمایاں ہے۔
گفتگو کا مرکزی موضوع
وحدت الوجود کے موضوع پر جاری فکری و تحقیقی سلسلے کی یہ قسط اس مباحثے کا دوسرا اور نہایت اہم حصہ ہے۔ اس علمی نشست میں پروفیسر ڈاکٹر صلاح الدین محمد شمس الدین اور میزبان شمس الدین حسن شگری اسلامی فکر کے ایک بنیادی اور پیچیدہ مابعد الطبیعیاتی سوال کو مرکزِ بحث بناتے ہیں: وحدت سے کثرت کا ظہور کیسے ہوتا ہے، اور تخلیق کی حقیقت کیا ہے؟
گفتگو کا آغاز اعیانِ ثابتہ کے تصور اور عماء کی توضیح سے ہوتا ہے۔ ابنِ عربی کے استدلال کو حدیثِ قدسی “کنت کنزاً مخفیاً” کے تناظر میں سمجھایا جاتا ہے اور یہ واضح کیا جاتا ہے کہ آیا تخلیق کو “عدم سے وجود” کے طور پر سمجھا جائے یا اسے واحد حقیقت کے تدریجی ظہور کے طور پر دیکھا جائے۔ اس ضمن میں نظریۂ فیض اور صدورِ کثرت کا فلسفیانہ پس منظر بھی زیرِ بحث آتا ہے۔
مباحثہ یہاں سے آگے بڑھتے ہوئے یونانی فلسفے، خصوصاً فلوطینوس کے تصورِ “The One”، اسلامی فلسفے کے عقولِ عشرہ، اور سہروردی کے فلسفۂ اشراق تک پھیلتا ہے۔ اس تقابلی جائزے کے ذریعے یہ سوال سامنے آتا ہے کہ اسلامی تصوف اور فلسفہ وحدت و کثرت کے مسئلے کو کس انداز سے حل کرتے ہیں، اور ان کے مابین بنیادی فرق کیا ہے۔
گفتگو کے دوسرے حصے میں جدید کائناتی نظریات، بالخصوص بگ بینگ تھیوری، کا تنقیدی جائزہ لیا جاتا ہے۔ یہاں یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ کیا جدید سائنس کے کائناتی تصورات صوفیانہ مابعد الطبیعیات کے قریب آتے ہیں یا دونوں اپنے اپنے دائرۂ فکر میں مختلف راستے اختیار کرتے ہیں۔
اختتام پر حقیقتِ محمدیہ اور انسانِ کامل کے تصورات کا عمیق تجزیہ پیش کیا جاتا ہے۔ اسی تناظر میں یہ بنیادی سوال سامنے رکھا جاتا ہے کہ کیا ابنِ عربی کو صرف ایک صوفی کے طور پر سمجھنا کافی ہے، یا انہیں ایک منظم اور ہمہ گیر مابعد الطبیعیاتی نظام کے معمار کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔
کونسل برائے تکثیری تحقیق و مکالمہ کی پیشکش اور چینل وحدتِ انسانیت پر نشر ہونے والی یہ قسط کلاسیکی اسلامی فکر کے ساتھ سنجیدہ اور علمی مکالمے کا تسلسل ہے۔
مکمل گفتگو ۲۱ فروری ۲۰۲۶، بمطابق ۴ رمضان، شام ۵ بجے، شمس الدین حسن شگری کے یوٹیوب چینل “وحدتِ انسانیت” پر اپ لوڈ کی جائے گی۔

5 days ago | [YT] | 11

Shamsuddin Hassan Shigri

شریعتِ کی روشنی میں خروج علی الحاکم—یعنی کسی ظالم حکمران کے خلاف قیام و تحریک—کا شرعی، اخلاقی اور فقہی پہلو کیا ہے؟ اسی طرح ولیِ فقیہ کے خلاف اٹھنے والی تحریکات کی دینی و آئینی حیثیت کیا بنتی ہے؟

موجودہ حالات و واقعات کے تناظر میں ان نہایت اہم اور نازک سوالات پر حجۃ الاسلام والمسلمین علامہ محمد حسن صلاح الدین صاحب سے سنجیدہ اور طالبعلمانہ سوال
مکمل گفتگو شمس الدین حسن شگری کے چینل پر ملاحظہ فرمائیں

In the light of Islamic Shariah, what are the legal, ethical, and juristic dimensions of khurūj ʿala al-ḥākim—that is, rising against an unjust ruler? Likewise, what is the religious and constitutional status of movements that emerge in opposition to the Wilāyat al-Faqīh (Guardianship of the Jurist)?

