We will explore the wonders of the world here. It's a YouTube channel owned by Pakistan Desk Net. We are determined to educate youngsters about the wonders of the world, beautiful and unique places, and wonderful zones in different countries around the world. We may also introduce some famous figures in different regions of the world and shed light on their achievements.#
Our website Pakistan Desk Net pakistandesk.net/ is your go-to platform for in-depth analysis. We are dedicated to shedding light on the challenges in the economy, education, politics and social issues while presenting practical and innovative solutions. Our mission is to not only contribute to Pakistan’s progress but also to offer insights that can benefit other developing countries.
#world #wonder #earth #countries #culture #personalities #placestovisit #places #wondersoftheworld #pakistan #nature #naturephotography #naturelovers #naturalwonders #naturalbeauty #naturebeauty #naturelover #wonderfulplaces


TopTen

خاموش مجا/ہدوں کا تذکرہ ہوتا ہوگا تو یقیناً اس میں ہمارے ابو کا نام سر فہرست آتا ہوگا۔

ابو مجھے اکثر کہتے تھے کہ "تم میری کہانی لکھنا۔ مجھ سے اتنا لکھا نہیں جاتا"۔ اب میں سوچتی ہوں کہ ابو کی کون کون سی کہانی لکھوں۔ اکثر تو کوئی آغاز انجام ہی سجھائی نہیں دیتا۔

تحریک خالصتان کا جتنا لٹریچر میں نے پڑھا یا سنا ہے اس میں محمد اقبال عرف لالی شاہ کا کردار امر ہو چکا ہے۔ جس عقیدت اور محبت سے لالی شاہ کا نام لیا جاتا ہے وہ ناقابل فراموش ہے۔ بھلا میرے الفاظ اس کردار کی عظمت بیان کر سکیں گے۔

میں نے ابو سے کبھی پوچھا بھی کہ آپ اپنا کوئی عہدہ کبھی نہیں بتاتے۔ ہمیشہ صرف یہ کیوں کہتے ہیں کہ "میں ایک جاسوس تھا یا میں بس ایک مجا/ہد ہوں"۔ تو اتنا ہنستے تھے کہ ہنستے ہنستے آنکھیں پانی سے بھر جاتی تھیں۔

میں نے آج تک اتنی خوبصورت آنکھیں کسی عورت مرد کی نہیں دیکھیں۔ لیکن اس لمحے ان میں جو "درد" ہوتا تھا وہ لکھنے کے لیے کوئی الفاظ آج تک بنے ہی نہیں۔

ابو کہتے تھے کہ انڈیا کی قید میں گزرے اذیت ناک آٹھ سالوں نے مجھے کبھی بھی "درد" نہیں دیا۔ لیکن اپنے ہی وطن میں اپنے ہی "ہموطنوں" کے تفتیشی سوالات اور میری حب الوطنی پہ شکوک وشبہات مجھے سچ میں "درد" دیتے ہیں۔

"بونے" لوگ تو ہر جگہ، ہر کسی کی زندگی میں ہوتے ہیں۔ لیکن پھر بھی قدردان لاتعداد ہوتے ہیں۔ اپنے وطن میں بھی اس "درد" سے ذیادہ ابو نے محبتیں کمائی ہیں۔ اس لیے انہیں کبھی کوئی پچھتاوا نہیں ہوا کہ زندگی میں کیا کھویا اور کیا پایا۔

جب ضیاء الحق صدر بنا اور اپنے قریبی دوستوں اور ہمدردوں کو عہدے بانٹے تو ایک بار ابو کو بھی ون آن ون ملاقات کے لیے بلایا تھا۔

کسی گزرے زمانے میں کمانڈو ٹریننگ یا انٹیلیجنس کی سروس کے دوران ابو کی ضیا الحق سے دوستی رہی تھی۔

لیکن یہ 1981 کا آغاز تھا۔ ابو کہتے تھے کہ "صدر نے میرے سامنے ایک فائل رکھی۔ میں نے ایک نظر فائل کو دیکھا اور اسے بند کرکے صدر کی طرف سرکا دیا۔
Mr. President! It's not my job."