In the context of the current circumstances and unfolding events, these highly important and sensitive questions were presented in a serious and academic manner to Hujjat al-Islam wal-Muslimeen Allama Muhammad Hasan Salahuddin.

Watch the complete discussion on Shamsuddin Hassan Shigri’s channel.

1 week ago | [YT] | 8

Shamsuddin Hassan Shigri

پوڈکاسٹ نمبر 179

مہمان: حجۃ الاسلام والمسلمین، مفسرِ قرآن، شیخ محمد حسن صلاح الدین
(اردو زبان میں ولایتِ فقیہ پر پہلی کتاب کے مصنف)

میزبان: شمس الدین حسن شگری
چینل: وحدتِ انسانیت
ادارہ: کونسل برائے تکثیری تحقیق و مکالمہ

عنوان:
ولایتِ فقیہ کا شیعہ عقیدۂ امامت اور سنی تصورِ خلافت سے موازنہ — حقِ حکومت کسے حاصل ہے؟

سوال نمبر 1:

حقِ حاکمیت بطورِ بنیادی سوال

سوال نمبر 2:

حکومت کی مشروعیت کی بنیاد کیا ہے؟
(سیکولر اور مذہبی نقطۂ نظر)

سوال نمبر 3:

نبی کے بعد حکومت کا نظام کیا ہوگا؟
کیا عصمت اور نص بنیاد ہوں گے یا شوریٰ؟

سوال نمبر 4:

انسانوں پر حاکم خدا ہے، اور نبی خدا کے نمائندے کے طور پر حقِ حکومت رکھتا ہے۔ شیعہ نقطۂ نظر کے مطابق یہ حق نبی سے مخصوص ہستیوں کو منتقل ہوا، جو معصوم اور خدا کی طرف سے منصوص ہیں۔
نبوت کا دروازہ بند ہو چکا ہے اور اثنا عشری عقیدے کے مطابق بارہواں امام غیبت میں ہے۔ اب جبکہ نص اور عصمت دونوں مفقود ہیں، حاکم کا تعین کیسے ہوگا؟

سوال نمبر 5:

غیر شیعی نظریے کے مطابق ختمِ نبوت کے بعد حکمرانی کے لیے نص اور عصمت شرط نہیں؛ حکومت انسانی سند سے قائم ہوگی اور خدائی پروانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔
مگر شیعہ عقیدے کے مطابق یہ موقف درست نہیں۔ کیا غیبتِ امام کے بعد شیعہ عملاً اسی موقف پر نہیں آگئے جہاں اہلِ سنت یا دیگر غیر شیعہ مکاتب پہلے سے موجود تھے؟

شیعوں میں ولایتِ فقیہ، اجتہاد و تقلید اور مرجعیت کے حوالے سے اصولی اور اخباری تنازع کیا ہے؟
اسماعیلی اور اثنا عشری نظریۂ امامت میں کون اپنے اصل پر قائم ہے؟

سوال نمبر 6:

جب امام موجود ہو تو اجتہاد کی ضرورت نہیں ہوتی، مگر غیبتِ امام میں اجتہاد ناگزیر ہوگیا۔
اس مسئلے پر اخباری اور اصولی نظریہ کیا ہے؟ ان دونوں کے درمیان بنیادی اختلاف کیا ہے؟
ولایتِ فقیہ کا نظریہ سب سے پہلے کس نے پیش کیا؟

سوال نمبر 7:

اصولی شیعوں میں ولایتِ فقیہ کے مسئلے پر کیا اختلافات ہیں؟
ولایتِ فقیہ مطلقہ اور ولایتِ فقیہ جزئیہ کی بحث کیا ہے؟
نجف اور قم کے مکتبِ فکر میں کیا فرق ہے؟

سوال نمبر 8:

ولایتِ عامہ یا ولایتِ فقیہ مطلقہ اور امام خمینیؒ —
شیعہ علما کی طرف سے خمینی کی مخالفت کیوں ہوئی؟ کیا یہ محض علمی اختلاف تھا یا اسے انحراف سمجھا گیا؟
کیا محقق کرکی کو بادشاہ نے ولی فقیہ مقرر کیا تھا؟

سوال نمبر 9:

خدا کی سیاسی حاکمیت کے نظریے کی بنیاد پر بعض حلقوں میں ریاست کی تکفیر اور مسلح جدوجہد کا رجحان پیدا ہوا۔ آپ نے اپنی کتاب میں بھی بعض آیات کی بنیاد پر خدا کی سیاسی حاکمیت کا نظریہ پیش کیا ہے۔
کیا آپ ریاست کی تکفیر اور اس کے خلاف مسلح جدوجہد کے قائل ہیں؟
کیا اسلامی جہاد میں نظام کا تختہ الٹنا شامل ہے؟
ٹی ٹی پی اور دیگر مسلح تنظیموں کا موقف درست ہے یا غلط؟

سوال نمبر 10:

کیا غیر معصوم ہستی کو معصوم جیسی اختیارات دینا درست ہے؟

سوال نمبر 11:

ولایتِ فقیہ مطلقہ کیسے ثابت ہوگی؟
اس تصور کے مخالف فقہاء کا کیا نظریہ ہے؟
خدا کے نام پر غیر معصوم کی حکمرانی زیادہ خطرناک کیوں سمجھی جاتی ہے؟

سوال نمبر 12:

ظالم اور فاسق حکمران کے خلاف خروج کا مسئلہ کیا ہے؟
اگر ولی فقیہ خود ظالم بن جائے تو اسے معزول کیسے کیا جائے گا؟
آیت اللہ شریعت مدار کے ساتھ کیا واقعات پیش آئے؟
سیستانی کی معزولی اور خامنہ ای کی معزولی میں کیا فرق ہے؟

سوال نمبر 13:

خروج علی الحاکم کا مسئلہ اور ایران کی موجودہ صورتِ حال کا تجزیہ۔
ایران میں موجودہ نظام (رژیم) کے مخالفین کا موقف کیا ہے؟

سوال نمبر 14:

شیعہ تاریخ میں آیتِ اولی الامر کا اطلاق کیا کبھی غیر معصوم پر کیا گیا ہے؟
کیا فقیہ کو اولی الامر ماننا درست ہے؟

سوال نمبر 15:

انقلابِ ایران سے پہلے شیعہ دنیا میں ولایتِ فقیہ کے مسئلے کی کیا حیثیت تھی؟
مرجعِ کل اور ولایتِ فقیہ میں کیا فرق ہے؟
محقق کرکی اور نظریۂ ولایتِ فقیہ — کیا بادشاہ کی طرف سے ولی فقیہ کا تقرر درست تھا؟

سوال نمبر 16:

شیعیت کی تاریخ میں پہلی اسلامی حکومت کی کوئی ایسی انفرادیت اور خوبیاں جو غیر اسلامی نظاموں کے حامیوں کے سامنے پیش کی جا سکیں؟
ایران کے موجودہ نظام کی وہ خصوصیات کیا ہیں جو ایک عام آدمی کے لیے متاثر کن ہوں؟
اشتراکیت، سرمایہ داری اور اسلامی نظام — عوام کے لیے زیادہ پرکشش کیا ہے؟
اسلامی ایران اور شاہی ایران میں بنیادی فرق کیا ہے؟

سوال نمبر 17:

ایران میں اصل حاکم کون ہے؟
ملک میں خیر یا شر کا اصل ذمہ دار کس کو قرار دیا جائے؟

---

مکمل گفتگو شمس الدین حسن شگری کے چینل پر ملاحظہ فرمائیں۔

1 week ago | [YT] | 8

Shamsuddin Hassan Shigri

Another Historic Podcast:
The Fundamental Question of the Right to Rule, Wilāyat al-Faqīh, and the Caliphate

On Saturday, February 14 at 5:00 PM, Podcast No. 179 will be broadcast on the channel “Wahdat-e-Insaniyat” (Unity of Humanity), presented by the Council for Pluralistic Research and Dialogue.

The host of this session is Shamsuddin Hassan Shigri, and the guest is a distinguished scholar whose very introduction constitutes an academic chapter in itself:
Hujjat al-Islam wal-Muslimeen, Qur’anic exegete, Sheikh Muhammad Hassan Salahuddin — author of the first comprehensive and systematic book on Wilāyat al-Faqīh in the Urdu language.

This is not merely a podcast; it is a serious, scholarly, and non-emotional dialogue on one of the most fundamental questions of Islamic political thought:

Who possesses the right to rule?

A Comprehensive Introduction to the Guest

Qur’anic exegete and intellectual scholar Sheikh Muhammad Hassan Salahuddin began his academic journey in the land of Baltistan, which later extended to the seminaries of Najaf al-Ashraf and Qom.

He spent approximately eleven years in Najaf, in the vicinity of Amir al-Mu’minin (Imam Ali), benefiting from leading seminary scholars, and later continued his scholarly residence in Qom.

Upon returning, he not only devoted himself to teaching and religious outreach but also established academic and intellectual institutions, including:

Jamia Uloom-e-Islamia (for male students)

Ma’had al-Zahra (for female students)

His most prominent scholarly contribution, however, is his eight-volume Qur’anic exegesis:

“Noor al-Adhhan fi Tafsir al-Qur’an”
Published by Misbah al-Qur’an Trust, Lahore.

This tafsir is unique in nature. Its key features include:

Interpreting the Qur’an through the Qur’an (Tafsir al-Qur’an bil-Qur’an)

A separate and systematic discussion of narrations, in the style of Al-Mizan

Addressing contemporary intellectual questions

Engaging the educated general public

Presenting the Qur’an as an intellectual guide in the face of modern civilizational challenges

In the introduction, Sheikh Salahuddin writes that this tafsir was authored for young people who wish to connect with the Qur’an but lack accessible tools for understanding it.

For this reason, his discourse is not merely jurisprudential, but grounded in exegetical, intellectual, and principled foundations.

He is also the scholar who authored the first detailed book on Wilāyat al-Faqīh in Urdu — a subject previously addressed mainly in Persian and Arabic, with limited systematic scholarship available in Urdu.

The Intellectual Scope of This Dialogue

This session is not a defense or refutation of any single sect. It begins with foundational questions:

Question 1: Sovereignty

Is sovereignty exclusively God’s?
Or is political authority derived collectively from human society?

Question 2: Legitimacy of Government

The secular theory claims authority emerges from a social contract.
The religious theory maintains authority is a trust from God.
Which conception rests on firmer foundations?

Question 3: The System After the Prophet

Should governance be based on divine designation (nass) and infallibility (‘isma)?
Or are consultation (shura) and allegiance (bay‘ah) sufficient?

Question 4: The Crisis of the Occultation

When the Twelfth Imam is in occultation, and neither explicit designation nor infallibility is manifest, how is a ruler determined?
Here the theory of Wilāyat al-Faqīh emerges — but is it truly a continuation of divinely designated Imamate?

Questions 5–7: Usuli, Akhbari, and Wilāyat al-Faqīh

Why did ijtihad become necessary?
Who first formally articulated the theory of Wilāyat al-Faqīh?
What is the difference between absolute and limited guardianship?
What are the core differences between the Najaf and Qom schools?

Question 8: Khomeini and Scholarly Opposition

Was Khomeini’s theory a political necessity or a juristic argument?
Why did some Shi‘a scholars oppose it?

Question 9: Declaring the State Illegitimate and Armed Struggle

If God’s political sovereignty is accepted, do current states become illegitimate?
Does Islamic jihad include overturning existing systems?
To what extent are the positions of groups like TTP correct or flawed?