میرا خیال ہے کہ وہ ابو کی خدمات کے اعتراف کی فائل ہوگی اور صدر نے ان کا انعام دینےکا وعدہ بھی کیا ہوگا۔ بشرطیکہ وہ صدر کی شرائط پر کام کرنے کی حامی بھر لیتے۔

انہیں دنوں میں تو ابو کی شادی ہوئی تھی۔ نئی زندگی، نئے گھر کے کتنے ہی خواب دیکھے ہوں گے۔ لیکن اپنے ہر خواب کو ایک بار پھر اپنے وطن کی محبت میں قربان کر دیا۔

اس وقت کوئی عہدہ لینے کا مطلب تھا کہ اپنے ہی ہم وطنوں پہ ظلم کے پہاڑ توڑنے میں کردار ادا کرنا۔ لیکن ایک شخص جس نے انڈیا میں اپنی جان پہ کھیل کر کبھی اپنی مٹی کے ایک زرے کا سودا نہیں کیا تھا، وہ اپنی مٹی پہ بستے ہوئے اسی کے بیٹوں کے خلاف کوئی قدم اٹھاتا، ممکن ہی نہیں تھا۔

مگر کلی اختیارات کے مالک صدر کو صاف انکار کرنے کا مطلب تھا کہ آئندہ کی تکلیف دہ زندگی کے لیے تیار رہو۔ پھر ان کے ہر کام میں رکاوٹیں کھڑی کی جاتیں۔ یہاں تک کہ ان کی کوئی نوکری یا کاروبار پنپنے نہیں پایا۔

آیا میں اس ظلم کی داستان لکھوں جو بےنظیر بھٹو نے ابو کے ساتھ روا رکھا، بالکل ایسے ہی جیسے آج خان کے ساتھ حاکم وقت کر رہا ہے۔

لوگ کہتے ہیں کہ بےنظیر دوپٹے پیکو نہ کروانے پہ بڑے بڑے افسران کو جھاڑ پلا دیتی تھی۔ لیکن میرا خیال ہے کہ اس ملک کے عظیم بیٹوں کے ساتھ بےنظیر نے جو ذیاتی کی، وہ اس جھاڑ کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں۔

سن 1992 میں حامد میر نے ابو کا انٹرویو کیا تو بےنظیر نے وہ پروگرام آن ائیر ہی نہ آنے دیا۔ کیونکہ اس انٹرویو میں ابو نے ذوالفقار علی بھٹو کے سیاہ کارناموں کا بھی تذکرہ کیا تھا اور شاید پاکستان کے دولخت ہونے کا دکھڑا بھی سنایا تھا، جس کے وہ چشم دید گواہ تھے۔

جس اخبار نے ابو کی روداد لکھنا چاہی، بے نظیر نے وہ اخبار بند کروا دیا۔ اس اخبار کا مالک آج گمنامی کی زندگی گزار رہا ہے۔ اس کا ایڈیٹر آج بھی ایک کرائے کے گھر میں رہتا ہے۔

اس سوہنی دھرتی کے کرتا دھرتاؤں نے ایماندار، محب وطن لوگوں کے لیے ان کی اپنی ہی زمین ہمیشہ تنگ رکھی ہے۔

لیکن یہ قدرت کا انعام ہے کہ آج بھی سوہنی دھرتی ایسے عظیم سپوت پیدا کر رہی ہے جو اپنی زندگیاں قربان کر دیتے ہیں لیکن اس پہ آنچ نہیں آنے دیتے۔

ابو نے بمشکل ایک چھوٹا سا گھر بنایا۔ لیکن گھر ایسا تھا کہ بڑے بڑے لوگ اس گھر میں بلاجھجک چلے آتے تھے۔ کبھی کوئی سفیر، کبھی کوئی ایم این اے، کبھی کوئی ایم پی اے، کبھی کوئی بیوروکریسی کے بڑے بڑے افسران۔ لیکن پروٹوکول مانگتے تھے نہ ساتھ لاتے تھے۔ رعب جمانے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔

ان سب کے انداز میں ابو کے لیے بہت عقیدت ہوتی تھی۔ اکثر تو ابو کے برابر بیٹھنے کی بجائے قدموں میں بیٹھنے کو ترجیح دیتے کہ ہم آپ کے برابر بیٹھنے کے حقدار نہیں۔

یہ لوگ اپنے ہر کام کی شروعات، بچوں کی تعلیم ،شادی بیاہ، نوکری تک کے لیے ابو سے مشورہ کرنے آتے تھے کہ "اقبال بھائی آپ جو کہہ دیں گے ہم وہی کریں گے". اور پھر سب وہی کرتے تھے، جو ابو کہہ دیتے تھے۔

ان کے بچے بچیاں ابو سے لاڈ کرتے، فرمائشیں کرتے، سفارشیں کرواتے کہ چچا جان/ماموں جان! آپ ابو/امی کو منائیں گے تو وہ ہماری بات نہیں ٹالیں گے۔ اور ہمارے ابو ہنستے چلے جاتے تھے۔

ہم بھی کبھی کسی کے گھر جاتے تو سب ہمیں یوں ہاتھوں ہاتھ لیتے، کھڑے ہو کر جھک کر ملتے جیسے کوئی بہت بڑی ہستی ان کے گھر آ گئی ہو۔