This part of the discussion is highly sensitive — but addressed in an academic manner.

Questions 10–12: Granting Infallible Authority to a Non-Infallible

On what basis can a jurist be granted powers similar to those of an infallible Imam?
If a Wali al-Faqih becomes tyrannical, how can he be removed?
Where do historical figures such as Ayatollah Shariatmadari stand in this debate?

Questions 13–17: An Analysis of Iran

Who truly holds power in Iran?
Who bears responsibility for its successes and failures?
What is the difference between Islamic Iran and monarchical Iran?
Has the Islamic system presented a more compelling model than capitalism or socialism?

---

Why Is This Program Important?

This session is not only about Wilāyat al-Faqīh, but about:

The comparison between Imamate and Caliphate

The relationship between religion and power

The intersection of jurisprudence and politics

The moral responsibility of ruling in God’s name

There is no room here for emotional slogans or superficial criticism.
This is a discussion in which exegetical insight, juristic training, and political awareness converge.

---

An Invitation to Reflect

If you wish to explore:

Is Wilāyat al-Faqīh a new form of Caliphate?

Does Shi‘a theory, after the occultation, practically move closer to the Sunni position?

Can granting absolute authority to a non-infallible figure become dangerous?

Is the concept of an Islamic state practically and ethically defensible today?

Then this dialogue is for you.

Saturday, February 14
5:00 PM
Channel: Wahdat-e-Insaniyat
Host: Shamsuddin Hassan Shigri
Guest: Hujjat al-Islam wal-Muslimeen, Qur’anic Exegete Sheikh Muhammad Hassan Salahuddin

After watching this program, you will not simply remain a supporter or opponent of a particular position. Rather, you may come to realize that the question of Islamic political thought must be understood not through emotions, but through principles.

Perhaps that is why this session is not merely a podcast — but an intellectual test.

I am also grateful to my co-host, Maulana Muhammad Hussain Shahidi, whose support made it possible to record this historic discussion. He, too, raised several important scholarly and intellectual questions during the session.