اگر میں ابو کی ذاتی زندگی کی کہانی لکھنا شروع کروں تو جس سے بھی ملو وہ ابو کے متعلق اپنی ہی کہانی سنانے لگتا ہے کہ اقبال بھائی سے مجھے ایسی محبت ہے کہ مجھے اپنے سگے بھائی بہن سے بھی نہیں ہوگی۔

یوں پاکستان کے طول و عرض میں ابو کے سینکڑوں بلکہ ہزاروں بہن بھائی ہیں جو آج بھی ہمیں کہیں مل جائیں تو ابو کی دی ہوئی محبتیں ہم پہ یوں نچھاور کرتے ہیں کہ جیسے ہم ان کا کوئی قیمتی اثاثہ ہوں۔

ابو کی کتنی ہی، بظاہر منہ بولی لیکن سگے رشتوں سے بڑھ کر بہنیں ہیں، جو کہتی ہیں کہ "تم لوگوں کے منہ سے "پھپھو" سننا سب سے اچھا لگتا ہے کہ جیسے اقبال بھائی سامنے بیٹھے ہوں۔ ہمیں ان کے جیسا بھائی دوبارہ ملنا ناممکن ہے"۔

ابو کے سب "بھائی" کہتے ہیں کہ ہماری ہر دعا میں اقبال بھائی اور ان کے بچے ضرور شامل ہوتے ہیں۔

ہم بہن بھائیوں کو ابو کے ان بہن بھائیوں کی ان گنت دعائیں ہر روز ملتی ہیں جو ہم تک پہنچتی بھی ہیں۔

ہمارے ماموں کہتے ہیں اقبال بھائی جیسا انسان صدیوں میں پیدا ہوتا ہے۔

ہماری نانی کو میں نے کئی بار کہتے سنا "مجھے اندازہ نہیں تھا کہ اقبال مجھے اپنی سگی اولاد کی طرح عزیز ہے۔ جس دن سے دنیا سے گیا ہے مجھے بھولتا ہی نہیں۔ ہر وقت آنکھوں کے سامنے رہتا ہے".

لوگ کہتے ہیں "تمھارے ابو نے کمایا کیا"

بھلا ایسی عزت اور اتنی قیمتی محبتوں سے بڑھ کر بھی کوئی کمائی ہو سکتی ہے۔ یہ عزت، یہ محبتیں تو لوگ ساری دنیا کی دولت لٹا کر بھی نہیں خرید پاتے۔

میرا یقین ہے کہ آج بھی ہر محکمے یا ادارے میں کوئی نہ کوئی "محمد اقبال" ضرور موجود ہے جو یوں ہی خاموش مجا/ہد بنا اپنے حصے کا کام کر رہا ہے۔ کسی عہدے کا لالچ اسے اپنے وطن کے خلاف مائل نہیں کر سکتا۔

ان مجا/ہدوں کے لیے صرف اتنا ہی کہنا ہے کہ آپ جہاں کہیں بھی ہیں، جس مقام، جس روپ میں بھی ہیں، آپ لازوال عزت اور انمول محبتیں کما رہے ہیں۔ آپ کی قربانیاں ہم پہ قرض ہیں۔ ہم آپ کو سارے زمانے کی دولت بھی دے دیں تو یہ قرض ادا نہیں کر سکتے، تاقیامت نہیں کر سکتے۔

1 year ago | [YT] | 1

TopTen

سر حبیب اللہ وسیر یوں تو ہمیں صرف اسلامک اکنامکس پڑھایا کرتے تھے لیکن سوٹ بوٹ پہنے ہوئے سر کچھ ایسے سبق بھی پڑھاتے تھے جو صاحب منبر بھی نہ پڑھا سکتے ہوں گے۔

جمعہ کے دن لڑکے بہانہ کرتے کہ سر جلدی کلاس ختم کر دیں جمعہ کی نماز قضا ہو جائے گی۔

سر کا جواب ہوتا "پاکستان میں رہنے کا یہی فائدہ ہے کہ آپ کے پاس مختلف مکاتب فکر کی مساجد ہیں۔ جب فرصت ملے کسی بھی مسلک کی مسجد میں جانا اور جماعت کے ساتھ نماز پڑھ لینا۔

اسلام میں بھی تو ہر نماز کا دورانیہ بتایا گیا ہے یہ نہیں کہا کہ خاص اتنے بج کر اتنے منٹ پہ ہی نماز پڑھ سکتے ہو۔

اس طرح اللہ نے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت میں اس کی ہر سنت کو زندہ رکھا ہوا ہے۔