1 week ago | [YT] | 18

Shamsuddin Hassan Shigri

ایک اورتاریخی پوڈکاسٹ:
حقِ حکومت، ولایت فقیہ اور خلافت کا بنیادی سوال
14 فروری بروز ہفتہ شام ۵ بجے، وحدت انسانیت پر پوڈکاسٹ نمبر 179 نشر کیا جا رہا ہے، جسے کونسل برائے تکثیری تحقیق و مکالمہ پیش کر رہی ہے۔ اس نشست کے میزبان شمس الدین حسن شگری ہیں، اور مہمان ایسی شخصیت ہیں جن کا تعارف خود ایک علمی باب ہے: حجۃ الاسلام والمسلمین، مفسر قرآن، شیخ محمد حسن صلاح الدین — اور اردو زبان میں ولایت فقیہ پر پہلی مفصل و باقاعدہ کتاب کے مصنف۔
یہ محض ایک پوڈکاسٹ نہیں، بلکہ اسلامی سیاسی فکر کے سب سے بنیادی سوال پر ایک سنجیدہ، علمی اور غیر جذباتی مکالمہ ہے:
حقِ حکومت کسے حاصل ہے؟
________________________________________
مہمان کا جامع تعارف:
مفسر قرآن اور فکری محقق شیخ محمد حسن صلاح الدین کا علمی سفر بلتستان کی سرزمین سے شروع ہو کر نجف اشرف اور قم کے علمی مراکز تک پھیلا ہوا ہے۔ آپ نے تقریباً گیارہ برس نجف اشرف میں امیرالمؤمنینؑ کے جوار میں اساتذۂ حوزہ سے استفادہ کیا، پھر قم میں بھی علمی قیام کیا۔
واپسی پر آپ نے نہ صرف درس و تدریس اور تبلیغِ دین کو اپنا میدان بنایا بلکہ علمی و فکری ادارے بھی قائم کیے، جن میں طلبہ کے لیے «جامعہ علوم اسلامی» اور طالبات کے لیے «معہد الزہرا» شامل ہیں۔
لیکن آپ کی نمایاں ترین علمی خدمت آٹھ جلدوں پر مشتمل تفسیر:
"نور الاذہان فی تفسیر القرآن"
ہے، جو مصباح القرآن ٹرسٹ لاہور سے شائع ہوئی۔
یہ تفسیر اپنی نوعیت میں منفرد ہے۔ اس کی خصوصیات میں شامل ہیں:
• قرآن کی تفسیر قرآن کے ذریعے (تفسیر القرآن بالقرآن)
• روایات کی الگ اور منظم بحث، المیزان کے اسلوب پر
• عصری ذہن کے سوالات کا جواب
• عام تعلیم یافتہ طبقے کو مخاطب بنانا
• جدید تہذیبی چیلنجز کے مقابلے میں قرآن کو فکری رہنما کے طور پر پیش کرنا
شیخ صاحب خود مقدمہ میں لکھتے ہیں کہ یہ تفسیر ان نوجوانوں کے لیے لکھی گئی جو قرآن سے تعلق چاہتے ہیں مگر ان کے لیے فہم کے وسائل کم یاب ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ ان کی گفتگو محض فقہی نہیں، بلکہ تفسیری، فکری اور اصولی بنیادوں پر قائم ہوتی ہے۔
اور یہی وہ شخصیت ہیں جنہوں نے اردو زبان میں ولایت فقیہ پر پہلی مفصل کتاب تحریر کی — ایک ایسا موضوع جس پر عموماً فارسی و عربی میں مواد ملتا تھا، مگر اردو دنیا میں منظم علمی کام کم تھا۔
________________________________________
اس مکالمے کی فکری وسعت
یہ نشست کسی ایک مسلک کا دفاع یا رد نہیں۔ یہ ایک بنیادی سوال سے آغاز کرتی ہے:
سوال 1: حقِ حاکمیت
کیا حاکمیت صرف خدا کی ہے؟
یا انسان اجتماعی طور پر اقتدار کا سرچشمہ ہے؟
سوال 2: مشروعیت حکومت
سیکولر نظریہ کہتا ہے کہ اقتدار عوامی معاہدے سے پیدا ہوتا ہے۔
مذہبی نظریہ کہتا ہے کہ اقتدار خدا کی امانت ہے۔
کون سا تصور زیادہ مضبوط بنیاد رکھتا ہے؟
سوال 3: نبی کے بعد نظام
کیا حکومت نص اور عصمت پر قائم ہونی چاہیے؟
یا شوریٰ اور بیعت کافی ہیں؟
سوال 4: غیبت امام کا بحران
جب بارہواں امام غیبت میں ہیں، اور نہ نص ظاہر ہے نہ عصمت، تو حاکم کا تعین کیسے ہوگا؟
یہاں سے ولایت فقیہ کا نظریہ ابھرتا ہے — مگر کیا یہ نظریہ واقعی نصی امامت کا تسلسل ہے؟
سوال 5–7: اصولی، اخباری اور ولایت فقیہ
اجتہاد کیوں ضروری ہوا؟
ولایت فقیہ کا نظریہ سب سے پہلے کس نے پیش کیا؟
مطلقہ اور جزئیہ ولایت میں کیا فرق ہے؟
نجف اور قم کے مکتب میں بنیادی اختلاف کیا ہے؟
سوال 8: خمینی اور علمی مخالفت
کیا خمینی کا نظریہ محض سیاسی ضرورت تھا یا فقہی استدلال؟
شیعہ علماء کی مخالفت کیوں ہوئی؟
سوال 9: ت ک ف ی رِ ریاست اور مس لح جدوجہد
اگر خدا کی سیاسی حاکمیت مان لی جائے تو کیا موجودہ ریاستیں باطل ہو جاتی ہیں؟
کیا اسلامی ج ہ اد میں نظام الٹنا شامل ہے؟
ٹی ٹی پی جیسے گروہوں کا موقف کس حد تک درست یا غلط ہے؟
یہاں گفتگو نہایت حساس ہے، مگر علمی انداز میں۔
سوال 10–12: غیر معصوم کو معصوم کے اختیارات کس بنیاد پر؟
کیا ایک فقیہ کو وہ اختیارات دیے جا سکتے ہیں جو امام معصوم کے تھے؟
اگر ولی فقیہ ظالم ہو جائے تو اسے کیسے معزول کیا جائے گا؟
آیت اللہ شریعت مدار اور دیگر تاریخی واقعات اس بحث میں کہاں کھڑے ہیں؟
سوال 13–17: ایران کا تجزیہ
ایران میں اصل حاکم کون ہے؟
اچھائی یا برائی کا ذمہ دار کون؟
اسلامی ایران اور شاہی ایران میں فرق کیا ہے؟
کیا اسلامی نظام سرمایہ داری اور اشتراکیت سے زیادہ پرکشش ماڈل پیش کر سکا ہے؟
________________________________________
یہ پروگرام کیوں اہم ہے؟
یہ نشست محض ولایت فقیہ پر نہیں، بلکہ:
• امامت اور خلافت کے تقابل پر
• مذہب اور اقتدار کے تعلق پر
• فقہ اور سیاست کے امتزاج پر
• اور خدا کے نام پر حکومت کی اخلاقی ذمہ داری پر
ایک سنجیدہ مکالمہ ہے۔
یہاں نہ سادہ جذباتی نعروں کی گنجائش ہے اور نہ سرسری تنقید کی۔
یہ ایک ایسی گفتگو ہے جس میں تفسیری ذہن، فقہی تربیت اور سیاسی شعور ایک ساتھ نظر آتا ہے۔
________________________________________
ایک دعوتِ فکر
اگر آپ جاننا چاہتے ہیں:
کیا ولایت فقیہ دراصل خلافت کا ایک نیا روپ ہے؟
کیا غیبت امام کے بعد شیعہ نظریہ عملاً سنی موقف کے قریب آ جاتا ہے؟
کیا غیر معصوم کو مطلق اختیار دینا خطرناک ہو سکتا ہے؟
اور کیا اسلامی ریاست کا تصور آج کے دور میں عملی اور اخلاقی طور پر قابل دفاع ہے؟
تو یہ مکالمہ آپ کے لیے ہے۔
14 فروری، بروز ہفتہ
شام 5 بجے
چینل: وحدت انسانیت
میزبان: شمس الدین حسن شگری
مہمان: حجۃ الاسلام والمسلمین مفسر قرآن شیخ محمد حسن صلاح الدین
یہ پروگرام دیکھنے کے بعد آپ محض ایک موقف کے حامی یا مخالف نہیں رہیں گے، بلکہ آپ کو یہ احساس ہوگا کہ اسلامی سیاسی فکر کا مسئلہ جذبات سے نہیں، اصولوں سے سمجھنا پڑتا ہے۔
اور شاید اسی لیے یہ نشست محض ایک پوڈکاسٹ نہیں — بلکہ ایک فکری آزمائش ہے۔
میں اپنے کو ہوسٹ جناب مولانا محمد حسین شاہدی صاحب کا شکر گزار ہوں جن کی بدولت یہ تاریخی گفتگو ریکارڈ کرنے کا موقع ملا۔ شاہدی صاحب نے بھی کئی علمی اور فکری سوالات کیے ہیں۔