کسی مسلک کو رفع یدین والی سنت زندہ رکھنے کی زمہ داری سونپ دی، کسی مسلک کو ہاتھ سینے پہ باندھنے کی زمہ داری سونپ دی۔ کسی مسلک کو نماز اول وقت میں ادا کرنی کی ذمّہ داری اور کسی کو آخر وقت میں۔ آپ کو جماعت سے نماز پڑھنے کی سہولت ہر وقت دستیاب ہوتی ہے۔

یوں روئے زمین پر جتنے بھی انبیاء کرام تشریف لائے ان میں یہ اعزاز صرف ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عطا ہوا کہ ان کی ایک ایک ادا کو اللہ نے محفوظ فرما دیا۔ یہاں تک کہ جو عمل آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک بار بھی انجام دیا اسے صحابہ کرام کے سینوں میں محفوظ فرما دیا۔ یوں نسل در نسل منتقل ہو کر بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہر ادا آج تک زندہ و جاوید ہے۔

معلوم نہیں کون لوگ ہیں جو ان مسلکوں اور فرقوں کی بنیاد پر مسلمانوں کو آپس میں لڑواتے ہیں۔ ان کا مقصد ہرگز اسلام کی خدمت نہیں"۔

اب سنیے ہمارے نانا کی سوچ اور مصلحت اندیشی۔
وہ ہر موقع پر مسالک کی آپسی بحث کو لایعنی اور لاحاصل قرار دیا کرتے تھے۔

کہا کرتے تھے کہ "تاریخ دانوں نے کچھ یوں تاریخ رقم کر دی ہے کہ ایک فرقے کے پاس اپنے لیے جامع دلائل کا اتنا ہی "ٹھوس ثبوت" موجود ہے جتنا کسی بھی دوسرے فرقے کے پاس۔

یوں اگر تاریخ دانوں نے کوئی بددیانتی کی ہے تو اس کا وبال ان کے سر ہوگا۔ ہمیں کسی کلمہ گو کو ک/ا/ف/ر قرار دینے کا اختیار نہیں۔

یہ کلی اختیار اللہ نے اپنے پاس رکھا ہے جس کے بارے میں وہ روز محشر خود فیصلہ فرمائے گا ہم صرف اپنے نیک و بد اعمال کے جوابدہ ہیں"۔

ہمارے ابو جناب کا تو تکیہ کلام ہی یہ جملہ ہوا کرتا تھا "ہم سب سے پہلے مسلمان اور پھر پاکستانی ہیں۔ اس کے علاوہ ہماری کوئی پہچان نہیں"۔

یوں 2007 تک کم سے کم مجھے تفرقہ بازوں کی آپسی رنجشوں اور اختلافات کی شدت کا اندازہ ہی نہیں تھا۔

یہ تو 2007 میں جب سوشل میڈیا کا استعمال شروع کیا تو دیکھا کہ "سادہ لوح" نظر آنے والے مسلمان ایک دوسرے کے لیے کس قدر نفرت اور بغض رکھتے ہیں کہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین پہ بھی تبراء کرنے سے خوف نہیں کھاتے۔

ان صحابہ کرام کے بارے میں ایک حدیث جو ہر مسلمان کو جاننا چاہیے مگر مجھے درست طور پر یاد نہیں۔ کوئی جانتا ہو تو تصحیح کر دے۔

"میرے صحابہ کے گھوڑے جو ج/ہاد کے میدانوں میں بھاگتے ہوئے دھول اڑاتے ہیں اور وہ دھول ان گھوڑوں کے نتھنوں میں پہنچتی ہے۔ میرے صحابہ کے بعد آنے والے اس دھول کے معیار کو بھی نہیں پہنچ سکتے"۔

آپ سوچیئے گا ضرور کہ کیا ہمارے اعمال اس قابل ہیں کہ ہماری بخشش ہو سکے؟؟؟ کجا یہ کہ ہم صحابہ کرام کی توہین کا بار بھی اپنے آپ پر لاد رہے ہیں۔ یا یہ بار اٹھانے کی زمہ داری آپ کے فرقے کے اس پیشوا نے لے رکھی ہے جس نے آپ کے اندر اتنا بغض اور نفرت بھر رکھی ہے؟؟؟

1 year ago | [YT] | 0

TopTen

بچوں کو اچھے برے کی پہچان سکھانے کا بہترین طریقہ ہے کہ ان کے ساتھ مختلف علاقوں یا شہروں میں گھومنے جایا جائے۔

ہمارے ابو یہی کیا کرتے تھے۔ اس کا فایدہ یہ ہوا کہ ہمیں آج تک کبھی کسی شہر/ علاقے کے لوگوں کو دیکھ کر یہ خیال نہیں آیا کہ "یہاں کے لوگ بہت گھٹیا/ کمینے/ ذلیل/کم ذات/ان پڑھ/جاہل ہوتے ہیں". بلکہ ہر جگہ کی اچھی یادیں ہی ذہن میں محفوظ ہیں۔