1 week ago | [YT] | 25

Shamsuddin Hassan Shigri

Iranian Revolution
Inqilab-E-Iran
ایک تحقیقی گفتگو
انقلاب ایران پس منظر اور پیش منظر
اسلامی انقلاب یا قومی؟
انقلاب ایران کے سالگرہ کے موقع پر ۔

انقلاب ایران کا پس منظر اور پیش منظر۔
________________________________________

انقلاب ایران کی ابتداء
مشروطہ کی تحریک، دستوری بادشاہت اور انقلاب ایران
علماء، لبرلز، سیکولرز اور سوشلسٹ اور دیگر طبقات انقلاب ایران میں حصہ
1953 ڈاکٹر مصدق اور شاہ کا ملک سے فرار اور شاہ کی واپسی میں امریکہ کا کردار
امام خمینی اور شاہ میں اختلاف، تنازعہ اور امام خمینی کی جلا وطنی، اس جلا وطنی کا تحریک کو فائدہ اور شاہ کو پہنچنے والے نقصانات
امام خمینی اور شاہ میں کن اہم معاملات پر اختلاف ہوا تھا کیا امام خمینی شہنشاہیت ختم کر کے اسلامی نظام لانا چاہتے تھے؟
شاہ آف ایران نے امام خمینی کو قتل کرنے یا جیل میں رکھنے کے بجائے جلا وطن کیوں کیا؟ امام خمینی کی جان بخشی میں اہم کردار ادا کرنے والی شخصیت کے ساتھ انقلاب کے بعد کیا سلوک ہوا؟
کیا شاہ کے خلاف چلنے والی تحریک کا مقصد اسلامی حکومت کا قیام تھا؟
کیا مختلف اور متضاد طبقات نے اس مقصد کے حصول کے لئے جدوجہد کی تھی؟
انقلاب سے قبل امام خمینی اور ولایت فقیہ کا تصور۔
کیا اس دور کے مراجع تقلید میں اختلاف تھا کیا سب اس تصور پر متفق تھے؟
انقلاب کے بعد علماء اس انقلاب کے وارث کیسے بنے؟
اختلافی نقطہ نظر رکھنے والوں کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا؟
https://youtu.be/w6mjm8sIIRU?si=B441D...

1 week ago | [YT] | 11

Shamsuddin Hassan Shigri

نوربخشیہ مکتبِ فکر کیا ہے؟ اس کے عقائد، فقہ اور فکری اساس کیا ہیں؟
مفتیِ اعظم نوربخشیہ، حضرت مفتی علی محمد ہادی صاحب کی زبانی

اس تفصیلی نشست میں نوربخشیہ مکتبِ فکر کی تمام جہات—عقائد، تصورِ امامت، فقہی منہج، تاریخی پس منظر اور فکری بنیادوں—کا جامع اور مدلّل احاطہ کیا گیا ہے۔

مکمل گفتگو کے لیے شمس الدین حسن شگری کے چینل کا رخ کریں۔

What is the Nurbakhshi School of Thought? What are its beliefs, jurisprudence, and intellectual foundations?
In the words of the Grand Mufti of Nurbakhshiyya, Mufti Ali Muhammad Hadi Sahib

This detailed session comprehensively covers all dimensions of the Nurbakhshi school of thought — including its beliefs, concept of Imamate, jurisprudential methodology, historical background, and intellectual foundations.

Watch the full discussion on the channel of Shamsuddin Hassan Shagari.

1 week ago | [YT] | 16

Shamsuddin Hassan Shigri

⏱️ چیپٹرائزیشن (Three-Language – Aligned)
Time اردو سوال Roman Urdu English
00:03​ تعارف و تمہید Taaruf Introduction
00:13​ کتاب الاعتقادیہ پر تحقیق Kitab-ul-Itiqadiya Textual Analysis
00:23​ فرقہ کیا ہوتا ہے؟ Firqa kya hota hai What defines a sect
00:36​ خدا کی ذات Zaat-e-Khuda Nature of God
00:49​ تکفیر کا مسئلہ Takfeer ka masla Excommunication
01:02​ ذات و صفات Zaat aur Sifaat Essence & Attributes
01:32​ مسئلہ شر Masla-e-Shar Problem of Evil
01:53​ رویتِ الٰہی Ru’yat-e-Ilahi Vision of God
02:03​ حضرت علیؓ اور الوہیت Ali (RA) & Divinity Ali & Divinity
02:28​ امامت پر بحث Imamat Imamate
03:16​ حدیث ثقلین Hadith-e-Thaqalayn Hadith of Two Weighty Things
03:43​ امام مہدی Imam Mehdi Imam Mahdi
04:00​ فدک و حضرت فاطمہ Fadak Fadak
04:38​ جہاد و صحابہ Jihad & Sahaba Jihad &

2 weeks ago | [YT] | 12