ایک دن ابو اس شہر کے اپنے پرانے دوستوں سے ملنے کا رکھتے اور ہم ایک ہی دن میں کئی کئی لوگوں کے گھر ملنے جایا کرتے تھے۔

اس وقت یہ "رواج" ہر شہر میں عام تھا کہ کسی نے دال چاول بھی بنائے ہیں تو مہمانوں کے سامنے رکھ دیتے تھے۔ مہمان بھی شوق سے کھاتے تھے۔ لیکن ہماری امی نے کبھی یہ جملہ نہیں کہا "آئے ہائے، ساتھ چار کباب بھی تل کے رکھ دیتے۔ یا کیسی کنجوس عورت ہے".

کپڑوں جوتوں صوفوں قالینوں وغیرہ وغیرہ کی قیمتیں بتانے کا رواج نہیں تھا یا ہم نے بچپن کی وجہ سے غور نہیں کیا کیونکہ ہماری امی ان چیزوں کو نوٹس ہی نہیں کرتی تھیں۔ آج بھی کبھی کسی موقع پر کوئی پوچھتا ہے کہ فلاں فلاں وقت آپ ہمارے گھر آئیں تھیں تو یہ چیز دیکھی ہو گی۔ امی کا یہی جواب ہوتا ہے " مجھے یاد نہیں ۔ مجھے اپنے کپڑے یاد جوتے یاد نہیں رہتے کب کون سے پہنے یا اپنے گھر میں کون سی چیز کب خریدی یا بدلی تھی تو دوسروں کے بارے میں کیسے یاد رہے"۔

ایک بہترین سبق جو ہمیں حاصل ہوا کہ ہر شہر کی ثقافت، لب و لہجہ، محبت دینے کا انداز مختلف ضرور ہوتا ہے لیکن پرخلوص لوگ رنگ نسل ذات خاندان امارت غربت پیشے تعلیم سے بے نیاز ہر جگہ ہر شہر میں ملتے ہیں۔

آج ہم بہن بھائی اکثر پہلی ملاقات میں ہی پہچان لیتے ہیں کہ کون ہمارے ساتھ مخلص ہے۔ کون ہمارے ساتھ غرض کا تعلق رکھنا چاہتا ہے۔ کبھی وقتی طور پر کوئی آپ کے قریب آتا ہے پھر اس کو اندازہ ہوتا ہے کہ میں اس شخص کے مقابلے میں "بونا" ہوں تو بغیر کسی وجہ کے احساس کمتری کا شکار ہو جاتا ہے۔ بلاوجہ اپنے اندر بغض پالنے لگتا ہے۔ اور آخر کار ایک اچھا تعلق کسی نہ کسی موڑ پر ختم ہو جاتا ہے۔

کبھی کبھی دھوکہ بھی ہوتا ہے۔ چھرا گھونپنے والوں کی اکثریت انتہائی شاطر ہوتی ہے۔ انسان دھوکے باز کو پہچان نہیں پاتا۔

ہمارے ابو خان صاحب کی طرح چند مختصر جملے ہر وقت دہراتے رہتے تھے خاص کر سفر کے دوران۔

"Wealth is gone nothing is gone.
Health is gone something is gone.
Respect is gone everything is gone."

"خود غرض انسان اپنی ذات کے سوا کسی اور کا بھلا نہیں کر سکتا۔ اپنے ماں باپ اولاد کا بھی نہیں".

"ہم سب سے پہلے مسلمان ہیں پھر پاکستانی۔ اس کے علاوہ ہماری کوئی پہچان نہیں"۔

آج یہ سب اس لیے یاد آیا کہ ہم خان صاحب کو الزام دیتے رہتے ہیں کہ ان کو اچھے لوگوں کی پہچان یا قدر نہیں۔

بھلا ایک شخص جس نے دنیا جہان کے شہر دیکھ رکھے ہیں۔ جس نے ہر طبقے سے عزت و شہرت کمائی ہے۔ ایک زمانہ جس کا آج بھی دیوانہ ہے۔ وہ کیسے لوگوں کی پہچان نہیں رکھتا ہو گا؟؟؟

خان کو ضرور یہ پہچان ہوگی کہ خالص لوگوں کی آنکھوں سے، جسم کے روم روم سے، ملنے کے انداز سے خلوص ٹپکتا ہے۔

کسی کے لکھے یا بولے ایک سادہ سے جملے میں موجود کاٹ لازماً سمجھ میں آتی ہو گی۔ طنز یا مزاح کا فرق پہچاننا انتہائی آسان ہوتا ہوگا۔

لیکن یہ سارے سبق ہر انسان وقت کے ساتھ ساتھ سیکھتا ہے غلطیاں کرتا ہے پھر سنبھل بھی جاتا ہے۔ لیکن آپ سبھی کچھ بچے کو پیدا ہوتے ہی گھٹی میں گھول کر پلا نہیں سکتے اور مار مار کے سکھا نہیں سکتے۔

خان صاحب نے بھی غلطیاں کیں۔ ان سے سیکھا لیکن کبھی خود کو فرشتہ ثابت کرنے کی کوشش نہیں کی۔ ہاں ان میں اپنی غلطیوں کو سدھارنے کا عزم نظر آتا ہے۔

خان کو اللہ نے اس قوم کی اجتماعی تربیت کے لیے بھیجا ہے۔ اس لیے ان کی زبان میں ایسی تاثیر بھی رکھی ہے کہ وہ مشکل سے مشکل بات سادہ سے انداز میں سمجھاتے ہیں اور بچوں بڑوں بزرگوں سبھی کے دلوں میں گھر کر جاتی ہے۔

اس لیے حوصلہ رکھا کریں۔
خان صاحب کے فیصلوں پہ اعتماد کیا کریں۔
ان کا وژن ہم سب سے کئی گنا نہیں کئی ہزار گنا زیادہ ہے۔
اگر وہ غلط لوگوں کو اپنے ہی ہاتھوں سے ایکسپوز ہونے کا موقع نہیں دیتے تو آج اکثریت پاکستانی ان کو نظر انداز کر دیتے"کہ کوئی ثبوت تو ہے نہیں۔ خان کو الزام تراشی کی عادت ہے"۔

قصہ مختصر۔ پر سکون رہا کریں اور خان صاحب کی ایک نصیحت یاد رکھا کریں "میرے پاکستانیو! آپ نے گھبرانا نہیں ہے".

1 year ago | [YT] | 0

TopTen

یوم عاشور اور محرم میں مغلظات اگلنے والے اپنے والدین کی تربیت پر بدنما داغ ہیں۔

یہ ان کے والدین کی ناکامی ہی ہے جو ان کو اتنا سا ادب تک نہ سکھا سکے کہ یوم عاشور صرف اسلام ہی نہیں یہود و نصارٰی کے ہاں بھی قابلِ احترام تھا۔

وہ بھی اس دن روزہ رکھا کرتے تھے۔

اللہ تعالیٰ نے کربلا کا سانحہ برپا ہونے سے کئی سال پہلے ہی قرآن کریم میں محرم الحرام میں خون ریزی جھگڑا فساد کو حرام قرار دے دیا تھا۔

یا یوں کہیے کہ احترام محرم ہر مسلمان پہ فرض ہے۔ جو سنت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بھی ثابت ہے۔

بالفرض بدعات کے باعث آپ کو کسی فرقے سے کوئی اختلاف ہے تو سال کے گیارہ ماہ آپ دنگا فساد مچا سکتے ہیں۔ سر تن سے جدا کرنے والے تو آپ کو ہاتھوں ہاتھ لینے کے لیے ہر دم تیار رہتے ہیں۔ اپنی "بیش قیمت خدمات" ان کے ہاں پیش کیا کیجئے۔

لیکن کم سے کم محرم میں کربلا کے انکاری یا صرف کربلا کو ہی مکمل اسلام سمجھنے والے بطور ایک کلمہ گو مسلمان کے اپنی زبان درازی پہ قابو رکھ سکتے ہیں۔ صرف یہ سوچ کر کہ یہ میرے اللہ کا حکم ہے اور کیا میں یہود و نصارٰی سے بھی کم تر درجے کا مسلمان ہوں کہ اس میں تبراء کرتا رہوں.

تف تو یہ ہے کہ زبان درازوں کی کوئی بھی منطق دیکھیں۔ تعلیم تحقیق مطالعہ کچھ بھی نظر نہیں آتا۔ صرف سنی سنائی باتوں پر رائی کا پہاڑ، جھوٹ، مبالغہ آرائی اور طوفان بدتمیزی برپا کئے ہوں گے۔

لیکن قرآن کریم کے ایک واضح حکم کی خلاف ورزی کرنے پہ کیا یہ خود مسلمان کہلانے کے لائق بھی ہیں؟؟؟

1 year ago | [YT] | 0

TopTen

پاکستان کے قرضوں کی ادائیگی اصولاً انہیں لوگوں سے کروانا چاہیے جن کی پاکستان دشمن پالیسیوں سے عام آدمی ٹیکس کہ بوجھ تلے دبتا چلا گیا اور اربوں ڈالر کے قرض سے اسے کچھ حاصل نہیں ہوا۔

ہم جانتے ہیں کہ پاکستان کے نظام میں فی الحال کئی لوپ ہولز ہیں جو کرپشن کو روکنے کی بجائے کرپشن کو راستہ فراہم کرتے ہیں۔

یہ نظام مجرم کو سزا دینے کی بجائے مظلوم ثابت کرتا ہے اور ہمدردیاں سمیٹنے میں مدد دیتا ہے۔

جہاں ایک عام آدمی ایک خاص حد سے زیادہ رقم اپنے سامان میں لے کر لوکل فلائٹ میں سفر کرتے ہوئے گھبراتا ہے وہاں کرپٹ افراد کے لیے سوٹ کیسز بھر بھر کے منی لانڈرنگ کرنے یا اسمگل کرنے کی بہترین سہولت موجود ہے۔

اس صورت میں بہتر یہی ہے کہ اس لوٹی ہوئی رقم کی واپسی کے لیے انٹرنیشنل کورٹس میں کیسز کیے جائیں۔

وکی لیکس، پانامہ لیکس اور دبئی لیکس کی موجودگی میں ہمارے لیے انٹرنیشنل کورٹس میں یہ ثابت کرنا نسبتاً آسان ہوگا کہ یہ پیسہ ہمارے مظلوم عوام کا حق ہے۔

پاکستان میں قرضوں کی شرح، سود کی شرح، ترقیاتی منصوبے جن کی آڑھ میں قرضے حاصل کیے گئے، کس منصوبے پہ کتنی رقم خرچ ہوئی، جیسی معلومات کا مکمل ریکارڈ موجود ہوتا ہے۔

ان تمام ثبوتوں کی موجودگی میں اور ہمارے دوست ممالک (جہاں جہاں منی لانڈرنگ کا پیسہ رکھا گیا یا اس مقصد کے لیے ان کے قوانین کا غلط استعمال کیا گیا) کی مدد سے ہم پاکستان کے مجرم کرپٹ افراد کو کٹہرے میں لا سکتے ہیں۔

بالفرض ہم ان مجرموں کو سخت سزائیں دلوانے میں ناکام رہتے ہیں تو بھی اربوں ڈالر کی واپسی کے لیے حتیٰ الامکان کوشش کرنا ہوگی۔

یوں ہم نئے قرضوں سے نہ صرف محفوظ رہ سکتے ہیں۔
بلکہ پرانے قرض بھی ادا کر سکتے ہیں۔

اس رقم کی واپسی سے ہم وہ منصوبے، جن پہ ضرورت سے زائد رقم خرچ ہو چکی ہے یا کرپشن کی نذر ہو چکی ہے اور فیزیبلیٹی رپورٹ کے مطابق عام آدمی پہ اس کا بوجھ بڑھتا چلا جا رہا ہے (جیسا کہ سی پیک، اورنج لائن، یا میٹرو بسز وغیرہ) بھی پرافٹ ایبل بنا سکتے ہیں۔

اور سب بڑھ کر روپے کی قیمت میں استحکام لا سکتے ہیں۔ جس سے مہنگائی پہ قابو پانے میں بھی مدد ملے گی۔

ضرورت صرف ایک مضبوط طاقتور آزاد خود مختار حکومت کی ہے جس کے پاس عوامی سپورٹ سے یہ تمام اقدامات اٹھانے کا مینڈیٹ ہو اور عوام کی فلاح و بہبود سے مخلص بھی ہو۔

ایسی حکومت کا حقدار خان سے ذیادہ اور کون ہو سکتا ہے؟؟؟

1 year ago | [YT] | 0

TopTen

سرکاری محکموں/اداروں میں ترقی سینیارٹی کی بنیاد پر کی جاتی ہے جبکہ اسی ادارے میں موجود کسی چھوٹے اسکیل پہ کام کرنے والا زیادہ کمپیٹینٹ، قابل، ذہین اور حتی کے ذیادہ محب وطن اور ایماندار بھی ہوتا ہے۔

اکثریتی محکموں/اداروں میں کام کا بوجھ بھی اسی چھوٹے اسکیل کے ملازم پہ ہوتا ہے۔ لیکن اس کی ترقی کی فائل پہ کراس/ریڈ لائن لگا دی جاتی ہے۔

اگر احتسابی عمل موجود ہو تو ایسے ملازمین بلاشبہ اپنے محکمے/ادارے کے لیے کہیں بہترین لیڈر ثابت ہو سکتے ہیں۔

لیکن ایسا کیا نہیں جاتا یا کرنے نہیں دیا جاتا۔

کیونکہ وہی ایک ملازم باقیوں کے کرپشن کنگا میں اشنان کی راہ میں بھی رکاوٹ ہوتا ہے۔

نتیجتاً وہی ہوتا ہے جو آج پاکستان کے ہر محکمے/ادارے میں ہو رہا ہے۔

1 year ago | [YT] | 0

TopTen

زرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی

لیکن افسوس کہ ہم مٹی کو نم ہونے دیتے ہیں نہ کونپلوں کو پنپنے دیتے ہیں

پھر وہ صرف دیارِ غیر کی مٹی کو زرخیز ہی نہیں کرتے
وفاداری کا حق بھی ادا کرتے ہیں

1 year ago | [YT] | 0

TopTen

کوئی عجب سال آیا ہے
سارے زمانے کے فرعون نمرود شداد یزید ہر جگہ فارم میں ہیں۔

دنیا بھر میں ظلم کے استعارے رسوا ہو رہے ہیں ننگے بھی ہو رہے ہیں
نشان عبرت بھی بن رہے ہیں۔

عام آدمی اپنی غلامی کی زنجیروں سے نجات حاصل کرنے کے لیے جان کی بازی لگا رہا ہے۔

یا خدایا کیا ماجرہ ہے؟؟؟
کیا یہ آخری صدی ہے فرعونوں کے ظلم کی؟؟؟
یا ہم صرف قیامتیں دیکھنے کے لیے دنیا میں بھیجے گئے ہیں؟؟؟

1 year ago | [YT] | 0

TopTen

کشمیر میں تحریک کامیاب ہوئی "عوامی اور کسی سیاسی لیڈر کے بغیر"

بھارت میں کسان تحریک کامیاب ہوئی "عوامی اور کسی سیاسی لیڈر کے بغیر"

جابجا فلس/طین کی حمایت میں کامیاب تحریک چل رہی ہے "عوامی اور کسی سیاسی لیڈر کے بغیر"

بنگلہ دیش میں تحریک کامیاب ہو رہی ہے "عوامی اور کسی سیاسی لیڈر کے بغیر"

بنوں میں تحریک کامیاب ہونے جا رہی ہے "عوامی اور کسی سیاسی لیڈر کے بغیر"

آپ کچھ سمجھے یا نہیں سمجھے؟؟؟

نہیں سمجھے تو اچھی طرح سمجھ کر ذہن نشین کر لیجئے۔

پاکستان میں بھی تحریک کامیاب ہوگی صرف "عوامی اور کسی بھی سیاسی لیڈر کے بغیر"

کب کیوں کہاں کیسے کون کرے گا؟؟؟

ہم سب کریں گے۔

اسی سوشل میڈیا پر کمپین چلائیں۔

دن وقت جگہ طے کریں

اور اپنے اتحاد کی قوت دکھائیں

پھر دیکھتے ہیں زور کتنا "بازوئے قاتل" میں ہے؟؟؟

1 year ago | [YT] | 0

TopTen

اے وطن کے سجیلے جوانو!
اپنی قوت اپنے اتحاد کی طاقت کو پہچانو
صرف ایک ماہ، صرف اور صرف ایک ماہ
بجلی بل بھرنے سے انکار کر دو
آئی پی پیز کا بائیکاٹ کر دو

حکومت مع ہینڈلرز گھٹنوں پر ہوگی۔

ورنہ یونہی عفریت بن کر ہمیں ایک ایک کرکے نگلتی رہے گی۔

آج گھر کا سامان
فیکٹری کا یونٹ
کمپنی کے شیئرز بیچ بیچ کر
بجلی کا بل بھر دیا۔

کل اپنے بچے بیچو گے یا والدین؟؟؟
یہ سوچا ہے کہ خریدار کون ہوگا؟؟؟

ابھی کوئی تمھاری فیکٹری کا کارآمد یونٹ کوڑیوں کے بھاؤ خریدنے کو تیار ہے۔

لیکن کل وہ تمھارے ان پڑھ بچے اور بوڑھے والدین کی کیا قیمت ادا کرے گا؟؟؟

کچھ سوچا ہے؟؟؟
روٹی کے دو نوالے خریدو گے
یا موبائل فون کا پیکج؟؟؟

شاید ابھی کسی چٹ پٹی ویڈیوز کے انتظار میں ہو؟؟؟
کسی کی عزت کا جنازہ اٹھتے دیکھ کر قہقہے برسا رہے ہو؟؟؟

چلو خیر کوئی بات نہیں۔
ابھی انجوائے کرو۔
کھیلنے کودنے کے دن لوٹ کر کب آتے ہیں۔

حکومت خواہ ناکارہ ہی سہی
تمھاری تفریح کا انتظام تو بھرپور رکھتی ہے۔

لیکن کبھی فرصت ملے تو بتانا ضرور
اس ماہ کیا بیچ کر بل بھرا تھا؟؟؟
ماں کی بالیاں یا بیوی کے سہاگ کی نشانیاں؟؟؟

1 year ago | [YT] | 0